Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 24)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“اففف اللّٰہ پاک میری حفاظت فرما”

وہ اب چلتے چلتے کافی دور آ چکی تھی مگر اس اندھیری سنسان سڑک پر اسے اب بہت خوف محسوس ہورہا تھا کچھ ہی فاصلے پر ایک کار کھڑی ہوئی تھی یقیناً وہاں کوئی رکا ہوا تھا

“اتنی رات میں… آخر یہ لوگ کون ہو سکتے ہیں…”

پولیس کی وردی میں ملبوس چار بڑی عمر کے آدمی شراب کے نشے میں چور دور سے آتی لڑکی کو دیکھ رہے تھے ان میں سے ایک گاڑی سے باہر نکلا اور آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے دیکھنے لگا

“اوئے وہ دیکھ پری…”

پہلے والے شخص نے کہا جس پر باقی کے تینوں شخص بھی باہر نکل آئے

“ابے یہ پری نہیں پورا کا پورا پرستان ہے”

ان میں سے دوسرے شہر نے نظریں جھٹکتے ہوئے کہا جس پر باقی کے سارے لڑکوں نے زور دار قہقہہ لگایا

تعبیر کو وہ لوگ بہت عجیب و غریب لگ رہے تھے کیا وہ واقعی پولیس والے تھے یا پھر کوئی اور تعبیر نے دیکھا ان لڑکوں نے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کیا تعبیر کو خطرہ لاحق ہوا وہ کچھ سوچتی ہوئی واپس اس ہی جانب چل دی جہاں سے وہ آئی تھی

“کیا مطلب ہے غائب ہوگئی؟؟ کہاں گئی ہے وہ؟؟ ہاں؟؟”

آتش جو پہلے ہی غصے سے بھرا بیٹھا تھا جب اسے گارڈز سے پتا چلا کہ تعبیر اکیلی ہی چلی گئی ہے تو وہ مزید غصہ ہونے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا جس علاقے میں وہ تھا وہ علاقہ اکیلی لڑکی کے لئے تو بلکل بھی محفوظ نہ تھا

“سر ہم کوشش کر رہے ہیں انہیں ڈھونڈنے کی”

“بھاڑ میں جائے تمہاری کوشش میری گاڑی نکالو ابھی…”

وہ اسے غصے سے کہتا ہوا باہر کی جانب دوڑا

“اففف تعبیر علی… تم اپنی انا کے چکر میں سب کچھ گوا بیٹھو گی”

وہ اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہوا زیر لب کہنے لگا

“تم وہیں رکو، میں اکیلے جاؤں گا”

آتش نے گارڈز کو غصے سے کہا اور خود گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا

“یار دیکھ وہ بھاگ رہی ہے!!!”

“ہیئی لڑکی رکو!!!”

“ارے کدھر جارہی ہو پرستان کی پری!!!”

“بات تو سنو!!! کیا تم واقعی کوئی پری ہو؟؟ یا پھر کوئی خوبصورت چڑیل؟؟”

وہ چاروں باقاعدہ اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے کہنے لگے جبکہ تعبیر اب واقعی یہاں اکیلے آکر پچھتا رہی تھی بھاگتی ہوئی اس ہی راستے پر واپس جارہی تھی جبکہ وہ لڑکے بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے

“آااہ…”

ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھ کر چینخی کیونکہ اگر آتش بریک نہ لگاتا تو شاید وہ اسے ہٹ کر چکا ہوتا آتش جلدی سے گاڑی سے باہر نکالا وہ صورتحال سمجھ چکا تھا تعبیر اسے اچانک دیکھ کر بہت حیران مگر تھوڑی پرسکون بھی ہوئی تھی

“ارے…یہ بندا کون ہے؟؟”

“یار میں نے اسے کہیں دیکھا ہے!!!”

“کدھر دیکھا ہے بھائی تو نے؟؟”

“اوہ یاد آیا یہ تو وہی ہے نہ جو فلموں میں آتا ہے… کیا نام ہے اسکا…ہاں یاد آیا … مگر پھر بھول گیا…”

تعبیر بہت ڈری ہوئی تھی کیونکہ ایک طرف وہ چاروں لڑکے دوسری طرف آتش جو لال آنکھیں لئے غصے سے اسے ہی گھور رہا تھا

“ابے غور سے دیکھ یہ کوئی فلم کا ہیرو نہیں ہے… اندھے”

ان میں سے ایک لڑکے نے دوسرے کے سر پر چپت لگائی تو پہلا والا آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا

“چل بھائی پری کو ہمارے حوالے کر اور کھسک لے یہاں سے”

کیونکہ وہ لڑکے اس وقت ہوش میں نہیں تھے اس لئے ایک نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا

“پیچھے آؤ…”

وہ غصے سے گھورتے ہوئے تعبیر سے مخاطب ہوا

“سنا نہیں تم نے؟؟ پیچھے آؤ میرے”

وہ اس کے سخت لہجے سے گھبراتے ہوئے اس کے پیچھے چھپ گئی اب ان لڑکوں کے سامنے صرف آتش درانی تھا

“ابے دیکھ تو اس کو کیسے اپنی پری کا پری زادہ بن کر آگیا یہ سالا”

“ابے اس کی پری کہاں سے آگئی یہ تو ہمیں ملی تھی نہ…ہماری پری ہوئی”

“تو یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟؟ اس کو تو نکالو یہاں سے…”

تیسرے لڑکے کی بات پر آتش کے قدم آگے بڑھے جس پر وہ لوگ اسے دیکھنے لگے وہ سرخ آنکھیں لئے انہیں گھور رہا تھا

“بہتر ہوگا ابھی اس ہی وقت یہاں سے چلے جاؤ… ورنہ جان سے جاؤ گے”

وہ سرد لہجے میں کہتا ہوا انہیں گھورنے لگا اس کے چہرے پر سخت تاثرات کافی حد تک نمایاں تھے اس کی بات پر ان لڑکوں نے قہقہہ لگایا

“لو بھائیوں سن لو اس کی بات، ابے پولیس والے ہم بنے ہوئے ہیں اور یہ سالا ہمیں ہی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے”

اس میں سے ایک لڑکے نے کہا جس پر سب لڑکے ہنسنے لگے تبھی آتش نے اپنے کوٹ کے اندر سے بندوق نکالی جس پر نا صرف تعبیر بلکل وہ سب حیرانی سے اسے دیکھنے لگے

“یاد رہے میں جو کہتا ہوں وہ کر کے دکھاتا ہوں، کیا خیال ہے پھر؟؟ کرنا چاہو گے”

ایک فائر کی آواز آئی تھی جس پر وہ لڑکے دم دبا کر بھاگے تھے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہاں سے نکل گئے تھے کیونکہ یہ فائر آتش نے ہؤا میں کی تھی مگر جب وہ پلٹا تو اس نے دیکھا تھا وہ بری طرح سے کانوں پر ہاتھ رکھے کانپ رہی تھی

وہ دوڑتا ہوا اس کے قریب آیا گن کو اچھال کر اس نے گاڑی میں پھینکا

“تعبیر…”

وہ اب تک کانپ رہی تھی

“تعبیر…!!!”

وہ اچانک سے ہوش میں آئی

“تعبیر گاڑی میں بیٹھو”

وہ اسے زبردستی فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتا ہوا خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہوا گاڑی چلانے لگا

“تمہیں کس نے کہا سنسان راستے پر اکیلے نکلنے کے لئے؟؟”

وہ غصے سے کہتا ہوا گاڑی دوڑانے لگا مگر تعبیر کا دماغ بلکل سن تھا وہ بنا کچھ کہے یوں ہی بیٹھی رہی اس کی حالت سمجھے ہوئے وہ خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا

کچھ ہی دیر میں وہ لوگ اس کے محلے میں موجود تھے

“تعبیر…تمہارا گھر آگیا”

وہ نرمی سے کہتا ہوا اس کی توجہ کا مرکز بنا وہ اسے بنا کچھ کہے دیکھتی ہوئی گاڑی سے اتری اور سامنے گلی میں چلی گئی

آتش اسے جاتا دیکھ کر ایک گہری سانس لینے لگا

“آخر کیا ہورہا ہے یہ تمہیں آتش…”

☆★☆★☆★☆

“بابا یہ لیں آپ کا ناشتہ… آج میں آفس دیر سے جاؤں گا مجھے یونیورسٹی جانا ہے”

وہ ٹیبل پر ناشتے کی ٹرے رکھتا ہوا کہنے لگا

“کیا تعبیر اب تک نہیں اٹھی؟؟ اسے تو آج آفس جانا ہے نہ؟؟”

افتخار صاحب رات جلدی سوگئے تھے انہیں نہیں پتا تھا تعبیر کب گھر آئی تھی

“بابا جان آپی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کل رات جب وہ واپس آئیں تو انہیں بخار ہورہا تھا میں نے سوچا انہیں نہ اٹھاؤں…”

شاویز کی بات پر وہ تھوڑے پریشان ہوئے تھے

“کیا مطلب بخار ہورہا ہے؟؟ کیا زیادہ تیز بخار ہے؟؟”

“نہیں بابا آپ پریشان نہ ہوں آج انہیں آرام کرنے دیں میں جاتے جاتے ان کے آفس میں بھی کال کردوں گا”

شاویز کی بات پر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ ناشتے میں مصروف ہوگئے

“اچھا بابا جان اپنا خیال رکھیئے گا میں جارہا ہوں…اللّٰہ حافظ”

وہ ایک بریڈ کھا کر کرسی سے اٹھا اور اپنا بیگ اور موبائل اور بائیک کی چابی لئے باہر جانے لگا اس کا لک آج پہلے کی طرح یونیورسٹی اسٹوڈینٹ کی طرح تھا

“رکو…”

بابا جان کی بات پر وہ رک کر پیچھے مڑا

“وہ لڑکی تھی نہ کیا نام تھا اس کا…ہاں حریم وہ بچی کیا اب یونیورسٹی آتی ہے؟؟”

بابا جان کے منہ سے حریم کا نام سن کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی جو وہ دیکھ چکے تھے

“پپ پتا نہیں بابا جان… آپ کو پتا ہے نہ میں کتنے ٹائم سے یونیورسٹی نہیں گیا…”

شاویز نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا

“آج تو جارہا ہے نہ؟؟ اگر آج وہ بچی یونیورسٹی آئے تو اسے میری طرف سے پوچھ لینا، اسے کہنا گھر آجایا کرے اب تو تعبیر کو آئے کافی وقت ہوگیا وہ بچی اب تک ملنگ نہیں آئی…”

“جی جی بابا جان اگر مجھے وقت ملا تو کہہ دوں گا”

شاویز نے جلدی سے قدم بائیک کی طرف بڑھائے

“اللّٰہ حافظ بابا جان”

جب وہ بائیک لئے باہر نکلنے لگا تو ایک نظر خود کو غصے سے گھورتے ہوئے بابا پر ڈالی اور جلدی سے باہر جو چلا گیا اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ وہ آج یونیورسٹی حریم ہی کی وجہ سے تو جارہا تھا

☆★☆★☆★☆

“مجھے نہیں لگتا وہ آج یونیورسٹی آئے گا…نجانے کیوں نہیں آرہا… اتنا وقت ہوگیا کیا بیچ میں ہی پڑھائی چھور گیا؟؟ کیا وہ واقعی چھوڑ گیا ہے؟؟”

وہ خود کلامی کر رہی تھی جب ائیزل نے اس کی باتیں سن لیں

“کون چھوڑ گیا ہمممم”

وہ جیسے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی حریم نے اپنے سر پر چپت لگائی

“اففف اللّٰہ کوئی بھی نہیں…”

ائیزل کی بات پر اس نے منہ بسورا تو وہ ہنسی

“کیوں ہنس رہی ہو تم ہاں؟؟”

“کچھ نہیں بس سوچ رہی ہوں بچارا شاویز کیسے جھیلے گا تمہاری یہ ناراضگی”

ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے اس نے یہ الفاظ ادا کئے تھے جسے سن کر وہ ہکا بکا رہ گئی تھی

“کک کیا مطلب… کون شاویز ہاں…”

“بس بس رہنے دو سب پتا ہے مجھے… وہی ہوسپٹل والا شاویز…”

اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ائیزل نے گاڑی اسٹارٹ کی جبکہ وہ بچاری انگلی دانت تلے دبا کر رہ گئی

“ویسے کیا تم آج بھی ضوریز سے ملنے جاؤ گی؟؟”

“نہیں یار وہ کہہ رہا تھا آج اسے کسی اور کام سے شہر سے باہر جانا پڑھ رہا ہے”

ائیزل کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی

“یعنی پھر سے شہر سے باہر؟؟ لیکن آخر یوں بار بار کیوں؟؟”

حریم نے حیرانی سے پوچھا

“یہ تو میں بھی نہیں جانتی…”

“ویسے ائیزل کیا تم نے ضوریز بھائی سے رشتے کی بات کی؟؟ کیا کہا انہوں نے؟؟کیا وہ انکل سے ملیں گے؟؟”

حریم کی بات پر ائیزل خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جس پر حریم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

“تم پریشان نہ ہو ضوریز سب سنبھال لے گا چلو شاباش تماری یونی آگئی”

وہ بات کاٹتے ہوئے کہنے لگی جسے حریم نوٹ کر چکی تھی

“اوکے اللّٰہ حافظ ائیزل”

“لوو یو مائے بے بی”

فلائنگ کس دیتے ہوئے ائیزل نے گاڑی موڑ لی

“کال کرتی ہوں ریز کو پتا نہیں کہاں ہوگا اب”

ائیزل نے جیسے ہی کال ملائی دوسری طرف سے کال کٹ ہوگئی

“یہ ریز نے میری کال کیوں کاٹی”

ابھی وہ وہی سوچ رہی تھی جب موبائل پر ضوریز کا میسج آیا

“میں دوسرے شہر کے لئے نکل گیا ہوں اس وقت دوستوں کے ساتھ ہوں ابھی کال ریسیو نہیں کر سکتا فارغ ہوکر کال بیک کروں گا ٹیک کیئر”

ائیزل کو اس کی بات کچھ عجیب لگی

“پہلے تو کبھی ریز نے ایسے نہیں کہا وہ جب بھی جہاں بھی ہوتا تھا میری کال ضرور ریسیو کرتا تھا…پھر آخر اب ایسا کیا ہوگیا…”

وہ سوچ میں پڑھ گئی اس نے بنا کوئی ریپلائے دیئے موبائل سائٹ پر رکھا اور گاڑی چلانے میں مصروف ہوگئی

☆★☆★☆★☆

وہ سیکنڈ روؤ کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی آج پھر سے اس کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ نہیں آیا دو لیکچر تو ختم ہو چکے تھے مگر اس کا اب تک کوئی اتا پتا نہ تھا بریک ٹائم ہوتے ہی وہ گارڈن کی طرف چلی گئی

“وہ آئے گا؟؟ وہ نہیں آئے گا…وہ آئے گا وہ نہیں آئے گا”

اپنے ہاتھ میں گلاب کا پھول لئے وہ ایک ایک پتی کو توڑتے ہوئے کہنے لگی مگر آخری پتی پر وہ رکی

“وہ آئے گا؟؟”

وہ حیران ہوئی

“اففف میں بھی کتنی بڑی پاگل ہوں وہ شاویز ہے اگر اسے آنا ہوتا تو وہ فرسٹ لیکچر میں ہی آجاتا…چھوڑو حریم مت کرو اس کا انتظار چلو تمہاری ڈانسنگ کلاسز کا ٹائم ہو چکا ہے”

وہ منہ پھلائے اپنی کلاس لینے چلی گئی

جب اس کی بائیک یونی سے اندر انٹر ہوئی بہت سی لڑکیاں اس کا لک دیکھ کر مسلسل اسے دیکھی جارہی تھیں وہ بدلا تو نہ تھا البتہ پہلے سے تھوڑا زیادہ ہینڈسم ہوگیا تھا وہ سب کی نظریں خود پر محسوس کرتا ہوا سب کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا اندر کی جانب چلا گیا

اسے پتا تھا وہ تھرڈ پیریڈ گول کر کے اپنی ڈانسنگ کلاسز لینے جایا کرتی تھی شاویز اوپر کی جانب جانے کے بجائے اس کی کلاس کی طرف چلا گیا مگر جب اسے بیزی دیکھا تو کچھ سوچتے ہوئے سامنے والے آفس میں چلا گیا

“ون ٹو تھری اسٹارٹ…”

وہ سامنے سیٹ پر بیٹھی تمام لڑکیوں کو حکم دے رہی تھی تب کوئی لڑکی اس کے پاس آئی

“مس حریم کوئی آپ سے ملنے آیا ہے”

وہ حیران ہوئی

“مجھ سے ملنے؟؟ مگر کون؟؟”

“انہوں نے نام نہیں بتایا مگر وہ اس وقت ویٹنگ روم میں ہیں…”

وہ لڑکی کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ اب تک یہی سوچ رہی تھی کہ اس سے ملنے کون آ سکتا ہے

“لڑکیوں تم لوگ کنٹینیو رکھو میں ذرا آتی ہوں

جب وہ ویٹنگ روم میں گئی تو اندر کوئی بھی نہ تھا

“یہ کیا مذاق ہے بھلہ؟؟ یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے…”

حریم جیسے ہی واپسی کے لیے مڑی سامنے ٹیبل پر اسے کچھ خوبصورت پھولوں کے بکے رکھا نظر آیا اور ساتھ ہی کوئی باکس بھی تھا جو گفٹ پیپر سے کوور کیا گیا تھا

“یہ…یہ کیا ہے؟؟ کیا یہ میرے لئے ہے…”

حریم نے ان پھولوں کو دیکھتے ہوئے اس گفٹ کو ہاتھ میں لیا جیسے ہی اس نے باکس کھولا اندر وہی کتاب تھی

“Secret of love”

وہ ساکت رہ گئی آخر یہ سب کیا تھا

“یہ…یہ سب…کیا ہے یہ…”

“یہ جو بھی ہے اتنا جان لو اس بار سوچ سمجھ کر دیا ہے…”

پیچھے سے مردانہ آواز سنتے ہوئے ایک دم چونکی جیسے ہی پلٹی سامنے کھڑا شاویز ایک الگ ہی شخصیت کا مالک لگ رہا تھا حریم اسے دیکھتی رہ گئی تھی

بلیک ہڈی بلیک جینز وائٹ جوگرز گلے میں لاکٹ ایک خاص ہیئر اسٹائل کے ساتھ وہ آج بہت زیادہ خوبرو نوجوان لگ رہا تھا ایک دم سے حریم کا دل دھڑکا تھا

“شش شاویز…”

“کیسی ہیں آپ حریم جی…”

اس کے بات کرنے کا انداز تھوڑا بدل چکا تھا حریم کے چہرے کا اڑتا ہوا رنگ وہ دیکھ چکا تھا

“مم میں ٹھیک اور تم…”

“میں بھی ٹھیک… سوچا کیوں نہ آپ سے مل لیا جائے اور آپ کو آپ کی امانت بھی سونپ دی جائے…”

شاویز کے لبوں پر یہ مسکراہٹ کچھ اور ہی بتا رہی تھی حریم نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا

“مگر… یہ بک…”

“میں نے کہا نہ…اس بار سوچ سمجھ کر دی ہے…میں نے مکمل پڑھ لی ہے آپ بھی پڑھ لئے گا…”

وہ بنا کچھ کہے کھڑی اسے ہی دیکھے جارہی تھی

“اب مجھے چلنا چاہئے… اللّٰہ حافظ…”

وہ جانے لگا مگر پلٹا

“اور ہاں… آپ پر پنک کلر بہت سوٹ کرتا ہے”

وہ جاتے جاتے اس کے ہوش اڑا گیا تھا حریم کو لگا وہ آسمانوں میں اڑ رہی ہو جیسے وہ جلدی سے بلش کرتی ہوئی اپنا چہرہ چھپا گئی

☆★☆★☆★☆

وہ اس وقت اخبار پڑھنے میں مصروف تھے جب گھر کا ٹیلی فون بجنے لگا جو ان کے برابر رکھے ٹیبل پر موجود تھا افتخار صاحب نے فون اٹھا کر کان پر لگایا

“کیا حال ہے افتخار علی…”

ایک بھاری سی رعب دار آواز ان کے سماعتوں سے ٹکرائی جس پر ان کے ہاتھ میں پکڑا اخبار زمین پر جا گرا

“کک کون…”

“بھول گئے؟؟ کمال علی تمہارا کزن… چاچا کا بیٹا”

افتخار صاحب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں

“کیا ہوا؟؟ چونک گئے؟؟ سوچ رہے ہوں گے مجھے نمبر کہاں سے ملا… چلو میں خود ہی بتا دیتا ہوں کل تمہارے دفتر آیا تھا گھر کا پتا نہ مل سکا مگر چلو نمبر ہی صحیح”

دوسری جانب سے آتی آواز پر انہوں نے مٹھیاں بینچیں تھیں

“اور بتاؤ کیسے ہو؟؟ میری بہو کیسی ہے؟؟”

“بس کردیں بھائی صاحب اپنی زبان سے میری بیٹی کا نام دوبارہ نہ دہرانا…”

افتخار صاحب کا دل کیا اس کا منہ توڑ دے مگر مجبور تھے وہ سامنے نہ تھا

“ہاہاہا میاں ابھی ہم نے تمہاری بیٹی کا نام لیا ہی کب، اور سناؤ… سنا ہے گھر کے حالات بڑے اچھے چل رہے ہیں… جمال بھی کل ہی بہاولپور سے واپس آیا ہے وہ کیا کہتے ہیں…ہاں میٹرک…میٹرک کے امتحان دے کر آیا ہے میرا شیر”

کمال علی کی بات پر وہ ہکا بکا رہ گئے

“تو میں کیا کروں؟؟یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں؟؟”

افتخار صاحب نے سخت لہجے سے کہا جس پر دوسری طرف سے ایک زور دار قہقہہ لگایا گیا

“ارے میاں تمہیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ تم ابھی سے تیار رہو…”

کمال کی بات پر وہ حیران ہوئے

“تیار؟؟ مگر کیوں؟؟”

“کیا مطلب کیوں؟؟ بھئی آخر جمال نے میٹرک پاس کر ہی لیا ہے تو اب اس کا اور تعبیر کا بیاہ کھڑکا دیا جائے تو کیسا رہے گا؟؟ یہ سب اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ تم جلدی سے شادی کی تیاری کرلو اور میری بہو کو گھر بٹھا دو بیٹا کام کر رہا ہے کافی ہے”

کمال کی بات پر انہیں حیرت کا جھٹکا لگا تھا وہ غصے بھڑکنے لگے تھے

“کمال علی میں تمہیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میں اپنی بیٹی تمہارے بیٹے کو نہیں دوں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے”

افتخار صاحب نے غصے سے چینختے ہوئے کہا

“تمہارے کہنے سے کیا ہوتا ہے یہ تو بچپن کی رسم تھی جو ادا کردی گئی تھی تعبیر جمال کی ہی دلہن بنے گی یاد رکھنا…”

اس نے ڈھیٹائی سے کہا

“بھول ہے تمہاری… میری بیٹی تمہارے جاہل بیٹے کی دلہن کبھی نہیں بنے گی جب تک میں زندہ ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا یہ یاد رکھنا”

افتخار صاحب کی بات پر وہ شخص بھی بھڑک اٹھا

“بکواس بند کرو اپنی…اور کان کھول کر میری بات سنو… تمہاری بیٹی کل بھی میرے جمال کی امانت تھی اور آج بھی میرے ہی جمال کی امانت ہے اور اسے میرے شیر کی دلہن بننے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا تم بھی نہیں سمجھے”

جمال نے چیختے ہوئے کہا

“ہاں اگر تم نے اس بار ذرا بھی اکڑ دکھانے کی کوشش کی تو یاد رکھا تم جو کچھ کرو گے وہ سب تمہاری بیٹی بھگتے گی کیونکہ دلہن تو اسے میرے جمال کی ہی بننا ہے پھر چاہے وہ رضامند ہو یا نہ ہو”

افتخار صاحب نے فون بند کردیا ان کی طبیعت اب بگڑنے لگی تھی

“نہیں… یہ کیسے ہو سکتا ہے… میں اتنا بڑا گناہ اپنی بیٹی کے سر نہیں ڈال سکتا…”

انہیں لگا ان کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہوچکا ہو

“مجھے جلد سے جلد اس سے بات کرنی ہوگی ورنہ…میری بیٹی کی زندگی…”

وہ مزید کچھ کہہ نہیں پائے تھے

☆★☆★☆★☆

وہ جب نیند سے جاگی تو اس کا سر بھاری ہورہا تھا وہ بامشکل خود کو سنبھالتی وہی اٹھ کر بیڈ کراؤن سے جا لگی تب اسے کل رات والا منظر یاد آنے لگا کس طرح آتش نے اس کی عزت کی حفاظت کی تھی

“اگر وہ نہ ہوتا تو…تو شاید آج میں زندہ ہی نہ ہوتی”

ہاتھوں کے پیالے میں منہ دیئے وہ زارو قطار رو رہی تھی کل کا واقعہ ان لڑکوں کا اس کے پیچھے بھاگنا جیسے جیسے اسے سب یاد آرہا تھا اس کا ڈر مزید بڑھ رہا تھا وہ مسلسل روئی جارہی تھی مگر جب آتش کے ساتھ گزرا ہوا وقت یاد آیا تو سر اٹھا کر بیٹھی

“مگر مشکل میں بھی تو اس ہی کی وجہ سے آئی تھی نہ میں…”

اس کا پورا وجود بخار سے ٹوٹ رہا تھا اسے لگا جیسے اس کے جسم کا ایک ایک حصہ درد سے ٹوٹ رہا ہو اس کا سر اب تک چکرا رہا تھا

“اللّٰہ پاک یہ آزمائش آخر کب ختم ہوگی…”

کافی دیر تک وہ یوں ہی روتی رہی مگر پھر خود کو کل والے کپڑوں میں پا کر وہ باتھ چلی گئی

جب وہ فریش ہوکر آئی تب اس کا جسم مزید تپ رہا تھا مگر اس کے سر کا بوجھ اب تھوڑا کم ہو چکا تھا

“یہ کیا… میں اتنا کیسے سو گئی… آفس کا وقت تو نکل گیا…”

جب سامنے گھڑی پر نظر گئی تو وہ جلدی سے اپنے بالوں کو درست سکھاتی ہوئی ناشتے کے غرض سے کمرے سے باہر آئی مگر جب باہر آئی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی

وہ ویل چیئر پر بیہوش پڑے تھے وہ بھاگتی ہوئی ان کی جانب گئی

“بابا جان آنکھیں کھولیں کیا ہوا ہے آپ کو؟؟ بابا جان…شاویز…”

وہ جلدی سے کمرے کی طرف بھاگی اور موبائل میں شاویز کا نمبر ڈائیل کرنے لگی

☆★☆★☆★☆

وہ اس وقت ایک بڑی سی کمپنی کے سامنے بنی ایک چھوٹی سی کافی شاپ پر بیٹھی کافی پی رہی تھی

“آج موسم کتنا خوش گوار ہے نہ…کاش ضوریز بھی یہیں پر ہوتا”

موبائل پر ضوریز کی تصویر دیکھتی ہوئی وہ اداس ہونے لگی جب اچانک اس کے ڈیڈ کی کال آنے لگی

“ہیلو ڈیڈ…”

“ائیزل میری بات غور سے سنو ارتضیٰ ایک ہفتے کے اندر اندر پاکستان آنے والا ہے ویسے تو اسے میں نے تمہارے اپارٹمنٹ پر ٹھہرنے کا کہا تھا مگر وہ فلحال ہوٹل میں رہے گا کیونکہ اس کے گھر میں کچھ کام باقی ہے”

کاظم صاحب کی بات پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے ان کی باتوں پر غور کرنے لگی

“ڈیڈ یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں ؟؟”

“کیونکہ وہ تم سے بھی ملنے آئے گا یاد رہے تم اس کے سامنے کوئی الٹی سیدھی بات نہیں کرو گی سمجھیں!!!”

کاظم صاحب نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے کہا جس پر وہ بے یقینی سے موبائل دیکھنے لگی

“ڈیڈ میری بات سنیں میں کسی ارتضیٰ سے نہیں ملنے الی بہتر ہوگا آپ اسے یہاں آنے سے منع کردیں”

ائیزل نے دو ٹوک بات کی جس پر وہ غصہ ضبط کرنے لگے

“دیکھو ائیزل مجھے مجبور نہ کرو کہ میں وہاں آکر جلد سے جلد تمہیں رخصت کردوں”

“اور اچھا کیا بات ہے یعنی آپ اتنے سالوں میں صرف دو تین بار مجھ سے ملنے آئے ہیں اور رخصت کرنے کے لیے آپ جلد دے جلد یہاں آنے کے لئے بھی تیار ہیں اب ایسی دھیمکی کا کیا مطلب سمجھوں میں؟؟”

ائیزل کو ان کا ایسا رؤیہ بلکل بھی پسند نہ آیا جبکہ دوسری طرف بھی یہی حال تھا

“ائیزل… بس بہت ہوا… ارتضیٰ اس ہی ہفتے پاکستان آرہا ہے اور تم سے بھی ملے گا نو مور آرگومنٹس… اگر مزید کوئی ضد کی تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”

“آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں ڈیڈ”

وہ غصے سے کہتی ہوئی فون بند کر گئی جبکہ دوسری طرف کاظم صاحب سر پکڑتے ہوئے رہ گئے

“پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں ڈیڈ مجھے، جب دل چاہا جیسا دل چاہا کوئی بھی حکم صادر کردیا…ایک بار آجانے دیں ڈیڈ میرے ضوریز کو پھر دیکھیں اس ارتضیٰ کا پتا کیسے صاف کرتی ہوں میں”

اس نے غصے سے کہتے ہوئے موبائل اٹھایا اور وہاں سے نکل گئی

جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی اس کی نظر سامنے کمپنی کے پاس رکتی ایک بڑی سی عالی شان گاڑی پر گئی ایک نظر اس کے پیچھے دروازے سے نکلتے شخص پر ڈال کر وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی مگر اسے ایک حیرت کا جھٹکا لگا

“کیا یہ میرا وہم ہے؟؟ “

سامنے گاڑی میں سے جو شخص نکل رہا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ ضوریز درانی تھا ائیزل سکتے کی حالت میں اسے بلڈنگ کے اندر جاتا دیکھ رہی تھی وہ اس وقت بلیک تھری پیس برینڈ سوٹ آفس شوز میں موجود تھا اس کے بال ترتیب سے بندھے ہوئے تھے اپنی پرکشش کالی آنکھوں پر چشمہ لگائے اور گاڑی سے اترتی لڑکی کے ساتھ انڈر کی جانب چلا گیا تھا

“نن نہیں… یہ … یہ تو میرا وہم نہیں ہے…”

ائیزل کو لگا جیسے اس کا سر پھٹ جائے گا وہ جلدی سے گاڑی سے نکل کر سامنے کی جانب بھاگی جہاں بہت سے گارڈز کھڑے ہوئے تھے

“میڈم کدھر جارہی ہیں آپ ؟؟”

“مجھے اندر جانا ہے ہٹو سامنے سے…”

“آپ ایسے نہیں جاسکتیں یہ جگہ صرف بزنس پارٹنرز کی ہے یہاں بزنس میٹنگ کی جاتی ہیں”

اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا یہ جان کر کہ ضوریز کا یہاں کیا کام تھا

“مجھے اندر جانے دو ہٹو سامنے سے”

ائیزل نے غصے سے اسے آنکھیں دکھائیں

“میڈم اگر آپ بات نہیں مانو گی تو مجبوراً مجھے پولیس کو بلانا پڑے گا”

“مگر مجھے اس سے ملنا ہے جو ابھی ابھی اندر گیا ہے”

ائیزل نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا

“وہ؟؟ جو ابھی اندر گئے ہیں ان سے ملنا ہے؟؟”

اس کی بات پر ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا

“میڈم جاؤ اپنا کام کرو آپ وہ بوس ہیں ہمارے ان سے ملنے کے لئے آپ کو خاص اجازت لینی پڑے گی سمجھیں آپ اب جائیں یہاں سے”

وہ بری طرح سے اسے دور دھکیلتا ہوا اسے غصے سے دیکھنے لگا ائیزل بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا واپس چلتی ہوئی اپنی گاڑی میں آبیٹھی

“نہیں یہ میرا وہم نہیں تھا…وہ ضوریز ہی تھا…”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *