Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 46)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

وہ لوگ پہلے ہی اسپتال پہنچ چکے تھے مگر شاٹ کٹ راستے کے چکر میں ضوریز اور باضل ایک بہت بڑے ٹریفک میں پھنس چکے تھے اس لیے وہ پورے بیس منٹ بعد اسپتال پہنچے تھے باضل لفٹ کے ذریعے سیکنڈ فلور پر جانے لگا لیکن ضوریز وقت ضائع کئے بنا سیڑھیاں عبور کرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھ گیا جس پر باضل نے نفی میں سر ہلایا

ضوریز کی حالت دو مہینوں سے ایسی تھی کہ کوئی بھی دیکھ کر اسے پاگل کہہ سکتا تھا لیکن آج وہ مسکرا رہا تھا آج اس کی ائیزل کو ہوش آیا تھا ہاں وہ ہوش میں آگئی تھی وہ آج اسے سب کچھ بتانے والا تھا اپنے اور اس کے نکاح کے بارے میں۔۔۔

وہ اب مزید دیر کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ سب لوگ پرائیویٹ روم کے باہر خاموشی سے کھڑے تھے کسی کے چہرے پر بھی خوشی کے تاثرات نہ تھے سب کو خاموش کھڑا دیکھ کر وہ ان کی جانب بڑھا مگر سب ایک دوسرے کو دیکھ کر نظریں جھکا گئے

وہ نہیں سمجھ پارہا تھا آخر وہ لوگ ایسے کیوں کھڑے تھے دوسری طرف سے باضل بھی لفٹ سے آچکا تھا ضوریز کسی سے کوئی بھی سوال کئے بنا روم کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا جبکہ باضل ان سب کے ساتھ ہی کھڑے ہوکر ان کی خاموشی کی وجہ جاننے لگا

“آئیزل۔۔۔”

وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا بیڈ کی جانب آیا جہاں وہ آنکھیں بند کئے لیٹی تھی ایک ہاتھ میں ڈریپ لگی ہوئی تھی جبکہ دوسرا ہاتھ کینولے کی وجہ سے سوجھا ہوا لگ رہا تھا ضوریز نے جس پرجوش انداز میں اس کا نام پکارا تھا اتنی ہی اجنبیت سے اس نے ضوریز کو دیکھا تھا

“ائیزل۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا تم۔۔۔ کیا تم واقعی ہوش میں آچکی ہو؟؟ ائیزل میں بتا نہیں سکتا میں آج کتنا خوش ہوں۔۔۔”

ضوریز چاہت سے چور لہجے میں کہتا ہوا اس کے سوجھے ہوئے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھام کے اس کے پاس آ بیٹھا ضوریز کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر وہ اسے خاموشی سے تک رہی تھی

“مجھے۔۔۔ مجھے یقین تھا تم بہت جلد واپس لوٹ آؤ گی۔۔۔ میں نے کتنی دعائیں کی تھیں یار۔۔۔ اپنی آئیز کو واپس لانے کے لیے۔۔۔ تم جانتی نہیں ائیزل میں مر چکا تھا۔۔۔ تمہارے جانے کے بعد میں ختم ہو چکا تھا۔۔۔ مگر دیکھو۔۔۔ آج تمہاری واپسی نے مجھے پھر سے زندہ کردیا ہے۔۔۔ اب تم کچھ بھی مجھ سے دور نہیں جاؤ گی نہ؟؟”

ضوریز جس قدر خوشی سے کہہ رہا تھا وہ بے تاثر سا چہرا لئے اسے دیکھ رہی تھی ضوریز نے جیسے ہی اس کا ہاتھ چومنا چاہا اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا ضوریز نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا

“آئیز؟؟ میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے بہت ناراض ہو۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن اب ہمارے درمیان کوئی دوری نہیں آئے گی۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں میں آخری دم تک تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ پرومس مائے ڈارلنگ۔۔۔ پلیززز اب غصہ تھوک دو۔۔۔ پلیززز”

ضوریز نے التجائی انداز سے کہتے ہوئے اسے منانے کی کوشش کی مگر وہ پیشانی پر کئی شکن لئے اسے اب بے حد اجنبیت سے دیکھ رہی تھی

“ائیزل۔۔۔ میری جان۔۔۔”

ضوریز کے دل میں جیسے کوئی کانٹا سا چبا تھا ائیزل کی یہ اجنبی سی نگاہیں اسے زچ کر رہی تھیں وہ کشمکش کی کیفیت میں مبتلا اسے پھر سے پیار سے پکارنے لگا

“کون ہیں آپ؟؟”

ائیزل نے بےتاثر سے چہرے کے ساتھ جو ایک سوال کیا تھا وہ ضوریز کے پیروں تلے زمین نکلنے کے لیے کافی تھا وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ائیزل سنجیدہ سی اسے دیکھ رہی تھی

“ائیزل۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو؟؟ میں ضوریز۔۔۔ تمہارا ریز۔۔۔ صرف تمہارا۔۔۔”

ضوریز بے ساختہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر شدت سے کہنے لگا مگر ائیزل نے جس سختی سے اس کے ہاتھوں کو جھڑکا تھا ضوریز کا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا

“کون ضوریز؟؟ میں آپ کو نہیں جانتی۔۔۔ پلیززز آپ انہیں بلا دیں جو کچھ دیر پہلے خود کو میرے ڈیڈ بتا رہے تھے۔۔۔”

وہ ماتھے پر شکن لئے جس پریشانی سے یہ الفاظ ادا کر رہی تھی ضوریز کے آنسوں کسی لڑی کی طرح ٹوٹ کر چہرے پر بہہ رہے تھے وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا پیچھے کو ہوا جارہا تھا

“ائیز۔۔۔ یعنی ائیز۔۔۔ آئیز کی میموری لوسٹ۔۔۔ اوہ گڈ نہیں۔۔۔”

وہ شاکڈ کی کیفیت میں زیرِ لب کہتا ہوا پیچھے کو مڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ ائیزل خاموشی سے اس سیاہ آنکھوں والے شخص کو جاتا دیکھ رہی تھی

وہ جیسے ہی باہر آیا ایک نظر سامنے کھڑے تمام لوگوں کو دیکھ کر وہ بنا کچھ کہے وہاں سے نکلتا چلا گیا سب نے اسے آوازیں دی تھیں مگر اسے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا باضل اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اتر کر اسپتال سے باہر چلا گیا

☆★☆★☆★☆

وہ جیسے ہی اس اندھیرے کمرے میں داخل ہوئے ان کے قدموں کی آہٹ پر اس نے اپنی نیلی سر سوجھی ہوئی آنکھیں کھول کر دروازے کی جانب دیکھا وجاہت صاحب کو دروازہ کھولتے ہی شراب کی بو محسوس ہوئی تھی جس پر کوفت سے انہوں نے ناک پر ہاتھ رکھا تھا

پورا کمرہ اندھیرے میں نہایا ہوا تھا وہ جیسے ہی اندر کی جانب بڑھے کچھ شراب کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں ان کے پیروں سے ٹکرائیں انہوں نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس ان کی جب اچانک سے پورا کمرہ روشن ہوا وہ چونک کر اطراف میں نظریں دوڑانے لگے

کمرے کا حال بلکل بے حال تھا اس کے بچے کچے ایوارڈز زمین پر لاچار ٹوٹے ہوئے پڑے تھے بیڈ کی چادر جیسے کسی نے ہاتھ سے نوچ کر زمین پر پھینکی تھی تکئے بھی بیڈ پر موجود نہ تھے ڈیوائڈر کا مرر کرچیوں میں تبدیل ہوا پڑا تھا

شراب کی بوتلیں کانچ کی حالت میں پورے کمرے میں بکھری پڑھی تھیں جن کی بو پورے کمرے میں پھیل کر ایک عجیب سا ماحول بنا رہی تھیں پورے کمرے کو افسوس بھری نگاہوں سے دیکھنے کے بعد آخر میں ان کی نظر اطراف میں دیوار کے ساتھ رکھے کاؤچ پر گئی جہاں ان کا لاڈلا بیٹا اپنی مخصوص بہوشی والی حالت میں پڑا تھا جو اب آنکھیں کھول کر انہیں دیکھ رہا تھا

یہ سب نیا نہ تھا ان دو مہینوں میں آتش نے انہیں بہت ستایا تھا پوری رات شراب پیتے ہوئے اسے یاد کر کے جاگ کر گزارتا تھا اور سارا دن بہوشی کی حالت میں یوں ہی پڑا رہتا تھا اب نہ تو اسے کھانے پینے کا ہوش تھا نہ اپنی صحت کا نہ پیسے کا نہ شہرت کا اسے اگر پرواہ تھی تو صرف اپنی محبت کی وجوہات صاحب اپنے دونوں بیٹوں کی حالت دیکھ کر بلکل ٹوٹ چکے تھے

“یہ کیا حال بنایا ہوا ہے تم نے کمرے کا؟؟”

وہ گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے شراب کی بوتل کو پیر سے دور دھکیلتے ہوئے کاؤچ پر اس سے کچھ فاصلے پر آ بیٹھی جبکہ وہ شراب کے نشے میں چور انداز میں انہیں خاموش سے تک رہا تھا

“میں تم سے پوچھ رہا ہوں آتش۔۔۔ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے اپنی؟؟ آخر کب تک یوں ہی اپنے باپ کو تنگ کرتے رہوگے تم دونوں؟؟ ترس نہیں آتا تمہیں اپنے باپ پر۔۔۔ جو آہستہ آہستہ زندگی کے آخری حصے کو پار کر رہا ہے۔۔۔”

وجاہت صاحب نے اونچی آواز میں کہتے ہوئے اسے سختی سے دیکھا جا پر وہ بے تاثر سا چہرہ لئے اب تک یوں ہی خاموشی سے انہیں تک رہا تھا

“نہیں ڈھونڈ پائے نہ آپ اسے؟؟”

وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا شاید ان سے جواب مانگ رہا تھا اس کی بات پر وجاہت صاحب ماتھے پر شکن لئے تاسف سے اس کی حالت دیکھنے لگے اس کے اس سوال کا شاید ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا

ان دو مہینوں میں وہ کتنا بدل چکا تھا اس کا ورزشی جسم اب تھوڑا کمزور پڑھ چکا تھا سر شباب چہرہ پھیکا پڑ چکا تھا نیلی پر کشش آنکھیں جو اب ہمیشہ سرخ سوجھی ہوئی رہتی تھیں جن کے نیچے سیاہ حلقے پڑھ چکے تھے

اس کے کالے سن بال جو ہمیشہ جیل سے سیٹ ہوئے رہتے تھے اب اتنے بڑھ چکے تھے کہ چہرے پر آرہے تھے اس کی ہلکی بیئرڈ جو چہرے کو چار چاند لگاتی تھی اب کافی بڑھ کر بےزاویہ ہو چکی تھی انہوں نے آنکھوں پر سے چشمہ اتار کر نم آنکھوں کو صاف کیا

“ہاں۔۔۔ وہ نہیں ملی۔۔۔ یا شاید وہ ملنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔ وہ اب دوبارا کبھی تمہارے پاس واپس آنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔”

وجاہت صاحب نے جس سنجیدگی سے کہا تھا وہ آنکھیں چھوٹے کرتا ہوا خود کو سنبھالتے ہوئے آنکھیں مسل کر اٹھ بیٹھا

“آپ کے کہنے کا مطلب کیا ہے ڈیڈ؟؟”

وہ بامشکل آنکھوں کو کھولتے ہوئے انہیں دیکھ کر سوال کرنے لگا جس پر وجاہت صاحب نے ایک نظر اس کے پاؤں پر ماری جہاں گہرا زخم بنا ہوا تھا جہاں سے نکلتا خون شاید اب سوکھ چکا تھا یقیناً یہ زخم کانچ کے ٹکڑوں کی وجہ سے ہوا تھا

“حالت دیکھو اپنی۔۔۔ کیا لگتا ہے تمہیں؟؟ اگر وہ واپس آ بھی گئی تو رہ پائے گی تمہارے ساتھ؟؟ تم جیسے انسان کے پاس؟؟ جو خود کو نہیں سنبھال سکتا مستقبل میں اسے سنبھالے گا؟؟”

وجاہت صاحب نے ایک نظر اسے سرتا پیر دیکھ کر تنزیہ انداز میں کہا تھا جس پر آتش انہیں آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے دیکھنے لگا

“آپ۔۔۔ طعنہ دے رہے رہیں۔۔۔ مجھے؟؟”

آتش نے ایبرو اچکائے سوال کیا جس پر وجاہت صاحب نے گہری سانس لی

“طعنہ نہیں دے رہا سمجھا رہا ہوں۔۔۔ اگر ایسا ہی حال بنا کے رکھوگے تو اسے خاک ڈھونڈ پاؤگے تم۔۔۔”

وجاہت صاحب نے تاسف سے سر ہلایا تھا

“آپ کس بات پر بلیم کر رہے ہیں مجھے؟؟ آپ خود تو اسے ڈھونڈ نہیں پائے مجھے کس بات کے طعنے سنا رہے ہیں آپ؟؟ ارے آپ نے کونسا کبھی کچھ کرلیا اپنے بیٹے کے لئے۔۔۔ آپ صرف نام کے باپ ہیں۔۔۔ صرف نام کے۔۔۔”

آتش نے جس قدر کڑوے لہجے میں انہیں یہ بات کہی تھی وہ سخت تاثرات لئے اسے گھورنے لگے

“آتش!!! یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو تم؟؟ باپ ہوں تمہارا۔۔۔ تمیز سے بات کرو مجھ سے۔۔۔ ایسا نہ ہو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے ۔۔۔ دو مہینوں سے تمہاری بدتمیزیاں برداشت کر رہا ہوں۔۔۔ مگر اب اور نہیں!!!”

وجاہت صاحب دھاڑتے ہوئے اٹھے تھے جس پر وہ بھی طیش میں اٹھا تھا آخر تو اس کے اندر ان ہی کا خون تھا۔۔۔

“اوہ تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں آپ بیزار ہوگئے ہیں مجھ سے؟؟”

آتش نے تنزیہ انداز میں کہتے ہوئے خود کو سنبھالنا چاہا کیونکہ اس کا سر گھوم رہا تھا وجاہت صاحب آگے بڑھ کر اسے تھامتے مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں دور کرتا ہوا خود کو سنبھال چکا تھا

“قریب مت آئیے گا ڈیڈ۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ چاہتے ہی نہیں کہ تعبیر مجھے واپس ملے۔۔۔ ڈیڈ آپ کو میری حالت نظر نہیں آرہی؟؟ میں مر جاؤں گا اس کے بنا ڈیڈ۔۔۔”

آتش نے جس قدر تڑپتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے وجاہت صاحب نے ضبط سے آنکھیں مینچ کر رخ بدل لیا تھا جس پر آتش نے کے سامنے آکھڑا ہوا

“ڈیڈ۔۔۔ مجھ سے نظریں کیوں چرا رہے ہیں آپ؟؟ ڈیڈ میں نے کہا نہ میں نہیں جی پارہا۔۔۔ ڈیڈ وہ بہت ضروری ہوچکی ہے میرے لئے آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ڈیڈ۔۔۔”

وہ کس کرب میں چینخ رہا تھا اس کی حالت بلکل ایک ایب نارمل انسان کی طرح لگ رہی تھی وجاہت صاحب یوں ہی خاموشی سے سر جھکائے کھڑے تھے

“ڈیڈ مجھے۔۔۔ مجھے تعبیر چاہئے۔۔۔ ڈیڈ میں اس کے بنا واقعی مر جاؤں گا ڈیڈ مجھے تعبیر چاہئے کسی بھی قیمت پر تعبیر چاہئے۔۔۔ ڈیڈ میں۔۔۔ میں پاگل ہورہا ہوں اس کے بنا آخر آپ کیوں کوئی جواب نہیں دے رہے کچھ تو بولیں ڈیڈ!!!”

آتش کی آواز پورے مینشن میں گونج رہی تھی تمام ملازمین ہال میں کھڑے ایک دوسرے کو تک رہے تھے وہ آج شاید کچھ زیادہ ہی آپے سے باہر ہوچکا تھا وجاہت صاحب نے اس کی اس پاگلوں والی حالت پر اسے تیز نظروں سے گھورا تھا

“آتش!!! ہوش میں آؤ!!!”

وجاہت صاحب نے سخت لہجے سے کہا جس پر آتش اپنی بھیگی آنکھوں سے انہیں تاسف سے دیکھ رہا تھا اس کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہو چکا تھا بال مزید بکھر چکے تھے جسم بری طرح سے کانپ رہا تھا جبکہ گردن اور کنپٹی کی ساری رگیں اُبھر چکی تھیں جیسے ابھی پھٹ جائیں گی

“ڈیڈ میں ہوش میں ہی ہوں!!! ڈیڈ مجھے تعبیر چاہئے آپ اسے پلیزز میرے پاس واپس لیں آئیں ڈیڈ پلیززز یہ ممکن کر دکھائیں ڈیڈ اس نے کہا تھا وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔۔اپ سے لے آئیں گے نہ ڈیڈ کیوں خاموش کھڑے ہیں کچھ تو کہیں آخر آپ کچھ کہتے کیوں نہیں۔۔۔ ارے جواب دیں نہ حقیقت بتائیں کہ آپ میری خوشی نہیں چاہتے!!!”

آتش بہت بری طرح سے تڑپ رہا تھا شروع کے الفاظ اس نے جس شدت جس جنون سے تڑپتے ہوئے کہے تھے اتنی ہی شدت سے آخری الفاظوں پر اس نے نفرت سے اپنے باپ کو دیکھا تھا اور پھر اس سے بھی کئی زیادہ شدت سے وجاہت صاحب کے ہاتھ کا تھپڑ اس کے گال پر جا لگا تھا تمام ملازمین نے اپنے دل تھام لئے تھے

“کیا پاگل ہو گئے ہو تم؟؟ اپنے باپ کی نیت پر شک کرتے ہوئے شرم نہیں آرہی تمہیں؟؟ لانت ہو تم جیسی اولاد پر جیسے اپنے علاؤہ کسی دوسرے کی پرواہ ہی نہیں اپنے باپ کی بھی نہیں!!! جب پاگل شخص ایسا ہے تو نفسیاتی کیسا ہوگا؟؟”

وہ زور دار تھپڑ کھا کر سائڈ کو جھک چکا تھا بال چہرے پر بکھر کر اس کی ایک نیلی آنکھ کو چھپا چکے تھے وہ بامشکل خود کو سنبھالتا ہوا واپس اپنی پوزیشن میں کھڑا ہوا سرخ بھیگی آنکھیں لئے وہ اپنے باپ کو دیکھنے لگا جو بظاہر تو اسے برا بھلا بول رہے تھے مگر اندر ہی اندر اس کی ایسی حالت پر بلکل ختم ہورہے تھے

“ہوش کی دنیا میں آؤ آتش!!! مزید مت تڑپاؤ اپنے باپ کو۔۔۔ کیا کچھ نہیں کیا اس باپ نے تم دونوں بھائیوں کے لیے۔۔۔ لیکن تم لوگوں نے بدلے میں کیا دیا؟؟ صرف اور صرف الزام۔۔۔ ہاں نہیں ڈھونڈ پایا میں تمہاری تعبیر کو۔۔۔ نہیں مل پائی وہ مجھے۔۔۔ تو کیا اس میں بھی میرا ہی قصور ہے ہاں؟؟”

وجاہت صاحب طیش میں بھڑک اٹھے تھے جبکہ ان کے لہجے سے درد، کرب اور ایک باپ کی اذیت صاف واضح ہورہی تھی ان کی بات پر آتش محویت سے انہیں دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہوں۔۔۔ تو کیا میں ہوں قصور وار؟؟ کیا یہ سب میرا قصور ہے ڈیڈ؟؟ وہ مزید اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ نہ پائی اور ضبط سے آنکھیں مینچ کر پلٹ گئے

“اتنے چھوٹے تھے تم۔۔۔ جب تمہاری ماں تمہاری ذمہ داری مجھے سونپ کر خود اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔۔۔ تب سے میں نے تمہارا ہر طرح سے خیال رکھا۔۔۔ تمہیں سب سے زیادہ چاہا۔۔۔ تمہیں کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی۔۔۔ ہائیر اسٹیڈیز کے لئے باہر بھیج دیا۔۔۔ ہمیشہ تمہاری ضد تمہارے غصے کو برداشت کر کے تمہاری خواہشات کو پورا کیا میں نے۔۔۔ صرف تمہارے لئے ان پروڈیوسرز کی بات مان کر تمہارے مزاج کے مطابق نئے ملکوں اور شہروں میں نئی جگہیں بنوائیں۔۔۔ تاکہ تم جس جگہ بھی جاؤ خود کو اپنے آس پاس کے ماحول کو ادھورا نہ پاؤ۔۔۔ مگر آج ایک باپ کے سامنے یہ سوال پیدا ہو ہی گیا کہ کیا کیا آپ نے میرے لئے؟؟”

آتش کی خاموشی اس بند کمرے میں نیا ارتعاش پیدا کر رہی تھی جیسے طوفان کے آنے سے پہلے آسمان پر خاموشی چھائی ہوئی ہوتی ہے جو کسی بڑی تباہی کی علامت ہوتی ہے وجاہت صاحب کے نرم لہجے پر وہ خاموش رہا تھا جیسے ہی وہ کچھ کہنے کے لیے آتش نے ایک جھٹکے سے کبڈ سے پسٹل نکال کر کنپٹی پر رکھی تھی وجاہت صاحب کچھ پل کے لیے سہم سے گئے تھے

“آتش!! رر رکو آتش نہیں!!”

وہ جیسے ہی ہڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھنے لگے وہ سرخ آنکھیں لئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے مزید پیچھے ہوئے تھا

“نن نہیں!!! وہیں رک جائیں!!! پلیز اب نہیں!!!”

آتش ہچکیوں پر آ چکا تھا اس کے ہاتھ کے اشارے پر وجاہت صاحب کے قدم رکے تھے آتش کی چال سے اب جنونیت ٹپک رہی تھی

“آآ آپ نے پوچھا تھا نہ ڈیڈ۔۔۔ نفسیاتی کیسا ہوتا ہے۔۔۔؟؟”

وجاہت صاحب کے سوال کو دہراتے ہوئے آتش کی گرفت پسٹل پر مزید مضبوط ہونے لگی تھی

“دیکھیں اپنے بیٹے کو!!! نفسیاتی ایسا ہوتا ہے!!!”

وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر پوری قوت سے دھاڑا تھا وجاہت صاحب کی رو تک کانپ گئی تھی

آتش کے آنسوؤں کی برسات اب تک جاری تھی اس کی سرخ آنکھوں میں کیا نہ تھا؟؟ کرب، درد، غصہ، ضد، جنونیت۔۔۔ وہ شخص واقعی تعبیر سے عشق کے نشے میں جنونیت کا لبادہ اوڑھ چکا تھا

“آاتش۔۔۔ بیٹا دیکھو۔۔۔ پلیززز اس پسٹل کو خود سے دور کرو۔۔۔ دیکھو میں۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں میں تعبیر کو تمہارے پاس واپس لے کر آؤں گا۔۔۔ ہر حال میں۔۔۔ بس پلیززز اسے۔۔۔ اسے خود سے دور رکھو”

وجاہت صاحب آخر تو باپ تھے نہ کیسے نہ تڑپتے ان کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہوچکا تھا اپنے بیٹے کی ایسی حالت دیکھ کر اب بھی وہ زندہ تھے وہ واقعی بہت برداشت کرنے والے شخص تھے

“نن نہیں ڈیڈ۔۔۔ میں مزید انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔ میں۔۔۔ میں ان دو مہینوں میں کتنا تڑپا ہوں یہ آپ نہیں جانتے ڈیڈ۔۔۔ میں مر جاؤں گا۔۔۔ ڈیڈ میں مر جاؤں گا۔۔۔ مجھے نہیں جینا اس کے بنا!!! میں ختم کرلوں گا خود کو ڈیڈ!!!”

وہ دیوانہ وار کہتا ہوا جیسے ہی پسٹل کا اسٹریگل پش کرنے لگا تھا ایک دم سے وجاہت صاحب نے آگے بڑھ کر پسٹل کا رخ چھت کی طرف کیا تھا پسٹل چل چکی تھی اوپر چھت پر لگا شیشے کا خوبصورت بیش قیمتی فانوس کرچیوں کی صورت میں تبدیل ہوکر زمین پر گرنے لگا تھا

ایک جھٹکے سے وجاہت صاحب نے آتش کا ہاتھ پکڑ کر دوسری جانب دھکیلا اور جس شور سے فانوس زمین پر آ گرا تھا ملازمین خوف کے مارے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے مگر کچھ کی بھی ہمت نہ تھی کہ وہ اوپر آکر منظر دیکھ سکے۔۔۔

ایک دم سے پورے کمرے میں خاموشی پھیل گئی جیسے کوئی طوفان سا تھم گیا ہو جیسے بادلوں کی گرج اب ختم ہوگئی ہو اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوں کی بارش شروع ہو چکی ہو جیسے خوشگوار موسم میں اداس شامیں اور مینشن کے باہر رقص کرتی ٹھنڈی ہوائیں۔۔۔

“آتشں!! آتش۔۔۔ بیٹا آنکھیں کھولو۔۔۔!!!”

اچانک سے وہ زمین بوس ہوا تھا اب مکمل طور پر بے ہوش ہو چکا تھا اس کی حالت اب کافی زیادہ خراب ہو چکی تھی وجاہت صاحب کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں ڈاکٹر کو کال کر کے مینشن پر بلایا گیا تھا

وہ اب تک اپنے بے جان سے وجود کے ساتھ بستر پر بے ہوش پڑا تھا کچھ ملازم دروازے پر کھڑے اس کی حالت پر افسوس کر رہے تھے اور کچھ نیچے ہال میں کھڑے اس کی صحتیابی کے لیے دعا گو تھے ڈاکٹر نے اسے ڈرپ لگائی تھی اس کے زخمی پیر پر بینڈج کی تھی اور اسے انجیکشن لگا کر کر وہ آرام کرنے کا کہہ کر وہاں سے چلے گئے تھے

☆★☆★☆★☆

“بس کر دے یار اور کتنے آنسوں بہائے گا؟؟ چل واپس ہوسپٹل چلیں۔۔۔ وہ تیرا انتظار کر رہی ہے۔۔۔”

وہ جو کب سے فٹ پاتھ پر بیٹھا خاموشی سے آنسوں بہا رہا تھا باضل کی بات پر اب اسے گھورنے لگا

“بھلہ کیوں انتظار کرے گی وہ میرا؟؟ وہ تو سب کچھ بھول چکی ہے۔۔۔ اسے تو کچھ بھی یاد نہیں ہے۔۔۔”

ضوریز نے آنسوؤں کو پوچتے ہوئے جس انداز میں کہا تھا باضل نے شاید پہلی بار اسے اتنا مایوس ہوتا دیکھا تھا

“یار تیرے ڈیڈ کی کال آئی تھی وہ کہہ تو رہے تھے ائیزل کو جو سمجھایا جارہا ہے وہ سب مان رہی ہے اس نے اپنے ڈیڈ کو بھی فائنلی ڈیڈ مان لیا ہے۔۔۔ وہ حریم کو اپنی دوست مان رہی ہے۔۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ تجھے اس کا ہسبینڈ بتایا گیا ہے اور وہ مان بھی گئی کیونکہ اسے کچھ یاد نہیں تو وہ حریم کی تمام باتیں مان رہی ہے۔۔۔ ان فیکٹ وہ تو حریم پر اس وقت سب سے زیادہ بھروسہ کر رہی ہے۔۔۔”

باضل نے اسے سمجھانا چاہا جس پر ضوریز ایک نظر اسے کھڑا دیکھ کر خود خاموشی سے سر جھکا گیا باضل اس کے برابر آبیٹھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینے لگا

“بھائی یار دیکھ۔۔۔ جانتا ہوں وہ پہلے جیسی بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔ لیکن اب جو کچھ بھی ہے وہ تجھے اپنا شوہر مان چکی ہے اب تجھے ہی اسے سنبھالنا ہے۔۔۔ سمجھ رہا ہے نہ تو میری بات؟؟ تو کیسے اسے اس حال میں اکیلا چھوڑ سکتا ہے۔۔۔؟؟”

باضل کی بات پر ضوریز محویت سے اسے دیکھنے لگا وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا پوری رات گزر گئی تھی اسے یہاں بیٹھے بیٹھے اور وہاں ائیزل کیونکہ سب رشتوں سے انجان تھی تو سب کے کہنے پر وہ مان چکی تھی کہ ضوریز نامی شخص سے اس کی شادی ہوئی تھی

“اور اگر اس کی یاداشت کبھی واپس نہ آئی پھر؟؟”

ضوریز نے ایبرو اچکائے اپنے مخصوص انداز میں سوال کیا جس پر باضل اسے تیڑی آنکھوں سے دیکھنے لگا

“ابے او۔۔۔ جیسی تیری حرکتیں ہیں نہ بھابی زیادہ دیر بیمار نہیں رہ سکتیں گی۔۔۔ اور جس دن ان کی یاداشت واپس آگئی کہ بچوو۔۔۔ اس دن تو اپنی خیر منا لیو بیٹا۔۔۔”

باضل نے جس پرجوش انداز میں اپنی بات مکمل کر کے قہقہہ لگایا تھا اتنی ہی زور سے ضوریز نے اس کے گُدی پکڑ کر زور دار چماٹا اس کی پیٹھ پر رسید کیا تھا جس جبکہ ضوریز کے لبوں پر آپ مسکراہٹ تھی اور باضل جو اب تک پاگلوں کی طرح ہنسا جارہا تھا

بےشک وہ اپنے جان سے پیارے دوست کا موڈ ٹھیک کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا دونو ہی ہنستے مسکراتے ہوئے اٹھ کر گاڑی میں بیٹھے اور اسپتال کے راستے نکل گئے۔۔۔ کچھ ہی فاصلے کی مسافت کے بعد وہ لوگ سٹی ہوسپٹل پہنچ گئے تھے اسے روم کے اندر جانے کا اشارہ کر کے باضل خود کسی اہم کام کے لیے نکل گیا تھا

ضوریز جیسے ہی روم کے اندر گیا وہ بیڈ پر پیر پھیلائے بیٹھی مونگ پھلی کھانے میں مصروف تھی دروازہ بند ہونے کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے اس نے جب سامنے کی جانب دیکھا تو ایک عجیب و غریب حلیے والے شخص کو اپنے قریب آتا دیکھ کر مونگ پھلی کا دانا اس کے ہاتھ سے واپس پلیٹ میں جا گرا

“کک کون ہو تم اور میرے روم میں کیوں آئے ہاں؟؟”

وہ جو آہستگی سے چلتا ہوا اس کی جانب آرہا تھا اس کے چینخنے پر وہیں رک کر اب اسے غور سے دیکھنے لگا جو بچوں کی طرح چہرے کے زاویے بنائے ہاتھ میں شیشے کا گلاس لئے اس کا نشانہ بنا رہی تھی

“میں نے تو سنا تھا تمہیں میرے بارے میں بتا دیا گیا ہے کہ کون ہوں میں؟؟”

ضوریز ایبرو اچکائے ایک قدم آگے بڑھا تو ائیزل اچھل کر بیڈ سے اتری اور دیوار کے ساتھ جا لگی جبکہ وہ بڑی غور سے اس کی ہر حرکت نوٹ کر رہا تھا

“نن نہیں نہیں مجھے نہیں پتا کون ہو تم۔۔۔ عجیب و غریب انسان دور رہو پلیززز!!”

وہ غصے اور ڈر کے ملے جلے تاثرات لئے اب سائڈ میں رکھے کاؤچ سے کشن اٹھا چکی تھی اس کمرے میں شاید اسے یہی اپنے تحفظ کا ذریعہ لگی ہو جیسے۔۔۔

“ائیزل یہ کیا الٹی سیدھی حرکتیں کی جارہی ہو؟؟”

ضضعیز اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتا ہوا اس کے قریب آچکا تھا جس پر ائیزل نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور رکھ کر کشن اس کے منہ پر دے مارا وہ جو اس کی اچانک والی حرکت کے لئے بلکل تیار نہ تھا منہ پر کشن لگنے کے بات کشن کو مظبوطی سے تھامتا ہوا اسے گھورنے لگا جبکہ ائیزل چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“یاداشت جانے کے ساتھ ساتھ کیا اب تمہیں پاگل پن کے دورے بھی پڑھنے لگے ہیں؟؟”

ضوریز نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے اس کی جانب قریب بڑھائے اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ اس کے بے انتہا قریب کھڑا اسے گھور رہا تھا اور ائیزل دیوار کی پشت سے چپکی دونوں ہاتھوں کو آنکھوں کے سامنے کئے چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“کچھ بتاؤ گی یہ سب کیا ہے آخر؟؟”

ضوریز کی بات پر اس نے دھیرے سے آنکھوں کے سامنے سے ہاتھ ہٹائے اور اسے سرتا پیر دیکھنے لگی

“کون ہو تم؟؟ عجیب و غریب انسان”

ائیزل نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے کہا جس پر نا چاہتے ہوئے بھی ضوریز کا قہقہہ نکلا

“کیا کہا پھر سے کہنا۔۔۔ عجیب و غریب؟؟ تمہیں میں عجیب و غریب لگتا ہوں؟؟”

ضوریز نے سوالیہ انداز میں کہا جس پر وہ معصومیت سے اثبات میں سر ہلانے لگی

“ہیئی میں صرف عجیب ہوں قریب نہیں اوکے نہ۔۔۔ اور یہ کوئی اپنے شوہر سے ایسے بات کیسے کر سکتا ہے؟؟”

ضوریز کے احتجاجی انداز میں کہے گئے الفاظوں کے آخر کے لفظ ‘شوہر’ پر وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی

“کیا کہا شوہر؟؟”

ائیزل نے حیرت سے بھرپور انداز میں سوال کیا

“جی ہاں شوہر۔۔۔!!!”

ضوریز نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا جس پر ائیزل سکتے کی حالت میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ضوریز اسے ایسے گھورتا پا کر اس کی سبز آنکھوں کے سامنے چٹکی بجانے لگا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی

“تم؟؟ تم ضوریز ہو؟؟ میرے شوہر؟؟”

ائیزل نے جیسے بات کہی تصدیق چاہی تھی

“اور نہیں تو کیا اب نکاح نامہ دکھاؤں؟؟ دیکھو کیونکہ ہمارا نکاح بچپن میں ہوا تھا دیٹ از وائے آئی ہیو نو میرج سرٹیفکیٹ۔۔۔ سو اب ایک اچھی بیوی کی طرح اپنے شوہر کی بات مانو اور یہ جو مجھے مسلسل گھوری جارہی ہو پلیزز ایسے نہ دیکھو مجھے پہلے ہی چار بار پہلے ہی پیار ہو چکا ہے۔۔۔”

ضوریز نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا پورا جملہ مکمل کیا تھا جبکہ آخری والے الفاظوں کو لے کر ائیزل ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی اسے پھر سے ایسے ہی دیکھتا پا کر وہ تاسف سے سر ہلانے لگا

“ہیی اب کیا کھا جاؤ گی مجھے؟؟ ایسے کیوں گھور رہی ہو؟؟ کھڑے کھڑے نگلنے کا ارادہ ہے کیا؟؟ خیر میں پہلے ہی بتادوں ایسا ویسا کچھ نہیں سوچو بیکوز۔۔۔۔ میں ہضم نہیں ہوؤں گا آئی سوویر پیٹ خراب ہو جائے تمہارا!!!”

ضوریز نے اچانک سے اس کے اتنا قریب آکر اپنے الفاظ کہے تھے کہ اس اچانک والی قربت پر ائیزل کی سانسیں تھم سی گئی تھیں وہ ٹکٹکی باندھے اسے تک رہی تھی جو دل میں کئی حسرتیں لئے اسے دیکھ رہا تھا

“دور ہٹو!!! پہلی بات تو یہ کہ میں کوئی کھانے والی نہیں ہوں تمہیں۔۔۔ دوسری بات اگر واقعی تم میرے ہسبنڈ ہو تو میں کافی بدنصیب ہوں۔۔۔ ہسبینڈ بھی ملا تو وہ جو پہلے ہی اتنی بار دوسروں سے پیار کر چکا ہے۔۔۔”

ائیزل نے اس کے مظبوط سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلا اور دونوں ہاتھ لپیٹ کر ناراضگی کا اظہار کرنے لگی جس پر ضوریز کے لب مسکرائے تھے شاید وہ اس سے لاڈ کر رہی تھی ضوریز نے اس کو بازوؤں سے تھام کر اپنے قریب کیا جس پر وہ خفگی سے اسے دیکھنے لگی

“میری جان میں نے اب تک جتنی بھی بار پیار کیا ہے ہمیشہ صرف اور صرف تم سے کیا ہے۔۔۔ تمہارے علاوہ بھلہ کوئی چڑیل قابو کر سکتی ہے کیا مجھے؟؟”

ضوریز کے پیارے بھرے لہجے پر جہاں وہ مسکرانے لگی تھی وہیں اس کے شرارتی بھرے آخری الفاظ سن کر وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی جو اب مسکرا رہا تھا

“کیا تم نے چڑیل کہا مجھے؟؟ گوڈ یار کیسا ہبی ملا ہے مجھے جان سے مار دوں گی میں تمہیں۔۔۔”

وہ جیسے جیسے پاگلوں کی طرح غصہ کی جارہی تھی اتنا ہی ضوریز کا قہقہہ بلند ہورہا تھا پھر کیا ہونا تھا وہ ہوسپٹل کی پرواہ کئے بنا وہی شیشے کا گلاس لئے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور دوسری طرف ضوریز جو اب تک قہقہہ لگائے روم سے باہر بھاگ چکا تھا

☆★☆★☆★☆

“تم اداس ہو؟؟”

رائمہ کو خاموش بیٹھا پا کر وہ اس کے پاس گھاس پر آ بیٹھا رائمہ آج کافی دنوں بعد اس سے ملنے آئی تھی ورنہ وہ بھی اپنے بہن کے ساتھ پالر کے کاموں میں مصروف رہتی تھی

“نہیں بس۔۔۔ یاد آرہی ہے تعبیر کی۔۔۔”

رائمہ نے اداس لہجے میں کہا جس پر باضل نے اس کا ہاتھ تھاما وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی

“رائمہ پریشان مت ہو۔۔۔ وجاہت انکل ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہیں اسے اور میں نے بھی اپنے تمام ساتھیوں کو اس کی تلاش میں کب سے لگایا ہوا ہے۔۔۔ تم کیوں فکر کرتی ہو مل جائے گی وہ۔۔۔”

باضل نے جس قدر پیار سے کہا تھا اتنی ہی حیرت سے رائمہ نے اسے دیکھا تھا باضل کتنا بدل گیا تھا پہلے جب بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی تب تب ان کی لڑائی ہوئی تھی مگر اس کے بعد جب رائمہ میک اپ آرٹسٹ کے طور پر شوٹس پر جایا کرتی تھی تو اکثر وہ اسے نظر آتا تھا

تب سے اب تک ان کی کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی دو تین ملاقاتوں کے بعد ان کے بیچ بے وجہ کی تکراوں کا سلسلہ ختم ہورہا تھا اور اب وہ اچھے دوستوں کی طرح ملا کرتے تھے رائمہ کی نظر میں بھلے سے باضل ایک دوست تھا مگر باضل۔۔۔ وہ رائمہ کو اپنا دل دے بیٹھا تھا مگر اس کے غصے سے تھوڑا ڈرتا تھا جبھی کبھی کہہ نہ پایا تھا

“باضل اسے ملنا ہوتا تو کب کا مل جاتی۔۔۔ دو مہینے گزر چکے ہیں۔۔۔ کوئی عام بات نہیں ہے یہ۔۔۔ باضل مجھے نہیں لگتا تعبیر اب کبھی۔۔۔”

وہ مزید کچھ کہہ نہ سکی اور نظریں جھکائے رونا شروع ہوگئی جس پر باضل کا دل دھڑکا تھا وہ تھی تو سانولی رنگت کی مالک مگر اس کے چہرے میں ایک الگ کشش تھی جو باضل جو مسلسل اپنی طرف متوجہ کرتی تھی

“رائمہ پلیز۔۔۔ ڈونٹ کرائے۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ پلیززز رونا بند کرو مجھے ایسے تم روتی ہوئی بلکل بھی اچھی نہیں لگتیں۔۔۔”

باضل نے جس شدت سے یہ الفاظ کہتے ہوئے اس کے آنسؤوں کو صاف کیا تھا وہ بڑی غور سے اسے دیکھنے لگی جس پر باضل نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچا

“آئی مین پوری چڑیل لگتی ہو جب یوں ماسیوں کی طرح آنسوں بہاتی ہو۔۔۔”

رائمہ کو خود کی جانب تکتا پا کر باضل نے جلدی سے بات کو دوسرا رخ دے کر چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بنائے جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی رائمہ ہنسنے لگی وہ بڑی حیرت سے اسے ہنستا دیکھ رہا تھا

“اوہ تو آپ ہنستی بھی ہیں؟؟”

باضل نے بڑی دلچسپی سے ہاتھ پر تھوری ٹکائے اسے دیکھتے ہوئے کہا جس پر رائمہ ایک پل کے لیے بلش کر گئی تھی

“اتنی عزت؟؟”

باضل کے الفاظ سن کر رائمہ نے حیرت سے کہا جس پر باضل نے ایبرو اچکائیں۔۔۔

“ہضم نہیں ہورہی نہ تمہیں؟؟ کوئی بات نہیں سوکھی بکری اب نہیں دوں گا کوئی عزت۔۔۔ اب جلدی سے اپنے یہ آنسوں صاف کرو ورنہ تمہاری نوزی آنے لگی تو قسمے میرا پھر سے قہقہہ نکل جانا ہے۔۔۔ پھر تم یوں ہی نازی سمیت پرس لئے پورے پارک میں میرے پیچھے بھاگو گی۔۔۔”

باضل کے منہ سے اپنی اچھی خاصی عزت افزائی سن کر رائمہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی

“کیا ہوا؟؟ کچھ زیادہ ہوگیا کیا؟؟”

رائمہ کی سخت گھوری پر وہ لبوں کو زبان سے تر کرتا ہوا کہنے لگا جس پر رائمہ کے تاثرات ڈھیلے پڑھنے لگے اور وہ ہنستی ہوئی اس کے کاندھے پر سر ٹکائے گئی

“ارے ارے۔۔۔ لڑکی میں پہلے ہی بتا رہا ہوں یہ شرٹ میں نے آتش درانی کے مینشن میں جا کر سرونٹ کوارٹر سے چرائی تھی اگر اب تم نے یہ بھی اپنی نوزی سے خراب کی نہ پھر تمہاری نیکسٹ سیلیری پر ساری شاپنگ کروں گا میں سمجھی”

باضل نے ہڑبڑاتے ہوئے کہہ کر اپنی دھڑکنوں کو قابو کرنا چاہا جبکہ رائمہ اس کی تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یوں ہی آنکھیں بند کر گئی ایک دوست کا اتنا خوبصورت ساتھ شاید اسے پہلے کبھی نصیب نہ ہوا تھا ابھی وہ یوں ہی گہری سانس لی رہی تھی جب باضل کا موبائل بجا

“کیا؟؟ کس طرف؟؟ مجھے لوکیشن سینڈ کرو!!”

وہ کہتا ہوا موبائل جیب میں رکھ کر رائمہ کو دیکھنے لگا جو اب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی

“یار آتش کی لڑائی ہوگئی اچھی خاصی درگت بنا ڈالی اس نے حشر کی۔۔۔ وہ بھی پبلک پلیس پر۔۔۔ مجھے جانا ہوگا کل ملیں گے۔۔۔”

وہ عجلت میں کہتا ہوا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا جبکہ رائمہ کو آتش کی حالت کا سن کر کافی افسوس ہورہا تھا

☆★☆★☆★☆

“تیری ہمت کیسے ہوئی اپنی گندی زبان سے تعبیر کا نام لینے کی ہاں؟؟ میں تیری جان لے لوں گا!!”

آتش کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر زمین پر گرے حاشر کو گریبان سے پکڑے مسلسل اس پر مکوں تھپڑوں کی بوچھاڑ کر رہا تھا نجانے کتنے لوگ وہاں کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے تھے

“کیا کہا تھا تو نے؟؟ وہ مجھے نہیں ملے گی ہاں؟؟ میں اسے حاصل کر کے دم لوں گا سمجھا تو۔۔۔”

آتش نے ایک اور بات پھر سے غرراتے ہوئے اس کی ناک پر مکا مارا اب تو حاشر میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ اپنا بچاؤ کر سکے وہ بے ہوشی کی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا میڈیا فورن سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا

آج دوپہر کو جب وہ مینشن سے اپنے پرسنل ہاؤس جارہا تھا تب اچانک سے حاشر نے اس کی گاڑی کے سامنے اپنی گاڑی روکی تھی اور جب آتش باہر نکل کر آیا تھا تو حاشر نے اسے تعبیر کے نام پر الٹی سیدھی باتیں سنا کر اور اسے سب حقیقت بتا کر کہ اس نے ہی تعبیر کو وہ تصویریں بھیج تھیں اب اسے غصہ دلا دیا تھا اور اب وہ صحیح معنوں میں پچھتا رہا تھا

میڈیا پر یہ نیوز جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی پہلے ہی آتش سے حسد کرنے والوں نے اس کے نام کو بدنام کرنے کی لاکھ کوششیں کی تھیں آتش کی جگہ جگہ ہونے والی جنونی لڑائیوں پر تنقید کی گئی تھی

اب ایک بار پھر اس کی لڑائی ہو چکی تھی اور اس بار جس سے ہوئی تھی وہ کوئی عام شخص نہیں بلکہ ایک معروف اداکار حاشر خانزادہ تھا جسے دیکھ کر لگ رہا تھا وہ شاید اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو

“وہ صرف میری ہے صرف میری۔۔۔ اسے چھونا تو دور کی بات ایسی کوئی بات بھی کی تو جان لے لوں گا میں تیری۔۔۔ زمین میں گاڑ دوں گا تجھے۔۔۔ پوری دنیا کے لئے عبرت بنا دوں گا!!!”

آتش کے الفاظوں سے اس کے جنون کی شدت واضح جھلک رہی تھی ابھی وہ مزید اس کی شکل بگاڑتا جب ضوریز اور باضل وہاں پہنچے۔۔۔ بامشکل وہ دونوں لوگوں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے ہوئے جائے وقوعہ پر آئے جہاں آتش پسینے سے شرابور وجود کے ساتھ اب تک پوری شدت سے اسے پیٹنے میں مصروف تھا

“ہیئی برو۔۔۔ چھوڑو اسے سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔”

باضل کو آگے بڑھنے سے ڈرتا دیکھ کر ضوریز نفی میں سر ہلاتا ہوا آگے بڑھ کر آتش کو قابو کرنے لگا جو اب اسے بھی پوری شدت سے دور دھکیل کر حاشر خانزادہ پر لاتوں کی برسات کر رہا تھا

“برو چھوڑ دو اسے مر جائے گا یہ ویسے ہی دم خم نہیں اس میں۔۔۔ مر مرا گیا تو کون دفنائے گا اس چھلکے کو۔۔۔”

ضوریز نے بیزاری سے کہتے ہوئے موقع سے فائدا اٹھاتے ہوئے حاشر کے بازؤں پر خو بھی ایک لات رسید کی تھی

“یہی تو چاہ رہا ہوں میں۔۔۔ کہ مر جائے یہ۔۔۔”

آتش نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے ایک آخری مکا اس کی ناک پر رسید کیا تھا اس کا پورا چہرہ خونم خون ہوچکا تھا جبکہ باضل کھڑا ہوا بڑے مزے سے حاشر ہی حالت دیکھ رہا تھا جس پر ضوریز نے سے آنکھیں دکھائیں

“برو ریلیکس یار کیا ہوگیا؟؟ اس کو مارنے سے کوئی فائدا نہیں ملنے والا چلو یہاں سے۔۔۔”

بامشکل ضوریز اور باضل نے آتش کو قابو کرتے ہوئے واپس اس کی گاڑی میں بٹھایا اور اس کے گارڈز کو اشارے سے اس کے ساتھ جانے کا کہہ کر وہ دونوں خود اس کے پیچھے نکل گئے

☆★☆★☆★☆

رات کے چار بجے کا وقت تھا آسمان پر تاریخی چھائی ہوئی تھی وہ ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص حالت بنائے گھپ اندھیرے کمرے میں بیٹھا سگریٹ نوشی کر رہا تھا نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی آنکھوں پر کوئی بوجھ سا تھا شاید یہ مسلسل جاگ کر روتے رہنے کی وجہ سے تھا

“کیوں تعبیر؟؟ آخر کیوں؟؟ کیوں تم میری پہنچ سے اتنی دور جا چکی ہو کہ میں چاہ کر بھی کچھ بھی نہیں کر پارہا۔۔۔”

وہ زیرِ لب کہتا ہوا موبائل میں چمکتی اس کی تصویر کو دیکھنے لگا آتش کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں جاری ہونے لگے

“ایک بار۔۔۔ صرف ایک بار تم مجھے واپس مل جاؤ۔۔۔ائی سویر میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا!!!”

وہ جیسے اس کی مسکراتی تصویر کو دیکھ کر التجا کر رہا تھا کیا تھا وہ اور کیا سے کیا بنا دیا تھا اسے عشق نے۔۔۔ گناہوں کی دلدل سے نکل کر اس نے جینا سیکھا تھا مگر ایک بار پھر وہ ان گناہوں کی زد میں آچکا تھا

“تم ایک بار تو مان لیتیں میری بات۔۔۔ بھروسہ تو کرتیں مجھ پر۔۔۔جانے سے پہلے صرف ایک بار مجھ سے صفائی تو مانگ لی ہوتی تم نے۔۔۔ تو آج یہ سب نہ ہورہا ہوتا۔۔۔”

وہ مایوسی سے کہتا ہوا اپنے لڑیوں کی مانند گرتے آنسوؤں کو صاف کرنے لگا

“میں کتنا خراب بنتا جارہا ہوں نہ تعبیر۔۔۔ دیکھو۔۔۔ دیکھو سب کچھ کھو دیا میں نے۔۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا سوائے اس شراب کے۔۔۔”

وہ شراب کا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرتے ہوئے کہنے لگا تبھی ایک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی

“تعبیر تمہیں کبھی بھی نہیں ملے گی آتش!! تم ایک گناہگار انسان ہو۔۔۔”

وہ جو دل ہی دل میں خود کو تعبیر کے مل جانے کی تسلی دے رہا تھا اچانک سے کرنٹ کھا کر سیدھا ہوا آخر کس سمت سے یہ آواز سنائی دی تھی وہ پورے کمرے میں نظر دوڑانے لگا مگر اندھیرے کے سوا اور کچھ نہ تھا

“نہیں ہوں میں گناہگار!!!”

وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا زیرِ لب گویا سوا سامنے تعبیر کا عکس نظر آیا وہ آنکھوں میں آنسوں لئے کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی آتش تعبیر کو دیکھ کر جیسے ساکت سا رہ گیا تھا کتنی اداسی تھی اس کے چہرے پر کتنا درد تھا کس قرب میں کھڑی وہ اسے دیکھ رہی تھی

“تعبیر۔۔۔”

وہ زیرِ لب کہتا ہوا دیوانوں کی طرح مسکرا اٹھا جیسے اسے اس کے جینے کی وجہ واپس مل چکی ہو وہ جیسے ہی اٹھنے لگا تعبیر نے ہاتھ کی اشارے سے اسے روکا

“وہی رہیں۔۔۔ قریب مت آئیے گا!!!”

آتش نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ بھر آئی آواز میں کہتے ہوئے شکواہ کن نگاہوں سے اس کی حالت دیکھ رہی تھی بکھرے بال بے رونق چہرہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بڑھتی ہوئی داڑھی وہ کیا وہی آتش درانی تھا؟؟ جو اس دنیا میں سب سے زیادہ خوبرو نوجوان دکھائی دیتا تھا؟؟ مگر اس وقت تو وہ کسی عشق میں بری طرح ہارے پاگل نفسیاتی شخص سے کم نہ لگ رہا تھا

“تت تعبیر۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہو؟؟ تم۔۔۔ تم واپس آگئی ہو نہ۔۔۔ مجھے اپنے پاس آنے دو پلیزز مجھے اور نہ تڑپاؤ۔۔۔”

آتش تڑپ کر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا جس پر وہ دو قدم دور ہوئی

“تعبیر۔۔۔ کہاں تھیں تم؟؟ کتنا ڈھونڈا کتنا رویا ہوں تمہارے لیے میں۔۔۔ کیوں گئی تھیں تم مجھ سے دور۔۔۔ دیکھو اب تم آگئی ہو نہ۔۔۔ تو اب تم کہیں بھی نہیں جاؤ گی میں تمہیں کہیں بھی جانے نہیں دوں گا۔۔۔”

آتش اپنی نیلی سرخ بھیگی آنکھوں میں کئی حسرتیں لئے اس کے قریب آنے لگا جس پر تعبیر مزید دور ہوئی وہ ضبط سے آنکھیں بند کئے کھڑی تھی آتش اس کے اس عمل پر محویت سے اسے تک رہا تھا کیا وہ نہیں چاہتی تھی کہ آتش اس کے پاس آئے؟؟

“میں آپ کے ساتھ آپ کے پاس نہیں رہ سکتی آتش۔۔۔”

تعبیر نے درد سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اسے دیکھا جو یہ جملہ سن کر مزید اذیت میں مبتلا ہوچکا تھا

“مم مگر کیوں تعبیر۔۔۔”

وہ عجلت سے کہتا ہوا دو قریب آگے ہوا جس پر وہ مزید پیچھے ہوئی

“آتش وہیں رک جائیں۔۔۔ میرا اور آپ کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔۔۔ میں آپ کو کبھی بھی نہیں مل سکتی۔۔۔”

تعبیر نے سسکتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے آتش کے دل میں ایک درد سا اٹھا تھا وہ کس قدر تڑپتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا

“تعبیر میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔ پلیززز مجھ سے دور مت جاؤ!!!”

وہ التجائی انداز سے کہتا ہوا اسے دیکھنے لگا جو پہلے ہی تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی

“آپ کچھ ٹھیک نہیں کر سکتے آتش۔۔۔ سب کچھ ٹھیک کرنے والی ذات تو اس کی ہے۔۔۔ پھر آپ سب کچھ ٹھیک کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟؟”

تعبیر نے نرم لہجے میں کہا جس پر آتش حیرت سے اسے دیکھنے لگا وہ صحیح ہی تو کہہ رہی تھی

“تعبیر دیکھو۔۔۔ دیکھو میں۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں نہ تم مجھ سے دور نہ جاؤ تو پلیزز مت جاو۔۔۔”

وہ چار قدم آگے ہوا تھا تعبیر کا عکس نفی میں سر ہلاتے ہوئے آتش کے چھونے سے پہلے ہی غائب ہو چکا تھا ایک دم سے اس کی آنکھ کھلی وہ اب تک اپنی اس ہی پوزیشن پر بیٹھا نیند کے جھونکے کی نظر ہوا تھا اطراف میں نظریں دوڑانے پر پتا لگا وہاں کوئی نہ تھا یہ صرف چند لمحوں کا خواب تھا

“مم میں گناہگار نہیں ہوں۔۔۔ مگر ۔۔۔ میں یہ کیسے بھول گیا کہ۔۔۔ وہ ذات کتنی بڑی ہے۔۔۔”

آتش کو ہوش تو اب آیا تھا وہ کیا کر رہا تھا؟؟ وہ گناہ ہی تو کر رہا تھا وہ توبہ کرنے کے بعد پھر سے شراب پینے لگا تھا تو کیا وہ گناہگار نہ ٹھہرا؟؟ آتش کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہو چکا تھا

“تعبیر تمہیں کبھی بھی نہیں مل سکتی آتش تم ایک گناہگار انسان ہو!!”

پھر سے وہی جملہ اس کے بند کمرے میں گونجنے لگا آتش نے تڑپ کر دونوں ہاتھ کان پر جمائے

“نہیں نہیں!! میں گناہگار نہیں ہوں!! وہ صرف میری ہے۔۔۔ صرف میری!!”

وہ مسلسل کانوں پر ہاتھ رکھے دیوانہ وار چینخا جارہا تھا مگر وہ جملہ اب تک اسے سنائی دے رہا تھا

“تعبیر تمہیں کبھی بھی نہیں مل سکتی!!”

آتش کی حالت شاید کوئی دیکھتا تو اسے پاگل ہی سمجھتا

“سچے دل سے مانگا جائے تو وہ ضرور دیتا ہے۔۔۔”

تعبیر کی میٹھی آواز اس کے کانوں میں رس گھولنے لگی تھی آس پاس کوئی نہ تھا اس بند کمرے میں دو مہینے گذارے تھے اس نے۔۔۔ تعبیر کی یادیں، اس کی باتیں، اس کے جملے، اس کی ہنسی سب کچھ وہ محسوس کرتا تھا

“تو کیا ایک بار پھر مجھے اسے رب سے مانگ لینا چاہیے؟؟”

آتش کے دل نے بے ساختہ کہا تھا تبھی آتش نے ایک نظر برابر میں رکھی شراب کی بوتلوں کو دیکھا تھا جن سے آج دو مہینوں بعد وہی بو اٹھنے لگی تھی وہ حقارت بھری نگاہوں سے ان بوتلوں کو دیکھتا ہوا ادھر سے اٹھ کر کھڑا ہوا

“لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف!!!”

فجر کی اذان اس کے کانوں میں رس گھولنے لگیں وہ کاؤچ پر رکھی چادر اٹھا کر ان بوتلوں پر ڈالتا ہوا خود باتھ چلا گیا فریش ہوکر اس نے کالا کرتا شلوار زیب تن کیا اور جائے نماز بچھا کر اپنے رب کے حضور ایک بار پھر سے آ کھڑا ہوا آج وہ کتنے وقت بعد نماز پڑھ رہا تھا جو اس کی زخمی روح کو سکون بخش رہی تھی

“گناہگار۔۔۔ ہاں گناہگار ہی تو ہوں میں۔۔۔ میں نے توبہ کرلی تھی مگر پھر سے گناہگار بن گیا میں۔۔۔”

آنسوں موتیوں کی طرح آنکھوں سے پھسل رہے تھے ندامت حد سے زیادہ طاری تھی زبان لڑکھڑا رہی تھی دل زوروں سے دھڑک رہا تھا اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا وہ اپنے رب کیے حضور ایک بار پھر ہاتھ اٹھائے شرم سار ہو رہا تھا

“کیا مجھے معافی مل سکتی ہے؟؟ میں ایک بار پھر بدلنا چاہتا ہوں۔۔۔”

پہلے بھی وہ نماز ادا کر چکا تھا مگر اس بار جو اس کی حالت تھی اسے اپنے گناہگار ہونے پر شرمندگی ہورہی تھی ندامت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ آنکھوں کی برسات رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی یہ ان سب اس بات کی نشانی تھی کہ وہ رب اس کی سن رہا تھا

“میں نیکی کے راستے پر چلنا چاہتا ہوں۔۔۔ نیک کام کرنا چاہتا ہوں شاید کبھی مجھے میرے گناہوں کی معافی مل جائے اور تعبیر مجھے واپس مل جائے۔۔۔”

آتش نے ضبط سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا کتنا سکون تھا نہ یوں رات کی تاریخی میں گناہوں کے راستے کو خیر باد کہتے ہوئے اپنے رب کی جانب لوٹ آنا!!!

“یا اللّٰہ میں کیا کروں۔۔۔ کیا کروں ایسا جو تو میری تمام اذیتیں دور کردے۔۔۔ کیا کروں ایسا کہ وہ میرے پاس واپس لوٹ ائے۔۔۔ میں نہیں جی پارہا ایسے۔۔۔ میں ختم ہوتا جارہا ہوں۔۔۔”

وہ سسک رہا تھا ہاں وہ اپنے رب سے گفتگو کر رہا تھا بہت سی ایسی باتیں جو وہ زبان سے بیان نہ کر سکا تو کافی دیر تک یوں ہی جائے نماز پر بیٹھا زاروقطار روتا رہا جب دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو جائے نماز اٹھا کر ٹیبل پر رکھی اور ہاتھ میں تسبیح لیے بستر پر آ بیٹھا اور درود شریف کا ورد کرنے لگا۔۔۔ اور اسی دوران اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔

☆★☆★☆★☆

دوپہر ایک بجے کا وقت تھا جب وجاہت صاحب اس کے کمرے میں آئے وہ سامنے کا منظر دیکھ کر بلکل حیران تھے کل جو شخص پبلک پلیس پر جھگڑا کر کے آیا تھا جو کئی راتوں کا سویا ہوا نہ تھا وہ آج ہاتھ میں تسبیح لیے پر نور چہرے کے ساتھ آنکھیں موندے سکون کی نیند سورہا تھا

“آتش؟؟”

وجاہت صاحب کو یہ سب کسی خواب سے کم نہ لگ رہا تھا وہ چلتے ہوئے آتش کے پاس آ بیٹھے جو بامشکل بیٹھے بیٹھے بیڈ کراؤن سے سر ٹکائے سورہا تھا کتنا سکون تھا آج اس کے چہرے پر۔۔۔ ہر احساس سے عاری یہ سر شباب چہرہ آج کسی الگ ہی انداز میں چمک رہا تھا

“آتش بیٹا۔۔۔”

وجاہت صاحب نے اس کے ہاتھ سے تسبیح لیتے ہوئے اسے پکارا جس پر وہ بھوویں سکیڑتا ہوا آنکھیں چھوٹی کرکے انہیں دیکھنے لگا اس کی اس معصوم سی شکل پر وجاہت صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی انہیں مسکراتا دیکھ کر وہ آنکھیں مسلتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا

“جی ڈیڈ؟؟ آپ کب آئے”

آتش نے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے سوال کیا جس پر ان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“جب تم پرسکون انداز میں اپنی نیند پوری کر رہے تھے”

وجاہت صاحب کے مسکرانے پر وہ بھی مسکرا اٹھا تبھی اس کی نظر سامنے لگی وال کلاک پر گئی

“اوہ نو ایک بج گیا۔۔۔ میری ظہر کی نماز۔۔۔”

آتش نے فکر مندی سے کہتے ہوئے بیڈ سے اتر کر اپنی سلیپرز پہنی

“بیٹا وہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔”

وجاہت صاحب نے بے ساختہ کہا

“سوری ڈیڈ بٹ اس وقت میرا اس سے گفتگو کرنا ضروری ہے۔۔۔ ملتے ہیں پھر۔۔۔”

آتش نے مصروف انداز میں کہا اور آستینوں کو کوہنی تک چڑھاتے ہوئے وضو کے لیے چلا گیا جبکہ پیچھے اپنے ڈیڈ کو مسکراتا چھوڑ گیا

نماز سے فارغ ہوکر جیسے ہی وہ کمرے میں جانے کے لیے سیڑھیاں عبور کرنے لگا اس کی نظر لان میں کھڑے وجاہت صاحب پر گئی جو ضوریز اور باضل کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے مگر یہ کیا؟؟ ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔۔۔ تو کون تھی وہ؟؟

آتش نا سمجھی والے انداز میں چلتا ہوا لان میں آ کھڑا ہوا جبکہ نظر اس انجان لڑکی پر تھی جو عمر میں کافی چھوٹی اور شکل سے معصوم دکھائی دے رہی تھی اسے اپنی جانب مسکراتا دیکھ کر آتش نے وجاہت صاحب کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا جا پر وہ آگے بڑھے

“بیٹا میں تمہیں کسی سے ملوانا چاہ رہا تھا۔۔۔ دیکھا کون ملنے آیا ہے تم سے۔۔۔ اسے پہچانو۔۔۔ کون ہے یہ؟؟”

آتش نے وجاہت صاحب کی بات پر ناسمجھی سے انہیں دیکھتے ہوئے اس چھوٹی سی لڑکی کی جانب دیکھا جو اب تک بلش کر رہی تھی بلاشبہ وہ اسے دو مہینوں سے اپنے بھائی کے طور پر جانتی تھی مگر آتش اب تک اس بات سے انجان تھا

“ڈیڈ کون ہے یہ؟؟ میں نہیں جانتا اسے۔۔۔”

آتش نے جس قدر اجنبیت سے کہا تھا اتنی ہی اپنائیت سے حریم اس کے گلے آلگی جس پر وہ ایک دم سے ہڑبڑاتا ہوا اپنے ڈیڈ کو اور پھر باضل اور ضوریز کو دیکھنے لگا جو شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے

“بھائی جان۔۔۔”

حریم کے منہ سے لفظ ‘بھائی’ سن کر وہ ساکت سا ہوگیا تھا جیسے شاکڈ کی کیفیت میں مبتلا ہو جبکہ وجاہت صاحب مسکرا رہے تھے

“ڈیڈ یہ؟؟”

وہ اب تک صورتحال سمجھ نہیں پارہا تھا

“بیٹا یہ حریم ہے۔۔۔ تم دونوں کی اکلوتی بہن۔۔۔ یاد ہے تمہیں جب ہم ب سمجھ رہے تھے کہ یہ ہمیں چھوڑ کر جا چکی ہے۔۔۔ دراصل یہ بات صرف ضوریز جانتا تھا کہ وہ اب تک زندہ صحیح سلامت ہے۔۔۔ مجھے بھی ابھی ہی یہ سب پتا چلا تھا۔۔۔ لیکن تمہاری حالت کی وجہ سے تمہیں بتا نہ سکا”

وجاہت صاحب نے پوری تفصیل سے بتایا جس پر وہ حیرت سے کبھی اپنے ڈیڈ پھر اپنے بھائی اور پھر اپنی اس چھوٹی سی بہن کو دیکھ رہا تھا جو اب تک اس کے سینے سے الگ ہونے کے ارادے نہ رکھتی تھی

“حریم؟؟ حریم نام ہے تمہارا؟؟”

آتش نے اس کے گرد باہیں ڈالتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ اپنی نم آنکھیں لئے اسے دیکھنے لگی بے ساختہ آتش کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ بھائی بہن کا رشتہ اس قدر حسین ہوتا ہوگا آتش نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا جس پر وہ کسی چھوٹی سی ڈول کی طرح مسکرائی

“بھائی میں نے آپ کو بہت مس کیا مگر آپ کے غصے سے ڈر لگتا تھا جبھی آپ سے ملنے نہیں آئی کبھی۔۔۔”

حریم نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر آتش کے کب مسکرائے

“ہیئی برو اس ڈول کی بات پر بلکل بھی بیلیو نہ کرنا یہ ایک نمبر کی پٹاخہ کوئین ہے ہم دو بھی دو ہاتھ آگے”

ان دونوں کو ایموشنل ہوتا دیکھ کر ضوریز نے بیچ میں چھلانگ لگائی جس پر حریم ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی

“کیا؟؟ سچ ہی تو کہا ہے۔۔۔ بھول گئی وہ مال والا لڑکا۔۔۔ بچارا کتنا زیادہ پٹا تھا صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔”

حریم کو اپنی جانب گھورتا پا کر ضوریز نے جیسے اپنی بات کی وضاحت دے کر ایک بار پھر اس کو چھیڑا جس پر وہ منہ بسورے اپنے ڈیڈ کی جانب بڑھی

“ڈیڈ دیکھ رہے ہیں نہ آپ۔۔۔ یہ آج کل کچھ زیادہ ہی بھرم مار رہے ہیں۔۔۔”

حریم نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر ضوریز نے ہنسی دبائی

“اوہ بس بس میں نے کوئی بھرم نہیں مارے میں تو بس تمہارے کارنامے بتا رہا ہوں والد صاحب اور بڑے بھیا کو۔۔ کہ کتنی میسنی ہو تم”

ضوریز نے اپنے بندھے ہوئے بالوں کو ہاتھ سے ٹھیک کرتے ہوئے ایک انداز سے کہا جس پر حریم واقعی میں اپنے ڈیڈ سے گلے لگ کر رونے لگی جس پر آتش سخت تاثرات لئے ضوریز کو گھورنے لگا جبکہ وجاہت صاحب بھی ایک پل کے لیے ضوریز کو غصے سے دیکھنے لگے تھے

سب کو اپنی طرف غصے سے دیکھتا پا کر وہ تلملاتے ہوئے دور ہوا

“ہیئی گائز یہ ڈرامے کر رہی ہے۔۔۔”

ضوریز نے احتجاجی انداز میں کہا جس پر حریم مزید تیز تیز رونے لگی تو آتش نے آگے بڑھ کر ضوریز کو گُدی سے پکڑا

“ڈونٹ کرائے مائے ڈول ابھی اس چرسی موالی دو نمبر آدمی کے ساری بھرم نکالتا ہوں میں۔۔۔”

آتش نے ایک جھٹکے سے زور کو گدی سے پکڑ کر دبایا جس پر حریم آنکھوں میں چمک لئے مسکراتے ہوئے اپنے چہیتے بھائی کو دیکھنے لگی

“ہیئی برو یہ کیا کر رہے ہو؟؟ بہن کے آتے ہی پارٹی بدل لی۔۔۔”

ضوریز نے اپنی گردن آزاد کرانے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے کہا جس پر آتش سمیت سب لوگ مسکرانے لگے آتش نے ایک جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑی جس پر وہ ہتھیلی پہ باندھا رومال کھول کر گلے میں سیٹ کرنے لگا تبھی باضل کے پاس ایک میسج ریسیو ہوا

“وجاہت انکل۔۔۔ کلو مل گیا۔۔۔ شاویز کا نمبر ان ہوا ہے۔۔۔ ہم لوکیشن ٹریز کر کے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔۔۔”

باضل کی بات پر سب ایک دوسرے کو حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے دیکھنے لگے جبکہ آتش الٹے پاؤں بھاگ کر اپنے کمرے سے موبائل، وائلٹ اور گاڑی کی چابی لے آیا اب بس وہاں جانے کی دیر تھی

☆★☆★☆★☆

نظریں کسی کی شدت سے منتظر تھیں ہاتھوں میں کسی اور کے نام کی مہندی لگی تھی کسی اور کے نام کے سرخ جوڑے اور زیورات زیب تن کئے بالوں کا جوڑا کر کے سر پر ڈوپٹہ سیٹ کیے میک اپ سے سنگھار کر کے کھڑکی کی جانب رخ کئے کھڑی نجانے وہ اب کس کی منتظر تھی

خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں سے اشک ٹوٹ کر چہرے پر رقص کر رہے تھے دل کٹتا چلا جارہا تھا کسی اور کے نکاح میں قید وہ لڑکی دل کسی اور ہی کو دے بیٹھی تھی شام سے رات ہو چکی تھی مگر اب تک کوئی امید نہ تھی

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *