Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 28)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 28)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“بتائیں… کیا آپ بھی میرے لئے وہی محسوس کرتی ہیں جو میں آپ کے لئے کرتا ہوں…”
حریم کو لگا تھا وہ آج سچ جانے بنا اسے یہاں سے جانے نہیں دے گا حریم آنکھیں بند کئے دل ہی دل میں ہمت جمع کرنے لگی
“شاویز…”
ایک گہری سانس چھوڑ کر اس نے سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
“جی کہیں… میں سن رہا ہوں…”
حریم نے بامشکل اپنے جذباتوں پر قابو پانے کی کوشش کی اسے ڈر تھا وہ کچھ زیادہ نہ بول دے
“شاویز دیکھو میں یہ تو نہیں جانتی کہ مجھے تم سے محبت ہے… مگر ہاں یہ سچ ہے مجھے جیلسی ہوتی ہے تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر”
آخر کار دل کی بات زبان پر آ ہی گئی تھی بے ساختہ شاویز کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی تھی جسے دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی تھی
“اس ہی کو محبت کہتے ہیں… حریم جی…”
آج وہ کھل کر اس سے ہر بات کر رہا تھا وہ چاہتا تھا جلد سے جلد ان کے بیچ تمام باتیں کلیئر ہوجائیں وہ اب مزید تاخیر نہیں چاہتا تھا حریم نے ایک نظر اسے دیکھا تھا جو اب تک مسکرا رہا تھا
تب ہی اس کا موبائل بجنے لگا جس پر افتخار صاحب کا نمبر تھا وہ جس کے لبوں پر کچھ لمحے پہلے مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی اب اس کے چہرے کا رنگ اڑتا ہوا دکھ رہا تھا ایک نظر سامنے بیٹھی حریم پر ڈال کر اس نے کال ریسیو کی
“برخوردار گھر کا راستہ بھول گئے ہو یا یاداشت چلی گئی ہے؟؟”
ان کی بھاری آواز پر شاویز نے سامنے رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرا
“وہ… وہ بابا جان ٹریفک بہت ہے… آتا ہوں بس…”
اس نے رومال نکال کر پیشانی پر آئی پسینے کی بوندیں صاف کیں
“اچھا ٹریفک بہت ہے؟؟ جبھی گاڑیوں کا ہارن کافی تیز سنائی دے رہا ہے…”
انہوں نے تنزیہ انداز میں کہا جس پر شاویز کو لگا اس کا جھوٹ پکڑا گیا ہو
“وہ بابا جان میں ٹریفک دیکھ کر یو ٹرن لینے ہی لگا تھا جب مجھے یاد آیا کہ آپ کی دوائیاں بھی تو لینی ہیں… تو بس وہیں جارہا ہوں…”
شاویز نے بات سنبھالی
“ہاں ہاں پتا ہے مجھے کتنی دوائیاں لی جارہی ہیں… حریم بیٹی کو یاد سے لیکر آجانا…خدا حافظ”
وہ جلدی سے فون بند کرتا ہوا سکھ کا سانس لینے لگا جبکہ حریم اسے ہی دیکھ رہی تھی
“آئی تھنک کافی لیٹ ہورہا ہے تو ہمیں جلد سے جلد اپنی آئسکریم ختم کر لینی چاہیے…”
اس نے کتراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی
“ہاں ٹھیک کہا تم نے…”
دونوں اپنی آئسکریم ختم کرنے لگے تاکہ جلد سے جلد گھر جا سکیں
☆★☆★☆★☆
“ائیزل پلیزز رونا بند کرو ہم مل کر سوچتے ہیں نہ اس کا حل”
وہ لوگ لاؤنچ سے موجود تھے ائیزل اتنے دنوں کا بوجھ آج ہلکا کر رہی تھی ضوریز کو اس کے آنسوں تکلیف دے رہے تھے
“ضوریز تم ڈیڈ کو نہیں جانتے انہوں نے وہی کرنا ہے جو وہ چاہتے ہیں”
ائیزل نے اپنی سرخ ناک کو مزید رگڑتے ہوئے کہا
“ابھی وہ مجھے نہیں جانتے… انہیں جو کرنا ہے کریں مجھے جو کرنا ہوگا میں وہی کروں گا”
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا گیا تب ائیزل کا موبائل بجنے لگا
“ریز ڈیڈ کی کال…”
موبائل اسکرین پر ڈیڈ لکھا ہوا چمک رہا تھا
“کال پک کرو اور فون اسپیکر…”
ضوریز نے دھیمے لہجے میں کہا ائیزل نے کال پک کر کے موبائل اسپیکر کیا
“ائیزل کہاں ہو تم؟؟ میں تمہیں کب سے کالز کئے جارہا ہوں…”
دوسری طرف سے اچانک سے دھاڑ سنائی دی
“سوری ڈیڈ میں کچن میں تھی”
اس نے سنجیدگی سے کہا
“خیر… ارتضیٰ شام تک پاکستان پہنچ جائے گا… ہو سکتا ہے وہ آج رات کا ڈنر تمہارے ساتھ کرے… میں تم سے گزارش ہے بیٹا ٹھیک سے پیش آنا اس کی کوئی بھی بات تمہیں اگر نا پسند ہو تو ضبط کرلینا”
کاظم صاحب اسے سمجھانے لگے جبکہ کسی غیر شخص کا نام سن کر ضوریز کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہونے لگے
“ڈیڈ آپ پاکستان کم آرہے ہیں؟؟”
ائیزل نے تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال کیا
“ابھی مجھے تھوڑا وقت درکار ہے بزنس میں تھوڑا مسئلہ چل رہا ہے مگر تم فکر نہ کرو میں کام ختم کرتے ہی پاکستان کی ٹکٹ کروا لوں گا”
کاظم صاحب کی بات پر وہ گہری سانس لینے لگی
“ڈیڈ تو جب آپ آئیں گے ہم تب ہی اس بارے میں بات کرلیں گے نہ… مجھے کسی انجان شخص سے نہیں ملنا”
ائیزل نے پریشان کن انداز میں کہا جبکہ ضوریز کی نظریں ائیزل کے تاثرات کو نوٹ کر رہی تھی
“ائیزل کیا ہوگیا؟؟ میں نے تمہیں کل بھی سمجھایا تھا اور تم نے اس سے ملنے پر حامی بھرلی تھی نہ پھر بار بار مجھے تمہیں کچھ بھی سمجھانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟؟ اور یہ تم بھلہ لڑکوں سے کب سے ہچکچانے لگیں؟؟ ایک وقت تھا جب تم سب لڑکوں پر اکیلی بھاری تھیں یہاں تو پھر صرف ملنا ہے کوئی جنگ تو نہیں کرنی نہ”
کاظم صاحب نے اسے مزید سمجھایا جبکہ ضوریز کاظم صاحب کی ایک بات نوٹ کر کے ائیزل کو سختی سے گھورنے لگا
“اففف ڈیڈ آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں؟؟ میں کیا چاہتی ہوں آپ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟؟”
ائیزل سخت پریشان تھی دوسری طرف وہ ضوریز کے چہرے پر آئے سخت تاثرات کو لے کر خوفزدہ بھی تھی
“ائیزل بس کردو!!! تمہیں اس سے ہر حال میں ملنا ہے… آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا میں جب پاکستان آؤں گا تب بیٹھ کر تمہارے سارے مسئلے حل کردوں گا ایک اور بات… میں جب پاکستان آؤں گا تو تمہیں بہت کچھ بتانا ہے کچھ ایسا جس سے تم خود ہی ارتضیٰ کو اپنا لوگی… خدا حافظ”
وہ اپنی بات مکمل کر کے بنا اس کی کچھ سنے فون بند کر گئے جبکہ وہ سر جھکائے بیٹھی ضوریز کے بولنے کا انتظار کر رہی تھی
“کیا تم نے اس غیر شخص سے ملنے کے لئے حامی بھری تھی؟؟”
ضوریز نے سخت مگر دھیمے لہجے میں سوال کیا جس پر وہ نظر اٹھائے اسے دیکھنے لگی
“ریز وہ…”
“میں پوچھ رہا ہوں کیا تم نے حامی بھری تھی؟؟ ہاں یا نہ؟؟ جواب دو مجھے…”
اس بار اس کا لہجہ واقعی بہت سخت تھا ائیزل کو ڈر لگ رہا تھا کہیں وہ پھر سے نہ روٹھ جائے
“ریز پلیززز تم غلط مت سمجھو میں اس سے نہیں ملنے والی میں نے بس بات کو ٹالنے کے لیے ایسا کہا تھا… اور پھر تم بھی تو غائب تھے نہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا… جو سمجھ آیا کہہ دیا”
ائیزل نے بات کی وضاحت دی جس پر وہ گہری سانس لینے لگا
“تم آج اس سے ملو گی؟؟”
ضوریز کے سوال پر وہ اسے دیکھنے لگی
“ملنا پڑے گا…”
“ٹھیک ہے تو تم اسے خود ڈائریکٹ یہ بات بتادو گی کہ تم کسی اور کو پسند کرتی ہو وہ شادی کے لیے خود منع کردے گا”
ضوریز نے حکم دینے والے انداز میں کہا جس پر وہ حیران رہ گئی
“ریز میں ایسا کیسے…”
تمہیں یہ ہر حال میں کرنا کی ہوگا لیکن اگر تم یہ نہیں کر سکتیں تو صاف بتادو میں خود اس الو کے پٹھے کو اپنے طریقے سے دیکھ لوں گا…”
ضوریز کو آج اس نے کافی غصے میں دیکھا تھا وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلائے اس کی بات مان گئی تو وہ اس کے چہرے کے سخت تاثرات کمزور ہونے لگے
“ریز تم میکرونی کھاؤ گے؟؟ میں نے بنائی ہے بہت مزے کی ہے…”
ائیزل نے بات کو وہیں ختم کرنے کے لیے ایک نئی بات شروع کی
“خیر بھوک تو مجھے بھی بہت لگ رہی ہے میں نے سوچا تھا شام ہم ساتھ باہر ڈنر کریں گے لیکن اب جب تم نے میکرونی بنا ہی لی ہے تو میں کھا لوں گا…”
وہ اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے اسے کہنے لگا جس پر وہ مسکراتے ہوئے کچن میں چلی گئی اس نے جلدی سے ڈائننگ ٹیبل سجایا ضوریز کرسی پر آ بیٹھا
“کھا کر بتاؤ کیسا ہے؟؟”
وہ اس کے مخالف کرسی پر آ بیٹھی اور کہنے لگی جس پر وہ اسے پھر سامنے رکھی میکرونی کو دیکھنے لگا اس نے پہلے پلیٹ میں تھوڑی میکرونی اور کیٹچپ نکالا اور پہلی بائٹ لینے لگا
“افففف ائیزل… یہ کیا ہے؟؟”
ضوریز کے چہرے کے تاثرات سے تو ایسا ہی معلوم ہورہا تھا جیسے ائیزل نے کوئی گڑبڑ کی ہو آئیزل سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“ریز کیا ہوا؟؟ کیا اچھا نہیں بنا؟؟”
ائیزل کے سوال پر وہ اسے گھورنے لگا
“اچھا نہیں بنا؟؟ تم یہ پوچھو کے برا نہیں بنا… اس کھانے سے تو اچھا تھا کہ میں آج اس ہی کمپنی والی اسسٹنٹ کے ساتھ ڈنر کرلیتا…حالانکہ اس نے آفر بھی کی تھی…”
ائیزل جو اس وقت اس کے ہاتھ سے کانٹا لئے میکرونی ٹیسٹ کرنے لگی تھی جس میں نمک کی جگہ اس نے چینی ایڈ کردی تھی وہ ابھی چہرے کے عجیب زاویئے ہی بنا رہی تھی جب ضوریز کی بات پر بے یقینی سے اسے گھورنے لگی
“کیا کہا تم نے؟؟”
ائیزل نے تعجب سے ایبرو اچکائے پوچھا جس پر وہ تھوڑا تھوڑا کترانے لگا
“اب صحیح تو کہا ہے… اس نے مجھے آفر کی تھی اگر وہاں چلا جاتا تو اس کے ساتھ کینڈیل لائٹ ڈنر کرتا… یہ میٹھی میکرونی تو نہ کھانا پڑھتی…”
ضوریز کے کہنے کی دیر تھی وہ کھا جانے والی نظروں سے گھورتی ہوئی وہاں سے اٹھی اور اندر کو چلی گئی
☆★☆★☆★☆
“اسلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ؟؟”
کچھ ہی دیر بعد وہ لوگ گھر پر تھے جب اس نے جھک کر انہیں سلام کیا
“وعلیکم السلام بیٹی میں ٹھیک تم کیسی ہو؟؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں”
انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تب ہی تعبیر کچن سے آئی
“تعبیر آپی کیسی ہیں آپ میں نے آپ کو بہت مس کیا…”
تعبیر کے آتے ہی وہ اس کے گلے لگی جس پر تعبیر نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگایا
“میں بلکل ٹھیک اور میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا”
“سچی میں اب آگئی ہوں نہ اب ہم دونوں مل کر خوب باتیں کریں گے…”
وہ دونوں اپنی باتوں میں مصروف ہوگئی تھیں ان دونوں نے مل کر کھانا ٹیبل پر لگایا اور سب نے ساتھ کھانا کھایا کیونکہ وقت بہت ہوچکا تھا اس لئے حریم اب گھر جانے کی تیاری میں تھی
اس کے جاتے ہی افتخار صاحب نے تعبیر کو کمرے میں بلایا
“جی بابا کہیں آپ کو کچھ چاہئے تھا؟؟”
اس نے سادگی سے سوال کیا
“نہیں بیٹا بیٹھو مجھے ایک اہم بات کرنی ہے…”
ان کی بات پر وہ اس کے پاس جا بیٹھی
“تمہیں حریم کیسی لگتی ہے؟؟”
افتخار صاحب کی بات پر وہ مسکرائی تھی
“بابا جان بہت اچھی لڑکی ہے وہ بن ماں باپ کے بھی کس طرح اس نے اپنے کردار کو بنائے رکھا ہے”
تعبیر کو وہ چھوٹی سی ڈول واقعی میں بہت پیاری لگی تھی
“بلکل صحیح کہا تم نے بیٹا ورنہ بھلہ اکیلے رہنے والی لڑکی کہاں ایسی نکلتی ہوگی…”
ابھی ان کی گفتگو جاری تھی جب وہ بائیک صحن میں کھڑی کرتا ہوا اندر کو آنے لگا
“وہ واقعی بہت اچھی ہے بابا جان آپ بھی وہی سوچ رہے ہیں جو میں سوچ رہی ہوں؟؟”
وہ باہر کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا
“میرے خیال سے پہلے ہمیں اس سے پوچھ لینا چاہئے یوں اچانک بنا اس کی مرضی جانے میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے…”
شاویز سمجھ نہیں پارہا تھا آخر وہ لوگ کس بارے میں بات کر رہے ہیں
“آپ صحیح کہہ رہے ہیں بابا کوئی مناسب موقع دیکھ کر میں اس سے بات کروں گی پھر ہم اس کے گھر چلیں گے…اور پھر میں نے اس کی آنکھوں میں ہمارے شاویز کے لئے پسندیدگی دیکھی ہے بابا”
تعبیر نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر شاویز کے کان کھڑے ہوئے جبکہ پردا ہلنے پر افتخار صاحب سمجھ چکے تھے باہر کوئی ہے
“برخوردار اندر آنے کا کیا کوئی خاص ٹیکس لوگے؟؟”
ان کی بھاری آواز پر جہاں تعبیر باہر دیکھنے لگی وہیں وہ ان بیلنس ہوتا ہوا سامنے آگرا
“شاویز… کیا ہوگیا”
وہ جلدی سے بھاگ کر اسے اٹھانے لگی جو بچوں والے منہ بنائے ڈرامے بازیاں کر رہا تھا
“یہی ہوگا جب چھپ کر بڑوں کی باتیں سنی جائیں گی…”
افتخار صاحب کی بات پر وہ جلدی سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہوا
“باتیں کونسی باتیں؟؟ نہیں بابا جان میں تو یہاں سے گزر رہا تھا اچانک میرا پیر پھنسل گیا اور میں گر گیا…”
اس نے بات بناتے ہوئے اپنی صفائی دی جس پر وہ اسے گھورنے لگے
“گدا کا گدا ہی رہے گا”
انہوں نے ایک بار پھر اس کی عزت افزائی کی جس پر وہ منہ بنائے تعبیر کو دیکھنے لگا جو بامشکل اپنی ہنسی دبائے کھڑی تھی
“کیا مسئلہ ہے بھئی یہاں تو کوئی سکون سے گر بھی نہیں سکتا…”
وہ بڑبڑاتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا جبکہ تعبیر کا قہقہہ نکلا تھا
☆★☆★☆★☆
“ہیئی… ائیززز کم آن یار… مذاق کیا تھا کھا لوں گا میں یہ… کم ہیئر ڈارلنگ…”
وہ اسے منانے والے انداز میں پکارنے لگا جب وہ واپس آتی دکھائی دی
“کھانا تو تمہیں ہر حال میں پڑھے گا مسٹر ضوریز درانی…”
ائیزل نے دانت بیچتے ہوئے کہا جس پر وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا
“کیا مطلب ڈار؟؟”
اس نے تعجب سے پوچھا جب ائیزل نے ساری کی ساری میکرونی اس کی پلیٹ میں نکالی اور اسے کھانے کا اشارہ کرنے لگی وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا
“آر یو سیریس؟؟ میں یہ کھاؤں گا؟؟”
اس نے حیرانی سے اسے دیکھا جو کمر پر ہاتھ تنائے کھڑی تھی
“بلکل تم یہی کھاؤ گے… بہت شوق ہورہا تھا نہ تمہیں اس چڑیل کے ساتھ کینڈیل لائٹ ڈنر کرنے کا… اب یا تو تم اسے پورا ختم کرو گے یا پھر آج کے بعد مجھے اپنی شکل کبھی نہیں دکھاؤ گے…”
ائیزل کی بات پر ضوریز کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا…
“ائیزل کیا بچوں والی باتیں کر رہی ہو؟؟ شکل دیکھی ہے تم نے اس کی میں کیسے کھاؤں گا اسے؟؟ مجھ سے تو دیکھا بھی نہیں جارہا…”
وہ چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بنائے کہنے لگا
“ہاں تو کس نے کہا ہے دیکھو؟؟ یہ پٹی ہے نہ ڈارلنگ میں اسے تمہاری آنکھوں پر باندھ کر تمہیں اپنے ان خوبصورت ہاتھوں سے خود یہ میکرونی کھلاؤں گی…”
وہ چمکتی ہوئی آنکھوں سے کہتی ہوئی اسے تپا چکی تھی
“اچھا ایسا ہے کیا؟؟”
ضوریز نے معصومیت سے پوچھا
“جی ہاں مائے ڈارلنگ بلکل ایسا ہی ہے”
اس نے شوقیہ انداز میں کہا جس پر وہ ایک نظر اسے پھر ایک نظر سامنے رکھی میکرونی کو دیکھنے لگا
“چل بھئی ضوریز درانی… اگر بچ گیا تو پھر ملیں گے”
وہ بیچارگی والے منہ بناتا ہوا خود کلامی کرنے لگا ائیزل نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور پہلی بائٹ کھلانے لگی
“اوپن یوور ماؤتھ ڈارلنگ”
اس نے بڑی نرمی سے کہا جس پر وہ منہ بناتا ہوا اس کی بات پر عمل کرنے لگا پہلا چمچ کھاتے ہی اس نے چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بنائے جس پر بامشکل ائیزل نے اپنی ہنسی دبائی
“کیا ہوا ڈارلنگ؟؟ میکرونی اچھی نہیں بنی کیا؟؟”
اسے اب ضوریز کی حالت پر مزہ آرہا تھا
“کچھ نہیں ڈارلنگ میکرونی واقعی بہت ٹیسٹی بنی ہے… “
اس نے پھر سے منہ بناتے ہوئے کہا
“تو پھر ایسے منہ کیوں بنارہے ہو؟؟”
اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا
“آٹو میٹکلی بن رہے ہیں جان…”
اس نے بچارگی سے کہا پھر کیا ہونا تھا ائیزل اس کی حالت پر لطف اندوز ہوتے ہوئے پوری کی پوری میکرونی اس پر ختم کر گئی تھی وہ بچارا پانی کا پورا جگ خالی کر چکا تھا
☆★☆★☆★☆
ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا شاویز کے بہت اصرار پر تعبیر نے اسے اپنے اور افتخار صاحب کے ارادے کے بارے میں بتادیا تھا اور تعبیر کے پوچھنے پر حریم نے بھی رضامندی ظاہر کی تھی
مگر افتخار صاحب اب مزید پریشان ہوگئے تھے کیونکہ وہ رانگ نمبر انہیں مسلسل تنگ کر رہا تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ نمبر کس کا تھا مگر ان کا شک آج یقین میں بدل چکا تھا کیونکہ دوسری طرف سے ٹوٹی پھوٹی اردو لینگویج میں انہیں دھمکی بھرا میسج ریسیو ہوا تھا
“بابا جان مجھے ایک کام سے جانا ہے میں جلد واپس آجاؤں گا”
اس نے مختصر سے الفاظ کہے اور باہر جانے لگا مگر رکا کیونکہ اس بار انہوں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا تھا
“بابا جان…” وہ ان کے قدموں میں آبیٹھا جس پر ان کی سوچ کا محور ٹوٹا
“ہاں کیا ہوا؟؟”
“بابا جان آپ پریشان ہیں؟؟”
“نہیں تو”
انہوں نے بڑی صفائی سے انکار کیا
“بابا جان اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتائیں”
اس نے فکرمندی سے پوچھا
“نہیں کوئی مسئلہ نہیں تم جاؤ خیریت سے آنا…”
ابھی وہ لوگ ان ہی باتوں میں مصروف تھے جب شاویز کا موبائل رنگ ہوا جس پر کوئی ان نان نمبر تھا
“کون؟؟”
اس نے جیسے ہی فون کال پر لگایا دوسری طرف خاموشی پا کر پوچھنے لگا
“آتش درانی… کیا افتخار صاحب سے بات ہو سکتی ہے؟؟”
وہ جو پہلے ہی ان پر اتنے احسانات کر چکا تھا ایک بار پھر ایک احسان کرنے جارہا تھا
“جی جی سر کیوں نہیں یہ لیں بابا…سر آتش درانی ہیں کال پر”
شاویز تو ایکسائیٹ منٹ میں کھو سا گیا تھا جبکہ آتش درانی کا نام سن کر وہ جو ابھی بھی پالر سے واپس آکر آرام کر رہی تھی کرنٹ کھا کر کمرے کے دروازے کے پیچھے آ کھڑی ہوئی اور بات کو مکمل سننے لگی
“آپ نے پہلے ہی اتنے احسانات کئے ہیں مجھ پر بھلہ مزید کیسے ان کندھوں پر آپ کے کئے احسانات کو سنبھال پاؤں گا میں”
افتخار صاحب کی بات سن کر تعبیر کو تجسّس ہوا
“کیا واقعی؟؟ مگر کتنا وقت لگے گا؟؟”
انہوں نے ایک بات پھر سے کہا
“مجھے نہیں لگتا وہ انڈسٹری کے کاموں کے لیے کبھی راضی ہو پائے گی…لیکن میں پھر بھی کوشش کروں گا مجھے بھروسہ ہے آپ پر…”
تعبیر کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ پریشان ہونے لگی تھی
“جی ضرور خدا حافظ”
انہوں نے فون بند کردیا جبکہ تعبیر واپس بستر پر آ بیٹھی
“آخر یہ شخص ہمارا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہا؟؟”
اس نے اپنا سر پکڑ لیا تھا اسے ڈر تھا کہیں وہ شخص اس کی فیملی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے جتنا وہ پریشان ہو چکی تھی اس سے کئی زیادہ ٹھنڈک اب آتش درانی کے کلیجے میں پڑھ چکی تھی
“مس تعبیر علی… کیا کہا تھا تم نے تم غلام نہیں ہو میری… اب میں بتاؤں گا کہ تمہیں کہ مجھ سے دور بھاگنے کا کیا انجام ہوتا ہے…”
وہ اوپر والے پوشن میں کھڑا ہوا گلاس وال سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا جبکہ حسبِ عادت سگریٹ اس کی انگلیوں میں دبی ہوئی تھی
جاری ہے
