Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 42)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“بچاؤ۔۔۔ بچاؤ مجھے۔۔۔ کوئی بچاؤ مجھے۔۔۔”

وہ جو کچھ دیر پہلے بیڈ پر گہری نیند میں سو رہا تھا اب مسلسل نیند میں چینخے چلائے جارہا تھا اس کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہوچکا تھا وہ کسی مچھلی کی مانند تڑپ رہا تھا جب اس کی سماعتوں سے ایک پرسکون سی آواز ٹکرائی

“‏الصَّلاةُ خَيْرٌ مِن الْنَّوْمِ۔۔۔”

“ترجمہ: نماز نیند سے بہتر ہے۔۔۔”

وہ اس بھیانک اور ڈراؤنے خواب سے بیدار ہوا خود کو اپنے کمرے میں پا کر وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا اور اذان سننے لگا اس کے جسم کی طرح اس کا چہرہ بھی پسینے سے نہایا ہوا تھا دل خوف کے مارے زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا

اذان کو بھرپور سننے کے بعد وہ تیز تیز سانسیں لینے لگا اسے جسم سے جان نکلتی محسوس ہورہی تھی یہ خواب کوئی عام تو نہ تھا جو وہ بھول جاتا اسے اپنے جسم میں کپکپاہٹ محسوس ہونے لگی تھی وہ اپنے پرانے کمرے میں ہی موجود تھا جہاں اب شراب کی بوتل کا نام و نشان تک نہ تھا

“یا اللّٰہ۔۔۔ یہ کیسا خواب تھا۔۔۔ آخر اس کی تعبیر کیا ہو سکتی ہے۔۔۔ کیا یہ قیامت کا منظر تھا؟؟ یا پھر میرے کئے گئے گناہوں پر مجھے ملنے والی سزاؤں کی ایک جھلک۔۔۔”

وہ زیرِ لب گویا ہوا آخری والے الفاظوں پر اس نے جھرجھری لی تھی بے ساختہ اسکی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے

“میں بہت گناہگار ہوں۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ لیکن بے شک تو معاف فرمانے والا ہے۔۔۔ میرے گناہوں کو معاف فرما میرے رب مجھے جہنم کی آگ سے بچا۔۔۔”

آتش نے اپنی جلی ہوئی ہتھیلی پر سے پٹی ہٹائی جو اب بہتر ہو چکی تھی وہ وضو کے لیے چلا گیا پہلے اس نے شاور لیا پھر وضو کیا اور اب وہ جائے نماز بچھا کر فجر کی نماز ادا کرنے لگا

ان دنوں اکثر ایسا ہوا تھا جب تعبیر تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتی تھی تو ایک نظر آتش کے کمرے پر ڈال کر دیکھ لیا کرتی تھی کہیں اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں یا وہ کسی مشکل میں تو نہیں۔۔۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا جب آتش نماز ادا کر کے کمرے کا دروازہ کھول چکا تھا

اب وہ واپس جائے نماز پر بیٹھا دعا کر رہا تھا جب تعبیر دروازہ کھلا دیکھ کر وہاں آئی مگر جب نظر سامنے زمین پر بیٹھے شخص پر گئی تو وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی آتش دعا میں اتنا مصروف تھا کہ اس کی موجودگی تک محسوس نہ کر سکا

“اے تمام جہانوں کے مالک ہمیں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا، ہمارے تمام گناہوں کو جو ہم سے جان بوجھ کر یا انجانے میں ہوئے ہیں انہیں معاف فرما۔۔۔”

آج جو خواب اس نے دیکھا تھا اسے لے کر وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھا وہ دل ہی دل میں دعائیں کر رہا تھا

جبکہ تعبیر خاموشی سے اسے گڑگڑاتا دیکھ رہی تھی وہ لبوں سے کہہ تو کچھ نہیں رہا تھا مگر آج وہ اپنے رب سے دل ہی دل میں رابطے میں تھا ہاں وہ اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا

کافی دیر تک آتش یوں ہی جائے نماز پر ہاتھ اٹھائے ہاتھوں میں سر جھکائے روتا رہا مگر جب اسے اپنا وجود ہلکا ہوتا محسوس ہوا اسے اپنی روح میں سکون سا محسوس ہوا تو وہ ہاتھ چہرے کے گرد پھیرتا ہوا جائے نماز اٹھانے لگا جب اس کی نظر دروازے پر گئی جہاں تعبیر ساخت سی کھڑی اسی کی حالت پر حیران تھی

“تعبیر۔۔۔ تم۔۔۔”

آتش نے آگے بڑھ کر لائٹس آن کیں تب تعبیر نے گہری سانس لی

“آؤ بیٹھو۔۔۔”

آتش نے کاؤچ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جبکہ وہ خود کچھ فاصلے پر آ بیٹھا وہ خاموش سی چلتے ہوئے وہاں آ بیٹھی وہ آتش کو بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی وہ کتنا بدل گیا تھا آتش اس کی حیران سی نظریں خود پر محسوس کر چکا تھا

“تمہیں پتا ہے تعبیر۔۔۔ جب میں بہت چھوٹا تھا تب مجھے میری موم نے نماز پڑھنا سکھائی تھی۔۔۔ مجھے اللّٰہ پر بھروسہ کرنا سکھایا تھا اور میں کرنے بھی لگا تھا۔۔۔”

آتش سنجیدگی سے نظریں جھکائے اسے بتا رہا تھا وہ بڑی غور سے اس کی بات سن رہی تھی

“مگر پھر ایک دن یوں ہوا کہ اس رب نے مجھے میری موم سے دور کردیا۔۔۔ بہت دور۔۔۔ میں بہت رویا بہت تڑپا بار بار اپنے رب سے اپنی موم کو واپس مانگا۔۔۔ مگر وہ واپس نہ آئیں۔۔۔ جانتی ہو پھر کیا ہوا۔۔۔ میں ان کے جانے کے بعد بلکل پہلے جیسا ہوگیا تھا۔۔۔”

آتش نے چہرے کو صاف کرتے ہوئے کہا تعبیر کو اس کی موم کا سن کر بہت افسوس ہوا

“میں پہلے سے کئی زیادہ ضدی ہوتا چلا گیا۔۔۔ میں اپنے رب سے ناراض ہوگیا تھا۔۔۔ ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اٹھا کر جسکے لئے میں نے لمبی عمر کی دعائیں کی تھیں میرے رب نے اسے ہی مجھ سے دور کردیا۔۔۔ اور اتنا دور کہ کوئی چاہ کر بھی مجھے وہاں نہیں لے جا سکتا تھا۔۔۔”

آتش نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھتے ہوئے کہا اس کی آنکھیں پھر سے اشکبار ہونے لگی تھیں

“پھر میں نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔۔۔ دو دو دن کھانا نہیں کھاتا تھا۔۔۔ ملازموں سے بدتمیزی کرتا تھا۔۔۔ سکول جانے کے وقت خود کو کمرے میں بند کرلیتا تھا میں پہلے سے بھی کئی زیادہ بگڑ چکا تھا کیونکہ پہلے تو میری موم مجھے سنبھال لیا کرتی تھیں مگر ان کے جانے کے بعد مجھے کوئی سنبھال نہ پایا۔۔۔”

آخری جملے پر ایک ہچکی لیتے ہوئے اس نے آنکھیں مینچیں تھیں تعبیر اس کے چہرے پر واضح وہ درد وہ کرب محسوس کر سکتی تھی اس سے آتش کے یہ آنسوں دیکھے نہیں جارہے تھے

“دادو کہتے تھے وہ سب سے زیادہ پیار مجھے کرتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھ پر غصہ کرنا مجھے ڈپٹنا شروع کردیا تھا یہاں تک کہ میں اس قدر بے قابو ہوتا چلا گیا تھا کہ ایک وقت کو میرے ڈیڈ مجھے نفسیاتی مریض قرار دے چکے تھے۔۔۔”

ایک تلخ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی مگر آنکھیں سرخ تھیں

“جو حالت میری کچھ دنوں پہلے تھی بلکل ایسی ہی حالت میری موم کے گزر جانے کے بعد بھی تھی۔۔۔ ڈیڈ نے مجھے دوسرے کنٹری اسٹڈیز کے لیے بھیج دیا تھا اور پھر میں ان سب سے اتنا دور ہوگیا تھا کہ۔۔۔ میں چاہ کر بھی واپس پلٹ کر ان سے ملنے نہ گیا۔۔۔”

آتش نے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے اس کی جانب تھا جو بلکل اس کی نیلی آنکھوں میں کھو سی گئی تھی

“تمہیں پتا ہے تعبیر میری موم کے بعد تم وہ دوسری شخصیت ہو جس نے مجھے زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کی ہے اور ایک بار پھر سے میرا یقین اپنے رب پر کامل ہونے لگا ہے۔۔۔ اور میں اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ کر ایک بار پھر سے اس کے قریب ہونا چاہتا ہوں۔۔۔ اور میری یہی دعا ہے اب کی بار جسے میں نے چاہا ہے جسے مانگا ہے وہ اسے مجھ سے دور نہ کرے۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔”

وہ کہتا ہوا اچانک رکا تھا تعبیر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی وہ نظریں چرائے وہاں سے اٹھ کر کھڑکی کی جانب بڑھا تھا جہاں سے باہر آسمان پر پھیلتی سورج کی کرنیں ایک نئی زندگی کی امید بن کر اس کی آنکھوں میں چمک پیدا کر رہی تھیں

“ورنہ میں ٹوٹ کر بکھر جاؤں گا اور۔۔۔ اور اس بار اگر مجھ ٹوٹا تو کوئی چاہ کر بھی مجھے سمیٹ نہیں پائے گا۔۔۔”

آتش نے ایک نظر اسے دیکھا تھا وہ جو کہنا چاہتا تھا تعبیر سمجھ چکی تھی وہ نظریں چرائے وہاں سے جانے لگی مگر آتش کی آواز پر رکی۔۔۔

“تعبیر۔۔۔ تم نے جو وقت مانگا تھا وہ آج پورا ہوجائے گا۔۔۔ میں شام تک تمہارے جواب کا منتظر رہوں گا۔۔۔”

آتش سے نظریں ٹکرائیں تھیں وہ جلدی جلدی قدم اٹھائے وہاں سے چلی گئی تھی وہ پیچھے اسے جاتا دیکھ رہا تھا کیا وہ اسے قبول کر پائے گی یا پھر ایک نیا امتحان اس کا منتظر تھا

☆★☆★☆★☆

“کون ہے؟؟”

دروازے پر دستک ہونے لگی شاویز بھی گھر پر نہ تھا بھلہ اس وقت ہون آ سکتا ہے۔۔۔ وہ یہ سوچ کر اپنی ویل چیئر چلاتے ہوئے گیٹ کی جانب بڑھے برابر میں رکھے لوہے کی راڈ سے دروازے کی کنڈی کھولی جمال ایک جھٹکے اسے اندر کی جانب آیا افتخار صاحب نے سخت ناگواری سے اسے گھورا

“چاچا جی کیسے ہیں آپ۔۔۔ حد ہے آپ تو ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی بھوت ہی دیکھ لیا ہو آپ نے”

اونچا لمبا قد چوڑا سینہ کندھے تک آتے بال چھوٹی آنکھیں کلیجی مائل بڑے بڑے ہونٹ مکرہ قسم کی مسکراہٹ لئے وہ شلوار قمیض میں ملبوس شخص ایک جہالت سے اندر کی جانب آتا ہوا مخاطب ہوا

“کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔؟؟”

افتخار صاحب نے سخت ناگواری سے گھورتے سامنے منہ میں گٹکا دبائے کھڑے اس سخت سے کہا تو وہ چل کر ان کے سامنے آیا پہلے ایک جھٹکے سے ہاتھ مار کر دروازہ بند کیا پھر ایڑھی کے بل بیٹھا

“کیوں؟؟ یہاں آنا منع ہے چاچا جی؟؟ وہ کا ہے نہ بہت دل کیا آپکی نازک سی صاحبزادی سے ملنے کا تو بس چلا آیا۔۔۔ معاف کرنا جلد بازی میں آپ کو اطلاع دینا بھول گیا۔۔۔ لیکن کوئی نہیں گھر میں جو کچھ پکا ہے میں کھا لوں گا تکلف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں”

جمال کی بکواس پر انہوں نے منہ پھیرا ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کسی طرح اس ویل چیئر سے اٹھ کر اُسے گریبان سے پکڑ کر پچھاڑ ڈالیں

“ویسے گھر کے سب لوگ کہاں ہیں؟؟ سالے صاحب اور میری منگیتر؟؟ کہاں ہیں سب؟؟ ارے بھئی کوئی ہے؟؟ دیکھو جمال علی آیا ہے۔۔۔ ویسے عجیب رواج ہے آپ کے گھر کا چاچا جی گھر کا داماد دروازے پر کھڑا ہے اور کوئی استقبال کے لئے بھی نہیں آیا خیر کوئی نہ اپنا ہی گھر ہے ۔۔۔۔”

وہ بڑی ڈھٹائی سے چلتا ہوا اندر صوفے پر آبیٹھا جبکہ افتخار صاحب اپنی ویل چیئر چلاتے ہوئے اس کے مقابل آئے جس کی نظریں اب تک تعبیر کے کمرے پر مرکوز تھیں

“کیا چاہتے ہو؟؟”

انہوں نے گمبھیر لہجے میں پوچھا

“آپ بہتر جانتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں ۔۔۔”

جمال نے گٹکا منہ میں دباتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے حقارت سے اسے دیکھا

“جو تم چاہتے ہو وہ میں کبھی ہونے نہیں دوں گا۔۔۔ چاہے اس کے لیے مجھے کسی بھی حد تک کیوں نہ جانا پڑے۔۔۔”

انہوں نے پرجوش انداز میں کہا تو وہ مکروہ انداز میں ہنسنے لگا

“واقعی چاچا جی؟؟ اور آپ جانتے ہیں جو جمال علی چاہے وہ اسے پانے کے لیے ہر حد پار کر سکتا ہے۔۔۔ خیر کہاں ہے میری منگیتر ؟؟ بلائیں اسے”

جمال کی بات پر وہ تنزیہ مسکرانے لگے جس پر وہ شکی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا

“کیا وہ یہاں نہیں ہے؟؟ کہاں ہے پھر وہ؟؟

جتنی اونچی آواز میں وہ اب تک باتیں کیا جارہا تھا اس کے خیال سے اس کی آواز پر اب تک تعبیر کو باہر آجانا چاہیے تھا مگر وہ نہیں آئی اس کا یہی مطلب ہوا تھا نہ کہ وہ یہاں ہے ہی نہیں وہ یک دم اٹھا اور دونوں کمروں کے دروازے لات مار کر کھولتے ہوئے اندر کا جائزہ لینے لگا مگر واقعی اندر نہ تعبیر تھی نہ شاویز وہ افتخار صاحب کی جانب پلٹا

“کہاں چھپا رہا ہے میری منگیتر کو آپ نے؟؟ کہاں چھپایا ہے بتائیں”

وہ چینخا تھا جبکہ وہ تنزیہ ہنسے تھے

“تم اسے چاہ کر بھی ڈھونڈ نہیں پاؤ گے وہ تمہاری پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے۔۔۔ اسے پانے کا تمہارا خواب خواب ہی رہے گا”

وہ تیور چڑھائے ان کی جانب جھکا

“غلط فہمی ہے آپ کی۔۔۔ نہ تو وہ اور نہ ہی یہ گھر آپ مجھ سے چھین سکتے ہیں یہ سب کچھ صرف میرا ہے۔۔۔ ابھی تو جا رہا ہوں مگر بہت جلد آؤ گا میں اور اب کی بار مولوی ساتھ لاؤں گا۔۔۔”

جمال اپنے ارادوں سے انہیں آگاہ کرتا ہوا جانے لگا افتخار صاحب نے لب بھینچے

“اس کے لئے تمہیں میری لاش پر سے گزرنا ہوگا۔۔۔”

وہ جس قدر غصے سے تلملائے تھے اس قدر پرسکون انداز میں پلٹ کر وہ انہیں دیکھنے لگا

“میں اس کام میں ذرا بھی دیر نہیں کروں گا”

وہ مکروہ مسکراہٹ لئے وہاں سے چلا گیا تھا مگر افتخار صاحب کو ایک بار پھر نئی مشکل میں ڈال گیا تھا انہوں نے موبائل اٹھا کر کال ملائی

“کیسے ہو افتخار۔۔۔”

“میں مزید انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔ یا تو تم اپنے بیٹے کو کہہ کر اسے یہاں سے جلد سے جلد رخصت کرا کر لے جاؤ یا پھر ڈائیورز کردو۔۔۔ تاکہ میں کہیں اور اس کی شادی کرا سکوں۔۔۔”

انہوں نے دوسری جانب سے آتے سوال کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے سخت لہجے میں اپنا جملہ مکمل کیا

“کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟؟ میں نے کہا تھا کہ میں جلد آنے والا ہوں۔۔۔”

دوسری جانب سے یہ آواز سنائی دی جس پر انہوں نے بیزارگی سے سر جھٹکا

“مجھے کسی بھی بھروسہ نہیں رہا۔۔۔ تمہارے پاس اب صرف کچھ ہی دنوں کا وقت ہے۔۔۔ پھر یا تو تم مجھے ڈیورز پیپرز بھیجو گے یا پھر میں خود تمہیں اس سے سائن کروا کر یہ پیپرز بھیج دوں گا۔۔۔”

افتخار صاحب نے دو ٹوک بات کی تھی جس پر مخالف نفوس نے پیشانی رگڑی تھی

“ٹھیک ہے میں سمجھ گیا۔۔۔ تمہیں اب کی بار انتظار نہیں کراؤں گا۔۔۔”

افتخار صاحب نے اس کے جملے سنے تھے

“خدا حافظ۔۔۔”

اس کی بات کا بنا کوئی جواب دیئے وہ فون بند کر گئے تھے اب انہیں جلد سے جلد کسی فیصلے پر پہنچنا تھا

☆★☆★☆★☆

“ضوریز بھائی مجھے جوگرز بھی لینے ہیں پلیززز نہ۔۔۔ چلیں نہ۔۔۔”

وہ پہلے ہی ڈھیروں کے حساب سے شاپنگ کر چکی تھی اب جوگرز کا یاد آتے ہی پھر سے ضد کرنے لگی ضوریز جو ڈھیروں شاپنگ بیگز لئے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اپنی ڈول کی ایک اور خواہش سن کر مسکرا اٹھا

“مائے ڈیئر ڈول مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے میں دوسرے کنٹری جا کر کبھی واپس نہیں آؤں گا۔۔۔؟؟ ملنے آیا تھا یار میں تم سے تم نے تو باڈی گارڈ بنا لیا اپنے بھائی کو۔۔۔”

ضوریز کی بات پر وہ جو ایک شاپ پر رکی تھی پیچھے مڑ کر ہنسنے لگی ضوریز نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا

“اففف اللّٰہ اب آپ جارہے ہیں پتا نہیں کب آئیں گے اور مجھ سے نہ یہ ہیلز پہن کر ڈانس نہیں کیا جاتا بھلہ کیسے اپنے اسٹوڈینٹس کو اسٹیپ سکھاؤں گی۔۔۔؟؟ تو پلیززز دلا دیں نہ۔۔۔”

حریم نے اپنا انتہائی سنجیدہ مسئلہ بیان کر کے التجائی نظروں سے اسے دیکھا جس پر وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا

وہ دونوں شاپ کے اندر گئے کافی دیر تک حریم نیو نیو جوگرز ٹرائے کرتی رہی اور ضوریز اس کے عقب میں ہاتھ کی مٹھی بنا کر تھوڑی ٹکائے اسے دیکھتا رہا پھر کہیں جا کر اسے جوگرز پسند آئے تو پیک کروا لئے

وہ لوگ شاپ سے باہر آ چکے تھے ضوریز نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا جو آج واقعی ڈول لگ رہی تھی

“کیا بات ہے بھئی بڑی خوش نظر آرہی ہو؟؟ خیر تو ہے؟؟ کیا جوگرز لینے کی خوشی میں بخار جگر۔۔۔ آئی مین دماغ پر تو نہیں چڑ گیا؟؟”

ضوریز جو کہ اپنے دماغ کا نک نیم جگر رکھے پھرتا تھا اپنی بات سنبھالتے ہوئے حریم سے مخاطب ہوا جس پر وہ بھرپور مسکراہٹ لئے اسے دیکھنے لگی

“نہیں نہ۔۔۔ بس خوشی ہورہی ہے کہ میرے اکلوتے بھائی نے مجھے اتنی ساری شاپنگ کروائی ہے وہ بھی خود ساتھ لا کر۔۔۔”

حریم نے پرجوش انداز میں کہا تو ضوریز یک طرفہ مسکرایا

“اچھا۔۔۔ تو یہ بات ہے۔۔۔ میری ڈول ہمیشہ ایسے ہی مسکراتی رہا کرو۔۔۔ اچھی لگتی ہو۔۔۔”

وہ جس کے دماغ میں اب کوئی شرارت چل رہی تھی ضوریز کو دیکھنے لگی

“تو آپ ہمیشہ مجھے یوں ہی شاپنگ پر لے آیا کریں میں یوں ہی خوش اور مسکراتی رہوں گی۔۔۔”

حریم کی بات پر ضوریز اسے ایبرو اچکائے دیکھنے لگا جس پر حریم نے کندھے اچکائے تبھی اچانک وہ سامنے سے آتے شخص سے ٹکرائی

“آاہ۔۔۔ اندھے دیکھ کر نہیں چل سکتے تھے؟؟”

وہ غصے سے تلملاتے ہوئے اپنا بازوں سہلانے لگی جبکہ سامنے کھڑا شخص جو کم عمر لگ رہا تھا اس کی بات پر اسے حیرت سے دیکھنے لگا ضوریز حریم کو سائڈ کر کے اس کے سامنے آیا

“کیوں بے؟؟ دکھائی نہیں دیتا؟؟ اندھا ہے؟؟”

ضوریز نے سارے شاپنگ بیگز ایک ساتھ میں کر کے دوسرے ہاتھ سے اس کا گریبان دبوچا جس انداز میں وہ غررایا تھا سب لوگ رک رک کر ان کی جانب دیکھ رہے تھے

“آرام سے بھائی۔۔۔ میں کب ٹکرایا ان سے یہ خود اچانک سے آلگی تھیں ۔۔۔”

اس نے صفائی دینا چاہی جسے دیکھ کر حریم نے آنکھیں چھوٹی کیں

“جھوٹ بول رہا ہے بھائی یہ۔۔۔ بہت اچھے سے جانتی ہوں میں تم جیسے چھچھورے لڑکوں کو۔۔۔ سیدھی سادی معصوم لڑکی دیکھی نہیں ٹھرک پن اسٹارٹ۔۔۔”

ضوریز اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا

جبکہ مقابل کھڑا شخص حیرت سے اس معصوم لڑکی کے کارنامے دیکھ رہا تھا پہلے کس طرح وہ دور سے اسے اشارہ کر رہی تھی جب اس نے اشارے سے اس کا نمبر مانگا تو کس طرح وہ اسے خود قریب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے مسکرائی تھی اس بچارے کو کیا پتا تھا یہ اس چلاک لڑکی کی پلاننگ تھی

“مگر اتنی دیر سے اشارہ تو تم خود۔۔۔”

ابھی آگے وہ بچارا کچھ کہتا حریم بول پڑی

“بکواس بند کرو اپنی تم سمجھتے کیا ہو خود کو اکیلی نہیں ہوں میں یہ جو برابر میں کھڑا ہے نہ بھائی ہے میرا جو ایک منٹ کے اندر اندر تمہاری درگت بنا سکتا ہے۔۔۔”

ضوریز کو بولنا کا کوئی بھی موقع دیئے بغیر وہ سامنے کھڑے لڑکے ہر چینخی تھی ضوریز بڑی غور سے اسے دیکھ رہا تھا

“اور آپ بھائی کھڑے کھڑے کیا دیکھ رہے ہیں یہ اب تک آپ کی بہن کو کھڑا دیکھے جارہا ہے اور آپ کچھ بھی نہیں کر رہے؟؟”

ضوریز کے دیکھنے پر وہ الٹا اس پر بھڑک اٹھی جس کر وہ ہڑبڑاتا ہوا اپنے ہاتھ میں شاپنگ بیگز کو دیکھنے لگا

“دکھائیں یہ میں پکڑ لیتی ہوں۔۔۔ آپ اس کو مزہ چکائیں۔۔۔”

اپنا حکم صادر کر کے وہ اب بڑے مزے سے سارے بیگز سنبھال رہی تھی جبکہ ضوریز اس لڑکے کو اور وہ لڑکا ضوریز کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے سوچنے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں

“دیکھ کیا رہے ہیں ماریں اسے۔۔۔”

حریم شاکی نظروں سے ضوریز کو دیکھنے لگی

“میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ مس مجھے پھنسا رہی ہیں۔۔۔”

لڑکے نے احتجاج کرنے والے انداز میں کہا

“جھوٹ مت بولو اتنی دیر سے کون تاڑ رہا تھا مجھے؟؟”

حریم بھی آنکھیں نکال کر چینخی تھی

“اور پھر آپ نے جو اسمائل پاس کی تھی وہ؟؟ اس مطلب کیا تھا بتائیں ذرا گرین سگنلز ہی تھا نہ”

اس کم عمر لڑکے نے بھی جیسے قسم کھائی ہوئی تھی اس بچاری کو پھنسانے کی ضوریز حریم کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا

“بکواس بند کرو تم اپنی اس کا مطلب گرین نہیں بلکہ ریڈ سگنلز تھا یعنی وارننگ کیونکہ جو درگت اب میرا بھائی تمہاری بنانے والا ہے نہ اس کے بعد تم اپنے ان پیروں پر کھڑے ہونے کے بھی لائق نہیں رہو گے سمجھے تم!!!”

حریم باقاعدہ چینخی تھی ایک تیز نگاہ اس نے اپنے بھائی پرڈالی تھی جس پر وہ گڑبڑاتا ہوا اس کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے سامنے کھڑے شخص پر حاوی ہوا تھا ایک زور دار مکا اس کے گال پر جا لگا وہ بچارا ایک ہی مکے پر زمین بوس ہوا جبکہ حریم جی منظر بڑی خوشی سے دیکھ رہی تھی

ضوریز کے رکنے پر حریم نے اسے اشارے سے مزید اسکی دھلائی کرنے کا کہا تو وہ بچارا بہن کی خواہش پر اس بچارے کو مزید کوٹنے لگا مگر بلکل نرمی سے دیکھنے والا تو یہ سمجھ رہا تھا جیسے بہت زیادہ طیش میں تھا وہ مگر اس کے مکے مصنوعی سے تھے اسے تو خود اس بچارے پر ترس آرہا تھا

“بھائی بس کردو”

وہ بچارا ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا تو ضوریز اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا

“اگر جان بچانی ہے تو بھاگ جا ورنہ میری بہن واقعی تیری لاش دفنا کر دم لے گی۔۔۔”

ضوریز کی بات پر وہ آنکھیں پھاڑتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جب ضوریز نے اسے جھٹکے سے دور دھکیلا تو وہ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بنا الٹے پاؤں وہاں سے بھاگ نکلا

“ارے وہ دیکھیں۔۔۔ ریز بھائی وہ بھاگ رہا ہے۔۔۔ کھڑے کیوں ہیں؟؟ اس کے پیچھے جائیں نہ۔۔۔!!! اففف دیکھیں وہ دور جا چکا ہے کتنا مزہ آرہا تھا اس کی پٹائی دیکھنے میں آپ نے چھوڑا کیوں اسے۔۔۔”

ضوریز بے یقینی سے اپنی پٹاخہ بہن کو دیکھ رہا تھا جو اب تک اس بچارے کی سانسوں کی دشمن بنی ہوئی تھی آس پاس کے لوگ بھی حریم کی باتوں پر مسکرا رہے تھے

“حریم چلو یہاں سے۔۔۔”

ضوریز زبردستی اس کا ہاتھ پکڑے وہاں سے گاڑی کی جانب لے گیا جبکہ وہ خونخوار نظروں سے اب تک پیچھے ہی دیکھ رہی تھی

“بھائی آپ نے اسے جانے کیوں دیا؟؟ دو تین اور لگاتے نہ”

حریم چینختے ہوئے مخاطب ہوئی جب ضوریز نے گاڑی اسٹارٹ کر کے اسے گھورا

“کام ڈاؤن ہوجاؤ بہنا۔۔۔ کیا مرڈر کروانا چاہتی ہو اپنے بھائی کے ہاتھوں۔۔۔ صرف ٹکرایا تھا وہ تم جو اس کی جان کی دشمن بن گئیں”

ضوریز نے سر جھٹکتے ہوئے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی

“وہ نہیں ٹکرایا تھا۔۔۔ میں ٹکرائی تھی اس سے۔۔۔”

وہ جو اب پرسکون انداز میں گاڑی چلا رہا تھا حریم کی بات پر ایک زور دار جھٹکے سے گاڑی رکی وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا

“کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟ یعنی تم نے بے وجہ اسے پٹوا دیا؟؟ اوہ گاڈ حریم۔۔۔ آر یو میڈ؟؟”

ضوریز نے شاکی نظروں سے اسے دیکھا جو اب چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“ہاں تو وہ کب سے دور سے مجھے تاڑا جارہا تھا اور تو اور نمبر بھی مانگ رہا تھا اگر میں یہ آپ کو بتاتی تو شاید آپ پہلے کی طرح اسے صرف آنکھیں دکھا کر چلتا کرتے اور میں نے آپ کی فائٹ بھی تو دیکھنی تھی”

وہ جتنی معصومیت سے کہہ رہی تھی ضوریز کا دل چاہا اپنی چھوٹی سی ڈول کو گلے لگا لے

“یعنی صرف فائٹ دیکھنے کے چکر میں تم نے یہ سارا گیم کیا؟؟ بہت خوب”

وہ اب تک سخت تاثرات لئے اسے گھور رہا تھا جس پر حریم نے رعنا شروع کردیا

“وہاٹ؟؟ اب رو کیوں رہی ہو؟؟”

ضوریز نے شاکڈ کی کیفیت میں اسے دیکھا جو بچوں کی طرح رو رو کر اپنی ناک سرخ کر گئی تھی

“مجھے پتا تھا آپ غصہ ہوئیں گے”

ضوریز نے ایبرو اچکائے اسے دیکھا

“میں نے غصہ کب کیا؟؟”

ضوریز کے پوچھنے پر پہلے اس نے ٹیشو پیپر سے اپنی سرخ ناک کو صاف کیا پھر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی

“یہ جو آپ کب سے گھورے جارہے ہیں یہ پیار سے گھور رہے ہیں کیا؟؟”

حریم کے پوچھنے پر وہ ہاتھ کے مٹھی بنائے لبوں کر اس پر ٹکائے اسے بڑی غور سے دیکھنے لگا جس پر حریم نے منہ بنایا

“کیا ہے؟؟ اب ایسے کیوں گھور رہے ہیں؟؟”

حریم کی تیز آواز پر وہ با مشکل اپنی ہنسی دبائے اسے دیکھنے لگا

“گھور رہا ہوں۔۔ آئی مین دیکھ رہا ہوں کہ ڈولز روتے ہوئے واقعی بہت پیاری لگتی ہیں لائک اسنو وائٹ۔۔۔”

ضوریز نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ آخری والے الفاظوں پر اس نے حریم کی سرخ ناک کھینچی تھی جس پر وہ مسکرانے لگی

“یعنی آپ غصہ نہیں ہیں؟؟”

حریم نے معصومیت سے بھرپور انداز میں پوچھا

“بلکل بھی نہیں”

ضوریز نے مسکراتے ہوئے اس کے بولوں کو بکھرایا تو وہ کھل کر ہنسنے لگی

“اچھا اب بتاؤ لنچ کہاں کرنا ہے؟؟ میری شام میں فلائٹ ہے۔۔۔ مجھے جلدی جانا ہوگا”

ضوریز نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی

“لنچ وہیں پرانے والے ریسٹورنٹ پر اور پھر اس کے ساتھ ہی جو آئیس کریم پالر ہے وہاں سے آئس کریم بھی کھائیں گے۔۔۔ اوکے نہ”

حریم نے پرجوش انداز میں کہا تو وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا

☆★☆★☆★☆

“کک کیا کروں۔۔۔ کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا۔۔۔”

وہ مسلسل ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی شاید کوئی ملازمہ تھی

“تعبیر بی بی آپ کو صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔”

اسے لگا اس کا دل باہر نکل جائے گا پیشانی پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگی وہ بار بار اپنے ڈوپٹے سے اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے اپنی حالت بہتر کرنے کی کوشش میں تھی

“آرہی ہوں۔۔۔”

ملازمہ کو کمرے کے اندر سے ہی جواب دے کر وہ واش بیسن کے سامنے جا کھڑی ہوئی کچھ دیر وہ خود کو آئینے میں دیکھتی رہی پھر نل کھول کر پانی منہ پر مارا

“میں نہیں جانتی مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہئے میرا دل بے قابو ہوتا جارہا ہے دماغ ماؤف ہونے لگا ہے۔۔۔”

وہ زیرِ لب کہتی ہوئی پھر سے خود کو دیکھنے لگی

اپنا چہرہ پوچتی ہوئی وہ واپس روم میں آئی اپنا دوپٹہ سر پر ٹھیک کرتی ہوئی خود کو پرسکون کرکے کمرے سے باہر نکلی ڈائننگ ہال میں بیٹھا آتش کب سے اس کا منتظر تھا وہ مرے مرے قدموں سے چلتی ہوئی ڈائننگ ہال تک آئی جو اسے دیکھ کر گہری سانس لینے لگا

وہ بنا کچھ کہے اس سے کچھ فاصلے پر آ بیٹھی کھانا میز پر سجایا ہوا تھا یقیناً وہ اسے کھانے کے لیے ہی بلا رہا تھا آتش نے ایک نظر اس گھبراتی ہوئی سینوریٹا کو دیکھا جس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا

“کھانا شروع کریں۔۔۔”

آتش کہتا ہوا اس کے سامنے ڈش رکھنے لگا وہ بنا کچھ کہے بریانی پلیٹ میں نکال کر کھانے لگی دورانِ طعام کوئی گفتگو نہ ہوئی کھانے سے فارغ ہوکر وہ میڈیسن لینے لگا جب وہ وہاں سے جانے لگی

“تعبیر کہاں جارہی ہو؟؟”

آتش کی رعب دار آواز پر اس کا دل رک سا گیا جیسے وقت وہیں تھم سا گیا ہو اب کیا ہونے والا تھا وہ ہمت کر کے پلٹی تھی آتش اپنی نیلی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

“وہ۔۔۔ میں ۔۔۔ وہ ۔۔۔”

آج اس کی زبان بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی آخر کیا کہتی وہ ؟؟ اس کے سوالوں سے بچ کر جارہی تھی یہ کہتی؟؟ یا پھر یہ کہتی کہ وہ بھی اسے چاہنے لگی ہے مگر اظہار کرنے سے ڈرتی ہے۔۔۔

“بیٹھو۔۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔”

وہ بنا کچھ کہے اپنی تھمی ہوئی دھڑکن کے ساتھ وہیں کاؤچ پر بیٹھ گئی جہاں سامنے وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا آتش اس کی گھبراہٹ محسوس کر چکا تھا تعبیر کے چہرے کا اڑتا ہوا رنگ آتش بخوبی دیکھ چکا تھا

“تمہیں یاد ہوگا آج صبح میں نے تم سے کچھ کہا تھا۔۔۔”

آتش سے نظریں ملائے بغیر وہ ہاں میں سر ہلانے لگی آتش اس کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ کر کافی محظوظ ہورہا تھا

“پھر کیا جواب ہے تمہارا؟؟”

آتش نے گمبھیر لہجے میں پوچھا جس پر وہ ہاتھ کی ہتھیلی کو مسلسل رگڑی جارہی تھی یقیناً وہ کشمکش میں تھی آتش کافی دیر تک اسے غور سے دیکھتا تھا جس کا چہرہ بلکل سرخ پڑھ چکا تھا تعبیر ادھر اُدھر نظریں دوڑائے نجانے کیا تلاش کر رہی تھی

“ایسے ہی تڑپاتی رہو گی یا کچھ کہو گی بھی؟؟ جان لینے کا ارادہ ہے میرا؟؟”

آتش نے ایبرو اچکائے نرمی سے کہا تعبیر نے پلکوں کا جھالر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا جارہا تھا وہ مزید س کی ان گہری نیلی آنکھوں میں نہ دیکھ پائی اور نظریں جھکا گئی

“آتش۔۔۔ میں۔۔۔ وہ۔۔۔۔”

تعبیر نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر وہ کچھ بھی کہہ نہیں پارہی تھی آتش بھرپور اسے ہی دیکھا جارہا تھا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا

“ہممم کہو نہ۔۔۔ میں سن رہا ہوں۔۔۔”

وہ انتہائی چاہت سے چور لہجے میں کہنے لگا جس پر تعبیر نے اسے دیکھا دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں تھیں وہ چہرے پر پریشانی لئے آج ضرور سے زیادہ معصوم لگ رہی تھی

“آاپ۔۔۔ آپ میرے بابا سے بات کرلیں۔۔۔ جو ان کا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے۔۔۔”

وہ کہتی ہوئی کھڑی ہوئی اور وہاں سے جانے لگی تبھی وہ مسکراتے لبوں کے ساتھ آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامے اسے رکنے پر مجبور کر گیا

“یعنی تمہاری طرف سے میں ہاں سمجھوں۔۔۔؟؟”

آتش نے اس کی جھکی پلکوں کو بھرپور دیکھتے ہوئے کہا اس کی قربت سے تڑپتی ہوئی وہ اس کی جھلستی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر کے سرخ ہو چکی تھی

“کہہ کیوں نہیں دیتیں کہ تم بھی میرا ساتھ چاہتی ہو؟؟”

آتش نے شہادت کی انگلی سے اس کی تھوڑی کو اوپر کیا جس پر ان کی نظریں ملیں آتش اس کے کس قدر قریب تھا یہ جان کر اسے اپنی جان جاتی محسوس ہوئی ایک عجیب سی سنسناہٹ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں محسوس ہونے لگی تھی

“پلیزز چھوڑیں مجھے”

وہ اپنا ہاتھ آزاد کراتی ہوئی جانے لگی مگر آتش شاید اب بلکل بھی اس سے دوری پر رضامند نہ تھا وہ آگے بڑھ کر ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنی جانب کھینچ گیا وہ اچانک اس کے سینے سے ٹکرائی تھی مگر یہ عمل کافی نرمی سے ہوا تھا

“نہیں تعبیر۔۔۔ اب مزید نہیں۔۔۔ میں جانتا چاہتا ہوں محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ کیا تم بھی مجھے چاہنے لگی ہو۔۔۔ یا ایسا نہیں ہے۔۔۔ آخر سچ کیا ہے تمہیں مجھے بتانا ہوگا۔۔۔ آئی سوویر پھر میں تمہیں نکاح تک نہیں چوؤں گا۔۔۔”

آتش نے سرگوشی نما انداز میں کہا جس پر وہ آنکھیں بند کئے اپنی دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش میں تھی اسے آج ہر حال میں آتش کو اپنا حالِ دل بتانا تھا ورنہ وہ اسے شاید یوں ہی رات گئی تھام کر رکھنے والا تھا

وہ لمحہ تھا جو وقت پھر سے دہرا رہا تھا وہ دونوں انتہا کے قریب تھے ایک دوسرے کی سانسوں کو محسوس کر سکتے تھے یہ غلط تھا وہ محرم نہیں تھے تعبیر کو ہر حال میں اس سے فاصلہ بنانا تھا جب تک وہ نکاح میں نہیں آجاتے آتش کا اس کے قریب آنا مناسب نہ تھا

“مم۔۔۔ میں۔۔۔”

وہ جو آنکھیں بند کئے یوں ہی کھڑا اسے محسوس کر رہا تھا اس کے ہلتے لبوں کی کپکپاہٹ محسوس کرتے ہوئے اس سے دور ہوا وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کیا۔۔۔ وہ اسے دیکھنے لگا تعبیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا کتنا پیار تھا کتنی چاہت تھی کتنی حسرتیں کتنی امیدیں تھیں جو صرف اس کے لئے ہی تھیں اس سے وابستہ تھیں

“میں بھی آپ سے محبت کرنے لگی ہوں آتش۔۔۔”

اس نے کچھ کہا تھا اپنی میٹھی باریک کپکپاتی آواز میں کوئی الفاظ ادا کئے تھے آتش اسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا کیا اس کے کانوں نے صحیح سنا تھا وہ کشمکش میں اس کی آنکھوں میں جھانک کر جیسے ایک بار پھر وہ سب سننے کا منتظر نظر آرہا تھا

“ہاں آتش۔۔۔ میں چاہنے لگی ہوں آپ کو۔۔۔ مجھے محبت ہوگئی ہے آپ سے۔۔۔ مگر میں اپنے بابا کے فیصلے کی پابند ہوں یہ آپ بھی جانتے ہیں۔۔۔ میں آپ کے ساتھ مستقبل میں ہوؤں گی یا نہیں میں خود سے آپ کو کوئی جواب نہیں دے سکتی۔۔۔ اگر آپ جواب جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو بابا سے بات کرنی ہوگی۔۔۔”

وہ آج پہلی بار اپنے جذباتوں کا اظہار کر رہی تھی بھلے ہی بعد میں اس نے کچھ بھی کہا تھا مگر آتش کے لئے اتنا ہی بہت تھا کہ تعبیر اسے چاہنے لگی ہے۔۔۔ ہاں اس کی تعبیر۔۔۔ جسے پانے کے لیے وہ تڑپ رہا تھا۔۔۔ جسے کھونے سے وہ ڈرتا تھا۔۔۔ وہ تعبیر۔۔۔ اس کی تعبیر۔۔۔ اس سے محبت کرنے لگی ہے۔۔۔

بے ساختہ اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسوں بہنے لگے تھے بہت نرمی سے تعبیر کے بازوؤں پر اپنی گرفت کمزور کر کے وہ دور ہوا تھا تعبیر سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں بھی نمی تھی نہ مگر آتش رو رہا تھا شاید خوشی سے۔۔۔

“میں سب کو منا لوں گا۔۔۔ میں سب جو راضی کرلوں گا۔۔۔ بس مجھے یوں ہی چاہتی رہنا۔۔۔ ہمیشہ میری بن کر رہنا۔۔۔ تعبیر علی میں بہت جلد تمہیں اس نام سے تعبیر آتش تک لے آؤں گا۔۔۔ یقین کرو یہ سفر بہت حسین ہوگا۔۔۔ منزل مل جانے کا اپنا ہی مزہ ہوگا۔۔۔”

آتش دھڑکتے دل کے ساتھ بڑی شدت سے اپنے الفاظ ادا کر رہا تھا اسے یقین تھا اب سب ٹھیک ہو جائے گا اب آتش کو تعبیر مل جائے گی جسے لے کر کئی خواب دیکھے تھے جسے لے کر دل میں کئی حسرتوں نے جنم لیا تھا اس کی تعبیر۔۔۔ اب اسے ملنے والی تھی۔۔۔ بہت جلد۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *