Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 14)

Basil by Huma Waqas

کچھ دیر پہلے دران کی مسلسل آتی فون کال کی گھنٹی کے باعث وہ نیند سے جاگا تھا ۔ دران نے پیغام میں کوئی ویڈیو لنک بھیجے تھے ۔ جن کو دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا ۔

اس کے پیغام میں کچھ اور تفصیل بھی تھی جس میں وہ اس لڑکی کو بچانے کے بارے میں اسے کچھ بتا رہا تھا ۔ انل نے اس تفصیل پر پھٹی پھٹی آنکھوں سے سرسری نگاہ دوڑائی ۔ وہ ہر بار کی طرح معاملے کی تہہ میں گھستا چلا جا رہا تھا ۔ اب بھی اس معاملے کے دلدل میں ٹانگوں سے آگے دھڑ تک پیوست ہونے کے بعد وہ اسے سب بتا رہا تھا ۔

پیغام سکرین بند کیے وہ دران کو فون ملا چکا تھا ۔ فون کی گھنٹی کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں خوف کا سایہ بھی ڈیرے ڈال رہا تھا ۔ اس طرح کے معاملوں میں دران اس کے ساتھ ہمیشہ سے یہی سب کرتا تھا ۔ اسے بنا بتائے سارے کام کرتا تھا ۔ وہ جانتا تھا انل اسے یہ سب کبھی نہیں کرنے دے گا ۔ غصے سے نہ صرف انل کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا بلکہ ایک انجانے سے خوف کے باعث وہ بار بار پیشانی پر آتے ٹھنڈے پسینے صاف کر رہا تھا ۔ دوسری دفعہ کی فون بل پر وہ فون اٹھا چکا تھا ۔ اس کے فون اٹھاتے ہی انل اس پر برس پڑا۔

” دران یہ کیا ہے سب جو میں دیکھ رہا ہوں “

وہ بیڈ پر بیٹھا تھا اب اس کے فون اٹھانے پر بے چینی سے اٹھ کر کھڑا ہوا ۔

” یہی ہے سب جو میں نے دکھایا ۔ اس لڑکی کو مدد چاہیے “

دران نے کن اکھیوں سے کچھ دور بازؤں کو رگڑرتی جوی کی طرف دیکھا ۔ وہ لوگ اب بھی ٹیرس پر ہی موجود تھے ۔ جوی اب کچھ دوری پر کرسی پر بیٹھی تھی جبکہ وہ جھولے میں بیٹھا تھا ۔ یہاں رات میں دن جیسی چہل پہل تھی اور دن میں رات جیسی خاموشی تھی ۔ سفیدی پھیل گئی تھی ۔ ہر چیز روشن تھی ۔

دونوں پاؤں فرش پر جوڑے وہ جھولے کو اپنے وزن سے جھولنے سے روکے ہوئے تھا ۔ کین کے پائپ سے تیار کیا ہوا جھولا آدھے انڈے کی شکل کا تھا جس کے اوپری سرے کو موٹی زنجیروں کی مدد سے چھت میں پیوست کیا گیا تھا ۔ فون کے دوسری طرف موجود انل اس پر مسلسل چیخ رہا تھا ۔ ہر مشکل میں وہ اس کے ماں باپ کا کردار باخوبی نبھاتا تھا ۔

” تم ۔۔۔ پاگل ہو آج میں ساری دنیا کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کرتا ہوں ۔ تم پاگل ہو ۔ کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی ایک انجان لڑکی کے لیے ۔ کیا پتا وہ جھوٹ بول رہی ہو ۔ ان جیسی ہزاروں ایسی ہوتی ہیں کیا سب کو بچا سکتے ہیں ہم ؟”

انل ایک ایک لفظ غصے میں چباتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔ اپنے کمرے کے وسط میں کھڑا وہ غصے سے لال انگارا ہو رہا تھا ۔

” نہیں سب کو نہیں اسے بچانا ہے “

بڑی تحمل مزاجی سے جواب آیا ۔ جوی اس کی آواز سننے کے لیے کانوں کو کھڑا کئے پوری طرح چوکنی ہوئئ تھی ۔ دران کی اس بات پر جیسے روح نے اس شخص کو سر پر بیٹھا لیا ۔ دل میں تو وہ رہتا ہی تھا ۔ اب اس کا مقام اس سے بھی اونچا تھا ۔

” کیوں بھئ یہ کون ہے تمھاری , پھپھو کی ۔۔۔”

انل کا پارہ بری طرح چڑھ چکا تھا ۔

” جوی ہے یہ “

انل کی بات کو کاٹتے ہوئے بڑے آرام سے جواب دیا ۔دوسری طرف یک لخت خاموشی چھائی ۔

ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔۔ سکینڈ

” جوی!!!!! کون جو۔۔۔ی۔۔۔ ” تحیر زدہ لہجہ میں سوال کیا ۔ انل نے بھنویں اکھٹی کیں دران کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔ ذہن نے گھوڑے دوڑائے ۔ ایک ہی تو جوی تھی پوری دنیا میں جسے وہ جانتا تھا ۔ کچھ دیر کی توقف کے بعد ہی وہ جوی کو یاد کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔

” جوی جان ۔۔۔ وہ جووت کی بہن ؟ “

نیم مردہ سے لہجے میں سوال کیا حالانکہ یہ جواب تھا ۔ چھت کی سیڑھیوں میں کھڑی لڑکی جو بے چینی سے دران کا پوچھا کرتی تھی ۔ ذہن کے پردوں پر ماضی کے چند لمحے تیزی سے سرکے

” ہاں وہی جس نے مجھے چھت سے گرنے سے بچایا تھا “

دران نے مزید تفصیل سے آگاہ کیا ۔ وہ اب جھولے پر سے اٹھ چکا تھا ۔ جھولا اس کے عقب میں آہستہ آہستہ جھول رہا تھا ۔

جوی نے حیرت سے دران کی طرف دیکھا ایسا کون تھا جسے وہ اس کا نام بتا کر شناخت کرنے پر چھوڑ رہا تھا ۔

“جانتا ہوں اسے میں مگر۔۔۔ وہ یہاں اور ایسے ۔۔۔۔ کیسے ؟ “

انل نے پریشان سے لہجے میں استفسار کیا ۔ الجھن بڑھتی جا رہی تھی ۔

” بہت لمبی کہانی ہے اسی سے سن لینا ۔ فلحال مجھے تمھاری مدد چاہیے ” دران نے ریلنگ پر ہاتھ دھرے تھوڑا سا آگے جھکتے ہوئے کہا ۔ اچٹتی نگاہ لان کے سوئمنگ پول سے آگے ہوٹل کی بیرونی دیوار سے ٹکرا کر واپس پلٹی ۔

” تمہیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ لوگ جوی کا کتنا دھیان رکھے ہوئے ہیں ہوٹل کے باہر سیلور ۔۔۔؟ “

دران نے بات کو روک کر جسم کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے جوی کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔ گاڑی کا رنگ سیلور ہی بتایا تھا جوی نے وہ اس بات کی تصدیق چاہ رہا تھا ۔ جوی جو اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے اس کی باتوں پر کان کھڑے کیے ہوئے تھی فوارً اثبات میں سر ہلایا ۔

” ہاں ۔ں۔ں۔ں ہوٹل کے باہر سلور کلر کی گاڑی ہے ۔ اس میں دو لڑکے دیکھو وہ وہاں ہیں؟ کیا وہ نگرانی کر رہے ہیں ؟ “

انگشت انگلی کو لبوں پر دھر کر حکم صادر کیا ۔ پھر فون کو کان اور کندھے کے بیچ پھنسا کر جیب سے سگریٹ کیس نکالا ۔

” ہم اسے یہاں سے لے کر بھاگ رہے ہیں کیا ؟ “

انل نے اچھنبے سے سوال کیا ۔ پریشانی سے اپنے کمرے میں موجود میز کی طرف قدم بڑھائے ۔

” نہیں تو بھاگنا کیوں ہے “

وہی اطمینان بھرا لہجہ ۔ ایک سگریٹ انگلیوں کی پوروں میں دبا کیس سے باہر آ چکا تھا ۔ اور اب لبوں کے درمیان میں جکڑا ہوا تھا ۔

” تو اور کیا کر رہے ہیں پھر ؟ وہ لوگ خطرناک ہیں ۔ یہ ان کی لڑکی ہے “

انل پھر سے برہم ہوا ۔ میز پر پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا ۔ گلا خشک ہونے لگا تھا ۔ گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا ۔

” کس نے کہا یہ ان کی لڑکی ہے ؟ “

ڈھیٹ پن کی انتہا تھی ۔ لائٹر سگریٹ کو شعلہ دے رہا تھا ۔ اور پھر سگریٹ جلنے لگا۔ بھنوں کے ساتھ آنکھ کی پتلیاں بھی لمحہ بھر کو سکڑیں جن میں رتجگے کی وجہ سے ہلکی سی لالی نمایاں تھی ۔

” مطلب ؟ “

انل نے آبرؤ اچکائے ۔ خالی گلاس واپس میز پر رکھا ۔

” کیا وہ یہ سب پرؤو (prove) کرنے آئیں گے کہ یہ ان کی لڑکی ہے ؟ کبھی نہیں وہ چھپ کر یہ جنگ لڑیں گے “

بڑے آرام سے جواب دیا ۔ فون کو بائیں ہاتھ سے کان کو لگایا اور دائیں ہاتھ میں سگریٹ کو انگلیوں میں دبایا ۔

” وہ ایسا ہی کریں گے لیکن وہ اسے چھوڑیں گے بھی نہیں ۔ دران یہ بہت مشکل ہے ۔ مجھے اس دن سے کھٹک رہا تھا کہ تم یوں کیوں سب کرتے جا رہے ہو ۔ دیکھو ابھی بھی میں کہہ رہا ہوں اسے چپ چاپ پولیس کے حوالے کرتے ہیں ۔ دیٹس اٹ “

انل نے ہوا میں ہاتھ سے لکیر کھینچی ۔ جیسے کوئی پتھر پر لکیر کھینچ دے ۔ دوسری طرف دران کا کھوکھلا مگر طنزیہ سا قہقہ گونجا ۔

” ہاں پولیس کے حوالے کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ کسی نہ کسی طرح اسے وہاں سے اٹھا لیں ۔ یہ مدد تو نہ ہوئی “

دران اب اپنے ارداے سے بلکل پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا ۔ سگریٹ کا دھواں پل بھر کو اس کے چہرے کے آگے منڈلاتا تھا ۔ پھر ہوا میں گھل کر چھٹ جاتا ۔ انل نے گہری سانس خارج کی ۔ جیسے کوئی ہتھیار پھینک دے ۔

” تو تم کیا اسے اپنے ساتھ لے کر جاؤ گے ؟ “

” نہیں پاکستان پہنچانا ہے اسے “

پر عزم لہجہ ۔ ۔۔۔بے خوف آنکھیں۔۔۔ مضبوط ارادے ۔۔۔ جوی نے چونک کر نگاہ اس کے چہرے پر ٹکا دی ۔ وہ کیا تھا ۔ تو آج سمجھ آنے لگی تھی ۔ وہ اس کی زندگی میں نہ ہو کر بھی کیوں ہر پل تھا ۔ اس کی ایک ملاقات کیوں اس کے ہر رشتے پر بھاری ہو گئی تھی ۔ وہ اس کی زندگی میں ایک اہم حصہ تھا ۔ اس کا لاشعور بہت پہلے اسے پہچان چکا تھا ۔ یہی وجہ تھی وہ اور اس کا دل اسی طرف کھنچتا تھا ۔ اس کی روح اس کے لیے تڑپتی تھی ۔

سامنے اس ٹھٹھرتے ٹیرس کی ریلنگ سے ٹیک لگائے ۔ سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے بناتا وہ شخص آج پھر سے اس کی رگ و پے میں سرائیت کرنے لگا تھا ۔

وہ سچ جسے اتنے عرصے سے وہ جھٹلاتی رہی تھی ۔ دل آج سر خم کئے اسے تسلیم کر رہا تھا ۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی ۔ بے پناہ محبت ۔ روح کی گہرائیوں سے کی جانے والی پاکیزہ محبت جس میں محبوب کی ایک جھلک کی طلب ہی کافی ہوتی ہے ۔

معرفت کی آخری حد کو پرکھتی محبت ۔۔ مجازی سے حقیقی کے آگے جھکنے پر مجبور کرتی محبت ۔ ۔۔۔عشق کے کناروں کو چھوتی محبت ۔۔۔ تخیل سے حقیقت تک کا سفر کرتی محبت ۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی۔ نگاہیں اس کے ہر نقش کو احترام سے چھو کر واپس پلٹیں ۔

وہ اسے لی تاؤ کے متعلق ساری معلومات دے چکی تھی ۔ گو کہ اُس وقت اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی ۔ مگر وہ لی تاؤ کے گاؤں کا نام جانتی تھی ۔ وہ اب فون کے دوسری طرف موجود نفس کو اسی گاؤں کے متعلق بتا رہا تھا۔

” فلحال ہمیں اس لڑکی کے ساتھ لاویا جانا ہے ابھی ۔ ایک آدمی سے اس کا پاسپورٹ لینا ہے ۔ تم بس یہ دیکھو باہر جا کر کہ وہ دونوں لڑکے کہاں ہیں اس وقت ؟ “

وہ اپنی آگے کی مکمل پلیننگ اُسے ایک ہی سانس میں بتا گیا ۔ انل نے لب بھینچے بولنے کے لیے کچھ نہیں رہا تھا ۔ دران کی طرف سے فون بند ہو گیا تھا ۔

☆☆☆☆☆

ملک ہاؤس میں آج چہل پہل معمول سے ہٹ کر تھی ۔ عصر کے بعد کا وقت تھا ۔ پورے گھر میں بہت سے لوگوں کی آوازوں کا بے ہنگم شور برپا تھا ۔ طلعت کی شادی کے بعد اب جا کر گھر میں رونق لگی تھی ۔ عصمت کی بیٹی فائقہ ابھی سولہ برس کی ہوئی تھی ۔ لیکن رشتہ اچھا مل جانے کے باعث اس کی نسبت طے کر دی گئ تھی ۔ بظاہر تو اس تقریب میں قریبی رشتہ دراوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا ۔ لیکن پھر بھی گھر بھر میں دھما چوکڑی جیسا سماں تھا ۔

فائقہ کے سسرال والے خاصے دولت مند تھے ۔ اس لیے تقریب بھی ان کے شان شایان رکھی گئی تھی ۔ عصمت نے تو ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کہیں تقریب باہر ہوٹل میں رکھ دی جائے لیکن اسفند اور یاور نے ملک ہاؤس کے لان کو ہی قابل قبول حالت تک سجا دیا تھا ۔

چھوٹے سے لان کے وسط میں سٹیج بنایا گیا تھا ۔ اور اس کے سامنے مہمانوں کے لیے کرسیاں لگائی جا رہی تھیں ۔ دران سٹیج کے آگے, بکھرے بالوں اور ملگجے حلیے میں کرسیاں لگوا رہا تھا ۔ سبز اور سیاہ رنگ کی چیک دار شرٹ کے نیچے گھسی سی نیلی جینز میں ملبوس وہ سولہ سالہ دران آج صبح سے گھر کے نا ختم ہونے والے مختلف کاموں میں جتا تھا ۔

گھر میں کسی کو خیال تک نہ تھا کہ اس کے سالانہ امتحانات ہیں ۔ ہوتا بھی کیسے گھر میں کسی کو ڈھنگ سے یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اب وہ دسویں جماعت میں ہے تو اس کے امتحانات کا خاک پتہ ہونا تھا۔

لان کی گھاس کی کٹائی کل شام کو کر دی گئ تھی ۔ اب کرسیوں کی صاف صفائی کرنے کے بعد ان کو قطاردر قطار لگایا جا رہا تھا ۔

” دران بات سنو ” سونیا نے پورچ سے آگے آتے ہوئے اسے ہانک لگائی ۔ نیلے رنگ کے بھاری بھرکم جوڑے کو سنبھالتی وہ اب پورچ سے آگے لان کے پاس آ رہی تھی ۔

دران سجاوٹ والوں سے اب سٹیج کے پیچھے پھولوں کی سجاوٹ کروانے میں مگن تھا جب عقب سے سونی کی آواز پر پلٹا ۔ وہ اسے پکارا کر آگے آ رہی تھی ۔ ہاتھ میں سیاہ رنگ کا کوئی شاپر پکڑا رکھا تھا ۔ ویسے تو وہ گھر بھر کا ملازم ہی تھا لیکن سونیا تو اس پر اپنا الگ ہی رعب سمجھتی تھی ۔

دران کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ شاپر سے کچھ باہر نکال رہی تھی ۔ دران بلکل اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا نگاہ بے ساختہ اس کے ہاتھوں پر گئی ۔ سونی کے ہاتھ میں تہہ شدہ سیاہ ڈریس پینٹ اور سفید شرٹ تھی ۔ شرٹ کو اچھی طرح استری کر کے پرانی سے نئی بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی ۔

” یہ جوڑا رکھ لو آج شام پہننے کے لیے “

شاپر سمیت اس نے پینٹ شرٹ دران کی طرف بڑھائی ۔ دران نے لب بھینچے نگاہ جیسے ہی جوڑے پر ڈالی وہ فوراً مصنوعی مسکان سجاتی تیزی سے گویا ہوئی ۔

” احمد کا ہے اس نے بس کوئی ایک دفعہ ہی پہنا تھا ۔ اتنا پرانا تو نہیں ہے ” خجل لہجے میں وضاحت دی ۔

احمد سونیا اور روبی کا بھتیجا تھا اور دران کا ہم عمر تھا ۔ یاور نے بظاہر تو دران کو گود نہیں لیا تھا ۔ لیکن اس کی جاب میں ترقی ہونے کے باعث دران کے کپڑوں جوتوں کا خرچ وہ اٹھاتا تھا ۔ اب بھی فائقہ کی نسبت کی تقریب کے لیے اس نے سونیا کو راہب اور سبرینا کے ساتھ ساتھ دران کے نئے جوڑے کے پیسے بھی دیے تھے ۔ لیکن وہ ہر دفعہ کی طرح تقریب پر بھی اپنے بھتیجے کا ہی اترا ہوا جوڑا دران کے لیے اٹھا لائی تھی ۔

دران نے جوڑے اور شاپر کو تھاما ۔ اور خاموشی سے سر جھکائے پلٹا ۔

“سنو ۔۔۔”

عقب سے سونیا نے پھر سے پکارا ۔ اس سے پہلے کے وہ پلٹتا سونیا خود ہی آنکھیں گھماتی اس کے بلکل سامنے آ گئی تھی ۔

” یاور تم سے پوچھیں تو یہی بتانا تم ساتھ گئے تھے اور یہ اپنی پسند سے لیا ہے “

دران کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ اسے ہر بار کی طرح یاور سے جھوٹ بولنے کی تاکید کر رہی تھی ۔ دران نے نگاہ اٹھائی اور پھر سے اسی طرح خاموشی سے قدم آگے بڑھائے ۔

” منہ سے کبھی کچھ پھوٹ دیا کرو بھئ”

سونیا نے اس کا کندھا جھنجوڑ کر اسے روکا تھا ۔ دران جو اس کے یوں جھنجوڑنے سے ہلکا سا مڑا تھا جواب دینے کے بجائے سر اور جھکا لیا ۔ پتہ نہیں کیوں مگر سونیا کی عزت کرنے کی دو وجوہات تھیں ۔ یاور اور سبرینا ۔ سبرینا کو وہ اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح چاہتا تھا ۔ بچپن میں وہ زیادہ طر اسے سنبھالتا تھا اور پھر وہ تھی بھی اتنی پیاری کہ اس کی خاطر وہ سونیا کی ہر زیاتی برداشت کر جاتا تھا ۔ یاور جتنی چاہت اس پر لٹاتا تھا ۔ وہ جواب میں اتنا ہی سبرینا کا دھیان رکھتا تھا ۔

” کیا کہو گے یاور سے بتاؤ مجھے ” سونیا تیکھے لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔ دران نے ضبط سے لب بھینچے اور پھر منہ کھولا ۔

” وہی جو آپ نے کہا “

آہستگی سے جواب دیا اور فوارا لب اسی طرح ایک دوسرے میں پیوست کیے ۔

” ارے بھئ میں نے کیا کہا منہ سے بول کر بتاؤ “

سونیا نے جھنجلا کر ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ دران نے بمشکل لب کھولے ۔ جبکہ ہاتھوں کی گرفت شاپر پر بڑھ کر ضبط کی عکاسی کر رہی تھی ۔

” آپ ساتھ لے گئیں تھیں ۔ میں نے اپنی پسند سے لیا ہے یہ جوڑا ” دران نے لفظ با لفظ اس کا کہا جملہ دہرا دیا ۔

” ہوں شاباش ۔۔اچھا یہ اپنا جوڑا استری کرو تو ساتھ سبرینا اور راہب کے بھی جوڑے استری کر دینا۔ کمرے میں بیڈ پر پڑے ہیں “

مطلبی مسکان سجاتی وہ اسے ایک اور حکم صادر کر گئی لیکن وہ جانتا تھا سبرینا اسے کبھی کپڑے استری نہیں کرنے دے گی بلکہ اس کے بھی کر کے دے گی ۔ اس لیے سر اثبات میں ہلا دیا ۔ شاپر کو تھامے وہ سونیا کے جانے کے بعد پھر سے لان کی طرف بڑھا جب پیچھے سے ایک بار پھر سے آواز پڑی ۔ مگر اب کی بار آواز سونیا کی نہیں شازیہ کی تھی ۔

” رکو دران ادھر آؤ ” شازیہ ارد گرد دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔

قریب آتے ہی رازدانہ انداز میں کندھا پکڑ کر پاس ہوئی ۔ وہ اپنی پوری فیمیلی سمیت کل رات ہی پنجاب سے کراچی پہنچی تھی ۔

” میں اور تمھارے پھپھا اس دفعہ پھر سے اسفی بھائی سے تمہیں ساتھ لے جانے کی بات کرنے والے ہیں “

رازدانہ انداز میں وہ لگی لپٹی کے بجائے سیدھی اپنی بات پر آئی تھی ۔ دران نے ہر بار کی طرح اس کے چہرے کو غور سے دیکھا ۔

” دیکھو تم اب بڑے ہو گئے ہو ۔ سمجھدار ہو اپنا اچھا برا جانتے ہو ۔ یہ سب تمھارے اپنے , تمھارے سگے نہیں ہیں ۔ میں تمھاری سگی پھپھو ہوں۔ نوین بھائی کی سگی بہن۔ اصل میں تو تمہیں میرے پاس ہونا چاہیے میرے گھر “

نرمی سے دران کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ ہر سال کی کہی ہوئی باتیں دہرا رہی تھیں ۔

دران کا ذہن اس کے سگے ہونے کی کبھی تصدیق نہیں کرتا تھا اور آج بھی شازیہ کو لے کر اس کے احساسات ایسے ہی تھے ۔ وہ اس کی سگی نہیں تھی ۔ وہ دران کے ذہن کے احساسات سے یکسر انجان اپنی ہی کہے جا رہی تھی ۔

” بس جب ہم تمہیں یہاں سے لے جانے کی بات کریں تم سب کے سامنے اپنی جائیداد کی بات کر لینا ۔ یہ کہ میرا حصہ میری پھپھو کے نام کریں اور اب میں ان کے ساتھ ان کے گھر میں رہوں گا “

اصل بات کرتے ہوئے وہ اسے پچکار رہی تھیں ۔ نہیں کسی کو فکر تھی اس کے مستقبل کی۔ نہیں فکر تھی اس کی ذہنی حالت کی ۔ فکر تھی تو بس نوین کی جائیداد کی جو اس کے نام ہونی تھی ۔

” سمجھ گئے نہ کیا کہہ رہی ہوں میں “

وہ دران کی ٹھوڑی تھامے محبت سے پوچھ رہی تھی۔ دران نے آہستگی سے سر کو اثبات میں ہلایا ۔

” ایسے نہیں بھئ بول کے بتاؤ کیا کہو گے اسفی بھائی سے ” شازیہ نے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا ۔ دوسری طرف خاموشی تھی

ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین سکینڈ ۔۔۔۔ جانتا تھا وہ ایسے جان چھوڑنے والی نہیں ہیں ۔

” یہی کہوں گا کہ میری جائیداد شازیہ پھپھو کے نام کریں “

دران نے جان چھڑانے کے لیے ایک ربورٹ کی مانند ان کی کہی ہوئی بات دہرائی ۔ سپاٹ چہرہ جبکہ جبڑے سختی سے باہر کو ابھر رہے تھے ۔

” ہائے صدقے میں واری ۔ میرے ویر کی آخری نشانی ہے تو۔ میں تجھے اچھے کالج میں پڑھاؤں گی ۔ اب دیکھتی ہوں کہ کیسے اسفی بھائی تمہیں روکتے ہیں ۔ “

اس بات پر تو وہ نہال ہوتی ہوئی اس کی پیشانی چوم گئی تھیں۔ دران کو ان سب کے اس ناٹک سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔

نوین کی جائیداد کی خاطر وہ بچپن سے ہی گھن چکر بنا ہوا تھا ۔ اب تو اسے اس سب کے لالچ کی عادت ہو گئی تھی ۔ شازیہ کی جھوٹی محبت سے لاپرواہی برتتے ہوئے اس نے نگاہ گھڑی پر اٹھائی ۔ رات کو اسے انل کی طرف جانا تھا ۔ صبح پیپر تھا اور اس نے ایک لفظ نہیں پڑھا تھا ۔ اب انل کے ساتھ مل کر پڑھنا تھا ۔ لیکن اس کا جانا تقریب کے بعد ہی ممکن ہو سکتا تھا ۔ شازیہ آنکھوں میں فتح لیے جا چکی تھی اور وہ شاپر ایک طرف کرسی پر پھینک کر پھر سے کاموں میں جت گیا تھا ۔

انل کے ساتھ دوستی کو جتنے سال زیادہ ہو رہے تھے ۔ دوستی اتنی ہی گہری ہوتی جا رہی تھی ۔ اُس کی خاطر توصیف سے ٹکر لینے کے دن سے لے کر آج تک وہ سایے کی طرح دران کے ہمراہ تھا ۔ دوسرے لڑکوں کی طرح وہ اس کی عجیب عادتوں سے گھبرا کر دور نہیں ہوا تھا بلکہ اور قریب آ گیا تھا ۔

انل ایک بہت ہی شریف , تحمل مزاج اور محبت کرنے والا لڑکا تھا ۔ دران کو کبھی کبھی محسوس ہوتا کہ جب سے وہ زندگی میں آیا ہے اسے بہت سے رشتوں کی کمی شدت سے محسوس ہونا کم ہو گئی ہے ۔ وہ ایک ہی وقت میں اس کے بہت سے رشتوں کے احساسات سے اسے آشنا کرتا تھا ۔ دوست , بھائی , ماں , باپ , محسن , غمگسار وہ اس کے لیے سب تھا ۔ ایسا صرف وہ انل کے لیے نہیں بلکہ انل بھی اس کے لیے یہی سب احساسات رکھتا تھا ۔ دران کی آنکھ کا ایک اشارہ ملتے ہی وہ سب کام چھوڑ دیتا تھا ۔ ہر وقت اس کے چہرے پر ہلکی سی ہنسی لانے کی کوشش میں رہتا تھا ۔ وہ چپ بیٹھا ہوتا تو گھنٹوں اس کے ساتھ چپ بیٹھا رہتا ۔ اس کے غصے کو رام کرنے سے لے کر اس کو سمجھانے اور پھر اس کے ہر جھگڑے میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا تھا ۔ دران غلط کرے یا سہی وہ کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

شھنگائی میں دوپہر کا ایک بج رہا تھا ۔ ہوا عجیب خنکی اور بھاری پن لیے ہوئی تھی ۔ سورج بادلوں کی اؤٹ میں چھپ گیا تھا ۔ شھنگائی کی عمارتوں اور ارد گرد جگہوں میں گھومتے لوگ آج باقی دنوں کی نسبت کم نظر آ رہے تھے ۔

شھنگائی کی سرد سی یہ دوپہر شیون , ہاروی اور بروس کے لیے بہت بھاری ثابت ہوئی تھی ۔ ان کے جاگتے ہی مصیبت کا پہاڑ ان کا منتظر تھا ۔ جو ان کے سر پر آن گرا ۔

فلم سٹار درانگ نا صرف اس لڑکی کے ساتھ ہوٹل سے غائب تھا بلکہ پوری دنیا کے سامنے اسے پرپوز کر کے میڈیا میں بھی تہلکہ مچا گیا تھا۔ میڈیا والے مینگولے کے باہر پاگلوں کی طرح جمع تھے اور وہ جناب صبح چھ بجے ہی ہوٹل چھوڑ چکے تھے ۔

شیون اور اپنی مارکیٹ کی لڑکی کو یوں مفت کا مال سمجھ کر لے اڑنے والے کو معاف کر دے یہ ممکن نہیں تھا ۔ مینگولہ کے ایک کمرے میں اس وقت وہ سیاہ فر والے گرم کورٹ میں ملبوس ہاروی اور بروس کے سامنے برہم کھڑا تھا ۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ معاملہ اتنی سنگینی اختیار کر جائے گا ۔ نہیں تو وہ کبھی بھی بروس کو جوی درانگ کے پاس بھیجنے کا مشورہ نہ دیتا ۔

” مجھے ہر حال میں وہ لڑکی چاہیے تم دونوں یہ کان کھول کر سن لو ۔ “

انگلی کو ہوا میں سختی سے معلق کیے وہ باری باری بروس اور ہاروی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے انہیں خبردار کر رہا تھا ۔ بروس نے بمشکل جھکی گردن اٹھائی ۔

” دیکھو غصہ مت کرو ۔ جتنی غلطی ہماری ہے اس سے کہیں زیادہ غطی تمھارے بندوں کی ہے ۔ یہ دونوں کیا سو رہے تھے وہ کیسے ہوٹل سے لڑکی بھگا کر لے گیا “

بروس نے بڑی چالاکی سے ساری بازی اس پر الٹانے کی کوشش کی ۔ اصل چھکے تو ہاروی اور بروس کے چھوٹے تھے ۔ دران سے پنگا لے کر ان کو منہ کی کھانی پڑی ۔ وہ نہ تو اس کا امیج گرانے میں کامیاب ہو سکے تھے اور نہ ہی اس کی سو کالڈ اکڑ ختم کر سکے تھے ۔ الٹا وہ انہیں حیرت زدہ کے ساتھ ساتھ پریشان کر گیا تھا ۔

وہ ایک تیر سے دو شکار کر گیا ۔ اس لڑکی کو پرپوز کرنے کا ڈرامہ رچا کر اپنے امیج کو بچا گیا ساتھ مفت میں اس لڑکی کو بھی لے اڑا ۔

پریشانی ان کو اپنا منصوبہ ناکام ہونے کی تھی اور حیرت یہ کہ درانگ آخر اس لڑکی کو کیوں لے گیا یہاں سے ۔

” میں کچھ نہیں جانتا ۔ وہ لڑکی چاہیے مجھے ہر حال میں ” شیون کو تو بس اپنی لڑکی کی پڑی تھی ۔

” تمھارے لیے صرف وہ لڑکی اہم ہے۔ میرا سارا کیریر داؤ پر لگا ہے ۔ دران کو اگر ہم پر ذرا سا بھی شک ہو گیا تو میری دھجیاں اڑا دے گا اور وہ لڑکی بروس کو دیکھ چکی ہے ۔ وہ جانتی ہے بروس نے بھیجا تھا اسے دران کے پاس ۔ میڈیا والے ویسے ہی اس کے بیان لینے کے لیے اسے کھوجتے پھر رہے ہیں۔ ” ہاروی نے سر کو تھامے چڑ کر شیون کو ساری وضاحت دی ۔

شیون لمحہ بھر کے لیے چپ ہوا ۔ کچھ دیر پرسوچ ان دونوں کے اترے چہروں کو دیکھنے کے بعد گہری سانس لی ۔

” بروس سے تم اور پھر تم سے وہ میرے تک پہنچیں گے ۔ اس لیے پتہ کرو وہ دونوں کہاں ہیں دونوں کا کام تمام کرنا ہے ” شیون نے اٹل لہجے میں فیصلہ سنایا ۔

ہاروی اچھل کر تیزی سے اس کے قریب آیا ۔

” اوہ۔۔۔ نو نو ۔۔۔ درانگ میری فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں یہاں آیا ہے ۔ اگر وہ مارا گیا تو میں انویسٹی گیٹ ہوں گا ۔ یہ مت بھولو لڑکی عام ہے لیکن درانگ عام نہیں اس کا قتل کر کے ہمیں پھنس جائیں گے ۔ ہمیں انہیں تلاش کرنا ہے صرف ۔ اور اسے یہ بلکل نہیں پتا کہ اس کی یہ ویڈیو بنانے اور لیک کرنے میں ہمارا ہاتھ ہے ” ہاروی نے بات مکمل کی اور باری باری دونوں کی طرف دیکھا ۔

شیون نے کمینگی سے ناک سکیڑا ۔ گردن کو زور سے دائیں بائیں جھٹکے دیے ۔

” وہ لڑکی میں ہر حال میں لے کر رہوں گا ۔ پھر چاہے اس کے لیے مجھے اس درانگ کی کھوپڑی بھی اڑانی پڑے “

سخت لہجے میں آنکھیں نکلاتے ہوئے اس نے فیصلہ سنایا اور پھر تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کو خوفزدہ چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا ۔

☆☆☆☆☆

ٹیکسی متوازن رفتار سے تارکول میں لپٹی شفاف سڑک پر چل رہی تھی ۔ وہ صبح چھ بجے سے ٹیکسی بدل بدل کر لاویا کے لیے نکلے ہوئے تھے ۔

ہوٹل سے نکلتے وقت وہ تینوں ایک ساتھ نہیں بلکہ الگ الگ نکلے تھے ۔ ویسے بھی شیون کے دونوں آدمی صبح کے چھ بجے بے خبر سو رہے تھے ۔ بروس نے انہیں لڑکی کی واپسی کا وقت صبح دس بجے کا دیا تھا ۔

ہوٹل سے سیدھے نکلنے کے بعد الگ الگ ٹیکسی لے کر وہ اکٹھے ایک مارکیٹ میں ہوئے تھے ۔ دران نے جوی کو اپنا گرم کورٹ دیا تھا جس میں مکمل طور میں وہ خود کو ڈھانپ کر باہر نکلی تھی ۔ مارکیٹ پہنچنے کے بعد پہلے ان لوگوں نے جوی کے کپڑے , جوتے اور حلیہ تبدیل کروایا تھا ۔

وہ اب گہرے نیلے رنگ کے پیروں تک آتے گرم کورٹ کے اوپر سرخ رنگ کا سکارف اوڑھے ہوئے تھی ۔ چہرہ اب ہر قسم کے میک اپ سے عاری شفاف اور معصوم لگ رہا تھا ۔ مارکیٹ سے وہ تینوں ایک ٹیکسی میں اکٹھے ہوئے تھے ۔ لیکن دران کے منصوبے کے مطابق وہ لوگ مختلف جگہوں پر رک رک کر ٹیکسی بدل رہے تھے ۔

دونوں نے اپنے موبائل فون بند کر رکھے تھے ۔ دران اگلی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ جبکہ انل پیچھے جوی کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ انل مسلسل جوی سے مختلف سوال کر رہا تھا ۔ وہ اس کی الف سے لے کر یے تک داستان سن چکا تھا ۔ دران خاموشی سے صرف ان کی گفتگو سن رہا تھا ۔ دران نے پورے سفر میں ایک دفعہ بھی اس کی طرف نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ ہر ٹیکسی کے بدلنے کے وقت اسے نظر بھر کر دیکھ رہی تھی ۔

” آپ لوگ لائنز ایریا سے کیوں چلے گئے تھے ؟”

اب انل اس سے لائنز ایرا چھوڑ جانے کے متعلق پوچھ رہا تھا کیونکہ اس واقع کے چند مہینوں بعد ہی وہ لوگ فلیٹ چھوڑ گئے تھے ۔ جوی نے نگاہ گود میں رکھے ہاتھوں پر جمائی

” ابا پر بہت قرض تھا ۔ وہ بیمار ہوئے تو ان کی ملازمت بھی ختم ہو گئی ۔ ہمارے پاس اس فلیٹ کو بیچنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔ اس لیے وہاں سے شفٹ ہو گئے ۔ “

بہت آہستگی سے وہ انل کے ہر سوال کا جواب دے رہی تھی ۔ انل اس سے شادی کی مکمل تفصیل لے رہا تھا ۔

” ہم۔م۔م۔ آپ نے جو بھی بتایا اس کے مطابق تو یہ ایک چائینز گروہ ہے۔ جو آپ کے علاوہ اور بھی بہت سی لڑکیوں کو یہاں لائے ہوں گے ؟ “

اس کی بات مکمل ہونے پر انل نے پرسوچ لہجے میں پوچھا ۔ جوی نے اثبات میں سر ہلایا ۔

” جی بلکل میرے گروپ میں ہم دس لڑکیاں تھیں ۔ ہماری شادی بھی اجتماعی ہوئی تھی ۔ ان لوگوں نے کچھ دن ہمیں پاکستان میں ہی ایک بنگلے میں رکھا ۔ ان کے گروہ میں چند پاکستانی بھی شامل ہیں ۔ “

جوی نے اسی طرح آہستگی سے بولتے ہوئے آگاہی دی ۔ انل چند لمحے پرسوچ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے چپ رہا ۔

” آپ بلکل فکر نہ کریں ۔ آپ نہ صرف صیح سلامت پاکستان پہنچیں گی بلکہ اس گروہ کو بھی بے نقاب کریں گی ۔ دل سے ہر طرح کا خوف ختم کر دیں “

انل نے شائستگی سے مسکراتے ہوئے پرعزم لہجے میں اس کا حوصلہ بڑھایا ۔

دران نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ گردن گھما کر انل کی طرف دیکھا ۔ انداز واہ بھئ واہ والا تھا ۔ انل نے خجل ہو کر نگاہ چرائی تو وہ مسکراہٹ چھپاتا ہوا سیدھا ہوا ۔

” کتنی دیر ہے ابھی ؟ “

انل اور چپ بیٹھے اب وہ دران سے سوال کر رہا تھا ۔

” بس کچھ دور ہیں ۔ “

دران نے مختصر جواب دیا ۔ جوی کو سانس اٹکتا ہوا محسوس ہوا ۔

جیسے جیسے گاڑی انہی راستوں پر سفر کر رہی تھی نا چاہتے ہوئے بھی جوی کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی سنسناہٹ بڑھ رہی تھی ۔ بے شک دران اور انل کے ساتھ نے اس کا حوصلہ بڑھا دیا تھا لیکن وہ جانتی تھی سب اتنا آسان نہیں ہے ۔ شائد وہ اپنے ساتھ ان دونوں کی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا چکی ہے ۔

آنکھوں کی پتلیوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے ۔ نشست کی پشت سے سر ٹکائے اس نے جلتی آنکھیں موند لیں ۔ نیند نے کب اپنی آغوش میں لیا خبر نہ ہوئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *