Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Last Episode)

Basil by Huma Waqas

دسمبر کی ٹھٹھرتی رات اور شکاگو کی سڑکوں پر جمی برف اسے اب ہر انسان اور اس کائنات کی ہر چیز بے حس لگتی تھی ۔ خونخوار بڑھیے , بے حس , بے رحم ۔

کنز کانپتی ہوئی فون بوتھ میں داخل ہوئی اور ریسیور کو کان سے لگاتے ہی ٹھک ٹھک سے بٹن دباتے ہوئے نمبر ملایا ۔

کیلفورنیا میں ہسپتال سے بھاگ آنے کے بعد شکاگو میں آج اسے تیسرا ہفتہ تھا ۔ وہ یہاں آ تو گئ تھی لیکن جب یہ پتا چلا کہ اس کا حمل اب چار ماہ کا ہو چکا ہے اور اسے اس بچے کو دنیا میں لانا ہی پڑے گا , یہ سنتے ہی اس نے خود کو ختم کرنے کی پہلی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہی جس عورت نے اسے چلتی ٹرین کے آگے کودنے سے بچایا وہ بھی اسی کی طرح اکیلی اور بے آسرا تھی ۔

اسی کے توسط سے اسے ایک چھوٹے سے کیفے میں ملازمت مل گئی اور رہائش کا انتظام بھی ہو گیا تھا ۔ ایک چھوٹے سے کمرے اور کچن پر مشتمل ایک کوارٹر اسے مناسب کرایے پر مل گیا تھا لیکن اس کی پیشگی قیمت ادا کرنے کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں تھے ۔

مارٹن سے وہ اب کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی تھی ۔ مارٹن کے علاوہ کیلفورنیا میں اس کی واحد دوست ایلا ہی بچتی تھی ۔ ایلا اس کی بہت پرانی دوست تھی ۔ وہ ایک ساتھ بہت لمبے عرصے تک ایک جگہ ملازمت بھی کرتی رہی تھیں لیکن پھر نوین سے شادی کے بعد وہ ایلا اور مارٹن دونوں سے کم ہی رابطے میں رہی تھی ۔

ایلا کے ساتھ اس کی آخری ملاقات ہسپتال میں ہوئی تھی جب وہ مارٹن کے ساتھ اس کی خبر گیری کو آئی تھی ۔ ایلا کے گھر کے فون پر گھنٹی جا رہی تھی اور وہ اپنے کوٹ میں سمٹتی اس کے فون اٹھانے کی منتظر تھی ۔

” ہیلو ۔ “

ایلا کی آواز ریسور سے ابھری ۔ کنز نے جلدی سے خشک ہوتے لبوں کو آپس میں ملایا اور پھر منہ کھولا سفید بھاپ منہ سے نکل کر فون بوتھ کے شیشے پر چپک گئی۔

” ایلا کیسی ہو تم ؟ میں کنز بات کر رہی ہوں ۔ “

سرخ ہوتی ناک سوزش زدہ آنکھیں اور زرد چہرہ وہ اب کچھ سال پہلے والی کنز پارکر نہیں رہی تھی ۔ ایک مرجھائے پھول کی طرح بے حال ۔

” کنز ۔۔ کنز تم کہاں ہو ؟ مارٹن۔۔”

ایلا اس کی آواز سنتے ہی حیرت زدہ لہجے میں ایک ہی سانس میں تیزی سے گویا ہوئی ۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے بتاتی کہ مارٹن اسے تلاش کرتا ہوا اس کے پاس آیا تھا ۔ کنز نے سرعت سے اس کی بات کاٹ دی ۔

” ایلا۔۔۔ پلیز مارٹن کو میرے بارے میں کچھ مت بتانا ۔ “

” کنز کیا ہوا ؟ پریشان لگ رہی ہو ؟ “

اس کے حیرت سے کئے گئے سوال پر وہ روتے ہوئے خود پر کئے گئے ظلم کے بارے میں بتاتی چلی گئ کہ کیسے اسے علاج کے دھوکے میں زیاتی کا نشانہ بنایا گیا اور کیسے وہ ہسپتال سے بھاگ کر یہاں پہنچی ۔

” اوہ ۔۔۔ اسی لئے وہ کیفے میں بھی کتنی بار چکر لگا چکا ہے اور میرے گھر بھی آ چکا ہے ۔ “

” ایلا اسے میرے بارے میں کچھ مت بتانا اور نہ ہی اس سارے قصے کے بارے میں کچھ بتانا وہ ڈاکٹر ضرور مارٹن کا دوست ہے اور مجھے شک ہے مارٹن اس سب میں شامل ہے ۔ بس تم میری کچھ مدد کر دو ۔ میں نے یہاں ایک گھر کرایہ پر لیا ہے جس کے لئے مجھے ابھی پیشگی کچھ رقم ادا کرنی ہے ۔ تم مجھے پیسے بھیج دو ۔ میری پہلی تنخواہ آتے ہی میں تمہیں یہ سارے پیسے لٹا دوں گی ۔ “

وہ بیچارگی سے التجا کر رہی تھی ۔ بے بسی اس کے لہجے کی لغزش سے صاف ظاہر تھی ۔ وہ لڑکی جسے نوین نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر دے رکھا تھا اور شہزادیوں کی طرح رکھا تھا , آج پیسے پیسے کی محتاج تھی ۔ ایلا نے دکھ سے تھوک نگلا اور گہری سانس لی ۔

” تم فکر مت کرو ۔ مجھے پتہ بتاؤ میں تمہیں پیسے بھیجتی ہوں ۔ “

” شکریہ اور یاد رکھنا مارٹن کو میرے بارے میں بالکل مت بتانا لیکن ہاں اگر اسفند نامی کوئی شخص کبھی مجھے ڈھونڈتا ہوا تم تک پہنچے تو اسے میرے بارے میں ضرور بتا دینا ۔ “

ایک موہوم سی امید تھی کہ اسفند کبھی اسے تلاش کرتا ہوا ضرور آئے گا ۔

” ٹھیک ہے پریشان مت ہو ۔ مجھے پتہ لکھواؤ ۔ “

” ہاں لکھو ۔ “

برف سے ڈھکتے فون بوتھ میں وہ ایلا کو اپنا پتہ لکھوا رہی تھی اس بات سے بالکل انجان کہ اسفند تو نہیں لیکن پچیس سال بعد اس کا بیٹا اسے تلاش کرتا ہوا ضرور ایلا تک پہنچے گا ۔

☆☆☆☆☆☆

سیاہ ہڈی اور جینز میں ملبوس , جبڑوں کو سختی سے بھینچے , سرخ چہرے کے ساتھ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ اولڈ ہوم کی راہداری کو عبور کرتا ہوا گیٹ سے باہر آ چکا تھا ۔ قدم من بھاری ہوتے اٹھ رہے تھے ۔ پیچھے سے آتی پکار اس کی ماں تھی ۔ دل میں ابھرتی ٹیسیں آنکھوں میں مرچوں جیسی جلن پیدا کرنے لگی تھیں ۔ سفید پتلی پر سرخ دھاریاں اس کے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی غمازی تھیں۔

وہ قدم قدم آگے بڑھتا ہوا یہ جانتا تھا اسفند اس کے پیچھے ہے لیکن آج وہ ضبط کی آخری سیڑھی سے لڑکھڑا کر گر چکا تھا ۔ کتنے ہی پرانے زخم ہرے ہو چکے تھے ۔ وہ دران تھا , درانگ تھا یا پھر باسل لیکن وہ ایک بیٹا تھا اور وہ عورت اس کی ماں ۔ ایسا بیٹا جس کے دل میں محرمیوں کے بہت سے زخم تھے اور کچھ تو اتنے برس گزرنے کے بعد اب ناسور بن چکے تھے ۔

” دران رکو ایسے کہاں جا رہے ہو ۔۔ دران میری بات سنو ۔ “

اسفند کی بگڑے تنفس والی پکار اس کے عقب سے گونج رہی تھی ۔ وہ جتنا تیز چل سکتا تھا چل رہا تھا ۔

دران کار کے پاس پہنچ چکا تھا ۔ وہ لوگ یہاں دو کاروں میں آئے تھے ۔ دران کی کار آگے تھی اور اسفند نوین کے ہمراہ اپنی کار میں اس کے پیچھے تھا ۔ وہ ان لوگوں کو یہاں تک پہنچانے ہی آیا تھا اور اب کنز کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر جہاں دل شدت غم سے پھٹ رہا تھا وہاں سارے زخم بھی تازہ ہو گئے۔ وہ مزید وہاں نہیں رک سکتا تھا اور کنز کو تو کسی صورت معاف نہیں کر سکتا تھا۔

” دران تم کنز سے ملے بنا کیوں آ گئے ؟ ماں ہے وہ تمھاری ۔ “

اسفند کی آواز اس کے قریب سے آ رہی تھی ۔ گاڑی کے دروازے کو کھولتے ہاتھ وہیں تھم گئے ۔ جھکی پلکیں اٹھائیں تو سرخ آنکھیں , بھینچے ہوئے لبوں سمیت پل بھر کو چندھی ہوئیں ۔ اسفند کا پریشان حال عکس گاڑی کے شیشے میں صاف نظر آ رہا تھا ۔ اور ایک یہ شخص تھا جسے وہ اپنے ساتھ رکھ کر خود کو اذیت دیتا تھا ۔ اس سے رشتہ عجیب تھا ۔ بچپن سے لے کر اب تک اس کی شخصیت میں وہ الجھ جاتا تھا ۔ ہر پل یہ جب یہ احساس جاگتا تھا کہ وہ اسے بڑھ کر گلے لگانے والا ہے تو وہ پلٹ جاتا تھا ۔ آخر کو وہ شخص اتنا بزدل کیوں تھا ۔ اگر اس کے لئے دل میں محبت تھی تو وہ ظاہر کیوں نہیں کرتا تھا ۔ وہ ایک جھٹکے سے پلٹا ۔

” جانتا ہوں ۔ وہ میری ماں ہیں اور یہ بھی جانتا ہوں آپ میرے باپ ہیں ۔ “

غراہٹ میں برسوں سے دبی نفرت واضح تھی ۔ اس کی بھاری آواز , تنی ہوئی کنپٹی اور منہ سے نکلے الفاظ نے اسفند کا وجود مجسم کر دیا ۔ وہ اسفند کی ساکن آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بہت سے حساب مانگ رہا تھا ۔ دران کو لے کر اسفند کے خدشات سب درست تھے تو وہ سب جان چکا تھا ۔ شک تو یقین میں اسی وقت بدل گیا تھا جب اس نے بتایا کہ وہ جانتا ہے کنز کہاں ہے اور اب خاموشی سے اس کے اندر سے پھٹتے لاوے کو دیکھنے کا وقت تھا ۔

” وہ ایسی ماں جس نے خود سے الگ کیا اور آپ کے حوالے کر دیا اور آپ ایسے باپ جس نے چھت تو دی لیکن نہ شفقت دی اور نہ ہی اپنا نام ۔ “

” تم جانتے ہو سب ! “

بہت دور سے آتی دھیمی سرگوشی تھی ۔

” ہاں میں سب جانتا ہوں اور آج سے نہیں بہت عرصے سے جانتا ہوں ۔ آپ کو اپنے ساتھ رکھا صرف اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے جو آپ نے مجھے بچپن سے لے کر جوانی تک چھت دے کر کیا ۔ “

وہ دانت پیستا ہوا پھٹ پڑا ۔ اسفند کا دھواں دھواں چہرہ اور ندامت سے ڈھلتی آنکھیں اس کے چہرے پر جمی تھیں ۔ وہ جو کنز کی وکالت کے لئے اس کے پیچھے آیا تھا ۔ اس کے اپنے بارے میں خیالات سن کر وہیں تھم گیا۔ وہ روبی سے نہیں اس سے نفرت کرتا تھا۔ اس نے روبی کو نیچا دکھانے کے لئے ساتھ نہیں رکھا ہوا تھا بلکہ اس کی نفرت میں اسے ساتھ رکھا تھا ۔

” وہ میری ماں ہے تو ان کے لئے اتنا بہت ہے کہ ان کے علاج سے لے کر اب تک ان کا خیال رکھا ۔ آپ میرے باپ ہیں تو آپ کو یہاں اپنے ساتھ رکھا ہے اس سے زیادہ کی توقع مجھ سے مت کریں ۔ “

وہ اسفند کو نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتا زہر آلودہ جملے ادا کر رہا تھا ۔ وہ زہر جو برسوں سے اس کے اندر کڑواہٹ بھرتا رہا تھا ۔

” بیٹا کبھی کبھی جو سامنے نظر آتا ہے حقیقت وہ نہیں ہوتی ۔ حقیقت بہت مختلف ہوتی ہے ۔ ایسی ہوتی ہے جسے ہماری عقل تسلیم نہیں کرتی ۔ “

یہ نوین کی آواز تھی ۔ دران کے ساتھ اسفند نے بھی چونک کر بائیں طرف دیکھا ۔ ویل چیئر پر بیٹھا نوین اور اس کے ہتھے تھامے کھڑی کنز اسی کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ کنز کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں اور کپکپاتے ہونٹ وہ اسے سینے سے لگانے کو ترس رہی تھی ۔

” دران بیٹا خود سے ہی سب سوچ لینے والے لوگ رشتوں کا صرف ایک ہی روپ دیکھ پاتے ہیں ۔ “

” آپ کچھ نہیں جانتے ۔ آپ کو بھی دھوکے میں رکھا گیا تھا ۔ میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں بلکہ آپکی بیوی اور آپکے ان بھائی کے گناہ کی نشانی ہوں ۔ “

دران نے اپنی طرف سے نوین پر بہت بڑا انکشاف کیا تھا ۔ غصہ اور محرمیوں کی کرچیاں اب آنکھوں کو مزید سرخ کر رہی تھیں ۔

” نہیں بیٹا میں سب جانتا ہوں لیکن آپ کچھ بھی نہیں جانتے ۔ آپ کنزی اور اسفی کی ناجائز نہیں جائز اولاد ہو ۔ ان دونوں نے شادی کی تھی اور تمہیں ہم تینوں پوری خوشی اور باہمی رضامندی سے اس دنیا میں لائے تھے ۔ “

نوین نے تحمل مزاجی سے جواب دیا ۔ دران نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا ۔ نوین اب اسے ساری کہانی سنا رہا تھا اور وہ ہونق بنا کھڑا تھا ۔

تو دران ملک تم خود پر کتنا ظلم کرتے رہے ۔ بنا سب سچ جانے خود کو اذیت دیتے رہے ۔ اللہ کی نعمتوں اس کی رحمتوں سے خود کو محروم رکھتے رہے ۔ نوین نے گہری سانس لے کر ماضی کی اس عجیب و غریب کہانی کا اختتام کیا اور دران کی طرف دیکھا ۔

” اور پھر ایک دن قسمت کی ستم ظریفی نے سب الٹ پلٹ دیا ۔ تم سمجھ رہے ہو کنز نے تمہیں خود سے الگ کیا ۔ غلط ہے یہ ۔ تم سمجھ رہے ہو اسفند نے جان بوجھ کر تمہیں محبت , شفقت اور نام نہیں دیا یہ بھی غلط ہے۔ “

اولڈ ہوم سے باہر آنے تک کنز نوین کو سب بتا چکی تھی اور اسفند بھی سفر کے دوران اسے دران کے پاکستان آنے سے لے کر اب تک کی مکمل روداد سنا چکا تھا۔

” کنز کو تو یہ بتایا گیا تھا کہ تم اس دنیا میں نہیں رہے ۔ اس کی غلطی ضرور ہے لیکن صرف اتنی کہ نشے کی لت سے باہر نہیں آ سکی ۔ “

نوین جانتا تھا کنز اس وقت کچھ بھی بولنے کی سکت میں نہیں ہے اس لئے وہ اس کی صفائی پیش کر رہا تھا ۔ دران تو ابھی بے یقینی سے نوین کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جب کنز ویل چئیر کے ہتھے چھوڑ کر آگے بڑھی ۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اور تر ہوتے گالوں سمیت وہ دران کے بالکل سامنے آ کھڑی ہوئی ۔ سرخ و سپید رنگت والی , عمر کی اس دہلیز پر بھی وہ دلکش خاتون اس کی ماں تھی ۔ چمکتی آنکھیں اور اس کے دل و دماغ میں دران کی محبت وہ ان کو جھٹلا کیسے سکتا تھا ۔ جن کی صرف سوچ ہی نہیں جسم کا رواں رواں دران کے لئے محبت کا ثبوت پیش کر رہا تھا ۔

” مجھے معاف کر دو بیٹا ۔ بہت سزا کاٹ چکی ہوں اور سزا مت دو ۔ “

بمشکل الفاظ ادا کرتی وہ بے ساختہ دران کو اپنے سینے سے لگا گئی ۔ جو بے حس و حرکت کھڑا تھا ۔ کنز اس کو گلے لگائے رو رہی تھی اور بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی ۔

” مت دو سزا ۔ “

وہ اس کی ماں تھی ۔ وہ روتے ہوئے اسے اپنی ساری بیتابیاں سنا رہی تھی ۔ وہ اسے کتنا یاد کرتی تھی اس کے لئے کتنا روتی تھی جبکہ وہ ایک بے جان پتلے کی مانند کھڑا تھا ۔ حیران , بے یقین ۔ ابھی یقین آنے میں وقت درکار تھا ۔ برسوں سے ممتا کے ترسے دل اور خشک آنکھوں کو نم ہونے کے لئے وقت درکار تھا ۔ جب رشتے مخلص ہوں اور دلوں میں بے لوث محبت ہو تو وقت بہت جلد زخموں کو بھر دیتا ہے ۔ نوین مسکرا رہا تھا جبکہ اسفند کا دھواں ہوتا چہرہ اور ندامت اس کے کندھے ڈھلکا رہی تھی ۔

☆☆☆☆☆

” بھائی اتنا بڑا دھوکا ۔ دران نوین بھائی کا بیٹا نہیں ہے تو آپ کیوں اسے ان کا بیٹا بنا کر سب کے سامنے پیش کر رہے ہیں ؟ “

یاور پیشانی پر انگنت بل ڈالے توحش نگاہوں سے سوال کر رہا تھا ۔ نوین اور ریاض کی ادھوری گفتگو نے اسے الجھا کر رکھ دیا تھا ۔

” یاور پلیز ۔ میں پہلے ہی بری طرح پھنسا ہوا ہوں ۔ مجھے مزید مت الجھاؤ ۔ وقت آنے پر میں تمہیں باقی کی آدھی حقیقت بھی بتا دوں گا ۔ فلحال تو یہ کہ دران نوین بھائی کا بیٹا نہیں ہے لیکن ان کی بیوی کا بیٹا ہے ۔ “

اسفند کے بے ربط جملے اور الجھی سی بات پر یاور نے جھنجلا کر کچھ کہنا چاہا تو اسفند نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ۔ وہ بار بار چور نگاہوں سے ڈرائنگ روم کے کھلے دروازے کی طرف بھی دیکھ رہا تھا ۔

” تم پلیز سونی کے ساتھ شادی کرنے سے انکار مت کرو ۔ اس سے شادی کر لو ۔ دران کا سارا خرچ میں تمہیں دوں گا تم بس سب سے یہ کہنا کہ یہ تم کر رہے ہو ۔ ابھئ میں تمہیں اور کچھ بھی نہیں بتا سکتا ۔ بس تم دران کا سب کچھ اپنے قابو میں کر لو ۔ روبی پہلے سے ہی دران کو لے کر بہت مشکوک رہتی ہے ۔ میں نہیں چاہتا میرا اور تمھارا گھر خراب ہو ۔ “

یاور نے آج سے پہلے اسفند کو کبھی اتنا بے بس نہیں دیکھا تھا ۔ اس نے چند سکینڈ کی خاموشی کے بعد گہری سانس خارج کی اور سر کو اثبات میں ہلا دیا ۔

☆☆☆☆☆☆

روشن صبح بریولی ہلز کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی تھی ۔ درانگ ولاس میں کتنے برس کے بعد ایسے جاندار دن کا آغاز ہو رہا تھا ۔ بہت سی آوازیں اور قہقوں کے جلترنگ ڈائنگ ہال سے لے کر لاؤنج میں گونج رہے تھے ۔

ڈائنگ ہال کے میز پر آج دران موجود تھا ۔ دھلا چہرہ سفید شرٹ میں جچ رہا تھا ۔ چمکتے مسکراتے چہرے اور برسوں کے بچھڑے رشتے ایک ہو کر بیٹھے تھے ۔ جیسیکا کنز کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی تھی وہ بھی کل رات سے یہاں آ گئی تھی ۔ دران کے ساتھ ساتھ اسے بھی اب جا کر ماں ملی تھی ۔

کنز نے اپنے دونوں بچوں سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگی اور سینے سے لگایا ۔ اس وقت نوین , انل , دران اور جویریہ سب ایک ساتھ ناشتے کی میز پر موجود تھے ۔

یہ سارا اہتتام جویریہ کے مرہون منت تھا ۔ روزین کے ساتھ مل کر اس نے خود ناشتہ تیار کیا تھا اور اب وہی سب کو ان کے کمروں سے نکال کر لائی تھی ۔ بس اب روبی , اسفند , سبرینا اور برھان کا انتظار تھا ۔

سرخ میکسی میں ملبوس , وہ مسکراتی ہوئی دران کی بغل میں بیٹھی بار بار اس کے پرسکون چہرے کو دیکھ کر سر شار ہو رہی تھی ۔ وہ سب کے ساتھ یوں مسکراتا ہوا اسے بھی پرسکون کر رہا تھا ۔

” تم روبی ہو نہ ؟ “

کنز کی پرجوش آواز پر سب نے ایک ساتھ مڑ کے پیچھے دیکھا ۔ روبی , برھان , سبرینا اور اسفند شرمندہ سے ڈائنگ ہال کے داخلی دروازے میں کھڑے تھے ۔ کنز خوشدلی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور روبی کی طرف بڑھی ۔ وہ رات کو جب درانگ ولاس پہنچے تھے بہت دیر ہو چکی تھی اور رات کو کنز جیسیکا اور دران کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔

خوشدلی سے مسکراتی چند قدموں کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ روبی کے سامنے کھڑی تھی ۔ جس کے اترے چہرے سے بے نیاز اس نے پرجوش ہو کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔

” میں تمھاری بہت شکر گزار ہوں روبی ۔ تم نے میرے بیٹے کی پرورش کی ۔ اسے ایک اچھا اور کامیاب انسان بنایا ۔ “

کنز انگریزی زبان میں شائیستگی سے اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی ۔

” یہ وہ ہاتھ ہیں جن سے کبھی تم نے میرے چھوٹے سے دران کو کھانا کھلایا ہو گا ۔ اس کو سلایا ہو گا ۔ “

کنز نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اوپر کیا اور عقیدت سے لبوں سے لگایا ۔ روبی نے سٹپٹا کر نگاہیں چرائیں ۔ کتنے ہی منظر نگاہوں کے سامنے سے گزر گئے ۔

اس نے ان ہاتھوں سے دران کو کھانا تو کبھی نہیں کھلایا تھا ہاں البتہ اس معصوم کے گالوں پر طمانچے ضرور لگائے تھے ۔ اس کی ماں جو آج عقیدت سے اس کے ہاتھ چوم رہی تھی اگر کہیں اسے یہ پتا چل جائے کہ وہ کیا سلوک کرتی تھی اس کے چھوٹے سے دران کے ساتھ تو ہاتھ پکڑ کر اس گھر سے باہر دھکا دے آئے ۔

کتنے سفاک ہوتے ہیں ہم لوگ یتیم بچوں کے ساتھ بنا کسی خوف کے برا سلوک کر جاتے ہیں اور یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ چاہے اس دنیا میں نہیں لیکن کیا پتا روز قیامت اللہ ان معصوم بچوں کے والدین سے ہمارا سامنا کرا دے اور وہ ہمارا گریبان تھام کر اپنے جگر گوشوں پر کئے گئے ظلم کا سوال کرنے لگیں ۔

روبی کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی سنسناہٹ دوڑ گئی ۔ ایک پل کو لگا اگر یہاں کنز اس کا گریبان تھامے کھڑی ہوتی اور اس سے دران پر کئے گئے ہر ظلم کا حساب مانگ رہی ہوتی تو کیسا مںظر ہوتا ۔ ایک لمحے کے لئے دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔

” میں تمھارے احسانوں کا بدلہ چاہوں بھی تو نہیں اتار سکتی ۔ دران آج جس مقام پر ہے شاید میری تربیت سے کبھی یہاں نہیں پہنچ پاتا ۔ “

کنز شکرگزار لہجے میں اس کے ہاتھ تھامے کھڑی تھی ۔ روبی نے دھواں دھواں چہرہ مزید جھکایا اور پھر ایک دم سے اوپر اٹھایا ۔

” مجھے معاف کر دو کنز ۔ جو سب تم سمجھ رہی ہو میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔ میں اتنے ظرف والی عورت نہیں تھی ۔ میں نے بہت دکھ اور تکلیفیں دی تمھارے بیٹے کو ۔ “

ندامت بھرا لہجہ اور شرمندگی سے ڈھلکتی پلکیں ۔ کنز کے مسکراتے چہرے پر حیرت کے تاثرات ابھرے ۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے پھر سے روبی کے ہاتھوں کو تھاما ۔

” ایسے مت کہو روبی میرے دل میں تمھاری بہت عزت اور مقام ہے ۔ ایک ماں کے لئے اس کے بیٹے کی دیکھ بھال کرنے والی عورت سے بڑھ کر اور کون سی عورت عظیم ہو سکتی ہے ۔ “

” اسفند تم لوگ کہیں جا رہے ہو ؟ “

نوین نے متجسس لہجے میں استفسار کیا تو سب کی نگاہ ایک ساتھ کچھ دور رکھے بیگز پر پڑی جو ملازم رکھ کر پلٹ رہے تھے ۔

” ہاں بھائی ۔ “

اسفند نے آہستگی سے جواب دیا ۔ لہجہ اور چہرہ دونوں ہی ندامت کے بوجھ کے غماز تھے ۔ نوین سمیت سب کے چہروں پر حیرت ابھری برھان اور سبرینا بھی خاموش کھڑے تھے ۔ وہ لوگ ان سب کے ساتھ ناشتہ کرنے نہیں آئے تھے ۔ وہ تو بیگ باندھے درانگ ولاس سے جا رہے تھے ۔

” لیکن کیوں ؟ ہم دونوں سے زیادہ تم دونوں کا حق ہے دران پر ۔ ایسے کیسے چھوڑ کر جا رہے ہو ؟ “

” نہیں بھائی ۔ ہم نے دران کو ہمیشہ تکلیفوں اور پریشانیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہے ۔ میں باپ ہوتے ہوئے بھی اس پر ہوتے ظلم پر خاموشی اختیار کرتا رہا ۔ خود غرض بنا رہا ۔ اپنی بیوی سے ڈرتا رہا ۔ “

اسفند سر جھکائے ندامت سے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر رہا تھا ۔ دران نے لب بھینچ کر میز کے سہارے کو چھوڑا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی ۔ جویریہ مسلسل اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ جانتا تھا وہ اب کیا چاہتی ہے ۔ کل ساری رات بھی وہ اسے یہی سب سمجھاتی رہی تھی ۔ وہ اب جویریہ کی طرف بھی نہیں دیکھ رہا تھا ۔ انل فوراً اپنی جگہ سے اٹھ چکا تھا ۔

” دران کی میرے لئے نفرت بجا ہے ۔ اب مزید ہمارا یہاں رکنا ٹھیک نہیں ۔ اس کا خاندان مکمل ہو چکا ہے ۔ میں نہیں چاہتا ہم تینوں کو دیکھ کر وہ اب بھی اپنے کڑوے ماضی کو یاد کرتا رہے ۔ “

سب لوگ ہم تن گوش تھے اور اسفند کی ندامت بھری آواز پورے لاؤنج میں گونج رہی تھی ۔ سب لوگ اب باری باری دران کی طرف دیکھ رہے تھے جو سپاٹ چہرہ لئے پلکیں گرائے بیٹھا تھا ۔ کچھ دیر پہلے والی مسکراہٹ اب لبوں سے غائب تھی ۔

” ہم نے اسے کیا دینا تھا جتنا اس نے ہمیں ان پچھلے سات سالوں میں دیا ۔ میری بیوی اور بیٹے نے تو اب تک اس کی زندگی میں صرف پریشانیوں کا اضافہ کیا ہے ۔ “

اسفند نے بات مکمل کی اور پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے رخ موڑا ۔ اس سے پہلے کہ وہ قدم آگے بڑھاتا ہے ۔ دران کی آواز نے قدم روک دیے ۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر چلتا ہوا اسفند کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔

” سب کچھ کہہ گئے آپ ۔ اپنے سارے گناہ بھی قبول کر لئے ۔ میری زندگی سے بھی نکلنے کا فیصلہ کر لیا لیکن مجھے گلے لگا کر بیٹا نہیں کہا ۔ “

اسفند نے ندامت سے جھکا سر چونک کر اوپر اٹھایا ۔ دران کے لہجے میں نہ تو نفرت تھی نہ ہی تلخی ہاں ہلکی سی نمی اور شکوہ ضرور تھا ۔

” میں تو برسوں سے اس پل کے انتظار میں ہی رہا کہ کب آپ وہ کرنے کی ہمت کریں گے جو آپ سوچتے ہیں ۔ “

اسفند کے حیران چہرے پر نگاہیں جمائے کہتا وہ زخمی سا مسکرایا تو اسفند نے بے ساختہ اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا ۔ کتنی ہی آنکھیں ایک ساتھ نم ہوئیں تھیں اور لب مسکرا اٹھے تھے ۔ اسفند آج اپنے برسوں کے پیار کو اس پر لٹا رہا تھا ۔ کبھی اس کے ہاتھ چوم رہا تھا تو کبھی اس کا ماتھا ۔

سرخ لباس میں ملبوس وہ نم آنکھوں کے کونوں کو صاف کرتی ایک گہری سانس لے گئی ۔ یہ تھا وہ دران جس کو دیکھنے کے لئے برسوں پہلے اس نے خواب دیکھا تھا ۔ ایک مکمل اور نارمل انسان ۔

” کہیں نہیں جا رہے ہیں آپ اور ۔۔۔۔ نہ آپ کی فیمیلی ۔ درانگ ولاس صرف میرا نہیں آپ کا بھی گھر ہے ۔ “

وہ اسفند کے سینے سے لگا کہہ رہا تھا اور اسفند نم آنکھیں بند کئے جذب کے عالم میں مسکرا اٹھا ۔

☆☆☆☆

تاروں سے بھرے آسمان تلے , درانگ ولاس کے لان میں دلکش سماں تھا۔ دو تقریبات ایک ساتھ تھیں ۔ نوین اور کنزا کا نکاح ساتھ انل اور جیسیکا کی نسبت ۔ انل جیسیکا سے شادی پاکستان جا کر اپنی فیمیلی کے ساتھ مل کر کرنا چاہتا تھا اس لئے یہاں صرف نسبت طے کی تھی ۔

کنز پارکر نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اسلامی نام کنزا رکھا تھا ۔ روبی , اسفند , سبرینا , برھان سب کے ساتھ ہنستے مسکراتے دلوں کی کدورتیں مکمل ختم کر چکے تھے ۔ کھلتے مسکراتے چہرے نفرتوں اور حسد سے پاک تھے ۔

انل سیاہ سوٹ میں ملبوس بھرپور مسکراہٹ لبوں پر سجائے کچھ دور کھڑی جیسیکا کو محبت سے دیکھ رہا تھا ۔ جو کسی کو اپنے ہاتھ میں موجود نسبت کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے ہنس رہی تھی ۔ چاندی رنگ جھلملاتی میکسی میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔ وہ یونہی محبت پاش نگاہوں میں جیسیکا کا سراپا نگاہوں میں سمو ئے مسکرا رہا تھا جب اچانک کان کے پاس دران کی رعب دار آواز ابھری ۔

” پتا ہے نہ کون ہے وہ ؟ اَس کا چہرہ ایسے ہی مسکراتا رہنا چاہیے ۔ “

وہ جو جیسیکا کو محبت سے دیکھنے میں مگن تھا سٹپٹا کر پلٹا ۔ دران مسکراہٹ دبائے جویریہ کے ساتھ اس کے بالکل پیچھے کھڑا تھا ۔ جویریہ بھی لبوں پر ہاتھ رکھے شرارت سے مسکرا رہی تھی ۔ وہ دونوں شاید کافی دیر سے اس کے پیچھے کھڑے اسی کو دیکھ رہے تھے ۔ انل جھینپ کر خجل ہوا ۔

دران سیاہ کرتے میں ملبوس تھا تو وہ نیلی ساڑھی میں نفاست سے تیار اس کے ساتھ کھڑی جچ رہی تھی ۔ انل نے اپنی کیفیت پر قابو پا کر مصنوعی سنجیدگی طاری کی اور فوراً جویریہ کی طرف اشارہ کیا ۔

” تمہیں پتا ہے یہ کون ہے ؟ اس کا چہرہ بھی اسے ہی مسکراتا رہنا چاہیے ۔ “

انل کے ترکی بہ ترکی جواب پر جویریہ کھلکھلا اٹھی جبکہ دران نے مصنوعی تیوری چڑھائی ۔

” ٹانگ اوپر رکھنے کے لئے فوراً میری بیوی کو بہن بنا لیا ۔ واہ “

” فوراً نہیں بنایا ۔ میری بلڈنگ میں رہنے والی ہر لڑکی میری بہن ہی تھی اور جویریہ تو ویسے بھی بہت خاص ہے کیونکہ وہ میرے جگر کی بیوی ہے ۔ “

انل نے محبت سے مسکراتے ہوئے کہا اور آنکھ کا کونا دبایا۔

” میں ان ایموشنل ڈائیلوگ سے پگھلنے والا نہیں ہوں ۔ وہ کیا کہتے ہیں ! اسے کیا رشتہ ہے اس کے ساتھ میرا ؟ “

دران نے ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے بھنویں اچکا کر جویریہ کی طرف دیکھا جو ان دونوں کی باتوں سے لطف اٹھاتی ہنس رہی تھی ۔

” سالا لگے آپ انل بھائی کے ۔ “

” رشتہ ہے یا گالی ؟ “

دران نے ایک آبرؤ چڑھائے پوچھا تو جویریہ کے ساتھ انل بھی بھرپور قہقہ لگا گیا ۔

” رشتہ ہی ہے ۔ “

جویریہ نے بمشکل ہنسی پر قابو پا کر جواب دیا ۔ دران نے لب بھینچ کر مصنوعی سنجیدگی طاری کی ۔

” ہوں تو انل یوسف جی بچپن میں تمہیں مار سے بچانے کا یہ واحد نقصان ہوا مجھے کہ تم آج میری بہن کے شوہر اور میں تمھارا سالا بن گیا ۔ “

” رشتہ کوئی بھی ہو تم میرے دران ہو ہمیشہ سے اور رہو گے۔ کوئی سالے بہنوئی والا ٹیپکیل ریلیشن نہیں ہو گا ویسے بھی تمہاری بہن کے لئے تو میں اب بھی پی اے ہی ہوں تمھارا ۔ “

انل کی بات پر تینوں کا یک جان جاندار قہقہ فضا میں گونجا ۔ جیسیکا بھی مسکراتی ہوئی پاس آ چکی تھی ۔

” اردو میں بات مت کیا کریں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ بھابھی کیا یہ میرے خلاف بات کر رہے تھے ؟ “

” جیسیکا نے خفگی سے منہ پھلائے جویریہ سے سوال کیا تو دران اور انل تو ہنسنے لگے جبکہ جویریہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے محبت سے جیسیکا کو پچکارا ۔ سب ایک ساتھ ہنس دیے تھے ۔

☆☆☆☆

لان کے پرسکون ماحول میں دران کی آواز میں گونجتی قرآن کی تلاوت کھلتی شام کو فسوں خیز بنا رہی تھی ۔ دران آنکھیں بند کئے سورۃ رحمان کی آیات کی تلاوت کر رہا تھا اور سامنے کی دو نشستوں پر کنزا اور جویریہ سلیقے سے سکارف لئے دھلے شفاف چہروں کے ساتھ بیٹھیں اسے غور سے سن رہی تھیں ۔

پچھلے چھ ماہ سے وہ دونوں دران سے قرآن کی تلاوت اور تلفظ کی ادائیگی سیکھ رہی تھیں اور آج شام بھی دونوں نے دران کو فارغ دیکھ کر قابو میں کر لیا تھا ۔

دران نے آیات ختم کرنے کے بعد آنکھیں کھولیں اور کنزا کی طرف دیکھا انہوں نے اسی آیات کی تلاوت بہت خوبصورتی سے کی , دران نے گردن گھما کر جویریہ کی طرف رخ کیا ۔

اس نے گلا صاف کیا اور آیات کی تلاوت شروع کی ۔ دران کی پیشانی پر شکن نمودار ہوئے اور چہرے زاویے غصے کے تاثرات میں تبدیل ہو گئے ۔ وہ تیسری بار وہی غلطی دہرا رہی تھی ۔ ایک مخصوص لفظ کی ادائیگی پر آ کر وہ ہر بار وہی غلطی کر رہی تھی ۔

” پھر وہی غلطی دھیان کہاں ہے تمھارا ؟ مما کی طرح ادا کرو جیسے وہ کر رہی ہیں ۔ “

دران نے اس دفعہ ڈپٹ کر کہا تو وہ جو انہماک سے تلاوت کر رہی تھی سہم کر رکی اور پھر روہانسی صورت بنائے اس کی طرف دیکھا جو غصے سے پیشانی پر بل ڈالے اسے ڈانٹ رہا تھا ۔

” دران ڈانٹیں مت کوشش تو کر رہی ہوں ۔ “

” خاک کوشش کر رہی ہو ۔ ایک گھنٹہ ہو گیا تلفظ درست ہو کے نہیں دے رہا ۔ “

” دران آرام سے بات کرو ۔ “

کنزا نے دران کی سختی کو دیکھتے ہوئے گھور کر تنبہیہ کی ۔ جویریہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھی ۔

” مما آپ پڑھ لیں ۔ مجھے ان سے نہیں پڑھنا ۔ میں کل آپ سے پڑھ لوں گی ۔ “

بھاری ہوتی آواز میں کہہ کر وہ بنا دران کی طرف دیکھے قرآن کو سینے سے لگائے آگے بڑھی جبکہ وہ دونوں ہاتھوں کو ہوا میں اٹھائے گہری سانس لے کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا ۔

” دران یہ غلط ہے بیٹا ۔ پڑھاتے ہوئے غصہ کنٹرول میں رکھا کرو ۔ چلو میں بھی جا رہی ہوں ۔ تم مناؤ جا کر اسے ۔ “

کنزا خفگی سے گھورتی ہوئیں اپنی جگہ سے اٹھیں ۔ دران نے ایک آنکھ بند کئے چہرے کا زاویہ بدلا ۔

” مجھے منانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا ہے ۔ “

” ہاں وہ اس لئے کہ وہ کبھی ناراض نہیں ہوتی ۔ بہت اچھی لڑکی ہے اور تم بالکل اپنے باپ جیسے لا پرواہ اٹھو اور فوراً جاؤ اسے مناؤ ۔ “

کنزا صیح کہہ رہی تھیں ۔ اس نے کچھ زیادہ ہی ڈانٹ دیا اور اب خود بھی احساس ہو رہا تھا ۔ عام طور پر وہ اس کے یوں ڈانٹ دینے اور کبھی کبھار غصہ کرنے پر ناراض نہیں ہوتی تھی لیکن کبھی ہو بھی جاتی تھی ۔

” ہوں آپ بہت ایموشنل کر رہی ہیں ۔ اوکے جا رہا ہوں منانے ۔ “

دران ایک جھٹکے سے کرسی کے بازؤں پر وزن ڈالے اپنی جگہ سے اٹھا تو کنزا سر کو تاسف میں ہلاتی مسکرا دیں ۔

دران جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر داخل ہوا تو وہ جو بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے اپنی مخصوص جگہ پر روہانسی بیٹھی تھی فوراً غصے سے سائیڈ میز سے کتاب اٹھا کر گود میں دھر لی۔

اس کے خفا سے انداز پر وہ مسکراہٹ دباتا ہوا چند سکینڈ میں ہی اس کے سر پر کھڑا تھا ۔ کچھ پل اس کی مانگ کو گھورتے رہنے کے بعد اس کے سامنے براجمان ہوا اور ہاتھ بڑھا کر اس کی گود میں کھلی کتاب بند کر دی ۔

جویریہ نے غصے سے لب بھینچے اور پھر سے کتاب کھول لی ۔ دران نے پھر سے بند کی تو اس نے غصے سے چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” کیا ہے ؟ “

” ہے تو بہت پیار لیکن کیا تم ایسے بات کرو گی مجھ سے ؟ “

” آپ چاہے جیسے بھی بات کریں ؟ “

خفا لہجے میں ہلکی سی لغزش ابھری ۔

” میں تو شروع سے ایسا ہی ہوں ؟ تمہیں ایسے ہی دران سے پیار ہوا تھا لیکن تم تو ایسی نہیں تھی ۔ “

دران نے محبت سے اس کے خفا چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں چمکتے آنسو دل مسوس گئے ۔

” قرآن پڑھاتے ہوئے مت ڈانٹا کریں ۔ “

بڑے ناز سے کہا اور اس کے گال کو چھوتے ہاتھ کو خفگی سے نیچے کیا ۔

” ٹھیک ہے نہیں ڈانٹا کروں گا اس کی جگہ سزا دے دیا کروں گا ۔ ٹھیک ہے ۔”

دران شرارت سے کہتا ہوا قریب ہوا تو وہ کندھے پر ہاتھ رکھے پیچھے کرتے ہوئے مسکرا دی ۔

” جی نہیں ۔ “

” یہ بات غلط ہے ۔ دونوں میں سے ایک کام تو ہو گا ۔ ڈانٹ نہیں سہہ سکتی تو پھر سزا۔ “

دران نے مبہم سی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا تو وہ پل بھر میں ہی خفگی بھلائے مسکرا دی ۔ بس اتنا سا ناراض ہی تو ہو پاتی تھی وہ ۔

☆☆☆☆☆☆

درانگ ولاس کے لان میں چار سالہ ہالہ کے رونے کی آواز گونج رہی تھی وہ اپنے گھٹنے کے بہتے خون کو دیکھ کر بھل بھل آنسو بہا رہی تھی ۔ وہ سائیکل سے نیچے گر کر گھٹنے پر چوٹ لگوا چکی تھی ۔ قریب بیٹھی جویریہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے مسلسل اسے سمجھا رہی تھی ۔ چھ سالہ حدید دران اس کے قریب کھڑا تھا اور سوئمنگ پول کے پاس دران لیپ ٹیپ پر کام میں مصروف تھا ۔

” ہالا بیٹے بہت معمولی چوٹ ہے روتے نہیں ہیں بہادر بنو ۔ “

” روتے تو لڑکے نہیں ماما ۔ لڑکیاں تو ہر بات پر روتی ہیں ۔ اس لئے لڑکے بہادر ہوتے ہیں یہ بہادر نہیں بن سکتی ۔ “

پاس کھڑے حدید کی بات پر جویریہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ ماتھے پر بل ڈالے سوال کیا ۔

” آپ کو کس نے یہ بات سکھائی بیٹے ؟ “

” اسفند دادا , نوین داد سب یہی کہتے ہیں ۔ لڑکے نہیں روتے وہ بہادر ہوتے ہیں صرف لڑکیاں روتی ہیں ۔ “

” غلط بالکل غلط لڑکے بھی روتے ہیں ۔ ان کو بھی رونا آ سکتا ہے ۔ لڑکوں کی بہادری نا رونے میں نہیں بلکہ کسی کو نہ رولانے میں ہے ۔ کسی کمزور کو تکلیف نہیں دینی چاہیے جیسے کہ کسی بھی لڑکی کی آنکھ میں آپ کی وجہ سے کبھی آنسو نہیں آئے اصل بہادری یہ ہے ۔ “

جویریہ نے ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات مکمل کی تو حدید نے الجھ کر انگلی گال پر رکھ لی ۔

” ماما سب سے بہادر تو میرے بابا ہیں ۔ کیا وہ بھی روئے ہیں کبھی ؟ “

” ہاں بابا بھی روئے تھے ۔ “

” کب ماما ؟ “

” جب ان کی وجہ سے ماما کی آنکھ میں آنسو آئے تھے ۔ “

وہ محبت سے سمجھاتے ہوئے مسکرا دی جبکہ حدید چمکتی آنکھوں کے ساتھ سر کو اثبات میں ہلا گیا ۔ اس کے لئے بہادری اب نہ رونے میں نہیں نہ رولانے میں تھی ۔

اس کے موبائل کی گھنٹی پر وہ فون کان سے لگاتی اپنی جگہ سے اٹھی جبکہ حدید اب اپنی بہن کے آنسو صاف کر رہا تھا ۔

” ہیلو ۔ “

فون کان سے لگائے وہ ایک طرف ہوئی ۔ نمبر دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا فون کہاں سے آیا ہے ۔

” مسز باسل اگلے مشن کے لئے باسل نے آپکو ساتھ لانے سے منع کر دیا ہے ۔ “

فون میں سے بھاری آواز ابھری ۔ جویریہ نے آنکھوں کو سکیڑ کر دور لیپ ٹاپ پر کام کرتے دران کی طرف دیکھا اور پھر مسکرائی ۔

” چلیں پھر ان سے ملاقات مشن پر ہی ہو گی ۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *