Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 17)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 17)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“ویسے ماننا پڑے گا مس تعبیر علی آپ کے ہاتھوں میں کمال ہے”
حاشر کی بات پر تعبیر مسکرائی اس کے بازؤں پر بنایا گیا ٹیٹو واقعی بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا تعبیر نے ٹیٹو مشین کو سائیڈ میں رکھا جبکہ حاشر کی نظر اس کی ایک ایک ادا پر تھی
“ویسے ایک بات پوچھوں”
حاشر کی بات پر تعبیر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“تعبیر تم واقعی بہت ٹیلنٹڈ لڑکی ہو تم اگر انڈسٹری جوائن کرلو تو چار چاند لگ جائیں گے ہماری انڈسٹری کو”
حاشر کی بات پر تعبیر نے معصوم سی شکل لئے اسے دیکھا جیسے وہ اس بات سے بہت بیزار ہو چکی ہو
“کیا ہوا؟؟ کیا میں نے کچھ غلط کہا”
حاشر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جس پر تعبیر نے مزید معصوم شکل بنائی
“نہیں سر ایکچلی…”
“ایک منٹ تعبیر…پلیززز ڈونٹ کال میں سر… میرا اتنا اچھا نام ہے حاشر خانزادہ تو پلیززز مجھے میرے نام سے پکارا کرو مجھے اچھا لگے گا”
ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب حاشر بول پڑا وہ ان دنوں تعبیر سے بہت زیادہ ہنسی مذاق کرنے لگا تھا نجانے کیوں وہ چھوٹی سی لڑکی اتنے بڑے اسٹار کے دل میں اتنی آسانی سے کیسے جگہ بناتی جارہی تھی
“ایکچلی حاشر… مجھے ان سب میں کوئی انٹرسٹ نہیں ٹرسٹ می”
تعبیر کے دھیمے لہجے پر حاشر کے چہرے پر بہت پرسکون سے تاثرات آئے تھے جبکہ اس کے لبوں سے اپنا نام سن کر وہ مسکرایا تھا شاید اسے اچھا لگا تھا اس چھوٹی سی معصوم سی لڑکی کے منہ سے اپنا نام سننا۔
“مگر ایسا کیوں؟؟ مطلب یہاں تو آج کل ہر دوسرے بندے کا شوق فلم انڈسٹری جوئن کرنا ہے، مطلب کیسا بھی کریکٹر رول ملے کیسا بھی کام ملے لیکن لوگوں کو بس کسی بھی طرح اس فیلڈ میں آنا ہی آنا ہے مگر تم، تمہیں آخر کس چیز کی کمی ہے؟؟ پریٹی ہو کیوٹ ہو ٹیلنٹڈ ہو انٹیلیجنٹ ہو، تم میں شاید ہی کوئی کمی ہوگی”
حاشر کی بات پر تعبیر اسے بڑی غور سے دیکھنے لگی حاشر کس طرح اس سے فرینڈلی بات کر رہا تھا وہ وہی شخص تھا نہ جس سے ملنے کے لئے لوگ قطاروں میں کھڑے ہوتے تھے اس کی ایک جھلک دیکھ کر ہر شخص خود کو دنیا کا سب سے خوشنصیب انسان سمجھنے لگتا تھا وہ شخص آج ایک عام سی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ اس کے برابر کا اسٹینڈرڈ رکھتی ہو
“مگر مجھے یہ ایکٹنگ کرنا یہ سب نہیں آتا بلکل بھی”
تعبیر نے چہرے پر آتے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا حاشر نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے دیکھا
“اچھا ایک بات بتاؤ… اگر کبھی تمہیں آفر آئے تو؟؟”
تعبیر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
“آئی مین کسی ڈرامے میں رول ادا کرنے کی آفر…پھر؟؟ کیا تب بھی تم منع کردو گی؟؟”
اپنا سوال کر کے وہ اب جواب کا منتظر تھا جس پر تعبیر نے ایک گہری سانس لی
“جی ہاں میں منع کردوں گی”
تعبیر کی بات سن کر وہ اتنا تو سمجھ چکا تھا سامنے جو لڑکی بیٹھی ہے وہ ہر طرح کی لالچ سے پاک ہے
“ویل تھنکیو سووو مچ تعبیر بہت اچھا لگا تمہارے ساتھ یوں کام کر کے”
حاشر نے نے مسکراتے ہوئے سائڈ ٹیبل پر سے اپنی موبائل اٹھاتے ہوئے کہا اب اس کی نظریں موبائل پر مرکوز تھیں
“وہ گلاس فریش جوس ابھی…”
وہ تھوڑے گھمنڈی انداز میں سامنے کھڑے ملازم کو کہتا ہوا واپس موبائل پر مصروف ہوگیا جبکہ ملازم حکم سنتا ہوا الٹے پاؤں بھاگ گیا
“تم نے ٹکٹس تو نہیں کروائیں؟؟”
“نہیں حاشر وہ ہنی کہہ رہی تھی کہ ہم آج شام اس ہی گاڑی سے واپسی کے لیے روانہ ہوں گے”
تعبیر کی بات پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا
“آج شام؟؟ کیا مطلب؟؟ کیا آپ لوگ واپس آج ہی جارہے ہو؟؟”
“جی ہاں حاشر میں نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ بابا جان…”
وہ کہتے کہتے چپ ہوئی
“ہمم میں سمجھ سکتا ہوں خیر جیسے تمہاری مرضی ویسے اگر کبھی بھی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو یہ میرا پرسنل نمبر ہے اسے اپنے موبائل میں سیو کرلو جب بھی کوئی کام ہو مجھے کال کردینا”
وہ شاکڈ تھی حاشر خانزادہ اسے اپنے اسسٹنٹ کے بجائے اپنا خود کا پرسنل نمبر دے رہا تھا مگر وہ کہاں سیوو کرتی اس کا موبائل تو اس ہی دن ٹوٹ چکا تھا وہ خاموش نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی
“کیا ہوا تعبیر؟؟ کیا کوئی پرابلم ہے؟؟ موبائل کہاں ہے آپ کا؟؟
“وہ… وہ اس دن میرے ہاتھ سے چھوٹ کر ٹوٹ گیا تھا”
وہ ہاتھ کی ہتھیلی مسلنے لگی
“واٹ اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں؟؟ رکو…ایک منٹ”
وہ موبائل پر کسی کو کال کرکے آنے کا کہنے لگا تب ہی ملازم ایک ٹرے میں دو گلاس جوئس لے آیا ایک گلاس تعبیر نے اٹھایا دوسرا حاشر نے
ابھی انہوں نے پہلی سپ لی تھی جب ایک آدمی بیگ ٹنگائے اندر آنے کی اجازت لینے لگا جس پر حاشر نے اسے اشارے سے اجازت دی وہ اپنا بیگ لئے ان کی طرف بڑھا اور ٹیبل کے پاس گٹھنوں کے بل بیٹھ کر اپنے بیگ میں سے کچھ مہنگے ترین موبائلز کے باکسز نکالنے لگا تعبیر کو یہ سب سمجھ نہیں آرہا تھا
“سر جی یہ والا بہت اچھا موبائل ہے…یہ اب تک کسی نے بھی بائے نہیں کیا”
اس شخص نے سب سے مہنگا موبائل حاشر کی طرف بڑھایا
“تعبیر دیکھو کیا یہ تمہیں ٹھیک لگ رہا ہے؟؟”
حاشر نے اس باکس کو تعبیر کی طرف بڑھایا جسے تعبیر ناسمجھی سے دیکھنے لگی
“چیک تو کرو مجھے یہ کسی کو گفٹ کرنا ہے”
حاشر کو پتا تھا وہ کہاں یہ لینے والی ہے اس لئے اس نے بات بنائی جس پر تعبیر نے اس کے ہاتھ سے وہ باکس لے کر اثبات میں سر ہلایا
“ڈن، یہ ڈن کرو”
حاشر نے اس ہی وقت سائڈ میں رکھی چیک بک اٹھائی
“سر ٹو ففٹی لیکس”
وہ کوئی عام فون نہ تھا جس کی قیمت سنتے ہی تعبیر چونکی سی گئی حاشر نے ڈھائی لاکھ کا چیک کاٹ کر اس شخص کی طرف بڑھایا جسے لیتا ہوا وہ اپنا بیگ واپس لئے وہاں سے چلا گیا
“کیسا لگا موبائل؟؟”
حاشر نے اپنے ہیئر اسٹائل پر ہاتھ پھیر کر اسے صحیح کرتے ہوئے کہا
“جی اچھا ہے”
“گڈ تو اب اس میں اپنا سم کارڈ لگاؤ اور میرا نمبر سیو کرلو شاباش”
وہ مسکراتے ہوئے اسے انتہائی حیران کر گیا تھا
“کک کیا مطلب؟؟ مگر یہ تو آپ کسی کو گفٹ…”
“جس کو گفٹ کرنا تھا وہ تم ہی ہو تعبیر میڈم چلو شاباش اب تم اپنا سم کارڈ لگاؤ اور مجھے میسج یاد سے کرلینا تاکہ میرے پاس بھی تمہارا نمبر سیو رہے”
حاشر نے فرینڈلی ہوتے ہوئے کہا
“حاشر میں اتنا ایکسپینسیو موبائل نہیں رکھ سکتی”
“ارے مگر یہ تو تمہارا گفٹ ہے اور گفٹ کیسا بھی ہو گفٹ گفٹ ہوتا ہے اور ویسے بھی تم میری فرینڈشپ ڈیزرو کرتی ہو”
تعبیر کو یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا وہ بار بار انکار کیئے جارہی تھی
“اچھا اب بس… بہت ہوا میں مزید انکار نہیں سنوں گا اگر مجھے ایز آ ایکٹر ٹریٹ کروگی تو میں ناراض ہوجاؤں گا آگے مرضی تمہاری”
“نن نہیں حاشر میرا وہ مطلب نہیں تھا…”
وہ شرمندہ سی ہوئی جس پر وہ مسکرایا
“ٹھیک ہے اب یہ رکھو اور ہاں آج شام ہم ساتھ کھانا کھائیں گے پھر پتا نہیں کب ملاقات ہو”
وہ حاشر کی بات پر اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی وہ اپنی بات منوانے کا ہنر بہت اچھے سے جانتا تھا
☆★☆★☆★☆
“اور جب آپ کو کسی سے پیار ہوتا ہے تو آپ اپنے پسندیدہ شخص کو کسی بھی صورت میں کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر پاتے، اور وہ لمحہ آپ کے لئے سب سے زیادہ درد ناک ہوتا ہے جب آپ کی محبت آپکے سامنے کسی اور کے قریب ہو”
وہ اس وقت اپنی یونیورسٹی میں موجود سیڑھیوں پر بیٹھا اس ہی کتاب کو پڑھنے میں مصروف تھا جب حوریا سامنے سے چلتی ہوئی ایک اسٹائل سے اس کے پاس آکر رکی
“ہیلو بیبز کیسے ہو؟؟”
حوریا کے لہجے پر حیران وہ اس کی طرف نا سمجھی سے دیکھنے لگا
“کیا کر رہے تھے دکھاؤ…”
حوریا اس کی طرف سے جواب نہ پاکر اس کے ہاتھ میں موجود کتاب کو باقاعدہ اس سے چھین کر جائزہ لینے لگی
“اوہ میں تو تمہیں بہت شریف سمجھتی تھی لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے…تم بھی ایسی کتابیں پڑھتے ہو؟؟”
وہ اپنی لکڑی جیسی ٹانگوں کو ادھر سے اُدھر مٹکاتے ہوئے اپنی ہائی ہیلز شوو کرنے لگی جبکہ شاویز کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی
“ادھر دیں اسے…”
شاویز سیڑھیوں سے اٹھتا ہوا اس سے بڑی تمیز سے کہنے لگا جس پر وہ پیچھے ہوئی جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ یہ کتاب نہیں دینے والی
“اتنے بھی انوسینڈ نہیں ہو جتنے دکھتے ہو…”
حوریا نے اسے سرتا پیر دیکھتے ہوئے ایک اسٹائل سے اپنے بالوں کو لہراتے ہوئے کہا
وہ اورنج ٹی شرٹ کے ساتھ بلو پینٹ میں آج کافی زیادہ ہینڈسم نوجوان لگ رہا تھا جبکہ ہر بار کی طرح ہاتھ میں گھڑی بالوں کو ترتیب سے سیٹ کیا ہوا وائٹ جوگرز میں ملبوس تھا بے شک وہ کسی بھی لڑکی کو اپنی طرف بآسانی متوجہ کر سکتا تھا
“پلیز میری بک مجھے واپس کریں”
“اوہ ہو… انوسینڈ لڑکے کیا تمہیں پتا ہے پیپرز قریب آرہے ہیں اور اب بھی تم اس کتاب کو پڑھنا چاہتے ہو؟؟”
شاویز نے ایک قدم آگے بڑھایا جس پر وہ دو قدم دور ہوئی مگر تب ہی شاویز کی نظر سامنے سے آتی حریم پر گئی جو اپنے موبائل پر مصروف بنا دیکھے چلتی آرہی تھی
“اوئے ہیرو کدھر گم ہوگئے ہاں”
حوریا نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹخی بجائی اس کی آواز پر وہ چونکا جبکہ اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ سامنے سے آتی حریم بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی مگر جب سامنے نظر گئی تو دماغ گھوم گیا وہ لڑکی شاویز کے اس قدر قریب ہوتی جارہی تھی جبکہ شاویز اس کی جیلسی دیکھ چکا تھا کیونکہ وہ دانت بیچتے ہوئے اب وہیں رک کر حوریا کو گھور رہی تھی
“کہیں بھی نہیں آپ مجھے میری بک واپس کر رہی ہیں یا؟؟”
شاویز نے جان بوجھ کر حوریا کی طرف قدم بڑھائے جس پر حوریا بھی مزید اس کے قریب آئی
“یا…؟؟”
وہ ایک ادا سے ‘یا’ کو لمبا کھینچتی ہوئی اس کے قریب آنے لگی شاویز یہ سب جان بوجھ کر کر رہا تھا شاید وہ کچھ دیکھنا چاہتا تھا کچھ ایسا جس سے اس کی ایک کنفیوزش دور ہو جائے
“یا پھر میں…”
ابھی وہ آدھے الفاظ ہی کہہ رہا تھا جب اس کی نظر حوریا کے دوسرے ہاتھ میں پکڑے سیل فون پر گئی اس نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا جس پر وہ چونکی
“ہیئی یہ واپس کرو”
“پہلے میری بک دو”
“نہ دی تو؟؟”
حوریا نے اسے آنکھیں دکھائیں جبکہ حریم کی اب برداشت سے باہر ہو چکی تھی کیونکہ شاویز خود سے حوریا کے قریب جارہا تھا
“نہ دی تو پھر بھول جائیں کہ آپکا سیل فون کبھی آپ کو واپس ملے گا”
وہ اسے موبائل دیکھتا ہوا ایک نظر حریم کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگا جس حوریا کرنٹ کھاتے ہوئے اس کا راستہ روکنے لگی
“یہ لو اپنی بک اور میرا سیل واپس کرو”
شاویز نے ہاتھ بڑھا کر اپنی بک لی اور اس کے سامنے اس کا موبائل بڑھایا جس پر وہ جھپٹنے لگی مگر تب ہی شاویز نے ہاتھ پیچھے کھینچا جس سے حوریا اس سے اچانک ٹکرائی بس یہی حرکت حریم کے تن بدن میں آگ لگا گئی اس کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا
“ایک شرط پر دوں گا”
“کیسی شرط”
حوریا نے اسے گھورا
“آج کے بعد… مس حوریا آپ میرے آگے پیچھے نظر نہیں آئیں گی اگر اگین آپ نے مجھے کسی بھی طرح سے ڈسٹرب کیا تو…”
شاویز سرگوشی نما انداز میں کہتا ہوا اس کے مزید قریب آیا وہ آج کہیں سے بھی پہلا والا شاویز نہیں لگ رہا تھا کیونکہ الفاظ بھلے ہی اس کے حوریا کو دور کرنے کا کہنے کے تھے لیکن انداز اس کا ایسا تھا جیسے وہ اس سے کوئی راز کی بات کر رہا ہو
“تو ؟؟”
“تو میں آپ کی شکایت پرنسپل سے لگا دوں گا پھر نہ کہیے گا کہ آپ کی کبھی کامیاب نا ہونے والی تعلیم میں میری وجہ سے کوئی خلل پیدا ہوا ہے”
وہ اسے آنکھوں آنکھوں میں جتاتا ہوا ایک نظر حریم کے لال پیلے ہوتے ہوئے چہرے پر ڈال کر موبائل حوریا کو تھماتا ہوا سیڑھیاں عبور کر کے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گیا
“یہ تو بڑی ہی کوئی پہنچی ہوئی چیز ہے”
حوریا اپنا موبائل ملتے ہی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگئی جبکہ حریم اپنے بڑھتے ہوئے غصے کو ضبط کرتی ہوئی ڈانسنگ کلاسز لینے چلی گئی
“یعنی یہ سب سچ تھا… وہ جیلس ہوئی تھی… وہ اکثر حوریا سے جیلس ہوتی تھی یعنی… کیا واقعی اسے مجھ سے محبت ہے…”
وہ اپنی سیٹ پر بیٹھتا ہوا دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا
“تو اس نے اب تک ایسا کہا کیوں نہیں؟؟ اس نے تو ہمیشہ مجھے صرف دوستی کے لئے انسسٹ کیا تھا … اگر میں خود اس سے یہ سب پوچھ لوں…تو کجا ٹھیک رہے گا”
وہ دل ہی دل میں ارادہ کرنے لگا مگر یہاں اس کا دماغ چلا تھا
“نہیں نہیں میں اس سے یوں اچانک ڈائریکٹ کیسے پوچھ لوں کے اسے مجھ سے محبت ہے یا نہیں… شاید اسے مجھ سے محبت نہ ہو…”
اس نے اپنا بال پین پکڑتے ہوئے سوچا
“میں اگر اس سے پوچھ نہیں سکتا تو کیا ہوا…اسے بتا تو سکتا ہوں نہ”
وہ مسکراتے ہوئے سوچنے لگا تھا
☆★☆★☆★☆
“میں اس سے ملنے خود جاؤں گا”
آتش نے وسکی کا گھونٹ بھرتے ہوئے سامنے بیٹھے باضل سے کہا جس پر وہ اسے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے دیکھنے لگا آتش نے اسے ایسے دیکھتے ہوئے گھورا تو وہ جلدی سے نیچے نظریں جھکا گیا
“کیا کہنا چاہ رہے ہو؟؟”
آتش کی سخت آواز پر وہ پھر سے اسے دیکھنے لگا
“سر یہ ممکن نہیں…”
“کیا ممکن نہیں؟؟”
آتش نے ایبرو کا زاویہ بنایا جس پر سامنے بیٹھے شخص نے پیشانی پر ابھرتے ہوئے پسینے کو صاف کیا
“سر تعبیر علی سے اب ملنا ممکن نہیں…”
“آتش درانی کی زندگی میں ناممکن لفظ کی کوئی گنجائش نہیں، آتش درانی جو چاہتا ہے پھر کیا فرق پڑتا ہے وہ ممکن ہو یا نہیں ؟؟ آتش درانی ہر ناممکن کو ممکن کر دکھانے کا ہنر بخوبی جانتا ہے”
وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا گلاس لبوں پر لگا گیا
“مگر سر وہ تو آج شام کراچی جارہی ہے”
باضل کے منہ سے نکلے گئے الفاظ جیسے اسے سخت ناگوار گزرے تھے ہاتھ میں پکڑا گلاس جو اس کی مظبوط گرفت کی وجہ سے ٹوٹ کر کرچی ہو چکا تھا جو اپنے بے بس ہونے کی کچھ نشانیاں اس کے ہاتھ کو زخمی کر کے دکھا چکا تھا
آتش اپنے زخم کی پرواہ کیئے بنا غصے سے صوفے سے اٹھا تھا باضل تو گلاس ٹوٹنے کی آواز پر ہی کانپنے لگا تھا آتش غصے سے چلتا ہوا اس کے سامنے آکھڑا ہوا آتش نے دونوں ہاتھوں سے اس کے گریبان کو جھنجھوڑا تھا باضل تڑپ کر رہ گیا تھا
“کیا کہا تم نے ؟؟ وہ واپس کراچی جارہی ہے؟؟ تو تم یہاں کیا کر رہے ہو احمق انسان ہاں؟؟”
آتش کی نیلی آنکھیں غصے سے لال ہو کچھ تھیں وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا
“سر مجھے ابھی پتا چلا ہے اس کے ٹیٹو بنانے کے بعد…”
وہ اسے مزید غصہ دلا گیا تھا آتش نے غصے سے اسے زمین پھر پھینکا جس سے وہ منہ کے بل جا گرا
“یعنی وہ اپنے یہاں آنے کا مقصد پورا کر چکی ہے اور تم؟؟ تمہیں میں نے یہاں کیوں رکھا ہو ہے؟؟ اسلئے کہ تم میرا وقت ضائع کرو؟؟ جاؤ یہاں سے اور کسی بھی طرح روکو اسے”
وہ غصے سے دھاڑا تھا تب ہی باضل کا موبائل بجنے لگا مگر وہ اب تک خوفگی سے آتش کو دیکھ رہا تھا
اس نے جلدی سے موبائل نکال کر کال پک کی جس پر آتش نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا اور اسپیکر کیا
“باضل بھائی آپکو ایک بات اور بتانی تھی حاشر خانزادہ نے تعبیر علی کو ایک موبائل بھی گفٹ کیا تھا”
ابھی موبائل پر دوسری طرف سے مزید کچھ آواز آتی جب آتش نے اس کے موبائل کو بھی زمین پر دے مارا
“آااہ…”
وہ دھاڑا تھا ایک بپھرے ہوئے شیر کی طرح… وہ کسی آتش فشاں پہاڑ کی مانند واضح ہورہا تھا اس کی نیلی آنکھوں میں خون اترا ہوا صاف واضح ہورہا تھا آج جو کچھ ہوا تھا وہ اس کی چاہ کے برعکس ہوا تھا جو اس کے حواسوں کو سخت متاثر کر گیا تھا
“دفع ہوجاؤ یہاں سے اس سے پہلے کے اس کمرے سے تمہاری لاش نکلے، گیٹ آؤٹ…” وہ غرراتے ہوئے کہتا اسے مزید کانپنے پر مجبور کر گیا تھا
“آئی سیڈ آؤٹ…”
وہ پھر سے دھاڑا جس پر باضل اپنی جان بچاتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا مگر پیچھے ایک سوتے ہوئے شیر کو جگا گیا تھا
“تم ایسا نہیں کر سکتیں تعبیر علی… مانا کہ تم اپنے ایک مقصد میں کامیاب ہوچکی ہو لیکن اب مزید تم آتش درانی سے بھاگ نہیں سکتیں، میں تمہیں تمہارے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا میں تمہارے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن جاؤں گا”
وہ کبھی ادھر کبھی ادھر چکر کاٹ رہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ تعبیر کہیں بھی جائے نجانے کیوں وہ تعبیر کے یہاں سے جانے پر نا خوش بھی تھا اس کے لئے تعبیر کے گھر کا پتا لگانا بہت آسان تھا لیکن وہ چاہتا تھا جب تک اس کی شوٹنگ یہاں پر ختم نہیں ہوجاتی تعبیر اس کے آس پاس رہے
وہ جیب سے موبائل نکال کر کال ملانے لگا
“کچھ بھی کر کے ان کی ٹیم کو آج جانے سے روکو چاہے تمہیں اس کے لئے اپنی جان بھی دینی پڑے، ورنہ تمہاری نوکری گئی”
وہ اپنے دوسرے جاسوس کو دھمکی دیتا ہوا موبائل صوفے پر اجھال کر دونوں ہاتھوں سے سر دبوچنے لگا
“تعبیر علی… تم مجھ سے بھاگ نہیں سکتیں… تم جتنا مجھ سے دور جاؤ گی مجھ اتنا تمہارے قریب آؤں گا تم مجھ سے نہیں بچ سکو گی تم نے مجھے بہت بےچین کیا ہے، نجانے کب اور کیسے مگر تم نے مجھے اپنے قریب آنے پر مجبور کیا ہے، میں…”
وہ واقعی بہت بے چین تھا زندگی میں پہلی بار کوئی ایسا آیا تھا جس نے آتش درانی کو مکمل بے چین کیا تھا اسے اب ایک پل سکون نہ تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ آخر کیسے وہ ایک عام سی لڑکی اس کے سکون میں خلل کی وجہ بن چکی تھی
“آتش درانی یہ قسم کھاتا ہوں کہ اپنی آخری سانس تک تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا”
وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں قسم کھاتا ہوا اب اگلی معلومات کے انتظار میں تھا
☆★☆★☆★☆
وہ آج پیپر سے فارغ ہوکر نئے گھر کا انتظام کرنے کے لیے نکلی تھی اس نے حریم کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا کیونکہ اسے پتا تھا حریم اس کے بغیر نہیں رہ پائے گی جب سے وہ اس کی زندگی میں آئی تھی اتفاق سے ائیزل کے ڈیڈ نے بھی ائیزل کی پوکٹ منی میں بہت اضافہ کردیا تھا
وہ بآسانی اپنے ساتھ ساتھ حریم کے خرچے بھی پورے کردیتی تھی جس پر حریم اکثر بہت شرمندہ ہوتی تھی مگر ائیزل کو پتا تھا کہ ایموشنل بلیک میل کر کے کیسے حریم کو آمادہ کرنا ہے
اس نے پہلے گھر ڈھونڈنے کا ارادہ کیا تھا وہ گھر ڈھونڈنے کے بعد حریم سے اس کی رضامندی کا پوچھنا چاہتی تھی وہ حریم کو اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہتی تھی اگر حریم رضامند ہو جائے تو
ابھی اس نے آدھا سفر ہی طے کیا تھا جب اس کے پاس ضوریز کی کال آنے لگی وہ کال پک کرتی ہوئی اسپیکر ان کر گئی
“آئیز کہاں ہو تم؟؟”
“ریز میں بزی ہوں بعد میں بات کرتی ہوں”
“مگر مجھے بتاؤ تو کہاں ہو تم؟؟”
ضوریز فکرمندانہ انداز میں کہنے لگا
“ریز میں نے کہا نہ بعد میں بات کروں گی”
وہ اپنی بات مکمل کر کے بنا اس کی کچھ سنے کال ڈسکنیکٹ کر گئی اب وہ کسی ہوم ایجنسی آفس کے سامنے رکی تھی اس نے اپنا موبائل گاڑی میں چھوڑا اور خود چلتی ہوئی اندر آئی
وہاں بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے کچھ ایجنسی کی ٹیم میں سے تھے اور کچھ اس کی طرح گھر کی تلاش میں وہاں آئے تھے اس نے آس پاس نظر دوڑائی پھر سامنے ریسیپشن پر کھڑی لڑکی کے پاس گئی
“لسن مجھے اپارٹمنٹ کے اباؤٹ کام ہے”
“آپ سامنے والے ٹیبل پر چلی جائیں”
وہ لڑکی اشارے سے کہتی ہوئی کمپیوٹر میں مصروف ہوگئی جبکہ ائیزل اس کے بتائے گئے ٹیبل کی طرف بڑھی
دوسری طرف وہ جو اس کے لئے بے انتہا پریشان ہوا جارہا تھا ائیزل کا یوں اس کے منہ پر فون بند کردینا اس کے لئے سخت نہ گوار گزرا تھا وہ غصے سے اپنی بائیک پر بیٹھا اور گل اسپیڈ سے ڈرائیو کرنے لگا
“تھنکیو سو مچ میں ایک بار اس اپارٹمنٹ کو دیکھنا چاہوں گی”
“ضرور… آپ کل ہی آجائیں اور دیکھ لیں پھر ایڈوانس پے کردیئے گا اور جب دل چاہے یہاں شفٹ ہو جائیے گا”
“شکریہ اللّٰہ حافظ”
وہ وہاں سے بڑی خوشی سے اٹھ کر باہر کو آئی اس نے سب سے پہلے ضوریز کو کال کی مگر اب اس کا نمبر آف جارہا تھا پھر اس نے حریم کو کال کرنے کا سوچا مگر رکی کیونکہ وہ اسے یہ بات سامنے بیٹھ کر بتانا چاہتی تھی
☆★☆★☆★☆
“ہمت دیکھتی تھی اس کی، کیسے شاویز کے قریب ہوکر گفتگو کر رہی تھی، دل تو چاہ رہا تھا وہیں اس کے بال پکڑ کر…”
وہ کب س غصے میں بڑبڑائی جارہی تھی اسے حوریا پر بے حد غصہ آرہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حوریا کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دے
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب اسے یاد آیا شاویز حوریا سے جو بک واپس لے رہا تھا وہ وہی بک تھی جو وہ اسے اس دن سوری کے طور پر گفٹ کر رہا تھا اچانک سے اس کا سارا غصہ کہیں غائب ہوا تھا
“آخر شاویز اس بک کو کیوں لئے بیٹھا تھا؟؟ ک
یا وہ بھی ایسی لوو اسٹوریز پڑھتا ہے؟؟ یا پھر…”
اس کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب اس کی نظر سامنے دروازے پر کھڑی ائیزل پر گئی جو کب سے اسے ہی دیکھی جارہی تھی جس سے وہ بے خبر تھی
“آآ ائیزل تم…تم کب آئیں…”
ائیزل خاموشی سے چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی جبکہ ائیزل اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے گھور رہی تھی جیسے کچھ جانچنا چاہ رہی ہو حریم ہڑبڑاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی
“یہ کس شاویز کی باتیں سوچیں جارہی ہیں؟؟”
ائیزل نے دھیمے لہجے میں پوچھا جس پر وہ چور نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“بتاؤ حریم؟؟”
“کک کون شاویز؟؟ میں نے تو کسی شاویز کے بارے میں نہیں سوچا”
حریم جلدی سے واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر کتابوں میں مصروف ہونے لگی جب ائیزل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا
“مگر تم نے تو ابھی خود ہی کسی شاویز اور اس اسٹوپڈ حوریا کا نام لیا تھا؟؟”
ائیزل کی بات پر وہ آنکھیں گھماتے ہوئے اپنے پکڑے جانے کا ثبوت خود دے رہی تھی ائیزل اس کے برابر میں آبیٹھی
“بتاؤ بھی آخر بات کیا ہے؟؟ ورنہ ایسا نہ ہو میں خود ہی یونی سے پتا لگا لوں…”
“ارے نہیں سنو…”
ابھی ائیزل فون نکالتی جب حریم نے اس کا ہاتھ پکڑا
“وہ شاویز جو ہے…وہ ہمارا کلاس فیلو ہے…”
“اچھا… تمہارا اس سے کیا تعلق اور حوریا کے بال پکڑ کے مارنے کا کیوں سوچ رہی تھیں؟؟ وہ بھی ذرا ایکسپلین کرنا”
ائیزل کے سوالوں پر حریم نے برا سا منہ بنایا جس پر ائیزل اسے گھورنے لگی
“اوففف ائیزل اتنے سوال کیوں کر رہی ہو؟؟ وہ دونوں ہی میرے کلاس میٹ ہیں اور کلاس فیلوز میں اکثر چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں یو نو نہ؟؟”
وہ اسے اپنی بات سے کنوینس کرنے لگی جس پر ائیزل کچھ سوچنے لگی
“اچھا خیر چھوڑو… مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے”
آئیزل نے آج پہلی بار اس کی بات کو مانتے ہوئے بات بدلنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بات پر آئی
“ہاں کہو؟؟”
ائیزل نے گہری سانس لی اور آج جو کچھ بھی ایجنسی والوں کے ساتھ ڈسکس ہوا تھا وہ سب حریم کو تفصیل سے بتانے لگی
☆★☆★☆★☆
وہ لوگ واپسی کے لیے نکل رہے تھے مگر دس منٹ کا راستہ طے کرنے کے بعد ہی ہنی کے ڈرائیور نے گاڑی خراب کا بہانا بنادیا تھا جس وجہ سے انہیں ٹیکسی میں واپس ہوٹل جانا پڑا تھا جہاں وہ لوگ پہلے دن رکے تھے
یہ سب آتش درانی کے آدمی نے کروایا تھا تاکہ تعبیر علی اس شہر سے کہیں نہ جا سکے کیونکہ یہ تو طے تھا کہ ان کے ٹیم ممبرز فلائیٹ کے ذریعے نہیں جا سکتیں گے کیونکہ وہ جس کنوینز سے آئے تھے اس ہی سے واپسی جانے کا پروگرام تھا
وہ اس وقت ہوٹل کے نیچلے حصے میں بنے ریسٹورانٹ میں بیٹھے ڈنر کر رہے تھے جبکہ تعبیر بہت اپسیٹ تھی کیونکہ اس کے لئے اب اس شہر میں ایک پل بھی رہنا بہت مشکل ہو چکا تھا
وہ آتش درانی نامی مشکل سے بھاگنا چاہتی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ کوئی ہے جو اس وقت بھی اس کے معصوم سے چہرے پر پیاری سی پریشانی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“اففف اللّٰہ سینوریٹا کیوں ایسے بیٹھی ہو؟؟ اپنا کھانا فنش کرو…”
رائمہ کی بات پر اس نے بنا کچھ کہے نیچے سر جھکا لیا جس پر رائمہ نے ہنی کو دیکھا جو تعبیر کی پریشانی پر کافی فکرمند تھی
“اچھا تو یہ کافی…کافی پیو گی؟؟”
ہنی نے اس کی طرف کافی کا مگ بڑھایا جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا مگر تب ہی اس کا موبائل جو اس ہی حاشر خانزادہ نے اسے گفٹ دیا تھا وہ بجنے لگا مگر کسی ان نان نمبر کی کال تھی
“ایکسکیوز می “
وہ کہتی ہوئی سائیڈ میں آئی مگر اب کال بند ہو چکی تھی
“یہ کیا مذاق ہے…ایسے بھلہ کون کرتا ہے؟؟”
تعبیر عجیب سے منہ بناتے ہوئے ابھی پلٹنے لگی تھی جب وہ اچانک سے اس کے راستہ روکے کھڑا ہوا وہ چونکی
“جو کوئی نہیں کرتا وہ آتش درانی کرتا ہے “
جاری ہے
