Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 08)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 08)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“تت تم؟؟ یہاں؟؟ وہ بھی اس وقت؟؟”
ائیزل نے دھیمی سی آواز میں کہا اور اسے گھورنے لگی
“اندر نہیں بلاؤ گی؟؟”
ضوریز یک طرفہ مسکراہٹ لئے اس وقت اسے تپا رہا تھا ائیزل نے ایک نظر دوسرے بیڈ پر لیٹی حریم پر ڈالی جو شاید اب گہری نیند سو چکی تھی
پھر دھیمے قدموں سے کھڑکی کی طرف بڑھی
“تمہیں کوئی اور کام نہیں؟؟ جو روز روز یہاں آجاتے ہو؟؟”
وہ دونوں ہاتھوں کو کمرے پر رکھے ایک اسٹائل میں کہنے لگی جبکہ ضوریز ٹھہرا ڈھیڈوں کا سردار وہ خود ہی چھلانگ لگاتا ہوا اندر کودھا
“تت تم… یہ…”
“ششش…”
ضوریز نے کھڑکی کا پردا ڈالا اور اس کے قریب آنے لگا
“دو دن انتظار کیا تمہارا، آج برداشت نہیں ہورہا تھا تو آگیا…”
ضوریز کی زومعنی باتیں اسے کچھ خاص سمجھ نہیں آئیں
“میں تو سمجھا ایگزیمس کے اسٹریس کی وجہ سے شاید گزر گئی ہوں گی، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا پڑ گیا”
ضوریز کی بات پر اس نے مٹھیاں بھینچیں
“کیا مسئلہ ہے؟؟ کیوں آئے ہو؟؟ اس دن صبح مجھے جگہ کر وقت پر یونی پہنچا کر تم نے میرا احسان اتار دیا نہ؟؟ تو اب کیا باقی رہ گیا؟؟”
ائیزل بحث میں نہیں پڑنا چاہتی تھی اس لئے کام کی بات کرنے لگی جبکہ ضوریز کی نظریں اس کے رخساروں پر تھیں جہاں وہ رونق وہ غصہ وہ گھمنڈ کچھ بھی نہ تھا
“احسان تو میں نے برابر کر ہی دیا لیکن تم یونی نہیں آرہی تھیں تو سوچا کہ…”
“تو سوچا کہ اس کے ہوسٹل چلا جاتا ہوں، اوہ بہت یاد آرہی تھی نہ تمہیں میری… بات سنو مسٹر میرا اور تمہارا کوئی رشتہ نہیں جو ہر دو دن بعد تم یہاں آجاتے ہو، اور میں یونی جاؤں نہ جاؤں ان سب سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں سمجھے تم”
ائیزل نے دھیمے مگر سخت لہجے سے کہا جبکہ ضوریز اس کے چہرے پر ایک عجیب سی اجنبیت دیکھ رہا تھا اور پھر وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی
“جانتا ہوں کہ تم سے میرا کوئی رشتہ نہیں، لیکن ایٹ لیسٹ دوست تو بن سکتے ہیں نہ ہم؟؟ یا پھر انسانیت کا رشتہ سمجھو…”
“دوست؟؟ اور بھلا وہ کس خوشی میں؟؟”
“اب دیکھو تم بھی ہوسٹل میں رہتی ہو میں بھی اکیلا رہتا ہوں تو ہم ایک دوسرے کے مشکل وقت میں کام تو آ ہی سکتے ہیں نہ؟؟”
ضوریز نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا جو اب اسے سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی
“مجھے تمہاری کوئی ہیلپ نہیں چاہیے اور مسٹر ضوریز میں بھی شاید تمہارے کوئی کام نہ آ سکوں”
“تم سے کان چاہیے بھی نہیں مجھے، لیکن تمہاری ہیلپ ضرور کروں گا”
“جیسے ہیلپ؟؟”
“پیپرز… اگر تم چاہو تو اس بار میں تمہارے سارے پیپرز کلیئر کرا سکتا ہوں، انفیکٹ پھر تمہیں اتنا پڑھنے اور یوں رات رات بھر جاگ کر نیند خراب کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی”
اسے پتا تھا ائیزل اس سے مزید کوئی ہیلپ نہیں چاہے گی لیکن وہ اس وقت واقعی اسٹریس میں تھی جو پتا نہیں کیوں ضوریز کو اس کا یوں پریشان رہنا پسند نہیں آیا تھا یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کی مدد کرنا کیوں چاہتا تھا
“تمہیں ایک بار میں سمجھ نہیں آرہی؟؟ میں نے کہا نہ مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے جاؤ پلیززز یہاں سے”
ائیزل کا لہجہ اس بار کافی تیز تھا
“ایک بار اور سوچ لو”
“مجھے نہیں سوچنا…”
“بھروسہ کر کے دیکھ لو”
“بھروسہ؟؟ ائیزل کاظمی نے کبھی کسی پر بھروسہ کرنے کی غلطی نہیں کی، اور نہ ہی کبھی کرے گی”
وہ اس کی آنکھوں میں نجانے ایک عجیب سا دکھ دیکھ رہا تھا وہ زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پایا
ابھی وہ کچھ کہتا جب حریم نے کروٹ لی ائیزل گھبراتی ہوئی اسے دیوار سے لگا کر اس کے لبوں پر انگلی رکھنے لگی کیونکہ اس بار بولنے کی باری اس کی تھی
ضوریز اپنے ہلکے سیاہ ہونٹوں پر اس کی نازک سی انگلی کا لمس محسوس کر کے اسے شدت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا جبکہ ائیزل جسے اب ہوش آیا تھا کہ وہ کیا کر چکی تھی ضوریز سے نظریں چرا کر اس نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا
ضوریز اس کے چہرے کے قریب آیا اور کان میں سرگوشی کرنے لگا
“ایک بار بھروسہ کر کے دیکھو، ضوریز دورانی جان تو دے دے گا لیکن بھروسہ کبھی نہیں توڑے گا”
اس کی گرم سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کر کے اس کا دل بے قابو ہونے لگا دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی وہ آنکھیں میچ گئی
“جب بھی ضرورت پڑے ایک کال کرنا، یہ نہ چیز حاضر ہوجائے گا”
اپنی بات کو دھیمے سے لہجے میں مکمل کر کے وہ تھوڑا اور قریب ہوا تھا ضوریز کے لبوں نے ائیزل کے کان کی لو کو چھوا تھا ائیزل کو لگا اس کا دل بند ہونے لگا ہے
ضوریز مزید کچھ کہے بنا جہاں سے آیا تھا وہیں سے واپسی چلا گیا جبکہ ائیزل اب تک ایک ہی جگہ پر فریز ہوکر رہ گئی تھی ہوش تو تب آیا جب اس کی گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی
وہ دوڑ کر کھڑکی کی طرف بڑی جہاں وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا کار کی ونڈو سے اسے دیکھ رہا تھا اس اندھیری رات میں بھی اس کی پر کشش گہری کالی آنکھیں کسی بھیڑیئے کی آنکھوں کے مانند چمک رہی تھی ائیزل نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا جبکہ ضوریز وہاں سے اب جا چکا تھا
☆★☆★☆★☆
“لائٹ کیمرہ ایکشن…”
وہ لوگ اس وقت اسلام آباد میں تھے جہاں ایک بہت ہی اچھی لوکیشن پر ان کا شوٹ جاری تھا ڈائریکٹر کے کہنے کی دیر تھی کرن جابر بھاگتے ہوئے آتش کی پشت سے آ لگی جبکہ آتش آنکھوں میں آگ لیے دوسری طرف رخ کر کے کھڑا ہوا تھا
“میں جانتی ہوں سالار ہم ایک نہیں ہو سکے، لیکن ہونے کو تو بہت کچھ ہو جاتا ہے، تم کوشش تو کرو”
کرن جابر نے گھمبیر لہجے میں کہا جس پر آتش نے اسے ایک جھٹکے سے دور کیا
“کٹ کٹ کٹ… سر آپ کو پہلے اپنی لائن کہنی تھی پھر انہیں دور کرنا تھا”
ڈائریکٹر کی بات پر آتش نے ضبط کرتے ہوئے دوبارا شوٹنگ اسٹارٹ کی
“میں جانتی ہوں سالار ہم ایک نہیں ہو سکے، لیکن ہونے کو تو بہت کچھ ہو جاتا ہے، تم کوشش تو کرو”
“کیا تم نے سنا نہیں مہراب؟؟ میں تم جیسی آوارہ لڑکی کو ہر گز اپنی عزت نہیں بناؤں گا ہٹو پیچھے”
آتش نے ایک جھٹکے سے اسے دور دھکیلا جس سے وہ زمین پر جا گری
“میں آوارہ ہوں ہاں؟؟ میں آوارہ؟؟ شاید تم نے کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکا… تم…”
کرن آگے کی لائن بھول گئی تھی تو یک دم چپ ہوئی جبکہ ڈائریکٹر نے کٹ کر کے لڑکے کے ہاتھ اس کے ڈائلاگ پیپر بھیجا جسے وہ ریڈ کرنے لگی
“اوکے ڈن؟؟ اب نیکسٹ لائن یہیں سے شروع کریں…ریڈی؟؟ اوکے لائٹ کیمرہ ایکشن”
“میں آوارہ ہوں ہاں؟؟ میں آوارہ؟؟ شاید تم نے کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکا…تم خود کتنے شریف ہو؟؟ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے وہ دن جب… جب تم اس کے بے انتہا قریب تھے… لیکن تمہارے لئے تو یہ روز روز کا کھیل بن چکا ہے، سچ تو یہ ہے کہ نا صرف تم بلکہ تمہارا پورا خاندان…”
آخری لفظوں میں وہ سنبھلتی ہوئی اٹھی اور اس کا گریبان پکڑنے لگی تب ہی آتش نے اس کے منہ پر تماچہ مارا جس سے اس کے آدھے الفاظ اس کے منہ میں رہ گئے
“حد میں رہو مہراب… مت بھولو تمہارے باپ پر میرے کتنے احسانات ہیں”
آتش نے اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوئے پورے رعب سے کہا جس پر کرن نے اپنا گال سہلایا
“اگر آج تم زندہ کھڑی ہو تو صرف اس وجہ سے کہ تمہارے باپ نے تمہاری ذمہ داری مجھے سونپی تھی، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں تم سے شادی کر کے تمہیں اپنے گھر کی عزت بناؤں گا…”
آتش نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے کہا جبکہ آنکھیں بے انتہا لال تھیں
“آج کے بعد اگر میرا پیچھا کیا یا راستہ روکا یا میرے اور میری منگیتر کے بیچ انے کی کوشش کی تو یاد رکھنا، میں بلکل لحاظ نہیں کروں گا”
وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا ٹشن سے مڑتا ہوا وہاں سے دور چلا گیا جبکہ وہ اس کی پشت کو تک رہی تھی
“گڈ شوٹ…بریک ٹائم”
ڈائریکٹر کے کہنے کی دیر تھی سب لوگ بریک ٹائم پر بیزی ہوگئے جبکہ کرن جابر کا میک اپ آرٹسٹ اس کا حلیہ ٹھیک کرنے میں مصروف تھا
جبکہ آتش درانی سگریٹ سلگاتے ہوئے کرسی پر جا بیٹھا جبکہ اس کا میک اپ ٹھیک کرنے کے لئے لڑکی اس کے پیچھے کھڑی تھی
☆★☆★☆★☆
وہ اس وقت لیکچر میں مصروف تھا لیکچر شروع ہوئے تقریباً دس منٹ ہی ہوئے تھے جب اس کی نظر باہر کی طرف پڑی جہاں حریم اپنے کاندھوں پر بیگ ٹانگے کھڑی موبائل میں مصروف تھی
شاویز سوچوں میں پڑ گیا آخر حریم صبح سے کہاں تھی جو اب لاسٹ لیکچر میں نظر آئی ہے شاویز کا سارا دھیان باہر تھا جب پروفیسر نے اسے پکارا مگر اب تک وہ باہر دیکھ رہا تھا
“مسٹر شاویز علی؟؟”
“جج جی سر؟؟”
“میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے؟؟”
“کک کیا سر…”
شاویز یک دم ہوش میں آیا اور کھڑا ہوا جب پروفیسر نے اسے اپنی طرف بلایا
“یہ لیں مارکر اور سولف کریں اس کوسچن کو”
شاویز نے فٹ سے بورڈ مارکر تھاما اور سوال سولف کرنے لگا جبکہ حریم جو باہر کھڑی موبائل میں مصروف تھی شاویز کا نام سنتے ہی کلاس کے اندر دیکھنے لگی تھی
تقریبا دو منٹ کے اندر اندر شاویز نے وہ سوال سولف کیا جس پر پروفیسر کے اشارے پر تمام اسٹوڈینٹس نے تالیاں بجائیں شاویز کی نظر باہر گئی جہاں حریم کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی اب ان کا لیکچر ختم ہو چکا تھا
شاویز کی نظروں کو بھانپتے ہوئے حریم نے اپنے قدم بڑھائے اور وہاں سے چلی گئی جبکہ شاویز جلدی سے اپنی بکس بیگ میں رکھتا ہوا بیگ ہینگ کر کے گلاس سے باہر چلا گیا
وہ اس کے پیچھے پیچھے تھا جبکہ وہ بنا پیچھے دیکھے سیڑھیاں اترتے ہوئے کینٹین کی طرف بڑھ رہی تھی
“حریم جی…”
شاویز نے اپنی دلکش آواز میں بڑے دھیمے لہجے میں اس کا نام لیا مگر وہ اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر آگے بڑھتی گئی
“حریم جی سنیئے…”
شاویز کو لگا اس نے شاید نہ سنا ہو اس لئے اس نے پھر سے نام پکارا مگر حریم کینٹین میں جا چکی تھی
“حریم لسن…”
اس بار اسے واقعی لگا کہ حریم نے سنی ان سنی کی ہے جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی شاویز کو غصہ آنے لگا مگر وہ انتہائی نرم مزاج انسان تھا ہاں وہ ہنسی مذاق تو بہت کرتا تھا لیکن صرف اپنے گھر تک، باہر وہ بلکل خاموش سادہ طبیعت، اور بے مقصد بات کرنے سے گریز کرتا تھا
“حریم لسن ٹو می…”
خود کو حریم سے یوں نظر انداز ہوتا دیکھ کر نجانے کیوں اسے شدید غصہ آنے لگا اس بار اس نے تیزی سے قدم آگے بڑھائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
مگر ایک پل کے لیے اس کا دل دھڑکتا تھا اس کے چہرے کے سخت تاثرات کہیں غائب ہوگئے تھے جب اس کی نظر حریم کے چہرے پر پڑی تھی اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے جو اس کے رخسار پر بہہ رہے تھے شاویز جو لگا جیسے اس کے دل میں ہل چل مچ رہی ہے
☆★☆★☆★☆
آج وہ حریم کے ساتھ یونی آئی تھی دو دن بعد اس کا پہلا پیپر تھا مگر حریم کا میسج ریسیو ہوتے ہی وہ خود واپس جانے کے لئے یونیورسٹی سے باہر آگئی تھی حریم نے اسے کہا تھا کہ وہ خود اکیلے آجائے گی
ابھی اس نے گاڑی اسٹارٹ کر کے کچھ ہی منٹوں کا فاصلہ طے کیا تھا جب اس کی نظر اس راستے پر گئی جہاں پہلی بار اس کا ضوریز سے سامنا ہوا تھا اس کے چہرے پر نرم تاثرات نمایاں تھے
وہ نجانے کیا سوچتے ہوئے اس ہی راستے پر اس ہی جگہ پر آ رکی جہاں ضوریز گاڑی روک کر آرام کیا کرتا تھا ائیزل نے گاڑی کو سائڈ میں پارک کیا اور خود گاڑی میں ہی آنکھیں بند کئے بیٹھ گئی
“ایک بار بھروسہ کر کے دیکھو، ضوریز دورانی جان تو دے دے گا لیکن بھروسہ کبھی نہیں توڑے گا”
ضوریز کے یہ الفاظ اس کے سماعتوں سے ٹکرائے تھے اسے لگا جیسے وہ اس کے ہی آس پاس ہو جیسے، اس نے آنکھیں کھول کر اس پاس دیکھا تو کوئی نہ تھا ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے اس نے پھر سے آنکھیں بند کرلیں
“کچھ تو تھا اس راستے جو ضوریز یہاں آرام کرنے رکتا تھا”
اس نے دل ہی دل میں سوچا کیونکہ واقعی اس سنسان راستے پر جہاں روڈ پر سناٹا چھایا رہتا تھا اور آس پاس کے جنگل میں تاریخی چھائی رہتی تھی یہاں واقعی بہت سکون تھا
“لسن میڈم…”
اسے پھر سے ضوریز کی آواز سنائی دی لیکن آس پاس پھر کوئی نہیں تھا
“اففف یہ سب کیا ہورہا ہے…کیا واقعی مجھے اس کی یاد آرہی ہے؟؟”
وہ سر کھجاتے ہوئے خود کلامی کرنے لگی مگر پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے آنکھیں بند کرکے سیٹ کی پشت سے لگ گئی
☆★☆★☆★☆
“جج جی؟؟ مگر میں؟؟ کیسے…”
“تعبیر علی آپ انکار نہ کریں یہ آپکے لئے گولڈن چانس ہے اب ایکٹریز خود تو ہمارے پاس آنے سے رہیں نہ، ہمیں ہی شوٹ والی لوکیشن پر جانا ہوگا”
تعبیر کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی جب اسے پتا چلا گیا کہ اسے اس کام کے لیے دوسرے شہر جانا پڑے گا
“میں ایسا نہیں کر سکی، میں گھر سے کہیں دور نہیں جا سکتی میم”
تعبیر نے نظریں جھکاتے ہوئے ہنی کو جواب دیا جبکہ ہنی اس کی بات پر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئی
“تعبیر اگر آپ چاہیں تو اپنی کسی فرینڈ کو یا کسی کزن یا جسے چاہیں ساتھ لے لیں… پھر ایک دو دن کی ہی تو بات ہے ہماری طرف سے آپ کو ہوٹیل روم دیاجائے گا اور جو کچھ آپ چاہیں وہ سب ملے گا”
تعبیر ابھی سوچوں میں تھی رائمہ وہاں آئی
“آپ نے بلکل ٹھیک کہا میں تعبیر کے گھر والوں سے بات کرلوں گی اور میں ہی تعبیر کے ساتھ جاؤں گی آپ پریشان مت ہوئیں جانا کب ہے بس جی بتادیں”
تعبیر اس کی بات پر اسے گھورنے لگا جس پر اس نے اسے اشارے سے ریلیکس کہا
“گڈ اوکے پھر میں آج شام آپ لوگوں کو انفارم کردوں گی”
“اوکے تھنکس”
ہنی کے جاتے ہی رائمہ خوشی سے تعبیر کے گلے لگی جبکہ تعبیر اس سے سخت ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی
“آج کتنی پیاری لگ رہی ہو تم سینوریٹا”
رائمہ نے اسے سرتا پیر دیکھا تعبیر نے اب اپنا اسٹائل تھوڑا مختلف کرلیا تھا
کھلے بال ہلکا سا میکپ گلے میں چھوٹا سا اسکاف ٹائیٹس کے ساتھ گھٹنوں تک آتی شرٹ وہ واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن اس وقت وہ اس سے ناراض تھی
“یار کیا ہوگیا میں ہوں نہ سب ٹھیک ہو جائے گا چل کام کر آج جلدی گھر چلنا تیرے بابا سے میں بات کرلوں گی”
رائمہ کی بات کا کوئی بھی جواب دیئے بنا وہ نیو کسٹمر کے آتے ہی انہیں ڈیزائن دکھانے میں مصروف ہوگئی
☆★☆★☆★☆
“حریم… آپ رو رہی ہو؟؟”
شاویز نے نرمی سے پوچھا جس پر حریم نے کوئی جواب نہ دیا بس نظریں جھکالیں
“حریم آئی ایم سو سوری… میں مانتا ہوں مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن…”
“لیکن کیا ہاں؟؟ لیکن تم ایک یتیم خانے سے آئی ہوئی لڑکی سے آخر کیوں دوسری کرو گے رائٹ نہ؟؟”
وہ ابھی مزید اسے کچھ کہتا جب وہ بول پڑی ساتھ ہی اس کا ہاتھ جو شاویز نے اسے روکنے کے لیے پکڑا تھا اس نے جھٹک دیا
“حریم یہ آپ کیا…”
“پلیززز شاویز… مجھے بہانے نہیں پسند مجھے پتا ہے، ان سب کی طرح تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتے ہو ایسی ہی سوچ رکھتے ہو”
ہاتھ کی انگلی سے بڑی بے دردی سے اس نے اپنے رخسار پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا جبکہ شاویز بلکل شاکڈ تھا کہ آخر وہ کیا کہی جارہی تھی
“لیکن اب اور نہیں، میں تم سے اب کوئی بات بھی نہیں کروں گی تمہارا راستہ بھی نہیں روکوں گی اور نہ ہی اب تم سے زبردستی دوستی کروں گی اس لئے بہتر ہوگا تم بھی آج کہمے بعد میری طرف دیکھنا بھی مت چاہے کچھ بھی ہو جائے”
وہ اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلی گئی تھی مگر شاویز وہیں کھڑا صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا آخر وہ اسے کیا کہہ کر گئی تھی شاویز تو اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا پھر آخر اسے ایسا کیوں لگا تھا کہ شاویز اس سے دور بھاگ رہا تھا
“یتیم خانہ ؟؟ آخر حریم نے یہ سب کیا کہا ہے؟؟”
وہ سوچوں میں گم وہیں پر کھڑا ہوا تھا جب اسے ہوش آیا کہ چھٹی تو کب کی ہوچکی تھی وہ وہاں سے چلا گیا تھا لیکن اس نے سوچ لیا تھا اب وہ حریم کے بارے میں جان کر رہے گا کہ آخر وہ کون ہے
☆★☆★☆★☆
وہ اب تک آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھی تھی جب اسے کسی کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہوئیں ایک جھٹکے سے اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو کار کے ونڈو کے پاس جھک کر کھڑا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
“تت تم؟؟”
وہ اچانک سے حیران ہوئی اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا آخر وہ وہاں کب آگیا تھا
“ہائے میڈم…لگتا ہے میرے بنا دل نہیں لگ رہا تمہارا”
ہر بار کی طرح آج بھی وہ اپنے مخصوص حلیے میں تھا جبکہ ائیزل ایک پل کے لیے اسے دیکھتی رہ گئی
“نن نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے سمجھے، اور میں تو یہاں سے گزر رہی تھی تو سوچا…”
“تو سوچا کہ کیوں نا اس نا چیز سے مل لیا جائے جس کی یاد پل پل تڑپاتی ہے”
ضوریز نے اپنی گہری کالی آنکھوں کو مزید گہرا کرتے ہوئے ایک اسٹائل سے یہ الفاظ کہے تب نا چاہتے ہوئے بھی ائیزل کی نظریں جھکا گئیں تھیں جیسے اس کی چوری پکڑی گئی
تب ہی ضوریز کا قہقہہ ہووا میں گونجا
“مذاق کر رہا ہوں پگلی ڈونٹ ٹیک اون یور کڈنیز، کیونکہ دل تو تمہارے پاس ہے نہیں”
وہ ہنستے ہوئے چلتا ہوا اس کی مخالف سیٹ پر آبیٹھا جبکہ وہ اب تک اسے ہی دیکھ رہی تھی
“اور بتاؤ میڈم، کیسی چل رہی ہے پڑھائی…”
“بلکل ٹھیک…”
ائیزل نے سنجیدگی سے کہا جبکہ ضوریز کو وہ پہلے والی ائیزل کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی
“اچھا… بلکل ٹھیک؟؟ ہممم… تو بتاؤ اگر پندرہ کو بارہ سے ضرب دیا جائے اور اس میں چوبیس کو ملا کر پھر انہیں سو سے ضرب دیا جائے اور اگر آنسر زیرو آئے تو کیا وہ صحیح ہوگا؟؟”
“کیا؟؟”
اس کے کئے ہوئے میتھ کے سوال پر وہ اس کی شکل دیکھتی رہ گئی جبکہ وہ مطمئن بیٹھا اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا
“کیا مطلب کیا کہا؟؟”
وہ پھر سے نا سمجھی سے پوچھنے لگی
“میں کہہ رہا ہوں اگر پندرہ کو بارہ سے ضرب دیا جائے اور اس میں چوبیس کو ملا کر پھر سو سے ضرب دیا جائے اور پھر اگر اس کا جواب زیرو آئے تو کیا یہ ٹھیک ہوگا؟؟”
“یہ کیسا سوال ہے؟؟”
ائیزل کو لگا اس کا دماغ گھومنے لگا ہے
“یہ تمہاری میتھ میٹکس کی بک کا صفحہ نمبر تین سو تیرا کی آخری ایکسرسائز کا پہلا سوال ہے…”
ضوریز نے بڑے آرام سے اسے سمجھاتے ہوئے جیب سے سپاری نکالی اور انصاف کرنے لگا جبکہ ائیزل اس کی بات پر حیران رہ گئی آخر وہ اس کی بک کے بارے میں کیسے جانتا تھا؟؟ اور اسے یہ سب کیسے پتا تھا کیونکہ واقعی ائیزل میتھ کی تیاری کر رہی تھی اور کچھ سوالات کی وہ پریکٹس بھی کر چکی تھی
“ایک بات بتاؤ؟؟”
“ہمم؟؟”
وہ سپاری کھانے میں مصروف تھا
“تم انسان ہو یا روبوٹ؟؟”
ائیزل کے سوال پر ضوریز کا ہاتھ رکا اور وہ اسے دیکھنے لگا
“نہیں مطلب تمہیں سب کچھ کیسے یاد رہتا ہے؟؟ تمہارے دماغ کی جگہ کمپیوٹر فٹ ہوا ہوا ہے؟؟”
ائیزل جانچتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ اب یک طرفہ مسکراہٹ لئے سپاری سے انصاف کر رہا تھا
“پہلی بات یہ کہ میں انسان ہوں یا نہیں یہ تو مجھے آج تک خود سمجھ نہیں آیا آئے گا تو ضرور بتاؤں گا، دوسری بات یہ کہ میں دماغ سے نہیں جگر سے سوچتا ہوں کیونکہ میں نے اپنے دماغ کا نک نیم جگر رکھا ہوا ہے”
ضوریز بڑے پرسکون انداز سے یہ سب بیان کر رہا تھا جبکہ ائیزل بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ آخر اس وقت وہ کس قسم کے انسان کے ساتھ تھی
“تیسری بات یہ کہ ابھی ابھی تمہاری یونیورسٹی کے پروفیسر سے مل کر آرہا ہوں ویسے تو میں وہاں اپنے دوست کے کام سے گیا تھا لیکن واپسی پر ایک پروفیسر سے ٹکرا گیا جس سے اس کا موبائل زمین پر گر گیا اور جب میں اٹھانے لگا تو میں نے دیکھا کہ اس کی موبائل اسکرین پر تم لوگوں کے میتھ پیپر کا پیٹرن لگا ہوا تھا جہاں بہت سے سوالوں میں سے یہ ایک سوال لکھا ہوا تھا اور جب میں نے یہ سوال اپنے دوست کو بتایا تو اس نے بک سے ڈھونڈ کر نکالا تو بک کا صفحہ نمبر تین سو تیرا تھا”
ضوریز نے جیب سے دوسری سپاری نکالی اور اس کی طرف بڑھانے لگا جبکہ ائیزل تو منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی آخر وہ کیا چیز تھا
“واٹ ہیپن ڈار؟؟”
“نن نہیں کچھ نہیں”
وہ جلدی سے ہوش میں آئی تھی
جاری ہے…
