Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 43)Part 1
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 43)Part 1
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
”تب تب میرا دل جھلستا ہے
جب جب تو کسی اور کے ساتھ ہنستا ہے۔۔۔“
ہاتھ میں موبائل لئے وہ نم آنکھوں سے اسکرین پر آج کی وائرل پکچرز دیکھ رہی تھی دو ہفتے ہو چکے تھے ان کے اظہار کو مگر اب مزید وہ آتش کو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ پا رہی تھی البتہ وہ ظاہر نہیں کرتی تھی مگر اسے کہیں نہ کہیں آتش کا کرن جابر کے ساتھ کام کرنا زہر لگنے لگا تھا
“آخر کیوں میں ایسا محسوس کر رہی ہوں۔۔۔ انہوں نے بار بار مجھے یہ باور کرایا ہے کہ وہ صرف میرے ہیں صرف میرے۔۔۔ بھلہ کیسے میں ان پر شک کر سکتی ہوں کیسے؟؟”
موبائل بیڈ پر رکھتے ہوئے وہ خود بھی ایک جھٹکے سے بیٹھی تھی وہ یہ بات آتش کو بتا چکی تھی کہ اب وہ مزید یہاں نہیں رہ سکتی کیونکہ پہلے کی بات الگ تھی اور اب کی الگ ہے مگر آتش کے بہتر اصرار پر تعبیر یہاں رکی ہوئی تھی
لیکن اگلے ہفتے وہ یہاں سے جانے والی تھی واپس اپنے شہر۔۔۔ آتش اس کا پہلے سے زیادہ احترام کرنے لگا تھا وہ اس سے فاصلے پر رہ کر بات کرتا تھا وہ تعبیر سے دین اسلام کے بارے میں کافی کچھ معلوم کرتا رہتا تھا
تعبیر اسے لے کر خوش تھی اس میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں مگر کچھ تھا جو اب بھی نہیں بدلا تھا وہ تھا آتش کا شوٹنگ پر نامحرم کے ساتھ کام کرنا ساتھ ہنسنا ایک دوسرے کو چھونا یہ سب تعبیر کی اب برداشت سے باہر ہوتا جارہا تھا
“غلطی ان کی نہیں میری ہے۔۔۔ ان سے اظہار کرنے سے پہلے مجھے یہ سوچنا چاہئے تھا۔۔۔ کہ وہ کوئی عام انسان نہیں ایک آرٹسٹ ہیں۔۔۔”
تعبیر دل کے مقام پر ہاتھ رکھے سوچنے لگی اسے اپنا آپ ایک بار پھر عجیب دوراہے پر محسوس ہورہا تھا جیسے ایک بوسیدہ پہاڑ پر وہ تنہا کھڑی ہو آگے گہری کھائی ہو جیسے اسے ڈر ہو وہ اچانک سے چکرا کر گر جائے گی
اچانک سے دروازے پر دستک ہوئی جس سے اس کی سوچ کا محور ٹوٹا وہ چونک کر کھڑی ہوئی جب دروازہ کھول کر وہ مسکراتا ہوا اندر آیا تعبیر خفگی سے اسے دیکھنے لگی آتش کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی جب اس نے اپنی پلیں جھکائیں تھیں
“کیسی ہو تعبیر۔۔۔ تمہیں پتا آج کتنا مس کیا تمہیں میں نے۔۔۔ ایک پل بھی تمہارے بنا گزارنا مشکل ہورہا تھا میرا۔۔۔ سیٹ پر ہر جگہ صرف تم ہی تم نظر آرہی تھیں۔۔۔ پتا ہے میرا بلکل بھی دل نہیں تھا آج وہاں کام کرنے کا۔۔۔”
آتش نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے خوشگوار لہجے میں بڑی اپنائیت سے کہا جس پر وہ منہ پھیر کر بیڈ پر بکھرے کپڑے سمیٹنے لگی آتش کو اس کا یہ انداز کچھ سمجھ نہیں آیا وہ اتنی خاموش تو نہ رہتی تھی
جب اسے ان کے بیچ اظہار ہوا تھا تب سے تعبیر ہمیشہ آتش سے ہنس کر بات کیا کرتی تھی اور وہ آتش درانی جو کسی سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا تھا نہ کسی کی بات سنتا تھا۔۔۔ اب وہی آتش اکثر ناصرف تعبیر کی باتیں سنتا تھا بلکہ گھنٹوں بیٹھ کر اس سے باتیں بھی کیا کرتا تھا
“تعبیر۔۔۔ کیا ہوا؟؟ تمہاری تعبیر تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔”
آتش نے دو قدم آگے بڑھ کر سنجیدگی سے کہا مگر وہ یوں ہی اسے نظر انداز کر کے اپنے کام میں مصروف رہی اب وہ سمجھ چکا تھا تعبیر کا موڈ خراب ہے۔۔۔ مگر اصل وجہ اسے اب تک نہیں پتا تھی
“اتنی چپ چپ کیوں ہو تعبیر؟؟ روز شوٹ سے واپس آتے ہی مجھے تمہارا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آتا تھا مگر آج۔۔۔ آج تک اتنی خاموش کیوں ہو؟؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری۔۔۔ ادھر دکھاؤ۔۔۔”
وہ جیسے ہی فکر مندی سے کہتا ہوا اسے بازوؤں سے تھام کر اپنے قریب کرنے لگا تھا تعبیر نے مزاحمت کر کے اپنا آپ چڑایا تھا وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا تعبیر کے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب سے لگ رہے تھے
“تعبیر واٹ ہیپن؟؟ آخر کیوں کر رہی ہو ایسے ری ایکٹس۔۔۔؟؟ بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟؟”
آتش کو اس کا یوں فاصلہ بنانا سخت ناگوار گزرا تھا جب سے ان دونوں کے بیچ محبت کا رشتہ شروع ہوا تھا تب سے ایک بھی بار آتش نے تعبیر سے سخت لہجے میں بات تک نہیں کی تھی اور وہ آج بھی ضبط کئے کھڑا تھا
“کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔۔۔ پلیززز آپ جائیں یہاں سے۔۔۔میں مصروف ہوں”
وہ خفگی سے کہتی ہوئی پلٹنے لگی آتش کی اب برداشت سے باہر ہو چکا تھا آتش نے مضبوطی سے اس کا بازوں جکڑا اسے بے انتہا قریب کر کے وہ اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں جھانکنے لگا
“تمہاری تمام مصروفیات مجھ سے منسلک ہونی چاہیں۔۔۔ میری موجودگی میں میرے ہوتے ہوئے میرے علاؤہ تم کسی اور چیز میں مصروف رہو یہ مجھے گوارہ نہیں۔۔۔”
وہ گمبھیر لہجے میں کہتا ہوا اپنی گرم سانسیں اس کے چہرے پر چھوڑنے لگا تھا وہ گھبراتی ہوئی نظریں جھکائے کھڑی تھی
“آاتش۔۔۔ دور ہٹیں پلیز۔۔۔”
وہ بامشکل یہ کہتی ہوئی مزاحمت کرنے لگی مگر آتش کی گرفت اس کے بازوؤں پر مزید تنگ ہو چکی تھی وہ اپنی پرکشش نیلی آنکھوں سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا
“پہلے مجھے بتاؤ۔۔۔ ایسے رویے کی وجہ کیا ہے؟؟ اتنی بے رخی مجھ سے؟؟ آخر کیوں؟؟”
آتش کے پوچھنے پر ایک شکوہ کن نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے وہ نظریں جھکا گئی اچانک سے ایک اشک ٹوٹ کر چہرے پر بہنے لگا جسے دیکھ کر آتش کے تاثرات کمزور پڑھنے لگے وہ نرمی سے اس کے بازؤں کو آزاد کرتے ہوئے تھوڑا دور ہوا
“تعبیر۔۔۔ تم رو رہی ہو؟؟ آئی ایم۔۔۔ سو سو سوری۔۔۔”
آتش نے نرم لہجے میں کہا جبکہ وہ اب تک نظریں جھکائے کھڑی تھی آنسوؤں کی برسات شروع ہو چکی تھی
“تعبیر تمہیں خدا کا واسطہ ہے مت ڈراؤ مجھے۔۔۔ بتاؤ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے؟؟”
ایک کشمکش میں کہتا ہوا اس کے پھر سے قریب آیا
“آاپ نے کہا تھا آپ۔۔۔ لنچ واپس آکر۔۔۔ کریں گے مگر آپ۔۔۔ آپ کرن کے ساتھ تھے۔۔۔ آپ کہہ رہے ہیں۔۔۔ آپ کا سیٹ پر دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ مگر آپ وہاں بلکل پرجوش انداز میں کام کر رہے تھے۔۔۔ آپ کو میری یاد نہیں آئی تھی۔۔۔ آپ نے جھوٹ کہا مجھ سے۔۔۔”
وہ آج پہلی بار اس سے شکایت کرتے ہوئے رو پڑھی تھی اچانک سے آتش کا دل کیا اسے خود میں بیچ لے مگر وہ ایسا نہ کر سکا البتہ آگے بڑھ کر اسے بازوؤں سے تھام ضرور لیا تھا
“میری جان۔۔۔ آئی ایم سو سوری مجھے لیٹ ہوگیا تھا ٹیم نے انسسٹ کیا تو وہیں لنچ کرلیا بٹ آئی سوویر میں تمہیں نہیں بھولا تھا۔۔۔ پلیزز مجھے معاف کردو۔۔۔ آئیندہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ٹرسٹ می۔۔۔”
آتش نے اس کا رخ اپنی جانب کرکے محبت بھرے لہجے میں کہا جس پر تعبیر معصومیت سے بھرپور انداز میں اسے دیکھنے لگی آتش نے ہاتھ کے پور سے اس کے آنسؤوں کو صاف کیا
“سوری۔۔۔ پلیززز فورگیو می۔۔۔ نیکسٹ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ پرومس۔۔۔”
آتش کے اتنے پیار سے منانے پر تعبیر کا دل جیسے پگھل سا گیا تھا وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس سے دور ہوئی
“ویل مائے سینوریٹا۔۔۔ تمہیں پتا ہے آج مجھے بہت شدید ہیڈیک ہورہا ہے۔۔۔ آپ کے بازیگر کو کپ چائے مل سکتی ہے پلیز۔۔۔”
آتش نے التجائی انداز میں کہا جس پر نا چاہتے ہوئے بھی تعبیر کے لبوں پر حسین مسکراہٹ بکھرنے لگی جس کا مطلب صاف تھا وہ اب ناراض نہیں تھی
“آپ چلیں میں ابھی بنا دیتی ہوں۔۔۔”
تعبیر نے مسکراتے ہوئے نرم لہجے میں کہا
“اوکے مائے سینوریٹا۔۔۔ میں باہر لان میں ہوں۔۔۔ وہیں آجانا ہمیشہ کی طرح چائے ساتھ پیئیں گے”
آتش مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ اس کے تمام شکوے شکایت وہ ختم کر گیا تھا
وہ جب چائے بنا کر لان کی جانب بڑھی تو آتش کسی سے کال پر مصروف تھا اسے آتا دیکھ کر کال ڈسکنیکٹ کرکے اس کی جانب متوجہ ہوا تعبیر نے چائے کا کپ اس کی جانب بڑھایا جسے تھام کر وہ تعبیر کو دیکھنے لگا
“آتش اگر سر درد زیادہ ہورہا ہے تو میں پین کلر دوں؟؟”
تعبیر نے دیکھا تھا وہ بار بار اپنی پیشانی مسل رہا تھا تعبیر کے فکرمندی سے پوچھنے پر آتش نے نفی میں سر ہلایا
“تمہارے ہاتھ کی چائے پین کلر سے زیادہ فائدے مند ہے۔۔۔”
آتش نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ بلش کر گئی اب وہ دونوں بہت سے باتوں میں مصروف وقفے وقفے سے چائے کا سپ لے رہے تھے کہ جب باتوں باتوں میں اچانک آتش سنجیدہ سا ہوا
“کیا تم واقعی واپس جارہی ہو؟؟ تعبیر میں نے کہا تھا نہ یہ پروجیکٹ کمپلیٹ ہوجائے پھر ہم ساتھ ہی کراچی چلیں گے۔۔۔ پھر آخر اتنی جلدی کیوں ہے تمہیں؟؟”
آتش اس کے جانے کا سن کر کافی اداس سا ہوا تھا جس پر تعبیر سنجیدہ سی اسے دیکھ رہی تھی
“آتش آپ بات کو کیوں نہیں سمجھ رہے۔۔۔ ہم ساتھ کراچی جائیں گے پھر جب آپ بابا سے میرے رشتے کی بات کریں گے تو کیا سوچیں گے وہ؟؟ سوچا ہے آپ نے کبھی کیا ہوگا جب انہیں ہمارے بارے میں پتا چلے گا۔۔۔ اس لئے میں چاہتی ہوں مزید یہاں نہ رہوں اور واپس کراچی چلے جاؤں تاکہ میری یہاں جاب کرنے کی بات تھوڑی پرانی ہوجائے۔۔۔”
تعبیر نے نرم لہجے میں اسے سمجھانا چاہا جس پر وہ ہاتھ کی مزید بنائے لب بیچتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا شاید وہ ضبط کر رہا تھا
“کبھی سوچا ہے تمہارے جانے کے بعد میں یہاں کیسے رہوں گا؟؟”
آتش نے گمبھیر لہجے میں کہا تھا تعبیر ایک پل کے لیے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی تھی آخر کتنا حسین تھا وہ کیسے بآسانی وہ کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ سکتا تھا بلکہ جکڑ چکا تھا
“آتش محبت اتنی آسان تو نہیں ہوتی نہ۔۔۔ بہت سی مشکلات سے گزر کر ہی انسان اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔۔۔ اور پھر آپ تو بڑی بڑی مشکلات کو فیس کر چکے ہیں۔۔۔ یہ تو بس کچھ ہی مہینوں کی بات ہے نہ۔۔۔”
تعبیر نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ بے چینی سے اسے دیکھنے لگا
“یہ کچھ مہینوں کی نہیں میرے دل کی بھی بات ہے تعبیر۔۔۔”
آتش نے جس شدت سے یہ الفاظ کہے تھے تعبیر کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنا ارادہ بدل دے مگر ایسا ممکن نہ تھا مگر آتش بھی تو اسے خود سے دور کرنے کے ارادے نہیں رکھتا تھا
“تعبیر میں نہیں رہ سکتا ایک پل بھی تمہارے بنا۔۔۔ کیوں نہیں سمجھ رہیں میری بات کو تم ہاں؟؟ پاگل ہو جاتا ہوں میں تمہارے بنا۔۔۔ ایک بار پھر اس وقت سے نہیں گزرنا چاہتا جو وقت تمہارے بنا تنہا گزارا تھا۔۔۔”
آتش اس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا جس پر کچھ دیر وہ یوں ہی خاموش رہی آتش اسے یوں ہی تکتا رہا
“آتش ہمارے درمیان کوئی مظبوط رشتہ قائم نہیں ہوا۔۔۔ ہم کیسے ساتھ رہ سکتے ہیں؟؟”
تعبیر نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے سوال کیا جس پر آتش اسے دیکھنے لگا
“محبت سے زیادہ مظبوط رشتہ بھی کوئی ہو سکتا ہے کیا؟؟”
آتش نے جس استحقاق سے کہا تھا تعبیر اسے دیکھتی رہ گئی تھی
“لیکن ہم مذہبی اور قانونی طور پر کسی مظبوط رشتے میں نہیں ہیں آتش۔۔۔”
تعبیر کی بات پر پھر سے اس کے تاثرات بدلنے لگے وہ جو نرمی سے اسے دیکھ رہا تھا اب سخت تاثرات لئے اسے گھور رہا تھا جیسے اس پر جنون سوار ہو جیسے وہ جنون کی انتہا کرنے لگا ہو
“تو یہ بات ہے۔۔۔ ٹھیک ہے پھر آج شام ہمارا نکاح ہے تیار رہنا۔۔۔”
وہ تیز لہجے میں کہتا ہوا جیسے ہی اٹھ کر جانے لگا تعبیر اچانک سے کھڑی ہوئی تعبیر کو یقین نہیں آرہا تھا آخر اتنا بڑا فیصلہ وہ کیسے کر سکتا تھا
“آتش یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟ آپ کا دماغ تو دیکھ ہے نہ۔۔۔ ہم کیسے یوں اس طرح۔۔۔”
ابھی آگے وہ کچھ بھی کہتی وہ غصے سے پلٹ کر اس کے بے حد قریب آیا اسے بازوؤں سے جکڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا
“ہاں خراب ہوگیا ہے میرا دماغ۔۔۔ ہو گیا ہوں میں پاگل۔۔۔ نہیں رہ سکتا تمہارے بنا۔۔۔ کیوں نہیں سمجھ آرہی تمہیں؟؟”
تعبیر کے بازوؤں پر اپنی گرفت تنگ کر کے وہ جنون خیز انداز میں گویا ہوا تھا اس کی قربت پر وہ نازک سی لڑکہ تڑپ کر رہ گئی تھی
“آتش چھوڑیں مجھے پلیز۔۔۔ کک کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔”
تعبیر کی مزاحمت پر جیسے وہ ہوش میں آیا تھا اچانک اسے چھوڑ کر وہ دو قدم دور ہوا تھا
“تم ہی بتاؤ کیا کروں میں پھر؟؟ نہ تم یہاں رہنا چاہتی ہو نہ شادی کرنا چاہتی ہو کیا کروں میں آخر۔۔۔؟؟ بتاؤ مجھے۔۔۔”
آتش کے سوال پر وہ اپنا بازوں پکڑے باقاعدہ اسے غصے سے دیکھتی ہوئی اس کے برابر سے گزرنے لگی
“سب سے پہلے تو اپنے غصے پر قابو پانا سیکھیں مسٹر آتش درانی۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا جو سخت لہجے میں کہتی ہوئی وہاں سے جا چکی تھی
“ڈیم اٹ آتش!!! یہ کیا کردیا تم نے۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے وہیں کرسی پر آ بیٹھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آخر یہ سب کیسے ہوگیا تھا
☆★☆★☆★☆
“تم مجھ پر شک کر رہے ہو؟؟”
وہ آج پہلے بار غصے سے سرخ ہوئی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ چینخ چینخ کر اسے حقیقت بتا دے مگر کیسے۔۔۔ یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ سچ بتائے لیکن شاید اب سچ ضروری ہو چکا تھا
“میں نے کب ایسا کہا؟؟ میں شک نہیں کر رہا میں بس پوچھ رہا ہوں کہ وہ شخص کون تھا؟؟ اور کیوں تمہارے اتنا قریب تھا؟؟”
وہ جو ہمیشہ آپ جناب سے بات کیا کرتا تھا آج وہ تم پر آ چکا تھا حریم کب سے ضبط کئے بیٹھی تھی مگر شاویز نے تو جیسے آج سچ جاننے کی قسم کھائی ہوئی تھی
“حریم میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا کہ مجھ سے کوئی بھی جھوٹ نہ کہنا۔۔۔ پھر آخر یہ کیا ماجرا ہے؟؟”
وہ باقاعدہ سخت لہجے میں کہنے لگا حریم بے یقینی سے اسے پھر اس کے ہاتھ میں موجود موبائل میں اپنی اور ضوریز کی ہنسی مسکراتی تصویر دیکھ رہی تھی یہ اسی دن کی تصویر تھی جس دن ضوریز پاکستان سے جا رہا تھا
“اچھا۔۔۔ مجھے کڈنیپ نہ کر پائی تو یہ چال چل دی حوریہ نے۔۔۔”
حریم کی بات پر شاویز نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا
“کڈنیپ؟؟ کیا مطلب؟؟”
اسے جیسے دھچکا لگا تھا
“ہاں کڈنیپ کروانے کی کوشش کی تھی اس نے مجھے۔۔۔ مگر انہوں نے ہی میری جان بچائی تھی جنہیں لے کر تم مجھ پر شک کر رہے ہو۔۔۔”
حریم نے سخت لہجے میں کہا تو شاویز پیشانی رگڑتے ہوئے اسے دیکھنے لگا
“میں چاہوں تو اس بات کو لے کر میں بھی تم پر شک کر سکتی ہوں کہ حوریہ نے تمہیں یہ پکچر کب اور کیسے بھیجی کیا اس کے پاس تمہارا نمبر پہلے سے موجود تھا یا تم نے اسے بعد میں خود دیا ہے کیا تم لوگ رابطے میں تھے یا نہیں۔۔۔”
حریم کی بات پر وہ اسے ہونقوں کی طرح دیکھنے لگا کیا وہ واقعی اس پر شک کر رہی تھی شاویز پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا جب حریم پھر سے بول پڑھی
“مگر میں ایسا نہیں کروں گی۔۔۔ ارے کرنا تو دور کی بات میں ایسا کچھ سوچوں گی بھی نہیں۔۔۔ کیونکہ مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے اور پھر حوریہ جیسی چلاک لڑکی کا کیا بھروسہ یقیناً پرنسپل کے آفس میں موجود تمہارے ڈاکیومنٹ میں سے ڈیٹیلز لی ہوں گی اس نے تمہاری۔۔۔”
حریم نے سنجیدگی سے کہا اور اٹھ کر جانے لگی جب شاویز نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا
“حریم آئی ایم سوری میں کچھ زیادہ ہی پاززیو ہوگیا تھا۔۔۔ مگر یقین مانو میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں۔۔۔ میں بس اتنا پوچھ رہا تھا کہ آخر کیوں تم ایک انجان شخص کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھیں اور پھر وہ شاپنگ بیگز؟؟ مطلب تم اس کے ساتھ شاپنگ پر بھی گئی تھیں۔۔۔ کیوں حریم؟؟”
شاویز نے اس دفعہ نرمی سے پوچھا تھا وہ رک کر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی
“دیکھو حریم۔۔۔ بقول تمہارے کہ وہ جو بھی تھا اس نے تمہاری جان اور عزت دونوں بچائی تھی اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تم اس پر بھروسہ کر کے اس کے ساتھ گھومنے۔۔۔ میرا مطلب اس کے ساتھ چلی جاؤ۔۔۔”
شاویز نے تھوڑی سختی سے کہا تھا جبکہ آخری والے الفاظوں پر جہاں حریم نے اسے گھوری سے نوازا تھا وہیں اس نے نظریں جھکا لی تھیں
“میں تمہیں کچھ بھی بتانا ضروری نہیں سمجھتی شاویز۔۔۔ تمہاری مرضی تم چاہو تو حوریہ کی جھوٹی باتوں پر بھروسہ کرلو اور چاہو تو تھوڑا اور انتظار کر لو سچ تمہارے سامنے آ جائے گا مگر فلحال میں تمہیں کچھ بھی بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں کہتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی جبکہ شاویز واپس اپنی کرسی پر جا بیٹھا اور اپنی کافی ختم کرنے لگا
“سچ۔۔۔ آخر کس سچ کی بات کر رہی تھیں آپ حریم۔۔۔”
شاویز نے پیشانی رگڑتے ہوئے سوچا پھر موبائل نکال کر ائیزل کا نمبر ڈائیل کیا پہلی ہی رنگ پر کال ریسیو ہو چکی تھی
“آئیزل مجھے آپ سے ملنا ہے۔۔۔ بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ پلیززز کیا آپ ابھی یہاں آ سکتی ہیں۔۔۔؟؟”
شاویز نے درخواست کرنے والے انداز سے کہا پھر مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا
“میں نہیں جانتا کیا سچ ہے کیا جھوٹ لیکن حریم جو کچھ آپ نے نہیں بتایا وہ سب ائیزل مجھے بتائیں گی اب۔۔۔”
موبائل واپس پاکٹس میں رکھ کر وہ ائیزل کا ویٹ کرنے لگا
☆★☆★☆★☆
وہ جب اپنے کمرے میں بیٹھی ضوریز سے کال پر مصروف تھی جب دھڑام کی آواز سے دروازہ کھلا وہ چونک کر دروازے کی جانب دیکھنے لگی جہاں ائیزل کھڑی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی چہرے پر تکلیف کے تاثرات نمایاں تھے آنکھوں میں نمی تھی
“ائیزل۔۔۔ کیا ہوا؟؟”
وہ کال ڈسکنیکٹ کرے بنا اٹھ کر ائیزل کے پاس آئی جبکہ ائیزل خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی حریم کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا اسے ائیزل کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
“ائیزل تم ٹھیک ہو نہ؟؟”
حریم نے اسے بازوؤں سے تھام کر پوچھنا چاہا جس پر ائیزل نے اس کا ہاتھ جھٹکا اس کے اس ردعمل پر حریم حیران و پریشان سی اسے دیکھنے لگی ائیزل نے ایسا ردعمل تو پہلے کبھی نہیں کیا تھا
“کیا رشتہ ہے تمہارا ضوریز کے ساتھ؟؟”
وہ سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگی جبکہ ضوریز کا نام سن کر ہی حریم ساکت سی رہ گئی آخر وہ اس سے ایسا سوال کیوں کر رہی تھی
“آا ائیزل۔۔۔ تم کیا۔۔۔”
ابھی وہ شاکڈ کی کیفیت میں مبتلا اس سے کچھ کہتی ائیزل پھر سے بول پڑی
“مجھ سے جھوٹ مت بھولنا حریم۔۔۔ میں مزید جھوٹ برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ بتاؤ مجھے کیا لگتا ہے ضوریز تمہارا؟؟ آخر کس حق سے تم اس کے ساتھ گاڑیوں میں گھوم رہی تھیں شاپنگ پر جا رہی تھیں اس سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ کیا سمجھوں اسے میں؟؟”
ائیزل نے ڈٹے ہوئے انداز میں سوال کیا جس پر حریم تو حریم ضوریز بھی خاموش ہوگیا
“اس پوری دنیا میں سب سے زیادہ بھروسہ تم پر تھا مجھے کہ تم مجھ سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولو گی کبھی کچھ نہیں چھپاؤ گی۔۔۔ مگر میں غلط تھی۔۔۔ اگر آج شاویز مجھے اس شخص کی تصویر دکھا کر سچ نہ بتاتا تو نجانے تم مزید کتنے جھوٹ بولتی مجھ سے۔۔۔ مزید کیا کچھ چھپاتیں۔۔۔”
ائیزل نے چینختے ہوئے کہا تھا جبکہ حریم کو جیسے اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہورہی تھی
“حریم تم اس شخص سے مل رہی تھیں جس نے مجھے دھوکا دیا تھا۔۔۔ وہ جیسا دکھتا ہے ویسا بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔ حریم وہ اس سے کئی زیادہ برا اور گھٹیا ہے وہ۔۔۔”
ائیزل نے نفرت سے چور لہجے میں ضوریز کا ذکر کیا تھا جس پر حریم ضبط کئے خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی
“حریم وہ ایک دھوکے باز، جھوٹا مکار ایک عیاش باز انسان ہے وہ نجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ وہ راتیں۔۔۔”
آئیزل جیسے اسے کچھ سمجھانے کی کوشش میں تھی مگر حریم کے لئے یہ سب مزید سننا اب برداشت سے باہر ہو چکا تھا وہ ائیزل کی بات کاٹ کر بول پڑی
“زبان سنبھال کر بات کرو ائیزل۔۔۔ورنہ۔۔۔”
حریم نے جس انداز میں یہ کہا تھا ائیزل کو اپنی آنکھوں اور کانوں پر بلکل بھی یقین نہیں آرہا تھا کیا وہ وہی حریم تھی جسے وہ کئی سالوں سے جانتی تھی؟؟ نہیں بلکہ آج جو حریم اس کے سامنے کھڑی تھی وہ تو کوئی اور ہی حریم لگ رہی تھی
“ورنہ؟؟ ورنہ کیا؟؟ حریم تم ہوش میں تو ہو؟؟ کیا ہے یہ سب ہاں؟؟ تم۔۔۔ تم اس شخص کی حمایت کر رہی ہو؟؟ اس شخص کی؟؟”
ائیزل تعجب سے اس کے بدلتے تاثرات کو دیکھ رہی تھی جب حریم نے منہ پھیرا
“جیسا کہ تم نے کہا ہے کہ وہ جیسا دکھتا ہے ویسا بلکل نہیں ہے۔۔۔ غور کرو اپنے جملے پر اور آئیندہ ضوریز بھائی کے بارے میں ایک الفاظ بھی برداشت نہیں کروں گی میں۔۔۔!!!”
حریم نے سخت لہجے میں کہا اور واپس اپنے بیڈ کی جانب بڑھ گئی جبکہ ضوریز صورتحال سمجھ چکا تھا اس لئے کال ڈسکنیکٹ کر کے اس نے کاظم صاحب کو کال ملائی
“بھائی؟؟”
ائیزل شاکڈ کی کیفیت میں حریم کو دیکھ رہی تھی جو اب منہ پھیرے بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی ائیزل چلتی ہوئی اس کے قریب آنے لگی جب کاظم صاحب بھی وہاں پہنچے
“حریم بھائی کہا تم نے؟؟”
ائیزل نے حیرت سے اسے دیکھا جو آنکھیں بند کئے بیٹھی آنسؤں پوچ رہی تھی
“ہاں بھائی کہا میں نے۔۔۔ بھائی ہے وہ میرے۔۔۔ اور ایک بہن ہونے کے ناطے اب مزید میں اس کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کروں گی۔۔۔ میں جا رہی ہوں یہاں سے۔۔۔”
حریم اپنی بات مکمل کر کے جیسے ہی اٹھنے لگی کاظم صاحب کمرے کے اندر آئے
“حریم تم کہیں نہیں جاؤ گی۔۔۔ ائیزل سے میں بات کرتا ہوں۔۔۔”
انہوں نے حریم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا جس پر ائیزل بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی
“ڈیڈ آپ بھی؟؟ اتنا بڑا سچ چھپایا آپ لوگوں نے مجھ سے۔۔۔ اتنی بڑی حقیقت چھپائی۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کی بیٹی اس شخص کو دل دے بیٹھی تھی۔۔۔”
وہ شاکڈ کی کیفیت میں چینختی جارہی تھی آنسوں چہرے کو تر کر چکے تھے
“ائیزل بات کو سمجھو یہ۔۔۔”
وہ جیسے ہی اس کے قریب آنے لگے اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا
“عینف ڈیڈ عینف!!! آپ سب نے مل کر مذاق بنا دیا ہے میرا۔۔۔ بچپن سے لے کر آج تک آپ لوگوں نے ہر بات پر سچ چھپائے رکھا مجھ سے۔۔۔ وہ تو تھینک ٹو شاویز کہ آج اس کی وجہ سے مجھے اتنی بڑی حقیقت پتا چلی۔۔۔”
ائیزل نے تلخ لہجے میں کہا
“اور حریم تم۔۔۔ کیا تم بھی اپنے بھائی کی طرح میرے ساتھ کھیل رہی تھیں ہاں؟؟”
اب اس کی توپ کا نشانہ حریم کی جانب تھا جو سر جھکائے کھڑی ہوئی تھی
“ائیزل اسے خود بعد میں پتا چلا تھا۔۔۔ کہ ضوریز بھائی ہے اس کا۔۔۔ اور پھر یہ بات تو تم بھی شروع سے جانتی تھیں نہ کہ حریم ایڈاپٹ چائلڈ تھی۔۔۔ اس کے اصل والدین کون تھے یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔”
کاظم صاحب نے آگے بڑھ کر وضاحت دی جس پر وہ اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگی
“اچھا۔۔۔ واقعی۔۔۔ ٹھیک ہے تو جب اسے اس کا بھائی مل چکا ہے تو وہ اسے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتا ؟؟ یہاں کیوں چھوڑ رکھا ہے اپنی چہیتی بہن کو اس نے۔۔۔؟؟”
ائیزل نے بے دردی سے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا جس پر کاظم صاحب بے یقینی سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگے جبکہ حریم کا لگا اس کا دل جیسے ٹوٹ گیا ہو
“ائیزل یہ کیا بد تمیزی ہے؟؟”
کاظم صاحب کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا انہوں نے غصے سے کہا
“یہ بدتمیزی نہیں حقیقت ہے ڈیڈ۔۔۔ جب اسے اس کا بھائی مل گیا تو یہاں کیوں پڑی ہوئی ہے یہ؟؟ چلی کیوں نہیں جاتی ہمارے گھر سے یہ۔۔۔”
ائیزل نے ایک بار پھر حریم کو ہرٹ کیا تھا
“ائیزل!!!”
کاظم صاحب اس کی بدتمیزی پر آگے بڑھ کر جیسے ہی اس پر ہاتھ اٹھانے لگے حریم نے روک دیا جبکہ ائیزل بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جو کسی غیر لڑکی کے لئے اتنا غصہ ہورہے تھے
“انکل پلیز۔۔۔ آپ اسے کچھ مت کہیں ساری غلطی میری ہے جس دن مجھے حقیقت پتا چلی تھی کاش اس دن ہی میں یہاں سے چلی جاتی تو بہتر تھا۔۔۔”
حریم نم آنکھوں کے ساتھ کہتے ہوئے شرم سار سی گردن جھکا گئی
“تو اب چلی جاؤ روکا کس نے ہے تمہیں؟؟”
ایک آخری بار وہ اسے طنزیہ انداز میں کہتی ہوئی وہاں سے جانے لگی جب کاظم صاحب کی آواز پر اس کے قدم رکے
“تمہیں اگر یہ لگتا ہے کہ حریم پر آج تک جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے وہ تمہارے باپ کی کمائی کا حصہ تھا تو تم غلط ہو۔۔۔”
کاظم صاحب نے سخت لہجے کا مظاہرہ کیا جس پر وہ پلٹ کر انہیں نا سمجھی سے دیکھنے لگی اس کا ہرگز یہ مطلب نہ تھا کہ وہ حریم پر کئے گئے احسانات پر طعنہ دیتی وہ تو ضوریز کا غصہ بھی اپنی پکی دوست پر نکال رہی تھی جو کہ حریم بخوبی سمجھ چکی تھی
“انکل پلیز۔۔۔!!!”
حریم نے آگے بڑھ کر روکنا چاہا جس پر کاظم صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کا کہا وہ پلٹ کر ائیزل کے سامنے آکھڑے ہوئے
“حریم پر آج تک جتنے بھی پیسے خرچ ہوئے ہیں وہ اس کے بھائی کے دیئے ہوئے ہیں۔۔۔ تمہارا اس میں کوئی کمال نہیں۔۔۔ بچپن سے لے کر آج تک وہ اپنے خود کے پیسوں پر پلتی آرہی ہے تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہوگا یہ تمہاری غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں۔۔۔”
کاظم صاحب کی بات پر جیسے اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی وہ اپنی بات یہی ختم کر کے وہاں سے چلے گئے جبکہ وہ خاموشی سے اپنے باپ کو جاتا دیکھ رہی تھی
“تو مطلب ڈیڈ ضوریز کو پہلے سے جانتے تھے؟؟”
وہ نا سمجھی سے حریم کو دیکھ کر گویا ہوئی جو سر جھکائے کھڑی ہوئی تھی
کاظم صاحب واپس اپنے کمرے میں آئے اور جیب سے موبائل نکالا تو کال چک رہی تھی ضوریز تمام باتیں سن چکا تھا
“میں ائیزل کی طرف سے معافی۔۔۔”
وہ شرمندگی سے کہنے لگے جب ضوریز کی گمبھیر آواز نے ان کی بات کاٹی
“تلخ کلامی آپ کی چہیتی بیٹی نے کی ہے تو اب معافی بھی میں اس ہی سے منگواؤں گا۔۔۔!!!”
انہوں نے ایک نظر اسکرین پر دیکھا جہاں کال ڈسکنیکٹ ہو چکی تھی
☆★☆★☆★☆
وہ کب سے موبائل پر مصروف تھا جبکہ افتخار صاحب اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے ان کی گھوری محسوس کرتے ہوئے وہ سیدھا ہوکر بیٹھا
“کیا ہے بابا جان کیوں غصے سے دیکھ رہے ہیں؟؟”
آخر کار پریشان آکر اس نے پوچھ ہی لیا جس پر افتخار صاحب نے مزید اسے گھورا
“یہ کونسا طریقہ ہے باپ کے سامنے کاؤچ پر لیٹ کر گانے سننے کا؟؟”
انہوں نے گمبھیر لہجے میں کہا جس پر شاویز نے کان پر سے ائیر فونز نکال کر سائڈ میں رکھے اور انہیں التجائی نظروں سے دیکھنے لگا
“کیا سارا دن یوں ہی پڑے رہ کر گانے سننے کا ارادہ ہے؟؟ یا کچھ کرے گا بھی؟؟”
افتخار صاحب کی بات پر وہ سر کھجاتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا
“بابا جان آج تو سنڈے ہے نہ آج بھی کام کروں کیا؟؟”
شاویز نے عجیب و غریب منہ بناتے ہوئے کہا جس پر ان کی گھوری مزید گہری ہوئی
“اچھا نہ اب غصے سے تو نہ دیکھیں جان لیں گے کیا بچے کی۔۔۔ چلیں آپ کی بات کرواتا ہوں تعبیر آپی سے۔۔۔”
شاویز ان کے غصے سے بچنے کے لیے جیسے ہی تعبیر کا نمبر ڈائیل کرنے لگا تبھی دروازے پر دستک ہوئی
“رہنے دے مصروف ہوگی وہ رات میں بات کرلوں گا۔۔۔ ابھی جاکے دیکھ کون آیا ہے دروازے پر۔۔۔”
افتخار صاحب کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ تھوڑا حیران ہوا
بلیک پینٹ وائٹ شرٹ بلیک ہی کوٹ پہنے وہ شخص اپنے ڈرائیور کے ساتھ وہاں کھڑا ہوا تھا اس کی شخصیت سے شاویز اندازہ لگا چکا تھا وہ کوئی عام شخص نہیں تھا کوئی بہت بڑا بزنس مین تھا
“بیٹا۔۔۔ کیا یہ افتخار علی کا گھر ہے؟؟”
اس بڑی عمر کے شخص نے بڑے میٹھے لہجے میں سوال کیا تھا جس پر شاویز اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگا
“اسلام و علیکم جی یہی گھر ہے مگر آپ کون؟؟”
اپنی آنکھوں پر سے چشمہ ہٹائے وہ سامنے کھڑے شاویز کو بغور دیکھنے لگا
“تم افتخار علی کے بیٹے ہو نہ؟؟”
انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا جس پر جواباً شاویز بھی مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا
“میرا نام وجاہت درانی ہے۔۔۔ میں افتخار علی سے ملنے آیا ہوں اگر اس وقت وہ گھر پر ہے تو اسے میرے آنے کی اطلاع کردو۔۔۔”
انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا
“آپ پلیززز اندر آئیں میں بابا جان کو بتاتا ہوں۔۔۔”
شاویز کے کہنے پر وہ اپنے ڈرائیور کو وہیں رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود اندر کی جانب آئے
“یہ لڑکا گدھے کا گدھا ہی رہے گا دروازہ کھولنے گیا تھا نجانے کہاں جا کر بیٹھ گیا۔۔۔”
افتخار صاحب نے سر جھٹکتے ہوئے کہا جب وہ اندر آیا
“بابا جان کوئی شخص آئے ہیں اپنا نام وجاہت درانی بتاتے ہیں۔۔۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں میں نے انہیں اندر بلایا ہے۔۔۔”
شاویز کی بات پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگے
“بابا جان؟؟ اگر آپ کہیں تو انہیں یہیں کمرے میں بلا لوں؟؟”
شاویز کی آواز پر چونک کر وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئے اور اثبات میں سر ہلانے لگے جس پر شاویز نے ان شخص کو اندر بلایا
☆★☆★☆★☆
“اچھا سوری نہ تعبیر۔۔۔ میں جانتا ہوں میں کچھ زیادہ ہی آوور ری ایکٹ کر گیا۔۔۔ کیا کروں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں نہ۔۔۔ نہیں کر سکتا تمہیں خود سے دور۔۔۔ لیکن یہ بھی سچ ہے تمہیں ناراض کرنا مجھے نہیں برداشت۔۔۔ پلیززز مان جاؤ۔۔۔”
آتش کے پیار بھرے لہجے پر تعبیر نے ایک نظر اسے خفگی سے دیکھا پھر واپس اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی جس پر آتش نے گہری سانس بھرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما
“تعبیر۔۔۔ ایسی بھی کیا ناراضگی کے تم مجھے نظر انداز کرنے لگی ہو۔۔۔ پلیزز مجھ سے یوں نظریں نہ پھیرو۔۔۔ محبت کرتا ہوں تم سے جبھی تمہیں خود سے دور کرنے کا سوچ کر بھی ڈرتا ہوں۔۔۔”
آتش نے اس کا رخ اپنی جانب کر کے اسے نزدیک کیا جس پر تعبیر نے نظریں جھکالیں وہ خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی آتش نے اس کی تھوڑی کو اوپر کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا
“اچھا ٹھیک ہے تم چلی جانا واپس کراچی۔۔۔ پلیزز اب تو موڈ ٹھیک کرلو۔۔۔ پلیزز”
آتش نے اسے منانے کی پوری کوشش کی تھی جس پر تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا آتش مسکراتے ہوئے اس کے بے انتہا قریب آنے لگا جب وہ پیچھے ہوئی
“اففف میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔”
آتش شرمندہ سا سر کھجانے لگا جس پر تعبیر نے اسے گھورا
“کیسا مطلب؟؟”
تعبیر کے پوچھنے پر وہ اپنی بیئرڈ پر انگلی پھیرتے ہوئے لبوں تک لایا جس کا اشارہ سمجھتے ہی تعبیر نے ہاتھ چھڑائے اور وہاں سے جانے لگی مگر آتش نے پھر سے آگے بڑھ کر اسے تھام کر قریب کیا
“تعبیر۔۔۔ آج شام پارٹی ہے۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم بھی میرے ساتھ چلو۔۔۔ وہاں اکیلے نہیں جانا چاہتا میں۔۔۔ مگر میرا جانا بھی ضروری ہے ڈائریکٹر نے بہت انسسٹ کیا ہے۔۔۔”
آتش نے اس کے چہرے پر آتے بالوں کو انگلی سے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا
“آتش آپ جانتے ہیں مجھے اس طرح کی پارٹیز نہیں پسند۔۔۔ میں نہیں جا سکتی”
تعبیر نے سنجیدگی سے کہا
“میری جان ہم آدھے گھنٹے بھی نہیں رکیں گے۔۔۔ اگر تم ساتھ ہوں گی تو ہم جلدی واپس آجائیں گے بس پروجیکٹ کی سلیبریشن ہوگی بس۔۔۔”
آتش نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اسے راضی کرنا چاہا
“ٹھیک ہے لیکن ہم وہاں صرف کچھ ہی دیر کے لیے جائیں گے۔۔۔”
تعبیر نے جیسے اسے حکم دیا تھا جس پر وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا
“اب ہاتھ چھوڑیں میرا کام ہے مجھے۔۔۔”
تعبیر نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی جو پر آتش مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا
“آتش آج کل آپ مجھ بہت تنگ کرنے لگے ہیں۔۔۔ بلکل بچوں کی طرح۔۔۔”
تعبیر نے خفگی سے کہا جس پر آتش کی مخصوص مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“اور تم جو بار بار ناراض ہو جاتی ہو۔۔۔ بیویوں کی طرح۔۔۔ میں نے کچھ کہا؟؟”
آتش نے ایبرو اچکائے سوال کیا جس پر وہ مسکرانے لگی
جاری ہے
