Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 38)

Basil by Huma Waqas

دران نے لب بھینچے تیراکی کے لئے حامی بھری اور قدم آگے بڑھائے ۔ سٹیج سے بالکل نیچے بنایا گیا تیراکی کا تالابی شفاف نیلے پانی سے بھرا ہوا تھا ۔

” ایک منٹ رکو ۔ تیراکی نہیں کروانی اس سے کچھ خاص کروانا چاہیے ۔ “

تیسرے نمبر پر بیٹھے جج کی آواز ہال میں گونجی دران کے قدم تھمے ساتھ ہی وہاں موجود باقی تمام جج حضرات کی نگاہیں بھی اس جج کی طرف گھوم گئیں ۔ وہ آنکھیں چندھی کئے اب دران کی فائل پر نگاہ جھکائے ہوئے تھا پھر گہری سانس لیتے ہوئے چہرہ اوپر اٹھایا۔

” اگر یہ سکوبا ڈائیونگ میں مہارت رکھتا ہے تو مجھے یہ دیکھنا ہے کہ یہ کتنی دیر پانی کے اندر بنا آکسیجن رہ سکتا ہے ؟ “

وہ اپنی ٹھوڑی کو سہلاتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت کر رہا تھا ۔ باقی سب ججز اب دران کی طرف دیکھ رہے تھے ۔

” دران کیا تم یہ کر سکتے ہو ؟ فری ڈائیونگ بنا آکسیجن کتنی دیر تم پانی میں رہ سکتے ہو ؟ “

آبرؤ اچکائے استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا ۔

” بالکل کر سکتا ہوں ۔ “

دران نے سنجیدگی سے برجستہ جواب دیا ۔

” کیا تم جانتے ہو بنا آکسیجن ڈوبے رہنے کا ورڈ رکارڈ کیا ہے ؟ “

جج نے اپنی دو انگلیوں میں پھنسے قلم کو گھماتے ہوئے تمسخرانہ لہجے میں استفسار کیا ۔

” نہیں ۔ “

دران نے قطعیت سے جواب دیا ۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔ نہ خوف نہ ہی ہچکچاہٹ ۔

” ورڈ ریکارڈ انیس منٹ اور تیس سکینڈ ہے لیکن میں تمہیں دس منٹ تک ہی پانی میں رہنے پر منتخب کر لوں گا ۔ “

بھنویں اچکائے اس نے جتاتے ہوئے کہا جبکہ باقی سب ججز حیرت سے کبھی دران اور اور کبھی اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔

” ٹھیک ہے تو تمھارا وقت شروع ہوتا ہے اب ۔ “

دران جج کا جملہ مکمل ادا ہونے سے پہلے ہی شرٹ اتار کر تالاب میں چھلانگ لگا چکا تھا ۔ اب سب کی نگاہیں گھڑی پر جمی تھیں ۔

ایک منٹ ۔۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔ تین ۔۔۔۔ چار ۔۔۔۔ پانچ ۔۔۔۔ وقت سرک رہا تھا اور سب کی نگاہیں متواتر تالاب سے گھڑی اور گھڑی سے تالاب کی طرف سفر کر رہی تھیں ۔

” دس منٹ سے اوپر وقت جا رہا ہے ۔ “

جج خاتون نے ہونق چہرے کے ساتھ مائک میں کہا گھڑی کی ٹک ٹک پورے ہال میں گونج رہی تھی ۔ سب کی پیشانی پر اب بل پڑ رہے تھے ۔ جج خاتون نے بے چینی سے باقی ججز کی طرف دیکھا جو چپ چاپ بیٹھے تھے ۔ گھڑی اب بارہ منٹ دکھا رہی تھی ۔

” شاندار ۔ “

وسط میں بیٹھے جج نے لبوں کو ستائشی باہر نکالتے ہوئے سر کو جنبش دی جبکہ ساتھ بیٹھی خاتون نے پریشانی سے اپنا چہرہ مائک کے قریب کیا۔

” تیرہ منٹ ۔ یہ بہت زیادہ ہیں ۔ دیکھو اس کو ۔ یہ اسٹنٹ مین آیڈیشن ہے کوئی رئیلٹی شو نہیں ۔ “

سٹیج پر ہاتھ باندھے کھڑے دو لڑکے بھاگتے ہوئے تالاب کی طرف بڑھے ۔ گھڑی کی سوئیاں سرعت سے تیرہ منٹ سے آگے بڑھ رہی تھی ۔ سب جج اب غصے سے ٹاسک دینے والے جج کو گھور رہے تھے جو اب بھی نگاہیں گھڑی پر جمائے سپاٹ بیٹھا تھا ۔

” اوہ جیزیز ۔ نکالو اس کو باہر یہ کیا پاگل پن ہے اس کی جان بھی جا سکتی ہے ۔ “

ایک اور جج کھڑے ہوتے ہوئے چیخا تھا اسی وقت دران اچھل کر پانی کے سطح کے اوپر آیا تو جیسے سب کی اٹکی سانسیں بحال ہوئیں اور چہروں کی سپید پڑتی رنگت میں پھر سے خون کی لہر دوڑی ۔ گھڑی تیرہ منٹ اور چالیس سکینڈ کا وقت دکھا رہی تھی ۔ دران مکمل بھیگا گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اب سٹیج پر کھڑا تھا ۔

تمام ججز اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اب ستائشی نگاہوں سے دران کی طرف دیکھتے ہوئے تالیاں بجا رہے تھے ۔

” یہ حیران کن تھا ! تم کمال ہو ۔ آؤ اور اپنا منتخب کارڈ لے جاؤ ۔ “

جج نے گرم جوشی سے مسکراتے ہوئے پکارا کچھ دیر پہلے والی استہزائیہ مسکراہٹ اب غائب تھی ۔ دران اسی طرح بھیگا ہوا اب ججز کی ڈیسک کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

وہ قریب آیا اور ٹاسک دینے والے جج نے اسے گلے لگایا ۔

” ویل ڈن باسل “

ایک سرگوشی تھی جو اس کے کان میں ہوئی ۔ دران کے کان کھڑے ہوئے ۔ اس نے مسکراتے ہوئے دران کو خود سے الگ کیا ۔

دوسرے جج ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے لیکن دران کی نگاہیں اسی جج پر ٹکی تھیں ۔ جو اب کوٹ کے شکن درست کرتا ہوا واپس اپنی نشست پر بیٹھ رہا تھا ۔

☆☆☆☆

سفید گاڑی سے اترنے والی وہ لمبے بھورے گرم کوٹ میں ملبوس لڑکی تھی ۔ سنہری اور بھورے رنگ کے ملاپ والے کندھوں تک آتے بال کھلے چھوڑ رکھے تھے ۔ گلے کے گرد لپٹا زرد اون کا سکارف اس کی چمکتی رنگت پر جچ رہا تھا ۔ لمبی گردن پر بیضوی چہرہ اور اس پر سحر پھونک دینے والے نقوش کسی بھی دیکھنے والے کو پل بھر میں اپنی دلکشی کا اسیر کر سکتے تھے ۔

گاڑی کے دروازے کا لاک بند کرنے کے بعد وہ اب کندھے پر سیاہ بیگ کی سٹرپ کو درست کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ۔ یہ اس کی نگاہ کا مرکز بنے گھر کی سرخ اینٹوں والی روش تھی جو گھر کے سامنے کھلے لان میں سے گزر کر گھر کے سفید رنگ کے گیٹ تک لے جاتی تھی ۔

حسین نقوش کے ساتھ لمبا قد کاٹھ اس کے پرکشش سراپے میں اضافے کا باعث بن رہا تھا ۔ سفید دروازے کے سامنے آنے کے بعد اس نے اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک عدد چابی سمیت ہاتھ باہر نکالا ۔

چابی کو دروازے کے لاک میں ڈالا , گھمایا اور اسی لمحے ہلکی سی کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھل گیا ۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ اپنی گردن کے گرد لپٹے گرم مفلر کو اتارتی ہو آگے بڑھ رہی تھی کہ اسی لمحے گھر کی خاموشی میں اٹھنے والی کھٹ پٹ کی آوازوں پر چونک کے رکی ۔

بیرونی دروازے سے آگے کی راہداری گزرنے کے بعد لاؤنج میں دو کمروں کے دروازے کھلتے تھے جس میں سے ایک کمرے میں سے آتی آوازوں پر وہ اب پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ کان کھڑے کیے اس کمرے کی جانب دیکھ رہی تھی ۔

وہ روز شام سات بجے گھر پہنچ جاتی تھی جبکہ نوین کے آنے کا کوئی وقت معین نہیں تھا لیکن وہ کبھی اس سے پہلے گھر نہیں آتا تھا اور اگر آ بھی جاتا تھا تو اس کمرے میں تو ہر گز نہیں جاتا تھا جس سے اس وقت اسے مشکوک آوازیں سنائی دے رہی تھیں ۔

کمرے سے آتی آوازوں سے صاف ظاہر تھا کہ کمرے میں اس وقت کوئی موجود ہے ۔ اس نے خوف سے ارد گرد نگاہ دوڑائی اور لپک کر صوفے کے سامنے رکھے میز پر سے گلدان اٹھایا ۔ عجلت میں مگر بنا آواز پیدا کیے اپنے بوٹ اتارے اور پھر جرابوں سمیت دبے قدم کمرے کی جانب بڑھی ۔ وہ خوف سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ۔ دل کی رفتار خوف کے باعث بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی ۔

کمرے کے دروازے کے سامنے پہنچ کر ہمت جتانے کو اس نے گہری سانس لی اور پھر ادھ کھلے دروازے میں داخل ہوتے ہی برق رفتاری سے نگاہ کمرے کے چاروں اطراف میں دوڑائی اس کا خدشہ سچ ثابت ہوا تھا ۔

وہ نوین ہر گز نہیں تھا جو کوئی بھی تھا ۔ پیٹھ موڑے کمرے کے بیڈ کے پاس کھڑا کسی سوٹ کیس پر جھکا ہوا تھا ۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور کانپتے ہاتھوں سے گلدان اس شخص کے سر پر مارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسی وقت پلٹا اور بے ساختہ جو گلدان وہ اس کے سر پر مارنے والی تھی اس کے ماتھے پر وار کیا ۔

” اوہ خدا ۔ “

اسفند نے تکلیف سے ایک دم سر پر ہاتھ رکھا ۔ اس نے اسفند کے کراہنے کی پرواہ کئے بنا جیسے ہی اگلے وار کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اسفند نے فوراً کلائی تھام لی ۔

” ایک منٹ میری بات سنیں پلیز ۔ “

” ہیلپ ۔۔۔ ہیلپ ۔۔۔ “

اسفند کا کلائی تھامنا تھا کہ وہ خوف سے اور لرز گئی اور دیوانہ وار چلائی ۔ خوف سے متواتر مدد کے لیے پکارتی وہ اب اسفند کے ہاتھ سے اپنی کلائی چھڑوانے کی سعی کر رہی تھی ۔ اسفند اس کی اس حالت پر بوکھلا گیا ۔ نوین اسے صبح ائیر پورٹ سے لے کر گھر چھوڑنے جے بعد خود نکل گیا تھا ۔

سارا دن آرام کرنے کے بعد اب اس کی آنکھ کھلی تھی۔ اپنا بیگ کھولے کھڑا وہ کپڑے نکال رہا تھا جب اچانک وہ وارد ہوئی ۔ اس لڑکی کے حلیے سے اور گھر میں یوں موجودگی سے وہ باخوبی سمجھ گیا کہ وہ نوین کی بیوی ہے لیکن شاید نوین نے اس کی آمد کے بارے میں اسی مطلع نہیں کیا تھا اس لیے وہ گھبرا گئی اور اسے چور سمجھ لیا ۔

” میری بات تو سنیں ۔ “

اسفند نے اس کے متواتر خود پر وار کرتے بازو کو قابو کرتے ہوئے اونچی آواز میں التجا کی لیکن وہ تو جیسے کچھ بھی سننے , سوچنے اور سمجھنے کو تیار نہیں تھی ۔ اسفند نے جھنجلا کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ۔ اس کی آواز ایک دم گھٹ گئی ۔

” بھابھی میں اسفند ہوں ۔ “

اس سے پہلے کہ وہ اس ردعمل پر اور ہڑبڑا جاتی اسفند نے جلدی سے اپنا تعارف کروایا ۔

” اسفند ملک ۔ نوین کا کذن ۔ “

وہ واقعی خاموش ہو گئی تھی ۔ اب آنکھوں میں خوف کی جگہ حیرت نے لے لی تھی ۔ اسفند نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر سے اٹھایا ۔

” مجھے لگتا ہے نوین بھائی نے آپکو میرے بارے میں بتایا نہیں ۔ “

” بھابھی نہیں ۔ میرا نام کنزی ہے ۔ “

ٹر ٹر انگیریزی زبان میں وہ اپنا درست نام بتاتی اب بھی اسفند کو شاکی نگاہوں سے گھور رہی تھی ۔

” اوہ جی جی میں جانتا ہوں آپ کا نام کنزی ہے ۔ دراصل یہ ہمارا رشتہ ہے ۔ آپ میری بھابھی ہیں اور میں آپ کا دیور ہوں ۔ “

اسفند نے مسکراتے ہوئے مزید وضاحت کی جس پر وہ بھنویں سکیڑے اس کا لفظ دہرا گئی ۔

” د۔۔یو۔۔ر “

بمشکل اس نے لفظ کو دہرایا تو اسفند خفیف سا قہقہ لگا گیا ۔ اسفند کے ماتھے پر بنے گھامڑ کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں سے فکر مندی جھلکی ۔

” معافی چاہتی ہوں آپکو زیادہ چوٹ آئی ہے شاید ؟ “

نگاہیں ماتھے کی چوٹ کی طرف اٹھائے ہوئے خفت سے کہتی وہ واقعی اب فکر مند لگ رہی تھی ۔

” ہاں چوٹ تو زیادہ ہے کوئی بات نہیں ۔ آپ نے جان بوجھ کر نہیں کیا یہ سب ۔”

اسفند نے خفت مٹانے کے لیے مسکرا کر جواب دیا ۔

” نہیں میں فرسٹ ایڈ باکس لے کر آتی ہوں ۔ “

وہ پریشان کن لہجے میں کہتی ہوئی سرعت سے پلٹی اور پھر کمرے سے باہر نکل گئی ۔ اس کے جاتے ہی اسفند نے کمرے میں لگے آئینے کی طرف قدم بڑھائے ۔ ماتھے پر بننے والا ابھار اب سرخ ہو رہا تھا ۔

کمرے کا دروازہ پھر سے کھلنے کی آواز پر اسفند نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ فرسٹ ایڈ باکس اٹھائے کھڑی تھی ۔ اسفند نے آگے بڑھ کر باکس پکڑنا چاہا تو وہ باکس پیچھے کرتی ہوئی صوفے کی طرف اشارہ کر گئی ۔

” بیٹھیں میں کر دیتی ہوں ۔ “

اسفند نے تذبذب میں سر ہلایا ۔ وہ میز پر فرسٹ ایڈ باکس رکھے اس پر جھکی اسے کھول رہی تھی ۔ اسفند کے صوفے پر بیٹھنے پر وہ پٹی لیے قریب آئی اور اسے سر صوفے کی پشت سے ٹکانے کا اشارہ کیا ۔

” نوین بھائی کب تک آتے ہیں گھر ؟ “

اپنی جھجک کو مٹانے کے لیے نوین کا پوچھتے ہوئے وہ سر صوفے کی پشت سے ٹکا چکا تھا ۔

” نوین رات کو دیر سے آتا ہے ۔ وہ کیفے کے ساتھ ہوٹل بنانے والا ہے اس لئے مصروف رہتا ہے ۔ “

سنجیدگی سے جواب دیتی وہ اس کے ماتھے پر پٹی کر رہی تھی ۔

” اوکے ۔ “

اسفند نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا وہ پٹی کرنے کے بعد پیچھے ہوئی اور میز پر رکھے فرسٹ ایڈ باکس کو بند کیا ۔

” تم ڈنر کرو گے ؟ “

پلٹ کر اسفند سے سوال کرتی وہ کافی سنجیدہ تھی ۔ اس سے پہلے کے اسفند کوئی جواب دیتا وہ پھر سے گویا ہوئی

” آ جاؤ میں باہر کھانا لگا رہی ہوں ۔ “

فرسٹ ایڈ باکس کو اٹھا کر وہ باہر نکل گئی ۔ نوین کی بات درست تھی وہ بہت اچھی تھی ۔

اسفند نے ہاتھ اٹھا کر ماتھے کو چھوا اور گہری سانس لیتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا ۔ بال بال بچ گیا تھا نہیں تو وہ شاید اسے بے ہوش کرنے کے بعد پولیس کو بلا لیتی ۔

شکر ادا کرتا ہوا وہ اب پھر سے اپنے سوٹ کیس کی طرف بڑھا ۔

☆☆☆☆☆☆

سنہری گاؤن کے ساتھ چاندی رنگ جیولیری اور سرخ بکل والے چوڑی ایڑی والے جوتے پہنے وہ مکمل تیار کھڑی تھی ۔ لانبی پلکوں کے سایے میں بڑی سیاہ آنکھیں سامنے کا منظر کے عکس سے چمک رہی تھیں ۔

سامنے دران شیشے کی دیوار کے پار سوئمنگ پول کے سامنے بنے برآمدے میں فون کان سے لگائے , پینٹ کی ایک جیب میں ہاتھ ڈالے چکر لگاتا ہوا کسی سے باتوں میں مگن تھا ۔

بات کرتے ہوئے وہ کبھی رک جاتا ۔ کبھی مضطرب سا چہرہ اوپر چھت کی طرف اٹھاتا ۔ کبھی لبوں کو آپس میں ملائے کچھ سوچنے لگتا اور پھر کبھی پیشانی کو اپنے ہاتھ سے سہلانے لگتا ۔ پچھلے مسلسل دس منٹ سے وہ یہی سب دیکھ رہی تھی ۔

نگاہ دران پر سے گھمائی اور گھڑی پر جما دی ۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو اس نے رخ موڑا ۔ روزین اندر آنے کی اجازت طلب کر رہی تھی ۔

“آ جائیں روزین ۔ “

آہستگی سے اسے اندر آنے کی اجازت دیتی وہ پوری طرح رخ موڑ کر دروازے کی طرف متوجہ ہوئی جہاں سے روزین اب اندر داخل ہو رہی تھی ۔

” میم سر اسفند پوچھ رہے ہیں آپ لوگ کب نکلیں گے ۔ وہ تقریب کے لیے نکلنے والے ہیں ۔ “

روزین کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے شیشے کے پار باتوں میں مصروف دران کی طرف دیکھا ۔ اور پھر قدم آؤٹ ڈور کی طرف بڑھا دیے ۔ دروازہ جیسے ہی کھولا دران نے اس کی طرف دیکھتے ہی خاموشی اختیار کی اور آبرؤ سوالیہ انداز میں چڑھائے ۔

” باہر سب ویٹ کر رہے ہیں ہمارا ۔ “

” کیوں ؟”

اسی طرح بھنویں چڑھائے پوچھا ۔ جویریہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں ۔

” کیوں کیا مطلب کیا اس کو نہیں پتا کہ سب باہر کیوں انتظار کر رہے ہیں ۔ ایک تو مجھے کارٹون بنا دیا ۔ سنہری جوڑا , سیلور جیولری , سرخ جوتے , اوپر سے یہ بھی بھول گئے کہ کہیں جانا ہے ۔ “

” غالباً ہمیں جانا ہے کہیں شاید اس لیے ۔ روزین انکل اسفند کا پیغام لے کر آئی ہے ۔ “

جویریہ نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا جس پر دران کی نگاہ کمرے میں کھڑی روزین کی طرف گھومی ۔

” ہوں ۔ ان سے کہو وہ لوگ جائیں میں کچھ دیر میں نکلوں گا ۔ “

سپاٹ لہجے میں جواب دے کر پیٹھ پھر سے موڑ لی ۔ جویریہ نے گہری نگاہوں سے پشت کو گھورا اور پھر واپس پلٹ آئی ۔

” روزین انکل سے کہیے کہ ہم کچھ دیر بعد نکلیں گے ۔ وہ لوگ انتظار مت کریں چلے جائیں ۔ “

روزین نے سر اثبات میں ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔ روزین کے جاتے ہی اس نے بیزاری سے دران کی طرف دیکھا ۔

بڑی سی ایڑی والے ان جوتوں میں کھڑے کھڑے پاؤں درد کرنے لگے تھے ۔ دران کی فراغت کا انتظار یوں کھڑے رہ کر کرنا انتہائی بیوقوفی تھی ۔ وہ پاس پڑے کاؤچ پر براجمان ہوئی اور بنا مقصد موبائل پر نگاہ جما دی ۔

اسے یونہی بیٹھے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے جب دران آؤٹ ڈور سے کمرے میں داخل ہوا ۔ دران کو دیکھتے ہی اس نے فوراً موبائل بند کیا اور اس کی طرف سوالیہ دیکھا ۔ انداز ایسا تھا جیسے پوچھ رہی ہو چلیں ۔

دران نے چند قدم آگے بڑھائے اور آ کر اپنی دائیں ہتھیلی اس کے سامنے پھیلا دی ۔ جویریہ نے چونک کر پہلے ہتھیلی اور پھر اس جفا کار کے چہرے کی طرف دیکھا جو گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا سامنے کھڑا تھا اور اس کی جانب ہاتھ بڑھائے ہوئے تھا ۔ وہ کاؤچ پر چہرہ اٹھائے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا

سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

چند سکینڈ کی خاموشی کے بعد ناچاہتے ہوئے بھی گود میں رکھا ہاتھ اٹھایا اور آہستگی سے دران کی کھلی ہتھیلی میں رکھ دیا ۔ یہ لمحہ عجیب تھا یا پھر دران کی آنکھوں سے جھلکتے احساسات عجیب تھے کہ وہ اس کا ہاتھ تھامے سراسیمگی میں اس کے مقابل کھڑی ہوئی ۔

دران نے نرماہٹ سے کھلی ہتھیلی کو بند کیا تو اس کا ہاتھ مضبوط ہاتھ میں چھپ گیا ۔ جویریہ نے حیرت سے اس کی کھلی آنکھوں میں جھانکا ۔

اس کے چہرے پر طواف کرتی دران کی نگاہیں انگنت انکہے جذبوں کو سمیٹے اس کے ہر نقش کو چھو رہی تھیں ۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا ۔ وہ اسے یوں کیوں دیکھ رہا تھا ۔ جیسے کوئی اپنی بہت ہی قیمیتی چیز کو کسی کے حوالے کرتے ہوئے خوفزدہ ہو ۔

جویریہ کی ریڑھ کی ہڈی میں عجیب سی سنسناہٹ دوڑی ۔ کیا کچھ غلط ہونے والا ہے ؟ دل کیا چیخ چیخ کر اس سے پوچھ لے کہ تم میرے ساتھ یہ سب کیوں کر رہے ہو؟ جب چاہتے ہو اپنا بناتے ہو ۔ جب چاہتے ہو آسمان پر بیٹھا دیتے ہو اور جب چاہتے ہو زمین پر پٹخ دیتے ہو ۔

آہ لیکن ایسا کیسے پوچھ لیتی ۔ اگر اس نے کہہ دیا تم وہی ہو جس کو صرف میرے نام کی طلب تھی اور کچھ نہیں چاہیے تھا ۔

نہیں وہ خود اپنی ہی نظروں میں گرنا نہیں چاہتی تھی ۔ خواہشیں تو ویسے بھی رسوا کر دیتی ہیں مگر وہ ان خواہشات کا گلا گھونٹنے میں ماہر تھی ۔

زندگی بہت رخ بدلتی ہے ۔ کچھ رخ خوشگوار ہوتے ہیں اور کچھ بھیانک لیکن کچھ تو بالکل ناقابل یقین ہوتے ہیں ۔ اور ناقابل یقین رخ حسین بھی ہوں تو ددرناک ہوتے ہیں ۔ یہ دیمک کی طرح آپکو کو کھانے لگتے ہیں ۔ اندر سے کھوکھلا اور بنجر کر دیتے ہیں ۔ دران کا محبت کا اظہار کرنا بھی اس کی زندگی میں ایسا ہی ایک ناقابل یقین رخ تھا ۔

” چلیں ۔ “

دران کی آہستہ سی آواز پر اس نے گڑبڑا کر نگاہ اٹھائی ۔ اس کی آنکھوں میں جھانکنا چاہا وہ نگاہیں چرا گیا اور اب اس کا ہاتھ تھامے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ وہ یونہی کسی چوبی بت کی مانند اس کے پیچھے چل رہی تھی ۔

کمرے سے باہر , رہداری , راہداری سے باہر لاؤنج اور لاؤنج سے آگے راہداری وہ بنا اس کی طرف دیکھے بس اس کا ہاتھ تھامے چل رہا تھا ۔

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں​

ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں​

موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی​

ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں​

ہم سے مخفی نہیں کچھ راہگزرِ شوق کا حال​

ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں​

ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور​

ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں​

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے​

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں​

موسموں کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو​

کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں​

☆☆☆☆☆

شیشے کی میز پر بکھرے کاغذات اس کے ہر شک کو سچ ثابت کر گئے تھے ۔ وہ صوفے پر گھٹنے سیمٹ کر بیٹھی گم صم ان کاغذات کو گھور رہی تھی ۔

جیسیکا فرینک بچپن سے لے کر اب تک ایک دردناک , ان چاہی اور ذلت بھری زندگی گزارنے والی لڑکی ۔ ماں کے بطن سے نکلنے سے لے کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے تک ہر چیز کے لیے ہر احساس کے لیے ترستی ہوئی لڑکی ۔

اپنی ہی ماں کی نفرت کا شکار لڑکی جس کے پاس ماں کے سوا کوئی رشتہ بھی نہ ہو اور دنیا میں وہی ماں اس سے سب زیادہ نفرت کرتی ہو ۔ وہ ایک ان چاہی , دھتکاری ہوئی بیٹی تھی ۔ اس کی ماں جس ہسپتال میں زیر علاج تھی وہیں اسے کسی نے زیاتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا ۔ وہ وہاں سے بھاگ نکلی تھی لیکن اس بات سے انجان تھی کہ اس ظلم کی نشانی چند ماہ بعد اس کے ساتھ ایک ان چاہے وجود کو جوڑ دے گی ۔

اس کی پیدائش کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ ایک مسلط ہوئے عذاب کی طرح اپنے ساتھ رکھتی تھی ۔ وہ جیسیکا کو بہت دیر تک بھوکا رکھتی لیکن جب اس کا رونا برداشت سے باہر ہو جاتا تو اسے دودھ دیتی ۔ اسی طرح چند سال گزرے تو جیسیکا ہوش سنبھالنے لگی ۔ ہوش سنبھالتے ہی بہت سی جان لیوا حقیقتیں سامنے آنے لگیں ۔

اس کی ماں بہت خوبصورت مگر زندگی سے بیزار خاتون تھی ۔ وہ ایک کیفے میں ملازمت کرتی تھی ۔ اس کی دیکھ بھال کے لیے اس نے ایک آیا رکھی تھی ۔ وہ سارا دن آیا کے رحم و کرم پر ہوتی اور ماں رات گئے واپس آتی تو کمرے میں بند ہو جاتی ۔

وہ جس بیماری میں مبتلا تھی اور اس کی پیدائش سے پہلے زیر علاج تھی وہ کوئی عام بیماری نہیں تھی ۔ جیسیکا جب سمجھنے اور سوچنے کے قابل ہوئی تو پتا چلا کہ ماں نشے کی لت کا شکار ہے اور دھیرے دھیرے وہ پھر سے نشہ کرنے لگی تھی ۔ جیسیکا چھپ کر اس دیکھتی تو وہ جیسیکا کو پیٹنے لگتی اسے اپنی ساری مشکلوں اور پریشانیوں کی وجہ بتانے لگتی ۔

آہستہ آہستہ اس کی ماں نے اسے ضرورت کا ہر خرچہ دینا بند کر دیا اور اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی ۔ فقط ایک گھر تھا جہاں وہ رہ رہی تھی ۔ آہستہ آہستہ اس کی ماں بالکل بیکار ہو گئی اور نشے نے اسے مکمل اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اب اسے اپنی ماں کبھی کبھار گھر میں دکھنے لگی ۔

وہ پندرہ سال کی تھی جب اس نے اپنی پہلی ملازمت شروع کی ۔ زندگی میں بہت مشکلیں دیکھیں ان گنت اور نہ ختم ہونے والی تکلیفیں لیکن کچھ سالوں پہلے سب کچھ بدل کر عجیب سا ہونے لگا ۔ کوئی ایسا جو اس پر بنا کسی فائدے کے مہربان تھا ۔

اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی ۔ بنا کچھ طلب کیے وہ صرف نواز رہا تھا ۔ اس کے دیے گئے پیسوں سے کتنی مشکلیں ختم ہونے لگی تھی ۔ اس نے ماں کو زبردستی ایک اچھے ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کروا دیا تھا وہ آخری وقت تک جیسیکا کو کوستی ہوئی ہسپتال وین میں بند ہوئی تھی ۔ اب بھی وہ اس سے ملاقات کے لیے جاتی تو وہ ملنے نہیں آتی تھی ۔

وہ اس انجان شخص کی خفیہ مدد سے جہاں بہت خوش تھی وہاں الجھ بھی گئی تھی کیونکہ کوئی اتنے سالوں چپ چاپ کیسے کسی کی ایسے مدد کر سکتا ہے اور پھر اس الجھن کا ایک سرا اس دن کیفے میں ملا جب انل نے اس کا پورا نام لیا ۔

ہاں اس نے اس کا پورا نام لے کر غلطی کی وہ پکڑا گیا ۔ اسے شاید اس بات کی خبر نہیں تھی کہ وہ دن رات اپنے اس مددگار کے بارے میں سوچتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ اس دن انل کے نام لینے پر ہی وہ محتاط ہو گئی تھی ۔

آج اس کا شک درست ثابت ہوا انل ہی وہ شخص تھا جو اسے اتنے سالوں سے پیسے دے رہا تھا ۔ کیا کوئی کسی سے اتنی محبت کر سکتا ہے ۔ وہ مسکرائی اور سامنے رکھے کاغذات کو اٹھا کر نگاہوں کے سامنے کیا ۔

پھر کچھ سوچ کر کاغذ ایک طرف رکھا اور فون اٹھایا انل کا نمبر ملایا ۔ مسلسل فون کی گھنٹی جا رہی تھی لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔

یقیناً وہ لیب پہنچ گیا ہو گا ۔ کچھ دیر فون نہ اٹھانے پر مایوس ہو کر فون کو دوبارہ میز پر رکھا اور مسکراتے ہوئے سر کو صوفے کی پشت سے ٹکا دیا ۔

ایک عجیب انوکھا احساس تھا ۔ کل تک اجنبی لگنے والا انل آج دنیا میں واحد اپنا لگنے لگا تھا ۔ ایسا احساس تھا جیسے برسوں تپتے صحرا میں چلنے کے بعد کوئی سایہ مل گیا ہو ۔ وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے مسکرا رہی تھی ۔

☆☆☆☆☆

“کون ۔۔۔ کون کرے گا پھر ؟ “

نتھن نے آنکھیں سکیڑے استفسار کیا ۔ سر پر پہنی ٹوپی کو الٹے رخ گھمائے وہ پریشان حال دکھنے والے شخص مشہور فلم پروڈیسر نتھن ڈیوڈ تھا جو اس وقت فلم کے سیٹ کی مکمل تیاری کئے اپنے فلم کے ہیرو کے انتظار میں کھڑا تھا ۔

سیم ہالی وڈ کا ایک مہنگا ترین ہیرو جس کو اس نے اپنی ایکشن فلم کے لیے کاسٹ کیا تھا اور وہ لوگ اس فلم کی شوٹ کے لیے اٹلی آئے تھے ۔ آج دوسرا دن تھا اور سیم شراب کے نشے میں دھت ہوٹل میں پڑا تھا اور اسکی فلم کا ہدایت کار اسے عجیب ہی مشورہ دے رہا تھا ۔

زِک اینجل اس کی فلم کا جونیر ہدایت کار تھا لیکن وہ بہت محنتی اور ذہین ہونے کے باعث کم عرصے میں ہی اس کے بہت قریب ہو گیا تھا ۔

زِک نے اسے نہ صرف اپنی فلم کے ہیرو بدل لینے کا مشورہ دیا تھا بلکہ اسے ایک عدد ہیرو یہیں پر ہونے کا خبر بھی دی تھی جس پر وہ اب حیرت ظاہر کرتے ہوئے اس کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔

اس کی اس حیرت پر زک کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری اور بھنویں اچکائے آنکھوں سے ہی سامنے اشارہ کیا ۔ نتھن نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا ۔ سامنے کھڑا خوبرو جوان اس کی فلم کا اسٹنٹ مین تھا جسے زِک نے ہی منتخب کیا تھا ۔ وہ بہت کم عرصے میں انڈسٹری میں دھوم مچا دینے والا ایکشن اسٹنٹ مین تھا ۔ ٹیکنالوجی کی اس جدت میں اس جیسا نڈر اور بے خوف اسٹنٹ مین نایاب تھا ۔

وہ سیاہ لیدر جیکٹ کے نیچے سفید ٹی شرٹ پہنے ایک ہاتھ میں سگریٹ سلگائے ٹانگوں کو کراس صورت گھمائے , گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔

مخصوص انداز میں بال بکھرے ہوئے , آنکھیں تھکی سی چڑھی ہوئی, سخت بے تاثر چہرہ وہی انداز گم صم سب سے الگ اکیلا اور سیٹ پر سب سے پہلے پہنچ جانے والا ۔

اپنی بہت ساری خوبیوں کے باوجود وہ اس ایک سال میں اور بھی بہت سی باتوں کی وجہ سے نمایاں ہو گیا تھا ۔ وہ بہت اکڑ والا تھا ۔ وہ کسی سے گھلنا ملنا پسند نہیں کرتا تھا ۔ انڈسٹری میں اس کا کوئی دوست نہیں تھا ۔ وہ شراب نہیں پیتا تھا ۔ لڑکیوں کے ساتھ نظر نہیں آتا تھا اور بنا مقصد کسی سے بات نہیں کرتا تھا ۔

” درانگ ۔۔” نتھن کی سرگوشی نما آواز ابھری

اس نے زک کی طرف یوں دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا ہو کیا وہ واقعی درانگ کی بات کر رہا تھا ۔ زک اب اس کے یوں حیرت سے دیکھنے پر لب بھینچے اثبات میں سر ہلا رہا تھا ۔

” ارے نہیں یہ تو اسٹنٹ مین ہے اوپر سے اس کا نخرہ ہیرو سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔ کسی سے بھی سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا۔ “

نتھن نے ہاتھ ہوا میں چلاتے ہوئے اس کی بات کی تردید کی اور پھر ایک آبرو اچکائے کچھ دور کھڑے دران ملک کی طرف دیکھا ۔ وہ اب ایک ہاتھ میں سلگتی سگریٹ سے لاپرواہ دوسرے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل اپنے منہ پر الٹائے کھڑا تھا ۔ پانی نا صرف اس کے چہرہ بلکہ بال بھی بھگو گیا تھا , عجیب ہی حرکتیں تھی اس کی ۔ نتھن نے فورا رخ زک کی طرف موڑا

” اُدھر دیکھو پاگل ہے ۔ یہ اسٹنٹ کر سکتا ہے صرف ادکاری اس کے بس کا کام نہیں ” نتھن نے نخوت سے ناک چڑھائی

” مت بھولو یہ ایک ایکشن فلم ہے تمہیں جو کروانا ہے وہ یہ ہیرو سے زیادہ اچھا کرے گا اور جسامت دیکھو اس کی تمہارے ہیرو سے اچھی ہے , موقع دے کے دیکھو چھوڑ سیم کو وہ صرف تمہیں ذلیل کر رہا ہے ۔ “

زک اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا نتھن نے پیشانی پر بل ڈالے اور گھور کر دران کی طرف دیکھا جو اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہا تھا ۔

” شکل ایک طرف رکھو اور اکڑ دیکھو اس کی “

” تو تمھاری فلم کے ہیرو کی اکڑ کیا کم ہے ۔ آج دوسرا دن ہے نشے میں دھت سو رہا ہے ہوٹل میں ۔ اسے یہاں اتنی دور اتنا خرچہ کر کے لائے ہیں اور اس نے صرف ابھی تک دو سین شوٹ کروائے ہیں ۔ یہ کم از کم ایسا کچھ تو نہیں کرتا ہے ۔ وقت پر آتا ہے اپنے کام سے کام رکھتا ہے ۔ “

زِک اس کی انگنت تعریفیں گنوا رہا تھا ۔ لیکن درانگ نامی اس نئے لڑکے کو ایک دم سے اپنی اتنی مہنگی فلم کا ہیرو کاسٹ کر لینا یہ فیصلہ نتھن کے لیے اتنا آسان نہیں تھا ۔

” اچھا سوچتا ہوں ۔ “

” سوچنا نہیں ہے کرنا ہے ۔ سیم تو آج بھی نہیں آیا اس سے ایک سین شوٹ کرواتے ہیں ۔”

” وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن سیم ۔ اس کا کیا کریں گے ۔ وہ ایڈوانس لے چکا ہے ۔ “

” وہ مجھ پر چھوڑ دو سب ۔ اب یہ بتاؤ بلاؤں اسے ؟ ایک سین شوٹ کرواتے ہیں ۔ “

” ہوں بلاؤ “

نتھن نے پرسوچ حامی بھری ۔ زک سر ہلاتا ہوا آگے بڑھا ۔ چند سکینڈ میں ہی وہ دران کے سامنے کھڑا تھا ۔

” کام ہو گیا ہے ۔ اب تمھاری باری ہے ۔ “

دران نے نگاہ اٹھائی اپنے سامنے کھڑے شخص کی طرف دیکھا اور پھر سگریٹ زمین پر پھینک کر اوپر پاؤں رکھ دیا ۔

ہالی وڈ فلم نگری ایک چکا چوند دنیا ۔ پوری دنیا میں ہالی وڈ فلم نگری کا دوسرا کوئی ثانی نہیں ۔ یہ ایک بہت بڑی فلم نگری ہے جس کی اپنی ایک الگ اور بہت بڑی دنیا ہے ۔

اس چمچاتی دنیا کی حسین شکل سب کے سامنے ہے لیکن اس کی بھیانک شکل سب سے چھپی ہوئی اور بہت خوفناک ہے ۔ حالیہ دہائیوں میں موسیقاروں ، اداکاروں اور متاثر کن چیزوں نے سب سے زیادہ مصائب اسی نگری میں پیدا کئے ؟ افیون کی لت۔ نسخہ آکسی کوڈون اور وسوڈین سے لے کر ہیروئن اور فینٹینیل تک ہر چیز نے اس نگری سے جڑے بہت سے لوگوں کی جانیں لیں اور ان گنت اس نگری سے باہر دوسروں کو بھی برباد کردیا ۔ ہالی وڈ میں منشیات کا استعمال وبا کی سطح تک پہنچ گیا ۔

پہلے پہل تو چند باتیں صرف سامنے آئیں کہ مشہور شخصیات نسخے کے ادویہ کے غلط استعمال کو استعمال کرتی ہیں ۔ لیکن چند سالوں میں مارک جیکسن ، پرنس ، اور کرین کوبین جیسے پاپ کلچر کی اموات کے لئے افیونز ذمہ دار ٹھہرائیں گئیں ۔

یہاں کچھ وجوہات ہیں کہ فلم انڈسٹری میں لت غیر مشہور تناسب سے مشہور شخصیات کو متاثر کرنے لگی لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی ۔ ہالی وڈ میں موجود کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس چمک دھمک کے پیچھے ایک کالا دھندا چلا رہے ہیں ۔ ہیروین سمگلنگ اور ان کی ایک بڑے پیمانے پر کاشت ۔

ایف بی این اور امریکہ اپنی تشکیل دی ہوئی اس ہالی وڈ فلم نگری میں منشیات کی یہ بڑھتی ہوئی شرح کی زمہ داری مختلف ممالک پر عائد کی جس میں ریڈ چائنہ کے ساتھ پاکستان کا نام بھی لیا گیا ۔ ان کے الزام کے مطابق چائنہ اور پاکستان میں بہت بڑی مقدار میں نہ صرف منشیات کی کاشت ہوتی ہے بلکہ یہاں تک منتقل کی جاتی ہے ۔

ان سب باتوں کے پیش نظر پاکستان کی خفیہ ایجینسی میں ایک مکمل اور جاندار منصوبہ تیار کیا گیا جس میں پہلی دفعہ اے ۔ این ۔ ایف فورس نے اپنی تمام فرائض سے ہٹ کر اپنی ہی فورس کے چند جوانوں کو منشیات کے اس لزام کے پیچھے موجود حقائق کی مطلق معلومات اور تحقیق کے طور پر آگے بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ مشن اس چمکتی بھڑکتی دنیا میں چھپے ان بھیڑیوں کی کھوج تھی جو اس چکا چوند کی آڑ میں یہ کالا دھندا بھی کر رہا تھا ۔ وہ نہ صرف فلم نگری میں موجود لوگوں کو ہی اس کا شکار کر رہے تھے بلکہ اس فلم بینی کی آڑ میں مختلف ممالک میں منشیات کی سمگلنگ بھی سر انجام دے رہے تھے ۔

فلم نگری میں موجود اس مافیا کے پیچھے پاکستان کا نام جڑ جانا خود پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ تھا کیونکہ ہالی وڈ کی دیکھا دیکھی انڈیا کی فلم نگری بالی وڈ کے مشہور ادکار ابھینات سنگھ کی موت کی وجہ بھی وہاں کی این سی بی نے پاکستان کے سر دھر دی تھی ۔

این سی بی کی تحقیق کے مطابق بھارت ہر روز تقریبا ایک ٹن ہیروئن کھاتا ہے جو پاکستان سے آتی ہے ۔ اس کے ساتھ ایسوسی ایٹ ایجنسیوں نے بھی این سی بی کو پنجاب (پاکستان سے) یا گجرات سے سمندری راستے کے ذریعے آنے والے افغان ہیروئن کے لئے ہندوستان میں پروسیسنگ یونٹ کے امکان سے آگاہ کیا ہے۔ ان کے اس گندے الزام کے مطابق پاکستان کی گہری ریاست دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے منشیات کے پیسوں کو ہمیشہ استعمال کرتی رہی ہے۔

پاکستان ان سب الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ایک خفیہ تحقیقات ٹیم تشکیل دی جو فلم نگری کے اس مافیا کے پیچھے موجود اصل جڑ کو کھوج نکالنا چاہتی ہے جو نہ صرف دوسرے ممالک کی فلم نگری کے جوانوں کو تباہ کر رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ پاکستان پر اس کی کاشت اور سپلائی کا الزام عائد کر رہی ہے ۔

اسی تحقیقات ٹیم کا اہم رکن ایک سال میں ہی اس چمچاتی دنیا میں اسٹنٹ مین سے ہیرو تک پہنچ گیا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *