Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 16)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“ایسا کیا ہے تم میں… جو میں تمہاری طرف کھینچا چلا جارہا ہوں”

وہ سرگوشی نما انداز میں کہتا ہوا اسے اب کشمکش میں مبتلا کر گیا تھا وہ اس کے جانے کے تمام راستے بند کر چکا تھا آخر وہ کیا کرنا چاہ رہا تھا

آتش کی قربت سے گھبراتے ہوئے تعبیر نے آنکھیں میچ لیں تھیں وہ اس کی اس ادا پر اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکرائے اسے اس بات کا احساس دلا رہا تھا کہ وہ جو کچھ محسوس کر رہی ہے وہ سمجھ چکا تھا

ابھی کچھ ہی سیکنڈز ہوئے تھے انہیں ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو محسوس کرتے ہوئے جب آتش کا فون رنگ ہوا تو جیسے کوئی خواب ٹوٹ سا گیا ہو وہ قربت سے بیدار ہوتا ہوا اس سے دور ہوا تھا وہ اس کی نیلی آنکھوں میں غصہ دیکھ چکی تھی

آتش نے موبائل جیب سے نکالا اور ایک جھٹکے سے کال اٹینڈ کر کے کان پر لگایا

“میں نے منع کیا تھا نہ…”

وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا کسی آتش فشاں پہاڑ سے کم نہ لگ رہا تھا تعبیر دیکھ رہی تھی وہ کس قدر غصے میں آ چکا تھا اور یہ حال اس کا صرف چند سیکنڈ کے اندر اندر ہوا تھا

“آج کے بعد ادھر کال کی تو یاد رکھنا… برباد کردوں گا”

وہ آخری الفاظ کہتا ہوا تعبیر کو گھورنے لگا تھا شاید وہ اب ہوش میں آچکا تھا اسے یاد آ چکا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی اس کی بات سے کس طرح سے انکار کر کے گئی تھی وہ موبائل واپس کورٹ کے پاکٹ میں رکھتا ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا

“مم مجھے جانا چاہیے”

وہ اسے دوبارا سے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر گھبرائی تھی جس پر وہ اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا

“روکا کس نے ہے؟؟”

وہ ایبرو اچکائے گھورنے لگا جس پر تعبیر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ایک تو وہ اس کا راستہ روکے کھڑا تھا اوپر سے خود ہی کہہ رہا تھا

“لیکن میری ایک شرط ہے”

“کیسی شرط؟؟”

“تعبیر علی کیا تم واقعی اتنی ہی معصوم ہو جتنی دکھائی دیتی ہو…یا پھر تمہارے کئی چہرے ہیں”

وہ تنزیہ انداز میں کہتا ہوا اس کو دیوار سے لگائے خود ایک ہاتھ دیوار پر ٹکا گیا

“کیا مطلب ہے آپ کی بات کا؟؟ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟؟ کیوں بار بار میرے راستے میں آتے ہیں آپ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟؟”

تعبیر بیزار انداز میں کہتی چلی جارہی تھی اس بات سے انجان کے سامنے جو شخص کھڑا تھا وہ کوئی عام شخص نہیں تھا

“Enough…!!!”

اس نے زور دار ہاتھ دیوار پر مارا تھا وہ ڈری تھی اس کی ایسی حرکت پر وہ خوفگی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ کس قدر غصے سے چینخا تھا آتش نے اسے مزید گھورا

“تمہیں اب تک سمجھ نہیں آیا میرا مسئلہ کیا ہے؟؟ تم… تم ہو میرا مسئلہ… ہو کون تم کس بات کی اکڑ ہے تم میں ہاں؟؟”

اس دفعہ وہ مسلسل بولا جارہا تھا تعبیر کو اس کے الفاظ سمجھنے میں دقت ہورہی تھی

“بات سنو تعبیر علی اگر تم چاہتی ہو کہ میں آئیندہ تمہارا راستہ نہ روکوں تو تم آج اس ہی وقت حاشر خانزادہ کی دی ہوئی آفر اس کے منہ پر مارو اور ریجیکٹ کردو اس کی آفر کو آئی سوویر تمہیں اتنی رقم دوں گا کہ تم ساری زندگی گھر بیٹھے گزار سکتی ہو”

آتش کی بات پر تعبیر کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہونے لگے وہ سمجھ گئی تھی وہ ایک بار پھر سے اپنے مقصد کے لیے اسے اس بات پر قائل کرنا چاہ رہا تھا

“اگر تم نے اب دوبارا میری بات سے انکار کیا…تو جان لو بہت برا کروں گا تمہارے ساتھ…بہت بہت برا…”

وہ باقاعدہ اسے ڈراتے ہوئے ایک ایک الفاظ کو چبا کر ادا کر رہا تھا تعبیر نے سہمتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں وہ آخر کس قدر عجیب شخص تھا وہ کس طرح اسے سرِ عام دھمکا رہا تھا مگر تعبیر کو یہاں ہمت کرنی تھی جو وہ دل میں عہد کر چکی تھی

“کیا کر سکتے ہیں آپ میرے ساتھ؟؟ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے مجھے ڈرانے کے لئے؟؟ مجھے جاب سے نکال دیں گے؟؟ تو ٹھیک ہے میں خود ہی یہ جاب چھوڑ دوں گی لیکن مسٹر آتش درانی میں آپ کی یہ پیشکش کبھی قبول نہیں کروں گی”

وہ آنکھیں دکھاتی ہوئی اسے دور دھکیل کر بیڈ کی طرف بڑھی اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنا بیگ اٹھانا چاہا مگر آتش اپنے مظبوط قدموں سے اس کی طرف بڑھا اور اس ہی وقت اس معصوم سی لڑکی کی نازک سی کلائی کو اپنی مظبوط گرفت میں قید کر کے اپنی طرف کھینچا وہ اس کے سینے سے اچانک ٹکرائی تھی

یقیناً آتش درانی کو اس کا یوں خود کو دور دھیکلنا سخت نا گوار گزرا تھا وہ اپنی نیلی آنکھوں میں آگ لئے اسے گھور رہا تھا

“چھوڑیں مجھے”

“حد میں رہو اپنی تعبیر علی… میں کچھ کہہ نہیں رہا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم اپنی من مانی کروگی…شاید تم جانتی نہیں ہو اس وقت تمہارے سامنے کون کھڑا ہے…آتش درانی… جو تمہارے ساتھ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے”

وہ بہت مزاحمت کر رہی تھی مگر مجال ہے جو اس سنگدل شخص کی مظبوط گرفت ذرا بھی ڈھیلی پڑی ہو

“آپ کو مجھے چھونے کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی میں آپ کی غلام ہوں جو آپ کی بات مانوں گی…”

وہ بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کر سکی تھی آتش اب بھی اسے ویسے ہی انداز میں گھور رہا تھا

“آپ آتش درانی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی بھی شخص کو زبردستی اپنی بات منوانے پر آمادہ کریں گے اور نہ ماننے پر اسے دھمکیاں دیا کریں گے میں آپ کی کوئی بات نہیں مانو گی بہتر ہوگا آپ اپنا راستہ بدل لیں اور آئیندہ میرے راستے میں آنے کی مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کیئے گا”

وہ باقاعدہ اس کا ہاتھ غصے سے جھٹکتی ہوئی تلخ کلامی کر گئی تھی جو سامنے کھڑے شخص پر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا آخر وہ اسے سمجھ کیوں نہیں پارہی تھی وہ اسے مجبور کر رہی تھی پہلے جیسا بننے پر مگر وہ بھی آتش درانی وہ اپنی بات منوانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا

تعبیر نے اپنا بیگ لیا اور کمرے سے باہر نکلنے لگی جب پیچھے سے آتی آواز پر اس کے قدم رکے

“بہت بڑی غلطی کر رہی ہو تم…”

“اگر یہ واقعی غلطی ہے تو ایسا ہی صحیح…میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں میں آپ کی غلام نہیں ہوں… اپنا حکم مجھ پر تب ہی چلائیے گا جب میں میں آپ کی غلامی کے لئے رضامند ہو جاؤں…”

وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی جانے لگی مگر رکی

“ایک اور بات… بات بات پر کسی عورت ذات کو ڈرانا دھماکا تو کسی مرد کا کام بلکل بھی نہیں تو میں کیا سمجھوں؟؟…کیا آپ صرف مجھے دھمکیاں ہی دے سکتے ہیں؟؟ ایک نامرد کی طرح”

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا مزید خون کھولہ گئی تھی وہ قدم بڑھاتی ہوئی آگے بڑھ چکی تھی مگر پیچھے کھڑا شخص مٹھیاں بینچیں اسے جاتے دیکھ رہا تھا

“تم جانتی نہیں ہو…تم نے آتش درانی کی مردانگی کو للکارا ہے…تم نے مجھے چیلنج کیا ہے تعبیر علی…میں…آتش درانی قسم کھاتا ہوں کہ اب جب تک تمہیں اپنے تابع نہ کرلوں میں چین سے نہیں بیٹھوں گا…بہت جلد…بعد جلد تم میری چوکھٹ پر ایک غلام کی حیثیت سے پڑی ہوں گی…”

آتش درانی کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا اس کی نیلی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا وہ غصے سے پاگل ہوا جارہا تھا وہ کون تھا کیا تھا یہ تو سب جانتے تھے مگر آج پہلی بار ایک لڑکی اس کی مردانگی پر سوال کر گئی تھی وہ اسے اپنے طریقے سے سبق سکھانے کا ارادہ کر چکا تھا

“وہ وقت دور نہیں جب…جب تم نہ صرف میرے گھر میں…میرے کمرے میں بلکہ… میری باہوں میں ہوں گی…”

آج پہلی بار وہ کسی کو خود سے اپنے قریب کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا

“میں یہ ثابت کر دوں گا کہ تم بھی ان عام لڑکیوں جیسی ہی ہو…”

اس کی آنکھیں اس کا دل اس کے ان الفاظوں کا ساتھ دینے سے قاصر تھے کیونکہ وہ اس کے دل کو دھڑکا گئی تھی مگر وہ اپنے جذباتوں کو قابو کرنا اچھے سے جانتا تھا

☆★☆★☆★☆

شام کا وقت تھا جب وہ اپنا سر پکڑے اپنے کمرے میں قیدیوں کی طرح بیٹھا ہوا تھا نہ اس نے کچھ کھایا تھا نہ ہی کمرے سے باہر نکلا تھا افتخار صاحب نے بھی اسے مصروف سمجھ کر کچھ نہیں کہا تھا مگر وہ موبائل لئے بیٹھا بے یقینی سے کبھی اسکرین تو کبھی اس کتاب کو دیکھ رہا تھا

“کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟ کیا یہ کتاب تب دی جاتی ہے جب کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے…”

شاویز گہری سوچوں میں تھا اس کی آنکھوں کے سامنے حریم کا چہرہ گردش کر رہا تھا

“اس نے مجھے یہ بک واپس کیوں دی؟؟ صرف اس لئے کہ میں اس کا مطلب نہیں جانتا تھا یا پھر اس لئے کہ مجھے اس سے محبت نہیں…”

شاویز نے اس بک کو کھول کر پہلا صفحہ پڑھا وہ جیسے جیسے پڑھتا جارہا تھا اس کے دل میں ایک الگ ہی احساس پیدا ہو رہا تھا جیسے وہ کچھ محسوس کر رہا ہو کوئی ایسا احساس جو اس کے دل میں آسمانوں پر اڑھنے کی تمنا جگا رہا ہو

“تو کیا وہ صرف اس لئے روئی تھی کہ کوئی اس سے دوستی نہیں کرتا؟؟ یا وہ میرے لئے روئی تھی…کیا میں نے اسے واقعی دکھ پہنچایا تھا کیا یہ صرف دوستی میں ہوتا ہے یا اسے مجھ سے پیار ہے؟؟”

وہ انتہائی نرمی سے خود کلامی کر رہا تھا جب اس کی نظر ایک لائن پر گئی

”You don’t love someone for their looks, or their clothes, or for their fancy car”

وہ سوچنے لگا تھا کہ واقعی وہ کچھ بھی نہیں تھا اگر حریم اس سے صرف دوستی بھی رکھنا چاہتی تھی تو نہ تو وہ کوئی امیر زادہ تھا نہ ہی وہ حسین تھا نہ اس نے اسٹائلش تھا نہ وہ مہنگے کمرے پہنتا تھا وہ تو ایک عام سا لڑکا تھا تو کیا حریم واقعی بنا کسی غرض کے اس سے دوستی رکھنا چاہتی تھی

“Love is a strange thing. It can make the weakest person strong and the strongest person weak”

وہ ایک ٹھنڈی سانس فضا کی نظر کر کے کتاب بند کرگیا اس نے سوچ لیا تھا پہلے وہ یہ کتاب پوری پڑھے گا اور جب تک وہ پوشیدہ حقیقت نہ جان لے وہ حریم کی طرف قدم نہیں بڑھائے گا

☆★☆★☆★☆

“ضوریز تم نے کبھی بتایا نہیں کہ تم یہاں اکیلے کیوں رہتے ہو؟؟”

وہ دونوں اس وقت ایک گھنے درخت کی چھاؤں میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے جب باتوں باتوں میں ائیزل نے ضوریز سے سوال کیا تو وہ یک دم خاموش سا ہوگیا

“ضوریز…”

“ہممم”

“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے”

ائیزل نے نرمی سے کہا تھا اسے محسوس ہوا تھا جیسے ایک پل کے لیے ضوریز اداس ہوا تھا

“میں اکیلا ہوں میرا کوئی نہیں ہے”

وہ لاپرواہی سے کہتا ہوا اٹھا اور اچھل کر درخت کی ٹہنی کو پکڑتا ہوا ایکسرسائز کرنے لگا یقیناً وہ بات کو یہیں پر ختم کر دینا چاہتا تھا

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی نہ ہو؟؟ کوئی تو ہوگا…”

ائیزل بھی اٹھ کر اس کے قریب گئی جو اب تک ایکسرسائز کرنے میں مصروف تھا

“آئیز تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو”

ضوریز نے آنکھیں گھمائیں جس پر ائیزل اسے گھورنے لگی وہ ایک جھٹکے سے زمین پر کود لگا کر اپنی کار کی طرف بڑھا

سب سے پہلے اس نے گاڑی سے ایک ٹاول نکال کر اپنی گردن پر لپیٹا پھر پانی کو بوتل نکال کر پانی پینے لگا جبکہ ائیزل اب اس کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں تھی وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی تھی

“کیا مطلب زیادہ سوچ رہی ہوں؟؟ میں جو سوچ رہی ہوں بلکل صحیح سوچ رہی ہوں…”

“مطلب؟؟”

“مطلب جیسے تم دکھتے ہو ویسے ہو نہیں”

وو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر ضوریز نے ایبرو کا زاویہ بنایا

“اچھا؟؟ یعنی پھر سے ایک نیا نک نیم دینے کا وقت آگیا؟؟ کہہ دو غنڈا ہوں میں ڈاکو ہوں چورو چکّا ہوں مسجد سے چپلیں چراتا ہوں”

ضوریز نے آنکھیں گھمائیں اور ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا جبکہ ائیزل اس کی مخالف سیٹ پر بیٹھ گئی

“میں نے ایسا کب کہا؟؟”

“مطلب تو یہی ہوا نہ تمہارے کہنے کا”

ضوریز نے اس ٹاول کو اپنی گردن سے نکال کر اچھال کر پیچھے والی سیٹ پر پھینکا اب وہ گاڑی چلانے کے لیے تیار تھا مگر ائیزل نے اس کا ہاتھ روکا تو وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا

“وہ ڈائمنڈز… کیا وہ واقعی اصلی تھے؟؟”

ائیزل نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا

“اوہ تو میڈم کی سوئی اب تک اس ہی بات پر اٹکی ہوئی ہے…”

“ضوریز بتاؤ نہ جب تک ایسے گھر میں رہتے ہو ایسے حلیے میں رہتے ہو تو تمہارے پاس ریئل ڈائمنڈ کہاں سے آئے؟؟”

ائیزل کے سوال پر وہ جو کب سے بات پلٹنے کی کوشش کر رہا تھا اب ہار مانتا ہوا گاڑی سے اترنے کا اشارہ کرنے لگا

“اترو بتاتا ہوں…”

وہ گاڑی کے فرنٹ پر بیٹھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا جسے تھام کر وہ ایک جھٹکے سے اس کے برابر آ بیٹھی

“دیکھا میری بھی ایک فیملی تھی بٹ میرا مزاج ان سے بلکل مختلف تھا انہیں میری حرکتیں برداشت کرنے میں بلکل مشکل درپیش آتی تھی تو بس میں نے انہیں چھوڑ دیا اور یہاں چلا آیا”

ضوریز نے لاپرواہی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے بتایا جس پر ائیزل ائیبرو اچکانے لگی

“اور وہ ڈائمنڈ؟؟”

اس کی بات پر ایک بار پھر سے وہ کالی آنکھوں والا شہزادہ یک طرفہ مسکرانے لگا

“ہاں ہاں میڈم وہ ڈائمنڈز بلکل اصلی ہیں اور وہ میرے اپنے ہیں…”

“تو تم کوئی کام وغیرہ نہیں کرتے؟؟ تمہاری فیملی تمہیں سپورٹ تو کرتی ہوگی؟؟”

“کام وغیرہ کچھ بھی نہیں بس جب تک دادا جی کی دی ہوئی دولت میرے پاس ہے تب تک گرینڈ فادر کے کیش پر ایش”

وہ ایک مارتا ہوا اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا

“تو تم ایسے گھر میں کیوں رہے ہو میرا مطلب.”

“بتایا تو ہے تمہیں کہ میرا مزاج ان سب سے مختلف تھا”

ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا

“میں بچپن ہی سے ایسا ہوں مطلب مجھے پسند ہے ایسے پھٹیچر حلیے میں رہنا کار کے بونٹ پر بیٹھ کر کھانا کھانا الٹے سیدھے کپڑے پہننا عجیب و غریب جگہوں پر رہنا بس یہی وجہ ہے جو میں انہیں چھوڑ آیا…”

ائیزل کی نظر اس کے ہاتھ پر گئی تھیں جہاں ایک ہتھیلی پر رومال بندھا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کی بیچ والی انگلی پر ٹیپ لگا ہوا تھا

“انہیں میرے ساتھ رہنا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا ان سب میں انہیں شرم محسوس ہوتی تھی… مطلب ان کا اسٹینڈرڈ ہائی ہے انکا اٹھنا بیٹھنا اپنے جیسے لوگوں میں ہے اور میرے بچپن ہی سے سارے دوست حرامی ٹائپ تھے اور مجھے ایسے عجیب و غریب لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند ہے”

ضوریز کی باتیں سن کر اسے واقعی اس بات پر یقین ہو چکا تھا کہ ضوریز سب سے الگ ہے شاید اس جیسا کوئی بھی کہیں بھی نہیں ہوسکتا

“تو تمہارے ڈیڈ نے تمہیں روکا نہیں؟؟ میرا مطلب جب تک گھر چھوڑ کر یہاں آگئے تو… کیا وہ بھی یہیں رہتے ہیں؟؟”

ائیزل بڑی دلچسپی سے اس کے جواب کی منتظر تھی

“ڈیڈ؟؟ ڈی جو ہیں والد ہمارے وہ بچپن ہی سے مجھ سے پریشان رہتے تھے…ان کی اور میری کبھی بھی نہیں بنی… یہ جتنا وقت بھی میں نے اپنے گھر میں گزارا ہے یہ میرے گرینڈ فادر کی وجہ سے ممکن ہوا ورنہ مجھے نہیں لگتا میرے پیدا ہونے کے بعد سے میرے ڈیڈ ایک بھی بار مجھے گھر میں گھسنے دینے والے تھے”

اپنی مڈل فنگر سے اس نے اپنے لبوں کو کھجایا اس کی مڈل فنگر میں جو ٹیپ تھا یقیناً وہ بھی اس کے عجیب و غریب اسٹائل کا ایک حصہ تھا

“اور تو مطلب تم دادا کے لاڈلے ہو؟؟ تو کیا تمہارے دادا نے بھی تمہیں نہیں روکا؟؟ انہیں تو روکنا چاہیے تھا نہ…”

وہ بڑی حیرانی سے کہنے لگی جس پر ضوریز نے اسے دیکھا اور نظریں جھکا کر ہلکا سا مسکرایا

“میرے دادا نے جب اس دنیا کو چھوڑا بس اس ہی دن میں نے بھی اس گھر کو چھوڑ دیا…”

“اوہ…سوری مجھے پتا نہیں تھا کہ…”

“کوئی بات نہیں اور ویسے بھی میرے ڈیڈ کہاں رکھنے والے ہیں مجھے اپنے ساتھ تمہیں پتا ہے جب میں اٹھارہ کا ہوا تھا تب مجھے ڈیڈ نے بزنس سنبھالنے کا کہا تھا میں نے انہیں بہت منع کیا مگر وہ نہیں مانے اور صرف ایک دن انہوں نے مجھے اپنے آفس میں کام سمجھنے کے لیے بلایا”

ضوریز کی باتوں سے وہ مزید تجسس میں آرہی تھی اسے ضوریز کی باتیں بلکل الگ مگر بہت دلچسپ لگ رہی تھیں

“پھر؟؟”

“پھر کیا؟؟ وہ پہلا دن ہی میرا آخری دن تھا والد صاحب نے تشریف پر لات رسید کر کے مجھے اپنی ہولڈنگ سے باہر نکالا تھا”

جس انداز میں ضوریز نے اپنی بات مکمل کی تھی ائیزل قہقہہ لگائے بنا نہ رہ سکی

“کیا واقعی؟؟ مگر تم نے ایسا بھی کیا کیا تھا؟؟”

جب وہ ہنس ہنس کر تھک گئی تب پوچھنے لگی جس پر ضوریز سر کھجانے لگا

“کچھ خاص نہیں بس… انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ دیا تھا پیپرز تیار کرنے… مگر میں اس میں انگلش مووی دیکھنے بیٹھ گیا…”

“بس اتنی سی بات؟؟”

اس نے ایک اور بار اپنی ہنسی دبائی

“وہ ایکچلی میں نے ان کے آفس کے تمام امپلوئیز کا ایک گروپ ہے جہاں شاید کام کے حوالے سے کوئی چیٹ ویٹ کی جاتی ہوگی مجھے اس مووی کا دوسرا پارٹ نہیں مل رہا تھا تو میں نے ان کے امپلوئیز کے گروپ میں اس مووی کا لنک شیئر کردیا اور کہا کچھ بھی کر کے مجھے اس کا پارٹ ٹو ڈھونڈ کر دو صرف پانچ منٹ کے اندر اندر ورنہ تم سب کی نوکری گئی”

ائیزل بڑی حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی

“کیا؟؟ پھر”

“پھر کیا ہونا تھا پورے آفس میں شور مچ گیا ہر طرف افراتفری مچ گئی ایک عجیب سا ہنگامہ برپا ہوگیا پورا اسٹاف تمام کان چھوڑ کر اس مووی کا سیکنڈ پارٹ ڈھونڈنے میں لگ گیا اور میں اندر آرام سے بیٹھا بریانی سے انصاف کر رہا تھا”

ضوریز کی باتوں پر ائیزل کا دل کر رہا تھا وہ ہنس ہنس کر پاگل ہو جائے اور وہ ہنسی بھی تھی جبکہ ضوریز کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے پاک تھا

“تو اس لئے تمہیں تمہارے ڈیڈ نے آفس سے بے دخل کردیا ویسے پھر پارٹ ٹو کا کیا بنا؟؟ کیا ملا وہ؟؟”

اس نے بڑی دلچسپی سے اپنے بکھرے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے سوال کیا جبکہ ضوریز کی نظر اس کی گردن کی نازک سی بے داغ اسکن پر تھی

“کہاں سے ملے گا؟؟ جب اس کا پارٹ ٹو ابھی ریلیز ہی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے صرف تشریف پر گستاخی کر کے مجھے نا صرف آفس سے باہر نکالا بلکہ سارے اسٹاف کے سامنے سیکیورٹی سے کہا کہ اگر یہ بندا یہاں آس پاس بھی نظر آیا تو اسے پکڑوا کر تھانے میں ڈلوا دینا”

وہ اپنی بات مکمل کر رہا تھا مگر اب تک اس کی نظریں کہیں اور ہی تھی اس بات سے بے خبر وہ سامنے بیٹھی لڑکی مسلسل ہنسی ہی جارہی تھی

“ویسے ماننا پڑے گا تم واقعی بہت کمال ہو…اور مجھے اپنے جیسے عجیب و غریب لوگ بہت پسند ہیں جیسے تم”

ائیزل نے بے دھیان میں اس کا بازوں پکڑا تھا وہ اس کے ساتھ لگی ان تک ہنسنے میں مصروف تھی جبکہ ضوریز اس کی قربت سے بہکا تھا وہ الگ ہی نظروں سے اسے دیکھا جارہا تھا جو وہ محسوس کر رہا تھا کیا واقعی اسے اس سے اس بات کا اظہار کردینا چاہئے تھا…

☆★☆★☆★☆

“دراصل مجھے آپ سے یہ کہنا تھا کہ میں یہاں جس کام کے لیے آئی ہوں میں چاہتی ہوں وہ جلد از جلد مکمل ہوجائے میں مزید یہاں رکنا نہیں چاہتی”

آج حاشر خانزادہ نے انہیں ڈنر پر انوایٹ کیا تھا کیونکہ آج اس کا پاؤں بلکل ٹھیک ہو چکا تھا انہیں ایک دن بعد سے شوٹنگ اسٹارٹ کرنی تھی

“رائٹ مس تعبیر مگر کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپکو یہاں رہنے میں کوئی پرابلم ہے؟؟”

حاشر نے بائٹ لیتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نظریں جھکا گئی جبکہ رائمہ کو وہ صبح سے بہت ڈسٹرب دکھائی دے رہی تھی

“دراصل میرے بابا جان کی طبیعت بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے مجھے واپس اپنے سٹی جانا ہوگا اور میں چاہتی ہوں یہ سب کل ہی پورا ہوجائے”

رائمہ کو ٹھسکا لگا تھا اس کی بات پر جس پر ہنی نے پانی کا گلاس آگے بڑھایا تھا رائمہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی آخر ایسا تو کچھ بھی نہ تھا جیسا وہ بتا رہی تھی تو کیا وہ جھوٹ کہہ رہی تھی

“اوہ اللّٰہ پاک آپکے بابا جو جلد شفایاب کرے اینڈ ویسے بھی میں نے یہی کہنے کے لیے آپ کو یہاں انوائیٹ کیا تھا کہ اب میں بلکل ٹھیک ہو چکا ہوں تو یہ ٹیٹو کا کام مکمل کرلیا جائے تاکہ میری شوٹنگ اب مزید ڈلے نہ ہو”

حاشر کے بات کرنے کی ادا پر رائمہ پاگلوں کی طرح مسکراتے ہوئے اسے دیکھی جارہی تھی

“جی بہتر تو کل ہم یہ کام مکمل کرلیں گے اور شام کو واپسی کے لیے نکل جائیں گے ٹھیک ہے نہ ہنی؟؟”

“جی ہاں تعبیر”

ہنی جو کب سے حاشر میں گم ہوچکی تھی تعبیر کی بات پر ہوش میں آئی

ان لوگوں نے ڈنر کیا اور واپس سامنے والے اپارٹمنٹ پر آگئیں

“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے؟؟ اتنا بڑا اسٹار جس نے ہمیں ڈنر پر بلایا جس سے ملنے کے لئے جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں اس نے آج ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تم اس کے سامنے اپنا حکم سنا رہی تھیں؟؟ وہ بھی جھوٹ کی بنیاد پر”

وہ جیسے ہی کمرے میں آئی رائمہ اس کے سر پر سوار اسے باتیں سنانے لگی تعبیر خاموشی سے اپنی جگہ پر جا بیٹھی جبکہ رائمہ اب اس کے سامنے آبیٹھی تھی

“بتاؤ تم نے جھوٹ کیوں کہا؟؟”

“میں نے کب جھوٹ کہا ہے کیا بابا کی طبیعت اکثر خراب نہیں رہتی؟؟”

تعبیر نے نظریں چرائیں جس پر رائمہ مزید اس کے قریب آئی

“بس کردو تعبیر ابھی تو خراب نہیں تھی نہ اور ویسے بھی تمہیں بہت شوق ہے ہر گولڈن چانس کو گوانے کا”

“رائمہ بات کو سمجھو ہم مزید یہاں نہیں رک سکتے”

“مگر کیوں؟؟”

رائمہ نے بچارگی والا منہ بنایا جس پر تعبیر نے اسے سب سچ بتانے کا فیصلہ کیا

“بتاؤ نہ کیا وجہ ہے جو تم ایسا کر رہی ہو؟؟”

“آتش درانی…”

تعبیر کے منہ سے آتش کا نام سن کر وہ شاکڈ ہوئی اور مزید اس کے قریب آئی

“مطلب… آتش درانی؟؟ وہ کیسے”

رائمہ کی حیرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے تعبیر نے اسے آج دوپہر کا سارا واقعہ بتایا تھا جسے سن کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی

“تعبیر تم ہوش میں تو ہو؟؟ بھلہ وہ بازیگر تم سے کیوں دشمنی کرے گا؟؟ وہ کہاں تم کہاں وہ بھلہ ہم جیسے چھوٹے لوگوں سے کیوں الجھنا چاہے گا؟؟”

“یہی تو میں سمجھ نہیں پارہی اگر اسے سر حاشر سے کوئی مسئلہ ہے تو جاکے انہیں کہیں میرا کیوں جینا حرام کر رہا ہے وہ سرپھرا انسان”

تعبیر کی بات پر رائمہ اسے آنکھیں دکھانے لگی

“بات سنو بی بی تم جانتی ہو تم کس کے بارے میں بات کر رہی ہو؟؟”

“جانتی ہوں، ایک سر پھرے بدمعاش بگڑے ہوئے اسٹار آتش درانی کے بارے میں بات کر رہی ہوں میں، جو ہر ایک کے ساتھ الجھتا ہے پبلک پلیس پر لوگوں کو مارتا پیٹتا ہے اور اب عورت ذات سے مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے”

تعبیر نے ایک ایک الفاظ کو چبا کر ادا کیا جس پر رائمہ بے یقینی سے اسے گھورنے لگی

“بات سن سینوریٹا مانا وہ غصے کا تیز ہے اور پبلک پر سرعام لوگوں سے اپنا بدلہ لے لیتا ہے لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ برا ہے وہ ان لوگوں سے لاکھ درجے بہتر ہے جو لوگ اس پر پیچھے سے وار کرتے ہیں”

مانا کہ رائمہ کے لیے ایک ایکٹر کے ساتھ بیٹھ کر ڈنر کرنا ایک حسین لمحات میں سے ایک تھا لیکن کرش اس کا اب بھی آتش درانی ہی تھا

“تم اس کی اتنی سائٹ کیوں لے رہی ہو؟؟ رشتے دار لھےا ہے تمہارا؟؟”

تعبیر نے بھی اسے آنکھیں دکھائیں

“جو بھی ہو لیکن آتش درانی کا لیول بہت اونچا ہے اس ہی لئے اس تک پہنچنے کے لیے دوسرے چھوٹے موٹے ایکٹرز اس کا نام خراب کرنے کے لیے یہ سب سازشیں کرتے ہیں مگر افسوس… انکی تمام چالیں ہمیشہ نہ کام ہو جاتی ہیں اور ہمارے آتش درانی کی عزت میں اور اس کے چاہنے والوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے”

رائمہ نے اسے جتانے والے انداز میں کہا

“تم جو بھی کہہ دو مگر میری نظر میں اس شخص کی رائے کو تبدیل نہیں کر سکتیں”

تعبیر نے بھی سختی سے کہا اور کمفرڈ اوڑھ کر سوگئی

“پھر جس گدھے انسان نے بھی تمہارے ذہن میں ہمارے بازیگر اے ڈی کے لئے ایسی رائے قائم کی ہے اس کے منہ پر لعنت”

وہ غصے سے کہتی ہوئی صوفے پر چلی گئی جبکہ تعبیر کمفرڈ کے اندر اندر ہی شرم سے پانی ہوگئی کیونکہ جسے وہ گدھا کہہ کر مخاطب کر گئی تھی وہ اس بات سے انجان تھی کہ اس وقت وہ اس ہی گدھے کے اپارٹمنٹ پر موجود ہے

☆★☆★☆★☆

وہ اس وقت اپنے محل نما فارم ہاؤس میں موجود تالاب نما سوئمنگ پول میں سوئمنگ کرنے میں مصروف تھا وہ آج کے واقعے کو لے کر اب تک غصے میں تھا وہ سمجھ چکا تھا تعبیر اپنی بات سے ہٹنے والی نہیں ہے

اس نے اپنے چہرے کو پانی سے بھگوکر باہر کیا اور ایک اسٹائل سے وہ تیرتا ہوا کنارے پر آیا اور سوئمنگ پول سے باہر قدم رکھا سامنے رکھا ٹاول لئے وہ اپنے ورزشی جسم کو سکھا رہا تھا اپنے گیلے بالوں کو انگلیوں سے سہلاتا ہوا وہ کرسی پر آ بیٹھا اور سائٹ ٹیبل پر رکھے جوس کے گلاس کو لبوں سے لگا گیا

“تعبیر علی…یا تو تم واقعی مجھے نہیں جانتی یا پھر جانتے بوجھتے ہوئے بھی تم ایک سوئے ہوئے شیر کی گہری نیند میں خلل کی وجہ بنتی جارہی ہو… مگر تم نہیں جانتی یہ سویا ہوا شیر اگر اپنی نیند سے بیدار ہوا تو یہ کتنا بپھرا ہوا جانور ہے اس بات کا اندازہ تمہیں بہت جلد ہو جائے گا”

وہ زیرِ لب کہتا ہوا موبائل فون پر نظریں جمائے بیٹھ گیا وہ اپنے دماغ میں پھر سے کوئی نئی ترکیب سوچ رہا تھا وہ چاہتا تو ایک گھنٹے کے اندر اندر تعبیر علی کو لائن پر لا سکتا تھا مگر نجانے کیوں اس کا دل نہیں مان رہا تھا کہ وہ اس معصوم لڑکی کے ساتھ کوئی سختی برتے بس یہی وجہ تھی جو وہ اتنا بےچین تھا ورنہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو گھر بیٹھے ایک کال پر تمام معاملات حل کروا سکتے ہیں

کچھ دیر وہ یوں ہی بیٹھا ہوا موبائل میں اس کی پکچر دیکھتا رہا جو اس دن اس کے روم میں لگے کیمرے کی ریکارڈنگ میں سیف ہو چکی تھی پھر اس کے دماغ میں کچھ سوجھا کچھ ایسا جس سے اس کے لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اس نے جلدی سے باضل کے نمبر ڈائیل کیا

“مجھے اس لڑکی کی ایک ایک پل کی خبر چاہئے، کب کس وقت کس طرح کس کے ساتھ وہ کہاں کہاں جارہی ہے کیا کر رہی ہے سب کچھ جاننا ہے مجھے…”

اپنی بات مکمل کر کے وہ فون بند کر چکا تھا مگر اب اس کی نیلی آنکھوں میں خون کے بجائے چمک دکھائی دے رہی تھی یقیناً ایک بار پھر وہ اس سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *