Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 09)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“اچھا تو پھر کیا سوچا تم نے میری آفر کے بارے میں؟؟”

ائیزل کو خاموش دیکھ کر ضوریز نے اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے سنوارتے ہوئے پوچھا

“کیسی آفر؟؟”

“اباؤٹ پیپرز”

اس کا سارا دھیان ضوریز کے بکھرے ہوئے ہلکے براؤن بالوں پر تھا جو پہلے سے تھوڑے زیادہ بڑے لگ رہے تھے

“میں کوشش کر رہی ہوں اس بار ہو جاؤں گی پاس”

“ہاہاہاہاہاہاہا”

ائیزل کی سنجیدگی سے کہے گئے الفاظوں پر اس کا قہقہہ نکلا جس پر ائیزل اسے گھورنے لگی

“کیوں ہنس رہے ہو؟؟”

“یار مزاق اچھا تھا ویسے”

ضوریز نے اپنے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے کہا

“شٹ اپ، میں نے کوئی مذاق نہیں کیا میں کوشش کر رہی ہوں”

ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب اس کا فون بچنے لگا

“ڈیڈ…”

ایک خوبصورت سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی تھی جسے ضوریز اپنے دل میں اتار چکا تھا

“ہیلو ڈیڈ کیسے ہیں آپ”

“میں ٹھیک اور تم کیسی ہو ڈیڈ کی پرنسز؟؟ اوہ میرا مطلب پرنس”

کاظمی صاحب کی بات پر ائیزل کا قہقہہ نکلا جبکہ والیم تیز ہونے کی وجہ سے آواز فون کے باہر آرہی تھی جسے سن کر ضوریز بھی یک طرفہ مسکرانے لگا

“میں بلکل ٹھیک ڈیڈ “

“گڈ میرے پرنس اب بتاؤ کیسی جارہی ہے اسٹڈیز مجھے پتا چلا تھا کہ تمہارے ایگزیمس آرہے ہیں؟؟”

“جج جی ڈیڈ ایگزیمس آرہے ہیں…”

“ہاں تو پھر پریپریشن اسٹارٹ کردو تاکہ اس دفعہ تمہارے مارکس پہلے سے اچھے آئیں”

پیپرز کا سن کر ائیزل کا منہ اتر گیا جبکہ ضوریز پیر پھیلائے بیٹھا ہاتھ کی انگلی سے ہونٹ رگڑ رہا تھا

“اچھا سنو میں نے پوکٹ منی ٹرانسفر کی ہے اگر کم لگے تو میرے اسسٹنٹ کو کال کر کے کہہ دینا شام تک مزید رقم ٹرانسفر ہو جائے گی”

“جی ڈیڈ اوکے”

“چلو میرا پرنس بیٹا میں مصروف ہوں بعد میں بات ہو گی ٹیک کیئر”

“اوکے ڈیڈ یو آلسو ٹیک کیئر آف یوور سیلف”

اس نے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے اپنے پیشانی رگڑی جبکہ ضوریز سمجھ چکا تھا وہ پیپرز اور ڈیڈ کی امیدوں کو لے کر بے حد پریشان تھی

“ہیئی ائیززز…”

ضوریز کی آواز پر وہ یک دم سیدھی ہوئی

“تمہارے ڈیڈ کو تو تم سے بہت امید ہے… ایک بار بھی سوچا ہے تم نے اگر ان کی امید ٹوٹی تو کیا فیل کریں گے وہ؟؟”

“میں کوشش کر رہی ہوں نہ”

ائیزل اب بلکل سنجیدہ تھی

“لسن میڈم تمہیں کنفرم ہے تم پاس ہو جاؤگی؟؟”

ضوریز کے سوال پر ائیزل کو سانپ سونگھ گیا

“اب بھی وقت ہے دو دن باقی ہیں مان لو میری بات”

ائیزل نے اسے سنجیدگی سے دیکھا

“پتا ہے کہ میں تمہارا دوست نہیں بن سکتا لیکن یاد رکھنا دوست تو بہت ملیں گے لیکن ضوریز درانی جیسا دو نمبر آدمی شاید پھر تمہیں کہیں بھی نہ ملے”

ضوریز نے ایک اسٹائل سے کہا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگا

“رر رکو…”

ابھی وہ نکلا ہی تھا جب ائیزل کی آواز پر وہ رکا لبوں پر یک طرفہ مسکراہٹ نمودار ہوئی

“کیا کرنا ہوگا مجھے؟؟”

ائیزل نے بیزار لہجے میں کہا جس پر ضوریز واپس سیٹ پر آ بیٹھا

وہ ہاتھوں کی آستین موڑنے لگا جبکہ ہر بار کی طرح آج بھی اس کی انگلیوں میں مخصوص بھیڑیئے اور شیر کے سانچے کی انگوٹھیاں موجود تھیں ساتھ ہی گلے میں ایک عدد باز کے پر کے سانچے کا لاکٹ تھا اس نے جیب سے رومال نکالا اور گلے میں ایک اسٹائل سے لپیٹنے لگا

جبکہ ائیزل عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“پہلے تم یہ بتاؤ تمہیں پاس ہونا ہے یا ٹوپ کرنا ہے؟؟”

“واٹ؟؟”

وہ ایبرو اچکائے سوال کرنے لگا جس پر ائیزل نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“کیا واٹ؟؟ میں پوچھ رہا ہوں پاس ہونا ہے یا ٹوپ کرنا ہے؟؟”

ضوریز نے اس ہی کے انداز میں کہا جس پر ائیزل اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی

“اوہ ہیلو میڈم… اب بتا بھی دو… یا بس آج کا دن اپنی ان ناگن جیسی قاتلانہ نگاہوں سے گھورتے ہوئے ہی نکال دینا ہے؟؟”

ضوریز کی بات پر وہ اسے گھورنے لگی کیونکہ آخری جملہ ضوریز نے آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا

“جسٹ شٹ اپ…”

“دیکھو اب تم بار بار شٹ اپ شٹ اپ مت کرو، اگر واقعی میں نے شٹ اپ کردی نہ تو تم دوبارہ اس راستے کا رخ بھول کر بھی نہیں کروگی…”

ضوریز نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی جبکہ ائیزل نے دانت بیچتے ہوئے اسے مزید گھورا

“اچھا اب جلدی بتاؤ شاباش، کہ پاس ہونا ہے یا ٹوپ کرنا ہے کیونکہ پھر اس ہی حساب سے پلاننگ کی جائے گی”

ضوریز اب سنجیدہ تھا

“پاس ہی ہو جاؤں کافی ہے”

ائیزل نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا جس پر ضوریز نے اثبات میں سر ہلایا

“اوکے تو اب تم وہی کروگی جو میں کہوں گا… ابھی تم واپس ہوسٹل جاؤ ملتے ہیں پھر شام میں”

“رکو ضوریز…”

ابھی وہ گاڑی سے نکلنے ہی والا تھا جب ائیزل نے اسکا بازو پکڑا جس پر وہ پلٹا دونوں کی نظریں ملی تھیں ضوریز اپنی گہری کالی آنکھوں سے اسے بڑی غور سے دیکھ رہا تھا جب ائیزل نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا

“ووہ وہ مجھے کہنا یہ تھا کہ شام میں کہاں ملیں؟؟ میرا مطلب ہے کہ…”

“ڈونٹ وری آئی انڈرسٹینڈ تمہارے ساتھ تمہاری روم میٹ ہوتی ہے، مجھے ابھی ایک ضروری کام ہے تم فلحال ہوسٹل واپس جاؤ اور میری کال کا ویٹ کرو میں فارغ ہوتے ہی تمہیں بتا دوں گا پھر جہاں ٹھیک لگا وہاں ملیں گے”

ضوریز نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جس پر ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا

“اور ایک اور بات… تب تک بہتر ہوگا اگر تم تھوڑی اسٹڈی کرلو… میتھ کے علاوہ باقی کے سبجیکٹ پر ایک سر سری نظر دوڑا لینا اوکے”

“ٹھیک ہے”

“گڈ”

وہ دروازہ بند کر کے جانے لگا

“ضوریز…”

“کہو…”

وہ رکا اس کی طرف متوجہ ہوا

“تھنکس…”

“وائے؟؟”

“میری ہیلپ کرنے کے لیے…”

ائیزل نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ کار کی ونڈو کے پاس جھک کر اندر کو دیکھنے لگا

“پاس رکھو میڈم، جب ہیلپ کردوں تو کہہ دینا”

اپنی بات کو مکمل کرتا ہوا وہ سامنے بنے اڈے پر چلا گیا جس کا دروازہ تقریباً گرنے کو تھا ائیزل نے ایک نظر اطراف میں دیکھا اور پھر گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلی گئی

☆★☆★☆★☆

شام کا وقت تھا وہ اس وقت اپنے فارم ہاؤس پر تھا جو اسلام آباد میں اس نے بہت پہلے خریدا تھا اس ہی طرح جب بھی اسے کسی اور شہر شوٹنگ پر جانا پڑتا تھا وہ بھی زیادہ وقت کے لیے تو وہ کبھی بھی کسی ہوٹیل میں روم نہیں لیتا تھا بلکہ یوں ہی ایک فارم ہاؤس یا چھوٹا سا اپارٹمنٹ پہلے ہی خرید لیتا تھا

تقریباً رات نو بجے کا وقت تھا وہ فارم ہاؤس پر بنے سوئمنگ پول کے سامنے کرسی لگائے بیٹھا کش پہ کش لگا رہا تھا اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال چل رہا تھا آخر کون تھا وہ جس کی وجہ سے کامی شاہ اور اس کے اونر نے آتش کو ریجیکٹ کر کے ایک نئے ایکٹر کو کاسٹ کرلیا تھا جبکہ آتش اس کردار کو نبھانے کے لیے بلکل پرفیکٹ تھا

“کامی شاہ اور نظیر احمد کے گلے میں پٹا آخر کس کا ہے”

وہ کش لگاتے ہوئے خود سے مخاطب ہوا

“جس کا بھی ہے مجھ سے ٹکرا کر بہت بڑی غلطی کردی نظیر احمد، اب میں تب تک تمہارا پروجیکٹ سائن نہیں کروں گا جب تک تم میرے قدموں میں گر کر مجھ سے معافی نہیں مانگ لیتے”

آتش کی آنکھوں میں خون دکھائی دے رہا تھا

“ایک بار مجھے حقیقت کے پیچھے چھپی حقیقت پتا چل جائے اس شخص کا پتا چل جائے جس نے یہ سب کیا، پھر آئی سوویر میں تب تک اسے نہیں بخشوں گا جب تک وہ قبر میں نہ اتر جائے”

آتش کے تھیکے ہلکے گلابی لبوں پر ایک قاتلانہ یک طرفہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی

مگر تب ہی اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی تھی جیسے کوئی آرہا ہو ابھی وہ پلٹ کر پیچھے دیکھتا جب کرن جابر نے پیچھے سے اس پر حصار تنگ کیا جس پر آتش نے ایک نظر پیچھے کو دیکھا جہاں وہ مسکرا رہی تھی

“واٹ آ سرپرائز…”

آتش نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی جس پر کرن نے بھی جواباً مسکرایا

“بس دل کیا تم سے ملنے کا تو چلی آئی ویسے بھی اس ہوٹل کے روم میں تو میرا دم ہی گھنٹ رہا تھا”

کرن اس کا ہاتھ تھامے قریبی کرسی پر بیٹھی

“ویسے آفٹر لانگ ٹائم بعد آج ہم ملے ہیں”

کرن کی بات پر آتش نے پہلے والے سگریٹ کو جو ختم ہو چکا تھا اسے زمین پر پھینک کر اپنے شوز سے مسل دیا اور دوسری جلانے لگا

“بھول گئیں، دو سال پہلے ہمدانی صاحب کی دی ہوئی پارٹی میں ہم ساتھ تھے”

آتش نے پہلا کش لیتے ہوئے کہا

“ہاں مگر تم چلے گئے تھے نہ اچانک پتا نہیں کہاں”

کرن نے منہ بناتے ہوئے کہا

“ہممم ہاں مصروف تھا”

“لیکن آج رات تو کوئی مصروفیات نہیں ہے نہ؟؟ میرا مطلب…”

کرن نے کرسی اس کی طرف کھسکائی اور اس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگی جس پر آتش نے ایبرو اچکاتے ہوئے اسے دیکھا

“تمہارا مطلب؟؟”

آتش کا دھیمہ لہجہ اب ایک رعب دار آواز میں بدل چکا تھا

“میرا مطلب… آج رات ہم… ساتھ گزار سکتے ہیں…”

کرن نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا جس پر آتش کے تاثرات مزید سخت ہوئے

“میرا مطلب ہے کہ ہم ساتھ…”

“تمہارا جو بھی مطلب ہے مگر مجھے منظور نہیں”

آتش نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا جس سے کچھ پل کے لیے کرن سہم سی گئی

آتش نے اس کی آنکھوں میں خوف دیکھا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ فلم کی شوٹنگ کے درمیان وہ کرن سے اپنے تعلقات بگاڑے لیکن اسے یہ بھی منظور نہیں تھا جو وہ چاہ رہی تھی

“آآ آتش تم… ٹھیک… تو ہو؟؟”

کرن نے ڈری ڈری نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جو اب اپنی پیشانی رگڑ رہا تھا

“کرن… دیکھو… میرے کہنے کا مطلب ہے جو تم چاہ رہی ہو…وہ نہیں ہو سکتا…”

آتش نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا

“آتش تم دور کیوں بھاگتے ہو مجھ سے؟؟ کیا تمہیں ردا ریاض جیسی لگتی ہوں میں؟؟”

کرن کا چہرہ اتر سا گیا تھا جس پر آتش نے ٹھنڈی سانس لی

“دیکھو کرن بات یہ نہیں ہے، بات یہ ہے کہ…”

“بات جو بھی ہو، میں نے ایسے ہی تمہارے ساتھ یہ پروجیکٹ سائن نہیں کیا، صرف تمہارے قریب رہنے کے لیے تمہارے ساتھ کام کرنے کے لیے حامی بھری ہے میں نے، اور میں جانتی ہوں تم بھی میرے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے”

آخری والے الفاظوں پر کرن نے آتش کے شانے پر سر ٹکایا جس پر آتش نے آنکھیں بند کیں

“دیکھو کرن “

“بس آتش بس…”

کرن نے آتش کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر ایش ٹرے میں رکھ دی اب وہ اس کے چہرے کے بے انتہا قریب تھی

“آج تم کچھ بھی نہیں کہو گے، کچھ بھی نہیں”

کرن اس کی باہوں میں آ بیٹھی جبکہ آتش خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ اس سے ہر حال میں اس کے ساتھ کام کرنا تھا اسے کامیابی چاہیئے تھی جس کے لئے وہ آج پہلی بار خاموش تھا

“آج کی رات میرے نام کردو آتش”

کرن نے ایک انگلی اس کی گردن پر پھیری وہ تھی تو کافی خوبصورت لیکن آتش کے آگے ایسی بہت سے خوبصورت حسینائیں تھیں جنہیں وہ دیکھتا بھی نہیں تھا اس کی نظر میں یہ سب خاک تھیں

“کرن ابھی نہیں…”

آتش نے کرن کا ہاتھ روکا

“پلیززز آتش…”

“کرن ہمارے نئے پروجیکٹ کو مکمل ہونے دو پھر ہم سیلیبریٹ کریں گے جیسے تم کہو گی”

آتش نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا

“نیوور…”

“کرن…”

“ششششش…”

کرن نے آتش کے لبوں پر انگلی پھیرتے ہوئے اسے چپ کرایا جس پر آتش خاموش ہوگیا کرن نے اپنی انگلی کو اس کی گردن کی طرف کیا اور اپنے لبوں کو اس کے لبوں پر رکھ دیا

وہ اس پھر جھکی کہیں اور ہی گم ہو چکی تھی جبکہ وہ اب تک اپنے پورے ہوش و حواس میں تھا اسے یہ سب بلکل بھی پسند نہیں تھا نہ ہی وہ اس میں کوئی انٹرسٹ رکھتا تھا لیکن اب جو بھی تھا اس کی مجبوری تھی

☆★☆★☆★☆

“بابا جان مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی آخر آپ ان تمام باتوں کے لئے رضامند کیسے ہو سکتے ہیں؟؟ آپ جانتے بھی ہیں دنیا کیسی ہے لوگ کیسے ہیں میں اس طرح سے دو دنوں کے لئے شہر سے باہر کیسے جا سکتی ہوں؟؟ وہ بھی کسی اور کے ساتھ؟؟”

تعبیر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر اس کے بابا کیوں اسے ہر بات کے لیے فورس کر رہے تھے

“بیٹا دیکھو مجھے نہیں جاننا کے لوگ کیسے ہیں دنیا کیسی ہے میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میری بیٹی کیسی ہے، جب میں خود تمہیں اجازت دے رہا ہوں تو پھر کیا مسئلہ ہے؟؟ اور پھر تم اکیلی تھوڑی ہوں گی وہاں رائمہ بیٹی بھی تو جارہی ہے تمہارے ساتھ…”

“مگر بابا…”

“بیٹا بات کو سمجھو آگے بڑھو، کچھ بنو، کچھ کر کے دکھاؤ، تاکہ آگے جا کر کوئی چاہ کر بھی تمہیں ہرا نا پائے”

تعبیر نے افتخار صاحب کی بات پر انہیں غور سے دیکھا آخر وہ اسے کیا سمجھانا چاہتے تھے وہ ہمیشہ سے اسے آگے کیوں دیکھنا چاہتے تھے

“بابا آپ لوگوں کے بنا میں کیسے وہاں رہوں گی…”

تعبیر کے چہرے پر بے حد اداسی آگئی تھی جس پر انہوں نے اسے اپنے پاس بلایا تعبیر ان کی ویل چیئر کے پاس جا بیٹھی

“میرا بچہ میری جان میری گڑیا، بابا جان جو تمہارے بارے میں سوچ رہے ہیں وہ تمہارے بھلے کے لیے ہے اور پھر دو دن کی تو بات ہے تمہیں یاد آئے تو بابا جان جو کام کرلینا شاویز کے موبائل پر”

افتخار صاحب نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا جس پر اس نے نظریں جھکالیں

“افففف ہوگیا آپ دونوں کا ایموشنل سین شروع، ارے بھئی آپی مجھے بھوک لگ رہی ہے کچھ کھانے کو ملے گا یا ایسی سوجاؤں میں؟؟”

شاویز جو کب سے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا اب بیزار آکر اندر آیا

“بس لگ گئی اس پڑھاکو کو بھوک”

بابا جان نے شاویز کی طرف سخت لہجے میں کہا جس پر شاویز نے منہ بنایا

“یار بابا جان آپ کا غصہ بس مجھ پر ہی اترتا ہے؟؟ آپ کی لاڈلی تو صرف آپ کے پیار کی ہی حقدار ہے”

شاویز کی بات پر تعبیر نے سے گھوری سے نوازا جس شاویز نے مزید منہ بسورا

“چپ کرو تم جاکے کھانا گرم کرو آج میری لاڈلی کچن کو ہاتھ نہیں لگائے گی”

بابا جان نے سخت لہجے میں کہا جبکہ آخری الفاظ پر انہوں نے تعبیر کے سر پر ہاتھ رکھا جبکہ شاویز بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگا

“بابا جان؟؟ کھانا میں گرم کروں؟؟”

“اور نہیں تو کیا میں کروں گا؟؟”

شاویز جو اب سوال کر کے پچھتا رہا تھا

“اچھا ہے بھائی، مزے ہیں، جس کا جب جیسا دل چاہتا ہے مجھ سے کرواتے ہیں… آج کھانا گرم کروا رہے ہیں کل کو برتن مانجھوائیں گے پھر کپڑے بھی دھلوائے گے اور پھر گھر کی جھاڑوں اور واش روم… یکککککککک”

شاویز نے عجیب سا منہ بناتے ہوئے کہا اور کچن گھس گیا جبکہ تعبیر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے میں ناکام رہی تھی ابھی وہ بابا کے ساتھ ہی تھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا

“کل شام پانچ بجے…؟؟”

تعبیر نے بے یقینی سے کہا جبکہ نظریں اس کی موبائل اسکرین پر مرکوز تھیں

“کیا ہوا بچے؟؟”

“بابا جان رائمہ کہہ رہی ہے کل شام پانچ بجے نکلنا ہے، ان کی گاڑی لینے آئے گی”

“اچھا تو جاؤ تب تک پیکنگ کرلو اپنی شاباش “

بابا جان کی بات پر تعبیر فورن عمل کرتے ہوئے دوسرے کمرے میں چلی گئی جبکہ اب تک شاویز کے بڑبڑانے کی آوازیں پورے گھر میں گونج رہی تھی

☆★☆★☆★☆

وہ جب سے یونیورسٹی سے آئی تھی مجال ہے جو اس نے ایک بھی بار بیڈ سے اٹھنے کی زحمت کی ہو ائیزل کے پوچھنے پر اس نے سر درد کا بہانا بنایا تھا جبکہ اصل میں تو وہ آج صبح ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچ کر اپ سیٹ تھی

“کاش شاویز تم مجھے سمجھ پاتے”

وہ کمفرڈ میں چھپی ہوئی اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوششوں میں تھی

“آخر کیوں میرے نصیب میں یتیم خانے میں رہنا لکھا تھا، وہاں سے آزاد ہوکر بھی میں قید ہوں”

حریم کا چہرہ سرخ پڑھ چکا تھا

“نجانے کب میری آزمائشیں ختم ہوں گی”

بڑی بے دردی سے اس نے اپنے آنسووں کو صاف کیا

“کاش اللّٰہ پاک مجھے میرے صبر کے پھل سے نوازے”

اس نے اپنے موبائل اسکرین پر نظر دوڑائی جہاں شاویز کی تصویر چمک رہی تھی یہ تصویر آج کی تھی جب شاویز کتابوں میں سر جمائے بیٹھا تھا

تب حریم نے کلاس کے باہر کھڑے ہوکر اس کی پکچر کیپچر کی تھی کیونکہ اس نے سوچ لیا تھا اب وہ یونی صرف ایگزیمس میں ہی آئے گی ویسے نہیں آئے گی

وہ آج بے انتہا حسین لگ رہا تھا بلیک شرٹ بلیو پینٹ ہاتھ میں واچ بالوں کو ترتیب سے سیٹ کئے پاؤں میں وائٹ جوگر پہنے وہ کسی معصوم شہزادے سے کم نہ لگ رہا تھا

حریم نے موبائل کو اپنے سینے سے لگا لیا اور نجانے اسے کب نیند نے اپنے آغوش میں لیا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا وہ آج پہلی بار بنا کچھ کھائے پیئے سوگئی تھی

☆★☆★☆★☆

“افففف اللّٰہ کیا کروں یہ سب تو میرے پلے ہی نہیں پڑھ رہا”

وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی کتابیں پھیلائے سر کھجا رہی تھی وہ صبح سے شام ہوگئی تھی مگر اب تک اسے کچھ پلے نہیں پڑا تھا وہ کبھی ایک کتاب اٹھاتی اس پر نظر دوڑاتی پھر واپس رکھ دیتی پھر دوسری اٹھاتی اور اس کے ساتھ بھی یہی کرتی

“نجانے وہ لفنگہ پتا نہیں کہاں چلا گیا اب تک کال نہیں کی”

ائیزل نے فون کی طرف دیکھا جو بلکل خاموش پڑا تھا

“دس بج گئے اب تک اس کا کچھ پتا نہیں…کہیں ایسا تو نہیں مذاق کر گیا ہو میرے ساتھ”

ہر بار کی طرح وہ خود ہی اندازے لگائے شک میں پڑ گئی

“اففف ائیزل تم نہ بلکل پاگل ہو دو دن بعد تمہارا پیپر ہے اور تم اس لاپرواہ شخص کی باتوں میں آگئیں آخر تم اتنی بے وقوف کیسے ہو سکتی ہو”

وہ غصے سے کہتی ہوئی ضوریز کے بارے میں اپنے دماغ میں بہت غلط فہمی کو جمع کر رہی تھی

“خیر بھلے نہ آئے مجھے بھی ضرورت نہیں اس کی…میں خود سب کچھ ہینڈل کرلوں گی”

اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور اپنے کلاس فیلوز کے گروپ پر وائس کال کی جہاں کسی نے کال ریسیو نہیں کی

“پتا نہیں کہاں مر گئے یہ سب”

ائیزل نے دو تین بار کال کی پھر موبائل ایک جھٹکے سے کورنر پر رکھا اور پڑھائی میں لگ گئی

تقریباً پندرہ منٹ بعد اس کے پاس ضوریز کی کال آنے لگی اسکرین پر چرسی نام چمکنے لگا ائیزل نا سمجھی سے دیکھنے لگی آخر وہ اس کے بارے میں کتنا غلط سوچ رہی تھی

ائیزل نے کال پک کر کے فون کان پر لگایا

“ہائے ائیزز نیچے آؤ فاسٹ…”

ائیزل بنا کچھ کہے کھڑکی کی طرف دوڑی جہاں وہ بائیک پر بیٹھا اسی کی طرف متوجہ تھا

“جانا کہاں ہے؟؟”

“تم نیچے تو آؤ بتاتا ہوں”

“اچھا یہ بتاؤ کونسے سبجیکٹ کا نوٹ لے کر آؤں؟؟ پہلا پیپر تو…”

“ان سب کی ضرورت نہیں بس تم نیچے آؤ”

ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب وہ بول پڑا جس پر ائیزل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا اب وہ کچھ کہنے لگی تھی جب وہ پھر سے بول پڑا

“میں نے کہا تھا نہ جو کہوں گا وہ ماننا پڑے گا،اس وقت بھروسہ کیا تھا تو اب مزید سوال نہ کرو نیچے آؤ فاسٹ”

ضوریز کی بات پر وہ بنا جواب دیئے کال ڈسکنیکٹ کر کے وائلٹ اور موبائل جیب میں رکھنے لگی اپنے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتے ہوئے وہ کھڑکی کے باہر پیر نکالنے لگی جبکہ ضوریز بڑی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا

ائیزل نے ایک پاؤں باہر نکال کر سائیڈ پر لگے پتھر پر رکھا جبکہ دوسرا پاؤں بڑے سفید مظبوط پائیپ پر رکھا اور پائیپ کو پکڑتے ہوئے نیچے کی طرف آنے لگی جبکہ ضوریز اپنے مظبوط سینے پر ہاتھ لپیٹے اسے ہی دیکھ رہا تھا

ائیزل نے ایک نظر زمین پر دیکھا اور چھلان لگائی مگر اس بار وہ سنبھل نہ پائی اور زمین پر گری جس پر ضوریز مسکرانے لگا جبکہ فاصلہ کم تھا اس لئے ائیزل کو کوئی چوٹ نہیں پہنچی وہ خود کو سنبھالتی ہوئی اپنے کپڑے ہاتھوں سے جھٹکتے ہوئے کھڑی ہوئی اور اس کی طرف بڑھی

بلیک جینز جس کے پائینچے اس نے فولڈ کیے ہوئے تھے وائٹ شرٹ جو کمر تک آرہی تھی اس کے اوپر جینز کی بلیک جیکٹ ہاتھوں میں مخصوص فرینڈ شپ بینڈز (وہ الگ بات ہے یہ شوقیہ تھے دوستی وہ زیادہ کسی سے نہیں رکھتی تھی) وائٹ جوگرز پہنے وہ ٹشن سے چلتی ہوئی اس کے قریب آئی

جبکہ ضوریز نے بلیک پینٹ بلیک شرٹ جس کے اوپر بلیک ہی جیکٹ تھی ہمیشہ کی طرح گلے میں لاکٹ اور انگلیوں میں انگوٹھیاں، بکھرے ہوئے بڑھتے بال، چشمہ ہاتھ کی انگلی میں پھنسائے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا نجانے کیا تھا ضوریز کے اندر ایسا کہ اس کے ایسے حلیے کے باوجود بھی وہ ائیزل کو برا نہیں لگتا تھا

“چلیں؟؟”

ائیزل کے کہنے پر وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے اسے پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بائیک اسٹارٹ کرنے لگا ائیزل اس کی ہی طرح ایک ٹانگ ادھر اور دوسری اُدھر کئے بیٹھی ہوئی تھی

“کیا ہوا؟؟”

ائیزل نے اسے اپنی طرف رخ کئے دیکھ کر پوچھا

“پکڑ کر بیٹھو ورنہ اڑ جاؤ گی”

“ہونہہ میری فکر مت کرو تم بائیک اسٹارٹ کرو…”

ائیزل نے مسکراتے ہوئے جیب سے چشمہ نکال کر لگایا جبکہ ضوریز نے بھی یک طرفہ مسکراہٹ لئے اپنی پرکشش آنکھوں کو چشمے سے چھپایا اور بائیک دوڑادی

“ویسے ہم جا کہاں رہے ہیں؟؟”

“کچھ دیر میں پتا چل جائے گا”

وہ لوگ روڈ پر تھے جہاں بے انتہا رش تھا ہر طرف ٹریفک جام تھی پولیس جگہ جگہ کھڑی ہوئی تھی

“افففف اتنا رش…”

ائیزل نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس پر ضوریز کچھ سوچنے لگا اور پھر ہینڈل گھما کر پیچھے کے راستے لے گیا

“یہ… یہ کہاں لے جارہے ہو تم؟؟”

یہ بہت سنسان علاقہ تھا جہاں سے ضوریز شاٹ کٹ کے چکر میں بائیک اندر لے گیا تھا ائیزل کے سوال پر بائیک چلاتے چلاتے اسے دیکھنے لگا

“چپ کر کے بیٹھی رہو بہت بولتی ہو تم، اور ڈونٹ وری میں تمہیں کڈنیپ کر کے نہیں لے جارہا تھا سمجھیں نہ”

ضوریز کی بات پر ائیزل کے منہ کو تالا لگا کچھ ہی دیر بعد وہ لوگ روڈ پر آ چکے تھے کچھ منٹ کا فیصلہ طے کرتے ہی ایک کلب کے سامنے ان کی بائیک رکی تھی ائیزل بائیک سے اتر کر ضوریز کی طرف نا سمجھی سے دیکھنے لگی

“پیپرز تو ہوتے رہیں گے فلحال کچھ فن ہو جائے…”

ضوریز نے آنکھ مارتے ہوئے کہا

جب ائیزل کی نظر گیٹ پر گئی جہاں اس کے باقی کلاس فیلوز بھی موجود تھے جو اسے اندر آنے کا اشارہ کر رہے تھے

ایک سر سری نظر اس نے ضوریز پر دوڑائی جو اب یک طرفہ مسکراہٹ لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی ائیزل کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جسے ضوریز اپنی نظروں سے دل میں اتار چکا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *