Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Last Episode)Part 2

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“کیا کر رہی ہو۔۔۔”

اسے کچن میں مصروف دیکھ کر وہ نرمی سے مخاطب ہوا اپنے پیچھے سے آنے والی آواز پہچان کر وہ زیرِ لب مسکرائی تھی

“تمہارے لئے سوپ بنا رہی ہوں۔۔۔ بہت چوٹیں آئی تھیں نہ تمہیں۔۔۔”

حریم نے نرم لہجے میں کہا اس کی ساری ناراضگی ختم ہو چکی تھی اب وہ شاویز کے ساتھ ہنسی خوشی رہنا چاہتی تھی جبکہ شاویز بھی اس کے ایسے رویئے کو دیکھ کر پچھلی باتیں بھلا چکا تھا

وہ لوگ اس وقت ضوریز کے پرسنل ہاؤس پر تھے کیونکہ ضوریز نے جو گھر حریم کے نام کیا تھا حریم شادی کے بعد شاویز کے ساتھ اس ہی گھر میں رہنا چاہتی تھی جبکہ وجاہت صاحب کا کہنا تھا ان کے پرسنل ہاؤس کے دروازے ان کے تینوں بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے

“ہممم تو حریم جی نے بیویوں والے کام ابھی سے شروع کردئیے۔۔۔”

شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ بھی مسکرائی

“اب ظاہر ہے بیوی بننے جارہی ہوں تو یہ سب تو کرنا پڑے گا نہ۔۔۔”

حریم نے کہتے کے ساتھ ہی پلٹ کر سامنے رکھے ٹیبل پر سے کانچ کا باؤل اٹھانا چاہا اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو تھام کر شاویز اس کا رخ اپنی جانب کر چکا تھا

“اپنے ڈیڈ سے کہو نہ۔۔۔ دو ہفتے کافی ہوتے ہیں۔۔۔ انہیں سمجھاؤ کے اگلے جمعے نکاح رکھ لیں۔۔۔”

شاویز نے حریم کے چہرے پر آئی لٹوں کو ہٹاتے ہوئے کہا حریم کا دل دھڑکا تھا

“شاویز کیا ہوگیا دو ہفتوں کی ہی تو بات ہے ویسے بھی ارتضیٰ بھائی بھی تو آنے والے ہیں نہ وہ پاپا کے بزنس پارٹنر ہیں ہم ان کے آنے کا تو ویٹ کر سکتے ہیں نہ۔۔۔”

حریم نے گھبراتے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر شاویز اس کے لئے تیار نہ تھا

“افففف اب جب ضوریز بھائی ائیزل کے شوہر ہیں یہ بات سب جان چکے ہیں تو ارتضیٰ یہاں آکر کیا کرے گا؟؟ بے مقصد نہیں ہوا اس کا یہاں آنا؟؟”

شاویز نے بیزاری سے کہا جس پر حریم نے اسے گھوری سے نوازا

“ویسے۔۔۔ میں سوچ رہا تھا جب تک آپ کے ڈیڈ ہماری شادی نہ کروا دیں تب تک کیوں نہ ہم یونیورسٹی سے ہو کر آئیں۔۔۔ قسم سے بہت یاد آرہی ہے اس کی۔۔۔”

شاویز نے حریم کے گرد باہیں ڈالتے ہوئے کہا جس پر حریم اسے گھورنے لگی

“کس کی یاد آرہی ہے؟؟”

حریم نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا

“یونی کی میری جان۔۔۔ یونی کی۔۔۔”

شاویز نے زبان دانتوں تلے دبا کر بامشکل مسکراہٹ پر قابو پایا جس پر حریم نے مزید اسے گھورا

“تم۔۔۔۔ ایک بار شادی ہوجانے دو پھر دیکھا!!!”

حریم نے سلیپ سے چھری اٹھا کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے شاید اسے ڈرانا چاہا جس پر شاویز کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“کیوں شادی سے پہلے دیکھنا گناہ ہے؟؟”

وہ کہتے ہوئے جیسے ہی اسے قریب کرنے لگا اچانک سے ملازمہ کی آواز سنائی دی

“حریم بی بی جی۔۔۔ کدھر ہیں آپ۔۔۔”

شاویز نے ایک جھٹکے سے حریم کو چھوڑا حریم جلدی سے اپنی پوزیشن پر واپس آئی جبکہ شاویز ٹیبل پر رکھے باؤل میں سے سیب اٹھا کر کھانے لگا

“حریم بی بی جی غذب ہوگیا۔۔۔”

ملازمہ نے واویلا مچاتے ہوئے کہا جس پر حریم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی بات تو شاویز بھی سمجھنے سے قاصر تھا

“کیا مطلب؟؟ کیا ہوا ہے؟؟”

حریم نے نا سمجھی سے پوچھا

“بی بی جی وہ ائیزل بی بی۔۔۔”

ائیزل کا نام سن کر حریم کے ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے شاویز بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا

“کیا ہوا ائیزل کو؟؟”

حریم اس کے قریب آکر پوچھنے لگی

“بی بی جی وہ ائیزل بی بی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی کاظم صاحب گھر پر نہ تھے مگر ارتضیٰ صاحب نے وقت پر آکر ائیزل بی بی کو ہوسپٹل پہنچا دیا۔۔۔”

ملازمہ نے پھولتے سانس کے ساتھ یہ الفاظ کہے تھے

وجاہت صاحب نے اس جمعے اپنی دونوں بہوؤں کو رخصت کرا کر اپنے پرسنل ہاؤس لانے کا فیصلہ کیا تھا تبھی تعبیر حریم کے ساتھ ضوریز والے گھر پر جبکہ آتش ضوریز اور شاویز وجاہت صاحب کے گھر پر رہ رہے تھے جبکہ ائیزل اپنے بابا کے گھر پر تھی

“کیا مطلب؟؟ ارتضیٰ بھائی یوں اچانک؟؟”

وہ کشمکش کی کیفیت میں کبھی ملازمہ تو کبھی شاویز کو دیکھ رہی تھی

“ہمیں فوری طور پر ہوسپٹل پہنچنا ہوگا شاویز تم ضوریز بھائی کو کال کرو”

ائیزل کی طبیعت کا سن کر حریم جلد بازی میں کہتی ہوئی کچن سے باہر بھاگی تھی

☆★☆★☆★☆

“ڈیڈ بتائیں نہ مجھے کیا ہوا تھا؟؟”

ائیزل اچانک سے سیڑھیوں سے گر گئی تھی جس کی وجہ سے اس کی پیشانی پر زخم آیا تھا گرنے کے ساتھ ہی وہ بے ہوش ہوگئی تھی ارتضیٰ نے وقت پر اسے ہوسپٹل پہنچایا تھا اور اب جب وہ ہوش میں آئی تھی تو سب کو حیران کر گئی تھی

“ائیزل۔۔۔ کیا تمہیں نہیں یاد تم سیڑھیوں سے گر گئی تھیں؟؟”

کاظم صاحب کی خاموشی پر ارتضیٰ کہنے لگا جس پر ائیزل نے نا سمجھی سے اسے دیکھا

“میں کب گری؟؟ اور تم پاکستان کب آئے؟؟”

ائیزل نے کشمکش کی کیفیت میں سوال کیا تو سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تبھی وہاں ضوریز پہنچا

“ائیز۔۔۔ کیسی ہو تم؟؟ کیا ہوگیا تھا تمہیں دیکھ کر نہیں چل سکتی تھیں؟؟”

ضوریز فکر مندی سے کہتا ہوا جیسے ہی اس کے قریب آنے لگا ائیزل نے جلدی سے ارتضیٰ کا ہاتھ پکڑ لیا

“ڈیڈ یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟؟ اسے یہاں کس نے بلایا ؟؟ ارتضیٰ تم اسے ابھی اسی وقت یہاں سے واپس جانے کا کہو بیوی ہوں تمہاری اور تم نے میرے ایکس کو اندر کیسے آنے دیا؟؟ ایک بھی بار شرم نہیں آئی تمہیں؟؟”

ضوریز کا سارا غصہ وہ ارتضیٰ پر اتار چکی تھی جبکہ ضوریز ہونق بنا کبھی کاظم صاحب کبھی ائیزل تو کبھی باقی سب لوگوں کو دیکھ رہا تھا

“ارتضیٰ سنائی نہیں دے رہا تمہیں؟؟ نکالو اسے باہر ابھی!!!”

ائیزل کے غصے سے چینخنے پر ارتضیٰ شاکڈ کی کیفیت سے نکل کر ضوریز کے پاس آیا

“ضوریز چلو شاباش باہر جاؤ!!!”

ارتضیٰ نے مصنوعی غصے سے کہا

“ایک منٹ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟؟ کوئی مجھے کچھ بتائے گا؟؟”

ضوریز نے ارتضیٰ کو ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا

“بیٹا باہر جاؤ سب پتا چل جائے گا”

کاظم صاحب نے ذومعنی انداز میں کہتے ہوئے ارتضیٰ کو اشارہ کیا جس پر ارتضیٰ ضوریز کا بازوں پکڑے باہر کی جانب لے جانے لگا

“ڈونٹ ٹچ!!!”

ضوریز نے اس کا ہاتھ جھٹک کر کھا جانے والی نظروں سے ائیزل کو گھورا اور چلتا ہوا باہر کی چلا گیا جبکہ ساتھ ہی ارتضیٰ بھی اس کے پیچھے چلا گیا

“ڈیڈ یہ سب لوگ یہاں کیوں آئے تھے؟؟”

ائیزل کے پوچھنے پر کاظم صاحب نے نظریں چرائیں

“بیٹا تم دو مہینوں بعد آج ہوش میں آئی ہو ورنہ کومہ میں تھیں اور یہ بات سب جان چکے تھے اس ہی وجہ سے وہ لوگ تم سے ملنے آئے تھے۔۔۔ تمہارا حال پوچھنے آئے تھے!!”

کاظم صاحب کی بات پر ائیزل نے سنجیدگی سے انہیں دیکھا

“اب کیا حال پوچھنا؟؟ جب اس حال میں پہنچایا ہی انہوں نے تھا۔۔۔”

ائیزل کا طنزیہ جملہ دروازے کے باہر کھڑی حریم سن چکی تھی مگر کیا کیا جا سکتا تھا۔۔۔

☆★☆★☆★☆

“دماغ خراب ہے تمہارا ضوریز؟؟ تم نے اس کی حالت نہیں دیکھی؟؟ ارے وہ تو تمہاری شکل دیکھنا تک برداشت نہیں کر رہی تم سے شادی کرے گی؟؟”

ضوریز کے کہنے پر وجاہت صاحب نے جیسے اسے ہوش میں لایا تھا

“تو کیا کروں ڈیڈ؟؟ ایک ہفتہ ہوگیا اس کی یاداشت آئے ہوئے۔۔۔ مگر مجال ہے جو اس نے اب تک ایک بھی بار مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی ہو تو۔۔۔ وہ واپس پہلی والی آئیزل بن چکی ہے ڈیڈ۔۔۔ اور آپ جانتے ہیں آپ کی چہیتی بہو نے اپنے والد صاحب سے کہا ہے کہ جلد سے جلد اس کا اور ارتضیٰ کا نکاح کروا دیا جائے۔۔۔ کام دیکھ رہے ہیں آپ اس کے؟؟”

ضوریز نے تلملاتے ہوئے کہا جبکہ آتش سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اپنے مجنوں بھائی کی بے صبری دیکھ رہا تھا

“ہاں تو کیا کر سکتے ہیں اچانک سے تو اسے سب کچھ نہیں بتا سکتے نہ؟؟ اور ویسے بھی یہ مت بھولو کے وہ سچ سننے کے بعد تم سے زیادہ نفرت کرے گی۔۔۔”

وجاہت صاحب نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ پیشانی رگڑتے ہوئے ادھر سے اُدھر کے چکر لگا رہا تھا

“کم آن ڈیڈ۔۔۔ آپ اس کی چھوڑیں میرا تو کچھ سوچ لیں۔۔۔ میں ادھر ایک ہفتے سے آپ کے فیصلے کا منتظر ہوں۔۔۔ کیا تعبیر اب ساری زندگی حریم کے ساتھ ضوریز کے مینشن پر ہی رہے گی؟؟ ڈیڈ مجھے اسے یہاں لانا ہے۔۔۔ اپنی بیوی بنا کر۔۔۔ اپنے پاس۔۔۔ سمجھ رہے ہیں نہ آپ؟؟”

وہ جو کب سے خاموش بیٹھا دونوں باپ بیٹے کی گفتگو سن رہا تھا اب میدان میں قدم رکھ کر اپنے مطلب کی بات کرنے لگا جس پر ضوریز نے ترچھی نظروں سے اسے گھورا

“اوہ بڑے بھیا۔۔۔ کیا مطلب اس کی چھوڑیں ہاں؟؟ کیا میرا دل نہیں کرتا اپنی بیوی کو یہاں لانے کا؟؟ اور ویسے بھی آپ کی والی تو بہت معصوم ہے مان بھی گئی وہ آپ سے ناراض بھی نہیں ہے لیکن میری والی؟؟ اففف توبہ ابھی تو شادی کے بعد کا عذاب بھی جھیلنا ہے آپ کے اس بھائی کو”

ضوریز اپنے مخصوص انداز میں آتش سے مخاطب ہوا جس پر آتش کے لب مسکرائے

“تو کس نے کہا تھا اپنی والی کو اس قدر تنگ کرو کے وہ تمہاری جان کی دشمن ہی بن جائے؟؟ بھلہ اتنا پیار دے کر تم نے اسے کچھ زیادہ ہی خود پر حاوی کرلیا”

آتش نے ضوریز کو کہتے ہوئے آنکھیں گھمائیں

“یار آپ دونوں میرے سگے ہیں بھی یا نہیں؟؟ جس طرح آپ لوگ پر سکون نظر آرہے ہیں مجھے نہیں لگتا اس جنم میں میری شادی خیریت سے ہوجائے گی۔۔۔ میں خود جارہا ہوں ائیزل سے بات کرنے!!!”

ضوریز بے صبروں کی طرح کہتا ہوا جیسے ہی آگے بڑھنے لگا آتش نے اٹھ کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے ایسا کرنے سے روکا

“پاگل ہو تو؟؟ ڈیڈ دیکھ رہے ہیں آپ اس کو؟؟ اس کے سامنے جانا تو دور کی بات ایسا سوچنا بھی مت!!! تیرے خون کی پیاسی بنی گھوم رہی ہے وہ۔۔۔ ایسا نہ ہو اسے حقیقت بتانے جائے اور اپنی ہی یاداشت کھو بیٹھے۔۔۔”

آتش نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جبکہ آخری والے جملے پر جہاں آتش کے لب مسکرائے وہیں وجاہت صاحب بھی ہنسنے لگے جس پر ضوریز نے باری باری دونوں کو گھورا

“ہاں!!! ہنس لیں!!! اڑا لیں مذاق!!! آپ لوگوں کونسا قدر ہے میرے جزباتوں کی۔۔۔ ایک وہ بیوی ہے جو اتنے ہینڈسم بندے کو چھوڑ کر اس چھلکے کے منہ والے ارتضیٰ سے شادی کے لیے مری جارہی ہے۔۔۔ ایک میرا یہ بھائی ہے جسے صرف اپنی فکر ہے اپنی عشق و عاشقی کی پڑی ہے اور ایک میرے یہ والد صاحب جو سالوں سے میری خوشیوں کے دشمن ہیں”

ضوریز نے جس بیچارگی سے اپنا جملہ مکمل کیا تھا آتش اور وجاہت صاحب کی دبی دبی ہنسی ہال میں گونج رہی تھی جس پر ضوریز کا منہ مزید اتر گیا

“ہنس لیں زور زور سے ہنس لیں!!! میں جارہا ہوں نہیں کرنی مجھے شادی!!! اب ایک ہی راستہ ہے میرے پاس!!! سی سائڈ!!!”

ضوریز طیش میں کہتا ہوا ہال سے نکلتا چلا گیا

“اسے سو سائڈ کہتے ہیں میرے بھائی!!!”

آتش نے پیچھے سے اس کا جملہ درست کیا جس پر وہ پلٹا

“پاگل سمجھا ہوا ہے؟؟ بھلہ میں کیوں سوسائڈ کرنے لگا ؟؟ مریں میرے دشمن میں واقعی سی سائڈ پر جارہا ہوں وہاں کے بھٹے کھا کر دماغ دو سو کی اسپیڈ میں دوڑنے لگتا ہے۔۔۔”

ضوریز ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتا ہوا باہر کو جا چکا تھا جبکہ وجاہت صاحب اور آتش کافی دیر تک اس کی عجیب و غریب باتوں پر ہنستے رہے۔

“ڈیڈ اگر آپ کہیں تو میں تعبیر سے کہتا ہوں۔۔۔ وہ بات کرے ائیزل سے۔۔۔ یہ واقعی سیریس میٹر ہے۔۔۔”

آتش کے کہنے پر وجاہت صاحب نے ایک گہری سانس لی

“پریشان نہ ہوئیں ڈیڈ آپ شادی کی ڈیٹ فکس کردیں باقی ہم سنبھال لیں گے۔۔۔”

آتش نے وجاہت صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دی جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

☆★☆★☆★☆

“حریم۔۔۔؟؟ تعبیر۔۔۔ کوئی ہے؟؟”

آتش جیسے ہی ضوریز کے مینشن پر آیا پورے مینشن کو خاموشی میں ڈوبا دیکھ کر آواز لگانے لگا جس پر تعبیر سیڑھیاں اترتی ہوئی اس کے پاس آئی

“آتش۔۔۔ آپ کب آئے؟؟”

تعبیر کی نظریں آتش پر جبکہ آتش کی نظریں ہمیشہ کی طرح اس کی نازک سی گردن پر جھولتے ہوئے اس کے نام کے لاکٹ پر تھی بس یہاں آکر وہ بے بس سا ہوجاتا تھا جیسے بہک رہا ہو جیسے وہ ابھی ہی اس نشے میں ڈوب رہا ہو یا ڈوبنا چاہتا ہو

“آتش؟؟”

اسے کھوا ہوا پا کر تعبیر نے پھر سے اسے مخاطب کیا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا

“ہاں؟؟ ہاں۔۔۔ وہ میں۔۔۔ مجھے تم سے اور حریم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ ائیزل کے بارے میں۔۔۔”

آتش نے بامشکل اپنے جذباتوں پر قابو پا کر بات کا آغاز کیا وہ دونوں ڈرائنگ روم میں ڈبل صوفے پر آ بیٹھے ایک سائڈ آتش تھا اس سے کچھ فاصلے پر تعبیر

“تعبیر ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے مگر اب تک ضوریز اور ائیزل کا مسئلہ حل نہیں ہورہا میں چاہتا ہوں تم ائیزل سے بات کرو اور حریم کو بھی کہو شاید وہ تم لوگوں کی بات مان لے۔۔۔ دیکھو اب مزید میں انتظار نہیں کر سکتا ان لوگوں کی وجہ سے ہماری بھی شادی آگے بڑھ رہی ہے۔۔۔”

آتش نے آخر کار اپنے مطلب کی بات کر ہی دی جس پر تعبیر نظریں جھکائے بلش کرنے لگی آتش اسے دیوانوں کی طرح دیکھ رہا تھا

“میں۔۔۔ میں بات کرتی ہوں اس سے آپ پریشان نہ ہوئیں تھوڑا مشکل ہے مگر یہ حقیقت ہے اور اسے ماننی پڑے گی۔۔۔ آخر کار ضوریز شوہر ہے اس کا۔۔۔ اسے خیال کرنا پڑے گا۔۔۔”

تعبیر نے سنجیدگی سے کہا جس پر آتش اچانک سے اس کے قریب آیا

“اور میں بھی تو شوہر ہوں تمہارا تم کب خیال کروگی میرا؟؟ سینوریٹا۔۔۔”

آتش نے تعبیر کا ہاتھ تھام کر جس شدت سے کہا تھا وہ کچھ پل کے لیے تو جھینپ سی گئی تھی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں

“آا آتش دور ہٹیں کوئی آ جائے گا۔۔۔”

تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ بامشکل یہ کہا جس پر آتش کی گرفت اس کے نازک سے ہاتھ پر مظبوط ہوئی

“آ جانے دو۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے؟؟ بیوی ہو تم میری۔۔۔ شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ حق رکھتا ہوں تم پر۔۔۔”

آتش نے یہ الفاظ اس کے بے انتہا قریب آکر کہے تھے تعبیر اپنے چہرے پر اس کی گرم جھلستی سانسیں محسوس کر کے آنکھیں مینچ گئی تھی

اسے یوں آنکھیں بند کرتی دیکھ کر آتش نے ایک جھٹکے سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر تعبیر کے اپنے سینے پر گرایا جس سے وہ اچانک سے اس کے سینے سے جا لگی وہ شکواہ کن نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ آتش کے لبوں پر مسکراہٹ تھی

“ایسے مت دیکھو۔۔۔ نقصان تمہارا ہی ہوگا۔۔۔ جب میں تم پر پوری طرح سے حاوی ہوجاؤں گا۔۔۔”

آتش نے کہنے کے ساتھ ہی اس کی کمر پر گرفت مضبوط کی تعبیر نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنانا چاہا مگر ایسا نہ کر سکی

“آاتش۔۔۔ پلیززز۔۔۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔ ابھی ہماری شادی نہیں ہوئی ہے یہ سب ٹھیک نہیں ہے پلیززز۔۔۔”

اس کی قربتوں سے گھبراتے ہوئے وہ ایک بار پھر آنکھیں بند کر گئی تھی جبکہ آتش اس کی صاف شفاف رنگت کا بغور جائزہ لے رہا تھا

“شادی نہ صحیح۔۔۔ نکاح تو ہو چکا ہے نہ۔۔۔ حق تو ہے نہ میرا تم پر۔۔۔”

آتش نے دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اپنی گرم سانسیں چھوڑیں تھیں اس کے سینے سے لگی وہ نازک سی لڑکی اس کی کلون کی خوشبو محسوس کر کے مکمل کھو چکی تھی

“آتش۔۔۔ پلیززز”

آتش نے جیسے ہی اس کی تھوڑی کو اونچا کر کے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کے قریب کرنا چاہا تعبیر نے جلدی سے اس کے سینے میں خود کو چھپا لیا نہ چاہتے ہوئے بھی آتش کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی

تعبیر کا نازک سا کانپتا ہوا وجود اس باہوں کی مظبوط گرفت میں قید تھا وہ اس کی کپکپاہٹ محسوس کر سکتا تھا وہ اس کے دل کی دھڑکنیں سن رہا تھا کچھ دیر تک وہ یوں ہی اس کے سینے میں سر چھپائے پناہگاہ روں کی طرح قید رہی پھر اس نے خود کو بڑی آہستگی سے آتش سے دور کیا جس کے لئے آتش بلکل بھی تیار نہ تھا تو ایبرو اچکائے اسے دیکھنے لگا

“آپ جائیں یہاں سے ورنہ کسی نے دیکھ لیا تو سب غلط سمجھیں گے۔۔۔ اور میں حریم کو بتا دوں گی ائیزل کے بارے میں”

تعبیر نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا اور اٹھ کر جانے لگی

“صرف دو دن کا وقت ہے تمہارے پاس جتنا بھاگ سکتی ہو بھاگ لو۔۔۔ دو دن کے بعد تم چاہ کر بھی میری قید سے رہ نہیں ہو پاؤ گی۔۔۔!!!”

آتش دو قدم قریب آکر کان میں سرگوشی کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ تعبیر یوں ہی کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی

☆★☆★☆★☆

سنہرے رنگ کی شیروانی میں ملبوس وہ کب سے اسٹیج پر بیٹھا اپنی سینوریٹا کا انتظار کر رہا تھا وہ آج اس دنیا کا سب سے حسین خوبرو نوجوان لگ رہا تھا چہرہ پر رونق صاف واضح ہورہی تھی پر کشش نیلی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی جب کے ہونٹوں پر مخصوص مسکراہٹ نے قبضہ جمایا ہوا تھا

“ارے وہ دیکھو بھابھی آگئیں۔۔۔”

کرسیوں کے پیچھے کھڑے باضل نے ضوریز کو کہنی مارتے ہوئے کہا جبکہ آتش کی نظریں اسٹیج سے نیچے سامنے سے آتی اپنی خوبصورت سی سینوریٹا پر ٹھہر سی گئیں

تعبیر سرخ رنگ کے دلہن کے لباس میں واقع آج کسی محل کی شہزادی سے کم نہ لگ رہی تھی اس کے ایک طرف حریم جبکہ دوسری طرف رائمہ تھی حریم کو دیکھتے ہی شاویز کی نظریں اس پر ٹھہر سی گئی تھیں جبکہ رائمہ کو دیکھ کر باضل نے ایک آنکھ ونک کی جس پر رائمہ نے بامشکل اپنی ہنسی دبائی

تعبیر آتش کے برابر میں بٹھا دیا گیا تھا تعبیر نے ایک نظر اپنے برابر بیٹھے شہزادے کو دیکھا جو اس ہی کو دیکھ رہا تھا تعبیر کو لگا اس کا دل باہر آ جائے گا اس نے ایسا تو نہ سوچا تھا آتش نے تو اسے نکاح کا کچھ اور ہی طرح کا انتظام کروانے کا بتایا تھا پھر یہ سب کیا تھا

سب لوگ وہاں موجود تھے ضوریز بار بار سر کھجاتا ہوا ادھر اُدھر نظریں دوڑا رہا تھا کہ شاید وہ جنگلی بلی اسے کہیں نظر آ جائے مگر وہ کہیں بھی نہ تھی

“لگتا ہے آئی نہیں۔۔۔”

باضل نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔

“لگ تو یہی رہا ہے۔۔۔”

باضل نے پورے ہال میں نظریں دوڑاتے ہوئے کہا جب سامنے سے آتے کپل پر اس کی سانسیں رک گئیں

ائیزل ارتضیٰ کے بازوؤں کو تھامے دلہنوں والے لباس میں چلتی ہوئی اندر کو آرہی تھی سب لوگوں سے مل کر وہ ایک خالی ٹیبل پر جا رکی جبکہ ارتضیٰ بھی اس ہی کے ساتھ تھا یہ دیکھنے کی دیر تھی جب ضوریز کے دل میں آگ لگ گئی

“ابے اس کی تو۔۔۔ رک میں ابھی آیا۔۔۔”

ضوریز کا خون کھول رہا تھا مگر باضل نے اس بازوؤں سے پکڑ کر روکا

“اوئے ابھی نہیں ابھی آتش بھیا کا نکاح ہونے دے ورنہ یہ بندا تجھے جان سے مار دے گا پہلے ہی تیری لوو اسٹوری کی وجہ سے اتنی لیٹ ہوگئی ان کی شادی۔۔۔”

باضل کے کہنے پر ضوریز نے اسے گھورا

“تو میری سائڈ پر ہے یا بڑے بھیا کی؟؟ سالے پارٹی بدل لی”

ضوریز نے ایبرو اچکاتے غصے سے کہا جس پر باضل سر پیٹا

“ابے ہوں تو میں تیری ہی سائڈ مگر سمجھا کر بعد میں دیکھ لیں گے ارتضیٰ کو۔۔۔”

باضل کے سمجھانے پر ضوریز نے سامنے بیٹھی ائیزل کو گھورا جو اسے مکمل نظر انداز کر کے ارتضیٰ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی

“ارے ارے ایک منٹ۔۔۔ یہ نکاح ایسے نہیں ہو سکتا”

مولوی صاحب جیسے ہی نکاح نامہ لئے آتش کے برابر آ بیٹھے تو حریم نے عجلت سے کہا جس پر وجاہت صاحب اور کاظم صاحب سمیت سب اسے دیکھنے لگے

“آئی مین بھابھی کی خواہش کا بھی تو احترام کرنا ہوگا نہ۔۔۔ چلیں شاباش بھائی آپ ذرا دور ہوکر بیٹھیں شاباش۔۔۔”

حریم کے کہنے پر آتش ہونق بنا اسے دیکھ رہا تھا

“کیا مطلب میں کیوں دور ہوؤں؟؟”

آتش نے اسی کے انداز میں کہا تو سب کی دبی دبی ہنسی سنائی دینے لگی

“دیکھیں آپ دونوں کے درمیان پھولوں کے سہرے والا پردا لگایا جائے گا۔۔۔ اور یہ بھابھی کی خواہش تھی اور میرا حکم بھی تو جلدی سے سائڈ میں ہوئیں شاباش۔۔۔”

حریم کی بات پر آتش نے بیچارگی سے تعبیر کو دیکھا کر نظریں جھکائے ہنسی پر قابو پانے کی کوشش میں تھی

حریم کے اشارے پر باضل اور شاویز نے پیچھے لگے ہوئے پھولوں کے پردے کو ان دونوں کے درمیان کا کھڑا کیا اب منظر کچھ یوں تھا کہ پھولوں کی دیوار کے ایک طرف آتش تھا جبکہ دوسری طرف تعبیر

“آتش درانی ولد وجاہت صاحب آپ کا نکاح تعبیر علی ولد افتخار علی کے ساتھ حق مہر دو کروڑ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟”

مولوی صاحب کے پوچھنے پر آتش نے ایک نظر پھولوں کی چادر کے اس پار دیکھا جو نظریں جھکائے مسکرا رہی تھی

“قبول ہے۔۔۔”

مولوی صاحب کے تینوں بار پوچھنے پر آتش نے جس عجلت سے قبول کیا تھا ضوریز سمیت سب لوگ ہنسی دبائے آتش کا بے صبرا پن دیکھ رہے تھے آتش کے پیپرز پر سائن کرنے کے بعد یہی سب تعبیر سے بھی پوچھا گیا جس پر تعبیر نے خوشی خوشی قبول کیا اب سب دعا کے لئے ہاتھ اٹھا رہے تھے

آتش نے کھڑے ہوکر پھولوں کو ہٹاتے ہوئے درمیان کا فاصلہ مٹایا اور تعبیر کے سامنے جا کھڑا ہوا اسے بازوؤں سے پکڑ کر اس کا گھونگھٹ اٹھایا اس خوبصورت منظر پر سب لوگ ہوٹنگ کرنے لگے تھے

“ماشاءاللہ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح خوبصورت۔۔۔”

آتش کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے جس پر تعبیر نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا آتش نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے جس پر تعبیر کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں

بیچ کی دیوار ہٹادی گئی تھی تعبیر کو اب آتش کے برابر بٹھایا گیا تھا اس خوبصورت جوڑے کو ڈھیر ساری دعائیں دینے کے بعد جب سب لوگ آپس میں باتوں میں مصروف ہوئےتب ائیزل اسٹیج پر آئی

“اٹینشن ایوری ون!!!”

ائیزل کی آواز پر ضوریز کے کان کھڑے ہوئے

“تو جیسا کہ آپ لوگ سب جانتے ہیں کہ میرا بچپن میں ہی ارتضیٰ کے ساتھ نکاح ہو چکا تھا تو میں وجاہت انکل سے اجازت لینا چاہوں گی کہ میرا نکاح پھر سے کیا جائے وہ بھی اس ہی ہال میں اس ہی وقت”

ائیزل کی بات پر سب ہونق بنے اس کی طرف دیکھنے لگے جبکہ باضل کو ضوریز کے غصے سے اب صحیح والا ڈر لگ رہا تھا ائیزل کے گھورنے پر ارتضیٰ چلتا ہوا اسٹیج پر آیا کاظم صاحب سر پکڑے آئیزل کی حرکتیں دیکھ رہے تھے

“مولوی صاحب یقیناً آپ کے پاس ایک ایکسٹرا نکاح نامہ تو موجود ہوگا ہی۔۔۔ چلیں شاباش جلدی سے ہمارا نکاح کروا دیں۔۔۔”

ائیزل کے کہنے پر بچارے مولوی صاحب باری باری سب کو دیکھنے لگے جبکہ ارتضیٰ کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگی تھیں

“جسٹ شٹ اپ ائیزل۔۔۔ یہ کیا بکواس ہے؟؟ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے تم نے؟؟ یہ نکاح نہیں ہو سکتا!!!”

ضوریز کی اب برداشت سے باہر ہو چکا تھا تو وہ بھڑک اٹھا جس پر ائیزل اسے گھورنے لگی

“کیا مطلب کیوں نہیں ہو سکتا یہ نکاح تم ہوتے کون ہو حکم چلانے والے؟؟”

ائیزل نے اپنی آواز اس سے بھی کئی زیادہ اونچی کی

“ہوتا کون ہوں؟؟ اچھا بتاؤں تمہیں کون ہوتا ہوں میں تم پر حکم چلانے والا؟؟” ضوریز نے طیش میں کہتے ہوئے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اسٹیج سے نیچے اتارا جس پر وہ اسے گھورنے لگی

“شوہر ہوں میں تمہارا!!! تمہارا مجھ سے نکاح ہوا تھا نہ کہ اس ارتضیٰ سے سمجھی!!! کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتیں تم سمجھیں!!!”

ضوریز نے ائیزل کے بازؤں کو جکڑتے ہوئے کہا جس پر سب خاموشی سے ان دونوں کو دیکھنے لگے ضوریز کا یوں اچانک اسے اتنا بڑا سچ بتانا ائیزل کو حیران کر سکتا تھا مگر یہ کیا آئیزل کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا

“پہلے بھی بہت کچھ الٹا سیدھا کر چکی ہو مگر میں خاموش رہا لیکن اب بس!!! میں مزید ہمارے درمیان کسی کی شراکت برداشت نہیں کروں گا!!! تم میری ہو صرف میری!!! تمہیں کسی اور سے نکاح نہیں کرنے دوں گا میں سمجھیں تم!!!”

ضوریز نے باقاعدہ غرراتے ہوئے ایک زور دار جھٹکے سے اس کے بازوؤں کو جکڑا جس پر ائیزل نے غصے سے اس کی گرفت سے اپنے بازوؤں کو آزاد کروایا

“ہاں تو تم کرلو نہ مجھ سے نکاح۔۔۔ کیوں نہیں کر رہے؟؟ کرو نہ پھر کرتے کیوں نہیں؟؟”

اصل شاکڈ تو سب کو تب لگا جب ائیزل نے دو تین بار اس کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے دور دھکیل کر اپنے الفاظ کہے

“صدیوں سے بس یہی سنتی آ رہی ہوں۔۔۔ میری ہو میری ہو میری ہو ارے بھئی جب تمہاری ہی ہوں تو اتنہ ڈرامے بازیاں کیوں کر رہے ہو؟؟ سیدھا سیدھا نکاح کرو نہ۔۔۔ بزدل انسان!!!”

ائیزل نے دونوں ہاتھوں سے اس کے گریبان کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا جبکہ ضوریز کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا یہ سارا تماشا دیکھ کر سب لوگ ایک دوسرے کو نا سمجھی سے دیکھنے لگے جبکہ حریم نے پہلے تعبیر کو پھر ارتضیٰ کو آنکھ ماری

“ائیزل یہ سب؟؟ میرا مطلب تم؟؟ کیا تم راضی ہو؟؟ مگر تم کچھ کہو گی نہیں اتنا بڑا سچ جان کر؟؟”

ضوریز نے ایک نظر کاظم صاحب کو دیکھ کر ائیزل کو متعجب سے کہا جس پر ائیزل دونوں ہاتھ لپیٹے اسے گھورنے لگی

“تمہیں کیا لگا میں کومہ سے باہر آنے کے بعد میموری لاسٹ کر بیٹھی تھی سب کے بتانے پر تمہیں اپنے ہسبینڈ مان بیٹھی تھی؟؟”

ائیزل نے جارحانہ انداز میں کہا جس پر ضوریز سر پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا

“اوہ ہیلو بات سنو مسٹر دو نمبر آدمی تمہیں کیا لگا یہ دو نمبری صرف تمہیں ہی آتی ہے؟؟ میں نہیں کر سکتی؟؟ تو سن لو مسٹر ضوریز درانی میں ائیزل ضوریز درانی ہوں تم سے بھی چار قدم آگے۔۔۔ ہلکا لیا ہوا ہے کیا مجھے؟؟”

ائیزل نے اپنے خوبصورت سے شرارے کی قمیض کی دونوں آستینوں کو اوپر کی جانب چھڑاتے ہوئے جس بھرم سے کہا تھا ضوریز کے علاؤہ سب لوگ اس کی بات پر جہاں شاکڈ تھے وہیں خوشی سے ہنس بھی رہے تھے

نہ ہی اس کی یاداشت گئی تھی اور نہ ہی وہ ارتضیٰ سے شادی کرنے والی تھی بلکہ شروع سے ہی ارتضیٰ اور حریم اس کے پلان میں شامل تھے جبکہ اب تعبیر بھی یہ جان چکی تھی تبھی وہ اس کی طرف سے پرسکون تھی

“ائیزل۔۔۔ تم۔۔۔ تم نے میرے ساتھ دو نمبری؟؟ میرا اسٹائل کاپی کیا؟؟ تم نے میرا پروفیشن کاپی کیا؟؟ تم میرے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کر سکتیں۔۔۔!!!”

ضوریز نے جس تیزی سے اپنا جملہ کہتے ہوئے قدم آگے بڑھائے تھے اتنی ہی تیزی تیزی سے ائیزل نے ٹیبل پر سے ایک کانٹا (فوک) اٹھا کر اس کی جانب قدم بڑھائے تھے جس پر ضوریز کے بڑھتے قدم رکے تھے

“ابھی رکو تم میں تمہیں بتاتی ہوں کہ میں اور کیا کیا کر سکتی ہوں!!!”

ائیزل ایک ہاتھ سے اپنا شرارہ سنبھالتی ہوئی دوسرے ہاتھ میں کانٹا لئے اس پر حملہ آور ہوئی

“ہیئی یہ کیا کر رہی ہو؟؟ ہبی ہوں تمہارا۔۔۔ ائیزززز رکو۔۔۔۔ اسے کوئی تو روکو اسے دیکھو کیسے جنگلی بلیوں کی طرح حملہ کر رہی ہے مجھ پر۔۔۔”

وہ الٹے پاؤں بھاگ کر اسٹیج کی جانب آیا

“کیا کہا جنگلی بلی؟؟ تم رکو چرسی موالی دو نمبر آدمی رکو تم!!!”

ائیزل آنکھیں نکالے پاگلوں کی طرح اس کی خون کی پیاسی ہوکر اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی

“ڈیڈ۔۔۔ بڑے بھیا۔۔۔ سسر جی۔۔۔ کوئی تو بچاؤ۔۔۔”

ضوریز چیںختا چلاتا ہوا خود کا بچاؤ کرنے کے لیے کبھی وجاہت صاحب کے پیچھے تو کبھی آتش کے پیچھے تو کبھی کاظم صاحب کے پیچھے چھپ رہا تھا اور یہ منظر دیکھ کر سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہو چکا تھا

☆★☆★☆★☆

“ضوریز درانی ولد وجاہت درانی آپ کا نکاح ائیزل کاظم ولد کاظم صاحب سے دو کروڑ۔۔۔”

“پانچ کروڑ!!!”

ابھی مولوی صاحب اپنی لائن مکمل کر ہی رہے تھے جب ائیزل نے ان کا جملہ درست کیا ائیزل کے ہاتھ میں تیز دھار کانٹا دیکھ کر مولوی صاحب گلا تر کرتے ہوئے دوبارا سے نکاح پڑھوانے لگے

“ضوریز درانی ولد وجاہت درانی آپ کا نکاح ائیزل کاظم ولد کاظم صاحب سے پانچ کروڑ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟۔۔۔”

ضوریز جو آج کے دن میں عجیب و غریب حلیے میں موجود تھا باضل کی شیروانی کا اپر اتار کر خود پہنے بیٹھا مولوی صاحب کی بیچارگی والی صورت کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلانے لگا

“منہ سے بولو۔۔۔”

ائیزل نے کانٹا دیکھاتے ہوئے اسے ڈرایا جس پر وہ ائیزل کو شکواہ کن نگاہوں سے دیکھنے لگا

“قبول ہے۔۔۔”

ضوریز کے کہنے پر باضل نے اسے کہنی ماری

“ابھی بھی وقت ہے۔۔۔ سوچ لے!!!”

باضل نے ضوریز کو خبردار کیا جس پر ائیزل نے اسے گھورا تو باضل خیر مناتا ہوا ادھر اُدھر دیکھنے لگا

تین بار قبول کرنے پر اب یہی لائن مولوی صاحب نے ائیزل کے لیے بھی دہرائی جس پر اس نے جلدی جلدی قبول کرلیا اب ان دونوں جوڑوں کا نکاح ہو چکا تھا جنہیں رخصت کرا کر وجاہت صاحب بڑی دھوم دھام سے اپنے پرسنل ہاؤس لے آئے تھے

وہ کب سے کمرے میں بیٹھی ضوریز کا انتظار کر رہی تھی جب وہ اپنے مخصوص حلیے میں چلتا ہوا اندر کی جانب آیا ائیزل نے جلدی سے اپنا گھونگھٹ ڈال لیا جس پر ضوریز نے ایک نظر پہلے اس ڈرامے باز والی معصوم لڑکی کو دیکھا پھر ایک نظر برابر رکھے کانٹے کو اور چلتا ہوا اس کے سامنے آ بیٹھا

“کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔”

جیسے ہی ضوریز نے گھونگھٹ اٹھایا ائیزل نے قاتلانہ مسکراہٹ لئے اس سے پوچھا

“استغفار استغفار!!!”

بے ساختہ ضوریز کی زبان سے یہ الفاظ پھسلے بس پھر کیا ہونا تھا گھونگھٹ والا دوپٹہ نوچ کر کاؤچ پر اچھالتی ہوئی وہ کانٹا لئے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اس کا نشانہ بنانے لگی اور وہ بچارا ایک بار پھر اپنی جانگ بچا کر پورے کمرے میں بھاگتا پھر رہا تھا

“ارے۔۔۔ سوری نہ ائیزل ڈارلنگ!!! قسم سے مذاق کر رہا تھا تم تو ملکہ ہو ملکہ!!!”

ضوریز کے میٹھے بول پر ائیزل کے قدم رکے تو وہ شرمانے لگی جب ضوریز اس کے قریب آکر اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا

“چڑیلوں کی ملکہ۔۔۔”

ضوریز کے کہنے کی دیر تھی ائیزل نے ہاتھ میں موجود کانٹے کا استعمال کر کے اس پیٹ پر چبایا جس پر اسے اتنا سا بھی فرق نہ پڑا بلکہ کانٹا چھین کر دور پھینک کر وہ اسے اپنی باہوں میں بھر کر زبردستی بیڈ کی جانب لے آیا

“اب کیا ساری رات یوں ہی اپنے ہبی پر ظلم کرنے کا ارادہ ہے ہاں؟؟ پیار کرنا نہیں آتا تمہیں؟؟”

ائیزل کے چلتے ہاتھوں کو قابو کر کے وہ اس کے اوپر آ لیٹا جس پر ائیزل نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا

“ہاں نہیں آتا پیار ویار مجھے سمجھے تم۔۔۔ اور میں تم سے بدلہ لے کر رہوں گی۔۔۔”

ائیزل نے جس انداز میں اس کے کان کے قریب چینخ کر اپنے الفاظ ادا کئے تھے ضوریز کو لگا اگر مزید اسے بولنے کا موقع دیا تو یقیناً وہ اس کے کان کے پردے پھاڑ دے گی اس لئے جلدی سے اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ کر اس کی بولتی بند کردی

کافی دیر کی جسارت کے بعد جب ائیزل کے لبوں کر آزاد کیا تو وہ شکواہ کن نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“اچھا نہ ڈارلنگ لے لینا بدلہ۔۔۔ مگر آج نہیں کل۔۔۔ آج اپنے اس دو نمبر آدمی کو تھوڑا سا دو نمبری والا رومینس تو کرنے دو قسم سے صدیوں سے تڑپ رہا ہے یہ تمہاری قرب کے لئے۔۔۔۔”

ضوریز نے اسے منانے والے انداز میں کہا جس پر ائیزل نے نظریں جھکائیں جیسے وہ اب تک ناراض تھی

“ائیززز۔۔۔ ڈارلنگ پلیززز ایسے نظریں نہ چراؤ۔۔۔ ٹرسٹ می بہت تڑپا ہوں تمہارے لیے۔۔۔”

ضوریز نے اسے اپنے سینے سے لگائے بڑی حسرت سے کہا جس پر ائیزل نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا

“کیوں کیا تم نے یہ سب ضوریز۔۔۔ کاش جب ہم ملے تھے تم تب ہی ساری حقیقت بتا دیتے۔۔۔ تو شاید آج یہ سب نہ ہوتا۔۔۔”

ائیزل کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں ضوریز نے اس کے آنسؤوں کو صاف کرتے ہوئے اسکا چہرہ اپنی جانب کیا

“ائیزل اگر اس وقت میں تمہیں سب سچ بتا دیتا تو شاید تم مجھ میں اتنا سا بھی انٹرسٹ نہ لیتیں۔۔۔ اور اگر میں تم سے تمہارے ڈیڈ کے تھرو تمہارا شوہر بن کر تم سے ملتا تب شاید ممکن تھا تم مجھ سے بے انتہا نفرت کرتیں۔۔۔ میں یہاں صرف تمہاری بری عادتیں چھڑانے آیا تھا کیونکہ مجھے تمہیں تمہارے ڈیڈ اور باقی سب کے سامنے ایک اچھی لڑکی بنا کر لانا تھا نہ کہ وہ دم دم پر سگریٹ پھونکنے والی لڑکی۔۔۔”

ضوریز کے بتانے پر وہ حیران کن انداز میں اسے دیکھنے لگی جبکہ ضوریز کی گیری کالی آنکھوں کے پیالوں میں پانی صاف واضح دکھائی دے رہا تھا

“یہ سب تمہارے لئے کیا میں نے ائیززز۔۔۔ تاکہ تم مجھ سے تھوڑی اٹیچ ہو جاؤ اور نکاح والی بات کھلنے پر دور نہ جاؤ مجھ سے۔۔۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے بھی تم سے بے انتہا محبت ہوگئی اور میں یوں ہی بار بار ملتا رہا آتا رہا تمہارے پاس۔۔۔ لیکن میرا کوئی غلط مطلب نہ تھا میں صرف تمہیں اپنا فیوچر بنانا چاہتا تھا نہ کہ پاسٹ۔۔۔ اور دیکھو آج تم میرے ساتھ ہو۔۔۔ میری آفیشلی بیوی کی حیثیت سے۔۔۔”

ضوریز کی بات پر ائیزل نے اس کے سینے سے سر ٹکایا وہ شاید اب مزید اس سے دور رہنا نہیں چاہتی تھی آخر کتنا کچھ کیا تھا ضوریز نے اس کے لئے اور وہ اسے کتنا غلط سمجھ بیٹھی تھی

“آئی لوو یو سو مچ دو نمبر آدمی۔۔۔!!!”

ائیزل کی بات پر اس کے لب مسکرائے

“آئی لوو یو ٹو ڈارلنگ!!!”

ضوریز نے وقت ضائع کئے بنا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ کر لمحے کو وہیں تھام لیا تھا۔۔۔۔

☆★☆★☆★☆

وہ جب کمرے میں آیا تو تعبیر کو جائے نماز بچھاتا دیکھ کر خود بھی وضو کرنے چلا گیا جیسے ہی وہ وضو کر کے آیا تعبیر جائے نماز پر کھڑی شاید اس کا انتظار کر رہی تھی آتش نے دوسری جائے نماز اس کے ساتھ ہی بچھا کر شکرانے کے نوافل کی نیت باندھی

دونوں نے شکرانے کے نوافل ادا کئے اور ساتھ جائے نماز پر بیٹھ کر اپنے گناہوں کی معافی، اپنے رشتے کی پاکیزگی اور اچھے مستقبل کے لیے دعائیں مانگی

تعبیر جیسے ہی جائے نماز رکھ کر سر پر سیٹ ہوا ڈوپٹہ اتارنے لگی آتش اس کے قریب آ کھڑا ہوا مطلب صاف تھا وہ اسے اس روپ میں مزید دیکھنا چاہتا تھا دونوں کا عکس آئینے میں ایک ساتھ دکھائی دے رہا تھا

“شکر گزار ہوں اس رب کا جو اس نے مجھے تم جیسی نیک دل پاک دامن بیوی عطا کی ۔۔۔”

آتش نے تعبیر کا رخ اپنی جانب کیا جس پر وہ زیرِ لب مسکرائی

“شکر گزار ہوں میں اس رب کی جو اس نے مجھے آپ جیسا چاہنے والا شوہر عطا کیا۔۔۔”

تعبیر نے چاہت سے چور لہجے میں کہا آتش کی آنکھوں میں چمک پیدا ہونے لگی تھی

“تم جانتی نہیں ہو تعبیر تم نے میری زندگی میں آکر مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔۔۔اگر تم نہ ہوتیں تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔۔۔ وہی گناہگاروں والی زندگی گزار رہا ہوتا۔۔۔ تم نے مجھے اپنے عشق میں گرفتار کر کے مجھے میرے رب کے قریب کردیا۔۔۔ میں تمہارا یہ احسان ساری زندگی نہیں اتار پاؤں گا۔۔۔”

اس کی پرکشش نیلی آنکھوں سے اشک ٹوٹ کر چہرے پر بہنے لگا تعبیر نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسؤوں کو صاف کیا اور بڑے آرام سے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا

“آتش۔۔۔ احسان مند میرے نہیں شکر گزار اس رب کے بنیں۔۔۔ جس نے ہمارے دلوں کو ملا کر نیک راستہ دکھایا۔۔۔ اور آپ جانتے ہیں انسان کے گناہ سمندر کی گہرائی سے بھی زیادہ گہرے کیوں نہ ہوں سچے دل سے توبہ اور استغفار سے وہ رب ہمارے تمام گناہوں کو معاف کر کے ہم بھٹکے ہوئے انسانوں کو نیکی کے راستے پر گامزن کر دیتا ہے۔۔۔”

تعبیر نے دھیمے مٹھاس بھرے لہجے میں کہا آتش نے تعبیر کے ہاتھوں کو تھام کر اس پر پہلی مہر ثبت کی آج پہلی بار آتش نے اسے اس طرح سے چھوا تھا تعبیر نے نظریں جھکائیں تھیں

“تعبیر میں اپنی تمام تر زندگی اس رب کے ذکر اور شکر میں گزار دوں گا۔۔۔ بس مجھ سے کبھی دور نہ جانا وعدہ کرو کہ زندگی کے ہر موڑ پر میرے ساتھ میرے پاس رہو گی۔۔۔”

آتش کی بات پر وہ بہم سا مسکرائی تھی

“میں وعدہ کرتی ہوں آتش۔۔۔ میں کبھی آپ سے دور نہیں جاؤں گی زندگی چاہے کیسی بھی ہو ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔۔۔ پھر چاہے لمحہ خوشی کا ہو یا وقت کٹھن۔۔۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی۔۔۔ کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑوں گی۔۔۔بس آپ ہمیشہ میرے ہی بن کر رہیے گا”

تعبیر نے جھک کر اسکے ہاتھوں پر پیشانی رکھی تھی آتش نے چاہت سے چور نظروں سے اپنی چاند سی بیوی کو دیکھا تھا جو پہلے کی بانسبت اب کئی زیادہ اس کا احترام کر رہی تھی

“میں آتش درانی تم سے وعدہ کرتا ہوں تعبیر آتش درانی۔۔۔ میں اپنی آخری سانس تک تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔ جب تک یہ دل دھڑک رہا ہے تب تک تم مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ کھڑا پاؤ گی۔۔۔ ہز دکھ سکھ ہر خوشی غم میں بہار سے لے کر خزاں کے موسم تک دھوپ سے کے کر برسات تک ہمیشہ ہر قدم تمہارے رو برو رہوں گا۔۔۔ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہوگا۔۔۔”

آتش نے شدت سے کہتے ہوئے اس کی بے داغ پیشانی پر اپنے دہکتے لبوں سے مہر ثبت کی ایک سکون کی لہر تعبیر کی روح میں اتر کر اسے ہر ڈر خوف سے بے خبر کر گئی۔۔۔

“صرف زندگی میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ مرنے کے بعد بھی میں صرف تمہارا رہوں گا۔۔۔ اور دیکھنا ہمارا رب قیامت کے دن ہمیں اکھٹا کرے گا۔۔۔ اور تمام حساب کتاب کے بعد ہم پھر سے ایک ہوجائیں گے۔۔۔ انشاللہ”

آتش نے کہتے کے ساتھ ہی تعبیر کے چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کیا

“انشاللہ آمین”

تعبیر کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی آتش کی پرکشش نیلی آنکھوں میں وہ اپنے لئے ڈھیر سارا پیار اور انتہائی شدت دیکھ سکتی تھی

آتش نے آگے بڑھ کر اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لے آیا تعبیر کی نظریں اب اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں کیونکہ آتش کی گہری نظریں تعبیر کے چہرے کے ایک ایک نقش کا بغور جائزہ لے کر اس کی صراحی دار گردن پر آ ٹھہری تھیں

“ویسے تو تمہارے قریب رہ کر تمہیں محسوس کرنے سے لے کر ہر حد پار کرنے تک سب کچھ میرے حقوق میں شامل ہیں لیکن پھر بھی محبوب کی مرضی کے بنا کوئی بھی گستاخی کرنے کو دل نہیں مان رہا تو لحاظہ مرضی جاننا چاہتا ہوں تو۔۔۔”

وہ جمار بھرے لہجے میں کہتا ہوا اپنی بات ادھوری چھوڑ کر تعبیر کے دیوار اتار کر سائڈ کارنر پر رکھنے لگا تعبیر کو لگا اس کا دل جیسے بند ہوجائے گا وہ آنکھیں مینچے بیٹھی آتش کی قربت محسوس کر رہی تھی

“تو کیا مجھے اجازت ہے؟؟ تمہیں چھونے کی، تمہاری خوشبو محسوس کرتے ہوئے انہیں اپنی سانسوں میں اتارنے کی، تمہیں اپنا بنانے کی، اپنی باہوں میں قید کرنے کی۔۔۔”

آتش زیرِ لب کہتا ہوا تعبیر کے بے انتہا قریب ہوا اتنا کے تعبیر آتش کی شیروانی میں لگی کلون کی خوشبو تک محسوس کر رہی تھی

“کیا مجھے اجازت ہے تمہارے نازک سے جسم پر اپنے ہونٹوں سے مہر ثبت کر کے شدت بھرا لمس چھوڑنے کی۔۔۔ کیا مجھے اجازت ہے تمہارے ان لرزتے ہونٹوں سے صدیوں کی پیاس بجھانے کی۔۔۔ کیا مجھے اجازت ہے تمہاری اس نازک سی خوبصورت صراحی دار گردن پر اپنے لبوں سے نشان چھوڑ جانے کی۔۔۔”

آتش کہتے کے ساتھ ہی تعبیر کی گردن پر جھکنے لگا جس پر تعبیر کو اپنا دل زوروں سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا تعبیر نے کس کر اس کی شیروانی کو مٹھیوں سے دبوچا دھڑکنیں دونوں کی عروج پر تھیں مگر آتش اپنے لب رکھتے رکھتے رکا وہ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“اجازت ہے؟؟”

آتش ستائشی نظروں سے دیکھتا ہوا اسے شرمانے پر مجبور کر گیا تھا تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکائیں

“جج جی۔۔۔”

وہ بامشکل اتنا ہی کہہ سکی جس پر آتش بہم سا مسکرایا

“آج کی رات میں پوری طرح سے تم میں ڈوب کر تمہارے عشق کے نشے میں چور ہونا چاہتا ہوں اگر میری جسارت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو مجھے روکنے کی کوشش نہ کرنا۔۔۔ آج کی رات میں اپنے جذباتوں پر قابو پانے کے ارادے بالکل بھی نہیں رکھتا”

آتش جیسے اس میں کہیں بہک سا گیا تھا آتش کے دہکتے لب تعبیر کے رخساروں کو چھو رہے تھے تعبیر کا لگا اس کا دل سینے سے باہر آجائے گا تعبیر نے جلدی سے آنکھیں میچ لیں تھیں مگر مخالف وجود تو اس میں کہیں کھو سا گیا تھا

اپنے جذباتوں کا احترام کرتے ہوئے آتش نے اپنے لبوں سے تعبیر کی گردن کو چھوا تھا اور پھر وقت وہیں تھم سا گیا تھا وہ پوری شدت سے اس کا صبر آزما رہا تھا جو خاموشی سے اس کے ساتھ لگی اس کی جسارتوں کو برداشت کر رہی تھی

آتش نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کیں تو تعبیر نے بھی اس کے جذباتوں کی قدر کرتے ہوئے اپنا آپ اسے سونپ دیا آتش کسی صدیوں کے پیاسے ی طرح اپنی پیاس بجھا رہا تھا جبکہ تعبیر اس کی گرم جھلستی سانسوں کو اپنے جسم کے پور پور پر محسوس کر کے بکھرے سی گئی تھی

اب ان کا رشتہ آگے بڑھ چکا تھا اب وہ دونوں دو جسم ایک جان تھے لمحہ بہ لمحہ آتش اسے اپنے جنون بھرے لمس کی بارش میں بھگو رہا تھا اور وہ کسی بکھری ریت کی مانند اس میں جذب ہوتی چلی جارہی تھی جیسے جیسے رات اپنے عروج پر پہنچ اس کمرے میں گونجتی مدھم سی سانسیں مزید تیز ہوتی چلی گئیں تھیں

☆★☆★☆★☆

“اچھا تو آپ کا کہنا ہے آتش درانی جیسے اتنے بڑے اسٹار نے آپ سے جھوٹی محبت کے دعوے کیے اور آپ کو استعمال کر کے چھوڑ دیا؟؟ کیا آپ مزید اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی۔۔۔؟؟”

حاشر خانزادہ اس وقت ہوسپٹل کے پرائیویٹ روم میں موجود بیڈ پر لیٹا سامنے لگے ایل ای ڈی میں کرن جابر کا لائیو انٹرویو دیکھ رہا تھا چہرے پر عجیب قسم کا حسد چھایا ہوا تھا

“جی بس میں یہی کہنا چاہوں گی کہ آپ سب میرا ساتھ دیں مجھے سپورٹ کریں آتش مجھے ایسے کیسے یوز کر کے پھینک سکتا ہے؟؟ آخر کار اتنے سالوں کا ریلیشن شپ تھا ہمارا۔۔۔ اور اب یوں اچانک سے کسی معمولی لڑکی کے لئے اس نے مجھے چھوڑ دیا اور اس سو کالڈ سیکریٹری سے شادی کرلی۔۔۔ میں۔۔ میں یہ سب کیسے برداشت کر پاؤں گی۔۔۔”

کرن نے کہتے کے ساتھ ہی جھوٹے آنسوں بہانا شروع کر دیئے جبکہ اس کی اس اداکاری پر حاشر اش اش کر اٹھا وہ آخر کس طرح پورے میڈیا کے سامنے آتش اور اپنے رشتے کے بارے میں بتا رہی تھی جو کہ کبھی تھا ہی نہیں

“کرن میم آپ نے دیکھا ہوگا کچھ منتھ پہلے سیم ایسا ہی الزام ردا ریاض نے بھی لگایا تھا آتش درانی پر تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟؟ اور آپ لوگوں کی نیو فلم کی شوٹنگ جو کے کنٹینیو تھی اس کا کیا بنے گا اب پلیززز ہمیں بتائیں۔۔۔”

رپورٹ کے پوچھنے پر کرن نے ایک ٹشو پیپر ناک پر رکھتے ہوئے پہلے کیمرے کی جانب دیکھا پھر اپنے نقلی آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہنے لگی

“جھوٹ کہہ رہی تھی ردا ریاض آتش درانی کا مجھ سے سالوں کا رشتہ تھا۔۔۔ آتش صرف میرا تھا اور ردا نے کئی بار ہمارے ریلیشن شپ میں کافی پروبلم کریئیٹ کرنے کی کوشش کی اور جب کچھ نہ ہو سکا تو آتش پر الزام لگا دیا۔۔۔ مگر کیا قسمت پائی ہے آتش کی سیکریٹری نے۔۔۔ بھولی سی صورت والی وہ چلاک لڑکی مجھ سے آتش کو چھین کر لے گئی۔۔۔ اور جانتے ہیں آپ سب آتش نے شوٹنگ کینسل کر کے کانٹریکٹ تک پھاڑ دیا اور بہت بھاری قیمت ادا کر کے وہ یوں ہی غائب ہوگیا تھا۔۔۔مجھے کیا پتا تھا کہ وہ کسی اور کا ہو چکا ہے۔۔۔”

کرن سفید جھوٹ بولتے ہوئے اونچا اونچا رونے لگی جبکہ ردا ریاض جو اپنے عجیب بگڑے حلیے میں وہاں پہنچ گئی تھی اس کی باتیں سن کر گارڈز کے منا کرنے اور روکنے پر بھی نہ رکی اور پریس کے سامنے آکھڑی ہوئی

“جھوٹ بول رہی ہے یہ آتش کا اس سے کوئی رشتہ نہیں تھا آتش صرف اور صرف میرا تھا اور آج بھی میرا ہے اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا”

ردا کے پاگلوں کی طرح چینخنے پر پروگرام والوں کی ریٹنگ بڑھنے لگی تھی تبھی کرن وہاں سے اٹھی

“تم؟؟ تمہیں اندر کس نے آنے دیا؟؟ گارڈز!! گارڈز!!”

ابھی آگے کرن کچھ کہتی ردا اس پر چھپٹ پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کے درمیان اچھی خاصی ہاتھا پائی شروع ہوگئی وہ دونوں کسی پاگل عورتوں کی طرح ایک دوسرے کو ماری جارہی تھیں کسی کو بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی بڑی اسٹارز یوں میڈیا پر لائیو آکر اس طرح عجیب و غریب حرکتوں کا مظاہرہ کریں گی

“افففف دونوں کی دونوں بیکار نکلیں!! پاگل عورتیں!!”

حاشر نے برابر رکھا کانچ کا گلاس زمین پر دے مارا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ بیڈ سے اٹھ کر جائے وقوعہ پہنچ کر ان دونوں کی لڑائی میں حصہ ڈالے اور ان دونوں کو سب کے سامنے خوب پیٹے

“ہرا گیا!! وہ ایک بار پھر مجھے ہرا گیا!! میں چاہ کر بھی اب کچھ نہیں کر پاؤں گا ورنہ اس انڈسٹری میں میرا بچا کچا نام بھی ختم ہو جائے گا اور اگر ایسا ہوگیا تو۔۔۔ تو سڑک پر آ جاؤں گا میں!!!”

حاشر نے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر بالوں کو جکڑتے ہوئے کہا واقعی اب وہ آتش کے ساتھ کچھ غلط نہیں کر سکتا تھا ورنہ نقصان اس ہی کا ہوتا پہلے ہی آتش کے یوں پبلک پلیس پر حاشر کو گریبان پکڑ کر مارنے پر میڈیا گرم ہوچکا تھا

اس کے علاؤہ بھی آتش نے ان کی پوری ٹیم کو جس جس نے آتش کو ماضی میں نقصان پہنچانا چاہا تھا سب کو برباد کر کے رکھ دیا تھا کہ کوئی بھی ان کے پروجیکٹ پر کام کرنا تک پسند نہیں کر رہا تھا کروڑوں کا نقصان ہوا تھا ان کا۔۔۔ اب اگر حاشر کچھ بھی کرتا تو آتش تو خود کو ہمیشہ کی طرح بچا لیتا مگر حاشر بری طرح سے ڈوب سکتا تھا وہ خاموشی سے بے بس ہوکر بیڈ پر لیٹ گیا

☆★☆★☆★☆

تعبیر اور آتش اسٹیج پر اکھٹے بیٹھے تھے جبکہ دوسری طرف ضوریز اور ائیزل تھے اور بیچ میں نکاح کا سیٹ اپ لگایا گیا تھا جو کہ شاویز اور حریم کے لئے تھا سب مہمان حریم اور شاویز کو نکاح کی مبارک باد دے رہے تھے اب رخصتی کا وقت تھا

“بیگم ایسے نہ دیکھو پانچ سو پچانوے بات پیار ہو جائے گا مجھے تم سے”

ائیزل کے دیکھنے پر ضوریز نے جس گوہر افشائی کا مظاہرہ کیا تھا ائیزل نے بامشکل اپنی ہنسی دبائی تھی

ائیزل نے آف وائٹ رنگ کی میکسی پہنی تھی جبکہ ضوریز بلیک تھری پیس پہنا تھا

“ویسے مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی یہ ارتضیٰ کہاں رہ گیا؟؟”

ائیزک کے سوال پر اتفاق کرتے ہوئے ضوریز نے ایک نظر مہمانوں سے بھرے ہال پر ماری جہاں واقع ارتضیٰ موجود نہ تھا

“کیا یہ میری محبت کا اثر ہے یا تم واقعی اتنی ہی خوبصورت ہو جتنی دکھائی دے رہی ہو”

تعبیر جب سے آتش کے برابر میں آ بیٹھی تھی بھٹک بھٹک کر آتش کی نظریں تعبیر کے ابھرتے حسن پر جا ٹہر رہی تھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آخر کار وہ پوچھ ہی بیٹھا تھا

“یہ واقعی آپ کی محبت کا اثر ہے آتش ورنہ میں اتنی خوبصورت نہیں ہوں جتنی آپ کو لگتی ہوں”

تعبیر نے بلش کرتے ہوئے نظریں جھکائیں جس پر آتش فدا سا ہوگیا تھا

تعبیر نے نیلے رنگ کی میکسی پہنی تھی جبکہ آتش نے نیلے رنگ کا تھری پیس پہنا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ زیادہ ہی جچ رہے تھے ہر ایک کی نظریں ان پر تھیں ہر ایک تعبیر کی قسمت پر رشک کر رہا تھا ورنہ ہر کوئی کہاں اتنا خوش نصیب تھا جو اسے آتش ملتا ایک تعبیر ہی تھی جسے وہ نہ صرف مکمل مل چکا تھا بلکہ ہر طرح سے پورا کا پورا صرف اس کا ہو چکا تھا

“آتش پلیززز ایسے مت دیکھیں مجھے شرم آرہی ہے۔۔۔”

آتش کی نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے وہ چھینپ سی گئی تھی جس پر آتش نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی تعبیر نے شکواہ کن نگاہوں سے اسے دیکھا

“اب آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں۔۔۔ منع کرنے کے باوجود اور بھی زیادہ گھور رہے ہیں۔۔۔”

تعبیر نے خفگی سے کہا اس کی اس بچوں جیسی ناراضگی پر آتش کی یک طرفہ مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“مائے ڈیئر سینوریٹا۔۔۔ میں گھور نہیں رہا دیکھ رہا ہوں۔۔۔ اور کیا کروں مجبور ہوں اس دل کے ہاتھوں۔۔۔ تمہارے علاؤہ کچھ بھی دیکھنے کا دل کر ہی نہیں رہا۔۔۔ یہ دل تمہارے علاؤہ کسی دوسرے دیدار کو نہیں مانتا۔۔۔”

آتش کہتے کے ساتھ ہی اس کے مہندی سے بھرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لئے بوسہ دینے لگا جس پر تعبیر کو لگا دل سینا چیر کر باہر آ جائے گا تعبیر نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا مگر آتش نے پوری شدت سے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی میں قید کرلیا

“بہت تنگ کرتے ہیں آپ مجھے۔۔۔ چھوڑیں میرا ہاتھ۔۔۔ بات مت کیجئیے گا مجھ سے اب سمجھے آپ!!”

وہ مصنوعی غصہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ آزاد کراتی ہوئی تھوڑا فاصلہ قائم کر بیٹھی جس پر آتش آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے گھورنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے مزید اس کے قریب آبیٹھا تعبیر نے تاسف سے سر ہلایا

“زندگی میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ مجھ سے جتنا دور جانے کی کوشش کروگی میں اس سے کئی زیادہ تمہارے قریب آجاؤں گا۔۔۔”

آتش کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“کیا مطلب؟؟”

تعبیر کے پوچھنے پر وہ پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ہوا

“مطلب مسز تعبیر آتش درانی آپ مجھ سے دور جانے کے چکر میں مجھے خود کے مزید قریب کرتی جارہی ہیں۔۔۔ خیر اس میں بھی میرا ہی فائدا ہے۔۔۔ میں اور زیادہ قریب آؤں گا۔۔۔ اور زیادہ پیار بڑھے گا۔۔۔”

آتش نے اس کے عنابی لبوں کو دیکھتے ہوئے ذومعنی انداز میں کہا جس پر تعبیر نے شرم سار ہوکر نظریں جھکالیں

تبھی سامنے سے ارتضیٰ چلتا ہوا آرہا تھا جس کے ساتھ ہنی بھی تھی۔۔۔ ہاں وہی ہنی جو شوبز کے لئے ایز آ ٹیٹو میکر کام کیا کرتی تھی مگر ارتضیٰ کے اچانک سے دیکھنے اور پروپوزل بھیجنے پر اس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا سب انہیں دیکھ کر حیران تھے سوائے رائمہ اور باضل کے

“تم اتنی دیر میں کیوں آئے ہو بھئی؟؟ اور یہ لڑکی کون ہے؟؟”

ائیزل کے جھٹ سے پوچھنے پر ضوریز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا جس پر وہ اسے گھورنے لگی

“یہ ہنی ہے تعبیر بھابھی جانتی ہیں اسے۔۔۔ خیر اب سے یہ مسز ارتضیٰ کی حیثیت سے سب سے ملے گی۔۔۔”

ارتضیٰ نے خوش دلی سے کہتے ہوئے ہنی کو دیکھا جس بلش کر رہی تھی جبکہ باضل اور رائمہ سمیت سب نے ہوٹنگ شروع کر دی تھی

☆★☆★☆★☆

وہ جیسے کمرے میں داخل ہوا حریم جلدی جلدی ساری جیولری اتار کر رکھ رہی تھی جس پر شاویز اس کے قریب آیا حریم اسے مکلم اگنور کر کے اپنے کاموں میں مصروف تھی

“حریم جی؟؟” شاویز نے سنجیدگی سے کہا

“ہممم” جواب میں بس یہ چھوٹا سا لفظ موصول ہوا شاویز کو لگا وہ ناراض ہے مگر کس بات پر یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا

“حریم آپ یہ جیولری کیوں اتار رہی ہو؟؟ ابھی سے ڈریس چینج کر رہی ہو؟؟ ابھی تو ہم نے سیلفی بھی نہیں بنائی۔۔۔”

شاویز نے بچوں والا منہ بناتے ہوئے کہا جس پر حریم نے اسے گھورا

“یہ سب نہ تمہاری وجہ سے ہورہا ہے نہ تم نکاح کے لئے اتنی جلدی بازی کرتے نہ میری مایو مہندی کینسل ہوکر ڈائریکٹ نکاح ہوتا نہ آج میں یوں ڈانس کرنے کے لئے تڑپ رہی ہوتی۔۔۔ کتنا مزہ آتا میرا مایو ہوتا ہم سب ڈانس کرتے”

حریم نے جس غصے سے اس کی جانب انگلی بڑھاتے ہوئے کہا تھا شاویز کچھ پل کے لیے تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا

“افف بس اتنی سی بات؟؟ چلیں ہم ابھی ڈانس کر لیتے ہیں۔۔۔”

شاویز نے جیسے کوئی بہت ہی سنجیدہ مسئلے کا حل نکالتے ہوئے کہا جس پر وہ کھل اٹھی

“کیا واقعی؟؟”

حریم نے کہنے کے ساتھ ہی ساری جیولری پہننی شروع کردی جس پر شاویز نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا

شاویز نے اپنے اور حریم کے لئے ایک اپارٹمنٹ خریدا تھا جس میں حریم نے اپنا بڑا سا گھر بیچ کر پیسے ملا کر شاویز کے ساتھ ساری سیٹنگ کی تھی یہ تین کمروں کا فلیٹ ان کے لئے کسی جنت سے کم نہ تھا

“چلو اب میں اسپیکر آن کردیتا ہوں۔۔۔”

شاویز نے کہتے کے ساتھ ہی اسپیکر آن کیا جبکہ حریم اپنا سرخ شرارہ سنبھالتی ہوئی موبائل ان کر کے ویڈیو کا اوپشن ان کرنے لگی پھر کیا ہونا تھا شاویز نے اس کے آگے ہاتھ بڑھایا

”تیرے واسطے فلک سے میں چاند لاؤں گا

سولہ سترہ ستارے سنگ باندھ لاؤں گا“

شاویز کا ہاتھ تھام کر حریم اس کے برابر میں آئی اور اسٹیپ ادا کرنے لگی وہ دونوں واقع بہت پیارے لگ رہے تھے اتنی عمر بھی نہ تھی جبھی تو حرکتیں بچوں والی تھیں

”تیرے واسطے فلک سے میں چاند لاؤں گا

سولہ سترہ ستارے سنگ باندھ لاؤں گا“

شاویز نے لپ سنگ کرتے ہوئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سینے سے لگایا جس پر وہ مسکراتے ہوئے ایک ایک اسٹیپ بڑے دھیان سے ادا کرنے لگی

”چاند تاروں سے کہو ابھی ٹھہریں ذرا

چاند تاروں سے کہو کہ ابھی ٹھہریں ذرا “

اب شاویز اس کے پیچھے کھڑا اسے کمرے سے پکڑے پیروں سے اسٹیپ کر رہا تھا جبکہ حریم بھی یہی اسٹیپ کر رہی تھی جب اچانک شاویز نے اسے خود سے دور کر کے ایک دم سے اپنے قریب کھینچا جس سے وہ اچانک سے اس کے سینے سے آ لگی

”پہلے عشق لڑاؤں اس کے بعد لاؤں گا

پہلے عشق لڑاؤں اس کے بعد لاؤں گا!!!“

شاویز نے جس ٹھرک پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے لبوں پر اپنے لبوں کو رکھ کر ہٹایا تھا حریم نے اس کو غصے سے گھورا

“تیرے واسطے فلک سے میں چاند لاؤں گا

سولہ سترہ ستارے سنگ باندھ لاؤں گا“

اب منظر کچھ یوں تھا کہ شاویز آگے آگے اپنے جان بچا کر بھاگ رہا تھا اور حریم ہاتھ میں کشن لئے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی جب دونوں تھک گئے تھے بیڈ پر آ لیٹے موقع غنیمت جان کر جیسے ہی شاویز اس کے قریب آنے لگا حریم نے اسے روکا

“گھونگھٹ کون اٹھائے گا؟؟”

حریم کے پوچھنے پر شاویز سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا

“تم نے گھونگھٹ ڈال کب ہے؟؟”

شاویز کے پوچھنے پر وہ اٹھ بیٹھی

“لو ابھی ڈال لیتی ہوں”

اس نے اپنے ڈوپٹے کو سر پر اوڑھ کر پورا چہرہ چھپا لیا جس پر شاویز اس کے قریب آکر گھونگھٹ ہٹانے لگا

“خبر دار!! ایسے نہیں کمرے سے باہر جاؤ پھر جب میں کہوں آجاؤ تو آنا”

حریم کی بات پر وہ ہونق بنا اس کا نیا حکم سن رہا تھا اب وہ واقعی ضوریز اور آتش کی بہن لگ رہی تھی

وہ اٹھ کر کمرے سے باہر گیا پھر حریم کی آواز پر اندر کو آیا جب وہ بڑی تمیز تہذیب سے منہ ڈھاکے بیٹھی آج شاید ابھی دلہن ہونے کا ایوارڈ جیتنے والی تھی شاویز چلتا ہوا اس کے قریب ا بیٹھا اور بڑی آہستگی سے اس کا گھونگھٹ اٹھایا جس پر وہ کسی چھوٹی سی گڑیا کی طرح شرمانے لگی

“ماشاءاللہ کہہ دو نظر لگانی ہے کیا؟؟”

حریم نے اسے مسلسل دیکھتا پا کر کھا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں آیا

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ بلکل شہزادی لگ رہی ہو میری۔۔۔”

شاویز نے کہتے کے ساتھ ہی جیب سے ایک خوبصورت سا گولڈ کا بریسلیٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں پہنایا اور وہی ہاتھ پکڑ کر بوسہ دینے لگا

“اچھا اب بس ہوگیا نہ؟؟ اب میں چینج کرنے جارہی ہوں اوکے ہٹو پیچھے۔۔۔”

شاویز کو خود ہو حاوی ہوتا دیکھ کر حریم جلدی سے اٹھ کر اپنا شرارہ سنبھالتی ہوئی چینج کرنے کے لیے جس اسپیڈ سے بھاگی تھی شاویز بامشکل اپنے جذباتوں پر قابو پاتا ہوا ہنستے ہوئے وہیں پر لیٹ گیا

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *