Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 37)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 37)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“چپس کھاؤ گی؟؟”
وہ جو گم سم بیٹھی اس کیلینڈر کے بارے میں سوچ رہی تھی حریم کی آواز پر چونکی حریم چپس کا باؤل لئے اس کے عقب میں آ بیٹھی جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا
“حریم تم نے بتایا نہیں اس دن تم اچانک یونیورسٹی سے ہوسٹل کیوں چلی گئی تھیں؟؟ ایسی بھی کیا ایمرجنسی تھی یار؟؟”
آج پورے دو دن ہو چکے تھے اسے آئے ہوئے مگر وہ کاظم صاحب کے کہنے پر وہی سب بتا رہی تھی جو وہ ائیزل کو خود بتا چکے تھے حریم گھر واپس اس ہی دن آگئی تھی جب اسے پتا چلا تھا ضوریز اس کا بھائی ہے
“اففف یار کیا بتاؤں۔۔۔ ایمرجنسی ہی سمجھو۔۔۔ وہ ندا تھی نہ اپنے سامنے والے روم والی۔۔۔ اس کا اسائمنٹ کمپلیٹ نہیں ہوا تھا اور تمہیں پتا ہے ان کی ڈیٹ شیٹ بھی آگئی تو بس اس نے ہیلپ مانگی اور مجھے جانا پڑا اور رات وہاں اس لئے رکی کیونکہ اسائمنٹ بناتے بناتے بہت رات ہوگئی تھی اور پھر موبائل بھی تو آف تھا نہ۔۔۔”
اس بار اس نے تھوڑی تفصیل سے بتایا جس پر ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا
“خیر چھوڑو نہ ان باتوں کو یہ بتاؤ تم کن سوچوں میں گم ہو؟؟”
حریم نے اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر پوچھا
“یار ایک عجیب سی بات ہوئی ہے۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔”
ائیزل ایسی کیفیت میں مبتلا تھی جسے وہ نہ بھلا پا رہی تھی نہ سمجھ پا رہی تھی
“اففف بتاؤ بھی کہ ہوا کیا ہے؟؟”
حریم نے بے صبری سے سوال کیا
“یار وہ اس دن مجھے کسی نے ہوسپٹل پہنچایا تھا پھر میری گاڑی صحیح سلامت گھر تک چھوڑ کر گیا تھا پھر میرے نمبر پر وہ میسجز، اور اس دن وہ کیلینڈر ایک چٹ کے ساتھ۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا یہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔”
اس نے الجھے ہوئے انداز میں کہا
“اوہ ہو تم خوامخواہ پریشان ہورہی ہو۔۔۔ چھوڑو یہ سب اور تم صرف یہ بات دماغ میں رکھو کے تم کسی کے نکاح میں ہو۔۔۔”
حریم نے اسے سمجھایا
“تو میں کیا کر رہی ہوں یار۔۔۔”
اس نے بیزاری سے کہا
“یہی تو مسئلہ ہے تم کچھ کر ہی تو نہیں رہیں۔۔۔ تھوڑا اس خول سے باہر آؤ لائف پہلے کی طرح انجوائے کرو پھر کچھ مہینے بعد تو ویسے بھی شادی ہوجائے گی۔۔۔”
حریم نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ خاموش ہوگئی تھی اسے خاموش دیکھ کر حریم نے فنی مووی لگائی اور اس کے ہاتھ میں باؤل رکھا
“اب تم نہ یہ موڈ ٹھیک کرلو اپنا۔۔۔ ورنہ میں تمہارے روم سے چلی جاؤں گی۔۔۔ نہیں مطلب اتنی بور انسان کب سے ہوگئیں تم۔۔۔ یہ لو چپس کھاؤ اور خدا کا واسطہ یہ روندو والی شکل ٹھیک کرو اور مووی انجوائے کرو”
وہ پرجوش انداز میں کہتی ہوئی خود ٹی وی آن کر کے مووی دیکھنے لگ گئی جبکہ اس کے کہنے پر ائیزل بھی ٹی وی کی جانب متوجہ ہوگئی
☆★☆★☆★☆
“اسلام و علیکم ناظرین آج کی تازہ خبر سے آپ کو آگاہ کیا جارہا ہے مشہور ایکٹریس ردا ریاض نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر آواز اٹھالی، جی ہاں ناظرین ردا ریاض کا کہنا ہے وہ کئی سالوں سے خاموش تھیں مگر اب انہوں نے خاموشی کو توڑ دیا ہے!! وہ میدان میں آ چکی ہیں اور جیت کر ہی واپس جائیں گی”
وہ جو موبائل پر مصروف تھا ردا کا نام سن کر ٹی وی کی جانب متوجہ ہوا
“انہوں نے مزید بتایا ہے ان کے ساتھ کئی سالوں سے ایک شخص زیادتی کیا جارہا ہے انہیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، ان کا کہنا ہے وہ اپنے مجرم کو سزا دلا کر رہیں گی ۔۔۔ ان کی عدالت سے انصاف کی درخواست۔۔۔ پریس سے ان کا لائو گفتگو۔۔۔”
وہ بہت حیران تھا آخر وہ اپنی خیر حالت کے ساتھ بنا میک اپ کے سر پر ڈوپٹہ لئے پریس کے سامنے آنسوں بہا رہی تھی آتش کو وہ کوئی ڈرامے بازی ہی لگ رہی تھی
“زیادتی؟؟ کیسی زیادتی؟؟”
وہ انہیں چھوٹی کر کے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا جہاں تک وہ جانتا تھا وہ اتنی معصوم تو نہ تھی کہ کوئی اس کے ساتھ اس کی مرضی کے بنا کچھ غلط کرے
“خدا کا واسطہ ہے میری مدد کریں۔۔۔ مجھ پر کئی سالوں سے تشدد کیا جارہا ہے۔۔۔ مجھے ہر دن ہر رات ایک نئی اذیت دی جارہی تھی مجھے قید میں رکھ کر میری عزت کو پامال کیا جارہا تھا۔۔۔ میری آپ سب سے درخواست ہے مجھے مزید تشدد کا نشانہ بننے سے بچالیں۔۔۔”
ردا ریاض جو ہر وقت چہرے پر میک اپ کی تہہ لگائے اپنے مخصوص نازیبا کپڑوں کے ساتھ پورے جہاں میں آزادی سے گھومتی پڑھتی تھی آج وہ سر پر دوپٹہ لئے پریس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر مدد مانگ رہی تھی
“میرا مجرم کوئی اور نہیں بلکہ آتش درانی ہے۔۔۔ خدارا مجھے اس بھیڑئیے نما انسان سے بچالیں”
آتش نے اسکرین کی جانب دیکھ کر موبائل میں کال ملائی مگر تبھی اسے بہت زور کا جھٹکا لگا تھا جب ردا کے الفاظ سے نکلا گیا نام اس کا اپنا تھا وہ پھٹی پھٹی آنکھیں لئے ایل ای ڈی کو گھور رہا تھا اسے لگا
اس کا دماغ ماؤف ہو جائے گا مسلسل اس کا موبائل بجے جارہا تھا مگر وہ اب تک سکتے کی حالت میں اس ڈھونگی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو بنا کسی ثبوت کے اس پر اتنا بڑا الزام لگا رہی تھی
سامنے پڑے ٹیبل پر ایک زور دار لات رسید کر کے وہ غصے سے اٹھا سائٹ ٹیبل پر رکھا واس اٹھا کر ایل ای ڈی پر دے مارا جس سے پل بھر میں وہ کرچیوں میں تبدیل ہوگیا
“یہ کیا بکواس ہے!!! یہ کیسے ہو سکتا ہے!!! میں نے تو نشے میں بھی اسے چھوا تک نہ تھا بلکہ اسے بے ہوش کردیا تھا تاکہ میرے اور اس کے درمیان ایسا ویسا کچھ بھی نہ ہو۔۔۔ پھر یہ کیسے اتنا بڑا الزام لگا سکتی ہے۔۔۔”
وہ غصے سے پھنکارتا ہوا اپنا موبائل فون لئے روم سے باہر نکلا جیسے ہی وہ سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آیا اچانک تعبیر سے ٹکراتے ہوئے بچا ایک نظر سامنے کھڑے معصوم وجود پر ڈال کر وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا جب نظر اس کے تاثرات پر گئی وہ چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت لئے اسے دیکھ رہی تھی
“تعبیر۔۔۔ کیا تم نے بھی یقین۔۔۔”
اسے کھٹکا لگا تھا ایک ڈر سا اس کے دل کو لگا تھا تعبیر کی بے اعتبار نظریں اس کے دل کی دھڑکنیں روکنے کی کوشش میں تھی تعبیر نے نظریں جھکائیں اور رخ بدل لیا تھا وہ جو اس پر بھروسہ کر کے اس جاب کو قبول کر چکی تھی اس کی نظر میں آتش کا جو مقام تھا جو عزت نکھر رہی تھی اب وہ اپنی نادانی پر پچھتا رہی تھی
“میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ردا۔۔۔”
وہ سرخ آنکھیں لئے باہر کی جانب بڑھ گیا تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس کے فلیٹ پر موجود تھا جہاں وہ اپنا انٹرویو دے کر واپس آچکی تھی وہ بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹی کان میں ایڈ فون لگائے گانے سننے میں مصروف تھی
جب ایک زور دار دھماکے کے کمرے کا دروازہ کھلا وہ اچانک چونک کر اٹھ بیٹھی جب سامنے سے آتے شخص کو دیکھ کر اس کی ہوائیاں اڑ گئیں آتش بڑے بڑے قدم اٹھائے بڑے تیش میں اس کی جانب بڑھا اور لپک کر اس کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیا جس سے اس کی جان نکل گئی
☆★☆★☆★☆
“آاہ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔”
وہ مزاحمت کرنے لگی مگر آتش کی گرفت مزید مظبوط ہوتی چلی گئی آتش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھیں
“یہ کیا بکواس کی ہے تم نے میڈیا پر ہاں؟؟ سمجھتی کیا ہو تم خود کو؟؟ کچھ بول نہیں رہا تو اس کا یہ مطلب نہیں تم کچھ بھی کرتی چلی جاو۔۔۔ بتاؤ کیوں کیا تم نے یہ؟؟ کس کا پٹا ہے تمہارے گلے میں۔۔۔ کون کروا رہا ہے تم سے یہ سب ؟؟ جواب دو۔۔۔!!!”
وہ باقاعدہ چینخا تھا جس پر وہ ڈری تھی مگر تب ہی ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے لبوں پر نمودار ہوئی جسے دیکھ کر آتش کے تن بدن میں آگ لگی تھی
“اچھا تو تمہیں اپنی عزت اتنی عزیز ہے کہ فورن سے پہلے تم میرے پاس چلے آئے۔۔۔”
“بکواس بند کرو اپنی!!! جو پوچھا ہے اس کا سیدھا جواب دو کیوں کیا ہے تم نے یہ سب؟؟ پریس میں اتنا بڑا چھوٹ بول کر سب کی ہمدردیاں حاصل کرنے سے کیا مل جائے گا تمہیں ہاں؟؟”
آتش نے اس کے بالوں کو جھنجھوڑا تھا
“سکون!!! سکون ملے گا مجھے تمہیں سب کے سامنے ذلیل و رسواء کر کے۔۔۔ خاص طور پر اس تعبیر ہے سامنے۔۔۔”
وہ اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی جس پر آتش نے دانت بیچتے ہوئے اسے نیچے دھکیلا وہ سنبھل نہ پائی اور زمین پر جا گری
“تم اس حد تک گر سکتی ہو یہ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا!!! تمہیں کیا لگتا ہے؟؟ یہ سب کر کے تم تعبیر کو مجھ سے دور کردو گی؟؟ یہ بہت بڑی خوش فہمی ہے تمہاری میں اسے ہر قیمت پر حاصل کر کے رہوں گا”
آتش دھاڑتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
“تم نے کہا تھا نہ کہ تعبیر مجھ جیسی گھٹیا لڑکیوں میں سے نہیں ہے۔۔۔ تو پھر خود سوچو وہ تم جسے گھٹیا کم ظرف انسان کو کیسے قبول کرے گی؟؟”
وہ شوقیہ انداز میں کہنے لگی جس پر آتش نے اس کے ہاتھ پر اپنا ایک پیر گاڑھا وہ چینخی تھی
“میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ میں آتش درانی ہوں۔۔۔ جو ٹھان لیتا ہوں وہ کر کے دم لیتا ہوں۔۔۔ مگر افسوس میری یہ بات تمہاری دماغ میں گھر نہ کر سکی۔۔۔”
آتش کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی
“اچھا واقعی؟؟ تو پھر یہ میرا چیلنج ہے تمہیں تم اس لڑکی کو حاصل کر کے دکھاؤ۔۔۔ کیونکہ یہ تو میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں۔۔۔ کہ تم میڈیا سے یہ خبر تو بند کروا سکتے ہو لیکن تعبیر کی نظر میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکتے۔۔۔”
وہ خود کو سنبھالتی ہوئی اس کے سامنے آکھڑی ہوئی جس پر وہ اسے سخت تاثرات لئے دیکھنے لگا
“مجھے یہ چیلنج منظور ہے۔۔۔ میں تعبیر علی کو حاصل کر کے دکھاؤں گا۔۔۔”
وہ بھرم سے کہتا ہوا پلٹنے لگا مگر اس کی آواز پر رکا
“اتنی خود اعتمادی اچھی نہیں ہوتی آتش درانی۔۔۔”
ردا کی بات پر ایک عجیب سی یک طرفہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی تھی جسے وہ سمجھ نہ سکی
“تم میری چھوڑو اور اپنی خیر مناؤ۔۔۔ یہ مت بھولو تمہاری ماں میرے علاقے میں رہتی ہے!!!”
وہ پرسکون انداز میں کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا مگر ردا کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا کر گیا تھا وہ پیشانی مسلتے ہوئے حاشر خانزادہ کو کال ملانے لگی
“ہیلو۔۔۔ وہ یہاں آیا تھا۔۔۔ مگر وہ مجھے مزید دھمکا کر گیا ہے اور مجھے سو فیصد یقین ہے کچھ ہی دنوں بعد وہ سچ سب کے سامنے لے آئے گا۔۔۔ میں نے اپنا کام کردیا اب تمہاری باری ہے!!!”
وہ اپنی بات مکمل کر کے کال ڈسکنیکٹ کر گئی تھی
☆★☆★☆★☆
شام کا وقت تھا جب وہ شراب کے نشے میں چور بیٹھا آج ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا یہ تو بہت بڑی بات تھی کہ جہاں کچھ لوگ اس بات پر یقین کر چکے تھے کہ آتش نے ردا کے ساتھ واقعی ذیادتی کی ہے وہیں آتش کے فینز اس بات پر یقین نہیں کر رہے تھے
انہیں بے صبری سے انتظار تھا آتش کے میڈیا میں لائیو آنے کا، پورے پاکستان میں لاکھوں لوگ آتش کے ساتھ کھڑے تھے جبکہ پاکستان کے علاؤہ بھی کتنے غیر ممالک کے لوگ آتش کے لئے اسٹینڈ لے رہے تھے
اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا کہ دنیا اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہے اسے بس ڈر تھا تو اس بات کا کہ جسے وہ دل دے بیٹھا ہے وہ اگرچے اس سے دور ہوگئی تو وہ خود کو کبھی سنبھال نہیں پائے گا
“یہ میری محبت۔۔۔ وہ میرا محبوب۔۔۔ میں عاشق اس کا۔۔۔ وہ چاہے مجھ یہ خواب میرا۔۔۔ وہ اس خواب کی تعبیر۔۔۔”
وہ نشے میں دھت بیٹھا نجانے کن الفاظوں میں خود سے مخاطب تھا وہ خود سے باتیں کر رہا تھا اسے اب بھی پرواہ نہ تھی کون کیا سوچ رہا ہے وہ اب تک تعبیر کے بارے میں سوچ رہا تھا
“یار۔۔۔ ردا۔۔۔ تم نے بہت برا کیا۔۔۔م میرے ساتھ۔۔۔ مگر جو اب میں کروں گا۔۔۔ وہ اس سے۔۔۔ اس سے بھی زیادہ برا ہوگا۔۔۔ آئی سوویر آئی۔۔۔ ول۔۔۔ کل لو بچ۔۔۔ ردا ریاض۔۔۔”
وہ نفرت بھرے لہجے میں کہتا ہوا مزید شراب پینے لگا تب دروازے پر دستک ہوئی
“آجاؤ۔۔۔ آجاؤ۔۔۔”
وہ ہاتھ ہلا کر کہتا ہوا آنکھیں کھول کر بامشکل سامنے دیکھنے لگا وہ اپنے نازک سے وجود کے ساتھ چلتی ہوئی اندر آئی وہ ایک نظر اسے سرتا پیر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگ جہاں اسکے لئے بے اعتباری دکھائی دی تھی وہ اس سے نظریں نہ ملا پاتا اور گردن جھکا دی
“میں یہ جاب چھوڑ رہی ہوں۔۔۔”
وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی اسے اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگئی وہ اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگا جبکہ تعبیر اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر دوسری طرف نظریں کر گئی
“جاب؟؟ چھوڑ۔۔۔ رہی ہو۔۔۔ مم مگر کیوں؟؟”
آتش نے شراب کے گلاس کو سائڈ ٹیبل پر رکھ کر بامشکل سوال کیا جس پر وہ اسے تاسف سے دیکھنے لگی کی وہ وجہ نہیں جانتا تھا یا پھر جان کر بھی انجان بن رہا تھا تعبیر کے لئے اس بدبو دار کمرے میں رکنا مشکل ہو رہا تھا
“وجہ آپ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں کرنی آپ کے پاس جاب۔۔۔”
وہ خفگی سے کہنے لگی جس پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا تعبیر نے نظریں چرائیں آتش کو اس کا ایک ایک عمل دکھ دے رہا تھا
“کیا تم نہیں جانتی کہ وہ جھوٹ کہہ رہی ہے؟؟ کیا تمہیں وہ یہاں کہیں قید نظر آئی ہے؟؟ تم تو چوبیس گھنٹے یہاں ہوتی ہو نہ۔۔۔ میں کہاں جاتا ہوں کہاں نہیں تمہارے پاس ساری انفارمیشن ہوتی ہے۔۔۔ پھر یہ بے اعتباری کیوں؟؟”
آتش کی بات پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی
“میں صرف ان باتوں کی خبر رکھتی ہوں جو میری جاب کا حصہ ہیں اس کے علاؤہ آپ کہاں جاتے ہیں کہاں نہیں میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔”
وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی اسے غیر ہونے کا احساس دلا رہی تھی یہ عمل بھی اسے دکھ دے رہا تھا وہ ضبط سے آنکھیں مینچے کھڑا ہوا اور دو قدم آگے آیا
“کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں تعبیر؟؟ کیا تمہیں واقعی میں میں اتنا گھٹیا انسان لگتا ہوں؟؟ کیا تم واقعی میرے بارے میں اتنی منفی سوچ رکھتی ہو؟؟ جبکہ یہ تو تم بھی جانتی ہوں میں آج کل میٹنگز کے علاؤہ کہیں باہر نہیں جاتا اور پھر اس دن تمہارے سامنے وہ خود آئی تھی جسے میں نے دھکے مار کر نکالا تھا”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا شاید وہ پہلی لڑکی تھی جسے وہ صفائی دے رہا تھا تعبیر بے تاثر سا چہرا لئے اسے دیکھنے لگی
“آپ کی زندگی آپ کی مرضی آپ کچھ بھی کریں مگر مجھے اب مزید جاب نہیں کرنی مجھے واپس کراچی جانا ہے اور آپ مجھے نہیں روکیں گے!!!”
وہ جیسے اپنا فیصلہ سنا چکی تھی آتش اس کی بات پر اسے بھری آنکھوں سے دیکھنے لگا مگر چہرے کے تاثرات پل بھر میں سخت ہوچکے تھے
“نہیں جا سکتیں تم یہاں سے!!!”
وہ اسے حکم دینے لگا جس پر وہ بھویں اکٹھی کئے اسے گھورنے لگی
“آپ اب مزید میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے!!!”
“میں کروں گا!!!”
وہ جیسے ضد پر آ چکا تھا مگر وہ بھی تعبیر تھی وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹنے والی تھی
“ٹھیک ہے۔۔۔ اگر آپ مجھے یہاں سے جانے نہیں دے سکتے تو اپنی پوری کوشش کر کے دیکھ لئے گا۔۔۔ میں یہاں سے اکیلے بھی جا سکتی ہوں!!! مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مجھے آپ کا کوئی خوف ہے!!!”
وہ آتش کی نیلی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتے ہوئے ایک ایک الفاظ کا چبا کر ادا کرنے لگی جس پر وہ غصے سے اس کی جانب بڑا اس کے بازوؤں پر گرفت تنگ کئے کھڑا وہ اسے تکلیف دینے کا سبب بن رہا تھا
“چھوڑیں مجھے۔۔۔ میں نے کہاں چھوڑیں مجھے ہاتھ مت لگائیں مجھے۔۔۔”
وہ مزاحمت کرنے لگی مگر آتش کی نیلی آنکھیں غصے سے سرخ ہو چکی تھیں چہرے پر بکھرے بال ماتھے پر شکن آنکھوں میں غصہ لئے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر وہ اس وقت نشائی کم نفسیاتی زیادہ لگ رہا تھا
“پہلے مجھے اتنا بتاؤ کہ تمہیں واقعی مجھ پر بھروسہ نہیں۔۔۔ تم۔۔۔ تم مجھے اتنا گرا ہوا۔۔۔ اتنا گھٹیا کیسے سمجھ سکتی ہو تعبیر۔۔۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا سمجھتی کیوں نہیں تم!!!”
وہ جنون، ضد، غصے اور درد کے ملے جلے تاثرات لئے اسے شاید کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مسلسل اس کی یہ جنونیت دیکھ رہی تھی کیا وہ واقعی اتنی ہی تکلیف میں تھا یا یہ صرف تعبیر کا وہم تھا کیا وہ واقعی اپنا حالِ دل بیان کرنے کی کوشش میں تھا
“مجھے نہیں ہے آپ پر بھروسہ۔۔۔”
کچھ ہوا تھا کچھ ٹوٹا تھا اس کے اندر وہ بے یقینی سے آنکھوں میں آنسوں لئے اسے دیکھ رہا تھا اس کی گرفت ڈھیلی پڑھ چکی تھی وہ خاموشی سے دو قدم دور ہوا تعبیر اس کی یہ عجیب سی کیفیت سمجھ نہیں پارہی تھی
پہلے سائڈ میں رکھا واز اس نے پورے زور سے دیوار پر دے مارا پھر شراب کا گلاس اٹھا کر زمین پر پٹخا اور ہاتھ مار کر شراب کی بوتل گرائی وہ خاموشی سے منہ پر ہاتھ رکھے اس کی یہ حرکت دیکھ رہی تھی وہ کس طرح اپنا غصہ بے جان چیزوں پر نکال رہا تھا
“نہیں ہے تمہیں مجھ پر بھروسہ ہاں۔۔۔”
وہ غصے سے چینختے ہوئے کمرے میں رکھی تمام چیزیں توڑ چکا تھا سب سے آخر میں وہ سامنے لگے شیشے پر مکا مارنے لگا البتہ شیشہ تو ٹوٹا تھا مگر ساتھ ہی اس کا ہاتھ بھی زخمی ہوا تھا
تعبیر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس میں سے اب خون رسنے لگا تھا وہ زمین پر گٹھنوں کے بل بیٹھا اب گہری گہری سانسیں لے رہا تھا تعبیر آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامے فکرمندی سے دیکھنے لگی جس پر وہ ایک جھٹکے سے دور ہوا
“مت آؤ میرے قریب۔۔۔ مت چھؤو مجھے۔۔۔ میں ایک گھٹیا انسان ہوں۔۔۔”
اس کا پورا وجود پسینے سے شرابور ہو چکا تھا جبکہ چہرہ آنسوؤں سے تر تھا تعبیر کو اس کی حالت پر ترس آنے لگا تھا
وہ فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اس کے پاس زمین پر آ بیٹھی اس کے لاکھ کوشش کرنے کے باوجود تعبیر نے اس کے ہاتھ پر بینڈج کرنی شروع کی اب وہ خاموشی سے اس کے چہرے کو تک رہا تھا جس کا دھیان مکمل اس کے ہاتھ پر تھا
آتش نے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے تعبیر کے چہرے پر آتے بالوں کو ہٹایا جس پر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی شاید آتش کا غصہ اب ٹھنڈا ہو چکا تھا تعبیر اس سے دور ہوئی جس پر وہ اٹھ کھڑا ہوا مگر وہ لڑکھڑا رہا تھا تعبیر نے آگے بڑھ کر اسے کندھے سے سہارا دیا اور بیڈ پر بٹھایا
“رکو۔۔۔”
وہ جیسے ہی واپسی کے لیے مڑنے لگی آتش کی آواز پر رکی وہ دیوانہ وار اس تک رہا تھا جیسے اس کے نورانی چہرے میں کچھ تلاش رہا ہو شاید سکون۔۔۔ تعبیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“تم جانا مت۔۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔”
وہ شاید اسے اب تک یقین دلانے کی کوشش میں تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ تعبیر اس سے دور جائے آتش کی بات پر تعبیر بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ اپنے زخمی ہاتھ کو تکتے ہوئے یوں ہی بستر پر لیٹ گیا نجانے کب اس کی آنکھیں بند ہوئیں اسے خبر تک نہیں ہوئی
وہ کمرہ لاک کئے تیز تیز سانسیں لینے لگی وہ اپنی اس کیفیت کی وجہ سمجھ نہیں پارہی تھی کیا اسے آتش پر اب مزید بھروسہ کرنا چاہئے تھا؟؟ کیا وہ شخص سچ بول رہا تھا؟؟ مگر وہ کیوں آتش کے بارے میں اتنا سوچ رہی تھی۔۔۔
وہ ایک ایسے شخص پر بھروسہ کر بیٹھی تھی جو اسے پہلے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا مگر جب سے وہ اس کے ساتھ رہی تھی وہ اسے اتنا بھی برا نہ لگا تھا جتنا وہ ظاہر کرتا تھا ہاں وہ ایک اچھا انسان تھا بس اس کی کچھ عادتیں خراب تھیں لیکن وہ خراب نہ تھا
مگر جو کچھ آج ہوا تھا اس کے بعد تعبیر کا آتش کے پاس جاب کرنا مناسب نہ تھا وہ ایک لڑکی تھی اور لڑکی کے لئے اس کی عزت سے زیادہ ضروری اور کچھ بھی نہیں ہوتا وہ یہ جاب چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی لیکن اب بھی اس کا دماغ یہ بات سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آتش صحیح ہے یا غلط
تعبیر نے جلدی جلدی اپنا سامان پیک کیا وہ تو شاویز تک کی کال ریسیو نہیں کر پارہی تھی کیونکہ اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ نارمل انداز میں بات کرتی یقیناً وہ رو جاتی اور وہ اپنے اس چھوٹے سے دل کی وجہ سے گھر والوں کو پریشان ہر گز نہیں کرنا چاہتی تھی جبھی وہ سب کچھ خاموشی سے کر رہی تھی
☆★☆★☆★☆
“مورننگ ڈیڈ۔۔۔”
“مورننگ ڈیڈ کی جان کیسی ہو؟؟”
آج کافی دنوں بعد ائیزل اپنے مخصوص حلیے میں نظر آئی تھی جس پر کاظم صاحب اور حریم دونوں ہی بے حد حیران مگر خوش تھے
“کیسا ہے میرا پرنس۔۔۔”
اس بار کاظم صاحب نے اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو مزید خراب کرتے ہوئے پوچھا کر وہ یک طرفہ مسکرائی شاید ہو اپنے پہلے والے حلیے میں واپس آچکی تھی
“فائن ڈیڈ اینڈ یوں مائے کنگ”
“آئی ایم آلسو فائن مائے ڈیوڈ۔۔۔”
انہوں نے پیار سے اس کے گالوں کو کھینچا جس پر وہ مسکرائی
“اوہ کم آن ڈیڈ میں اب بچی نہیں رہی۔۔۔”
ائیزل نے کالر کھڑے کرتے ہوئے کہا جس پر کاظم صاحب اور حریم ہنسنے لگے
“اوہ اچھا۔۔۔ ریلی؟؟ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا۔۔۔”
اسے چھیڑنے کی بچی کچی کسر حریم نے پوری کردی جس پر وہ اسے آنکھیں دکھانے لگی
“اچھا اب آنکھیں نہ دکھاؤ اور اپنا بریک فاسٹ فنیش کرو۔۔۔شاباش”
حریم کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئی
“ائیزل۔۔۔ بیٹا میں سوچ رہا تھا ابھی تو تمہاری شادی میں وقت پڑھا ہے۔۔۔ تب تک تم میرا بزنس جوئن کرلو۔۔۔ ایسے تم اکیلی بور بھی نہیں ہوؤں گی۔۔۔”
کاظم صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے اسے مشورہ دیا
“ڈیڈ آپ نے صحیح کہا۔۔۔ ایکچلی میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ گھر پر پڑے رہنے سے اچھا ہے آپ کے بزنس میں کچھ ہیلپ کردوں۔۔۔”
ائیزل نے اپنے مخصوص پرانے انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرائے
“ہممم ڈیڈ کا پرنس بڑا ہو چکا ہے ہاں۔۔۔”
کاظم صاحب نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکرائی
“ہاں تو پھر کیا کہتے ہیں آج سے چلوں آپ کے ساتھ آفس؟؟”
ائیزل کی بات پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا
“کیوں نہیں ضرور۔۔۔ لیکن یہ جو تم نے لڑکوں والا حلیہ بنایا ہوا ہے اسے درست کرو۔۔۔ کیا اس حلیے میں آفس آنا ہے؟؟”
کاظم صاحب نے اسے سرتا پیر دیکھا ڈھیلی سی شرٹ گھٹنوں سے پھٹی پینٹ بکھرے ہوئے بال ہاتھ میں مخصوص انگوٹھی وہ واقعی کوئی ٹین ایج لڑکا لگ رہی تھی
“اففف ڈیڈ۔۔۔”
اس نے منہ بسورا
“بھئی دیکھو اگر واقعی تمہیں اس حلیے میں آفس جانا ہے تو ابھی بتادو۔۔۔ میں نے اپنے آفس والوں کو بتایا ہوا ہے کہ میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔۔۔ اب اگر تم اس حلیے میں آفس گئیں تو سب کہیں گے یہ اچانک سے کاظم صاحب کا بیٹا کدھر سے نمودار ہوگیا۔۔۔”
کاظم صاحب کی بات پر جہاں حریم کا قہقہہ نکلا وہیں ائیزل اپنے ڈیڈ کو منہ بسورے دیکھنے لگی جس پر وہ ہنسنے لگے
“اچھا بس نہ جیسا تمہارا دل کرتا ہے ویسے آفس آؤ۔۔۔ میں تمہیں نہیں ٹوکوں گا۔۔۔”
انہوں نے پیار سے اس کے رخساروں کو چھوا جس پر وہ بلش کر گئی تبھی حریم کا موبائل بجنے لگا وہ وہاں سے اٹھ کر بالکونی کی جانب چلی گئی
“اچھا ڈیڈ مجھے نہ آپ کو ایک بات بتانی ہے۔۔۔ کل حریم کا برتھڈے ہے۔۔۔”
اس نے سرگوشی نما انداز میں کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگے
“اوہ۔۔۔ تو کیا کوئی پلان ہے تمہارا؟؟”
کاظم صاحب کی بات پر اس نے ہاں میں سر ہلایا جس پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے تو وہ اپنا سارا پلان انہیں سمجھانے لگی
☆★☆★☆★☆
جب اس کی آنکھ کھلی تو دوپہر کے تین بج چکے تھے وہ اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑ کر بامشکل خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کر بیڈ کے کراؤن سے جا لگا تب اس کی نظر سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر گئی جہاں تین رہے تھے
“افففف میں اتنا کیسے سو گیا۔۔۔ آج تو۔۔۔ فوٹو شوٹس تھیں۔۔۔ کسی نے مجھے جگایا کیوں نہیں۔۔۔”
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وارڈروب سے کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا ویسے تو اس کے اٹھنے سے پہلے ہی اس کی اسسٹنٹ مطلب تعبیر اس کے کپڑے ریڈی کر دیتی تھی لیکن آج وہ نہ اسے جگانے آئی تھی نہ ہی اس نے اس کے کپڑے نکال کر ریڈی رکھے تھے
“تعبیر۔۔۔ کیا اب بھی غصہ ہے وہ مجھ پر۔۔۔؟؟”
وہ خود کلامی کرتے ہوئے اسے منانے کی ترکیب سوچ کر باتھ چلا گیا وہاں سے واپس آکر اس نے اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے سکھایا اور شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر پرفیوم چھڑکنے لگا تبھی دروازے پر دستک ہوئی
“آجاؤ۔۔۔”
آتش کی سخت آواز پر ملازم سر جھکائے اندر آیا جسے آتش شیشے میں دیکھ کر ہی گھورنے لگا
“جگایا کیوں نہیں مجھے کسی نے؟؟”
آتش نے گمبھیر لہجے میں کہا جس پر ملازم خوف سے اسے دیکھنے لگا
“وہ۔۔۔ وہ صاحب جی کل رات۔۔۔ کل رات آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اس لئے آپ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔”
ایک نظر آتش کے زخمی ہاتھ پر ڈال کر وہ سر جھکا گیا آتش اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بال بنانے لگا مگر اسے وہیں کھرا پا کر شیشے میں ہی سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا
“وہ صاحب آپ کے ہاتھ پر زخم آیا ہے۔۔۔ اگر آپ کہیں تو میں کچھ۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔”
آتش کے گھورنے پر گھبراتے ہوئے اس کے آدھے الفاظ منہ ہی میں رہ گئے تھے جس پر آتش نے ایک نظر اپنے زخم کی جانب دیکھا اور پھر ملازم کی جانب جو اب پیشانی پر آئے پسینے صاف کر رہا تھا
“ضرورت نہیں۔۔۔ اب تم جا سکتے ہو!!!”
وہ اسے حکم دے کر آئینے میں خود کو بغور دیکھنے لگا جبکہ ملازم جلدی جلدی اثبات میں سر ہلائے وہاں سے غائب ہوگیا آتش کو جہاں کل والے واقعے پر غصہ تھا وہیں کل رات تعبیر کا اس کے زخم پر مرہم کرنا اس کا سارا غصہ غائب کر گیا تھا
وہ اپنے زخم کو دیکھ کر بے ساختہ مسکرانے لگا شاید اس کی زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ ایک وقت میں اتنی بار مسکرایا تھا اسے محبت ہو چکی تھی اس کے دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی جو شاید اب تعبیر کی محبت سے ہی بجھنے والی تھی
“بس تھوڑا سا وقت اور۔۔۔ پھر میں تمہیں اپنا حالِ دل سنا کر وہی آگ تمہارے دل میں بھی لگاؤں گا جو میرے دل کو مکمل اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے!!!”
وہ زیرِ لب کہتے ہوئے مسکرایا سامنے تعبیر کا معصوم چہرہ، خوبصورت باریک پنکھڑی جیسے نازک ہونٹ مسکراتے ہوئے گردش کرنے لگے
“بس کچھ ہی دن بچے ہیں۔۔۔ جی بھر کے تڑپالو۔۔۔ ہونا تو تمہیں میرا ہی ہے۔۔۔ بہت جلد تم اس کمرے میں مسز آتش درانی کی حیثیت سے آؤ گی۔۔۔ بہت جلد تم میری صحرا سی زندگی میں بہار بن کر آؤ گی۔۔۔ بہت شدت سے انتظار ہے مجھے اس دن کا۔۔۔ جب میں تمہیں تمہارے شوہر کی حیثیت سے چھؤوں گا۔۔۔ اور تم مجھ سے محبت کرنے لگو گی۔۔۔ بے انتہا محبت۔۔۔”
وہ خود کلامی کرنے لگا اس کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہونے لگی تھی شاید اسے سب کچھ بہت آسان لگ رہا تھا جیسے وہ ہمیشہ اپنی پسندیدہ چیز بآسانی حاصل کر لیتا تھا اسے لگا جیسے محبت پانا بہت آسان ہے وہ نہیں جانتا تھا کہ اس بار وہ کوئی عام سی شے نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی لڑکی حاصل کرنا چاہ رہا تھا
وہ سیڑھیوں سے اتر کر ڈائننگ ہال میں آیا جہاں اس کے لئے بریک فاسٹ تیار رکھا تھا ملازم کو تعبیر کو یہاں بلانے کا کہہ کر وہ بریڈ پر بٹر لگانے لگا مگر اگلے ہی پل اس کا ہاتھ رکا
“صاحب جی۔۔۔ تعبیر بی بی تو اپنے روم میں ہی نہیں ہیں۔۔۔ نہ ہی ان کے کمرے میں ان کی کوئی چیز موجود ہے۔۔۔”
ملازم کی بات پر وہ سخت تاثرات لئے اسے بے یقینی سے دیکھنے لگا اچانک سے چھری اس کے ہاتھ سے پلیٹ میں گری بریڈ کو وہیں پر رکھتا ہوا وہ کرسی سے اٹھا اور ملازم کا گریبان پکڑنے لگا جس پر بچارا ملازم ڈر سے کانپنے لگا
“کیا مطلب وہ کمرے میں نہیں ہے ہاں؟؟ کمرے میں نہیں ہے تو کہاں گئی وہ؟؟”
آتش غصے سے چینخا ملازم تھر تھر کانپنے لگا
“پپ پتا نہیں جی۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ صبح سے۔۔۔ اپنے کمرے سے باہر۔۔۔ نہیں آئی تھیں۔۔۔”
وہ گردن جھکائے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا
“وہ کمرے سے باہر نہیں آئی تو تم میں سے کسی نے بھی اس کے کمرے میں جانے کی زحمت نہیں کی ہاں؟؟ اس لئے رکھا ہوا ہے تم لوگوں کو یہاں؟؟”
وہ دھاڑا تھا جس پر تمام ملازم کانپ اٹھے تھے
“اب کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو؟؟ ڈھونڈو اسے ۔۔۔ دیکھو کہاں ہے وہ۔۔۔”
وہ اس کا گریبان جھٹک کر چینخا اس کے حکم پر تمام ملازمین فارغ ہاؤس کے اندر ہی تعبیر کو تلاش کرنے لگے جبکہ وہ خود دوڑتا ہوا تعبیر کے روم میں گیا جہاں اس کا وہ سامان جو وہ ساتھ لائی تھی غائب تھا جبکہ آتش نے اسے جو شاپنگ کروائی تھی وہ وہیں ویسی کی ویسی ہی موجود تھی
“صاحب جی وہ تو کہیں ہیں ہی نہیں۔۔۔ اور۔۔۔ اور گارڈز کہہ رہے ہیں انہوں نے تعبیر کو باہر جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔”
ملازم کی بات پر اس نے سامنے بنے کبڈ پر ایک زور دار مکا رسید کیا جس پر اچانک سے اس میں سے تعبیر کا سفید رنگ کا اسکاف باہر آ گرا جسے ہاتھ میں لئے وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
“یہ کیسی حماقت ہے تعبیر آخر کہاں چلی گئی ہو تم۔۔۔”
آج پہلی بار وہ بے انتہا اداس نظر آرہا تھا وہ اس کے اسکاف کو تک رہا تھا وہ اس کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے آنکھیں بند کر گیا تھا
“اگر تمہیں لگتا ہے یوں چپ چاپ یہاں سے بھاگ کر تم خود کو مجھ سے دور کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گی تو یہ بہت بڑی بھول ہے تمہاری۔۔۔ میں اپنی آخری سانس تک تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
اس کے اسکاف سے اس کی کی مدھم سی مہک کو اپنی سانسوں میں اتار کر وہ شاید سکون محسوس کر رہا تھا مگر کچھ سوچتے ہوئے اس کے اسکاف کو ہتھیلی پر باندھ کر وہ وہاں سے اٹھا اور باہر کو نکل گیا
جاری ہے
