Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 13)Part 1
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 13)Part 1
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“مجھے اس لڑکی کے بارے میں ایک ایک انفارمیشن چاہیے، جتنا جلدی ہو سکے یہ کام ہو جانا چاہیے اور ہاں اپنے اس جاسوس کو کہو اگر اب وہ لڑکی دوبارہ حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر آئی تو جو کچھ بھی ان کے درمیان ہوگا وہ سب مجھے اس ہی وقت پتا چلنا چاہئے”
آتش نے اپنی بات مکمل کر کے فون بند کردیا وہ اس وقت اپنے فارم ہاؤس میں موجود تھا حسبِ عادت سگریٹ اس کی انگلیوں کے بیچ دبی ہوئی تھی ہمیشہ کی طرح اس کی نیلی قاتلانہ آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور چہرے کے تاثرات سخت تھے
جب سے اس نے تعبیر جیسی معصوم لڑکی کو حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر دیکھا تھا اس کا غصے سے برا حال تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آخر ایک معصوم سی لڑکی جو اسے دیکھ کر ڈر رہی تھی آخر وہ اتنے بڑے فراڈی کے ساتھ کام کیسے کر سکتی تھی
“آتش بے بی”
ابھی وہ کھڑا یہی سوچ رہا تھا جب کرن کی آواز پر چونکا
“تم میری کال پک کیوں نہیں کر رہے تھے؟؟”
کرن آتے ہی اس کی پشت سے لگ گئی جس کے تاثرات پہلے ہی کافی سخت تھے اب ضبط سے اس نے آنکھیں بند کیں
“آتش کیا ہوگیا ہے تمہیں پہلے تو تم ایسے نہ تھے، کہیں ایسا تو نہیں اس ردا ریاض نے تمہیں”
“کرن پلیزز”
ردا کا نام سن کر آتش غصے سے مڑا جس سے وہ ایک قدم پیچھے ہوئی
“تو پھر آخر کیا بات ہے؟؟ تمہیں یاد ہے کہ پانچ سال پہلے جب ہم نے دبئی میں ایک ساتھ کام کیا تھا تب ہم نے کام کے ساتھ ساتھ کتنا فن بھی کیا تھا، مگر اب تو تم سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتے”
کرن نے اداس لہجے میں ایک ادا سے کہا جس پر آتش بنا کچھ کہے صوفے پر آ بیٹھا جبکہ وہ بھی اس کے ساتھ ہی وہ بھی بیٹھی
“آتش چلو نہ آج کہیں باہر چلتے ہیں…”
“مجھے کہیں بھی نہیں جانا فلحال میرا ایسا کوئی موڈ نہیں”
آتش نے پیشانی رگڑتے ہوئے کہا
“افففف ایک تو تم اور تمہارا موڈ”
وہ ایک جھٹکےسے کہہ کر دور ہوئی جس پر آتش باقاعدہ اسے گھورنے لگا
“خیر مرضی تمہاری ویسے بھی میں آج شام پارٹی میں جانے والی ہوں سوچا تمہیں بھی ساتھ لے چلوں لیکن تم تو اپنے موڈ پر ہی چلتے ہو نہ”
“اچھی بات ہے کہ تمہیں سمجھ آگیا”
آتش نے نظریں پھیرتے ہوئے کہا جس پر کرن کو غصہ آنے لگا وہ ایک ضدی لڑکی تھی خود کو اگنور ہوتا دیکھ کر وہ ہر حد پار کر جاتی تھی
“ٹھیک ہے میں جارہی ہوں اور آئیندہ ادھر نہیں آؤں گی بلکل بھی سمجھے تم”
انگلی سے وارن کرتی ہوئی وہ غصے سے اپنا بیگ لئے وہاں سے چلی گئی
جبکہ وہ اب تک وہیں بیٹھا تعبیر کے بارے میں سوچ رہا تھا
“وہ کتنی معصوم تھی”
☆★☆★☆★☆
“اففف اللّٰہ مت پوچھو میرا تو حال ہی برا ہوگیا تھا اور آج نہ میں واقعی بہت تھک گئی تمہارے چکر میں، اور تمہیں ضرورت کیا تھی اتنی شوپنگ کرنے کی؟؟”
تعبیر سانسیں بحال کرتے ہوئے اس پر معمولی سا غصہ ہونے لگی جد ہو رائمہ نے منہ بنایا
“میڈم یہاں ہم صرف کام سے نہیں آئے بلکہ انجوئے بھی کرنے آئے ہیں اور میں تو کروں گی بھئی شوپنگ، اتنے سارے پیسے جمع کئے ہوئے تھے اب کہیں تو خرچ کرنے ہی ہوں گے نہ”
رائمہ آج کی شوپنگ دیکھ رہی تھی وہ لوگ آج پورا دن ڈھیر ساری شوپنگ کرنے میں گزار چکے تھے جبکہ اب وہ لوگ واپس اپنے ہوٹل کے روم میں آ چکی تھیں تعبیر کے بہت منع کرنے پر صرف آج رات کے لئے وہ لوگ ہوٹیل میں ٹھہرے تھے جبکہ کل صبح ہی وہ حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر جانے والے تھے
“ویسے رائمہ، حاشر خانزادہ کے دیئے ہوئے اپارٹمنٹ پر رکنا مجھے کچھ مناسب نہیں لگ رہا”
تعبیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا جس پر رائمہ نے اثبات میں سر ہلایا
“ہاں کہہ تو تم صحیح رہی ہو لیکن بڑی بات ہے نہ کہ کوئی اتنا بڑا اسٹار تم پر اتنا مہربان ہورہا ہے کہ رہنے کو گھر ہی دے دیا”
رائمہ حیرت انگیز انداز میں کہنے لگی جس کے آخری الفاظوں پر تعبیر نے اسے گھورا
“یار ہنی میم کو کہو کے انہیں منع کردیں”
“افففف ہو یار کیا ہوگیا تمہیں، تم نہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو چلو شاباش اب اپنے اس ننھے سے دماغ پر مزید کوئی بوجھ نہ ڈالو”
رائمہ نے اس کی کنپٹی پر ہاتھ لگاتے ہوئے کہا جس پر تعبیر آنکھیں گھماتی ہوئی اپنی جگہ پر آ لیٹی جبکہ رائمہ اب اپنے موبائل میں مصروف تھی جبکہ تعبیر آنکھیں بند کئے لیٹی تھی
ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب رائمہ خوشی سے چیخنے لگی
“اوووہ مائے گاڈ…ایسا کیسے ہو سکتا ہے… نہیں یار نہیں… مطلب ہائے اللّٰہ جی کیا یہ سچ ہے؟؟ اففف میں تو مر ہی نہ جاؤں کہیں”
رائمہ کی باؤلی باتوں پر تعبیر نے منہ پر سے کمفرڈ اٹھایا اور اسے گھورنے لگی جو اس وقت پاگلوں کی طرح مسکراتے ہوئے موبائل پر دیکھ رہی تھی
“کیا ہوگیا ہے رائمہ کیوں چینخ رہی ہو؟؟ کیا کوئی لاٹری نکل گئی ہے؟؟”
“ہائے میری سینوریٹا یہی سمجھو”
تعبیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جس پر وہ صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آئی
“یہ دیکھو آتش درانی”
رائمہ کے نام لینے کی دیر تھی جب تعبیر کا دل دھڑکنے لگا ایک عجیب سی کیفیت اس پر طاری ہوئی
“یہ دیکھو انہوں نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی انسٹاگرام پر اپنی نیو پکچر پوسٹ کی ہے اور لوکیشن دیکھو یہیں اسلام آباد کی لگی ہوئی ہے”
تعبیر نے اسکرین پر نظر ماری تو بے ساختہ اس کا ہاتھ سینے پر دل کے مقام پر گیا وہ وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا جبکہ اس کی نیلی آنکھیں چشمہ چھپا چکا تھا
“تصویر میں اتنے ہینڈسم لگ رہے ہیں ریئل میں تو کیا ہی بات تھی”
رائمہ نے چاہت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نے اسکرین پر سے نگاہ ہٹائی
“ہائے کتنا مزا آئے گا اگر وہ اسلام آباد میں ہمیں کہیں نظر آجائیں اففف میں تو انکی فین ہوگئی ہوں”
رائمہ کی بات پر تعبیر نے اسے گھورا
“کس کس کی فین ہو تم؟؟ کبھی حاشر خانزادہ کی بن جاتی ہو تو کبھی آتش درانی کی…”
“ارے میری سینوریٹا میں کیا بتاؤں تمہیں، جو بات آتش درانی میں ہے نہ وہ بات حاشر خانزادہ میں بھی نہیں، کاش وہ میرے سامنے آجائیں کہیں مل جائیں”
“تو؟؟ تو کیا کرلو گی تم؟؟”
“تو میں انہیں کہوں گی مجھے آپ کا آٹوگراف چاہیے وہ بھی اپنے ہینڈ پر”
رائمہ کی حالت پر تعبیر نے اسے پھر سے گھورا
“افففف بس بھی کردو پاگل لڑکی ہر وقت آتش آتش…”
“بیٹا تم چپ رہو دیکھنا جب تم آتش درانی کو بڑی غور سے دیکھو گی نہ تو تم بھی ترس جاؤ گی اس سے ملنے کے لئے پھر میں تم سے پوچھوں گی”
“جی نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا سمجھیں اور اگر تمہاری ڈرامے بازیاں ختم ہو چکی ہوں تو پلیززز لائٹس آف کردو مجھے سونا ہے”
تعبیر نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا جس پر رائمہ نے منہ بناتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر لیمپ آف کردیا مگر باز وہ اب بھی نہیں آئی تھی کیونکہ اس کے کانوں میں ہینڈ فری لگی ہوئی تھی
جبکہ دوسری طرف تعبیر کی آنکھوں کے سامنے آتش درانی کا چہرہ گردش کر رہا تھا اس کی وہ پر کشش نیلی آنکھیں جن کا مرکز دو بار تعبیر کا چہرہ بن چکا تھا وہ سینے پر کشن لگائے آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ جو شخص تھا وہ دو ملاقاتوں میں ہی اسے بے چین کر گیا تھا
☆★☆★☆★☆
صبح کا وقت تھا وہ یونیورسٹی کے لئے تیار ہورہا تھا وہ ابھی ہی نہا کر آیا تھا اس کے گیلے بال اس کے صاف شفاف ہلکی شیو والے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے ابھی وہ ٹاول کی مدد سے بالوں کو سکھانے میں مصروف تھا جب اسے یاد آیا کہ اسے آج کسی روٹھے ہوئے کو منانا بھی ہے
اس نے جلدی سے اپنا ٹراؤزر اور شرٹ تبدیل کیے آج اس نے بلیو پینٹ کے ساتھ بلیک کلر کی ٹی شرٹ پہنی تھی جس سے اس کی ہلکی پھلکی ورزشی جسامت واضح ہورہی تھی وہ تھا تو بیس سال کا اور انتہائی سلجھا ہوا معصوم لڑکا لیکن کبھی اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنا لک چینج کرلیا کرتا تھا
پچھلے سال اس نے جم جوائن کرنے کی ضد کی تھی جس پر افتخار صاحب نے اس کی اچھی خاصی کلاس لی تھی مگر ہر بار کی طرح اس کی بہن نے اس کا یہ شوق بھی پورا کردیا تھا تب صرف کچھ ہی مہینے وہ جم گیا تھا لیکن گھر کے حالات سے مجبور ہوکر اس نے اپنا یہ شوق بھی ختم کر لیا تھا
اب وہ یونیورسٹی کے لئے بلکل ریڈی تھا اپنے بالوں کو ترتیب سے درست کرتا ہوا وہ اپنا بیگ لئے کمرے سے باہر نکلا جب افتخار صاحب اخبار پڑھنے میں مصروف تھے اسے باہر آتا دیکھ کر گھورنے لگے
وہ ہمیشہ فجر سے اٹھ جاتا تھا یہ عادت اسے تعبیر کی وجہ سے پڑی تھی کیونکہ تعبیر شروع سے ہی فجر سے اٹھ کر نماز سے فارغ ہوکر پھر جلدی ناشتہ بنا لیا کرتی تھی اور اپنے تمام کام نمٹا کر اسکول چلی جاتی تھی اور اب وہ بھی یہی کرتا تھا جلدی اٹھ کر بابا جان کو ناشتہ اور دوا دے کر اپنا ناشتہ کر کے تیار ہو کر یونیورسٹی چلے جایا کرتا تھا
“بابا جان میں جارہا ہوں”
وہ مصروف انداز میں کہتا ہوا اپنے جوتے پہننے لگا جبکہ انہوں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ وہ اب بھی اسے گھور رہے تھے اپنی بات کا جواب نہ پا کر وہ ان کی طرف متوجہ ہوا جو اسے گھورنے میں مصروف تھے
“بابا جان کیا ہوگیا؟؟”
“دیکھ رہا ہوں آج کل بڑا بن سنور کر نکل رہا ہے، کن چکروں میں ہے بیٹا؟؟”
بابا جان کی بات پر شاویز نے آنکھیں گھمائیں جیسے واقعی وہ کسی چکر میں ہو جس پر انہوں نے اسے مزید گھورا
“اوہ کم آن بابا جان سب لوگ ایسے ہی آتے ہیں وہاں، اور ویسے بھی آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کا بیٹا اپنی پرسنلٹی سدھار رہا ہے”
شاویز نے آخری والے الفاظوں میں ایک اسٹائل سے اپنے بالوں پر انگلیاں پھیریں جس پر افتخار صاحب ائیبرو اچکائے اسے گھورنے لگے
“کتنا بھی بن سنور لے… رہے گا تو گدھا کا گدھا ہی…”
افتخار صاحب نے غصے سے منہ بناتے ہوئے کہا اور اپنے اخبار میں مصروف ہوگئے جبکہ بچارہ شاویز بچارگی والا منہ لیتا ہوا خدا حافظ کہہ کر وہاں سے چلا گیا کیونکہ آج یونیورسٹی سے پہلے اسے کچھ امپورٹینڈ کام کے لیے جانا تھا
☆★☆★☆★☆
“یار اٹھ جاؤ کچھ پڑھ لو کچھ فکر کرلو کل پیپر ہے تمہارا کب تک اپنے فیوچر کو برباد کرتی رہو گی تمہیں ذرا فکر نہیں اپنی؟؟ اپنے ڈیڈ کی؟؟ اپنے فیوچر کی، تم لائف میں صرف کھو رہی ہو اپنا قیمتی وقت… مگر پا کچھ بھی نہیں رہیں”
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ چھوٹی سی لڑکی اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ وہ اب تک کمفرڈ میں منہ چھپائے سونے میں مصروف تھی لیکن اب اس کی نیند میں خلل پیدا ہو چکا تھا جس پر وہ منہ بناتے ہوئے غصے سے اسے گھورنے لگی جبکہ کمفرڈ صرف اس کی آنکھوں سے ہٹا ہوا تھا
“یار کیا ہے حریم… اماں نہ بنا کرو، ضروری ہے روز روز مجھے غیرت دلانا؟؟ جب پتا ہے میں نہیں سدھرنے والی تو پھر کیوں اپنی انرجی ضائع اور میری نیند خراب کرتی ہو”
وہ منہ بناتے ہوئے کہنے لگی اور پھر سے کمفرڈ اوڑھ گئی جس پر حریم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے دیکھا اور اپنے بالوں کی اونچی سی پونی بنا کر اپنے شووز پہننے لگی
“اچھی بات ہے پڑی سوتی رہو ویسے بھی ابھی بانو آنٹی صفائی کے لیے میڈ کو بھیجنے والی ہیں پھر دیکھتی ہوں کیسے نہیں اٹھتی تم”
حریم کی بات سن کر ائیزل کو جھٹکا لگا کیونکہ اس نے حریم سے چھپ کر سگریٹ کی ڈبیاں چھپائے رکھی تھیں اگر صفائی کے دوران ملازمہ کے ہاتھے چڑھ جاتیں تو بانو آنٹی نے اسے سب لڑکیوں کے سامنے زلیل کردینا تھا
“اچھا بس جاؤ جاؤ کام کرو اپنا، اماں نہ بنو”
ائیزل نے کمفرڈ سے ایک ہاتھ باہر نکال کر اسے اشارے سے جانے کا کہا جس پر وہ منہ بناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی اس کے جاتے ہی ائیزل اچھل کر بیڈ سے کودی کمفرڈ اس نے سائیڈ میں پھینکا اور دروازے کی طرف لپکی
“ہونہہ کردیا میں نے ٹھیک طرح سے لاک… اب دیکھتے ہیں کیسے پکڑتی ہیں یہ بانو آنٹی میری سگریٹ کی ڈبیاں…”
وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے واپس بیڈ پر آ لیٹی اور پھر سے سو گئی
☆★☆★☆★☆
“جی ہاں یہ ڈن کرلیں…شکریہ…”
وہ اس بک کو پیک کرواتا ہوا شاپ سے باہر آیا اور بس کا انتظار کرنے لگا بس آتے ہی وہ سوار ہوکر یونیورسٹی کے لئے نکل گیا
وہ یونیورسٹی پہنچ چکی تھی آٹو والے کو کرایہ دے کر وہ اندر چلی گئی آج اس نے پورا پورا ارادہ کرلیا تھا کہ وہ شاویز کی طرف غلطی سے دیکھے گی بھی نہیں
وہ باہر گارڈن میں بینچ پر بیٹھی موبائل یوز کر رہی تھی جب یونیورسٹی کے گیٹ سے اسے اندر آتا دیکھا شاویز جو پتا تھا وہ اس وقت گارڈن میں ہی ہوگی اس لئے بنا ادھر اُدھر دیکھے وہ سیدھا اندر آکر سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے اپنی کلاس میں چلا گیا
حریم اس کے یوں پرسکون ہوکر چلنے والے انداز پر تھوڑی حیران ہوئی کیونکہ وہ آج کچھ الگ الگ لگ رہا تھا تب ہی اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اس کے لیکچر کا ٹائم ہو چکا تھا وہ جلدی سے اپنا بیگ لئے خود بھی اوپر کو بھاگی
وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا لیکچر سن رہا تھا جب وہ اندر آئی اور آس پاس نظر دوڑانے لگی مگر وہاں تو کوئی سیٹ خالی تھی ہی نہیں اب وہ کشمکش میں آگئی
“سارے اسٹوڈینٹس کو بھی آج ہی آنا تھا”
وہ سر کھجاتے ہوئے وہیں کھڑی سوچوں میں گم تھی جب پروفیسر کی آواز پر چونکی
“حریم؟؟ آپ کھڑی کیوں ہیں؟؟”
“وہ سر… کہاں بیٹھوں”
وہ پریشان کن انداز میں دھیمے سے کہنے لگی جس پر شاویز نے ایک نظر اسے دیکھا
“آپ ادھر آجائیں شاویز کے ساتھ”
پروفیسر کے کہنے کی دیر تھی جب وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
“مس حریم؟؟ میں آپ سے بات کر رہا ہوں؟؟”
“سر… وہ…”
ابھی وہ کچھ کہتی جب حوریا بول پڑی
“سر ایکچلی حریم کسی بھی بوئے کے ساتھ بیٹھنے کی عادی نہیں ہیں، اگر آپ کہیں تو حریم کو میں اپنی جگہ دے دیتی ہوں، اور میں شاویز کی سیٹ پر بیٹھ جاتیں ہوں”
حوریا کا بولنا حریم کو سخت ناگوار گزرا تھا جبکہ شاویز کو بھی وہ لڑکی عجیب ہی لگتی تھی حوریا کی بات پر پروفیسر نے اشارے سے ہاں کہا جس پر وہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھائے شاویز کی سیٹ پر آ بیٹھی اور وہ بھی اس کے انتہائی قریب جس پر شاویز نے اپنے بیگ بیچ میں رکھ کر درمیان میں فاصلہ قائم کیا
جبکہ حریم اپنے غصے کو کنٹرول کرتی ہوئی جھٹکے سے اپنا بیگ سیٹ پر پٹخ کر بیٹھ گئی اب اس کی نظریں شاویز اور حوریا پر تھیں
“ہاں تو ہم کہاں تھے؟؟ ہاں رائٹ تو اس سوال کو ہم نے صرف ایک بار ریپیٹ کرنا ہے بہت آسان سا ہے ایک ہی دفعہ میں دماغ میں بیٹھ جائے گا”
پروفیسر کی بات کو اگنور کرتی ہوئی وہ دوسری طرف بیٹھی حوریا کو غصے سے گھور رہی تھی اس کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا جب شاویز نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو جلدی سے حریم نے نظریں بورڈ پر کرلیں
☆★☆★☆★☆
وہ لوگ اس وقت حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر موجود تھے جبکہ حاشر اور تعبیر کے بیچ ہونے والی تمام گفتگو باضل کا جاسوس ریکارڈ کر چکا تھا جو وہاں ایک میڈ کی حیثیت سے موجود تھا
“اوکے ڈن پرسوں تک میرا یہ پلستر کھل جائے گا دین پھر میں ڈیزائن خود سیلیکٹ کروں گا”
حاشر کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“ویسے مس تعبیر میں نے آپ کے ڈیزائنز دیکھے تھے آپ تو واقعی بہت ٹیلنٹڈ ہیں… ویسے ماننا پڑے گا آپ واقعی بہت خاص ہیں”
حاشر کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی
“سر خاص ؟؟ میں؟؟ وہ کیسے؟؟”
“دیکھیں سب سے بڑی بات تو یہ ہے نہ کہ اگر آپ خاص نہ ہوتیں تو یہاں نہ ہوتیں سیکنڈ بات یہ کہ مجھے ہنی نے بتایا تھا کس طرح آپ نے اتنی کم عمر میں اتنا کچھ ہینڈل کر لیا تھا واقعی آپ بہت ٹیلنٹڈ اور بہادر ہو”
حاشر کی بات پر جہاں تعبیر مسکرا رہی تھی وہیں کوئی غصے سے مٹھیاں بھینچ گیا تھا
ابھی وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے جب تعبیر کی نظر سامنے ٹیبل پر رکھے میگزین پر گئی جہاں آتش درانی کی تصویر لگی ہوئی تھی نجانے کیوں اچانک تعبیر کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے جب حاشر اس کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے ٹیبل پر دیکھنے لگا
“اففف آپ سوچ رہی ہوں گی کہ میں خود ایک اسٹار ہو کر دوسرے اسٹار کے بارے میں کیوں پڑھتا ہوں، دراصل مجھے یہ آتش درانی بلکل بھی سمجھ نہیں آتا”
حاشر نے بیزار لہجے میں کہا جس پر تعبیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“ہر ہفتے اس کے کوئی نہ کوئی کارنامے سننے کو ملتے ہیں انفیکٹ میں جب بور ہورہا ہوتا ہوں تو اکثر اس کے بارے میں نیو اپڈیٹس دیکھ لیتا ہوں”
حاشر کی بات سن کر نجانے تعبیر کو کیوں عجیب لگ رہا تھا
“آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟؟”
“ریلی کو آر آ انوسینڈ گرل، یو ڈونٹ نو کہ میں کیوں ہنس رہا ہوں؟؟ دراصل آپ انٹرنیٹ پر بس آتش درانی کی نیو اپڈیٹس سرچ کرلو آپ کو سب پتا چل جائے گا، کہ کس طرح سے آتش درانی کی حرکتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں ہر وقت لڑائی جھگڑا پبلک پلیس پر لوگوں کو مارنا پیٹنا، آپ خود بتاؤ کیا یہ ایک سوپر اسٹار کو زیب دیتا ہے؟؟ خیر میں تو ہنس ہنس کر پاگل ہوجاتا ہوں”
تعبیر کے معصومانہ سوال پر جب حاشر نے ہنس ہنس کر کہا تو تعبیر کا وہاں رکنا کافی مشکل ہوگیا تھا
“ویل سر آپ آرام کریں اب میں چلتی ہوں “
“اوکے مس تعبیر علی آئی ہوپ آپ کو یہاں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں ہوگی”
حاشر کی بات پر وہ مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ حاشر کی کی گئی بکواس پر آتش نے غصے سے موبائل گلاس ول پر مارا
“آآاہ…حاشر خانزادہ… نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں… بلکل بھی نہیں چھوڑوں گا…”
اس نے کال ملائی اور کسی سے بات کرنے لگا
“مجھے آج ہر حال میں وہ لڑکی اپنے فارم ہاؤس پر چاہیے… کچھ بھی کرو کچھ بھی… لیکن مجھ آج ہی وہ لڑکی یہاں چاہیے”
☆★☆★☆★☆
وہ بریک ٹائم میں اپنا موبائل لئے باہر گئی تھی جبکہ شاویز اپنی کتابوں میں جڑا بیٹھا تھا ساتھ ہی پورے دو لیکچرز میں اس نے حوریا کو اگنور کیا تھا مگر وہ بہت چپکو ثابت ہوئی تھی
شاویز نے ایک نظر پوری کلاس میں دوڑائی تقریباً اس وقت کلاس میں کوئی نہ تھا شاویز نے اپنے بیگ سے ایک پیک ہوا تحفہ نکالا اور دھیمے قدموں سے چلتا ہوا حریم کے بیگ کی طرف آیا
اس نے جلدی سے حریم کے بیگ میں وہ بک رکھی اور واپس اپنی پوزیشن پر آ بیٹھا کچھ ہی دیر میں حریم کلاس میں آئی ایک نظر شاویز کو دیکھا جو اب تک کتابوں میں مصروف تھا حریم نے نوٹ کیا تھا آج شاویز اسے بار بار اگنور کر رہا تھا لیکن وہ بھی تو اسے اگنور کر رہی تھی وہ بھی تو اس سے دور بھاگ رہی تھی نہ
ابھی وہ اپنی سیٹ پر بیٹھی موبائل میں مصروف تھی جب حوریا ایک ادا سے کلاس میں آئی اور شاویز کے مخالف جا بیٹھی
“ہائے شاویز ، تم کینٹین نہیں گئے؟؟”
شاویز نے ایک نظر اپنے برابر بیٹھی لڑکی کو دیکھا پر نفی میں سر ہلاتے ہوئے واپس اپنے کتاب میں مصروف ہوگیا
“اوففف تمہیں بھوک بھی نہیں لگتی؟؟ ویسے ایک بات ہے آج تم اس دن سے زیادہ ہینڈسم لگ رہے ہو سو اسمارٹ”
حوریا کی بات پر شاویز نے ایک نظر حریم پر ماری جو اب پین کی نیپ کو کاپی میں گاڑھ رہی تھی جیسے بہت غصے میں ہو
“ویل دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے ہو؟؟ ویسے ماننا پڑے گا تم واحد ہو جو اتنی محنت کرتے ہو ورنہ ہمارے یہاں کے بوئیز تو بس ایگزیمز سے ایک دن پہلے کتاب کھول کر دیکھتے ہیں وہ بھی صرف کچھ ہی منٹوں کے لئے”
حوریا نے اس کے ہاتھ سے بک چھینی اور ایک نظر مار کر واپس اسے دے دی تب ہی اس کا موبائل رنگ ہونے لگا
“ایکس کیوزمی میری امپورٹینڈ کال ہے”
وہ انگلی کے اشارے سے بتاتی ہوئی موبائل کان پر لگائے کلاس سے باہر چلی گئی جبکہ اب صرف وہ دونوں ہی وہاں موجود تھے
تب ہی ایک نظر اس نے شاویز کو دیکھا مگر کچھ نہ کہا جبکہ شاویز کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا لیکن وہ اب تک ایک کشمش میں تھا کہ آخر حریم کو اپنی ہی دوست سے اتنی جلن کیوں ہورہی تھی ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا جب حریم کو موبائل رنگ ہوا
“واٹ؟؟ مگر… آپ… آپ پلیززز انتظار کریں میں بس ابھی آئی…”
وہ جلدی سے فون بند کرتی ہوئی پریشانی سے اپنا بیگ لئے وہاں سے بھاگی
“افففف ائیزل تم نہیں سدھرو گی”
شاویز حیران تھا کہ آخر کیا ہوا ہوگا
☆★☆★☆★☆
“اے لڑکی تمہیں شرم حیا نہیں ہے؟؟ میں پہلے بھی کتنی بار سمجھا چکی تھی کہ یہ نا جائز کام یہاں بلکل بھی نہیں کرنے مگر تم تو انتہا کی بے شرم لڑکی نکلیں یہ تربیت دی تھی تمہارے باپ نے تمہیں؟؟”
بانو آنٹی نے چینخ چینخ کر پورے ہوسٹل کو اکھٹا کردیا تھا سب لڑکیاں ائیزل کے کمرے کے باہر جمگھٹا لگائے کھڑی بانو آنٹی کی باتیں سن رہی تھیں جبکہ ائیزل مٹھیاں بھینچے کھڑی ہوئی تھی
وہ گہری نیند سونے میں مصروف تھی اس بات سے انجان کے اس نے دروازپ صرف لاک کیا تھا جسے بانو آنٹی دوسری چابی سے کھول چکی تھیں
میڈ سے اس کے کمرے اور الماری کی صفائی کا کہہ کر جانے لگی تھیں جب میڈ نے انہیں بتایا کہ ائیزل کے کبڈ سے سگریٹ کی ڈبیاں نکلی تھیں پھر کیا ہونا تھا انہوں نے ایک بار پھر پورا ہوسٹل سر پر اٹھا لیا تھا
“میرے باپ پر مت جائیے گا بہتر ہوگا”
ائیزل کی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا جبکہ سب اس بات سے انجان تھے کہ کوئی تھا کھڑکی کے دوسرے پار جو ساری صورتحال دیکھ اور سن چکا تھا
“واہ کیوں نہ جاؤں؟؟ جس باپ نے سالوں تجھے ہمارے سر پر عذاب کی طرح چھوڑ کر پلٹ کر آج تک نہیں پوچھا ایسے باپ پر تو لعنت ہے پھر”
“بانو آنٹی… اپنی اوقات میں رہیں ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں کے آپ عمر میں مجھ سے بڑی ہو”
ائیزل بھی ان ہی کے انداز میں چینخی
“ارے ارے اب کیا باقی رہ گیا لڑکی ساری حدیں تو پار کر چکی ہے یہ بھی کردے”
تب ہی حریم وہاں پہنچی
“کک کیا ہوا ہے؟؟ آنٹی یہ سب…”
وہ ابھی کچھ کہتی جب اس کی نظر زمین پر پڑی ڈبیوں پر گئی جہاں سگریٹ کی دس بارہ ڈبیاں موجود تھیں
حریم نے ایک نظر ائیزل کی طرف دیکھا جو اب آنکھیں مینچے کھڑی تھی
“پوچھو اپنی اس بگڑی ہوئی نواب زادی سے کہ کیا ہوا ہے، ارے ایک بار پہلے بھی میں نے اس کے بیڈ کے نیچے ایک جلی ہوئی سگریٹ دیکھتی تھی جس پر اس نے بہانا بنا دیا تھا کہ اس کے جوتوں میں چپک کر آگئی ہوگی لیکن اب خود دیکھ لو سب اپنی آنکھوں سے یہ لڑکی سگریٹ نوشی کرتی ہے درجوں حساب سے یہ گندھی ڈبیاں برآمد ہوئی ہیں”
بانو آنٹی نے باقاعدہ پوری جان سے چلاتے ہوئے کہا جس پر حریم نے ائیزل کو دیکھا جو سخت تاثرات لئے کھڑی تھی شاید وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوششوں میں تھی
“آنٹی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے یہ اس کی نہ ہوں اس کے کسی کلاس فیلو نے اس کے پاس رکھائی ہوں”
حریم نے نرم سے لہجے میں کہا جس پر وہ تنزیہ ہنسنے لگی
“لڑکی کونسی دنیا میں ہو؟؟ یہ لڑکی جسے تم بچانا چاہ رہی ہو یہ ایک انتہائی بدتمیز بے حیا بگڑی ہوئی لڑکی ہے آج اس کے پاس سے درجنوں حساب سے سگریٹیں ملی ہیں کل کو خدا نہ خواستہ یہ لڑکی شراب کی بوتلیں رکھنے لگی تو ہم باقی کی لڑکیوں کے ماں باپ کو کیا جواب دیں گے؟؟ کہ یہ سب ہوتا ہے ہمارے ہوسٹل میں؟؟”
ائیزل نے سرخ آنکھوں سے غصے سے انہیں گھورا تھا
“اب کھڑی کھڑی گھور کیا رہی ہو؟؟ بتاؤ اور کتنے حرام کام کرتی ہو یہاں؟؟ کہیں کوئی عاشق واشق تو نہیں بنایا ہوا، یونیورسٹی کا بہانا بنا کر پتا نہیں کہاں کہاں آوارہ گردیاں کرتی ہوگی یہ لڑکی اسے تو منہ چھپا کر پھرنا چاہئے ایسے کرتوت ہیں اس کے، بن ماں باپ کی اولادیں ہمیشہ بگڑی ہوئی ہی ہوتی ہیں”
“بسسسس……!!!”
ائیزل کی برداشت اب جواب دے چکی تھی بانو آنٹی اب انتہائی گھٹیا الزامات پر اتر آئی تھیں
“بس بہت ہوا… آج کہ بعد اگر میرے کردار کے بارے میں ایک بھی گھٹیا لفظ اپنے منہ سے نکالا تو یاد رکھنا آپ… آپکی معصوم بیٹی فضا جس کی تعریفوں کے پل باندھ باندھ کر آپ تھکتی نہیں ہیں اگر اس کے کارنامے میں نے ان سارے لوگوں کے سامنے بیان کردیے تو میں منہ چھپاؤں نہ چھپاؤں لیکن آپ ضرور منہ چھپاتی پھیریں گی”
ائیزل کی بات پر بانو آنٹی کو کیسے سانپ سونگھ گیا ہو وہ آنکھیں گھمائے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھیں کیونکہ جو لڑکیاں کچھ دیر پہلے ائیزل کے بارے میں باتیں کر رہی تھیں اب وہی لڑکیاں ان کی بیٹی کے بارے میں باتیں بنا رہی تھیں
“اور رکھیں اپنا یہ تھرڈ کلاس ہوسٹل، میں یہاں سے چلی جاؤں گی وہ بھی بہت جلد”
ائیزل نے اپنی بات مکمل کی اور بیڈ سے کپڑے اٹھا کر واش روم چلی گئی اس نے جلدی جلدی برش کیا فیس واش کیا اور اپنی سرخ آنکھوں کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے ان میں سے بہتے آنسوؤں کو روکا، اور شاور کھول کر نیچے کھڑی ہوگئی
“آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟ جائیں سب پلیززز…اور آپ بھی بانو آنٹی… کرلیا نہ اپنے تماشا؟؟ مل گیا آپ کے دل کو سکون یہی چاہتی تھی نہ آپ؟؟ اب آپ جا سکتی ہیں”
آج پہلی بار حریم نے کسی سے تلخ کلامی کی تھی اور انہیں باہر کو دھکیل کر دروازہ بند کردیا تھا اب وہ ائیزل کے باہر آنے کا ویٹ کر رہی تھی
نئے کپڑے تبدیل کر کے اپنے گیلے بال لئے وہ باہر آئی جب حریم فکر مندی سے اس کی طرف بڑھی لیکن وہ اسے مکمل اگنور کر کے اپنے کاموں میں مصروف رہی اس نے جلدی سے اپنے شوز پہنے اپنے بیگ میں کتابیں رکھیں اور اپنا موبائل ڈھونڈنے لگی
“ائیزل منع بھی کیا تھا کہ نہ پیو سگریٹ، دیکھو اب کتنا بڑا مسئلہ کھڑا کردیا بانو آنٹی نے، تم کیوں نہیں سنتی میری بات؟؟”
حریم نے نرم لہجے میں سمجھانا چاہا جسے وہ سنی ان سنی کر کے سگریٹ کی ڈبیوں اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ کر اپنی گاڑی کی چابی لئے باہر جانے لگی
“اب کہاں جارہی ہو؟؟”
حریم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا جس پر وہ پلٹی حریم حیران رہ گئی ائیزل کی آنکھیں خون کی طرح لال ہورہی تھیں چہرہ سرخ پڑھ چکا تھا آنکھوں میں نمی تھی
“ائیززز…”
“مجھے مت روکنا، میں اب تب ہی آؤں گی جب نئی جگہ کا انتظام ہوچکا ہوگا”
ائیزل نے سخت لہجے سے کہا اور بامشکل اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش کی
“ائیززز پاگل نہ بنو تم کہاں جاؤ گی؟؟”
“اللّٰہ کی زمین بہت بڑی ہے، سر چھپانے کے لئے کوئی نہ کوئی ٹھکانہ تو مل ہی جائے گا”
ائیزل نے اپنی بات مکمل کی اور حریم کی تمام باتوں کو سنی ان سنی کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جبکہ دوسری طرف ضوریز جلدی سے چھلان لگا کر پائیپ سے کودا اور اپنی بائیک لیے وہاں سے چلا گیا
جاری ہے
