Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 13)

Basil by Huma Waqas

” مجھے پرپو۔۔ز۔ز ” خود ساختہ سرگوشی تھی ۔ وہ دران کی بات پر الجھ کر اسے دیکھنے لگی تھی ۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اس کے وجہیہ چہرے پر جمائے ۔ وہ پل بھر کو مجسم ہوئی ۔

حیرت ایک طرف دل کی دھڑکن کے تار آج کتنے عرصے بعد یوں بجنے لگے تھے ۔ دل کی ایسی حالت فقط سامنے کھڑے شخص کے لیے ہی ہوتی تھی ۔ آج برسوں بعد بھی دل اس کے لیے وہی جذبات رکھتا تھا ۔

وہ آستین کے بل درست کر رہا تھا ۔ نگاہ اٹھائی تو جوی کی ساکن نگاہوں سے پل بھر کا تصادم ہوا ۔

ایک ۔۔ دو ۔۔۔ سکینڈ ۔۔۔

” ادکاری کرنا جانتی ہو ؟ “

دونوں بھنویں بڑے انداز میں اوپر اچکائے وہ اس سے سوال کر رہا تھا ۔

” ادا۔۔کار۔۔ی ؟؟”

ناسمجھی میں بے ربط سے الفاظ منہ سے برآمد ہوئے ۔ بھنویں سکڑ گئیں ۔

” ہوں اداکاری وہی کرنی ہے ہمیں باہر “

وہ کیا کرنے والا تھا اور کیوں کرنے والا تھا نہیں جانتی تھی۔ لیکن اتنا جانتی تھی کہ اس کی گہری آنکھوں میں ایک عزم چمکنے لگا ہے ۔ اور وہ عزم کچھ اور نہیں جوی کو بچانے کا ہے ۔

آمنہ ٹھیک کہتی تھی ۔ کبھی کبھار اللہ فرشتوں کی صفت انسانوں میں اس لیے ڈال دیتا ہے کہ وہ کسی انسان کو بچانا چاہتا ہے ۔ سامنے کھڑا دران آج اسے انسان کم فرشتہ زیادہ لگ رہا تھا ۔

☆☆☆☆☆

کمرے میں قبرستان جیسی خاموشی تھی اور بڑی سی دیوار کے ساتھ منی سیمنا جیسی ٹی وی سکرین پر دوسرے کمرے کے واش روم کا بند دروازہ اب بھی ایک ہی منظر پیش کر رہا تھا ۔

ہاروی نے گردن گھما کر ایک غصیلی نگاہ کچھ دوری پر بیٹھے بروس پر جمائی جو لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا ۔ صبح کے چار بج کر دس منٹ ہو چکے تھے ۔ دران واش روم سے باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ ہاروی کا نیند سے برا حال تھا ۔ وہ بے چینی سے اور بمشکل آنکھیں کھول رہا تھا لیکن شراب نوشی کے بعد اتنی دیر جاگنا نا ممکن ہو رہا تھا ۔

” بہت دیر ہو گئی ہے ۔ وہ تو شائد سو گئے ہیں واش روم میں۔ میری برداشت جواب دے رہی ہے ۔ میرا اب نیند سے برا حال ہے ۔ ” ہاروی کے دل برداشتہ لہجے پر بروس نے نگاہ اٹھائی ۔

وہ صوفے پر سے اُٹھ چکا تھا ۔ آنکھوں کے پپوٹے بھاری ہو کر آنکھوں کا پورا کھلنا ناممکن ہو رہا تھا ۔ اس کے قدم بھی ڈگمگا رہے تھے ۔

” کوئی بات نہیں اتنے بھی ناکام نہیں ہوئے ہم ۔ یہ دیکھو میں نے کلپ ڈال دیا ہے اس کا اور اتنی تیزی سے شئیر ہو رہا ہے کہ مت پوچھو ۔ ” بروس کی آنکھوں میں سکرین کی روشنی کے ساتھ فتح کی چمک بھی نمایاں تھی ۔

” اس سے کیا ہو گا ؟ ہن۔ہ۔ہ۔ہ” ہاروی نے منہ بسور کر سر کو ہوا میں مارا

” مایوس مت ہو ۔ ادھر آؤ دیکھو ” بروس نے چہکتے ہوئے اسے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے پاس بلایا ۔

ہاروی مایوسی سے بیزار صورت بنائے اس تک پہنچا ۔ بروس نے چمکتی آنکھوں اور استہزائیہ مسکراہٹ سمیت لیپ ٹاپ سکرین کو اس کی طرف گھمایا ۔ ہاروی نے بمشکل کھلی نگاہیں سکرین پر جمائیں ۔ دران کی ویڈیو کلپ کے نیچے تیزی سے لوگوں کے کمنٹس آ رہے تھے ۔

” درانگ ۔۔ نو نو وہ نہیں کر سکتا ایسا۔ درانگ اتنا چیپ نہیں ہو سکتا “

” سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ یہ جھوٹ بولتا تھا سب ۔ ہی ناٹ آن لی ریپ دا گرل ۔ ہی ڈرنکڈ آل سو “

” اب کہاں گئی اس کی شرافت ۔ چیپ “

” میں تو پہلے ہی کہتا تھا ۔ جس بندے کے پاس اتنا پیسہ ہو اور وہ عیاش نہ ہو ۔ ہو ہی نہیں سکتا “

” آئی ہیٹ یو درانگ ۔گ۔گ۔”

” اب کہاں گیا اس کا مذہب ؟ اس کے مذہب میں تو زنا حرام ہے ۔ “

جیسے جیسے ہاروی کی آنکھ کی پتلیوں میں لوگوں کے دران کے لیے نفرت آمیز کمنٹس گزر رہے تھے ویسے ویسے اس کے لبوں پر فتح بھری مسکراہٹ بکھر رہی تھی ۔

” کام ہو گیا ہے ۔ ہم جیت گئے ہیں ۔ اب دران ہوش میں آنے کے بعد اپنی جتنی بھی صفائی دیتا پھرے لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے ۔ ” بروس جوش میں اپنی جیت پر سر شاری ظاہر کر رہا تھا ۔

” اوکے تو ابھی اس کا انتظار بیکار ہے ۔ میں سونے جا رہا ہوں ۔ تم دیکھو اس کو ” ہاروی کی آنکھوں کے ساتھ آواز بھی بوجھل ہو رہی تھی ۔

وہ اب مزید یہاں نہیں رک سکتا تھا ۔ لڑکھڑاتے سے قدم اٹھاتا وہ کندھے پر اپنا کوٹ لٹکائے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ یہ کمرہ بروس کا تھا ۔ اسے اپنے کمرے میں جانا تھا۔

” نہیں اب جتنی جلدی ہو ہمیں یہ ثبوت مٹانے ہیں کہ ریکارڈنگ ہم کر رہے تھے ۔ “

جتنی تیزی سے بروس نے اسے اگلے منصوبے سے آگاہ کیا اتنی تیزی سے وہ اب سارے ثبوت مٹانے میں لگا تھا ۔ جبکہ ہاروی اس کے کمرے سے جا چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆

درانگ ولاس کے اس نیم تاریک کمرے کے دروازے پر ہونے والی عجلت بھری دستک کمرے کے سکوت میں خلل پیدا کر رہی تھی ۔ اس کشادہ کمرے میں بیڈ پر موجود نفوس متواتر ہونے والی اس دستک کے باعث کسلمندی سے ہلنے لگے ۔

اسفند ملک نے ہاتھ بڑھا کر اپنی طرف کے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر موجود لیمپ کو جلایا ۔ کمرے میں لیمپ کی زرد روشنی پھیلتے ہی اسفند ملک کی نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں والا چہرہ واضح ہوا ۔ نفیس سیاہ نائٹ گاؤن میں ملبوس وہ آنکھوں کو بمشکل کھول رہے تھے ۔

” کیا ہوا ہے؟ اس وقت کون ہے ؟ ” روبی بھاری نیند کی خماری میں ڈوبی آواز سے سوال کرتی کہنی کے بل اوپر ہوئی ۔

پیشانی پر انگنت بل نگواری اور تجسس کے تھے ۔

اسفند ملک اپنی عینک کو بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر لگا چکے تھے۔ ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا ۔ چشمے کی اؤٹ سے موبائل پر وقت جانچا ۔ صبح کے پانچ بج رہے تھے ۔ دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی ۔ صبح کے پانچ بجے زندگی میں پہلی بار درانگ ولاس میں کسی نے یوں ان کو جگانے کی جرأت کی تھی اس لیے دونوں نفوس کا یوں متعجب ہونا بنتا تھا ۔

اسفند ملک بیڈ پر سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھے تو برھان کی آواز واضح ہونے لگی جو دروازے کے پار سے آ رہی تھی ۔

” بابا دروازہ کھولیں جلدیں “

” برھان کی آواز ہے ” اسفند ملک نے گردن کو ہلکا سا خم دیا ۔ پریشان لہجے میں بتایا اور ایک اضطرابی نگاہ روبی پر ڈالی۔ وہ بھی پریشانی سے نائٹ گاؤن سنبھالتی اب بیڈ سے نیچے اتر رہی تھی ۔ اسفند ملک نے تیزی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا ۔

برھان ہونق اور پرجوش دروازے کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔ گہرے بھورے رنگ کے نائٹ گاؤن میں ملبوس وہ دروازہ کھلتے ہی عجلت میں اندر داخل ہوا ۔

” خیریت برھان کیا ہوا ہے اتنی صبح۔۔۔” اسفند ملک کی پریشانی ان کے لہجے اور چہرے سے واضح تھی ۔

چشمے کے پیچھے آنکھوں کی پتلیاں تجسس اور فکر مندی سے سُکڑ رہی تھیں ۔

” یہ پوچھیں کیا نہیں ہوا ہے ” برھان پرجوش لہجے میں کہتا ہوا اب کمرے کے وسط میں روبی کے بلکل سامنے کھڑا تھا ۔

روبی اور اسفند اس کی طرف حیرت اور استفہامی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ اپنے موبائل کو گاؤن جیب سے نکالے اضطرابی کیفیت میں اس پر انگلیاں چلا رہا تھا ۔

” یہ دیکھیں ذرا “

دو سکینڈ کے توقف کے بعد اس نے موبائل کو اسفند ملک کی طرف بڑھایا ۔ وہ اسی طرح حیرت زدہ آگے ہوئے اور اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑا ۔ روبی سرعت سے اپنی جگہ چھوڑے اسفند کی طرف بڑھی اور اب کندھے سے کندھا ملائے وہ دونوں پھٹی پھٹی آنکھوں سے موبائل کی سکرین پر چلتی دران کی ویڈیو دیکھ رہے تھے ۔ جس میں وہ کسی ہوٹل کے بیڈ روم میں میرون گاؤن میں ملبوس لڑکی کو بانہوں میں اٹھائے ہوئے تھا ۔

ویڈیو چل رہی تھی ۔ اور دونوں نفوس کی آنکھ کی پتلیوں میں چلتے عکس کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں میں موجود کچھ دیر پہلے کی نیند کا بوجھل پن اب یکسر معدوم تھا۔ آنکھوں کا حجم حیرت سے بڑھ رہا تھا ۔ ویڈیو ختم ہوتے ہی روبی نے کھلے منہ کے ساتھ حیرت زدہ چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” یہ سب کیا ہے اسفی ۔۔ یہ دران ۔۔۔ یہ لڑکی کون ہے برھان ؟” وہ حیرت سے پھٹی نگاہیں متواتر اسفند اور برھان کی طرف گھماتے ہوئے سوال کر رہی تھی ۔

” کام ڈاؤن مما ۔ حقیقت یہ نہیں ہے ابھی ۔ رکیں بابا موبائل دیں ذرا “

برھان نے ہاتھ بڑھایا اور اسفند ملک سے موبائل مانگا جو حیرت زدہ بھنویں اکٹھی کیے بار بار سکرین پر موجود ویڈیو کو انگلی کی پور سے پیچھے کر کے دیکھ رہے تھے ۔

برھان اب موبائل پر پھر سے انگلیاں چلا رہا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں ایک اور ویڈیو چلاتے ہی اس نے موبائل پھر سے اسفند ملک کی طرف بڑھایا ۔ اسفند نے ناسمجھی کی شکن ماتھے پر گہرے کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے موبائل تھاما اور پھر سے پاس پاس کھڑے دونوں نفوس کی نگاہیں موبائل سکرین پر جم گئیں ۔ اب کی بار حیرت کا نا ختم ہونے والا دورانیہ تھا ۔

یہ کسی ہوٹل کے کمرے کا خوبصورت ٹیرس تھا ۔ دران سفید شرٹ اور گرے پینٹ میں ملبوس ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے اسی لڑکی کا ہاتھ تھامے اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ لڑکی لجاتے اور مسکراتے ہوئے گلال ہو رہی تھی ۔ یہ لڑکی وہی تھی ۔ میرون گاؤن , دلکش سراپا , سانولی رنگت اور بڑی آنکھوں والی لڑکی ۔ دران اس لڑکی کا ہاتھ تھامے کچھ بول رہا تھا ۔ آواز واضح تھی ۔

“یو آر دی ون ۔ آئی وانٹڈ ٹو فائینڈ , ٹو ٹل دیٹ آئی نیڈ یو آل مائی لائف , فرام دس ڈے آن ٹل دا ریسٹ آف مائی لائف , ول یو میری می ؟ (آپ وہی ہیں جن کو میں ڈھونڈنا چاہتا تھا ، یہ بتانا کہ مجھے اس دن سے لے کر اب تک ساری زندگی آپ کی ضرورت ہے, کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ) ” دران کے الفاظ اس کی دل کی گہرائیوں میں موجود جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔

لڑکی نے خوشی سے اپنے چہرے کو ہاتھ سے ڈھانپا یہ مشرقی لجاجت کا انداز اس پر جچ رہا تھا ۔ وہ اب زور زور سے سر کو اثبات میں ہلا رہی تھی ۔ مطلب وہ دران کا پرپوزل قبول کر چکی تھی ۔ اس کے بال اونچے سے جوڑے میں مقید تھے ۔ وہ بڑی پیشانی والی , درمیانے قد کی لڑکی تھی ۔ عام سے نقوش , کوئی خاص , کوئی الگ بات کھوجنے سے بھی نہیں مل رہی تھی ۔ دران نے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور مسکراتے ہوئے ایک عدد انگوٹھی برآمد کی ۔ انگوٹھی اس کی انگشت انگلی اور انگوٹھے کی پور کے درمیان میں چمک رہی تھی اور پھر اس نے محبت اور نرماہٹ سے وہ انگوٹھی لڑکی کی انگلی میں پنہانے کے فوراً بعد اس کے مقابل کھڑے ہوتے ہوئے اس کی پیشانی سے سر جوڑ لیا ۔ دھیرے سے اس کی کمر کے گرد بازؤ حائل کرتے ہوئے اس کے کان کے قریب پتا نہیں کیا سرگوشی کی کہ وہ مسکرا کر اس کے سینے سے جا لگی ۔

ملگجے اندھیرے کو چیرتی ہوئی روشنی پھیل رہی تھی۔ سورج طلوع ہو رہا تھا اور خوبصورت ٹیرس میں ان دونوں کا سراپا بھی سورج کی ان ٹھنڈی کرنوں میں آہستہ آہستہ روشن ہو رہا تھا ۔ ویڈیو ختم ہو چکی تھی ۔ مگر درانگ ولاس کے اس کمرے میں موجود دونوں نفوس کو جیسے سانپ سونگھ گیا ۔

برھان نے گہری سانس لی اور ہاتھ بڑھا کر مجسم بنے اسفند ملک کے ہاتھ سے موبائل واپس پکڑا ۔

” یہ کیا ہے سب ۔۔۔ ؟ ” روبی کی حیرت میں ڈوبی آواز تھی ۔ جس نے اسفند کے ساکن وجود کو متحرک کیا ۔

” یہ لڑکی کون ہے ؟ ” اسفند ملک کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔

” کوئی ایکٹریس ہے کیا ؟ ” روبی نے بھی برھان کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا

” ایکٹرس ۔۔ شکل دیکھی ہے ایسی ایکٹریس ہوتی ہیں ۔ پتا نہیں کون ہے ؟ ” برھان نے ناک چڑھائی

کچھ دیر پہلے ہی اسے کسی دوست کا فون آیا ۔ وہ نیند سے جاگا اور پھر سو نہیں سکا ۔ دران کی یہ حرکت ہر کسی کے لیے حیران کن تھی ۔

” اسفی فون کریں دران کو کون ہے یہ ؟ یہ کیا معاملہ ہے۔ چار دن میں کون سی ایسی لڑکی مل گئی چین میں ۔ دنیا کی حسین سی حسین لڑکی , امیر سے امیر لڑکی اس کی راہوں میں پلکیں بچھائے ہوئے ہے ۔ یہ کون ہے جو اب تک چھپی رہی اور اسے دران نے یوں آج پوری دنیا کے سامنے پرپوز بھی کر دیا ” روبی نے لب بھینچے , آنکھوں کو چندھی کئے پاس کھڑے اسفند ملک سے کہا جبکہ وہ اس کے کہنے سے پہلے ہی فون کان سے لگائے ہوئے تھے ۔ مگر دوسری طرف شائد دران فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد ہی کندھے ڈھلکائے وہ فون بند کر چکے تھے ۔

” نہیں اٹھا رہا ہے وہ ۔ اٹھائے گا بھی نہیں جانتا ہوں اسے ۔ صبر کرو پتا چل ہی جائے گا کیا ہے یہ سب۔ انل کو ٹرائی کرتا رہوں گا وہی بتائے گا سب ۔ کچھ تو چکر ہے دران اور کسی لڑکی کو یوں پرپوز کر دے ۔ حیرت اس بات کی زیادہ ہے لڑکی انتہا کی معمولی ہے ۔ ” اسفند ملک کے لہجے میں بے یقینی اور تجسس تھا ۔

روبی پریشانی میں لب کاٹ رہی تھی ۔ برھان نے موبائل پھر سے گاؤن کی جیب میں ڈالا

” آپ لوگوں کو کچھ پتا چلے تو مجھے بتا دیجیے گا ۔ ویسے وہ پاگل ہے اس سے کچھ بھی بعید ہے ” کندھے اچکائے وہ دونوں کو یونہی حیرت زدہ چھوڑ کر مزے سے کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔

☆☆☆☆☆☆

رات کے آخری پہر اور صبح کی شروعات کے اس ملاپ کے وقت چین کے شہر شھنگائی میں یخ بستہ ہوائیں سردی کی لہر کو دگنا کر رہی تھیں ۔ مینگولہ ہوٹل کے اس واش روم میں ان دونوں کو کھڑے ہوئے اب ایک گھنٹے سے اوپر ہو چکا تھا۔ جوی کے پاؤں اور ٹانگیں بری طرح شل ہونے لگی تھیں ۔ ہیل والے جوتے میں یوں اتنی دیر سے وہ کھڑی تھی ۔ آہستگی سے کمر کو پیچھے بنی شیلف سے ٹکائے اس نے نگاہ دران پر اٹھائی ۔

وہ اپنے موبائل سکرین پر نگاہ جمائے کھڑا تھا ۔ اس کے انگوٹھے کی پور متواتر سکرین کو اوپر نیچے اچھال رہی تھی ۔ اس کے لبوں پر استہزئیہ مسکراہٹ آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی ۔

اس بات کے بعد سے لے کر اب تک ان کے درمیان خاموشی کا راج تھا ۔ وہ اسے بتا چکا تھا کہ ان دونوں کو باہر نکل کر ایک جھوٹا ناٹک کرنا ہے ۔ یہ ڈرے سہمے چہرے کے ساتھ تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ دران نے اسے وقت دیا تھا کہ وہ اپنے حواس بحال کر سکے اور خود موبائل سکرین پر نگاہیں جما کر کھڑا ہو گیا ۔

بروس کی ڈالی ہی ویڈیو بیس منٹ کے اندر اندر ہر جگہ بری طرح وائرل ہو چکی تھی ۔ وہ ایک سیلبریٹی ہونے کے ساتھ بہت سے لوگوں کی انسپی ریشن بھی تھا ۔ ویڈیو ایسی تھی کہ اس کے پچھلے پانچ سالوں میں بنائے گئے امیج کی دھجیاں اُڑ رہی تھی۔ کمنٹس میں لوگ اسے گالیاں تک دے رہے تھے ۔

وہ ایک ہوٹل کے کمرے میں ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ یوں اس حالت میں تھا لوگوں کا نفرت کرنا بنتا تھا ۔ ابھی تک لوگوں کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو چکا ہے جو اس کی شخصیت اور اس کے بنائے ہوئے امیج کے برخلاف تھا ۔

وہ مات پر شہہ مات دینے کا سوچ چکا تھا ۔ لوگوں کے کمنٹس پر اس کے تن کر سخت ہوتے جبڑے اور کنپٹی کی رگیں کچھ لمحے کے لیے ہی واضح رہی تھیں۔ اس کے بعد تو اس کی آنکھوں کی بڑھتی چمک اور لبوں کی استہزائیہ مسکراہٹ گہری ہو رہی تھی ۔ وہ درانگ صرف نام کا نہیں تھا ۔ لوگ اسے صرف ایک فلمسٹار کی حیثیت سے دیکھتے اور پرکھتے تھے ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی لوگوں کے گلے کاٹنے اور سر پھاڑ دینے جیسے کارنامے کر چکا ہے ۔ وہ چاہتا تو اسی وقت جا کر ان کے گریبان تھام لیتا ۔ جوی کو یہاں سے بھگا کر لے جاتا ۔ پولیس سٹیشن چھوڑ دیتا اس کے بیان دلواتا ۔ لیکن جانتا تھا یہ مافیا اتنا کمزور نہیں ہے ۔ لڑکی ان کے تہہ خانوں تک پہنچ کر واپس آئی تھی ۔ ایسی لڑکی کا وہ موت تک پیچھا کرتے ہیں ۔

دران نے موبائل بند کیا اور نگاہ اٹھائے سامنے کھڑی جوی کی طرف دیکھا ۔ ڈری سہمی وہ سردی سے کپکپا رہی تھی ۔

” سنیں باہر جانے کا وقت ہے اب چلیں “

تیزی سے ایک ہی سانس میں پوری بات کہنے کے بعد وہ اب رخ موڑے واش روم کا دروازہ کھول رہا تھا ۔ جانتا تھا بروس اور ہاروی کی اس وقت تک بس ہو چکی ہو گی اور وہ سو چکے ہوں گے ۔ اب اس کے وار کی باری تھی ۔ ان کے نیند سے جگانے سے پہلے پہلے وہ ساری گیم بدلنے والا تھا ۔

وہ کمرے سے باہر آ چکے تھے ۔ دران نے پیچھے مڑ کر جوی کی طرف دیکھا جو آہستگی سے اس کی تقلید کر رہی تھی ۔ بہت دیر کھڑے رہنے کے باعث شائد اس سے چلنے میں اب دشواری ہو رہی تھی ۔

” ہمیں ٹیرس پر جانا ہے “

ایک ہاتھ سے اسے ٹیرس پر جانے کا اشارہ کرتا ہوا وہ خود دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ بیرونی دروازے کے باہر گلدان میں کچھ دیر پہلے انل اپنی انگوٹھی رکھ گیا تھا۔ دران کو اب وہ انگوٹھی اٹھانی تھی ۔

انگوٹھی اٹھانے کے بعد وہ سیدھا ٹیرس پر آیا جہاں جوی ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتی پریشان حال کھڑی تھی ۔ دران نے ایک نگاہ اس پر ڈالی اور پھر ٹیرس کی ریلنگ پر موبائل کو سیٹ کیا ۔

کمرے کی بائیں طرف کی دیوار میں سلائیڈنگ دروازے کے ذریعے ملحقہ یہ ٹیرس کمرے سے کم خوبصورت نہیں تھا ۔ ٹیرس کی ریلنگ کے ساتھ انگنت گملے مختلف رنگوں کے پھولوں سے ڈھکے تھے ۔ دائیں طرف خوبصورت جھولا اور بائیں طرف دو کرسیوں کے سامنے میز لگا تھا ۔

ٹیرس کے بلکل سامنے شھنگائی کی خوبصورت آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں تھیں۔ جن میں چمکتی روشنیاں اب اس ملگجے اندھیرے میں قدرت کے حسین منظر کے ساتھ انسانوں کے بنائے گئے شہکار کا دلکش امتزاج لگ رہی تھیں ۔

دران موبائل پر ویڈو ریکارڈنگ سیٹ کرنے سے پہلے اس کی طرف مڑا جو بے پناہ پریشانی چہرے پر سجائے کھڑی تھی ۔

” دیکھیں یہ پریشانی چہرے پر سے ختم کریں۔ پلیز ۔ز۔ز۔ اگر آپ اس سب ناٹک میں میرا ساتھ نہیں دیں گی تو میں کسی صورت آپ کو نہیں بچا سکوں گا ۔ سو پلیز پیچھے آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اسے ایک بھیانک خواب سمجھ کر بھلا دیں ” رعب دار لہجے میں وہ اسے سمجھا رہا تھا ۔

پھر پورے پلین کے مطابق وہ ویڈیو چلانے کے بعد ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔

جوی نے حیرت سے اس کو دیکھا وہ اس سرمئی اور ٹھنڈی سی ہلکی پھیلتی روشنی میں اس منظر کا سب سے حسین حصہ لگ رہا تھا ۔

زندگی ایک حیران کن سفر ہے یہ تو وہ جانتی تھی مگر اس کی زندگی کا ہر آنے والا پل بے یقینی اور نا ممکنات لیے ہوئے تھا ۔ دل نے شائد یہ لمحہ چپکے چپکے کتنی بار چاہا ہو گا جو آج اس کے ساتھ پیش آ رہا تھا لیکن یہ سب جھوٹ تھا حقیقت میں اس کے سامنے بیٹھا یہ حسین شخص کبھی اس کا نہیں ہو سکتا ۔

دران نے گھور کر اس کی طرف دیکھا جو ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ ایک جھٹکے سے دانت پیستے ہوئے کھڑا ہوا ۔

” فار گاڈ سیک ۔ آپ نے کبھی کسی لڑکی کو دیکھا نہیں کیا ۔ جب لڑکا اسے پرپوز کرتا ہے تو اس کی حالت کیسی ہوتی ہے ؟ ” وہ بری طرح اس پر چیخ رہا تھا ۔

جوی نے اس کے یوں دھاڑنے پر جھرجھری لی ۔ دران غصے سے سرخ چہرہ لیے کھڑا تھا ۔ اس کا غصہ بجا تھا ۔ اس وقت ان کا ایک ایک سکینڈ قیمتی تھا ۔

” اگر یوں ہونقوں کی طرح کھڑی ہوں گی تو کل میڈیا کے سامنے کیا خاک بیان دیں گی آپ ۔ ” وہ جبڑے پیوست کیے اس پر برس رہا تھا ۔

” س۔ س ۔سوری ۔۔۔ ” گھبرائی آواز میں کہتی وہ بری طرح نادم ہوئی

” پوری طرح ایکٹنگ کریں جیسے میں کر رہا ہوں ۔ کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ” دران نے بمشکل غصے پر قابو پاتے ہوئے۔ ہاتھ کھڑا کیا جیسے اسے آخری دفعہ خبردار کر رہا ہو ۔

انداز ایسا تھا کہ اب کی بار ٹھیک ادکاری نا کی تو تھپڑ پڑے گا ۔ جوی نے تیزی سے سر اثبات میں ہلایا ۔ وہ پھر سے کالر درست کرتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا ۔ اس کے ہاتھ تھامتے ہی جوی کی دھڑکنیں خود بخود بے ترتیب ہو چکی تھیں ۔

“یو آر دی ون ۔ آئی وانٹڈ ٹو فائینڈ , ٹو ٹل دیٹ آئی نیڈ یو آل مائی لائف , فرام دس ڈے آن ٹل دا ریسٹ آف مائی لائف , ول یو میری می ؟ (آپ وہی ہیں جن کو میں ڈھونڈنا چاہتا تھا ، یہ بتانا کہ مجھے اس دن سے لے کر اب تک ساری زندگی آپ کی ضرورت ہے, کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ) ” دران کا لہجہ اتنے دن سے تنے ہوئے اعصاب پر پھوار کا کام کر رہا تھا ۔

وہ اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنا رہا تھا ۔ انگوٹھی اتنی کھلی تھی کہ اس کی انگلی میں گھوم گئی ۔ دران نے اس کے ہاتھ کو نہ تھام رکھا ہوتا تو شائد نیچے گر جاتی ۔ دران اب اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہو چکا تھا ۔ سر اس کے سر سے جوڑے آہستگی سے سرگوشی کی ۔

” گڈ اب اور پاس آؤ ۔ آنکھیں بند کر لو “

وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرے سینے سے لگا چکا تھا ۔ آنکھیں خود بخود بند ہو گئی تھیں اسے کسی قسم کے ناٹک کی ضرورت نہیں تھی ۔

کاش یہ وقت یہیں تھم جائے ۔ سورج کی کرنیں یہیں ان کے اوپر تھم جائیں ۔ وہ اسے یوں ہی سینے سے لگائے رکھے ۔ اس کی خوشبو یونہی سانسیں مہکائیں ۔ ایک ملاقات میں اس کی جھلک دیکھنے کا طلبگار دل اب مزید خواہشیں کرنے لگا تھا ۔

انسان جس خواہش کو اپنی واحد خواہش سمجھ کر اس کے حصول کے لیے سرگرداں رہتا ہے ۔ خواہش کے پورے ہونے پر اسے پتا چلتا ہے یہ اس کی واحد خواہش نہیں تھی یہ تو اس کی انگنت خواہشات کی شروعات تھی ۔ ایک خواہش کی تکمیل اگلی خواہش کو جنم دیتی ہے ۔

دران اس سے الگ ہونے کے بعد اب موبائل کی طرف بڑھ گیا تھا ۔

دران نے مطلوبہ ویڈیو کو کٹ کرنے کے بعد نگاہ اٹھائے اس کی طرف دیکھا تو وہ وہیں مجسم کھڑی تھی ۔

” تم بیٹھ جاؤ یہیں ابھی روم میں نہیں جا سکتے ہم ” مصروف سے لہجے میں حکم صادر کرتا وہ پھر سے موبائل پر سر جھکا چکا تھا ۔

اس حکم پر جوی کی تو جیسے جان میں جان آئی ۔ پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہی ٹانگوں اور پاؤں کو سکون ملا ۔ چور نگاہ اس پر ڈالی

” کیا وہ نہیں تھکا ؟ ” فکر مندی سے سوچا ۔ دران اب بھی ریلنگ سے کہنی ٹکائے ایک ہاتھ میں موبائل تھامے مصروف کھڑا تھا ۔ جل زدہ بال اب ٹھنڈی ہوا سے اڑ کر ماتھے پر بکھر رہے تھے ۔

سفید ناک کی اوپر جلد ٹھٹھرتی ہوا سے سرخ پو رہی تھی ۔ وہ بار بار بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا ۔ بھنویں اکٹھی تھیں ۔ چہرے پر ساری رات جاگنے کے ہلکے سے آثار تھے ۔

” سات سالوں کے بعد میں جب اپنی پہلی محبت سے ملا تو احساس ہوا وہی میری آخری اور دائمی محبت ہے “

ویڈیو پر کیپشن دینے کے بعد وہ اسے اپ لوڈ کر چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆

” دیکھا درانگ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایسا ہوتا ہے مرد جو صرف ایک ہی لڑکی سے محبت کرتا ہے اور اتنے سالوں بعد ملنے پر اسے فوراً پرپوز کر دیا ۔ واؤ دل جیت لیا “

” ہاں یہ اصل زندگی میں بھی ہیرو نکلا “

” وی لو یو درانگ “

” درانگ نے دل توڑ دیا ۔۔۔ لڑکی تو پیاری ہوتی “

” یقین نہیں آتا یہ ایسی لڑکی سے محبت کرتا تھا “

” محبت اندھی ہوتی ہے درانگ آج یقین ہوا “

” لڑکی ذرا نہیں پیاری “

کلک کی متواتر آواز کے ساتھ ویڈیو کے نیچے کمنٹس بڑھ رہے تھے ۔ انل کا منہ اور آنکھیں پوری کھلی تھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *