Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 18)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“یہ کیا مذاق ہے…ایسے بھلہ کون کرتا ہے؟؟”

تعبیر عجیب سے منہ بناتے ہوئے ابھی پلٹنے لگی تھی جب وہ اچانک سے اس کے راستہ روکے کھڑا ہوا وہ چونکی

“جو کوئی نہیں کرتا وہ آتش درانی کرتا ہے “

وہ اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں باقاعدہ گھورتے ہوئے کہنے لگا تعبیر جلدی سے پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا ٹکرائی جبکہ سامنے کھڑا ظالم شیر اپنی نیلی آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا اپنے قدموں کو اس کی طرف بڑھانے لگا

“آآپ…”

“ہاں میں…تمہیں کیا لگا تم اتنی آسانی سے مجھ سے بچ جاؤ گی…؟؟”

تعبیر کے قدم لڑکھڑائے تھے جب وہ آگے بڑھتا ہوا اس کی نازک کمر کو اپنی گرفت میں لئے اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا وہ اچانک سے اس سے ٹکرائی تھی

“یہ…یہ کیا بد تمیزی ہے…”

تعبیر کو اس کا ایسا کرنا سخت ناگوار گزرا تھا

“یہ بدتمیزی نہیں ہے سینوریٹا… یہ تو بس ایک چھوٹی سی شرارت ہے اینڈ تم نے ابھی میری بدتمیزی دیکھی ہی کہاں ہے…”

وہ ڈھٹائی سے کہتا ہوا یک طرفہ مسکرانے لگا جس پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی تھی

وہ اس کے الفاظ پر حیران تھی اسے اس نام سے تو صرف رائمہ بلاتی تھی تو کیا وہ اس پر اتنی نظر رکھ رہا تھا جو اسے سب کچھ پہلے سے پتا ہوتا تھا تعبیر نے اس کے سینے پر اپنے نازک سے ہاتھوں کو رکھتے ہوئے اسے دور دھکیلنے کی کوشش کی مگر وہ بھی آتش درانی تھا

“دور ہٹیں چھوڑیں مجھے ورنہ”

وہ اسے غصے سے کہنے لگی اس کی مزاحمت پر آتش کو تو تنکا برابر بھی فرق نہیں پڑا تھا مگر اس کا ڈوپٹہ اس کے کاندھے پر سے کھسک کر گرنے کو تھا

ابھی وہ شرم سے پانی ہونے لگتی جب آتش نے اس کے گرتے ہوئے ڈوپٹے کو تھاما اور واپس اس کی نازک سی گردن کی زینت بنایا وہ حیران تھی اس کے اس عمل پر کیا تھا وہ شخص وہ جو بھی تھا اسکی سمجھ سے باہر تھا

“کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟؟”

وہ ڈری سہمی کھڑی تھی جبکہ وہ سامنے کھڑا ایک بار پھر مسکرایا تھا

“تم سے بات کرنا چاہتا ہوں بہت ضروری”

“مگر میں آپ کو پہلے بھی منع…”

“نہ… میں اس کام کی بات بلکل بھی نہیں کر رہا”

وہ اسے مزید تجسس میں ڈال رہا تھا وہ پریشان کن انداز میں اسے دیکھی جارہی تھی آتش کی نظر اس کی گردن پر گئی اس کے گلے کی نازک سی ہڈی جو تیز تیز سانسیں لینے کی وجہ سے بے ترتیب حرکت کر رہی تھی وہ آتش کو بہکنے پر اکسا رہی تھی

“پھر کیا چاہتے ہیں آپ ؟؟”

“چلو میرے ساتھ”

ابھی وہ اس کے جواب کی منتظر تھی جب آتش نے اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھاما اور اس کی کمر کو آزادی بخشتا ہوا وہ اسے اپنے ساتھ اوپر والے فلور کی طرف لے جانے لگا تعبیر کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا

“کک کہاں لے کر جارہے ہیں آپ مجھے؟؟”

تعبیر نے اپنے دوپٹے کو مظبوطی سے سینے پر لگائے پوچھا مگر وہ بنا کچھ سنے اسے اپنے ساتھ لئے آگے بڑھتا چلا جارہا تھا یقیناً یہ روم اس نے ہی بک کیا ہوا تھا جس کے سامنے وہ آ رکا تھا

“یہ…”

“چپ”

ابھی وہ مزید سوال کرتی جب آتش نے دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلا اور خود بھی اندر آتا ہوا دروازہ بند کر گیا

“یہ کیا بدتمیزی ہے”

تعبیر نے پھر سے وہی الفاظ دہرائے تھے لیکن اس بار اس کے یہ الفاظ آتش کو غصہ دلانے کے لیے کافی تھے

“تمہیں کیوں لگتا ہے میرا ایسا کرنا بدتمیزی ہے؟؟”

وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا اس کے قریب آنے لگا وہ ڈریسنگ ٹیبل سے ٹکرائی

“ابھی تم میری بدتمیزی سے بلکل بھی واقف نہیں ہو جس دن تم نے میری بدتمیزی دیکھ لی آئی سوویر اس دن تم میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھو گی”

وہ ذومعنی کہتا ہوا اسے زہر لگ رہا تھا تعبیر نے غصہ سے اسے گھورا

“آپ چاہتے کیا ہیں؟؟ آپ کو مذاق لگتا ہے یہ سب؟؟ کیا اتنا آسان ہوتا ہے ایسے کسی کی بھی عزت کے ساتھ کھیلنا؟؟ جب دل چاہا کسی بھی طریقے سے بات منوانے آگئے “

تعبیر کے لہجے پر حیران وہ اسے ایبرو اچکائے دیکھنے لگا

“آپ کو جو بھی بات کرنی ہے آپ جاکے ہنی سے کریں کیونکہ وہ ہمارے بیڈج…”

“ارے بھاڑ میں گیا تمہارا بیڈج، مجھے صرف تم سے کام ہے اور کسی سے بھی نہیں”

وہ دھاڑا تھا لیکن آخری کے الفاظوں پر اس نے سامنے کھڑی لڑکی کو سرتا پیر دیکھا تھا

“تو یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا؟؟ ایک انجان شخص کے ساتھ میں ایک کمرے میں رہ کر بات کروں گی؟؟”

“میں انجان کہاں رہا میری جان؟؟ اب تو ملاقات اکثر ہوتی رہے گی”

وہ یک طرفہ مسکراہٹ اچھالتا ہوا سامنے صوفے پر جا بیٹھا تعبیر اسے گھورنے لگی آخری وہ کتنا ریلیکس تھا

“کیا بات کرنی ہے جلدی کریں؟؟”

وہ دونوں ہاتھوں کو لپیٹے ایک اسٹائل سے کہنے لگی جس پر آتش پہلے تو اسے حیرت سے دیکھتا رہا پھر اصل ٹاپک پر آیا

“بات یہ ہے کہ مس تعبیر علی مجھے آپ سے ٹیٹو بنوانا ہے”

اب وہ سنجیدہ تھا تعبیر کو لگا اس کے کانوں نے کچھ غلط سنا ہو

“کیا ہوا؟؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟؟”

وہ اسے اپنی طرف نا سمجھی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر تعبیر نے پلکیں جھپکائیں

“کیا کہا آپ نے؟؟”

“مجھے تم سے ٹیٹو بنوانا ہے…”

“سوری مگر میں یہ کام فی میلز کے لئے کرتی ہوں کسی مرد کے لئے نہیں”

تعبیر کی بات پر وہ صوفے سے اٹھا تھا ایک زور دار قہقہہ پورے کمرے میں گونجا تھا تعبیر اسے یوں بے باکی سے ہنستا دیکھ کر صورتحال سمجھنے کی کوشش میں تھی

“کیا کہا؟؟ مردوں کے لیے نہیں کرتیں؟؟ ہاہاہاہا،،،”

وہ پھر سے ہنسا تھا تعبیر مٹھیاں بینچے کھڑی اسے ہی گھور رہی تھی

“تو جو ٹیٹو تم نے حاشر خانزادہ کے بنایا ہے پھر میں کیا سمجھوں اسے؟؟ کیا وہ نامرد ہے؟؟”

وہ چلتا ہوا اسکے بلکل قریب آ کھڑا ہوا وہ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں جھانکنے لگا

“ان کی بات الگ تھی میں راضی ان کے لئے بھی نہیں تھی لیکن ضروری تھا اس لئے کرنا پڑا”

اس نے پھیکے الفاظوں میں کہا جبکہ آتش اب اس کے مزید قریب آیا

“بات سنو مس تعبیر علی تم بار بار میری باتوں سے انکار نہیں کر سکتیں تمہیں یہ بات ماننی پڑے گی اور یہ میرا حکم ہے”

وہ حکم صادر کرتا ہوا اسے اس وقت بہت برا لگ رہا تھا

“آپ کو ایک بات سمجھ نہیں آتی؟؟ جب میں نے کہہ دیا میں یہ نہیں کر سکتی تو پھر”

“کرنا تو پڑے گا، پھر چاہے کیسے بھی کرو”

وہ کسمسائی

“اور اگر نہ کروں تو؟؟”

“تو یاد رکھنا تم سے جڑے ہر رشتے کو تباہ کردوں گا اور پھر جو کچھ ہوگا اس کی زمہ دار مس تعبیر علی تم خود ہوں گی”

اس کی نظر تعبیر کے ہاتھ میں موجود موبائل پر گئی وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا پلٹا تھا اسے نجانے کیوں تعبیر کے اتنے قریب آکر کچھ محسوس ہورہا تھا کچھ ایسا جس سے وہ سب کچھ بھولنے لگا تھا کہ وہ یہاں کس مقصد سے آیا تھا

تعبیر اسے کے دور ہٹتے ہی جلدی سے سانسیں بحال کرنے لگی

“اففف کہاں چلی گئی یہ لڑکی”

رائمہ پورے ہوٹل میں اسے ڈھونڈتی ہوئی فرسٹ فلور پر آئی مگر جب اس کی نظر سامنے پڑی تو دنگ رہ گئی آتش درانی ایک کمرے سے باہر نکل رہا تھا وہ اپنا تھری پیس سوٹ ایک اسٹائل سے ٹھیک کرتا ہوا اپنے ہیئر اسٹائل کو سنوارتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا

“ہائے اللّٰہ جی آتش؟؟ وہ بھی ادھر؟؟ یعنی میری سینوریٹا بھی ادھر ہی کہیں ہوگی”

رائمہ جلدی سے آگے بڑھی اور آتش کے سامنے آکھڑی ہوئی وہ جو بنا کہیں دیکھے موبائل میں مصروف انداز میں آگے بڑھ رہا تھا اپنے سامنے کسی کو کھڑا پا کر سامنے کی جانب دیکھنے لگا

“آتش؟؟ آتش درانی؟؟ آپ؟؟ یہاں؟؟ کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں”

رائمہ حیرانی سے کہتی ہوئی آتش کو سرتا پیر دیکھنے لگی مگر تب ہی اس کی نظر۔ پیچھے گئی جہاں سے تعبیر باہر آرہی تھی اس کے دماغ میں تعبیر اور آتش کو لے کر بیت سے سوال اٹھنے لگے تھے

“سینوریٹا؟؟ تم یہاں؟؟ یعنی سینوریٹا اور بازیگر ایک ساتھ تھے؟؟ اوففف یہ سب کیسے؟؟”

رائمہ اپنی آنکھوں کو جھپکاتے ہوئے کہا جس پر آتش ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگا جبکہ تعبیر کی تو جان نکلی جارہی تھی

“رائمہ چلو یہاں سے…”

تعبیر دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگی جبکہ آتش تعبیر کی ایسی حالت سے بہت لطف اندوز ہورہا تھا

“ارے رکو یار یہ دیکھو ہمارے سامنے اتنے بڑے اسٹار ہیں…سر کیا میں آپکے ساتھ پکچر لے سکتی ہوں؟؟ سر میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں”

رائمہ نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور آتش سے مخاطب ہوئی جس پر آتش یک طرفہ مسکرانے لگا شاید وہ اپنی ویلیو سامنے کھڑی لڑکی کو جتانا چاہتا تھا

“ضرور کیوں نہیں…”

آتش کے الفاظ پر رائمہ پاگلوں کی طرح مسکراتے ہوئے موبائل کیمرا ان کر کے اس کے برابر آکھڑی ہوئی جبکہ تعبیر کا دل کر رہا تھا رائمہ کا منہ توڑ دے

“تھنکیو سوو مچ آتش سر”

“مائے پلیشر”

آتش مسکراتا ہوا اپنی نیلی آنکھوں کو چشمے سے چھپاتے ہوئے آگے بڑھ گیا جبکہ رائمہ اس کے جانے کے بعد اس کی پشت کو دیکھ دیکھ کر مسکرائی جارہی تھی

“رائمہ…”

“رائمہ…!!!!”

تعبیر کے چیخنے پر وہ جلدی سے ہوش میں آئی

“کہاں تھی تم ؟؟”

رائمہ نے ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھے جس پر تعبیر کو مزید غصہ آگیا

“چپ کر کے چلو یہاں سے”

تعبیر نے اس کی ایک نہ سنی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی جبکہ رائمہ سمجھ چکی تھی اس کی اب خیریت نہیں۔

☆★☆★☆★☆

اس نے اسے ہر وقت ڈھونڈا تھا مگر نہ وہ گھر پر تھا نہ ہی وہ اپنی بتائی گئی جگہوں پر تھا جہاں وہ اکثر آیا کرتا تھا ائیزل بہت پریشان تھی ائیزل نے اس کا فون بھی کافی بار ٹرائے کیا مگر آف جارہا تھا

“اففف اللّٰہ کہاں ہو تم ریززز…”

وہ دن بھر کی تھکی ہوئی واپس گھر آئی کیونکہ اس نے فیصلہ کر لیا تھا وہ اب ہوسٹل میں نہیں رہے گی اور حریم بھی اس کے ساتھ چلنے کو راضی تھی مگر اب اس کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی کیونکہ ضوریز کا کچھ اتا پتا نہیں تھا

“ائیزل تم نے کچھ کھایا؟؟”

“نہیں حریم مجھے بھوک نہیں”

ائیزل کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر حریم نے فکرمندی سے پوچھا وہ نہیں جانتی تھی ائیزل کیوں اداس تھی ائیزل کی زندگی میں اور کیا چل رہا تھا

“ائیزل کچھ ہوا ہے کیا؟؟”

“نہیں کچھ نہیں ہوا”

ائیزل نے موبائل نکال لیا تاکہ وہ اس میں مصروف ہوجائے کیونکہ وہ جانتی تھی اگر مزید وہ ایسے بیٹھی رہی تو حریم سے اپنی اداسی چھپانا مشکل ہو جائے گا

ابھی وہ مزید خود کے جزبات چھپاتی جب اس کا موبائل رنگ ہونے لگا کسی کلاس فیلو کی کال آرہی تھی ائیزل نے کال ریسیو کی

“کیا…؟؟”

موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا تھا وہ بے یقینی سے زمین کو دیکھی جارہی تھی کیا جو کچھ اس نے سنا تھا وہ سب سچ تھا؟؟

“ائیزل کیا ہوا ؟؟”

حریم اچانک سے پریشان ہوئی تھی اس کی ایسی حالت پر

“ائیزل بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟”

“حریم وہ…وہ ریز…”

ائیزل جلدی سے اٹھی اور گاڑی کی چابی تلاشنے لگی

“ریز؟؟ ائیزل کیا کہہ رہی ہو؟؟ ٹھیک سے بتاؤ ہوا کیا ہے؟؟”

حریم نے اس سے پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ پاگلوں کی طرح چابی تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی

“ائیزل…”

حریم نے غصے سے اس کے بازوؤں کا پکڑا جس سے وہ اسے دیکھنے لگی

“ائیزل بتاؤ کون ریز کیا ہوا ہے؟؟”

ابھی وہ مزید اس سے کچھ پوچھ پاتی جب ائیزل اس کے گلے لگ گئی اور زاروقطار رونے لگی حریم کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا وہ بہت پریشان تھی اس نے کبھی بھی ائیزل کی ایسی حالت نہیں دیکھی تھی

“حریم وہ…ریز…”

“ہاں کہو…کہو ائیزل”

“حریم ضوریز کا ایکسیڈنٹ”

وہ ابھی مزید کچھ کہتی جب اسے سامنے چابی پڑی نظر آئی وہ دوڑتی ہوئی سامنے کو بھاگی

“مجھے ہوسپٹل جانا ہے…”

“مگر یہ ریز ہے کون؟؟”

“حریم پلیززز بعد میں بات ہوگی مجھے ہوسپٹل جانا ہے اس کا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں…میری طرح”

آخری والے الفاظوں پر وہ بے انتہا اداس سی تھی

“رکو میں بھی چلتی ہوں”

حریم نے اپنا بیگ لیا اور اس کے ساتھ چلی گئی

☆★☆★☆★☆

اس کا پورا وجود پسینے میں لت پت تھا وہ اسٹیچر پر لیٹا ہوا تھا مختلف ڈاکٹرز اس کے زخم کو ٹانکوں سے سی رہے تھے ابھی اس کے پیر سے خون رس ہی رہا تھا جب ائیزل بھاگتی ہوئی اس وارڈ میں آئی وہ اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر اٹھ بیٹھا

“ضوریز…یہ کیا ہوا ہے تمہیں…یہ سب کیسے ہوا ہے…”

ائیزل باقاعدہ روتے ہوئے مخاطب ہوئی تھی ضوریز اسے یوں روتا دیکھ کر بے چین ہوا جارہا تھا

“ڈاکٹرز ضوریز کیسا ہے اب؟؟ کیا اسے زیادہ چوٹیں آئی ہیں؟؟”

اس نے اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا

“کوئی خطرے والی بات نہیں ہے بس ان کے کچھ زخم آئے ہیں جو وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائیں گے آپ پریشان نہ ہوں”

ڈاکٹر کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ اب ایک کمپوڈر ضوریز کے پاؤں کی طرف کھڑا ہوا بینڈج کر رہا تھا

“برو لسن…آئی ایم فائن اب آپ جا سکتے ہو…”

وہ اپنے مخصوص اسٹائل میں کہنے لگا جس پر کمپوڈر اثبات میں سر ہلاتا ہوا چلا گیا

“ریز تم کیسے ہو…”

ائیزل اس کے پاس آنے لگی جب ضوریز اسے جگہ دے کر اپنے ساتھ بٹھانے لگا

“میں ٹھیک ہوں”

وہ کہہ تو رہا تھا مگر اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے کچھ ہوا ہو جیسے وہ ائیزل سے نظریں چرا رہا ہو یا شاید ناراض ہو

“ریز تمہیں اتنی چوٹیں آئی ہیں دیکھو کیسے جگہ جگہ بینڈج کی ہوئی ہے”

ضوریز نے دیکھا تھا جب ائیزل نے فکرمندی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ائیزل اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر جلدی سے دور ہوئی

“خیر ہے ہوتا رہتا ہے”

وہ بے فکری سے کہتا ہوا کال ملانے لگا

“یار کب سے ویٹ کر رہا ہوں؟؟ اب تک نہیں لایا؟؟”

وہ اپنا جملہ کہتا ہوا فون بند کر گیا وہ ائیزل کو دیکھ بھی نہیں رہا تھا جیسے وہ واقعی اس سے ناراض ہو

“ریز یہ سب ہوا کیسے؟؟ کیسے ڈرائیور کر رہے تھے تم؟؟ دھیان کہاں تھا تمہارا”

وہ جو اس کئے تو رو رو کر پاگل ہوئی جارہی تھی وہ ضوریز آخر کس طرح سے اسے نظر انداز کرتا ہوا اپنے موبائل میں مگن ہوگیا تھا

“ضوریز میں کچھ…”

ابھی وہ آگے کہتی جب یونی کا کلاس فیلو اپنے ہاتھ میں اسٹنگ لئے ضوریز کی طرف آیا

“ریز بھائی سوری لیٹ ہوگیا”

“کوئی نہ”

وہ اپنے نچلے ہونٹ کو کھجاتا ہوا اسٹنگ تھامنے لگا جبکہ ائیزل کو سمجھ آ چکا تھا ضوریز کا موڈ ٹھیک نہ تھا وہ لڑکا اسے بوتل دے کر وہاں سے چلا گیا

“ضوریز تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے ایسے بی ہیو کیوں کر رہے ہو؟؟”

ائیزل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا جس پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا

“بتاؤ ریز کیا تم ناراض ہو مجھ سے؟؟”

“ہممم کافی جلدی یاد آگیا”

ضوریز نے دھیمے لہجے میں کہا

“مگر ناراض ہو تو آخر کیوں ہو؟؟”

“تم نے میری کال کیوں کاٹی تھی؟؟

وہ اسے کہتا ہوا رخ موڑ گیا جبکہ اب ائیزل تمام باتیں اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ آخر وہ کیوں ناراض تھا

“اچھا سوری نہ اب پکا ایسا نہیں ہوگا”

ائیزل نے کان پکڑتے ہوئے بچوں کی طرح کہا مگر وہ اسے تیڑی نظروں سے دیکھنے لگا

“ایک شرط پر معافی ملے گی”

“کیسی شرط؟؟”

ائیزل حیران تھی وہ اس کے بلکل قریب آیا

“وعدہ کرو اب جو میں کہنے جارہا ہوں اس کے بعد نا تم مجھ سے دور ہوں گی نہ ہی ناراض ہوں گی”

وہ سرگوشی نما انداز میں کہتا ہوا اپنی گہری کالی آنکھوں سے اس کے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگا نجانے کیوں ائیزل کا دل دھڑکا تھا

☆★☆★☆★☆

“ہٹ جائیے سامنے سے پلیز راستہ دیں”

وہ اسٹریچر گھسیٹتا ہوا دوڑ رہا تھا سامنے کھڑے لوگوں کے مجموعے میں راستہ بناتا ہوا وہ اندر کو آرہا تھا حریم کب سے بیٹھی ہوئی ائیزل کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی مگر ائیزل اب تک واپس نہیں آئی تھی

وہ چونکی تھی اس ہنگامے سے ایک بہت بڑا شور مچنے لگا تھا جیسے کچھ بہت غلط ہوا ہو حریم بھاگتی ہوئی ان لوگوں کی طرف بڑھی مگر جب سامنے نظر گئی تو ساکت رہ گئی

بکھرے ہوئے بال نم آنکھیں حلیہ بلکل ناساز تھا وہ پاگلوں کی طرح دوڑتا ہوا اپنے والد کو اندر کی طرف لے جارہا تھا پھر سے ایک شور اٹھا جس سے وہ ہوش میں آئی

“شش شاویز…”

وہ بھاگتی ہوئی اس کے پیچھے گئی وہ رو رہا تھا ہاں وہ واقعی رو رہا تھا اسے صبر نہیں آرہا تھا افتخار صاحب کی سانسیں رک رہی تھیں ڈاکٹرز انہیں ایمرجنسی وارڈ میں لے جانے لگے جب شاویز بھی اندر کو جانے لگا مگر اندر صرف مریض کو لانے کی اجازت تھی

“وہ مجھے کیسے روک سکتے ہیں وہ میرے بابا ہیں”

شاویز کی سرخ آنکھیں جو حریم کی آنکھوں میں آنسوں کی وجہ بن رہی تھیں

“آپ پلیززز ہمیں ڈسٹرب نہ کریں کچھ نہیں ہوگا آپکے بابا کو”

ڈاکٹر کہتا ہوا ایمرجنسی وارڈ میں چلا گیا جبکہ شاویز پھر سے آگے بڑھنے لگا مگر کسی نے اپنے نازک سے ہاتھ سے اس کا بازو تھاما تھا وہ رکا اور مڑا

“شاویز…”

وہ نم آنکھیں لئے کھڑی اس کی طرف متوجہ تھی

“حریم جی آپ؟؟”

شاویز حیران تھا وہ یہاں کیسے

“شاویز کیا ہوا ہے آپ کے بابا کو؟؟”

حریم کا سوال وہ سن چکا تھا مگر سب سے زیادہ اسے جو بات کنفیوز کر رہی تھی وہ یہ کہ آخر حریم کیوں رو رہی تھی

“پتا نہیں بابا اچانک سے ویل چیئر پر سے گر گئے تھے…”

شاویز نے آنکھوں کو انگلیوں سے رگڑتے ہوئے کہا مگر اس کی نظریں اب تک حریم کی آنکھوں پر تھیں جو نم تھیں

“شاویز انشاء اللہ انکل بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے کچھ بھی نہیں ہوگا انہیں تم پلیززز رونا بند کرو”

حریم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا پھر وہ دونوں ہی سامنے لگی چیئرز پر جا بیٹھے

“حریم جی ایک بات پوچھوں”

“کہو شاویز”

“حریم جی آپ یہاں؟؟ میرا مطلب آپ یہاں کیوں آئی ہیں؟؟”

اپنی معصومانہ عادت سے مجبورا بڑے دھیمے لہجے سے وہ برابر بیٹھی چھوٹی سی لڑکی سے مخاطب ہوا جس پر حریم کو یاد آیا وہ یہاں کیوں آئی تھی

“میری دوست ہے نہ ائیزل تم جانتے ہوں گے اسے…”

“پورا یونیورسٹی جانتا ہے انہیں مگر میں نے صرف نام سنا ہے”

حریم کی بات پر وہ جھٹ سے بولا

“اس کے کسی دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا تو بس اس ہی وجہ سے یہاں آنا پڑا”

حریم کے بتانے پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا

“ویسے تم یہاں اکیلے کیوں آئے ہو؟؟ میرا مطلب ہے کہ…کوئی ساتھ نہیں آیا تمہارے؟؟”

کچھ دیر چپ رہنے کے بعد حریم نے اس خاموشی کو توڑا تھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“میری بڑی بہن ہیں مگر وہ اس وقت شہر سے باہر ہیں انہیں آج واپس آنا تھا مگر وہ نہیں آ پائیں”

شاویز نے اپنی سرخ آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

“اچھا تو کوئی رشتے دار وغیرہ”

حریم نے اس کے بکھرے ہوئے بالوں پر نظر دوڑائی

“وہ سب گاؤں میں ہیں مگر ہم ان سے نہیں ملتے اس لئے ہم تینوں یہاں اکیلے رہتے ہیں”

“آپ کی امی؟؟”

حریم کے سوال پر اس کی آنکھیں ایک اور بار نم ہونے لگی تھیں جس کا مطلب حریم سمجھ چکی تھی

“سو سوری شاویز مجھے نہیں پتا تھا کہ…”

“کوئی بات نہیں…اور آپ کو پتا بھی کیسے ہوگا جب آپ مجھ سے اب کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتیں کچھ جاننا ہی نہیں چاہتیں”

وہ دکھ بھرے لہجے میں کہتا ہوا اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا حریم کو کچھ پل کے لیے یوں لگا جیسے اس کا دل بے قابو ہونے کو ہے اس کے بات شاویز کی بات کا کوئی جواب نہ تھا

“ڈاکٹر…”

ابھی وہ مزید خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھتی جب شاویز کی نظر ڈاکٹر پر گئی جو ابھی ابھی ایمرجنسی وارڈ سے باہر آئے تھے وہ ان ہی کی طرف بڑھ رہے تھے

“ڈاکٹر کیسے ہیں میرے بابا؟؟”

“ان کی حالت خطرے سے اب باہر ہے لیکن ان کا ٹریٹمنٹ جاری رہے گا تو آپ یہ میڈیسن لے آئیں”

ڈاکٹر کے ہاتھ سے پرچی لے کر وہ واپس مڑا مگر کچھ یاد آنے پر رکا

“ڈاکٹر سنیں میں نے تو اب تک کاؤنٹر پر ٹریٹمنٹ اسٹارٹ ہونے کی کوئی فیس پے نہیں کی… پھر بابا جان کا ٹریٹمنٹ کیسے اسٹارٹ ہوگیا؟؟ آپ مجھے پیمنٹ بتادیں میں کاؤنٹر پر جمع کردوں گا”

شاویز کی بات پر وہ ڈاکٹر مسکرانے لگا اور شاویز کے کندھے پر ہاتھ رکھا

“یہاں اگر کوئی پیشنڈ ایمرجنسی میں آتا ہے تو اس کا فوری ٹریٹمنٹ مفت کیا جاتا ہے ہاں مگر اب جب آپ کے بابا خطرے سے باہر ہیں تو آگے کے ٹریٹمنٹ کی پیمنٹ آپ کو کرنی ہوگی، آپ یہ میڈیسن لے آئیں جلدی”

“جی شکریہ”

وہ اس کم عمر لڑکے کو پیار سے کہتے ہوئے آگے کو بڑھ گئے تھے جبکہ شاویز اب میڈیکل اسٹور چلا گیا تھا حریم بھی ائیزل کی خیریت لینے چلی گئی

☆★☆★☆★☆

“کہو نہ کیا کہنا چاہ رہے ہو؟؟”

وہ کب سے یوں ہی اسے دیکھا جارہا تھا مگر ائیزل کی اچانک والی آواز پر وہ ہوش میں آیا

“ہاں وہ مجھے کہنا یہ تھا کہ پلیزز تم مجھے گھر تک چھوڑ دو گی؟؟ کیونکہ میری فٹیچر بائیک اب مکمل طور پر میرا ساتھ چھوڑ چکی ہے اور میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکوں”

ضوریز کی اس بات پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی تو کیا وہ کچھ غلط سوچ رہی تھی کیا واقعی ضوریز اس سے یہی کہنے والا تھا

“آئیززز؟؟”

“ہاں.؟؟”

“میں نے کچھ کہا ہے”

ضوریز کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اٹھی

“تم اس کے ساتھ باہر تک آجاؤ میں کار میں تمہارا ویٹ کر رہی ہوں”

وہ سنجیدگی سے کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ پیچھے ضوریز بیئرڈ کھجاتے ہوئے یک طرفہ مسکرانے لگا تھا وہ سمجھ چکا تھا اس کے جزبات کیا تھے

وہ جیسے ہی باہر نکلی حریم اس کے سامنے آکھڑی ہوئی

“کیا ہوا ائیزل کیا اب وہ ٹھیک ہے؟؟”

“ہاں اسے تھوڑی چوٹیں آئی ہیں مگر اب بہتر ہے مجھے اسے اس کے گھر چھوڑنے جانا ہے”

ائیزل کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلائے وہیں کھڑی ہوگئی جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہی ہو مگر کہہ نہیں پارہی ہو

“حریم کیا ہوا؟؟ چلنا نہیں ہے تم نے؟؟”

“وہ ائیزل ایکچلی… وہ میرا ایک کلاس فیلو ہے اس کے بابا کی طبیعت بہت خراب ہے وہ یہاں بلکل اکیلا ہے تو میں یہاں تک جاوں؟؟ جیسے ہی ان کے بابا کو روم میں شفٹ کردیں گے میں واپس آجاؤں گی”

حریم کی بات پر ائیزل ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگی

“کلاس فیلو؟؟ یعنی تمہارا فرینڈ؟؟ تو کیا واقعی تم نے بھی فرینڈشپ کرلی ہے واؤ گریٹ لیکن حریم وہ ایک انجان لڑکا ہے میں ایسے کیسے رات کے اس پہر تمہیں اس کے ساتھ چھوڑ سکتی ہوں؟؟”

ائیزل کو کچھ عجیب لگا تھا پہلی بار حریم کسی کے لئے اتنا پریشان تھی اور رکنے کا کہہ رہی تھی

“آئیزل پلیززز سمجھنے کی کوشش کرو وہ لڑکا ایسا ویسا بلکل بھی نہیں ہے تم چاہو تو اس سے مل سکتی ہو”

حریم نے وضاحت دینا چاہی

“وہ کیسا بھی ہو لیکن میں اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی یار تم کہو تو ہم اس کے بابا کے علاج کا خرچہ اٹھا لیں؟؟”

“ائیزل ہمیشہ بات پیسوں کی نہیں ہوتی، کوئی ایسا بھی پاس ہونا چاہیے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہے، تسلی دے، میں صحیح کہہ رہی ہوں نہ؟؟”

حریم کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر اسے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی کیونکہ حریم ویسے بھی بہت سمجھداری کے لیکچر دیا کرتی تھی

“اچھا بابا سمجھ گئی میں، ٹھیک ہے تم مجھے کال کرتی رہنا جیسے ہی اس کا مسئلہ حال ہو میں تمہیں لینے آجاؤں گی اوکے اور اب تو رات بھی بہت ہوگئی ہے”

“تم پریشان نہ ہو ائیزل یہاں بہت لوگ ہیں کوئی مسئلہ نہیں میں صبح تک آجاؤں گی پلیززز میری بات مان لو پلیززز”

وہ التجائی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس پر ائیزل نے آنکھیں گھمائیں

“اچھا نہ ٹھیک ہے میں جارہی ہوں تم اپنا خیال رکھنا اور یہ کچھ پیسے ہیں رکھ کو شاید ضرورت پڑھ جائے “

وہ اسے پیسے تھماتے ہوئے وہاں سے باہر چلی گئی جبکہ اب حریم الٹے پاؤں بھاگتے ہوئے شاویز کے بابا کے وارڈ کی طرف چلی گئی

☆★☆★☆★☆

“تعبیر پلیززز چپ ہوجاؤ دیکھو پرومس ہم کل صبح ہوتے ہی یہاں سے نکل جائیں گے”

رائمہ اسے کب سے چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی مگر تعبیر نے تو اپنی آنکھیں ہی سجھا لی تھیں اس کا پورا چہرہ سرخ ہو چکا تھا

“کیسے چپ ہوجاؤں یار رائمہ بابا کی طبیعت اتنی خراب ہے اور میں کچھ کر بھی نہیں سکتی اور تمہیں تو پتا ہے نہ شاویز ابھی چھوٹا ہے وہ بھلہ یہ سب اکیلے کیسے سمبھالے گا”

تعبیر اب ہچکیوں پر تھی جبکہ رائمہ اب سمجھ چکی تھی وہ بلکل بھی چپ نہیں ہونے والی

“رکو میں ایک اور بار اس چوزے کو فون لگا کر تمہارے بابا کی طبیعت معلوم کرتی ہوں”

رائمہ تسلی دیتی ہوئی موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگی

“اففف اللّٰہ ایک تو کیسا عجیب ہوٹل ہے یہاں تو چوبیس گھنٹے سگنلز ڈاؤن ہی رہتے ہیں”

وہ بربراتی ہوئی موبائل ہاتھ میں لہراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ تعبیر کی اب آنکھیں دکھنے لگی تھیں

“ارے نہیں سر فلحال تو ایسا کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ لوگ کب نکلنے والے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا تعبیر علی آپ کی دھمکی کے بعد کہیں جانے کی ہمت رکھے گی”

باضل کی بات پر دوسری طرف سے صرف قہقہہ سنائی دیا تھا

“اچھا سر اگر کچھ معلوم ہوتا ہے تو پھر میں انفارم کردوں گا”

جیسے ہی وہ کال ڈسکنیکٹ کر کے پلٹا سامنے سے آتی لڑکی سے ٹکرا گیا

“اندھے انسان دیکھ کر نہیں چل سکتے؟؟ ابھی میرا موبائل ٹوٹ جاتا تو؟؟”

رائمہ کی تیز آواز پر وہ جلدی سے سیدھا ہوا اور سامنے نظر گئی وہ وہی پاگل لڑکی تھی اس دن جس کا وہ آدھے سے زیادہ دماغ ہضم کر چکا تھا

“ایکس کیوزمی میم پہلی بات میں اندھا نہیں ہوں دوستی بات ٹوٹا تو نہیں نہ؟؟”

باضل کی شکل دیکھ کر ہی وہ اسے پہچان گئی تھی اس لئے مزید اسے گھورنے لگی جس پر باضل آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟؟ آنکھیں نیچے کرو”

رائمہ نے اسے آنکھیں دکھائیں جس پر وہ آنکھیں گھماتا ہوا ادھر اُدھر دیکھنے لگ گیا

“گڈ شاباش اب سوری بھی کرو”

“کس خوشی میں؟؟”

باضل حیران ہوا

“مجھ سے ٹکرانے کی خوشی میں”

رائمہ نے بھی اس ہی کے انداز میں کہا

“اوہ تو تمہیں یہ کس نے کہہ دیا کہ تم سے ٹکرا کر میں بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں؟؟ اب تک چکر آرہے ہیں مجھے اتنے بڑے وجود سے ٹکرا کر”

باضل نے منہ بناتے ہوئے اسے گھورا

“اوہ میں تو جیسے چھوئی موئی کے درخت سے ٹکرا گئی نہ… ادھر میرا پورا وجود ہل کر رہ گیا تم جیسے ٹاور سے ٹکرا کر سمجھے”

رائمہ نے آواز مزید بلند کی جس پر وہ چہرے کے عجیب و غریب زاوئیے بنانے لگا

“جاؤ نہ یار ٹائم ویسٹ مت کرو”

باضل نے منہ بناتے ہوئے دوسری طرف رخ کیا جس پر رائمہ کو تپی چڑھی

“ہاں ہاں تمہارے تو بڑے بزنس چل رہے ہیں بڑی کمپنیاں چل رہی ہیں… مسجد سے چپل چرا کر لنڈا بازار میں کوڑی کے دام بھیجتے ہو اور ادھر آکر ایسے ایٹیٹیوڈ دکھا رہے ہو جیسے صاحب زادے کوئی بڑی فیکٹریوں کے مالک لگے پڑے ہوں”

وہ بھی رائمہ تھی اس نے تو پی ایچ ڈی کر رکھی تھی ہر بات کا جواب دینے کی

“اوہ ہیلو کچھ زیادہ ہورہا ہے یہ…”

باضل نے بھی آواز بلند کی

“ہاں تو ہونے دو زیادہ کیا ہوا؟؟ شرم آرہی ہے سب کے سامنے ذلیل ہونے میں”

“اوہ تو اب تم کرو گی مجھے زلیل؟؟ شکل دیکھی ہے اپنی؟؟ جس لنڈا بازار میں میں چرائی ہوئی چپلیں بیچتا ہوں وہیں سامنے تم بھی لوگوں کے پرانے کپڑے بیچتی ہوں گی آئی بڑی بلگٹز کی پھپھو”

باضل کو کہاں برداشت تھا کسی لڑکی کے ہاتھوں زلیل ہونا اس نے بھی ٹکا کر جواب دیا مگر اس کا جواب سامنے کھڑی لڑکی پر ناگوار گزرا تھا

“کیا کہا؟؟ بلگٹز کی پھپھو ہوں میں؟؟ اور تم ٹہرے انجلینا جولی کے ڈرائیور”

“ہاں اور تم موسی کام والی جو گھر گھر جاکر لوگوں کے بچوں کے…”

ابھی وہ آگے کچھ کہتا جب رائمہ نے س پر حملہ کیا

وہ بھاگتی ہوئی ان دونوں کے درمیان آئی جہاں ان کی بحث کافی بڑھ چکی تھی

“رائمہ کیا ہوگیا؟؟ چھوڑو اس کا کالر”

اب منظر کچھ ایسا تھا کہ باضل کا کالر رائمہ کے ہاتھوں میں اور رائمہ کے بال باضل کی مٹھیوں میں تھے تعبیر کو لگا تھا اگر وہ نہ آتی تو پریس والے یہاں ضرور آجاتے

☆★☆★☆★☆

“ہممم اچھا تو کیا وہ وہاں اکیلا ہے؟؟”

“سر اس کے ساتھ اس کی کوئی دوست ہے مگر مجھے نہیں لگتا وہ اکیلے مزید خرچا اٹھا پائے گا کیونکہ وہ جس طرح سے پریشان دکھ رہا ہے صاف ظاہر ہوتا ہے اس کے پاس مزید پیسے نہیں ہیں”

“ٹھیک ہے تمہیں جو کام دیا ہے تم وہ ٹھیک سے کرو کسی کو پتا نہیں لگنا چاہئے “

آتش اپنی بات مکمل کرتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر گیا اسے سب کچھ پتا تھا جس ہوسٹل میں شاویز اپنے والد کو لے کر آیا تھا اس ہوسٹل کے انچارج نے آتش کے کہنے پر ہی ایمرجنسی علاج مفت رکھا تھا

“کیا حال ہے اب؟؟”

اس نے پھر سے کسی کو کال ملائی

“بوس وہ لڑکی تو رو رو کر پاگل ہوئی جارہی تھی میں ان کے روم کے باہر ہی تھا”

نجانے آتش کو کیا ہوا تھا وہ تعبیر کی حالت کا سن کر اداس سا ہوا تھا

“مور؟؟”

“نہیں بوس فلحال اتنا ہی پتا لگا ہے اور ہاں وہ لوگ کل نکلنے کی بات کر رہے تھے”

اس نے بنا کچھ کہے کال ڈسکنیکٹ کردی اسے اب پھر سے غصہ آنے لگا تھا جتنا وہ تعبیر کو اپنے قریب کرنا چاہتا تھا وہ اتنا ہی دور بھاگی جارہی تھی

“ملنا پڑے گا… ایک اور بار تم سے ملنا پڑے گا تعبیر اور اگر اس بار تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہارے ساتھ وہ کروں گا جو تم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا “

وہ ارادہ کرتا ہوا بالکونی سے واپس روم میں چلا گیا تھا ایک طرف وہ تعبیر سے نفرت کر رہا تھا دوسری طرف وہ اس کے والد کے علاج کا خرچہ بھی اٹھا رہا تھا اور پھر نجانے کیوں وہ تعبیر کی طرف کھنچا چلا جارہا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *