Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 29)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 29)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“دو… صرف دو” اس نے اپنی خواہش ظاہر کی
“نہیں چار… بلکہ چھ…” ضوریز نے بھی ضد پکڑی
“کیا مطلب چھ؟؟ دماغ ٹھیک ہے تمہارا” ائیزل نے بے یقینی سے کہا
“بات سنو میرے جگر کو بیچ میں مت لاؤ یہ مسئلہ ہم دونوں کا ہے اس کا نہیں اور ہاں میں نے کہہ دیا تو کہہ دیا ہمارے چھ بچے ہوں گے ہاں لیکن اگر تمہیں اس میں کوئی کمی بیشی لگ رہی ہے تو دو چار اور بڑھا دیتے ہیں… لیکن کم نہیں ہوں گے “
ضوریز نے حکم سناتے ہوئے اسے حیران کر دیا تھا
“ہاں ہاں بلکل کیوں نہیں ؟؟ پوری کرکٹ ٹیم ہی بنا لیتے ہیں نہ پھر کیسا رہے گا؟؟”
اس نے تپتے ہوئے کہا جس پر ضوریز نے اپنی ہنسی دبائی
“گڈ آئیڈیا یار پھر ہم ننھے شیطانوں کے ساتھ مل کر کرکٹ کھیلیں گے…”
“ہاں اور سارے کے سارے شیطان تمہاری طرح چیٹر ہوں گے ہیں نہ؟؟”
ضوریز نے شوخیا انداز میں کہا جس پر ائیزل تنک کر مخاطب ہوئی تو ضوریز کا قہقہہ نکلا
“نہیں سب کے سب میری طرح چیٹر نہیں ہوں گے کچھ تمہاری طرح ہٹلر بھی تو ہوں گے نہ ڈارلنگ”
ضوریز نے آنکھ دبائی
“تم نے مجھے ہٹلر کہا؟؟ دو نمبر آدمی جسٹ شٹ اپ تم ہوں گے ہٹلر…سمجھے چرسی کہیں کے”
وہ غصے میں کہتی ہوئی آنکھیں دکھانے لگی جبکہ ضوریز کی تو ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی
وہ اس وقت ضوریز کے ساتھ ویڈیو کال پر مصروف تھی جب بیل ہوئی اس نے فون بند کر کے بیڈ پر رکھا اور دروازہ کھولنے کے غرض سے باہر آئی مگر جب دروازہ کھولا تو حیران رہ گئی
“ڈیڈ…”
وہ مسکراتے ہوئے ان کے اندر آتے ہی گلے لگی جس پر انہوں نے اسے خود سے دور کیا وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی
“ڈیڈ آپ اچانک…”
ایک نظر ائیزل پر ڈال کر وہ بنا کچھ کہے گھر کے اندر اندر چلے گئے
“ڈیڈ کیا ہوگیا ہے آپ کو اتنے سالوں بعد یوں اچانک آئے ہیں وہ بھی اتنا غصے میں…؟؟ کیوں..”
وہ جب اندر آئی تو کاظم صاحب صوفے پر بیٹھے اسے ہی دیکھ رہے تھے
“تو کیا مجھے خوش ہونا چاہیے؟؟”
انہوں نے سخت لہجے میں کہا
“بٹ ہوا کیا ہے ڈیڈ؟؟”
اس کے پوچھنے پر انہوں نے باقاعدہ اسے غصے سے دیکھا
“کیا تمہیں نہیں پتا کیا ہوا ہے؟؟ ایک ہفتے پہلے میں نے تم سے کیا کہا تھا؟؟”
اب ائیزل کو یاد آیا تھا جس دن ضوریز اس سے ملنے آیا تھا اس دن شام کو ارتضیٰ پاکستان آرہا تھا مگر وہ ضوریز میں اتنا مگن ہوگئی تھی کہ نہ وہ ارتضیٰ سے ملنے گئی اور اس نے اس بات کو بھی غور نہیں کیا کہ آخر ایک ہفتے سے اس کے ڈیڈ اسے کال کیوں نہیں کر رہے تھے
“اوہ سو سوری ڈیڈ میں بلکل بھول گئی تھی… اور پھر آپ نے بھی تو مجھے یاد نہیں دلایا دوبارہ”
اس نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“ائیزل کیا تمہیں یاد نہیں میں نے تمہیں اس ہی دن کال کر کے بتایا تھا اور تم… تم نے دوبارہ کال ہی نہیں کی آخر کس دنیا میں رہتی ہو کرتی کیا رہتی ہو تم؟؟”
ان کا لہجہ تلخ تھا
“اففف سو سوری ڈیڈ میں کل شام ہی اس سے مل لوں گی…”
اس نے معذرت کر کے ارادہ کیا
“نہیں مزید تاخیر نہیں میں ارتضیٰ کو بتا چکا ہوں ہم آج رات ڈنر اس ہی کے ساتھ کریں گے”
وہ اپنا حکم سنانے لگے جس پر وہ تھوڑا پریشان ہوئی مگر حامی بھرتے ہوئے ان کے پاس آ بیٹھی
“اچھا ڈن؟؟ اب تو ناراضگی چھوڑ دیں ڈیڈ… آپ نے کچھ نوٹ کیا؟؟”
اس نے لاڈ سے کاظم صاحب کے گال کھینچے جس پر وہ مسکرائے
“کچھ نوٹ کرنا تھا؟؟” وہ تعجب سے پوچھنے لگے
“یس ڈیڈ…” اس نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا
“کیا؟؟” انہوں نے تجسّس والے انداز میں پوچھا
“لک ڈیڈ… میرے ڈریس کیا اسٹائل…”
اس نے ایکسائٹڈ ہوکر کہا
“ہاں واقعی لگتا ہے اب تمہیں پرنس کے بجائے پرنسس کہنا ہی پڑے گا”
“اوہ کم آن ڈیڈ”
انہوں نے قہقہہ لگایا جس پر وہ لاڈ کرتے ہوئے ان کے گلے لگی
☆★☆★☆★☆
“بابا کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟ بھلہ میں اس کی سیکریٹری کیوں بننے لگی؟؟ میں یہ کام نہیں کروں گی آپ جانتے بھی ہیں پھر ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟مجھے کسی کا احسان نہیں چاہیے”
اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا
“بیٹا یہ تم بھی جانتی ہو مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے… میں بھلہ اپنی بیٹی کو کسی غیر محفوظ ہاتھوں میں تھوڑی سونپ سکتا ہوں… اور پھر وہ جیسا دکھتا ہے ویسا بلکل بھی نہیں ہے نہ اس نے تمہاری ڈگری دیکھی نہ اس نے تمہارا تجربہ دیکھا اگر اس نے کچھ دیکھا ہے تو وہ ہیں ہمارے گھر کے حالات… خود سوچو بھلہ اسے ہم سے کیا چاہئے ہوگا؟؟ جو وہ یہ احسان کرے گا؟؟”
افتخار صاحب نے اسے مزید سمجھانا چاہا وہ اندر ہی اندر بہت پریشان تھے وہ اسے اب اپنے ساتھ اس گھر میں ہرگز نہیں رکھ سکتے تھے جب تک اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نہ نکل آئے اس کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہ تھا
“بابا جان حالات جیسے بھی ہوؤں جب تک ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے ہمیں بھوکا سونے نہیں دے گا اور میں کل سے نئی جاب ڈھونڈنے جاؤں گی آپ پریشان نہ ہوں انشاللہ مجھے اچھی جاب مل جائے گی…”
تعبیر نے انہیں یقین دلایا مگر وہ خاموش ہوگئے
“یعنی تم میری بات نہیں مانو گی…؟؟ ٹھیک ہے مرضی تمہاری…”
وہ اپنی ویل چیئر چلاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے جبکہ تعبیر اب مزید پریشان ہوگئی تھی آخر آتش نے ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا کہ اس کے بابا اسے آتش درانی کی سکریٹری بنانے کے لیے راضی ہوگئے تھے
☆★☆★☆★☆
“کیا مطلب ہے تمہارا؟؟ کیا تم اس شخص سے واقعی ملنے جارہی ہے؟؟”
ضوریز نے حیرت سے پوچھا جس پر وہ خاموش ہوگئی
“آئیز کیا تم اپنے ڈیڈ کے سامنے اسے ہمارے ریلیشن کے بارے میں بتاؤ گی؟؟ آر یو سیریس…”
ضوریز کی بات پر اس نے گہری سانس لی
“نہیں ریز میں فلحال اسے کچھ بھی نہیں بنانے والی…”
ائیزل نے سنجیدگی سے کہا
“اچھا تو یعنی آج تم اس کے ساتھ بیٹھ کر کینڈل لائٹ ڈنر کروگی ایم آئی رائٹ؟؟”
ضوریز نے جلتے ہوئے کہا
“اففف اللّٰہ ریز تم بھی نہ… میں کونسا اس سے اکیلے ملنے جارہی ہوں ڈیڈ بھی ہوں گے ساتھ…”
ائیزل نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
“اکیلے تم جا بھی نہیں سکتیں… میں بھی وہیں کہیں موجود ہوؤں گا”
ضوریز نے اس پر پہاڑ گرایا
“واٹ؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہو پاگل تو نہیں ہوگئے تم ہاں؟؟”
ائیزل کے اچانک سے چیخنے پر اس نے مٹھیاں بینچیں
“ہاں ہوں گیا ہوں پاگل تمہارے پیار میں… میں نہیں چھوڑ سکتا اس الو کے پٹھے کے ساتھ تمہیں اکیلا…”
ضوریز نے جنون بھرے لہجے میں کہا جس پر کچھ پل کے لیے وہ خاموش سی ہوگئی
“اور کونسا تمہارے ڈیڈ یا اس الو کے پٹھے نے مجھے پہچان لینا ہے؟؟ اور اگر پہچان بھی لیتے تو بھی میں نہ ڈرتا یو نو نہ آئی ایم بلاک بسٹر ڈرامہ…”
ضوریز نے ایک انداز میں اسے جتاتے ہوئے کہا
“نہیں تم پوری کی پوری ٹیلی فلم ہو…”
ائیزل نے قہقہہ لگایا
“خیر میں بعد میں بات کروں گی ریز ہم نکل رہے ہیں…”
ضوریز ابھی کچھ کہتا جب وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئی فون بند کر گئی
“آئی ایم آلسو کمنگ مائے ڈارلنگ…”
اس نے اپنی گاڑی کی چابی لی اور انگلی میں گھماتے ہوئے باہر نکل گیا
☆★☆★☆★☆
شام کا وقت تھا وہ اندھیرے کمرے میں بیٹھا حسبِ عادت سگریٹ نوشی میں مصروف تھا سامنے لگے ایل ای ڈی میں تعبیر کی ایک تصویر رکی ہوئی تھی آتش کی نظریں اس کے چمکتے ہوئے چہرے پر مرکوز تھیں اور یہ عمل پچھلے دو گھنٹوں سے جاری تھا
“یہ کیسی تڑپ ہے آخر یہ کس طرح کی بے چینی ہے میں نے ہمیشہ جو چاہا وہ پایا اور بہت جلدی سب کچھ حاصل کیا”
اس کے نازک سے لبوں کو تکتے ہوئے وہ زیرِ لب گویا ہوا لہجے میں عجب بے چینی تھی
“مگر تم میری زندگی میں انتظار کی وہ طویل گھڑی بن کر آئی ہو جسے پورا کرنے کی میں کوششیں کر رہا ہوں تم وہ طلب ہو جسے پانے کے لیے میں دیوانہ ہوتا جارہا ہوں نجانے یہ کٹھن وقت کب گزرے کا اور کب تم مجھے حاصل ہوؤں گی”
ایک کش لگاتے ہوئے اس نے اپنے لب ہلائے
“میں نے جانتا یہ کیسا جنون ہے یہ کیسی ضد ہے مگر… مگر تم میری عادت بنتی جارہی ہو…”
اس نے اپنی نیلی آنکھوں سے اس کی ہلکی براؤن آنکھوں کو دیکھا تھا جو اشکوں سے لبریز تھیں
“میں تم سے بدلہ لینا چاہتا ہوں، ہاں میں تمہیں درد دینا چاہتا ہوں مگر نجانے کیوں… جب بھی تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں نمی آتی ہے میں… میرا طوفان تھم سا جاتا ہے…”
وہ اٹھ کر اپنے لڑکھڑاتے قدموں سے چلتا ہوا ایل ای ڈی کے بلکل نزدیک آ کھڑا ہوا اپنے بائے ہاتھ کے انگوٹھے سے وہ اس کی تصویر پر نمایاں آنسوؤں کو چھونے لگا
“مجھے تمہارے آنسوں درد دیتے ہیں تعبیر… مجھے… مجھے تمہاری یہ نم آنکھیں تڑپاتی ہیں…”
وہ نشے میں تھا اس نے آج بہت پی لی تھی اتنی زیادہ کہ اس سے چلا بھی نہیں جارہا تھا وہ ہوش سے بیگانہ ہوکر بھی تعبیر کو یاد کر رہا تھا
بے ساختہ ایک اشک بے بسی کی حالت میں اس کی نیلی آنکھوں سے بہتا ہوا رخسار پر جا رکا جسے محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی انگلی سے چھوتا ہوا اسے دیکھنے لگا جسے دیکھتے ہوئے اس نے قہقہہ لگایا
“یہ آنسوں… تمہارے نام کا ہیں تعبیر علی…”
نشے میں چور وہ اس کی تصویر کو اپنا آنسوں دکھاتا ہوا واپس صوفے پر آ بیٹھا سامنے رکھی ایش ٹرے میں سگریٹ کو مسلتے ہوئے ٹیبل سے وائن کا گلاس اٹھائے وہ پھر سے گھونٹ بھرنے لگا
ایک نظر سامنے چمکتی تصویر کو دیکھ کر اس نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی اور وائن کا پورا گلاس ختم کر کے وہ بے ہوشی کی حالت میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا تھا
☆★☆★☆★☆
“میٹھا لیں نہ پلیززز…”
اس نے ڈش آگے بڑھائی جس پر ائیزل نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا کاظم صاحب نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگے
“آئی ایم میں سویٹ ڈش نہیں کھاتی”
ائیزل نے بامشکل بات سنبھالی جس پر ارتضیٰ نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ دور بیٹھا ضوریز خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“ویسے مس ائیزل آپ کی کیا ہوبیس ہیں…”
ارتضیٰ پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کا دماغ کھا رہا تھا مگر اب کھانے کے ساتھ ساتھ دوبارہ اس کا سر کھانے لگا
“میری ہوبیس ؟؟ کیا کریں گے آپ جان کر؟؟”
ائیزل نے الٹا سوال کیا جس پر وہ ٹشو لبوں پر لگائے مسکرانے لگا
“یہ بھی آپ نے ٹھیک کہا میں کیا کروں گا جان کر… مجھے آپ ایسے ہی قبول ہو”
ارتضیٰ کی بات پر کاظم صاحب مسکرائے جبکہ ائیزل کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورنے لگی جسے دیکھتے ہوئے وہ کاظم صاحب کو دیکھنے لگا
“تم لوگ باتیں کرو میں ابھی آتا ہوں”
کاظم صاحب اپنا موبائل لئے باہر کی جانب چلے گئے جبکہ ان کے جاتے ہی ارتضیٰ ائیزل کی جانب مخاطب ہوا جو اسے چور نظروں سے دیکھ رہی تھی
“آپ کو میں کیسا لگا ائیزل…”
اس نے دھیمے لہجے میں کہا جبکہ ضوریز دور بیٹھا آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھ رہا تھا
“مطلب؟؟”
ائیزل نے نا سمجھی سے پوچھا
“آئی مین آپ مجھے پسند کرتی ہیں یا نہیں… میرے لئے جاننا ضروری ہے”
اس نے ایک انداز سے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا اب وہ ائیزل کو غصہ دلا رہا تھا جس انداز سے وہ ائیزل کی جانب جھک کر باتیں کر رہا تھا وہ بھی اس ہی انداز میں اس کی جانب جھکی
“بات سنو میری… اپنی بولتی بند رکھو… ورنہ یہیں بیٹھے بیٹھے خوامخواہ ضائع ہوجاؤ گے سمجھے تم”
ائیزل نے اسے کانٹا دکھاتے ہوئے کہا جس پر وہ خوفگی سے اس کی جانب دیکھنے لگا
“مس کیا آپ واقعی مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہی ہو؟؟”
اس نے دھیمے لہجے میں بامشکل پوچھا جس پر ائیزل نے اسے آنکھیں دکھائیں
“کوشش نہیں کر رہی بدھو سچ میں ڈرا رہی ہوں اگر تم نے اپنی یہ چونچ بند نہ رکھی تو میں تمہارے اس بیکار تھوبڑے کا حشر نشر کردوں گی “
ائیزل کی یہ حرکت ضوریز بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا
“کک کیا مطلب آپ کا ہاں؟؟ آپ اپنے فیوچر ہبی سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہیں”
اس نے کتراتے ہوئے کہا جس پر ائیزل نے ناک سکڑائی تب ہی ضوریز وہاں آیا اور چیئر کھسکاتے ہوئے اس کے برابر میں بیٹھا
“اس کا فیوچر ہبی میں ہوں، اور یہ بات جتنی جلدی تو سمجھ جائے اتنا بہتر ہے”
سامنے رکھے پلیٹ میں سے فرائی چکن کا ایک پیس اٹھا کر کھاتے ہوئے وہ اپنے مخصوص اسٹائل میں مخاطب ہوا جبکہ ائیزل اطراف میں نظریں دوڑائے کاظم صاحب کو ڈھونڈنے لگی جو وہاں کہیں بھی نہ تھے
“اب آپ کون ہیں؟؟”
وہ بیچارہ نا سمجھی سے برابر بیٹھے بڑی بےتکلفی سے چکن ٹھوستے شخص کی جانب متوجہ ہوا جو اب اپنی گہری کالی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
“فیوچر ہبی…”
ضوریز نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
“مگر وہ تو میں ہوں…”
ارتضیٰ نے معصومیت سے کہا جس پر ضوریز اس کی جانب متوجہ ہوا
“بیٹا دیکھ تو اصل میں ہے کون تجھے خود کنفرم نہیں پتا… لیکن میں ضوریز درانی ہوں… ائیزل کا پرمننٹ فیوچر ہبی… اسے میں تجھے کبھی بھولے سے بھی دوں گا یہ تو بھول جا…”
ضوریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے اسٹائل میں سمجھایا جس پر وہ اس کے ہاتھ میں پکڑے چکن کی جانب دیکھنے لگا
“کسے نہیں دو گے؟؟ چکن کو یا ائیزل کو؟؟”
ارتضیٰ نے بے تکا سوال کیا جس پر ائیزل نے ماتھا پیٹا
“دونوں کو…”
اس نے آنکھ دبائی
“ریز جاؤ ڈیڈ کبھی بھی آسکتے ہیں”
اپنے سامنے بیٹھے مزے سے بروسٹ کھاتے شخص کو دیکھ کر وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگی
“ویٹ ڈارلنگ پورا تو ختم کرنے دو …”
ضوریز نے پرسکون انداز میں کہا جبکہ ائیزل کی جان پر بنی ہوئی تھی
“سن بے… ابھی تو میں جارہا ہوں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں کبھی واپس نہیں آؤں گا”
ضوریز نے اپنا پیس ختم کر کے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا جس پر اس کا قہقہہ نکلا
“ہاہاہاہا برو یو آر سو فنی سیریسلی… جب بھی بھوک لگے اور پیسے نہ ہوں تو میرے پاس آجانا یو نو آئی ایم آ رچ میں…”
ارتضیٰ کو لگ رہا تھا وہ کوئی عام بندا ہو جو یہ سب کھانے کے لیے کر رہا تھا اس کی بات پر ائیزل اور ضوریز نے ایک دوسرے کو دیکھا
“بائے ڈارلنگ سے یو سون”
ریز نے ائیزل کو کے گال کھینچتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ ارتضیٰ اب تک ہنس رہا تھا
“اب تمہارے کیوں دانت نکل رہے ہیں؟؟”
ائیزل نے منہ کے عجیب و غریب زاویئے بنائے اس سے پوچھا
“ائیزل مجھے نہ یہ بوائے بہت فنی لگا، دیکھا نہیں تم نے ایک چکن پیس کھانے کے لیے کتنے بہانے کر رہا تھا ہاہاہاہاہاہاہا پاگل خود کو تمہارا ہبی کہہ رہا تھا”
جس طرح وہ ائیزل کو ہنس ہنس کر ضوریز کے بارے میں بتا رہا تھا ائیزل کو وہ پینڈو ہی لگ رہا تھا اسے نہیں لگا اس نے ضوریز کی باتوں کو سنجیدہ لیا ہوگا
“ہاں بھئی کیا ہورہا ہے…”
کاظم صاحب واپس آئے تو ارتضیٰ کو ہنستا ہوا پایا
“ہاہاہا نتھنگ اسپیشل انکل بس ایک ینگ مین آیا تھا ہاہاہا انکل آپ یقین نہیں کریں گے اس کی باتیں اتنی انٹرسٹنگ تھیں کہ کیا بتاؤں…”
ارتضیٰ نے ایک نظر ائیزل کو دیکھا جس نے اسے آنکھیں سکیڑے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
“ہاہاہاہا اچھا خیر چھوڑو اگر ڈنر ہوگیا ہو تو چلیں گھر؟؟”
کاظم کی بات پر ائیزل آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھنے لگی
“اوہ نو نو انکل میں ہوٹیل میں رہوں گا”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“ارے کیسی باتیں کر رہے ہو داماد ہو تم میرے بھلہ ایسے گھر ہوتے ہوئے کہیں باہر رہنا مناسب تھوڑی رہے گا”
کاظم صاحب نے اسے سمجھایا
“اوکے انکل اگر آپ اتنا کہہ رہے ہیں تو ضرور میں ڈرائیور کو کہہ کر اپنا سارا سامان منگوا لیتا ہوں”
ارتضیٰ نے اپنا موبائل اٹھایا اور کال کرنے لگا جبکہ ائیزل دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی کہ آخر وہ یہاں آئی ہی کیوں تھی
☆★☆★☆★☆
“شاویز ناشتہ کئے بنا مت جانا جاب پر!!!”
وہ کچن میں کھڑی سب کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی جبکہ شاویز جاب پر جانے کے لئے تیار ہورہا تھا
“جو حکم آپی جان…”
شاویز نے اپنے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے کہا
افتخار صاحب تعبیر کے کمرے میں تھے ان کے ہاتھ میں موبائل تھا وہ انتہا کے پریشان تھے اب کچھ بھی کر کے انہیں تعبیر کو یہاں سے کہیں بھیجنا تھا اس کی زندگی کا سوال تھا انہوں نے ارادہ کر ہی لیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح تعبیر کو راضی کر کے رہیں گے
ابھی وہ ان ہی سوچوں میں گم تھے جب شاویز اندر آیا
“بابا جان ناشتہ ریڈی ہے چلیں؟؟”
اس کی بات پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا شاویز ویل چیئر چلائے انہیں کمرے سے باہر لایا جہاں تعبیر نے ناشتہ ریڈی رکھا ہوا تھا
ناشتے کے دوران ان تینوں کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی جبکہ افتخار صاحب کی خاموشی تعبیر نوٹ کر چکی تھی اور اس خاموشی کی وجہ بھی سمجھ چکی تھی شاویز نے ناشتہ ختم کیا اور انہیں خدا حافظ کہتا ہوا اپنی بائیک لئے جاب پر نکل گیا جبکہ تعبیر گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئی
“تعبیر… ادھر آؤ بات کرنی ہے کچھ”
دوپہر کا وقت تھا جب افتخار صاحب کی آواز پر وہ کچن سے باہر آئی جہاں وہ صحن میں بیٹھے ہوئے اس کے ہی منتظر تھے
“جی بابا جان…”
“بیٹھو!!!”
افتخار صاحب کے حکم پر وہ سامنے رکھی کرسی پر آ بیٹھی وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے
“میں نے سوچ لیا آج سے تم پالر نہیں جاؤ گی…”
انہوں نے اپنا حکم سنایا جس پر وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی
“مگر بابا جان کیوں؟؟”
اس کے پوچھنے پر ان کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے
“کیونکہ میں نے سوچ لیا اب تمہاری شادی کر دینی چاہیے…”
ایک اور پہاڑ وہ اس کے سر پر توڑ چکے تھے وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھ رہی تھی
“بابا جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟؟”
اس نے ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے پوچھا
“بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں مجھے ساری عمر زندہ نہیں رہنا تمہارے بعد شاویز کی شادی بھی کرنی ہے میں ساری زندگی تھوڑی رہوں گا یہاں”
افتخار صاحب کا لہجہ سخت تھا جس پر وہ ساکت سی بیٹھی انہیں دیکھنے لگی
“میں آج ہی ان لوگوں کی معلومات کرتا ہوں جن کا رشتہ تمہارے لئے آیا تھا”
اسے لگا اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی ہو چہرے کا رنگ اڑتا ہوا صاف دکھائی دے رہا تھا
“بابا جان مگر یوں اچانک کیوں؟؟”
“کیونکہ تم خود اس پستی میں رہنا چاہتی ہو میں جتنا کوشش کر رہا ہوں تم کسی قابل ہوجاؤ اپنی زندگی آگے بڑھاؤ اپنا ایک نام بناؤ ایک پہچان بناؤ تاکہ کوئی تمہیں گرا نہ سکے میرے بعد تم دونوں کی زندگی کسی مشکل میں نہ آئے لیکن نہیں تمہیں آگے بڑھنا ہی نہیں کیا فایدہ اتنی ڈگریوں کا اب بس میں نے فیصلہ کرلیا تمہاری شادی کردوں گا تاکہ تم اپنے گھر کی ہوجاؤ…”
آج اسے اپنے بابا وہ پہلے والے بابا لگ ہی نہیں رہے تھے وہ بے یقینی سے اپنے بابا کا رؤیہ دیکھ رہی تھی وہ ان کے الفاظوں پر یقین نہیں کر پارہی تھی
“شاویز کی پڑھائی کے لئے تم نے جو پیسے جمع کئے ہوئے تھے اسے مجھے دے دو میرے پاس بھی کچھ جمع پونجی ہو گی اتن کہ تمہارا جہز بن جائے گا… شاویز اب جاب کرتا ہے وہ خود بھی پڑھ سکتا ہے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتا ہے”
افتخار صاحب نے اسے خاموش دیکھتے ہوئے کہا جس پر وہ انہیں کسی بھی تاثر سے پاک چہرہ لئے دیکھنے لگی اس کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ شادی کر کے اپنے بابا اور بھائی سے دور جائے
“کاش بابا جان آپ اس کے بجائے مجھے مرنے کا حکم دے دیتے کم از کم پل بھر میں یوں پرایا تو نہ کرتے”
بے ساختہ اس کی آنکھ سے آنسوں چھلکا تھا جسے دیکھ کر افتخار صاحب کو تکلیف محسوس ہوئی تھی مگر انہیں یہاں کمزور نہیں پڑنا تھا وہ جانتے تھے ان کا اصل مقصد کیا ہے
“تمہارے پاس آج رات تک کا وقت ہے اگر تم آتش درانی کے ہاں جاب کرنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ کل ہی میں رشتے والی فیملی کو بلا لاؤں گا پھر جلد سے جلد چھوٹی سی رسم کے بعد نکاح کردیں گے”
وہ اسے اپنے ارادے سے آگاہ کرتے ہوئے واپس کمرے میں چلے گئے جبکہ وہ کمزور دل لڑکی کشمکش میں مبتلا اپنے آنسوں لئے وہیں ساکت رہ گئی
“آتش درانی جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو کوئی ایک دن بھی میری زندگی کا سکون سے نہیں گزرا، مجھے دیئے گئے تمام دکھوں کا حساب تمہیں ایک دن ضرور چکانا پڑے گا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی”
وہ آنسوؤں کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے دل ہی دل میں اس دشمنِ جاں سے مخاطب ہوئی تھی وہ اپنے لئے اس کے دل میں انتہا کی نفرت بھر گیا تھا جو شاید ہی کبھی ختم ہوپائے گی
جاری ہے
