Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 20)Part 2

Basil by Huma Waqas

جوی احترامً اپنی جگہ سے اُٹھی ۔ سامنے کھڑی خوبصورت عورت کی آنکھوں میں خود کے لیے موجود بے پناہ نفرت اس سے مخفی نہیں تھی ۔ وہ دران کی کیا لگتی تھی وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس کا حلیہ بتا رہا تھا وہ اس گھر کا اہم فرد ہے ۔ قیمیتی لباس چمکتے سنہری بال ریشم کے دھاگوں کی طرح کندھوں کو چھو رہے تھے ۔ آنکھوں کے گرد اور گردن پر ہلکی سے جھریاں میک اپ سے بھی نہیں چھپ سکی تھیں ۔ چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھتی ہوئی وہ اب اس کے سامنے کھڑی تھی۔

” دران کو کب سے اور کیسے جانتی ہو ؟ “

تیکھے سے لہجے میں جانچتی نگاہیں اس پر گاڑے وہ سوال کر رہی تھی ۔ جوی اس کے لب و لہجے اور خود کو جانچتی نگاہوں سے گڑبڑا گئی ۔ ایسا کچھ تو دران کے ساتھ اس نے کچھ بھی طے نہیں کیا تھا کہ کوئی اگر یہ سوال کرے گا تو اسے کیا جواب دینا ہے ۔

” میرا مطلب ہے یہ پسندیدگی کا کیا چکر ہے ۔ آج سے پہلے تو کبھی دران نے ہم سے ذکر تک نہیں کیا اس سب کے بارے میں۔ اتنی محبت اتنی چاہت ۔ اتنے سالوں سے کہاں چھپی ہوئی تھی تم اور اس کی یہ محبت ؟ “

جوی کے کچھ بھی جواب نہ دینے پر وہ نخوت سے اپنے سوال کو تفصیل سے دہرا رہی تھی۔

” ہم کراچی میں ملے تھے “

اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے متوازن لہجے میں مختصر جواب دیا ۔ روبی استہزائیہ مسکراہٹ کو گہرا کر چکی تھی ۔

” یہ تو کامن سنس کی بات ہے ۔ کراچی میں ہی ملے ہو گے دران بھی سات سال پہلے کراچی میں ہی تھا مگر میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ وہ یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ وہ تم سے پیار کرتا تھا ۔ “

خم دار آبرؤ بڑے معنی خیز انداز میں اچکا کر سوال کیا ۔ جوی کو عجیب سی گھبراہٹ ہوئی ۔ ذلت جیسا احساس

” میں سمجھی نہیں آپ کی بات ؟ “

بات سمجھ آ جانے پر بھی حیرت ظاہر کی دران نے اس امتحان سے گزرنے کے لیے اسے تیار کیوں نہیں کیا تھا ۔ وہ اس وقت بری طرح تذبذب کا شکار تھی ۔

” شیشے میں اپنا چہرہ دیکھو سمجھ جاؤ گی “

روبی کی ناک نخوت سے اوپر چڑھی تھی۔ لہجہ کاٹ دار تھا اور لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ نے جوی کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔

زمین میں گڑ جانے جیسا احساس ہوا ۔ بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنے بالوں کو درست کر گیا جو نہانے کے بعد پھر سے اپنی ایسی گھنگرالی حالت میں موجود تھے اور اب ڈھیلی سی پونی میں قید تھے جن سے کچھ لٹیں نکل کر گالوں سے گردن کو چھو رہی تھیں ۔ کل والے لباس کے اوپر اس وقت وہ سیاہ سفید چیک دار شال کو کندھوں پر ڈالے ہوئے تھی ۔

” میں حیران تو اس بات پر ہوں ۔ دران کیسے اتنی معمولی شکل کی لڑکی سے محبت کا دعوی دار ہو سکتا ہے۔ “

روبی نے بڑے ناز سے اپنے ریشمی بالوں کو جھٹکا دیا ۔

” دران کی پسند کبھی معمولی نہیں ہو سکتی ؟ “

عقب سے دران کے سپاٹ مگر گرج دار لہجے میں کہے گئے جملے پر وہ دونوں ایک ساتھ چونکیں ۔ گہرے نیلے رنگ کی گول گلے والی جرسی کے نیچے نیلی جینز پہنے وہ کمرے کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا ۔ نکھرا چہرہ وہ پینٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھ رہا تھا ۔ جوی کا اترا چہرہ اور روبی کی موجودگی پل بھر میں دران کو سب سمجھا گئی ۔

” بہت افسوس ہوا مجھے یہ جان کر کہ سبرینا جیسے چاند کو تم نے اس گرہن کے لیے ٹھکرایا دیا تھا “

روبی کے لہجے میں برسوں کا زہر امڈ آیا تھا ۔ وہ جوی پر سے توجہ ہٹا کر اب تیوری چڑھائے دران سے مخاطب تھی ۔

” ٹھکرایا انہیں جاتا ہے جنہیں اپنایا جائے ۔ “

ٹھہرا مگر چبھتا لہجے میں روبی کی طرف بنا دیکھے جواب دیا ۔ اسی طرح چلتا ہوا جوی کے مقابل آ کر کھڑا ہوا ۔

” سویٹ ہارٹ ۔۔۔کیسا لگا اپنا گھر ؟ “

چہرے کا رخ جوی کی طرف موڑا ۔ روبی کو بری طرح نظر انداز کرتے ہوئے مسکراہٹ سجائے میٹھے لہجے میں پوچھا ۔ محبت میں ڈوبا شیریں لہجہ جہاں جوی کی گھبراہٹ پر مرہم بنا وہاں روبی تلملا اُٹھی ۔

” اچھ۔۔ اچھا ہے ۔ “

بمشکل لہجے کی گڑبڑاہٹ پر قابو پا کر دھیمے سے لہجے میں جواب دیا ۔ روبی کے ناک کے نتھنے پھول رہے تھے ۔ دران اب مکمل طور پر جوی کی طرف رخ موڑ چکا تھا ۔ اپنے اور اس کے بیچ کے فاصلے کو کم کیا ۔

” جھوٹ تم نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے گھر ۔ چلو گھر دکھاؤں تمہیں اور بتاؤ تمہیں کہاں کہاں چینج چاہے ۔ “

جوی کے چہرے پر آتی لٹ کو دائیں ہاتھ سے اس کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔ کان کی لو پر دران کی انگلیوں کا لمس سنسناہٹ بن کر رگ و پے میں اترنے لگا ۔ روبی کا چہرہ آتش ہوا یہاں مزید ٹھہرنا خود کو جھلسانے کے مترادف تھا ۔

وہ ابھی باہر جانے کے لیے نکلا تھا جب روزین نے بتایا کہ میم روبی جوی کے کمرے میں گئی ہیں ۔ غصے سے جبڑے بھینچے وہ فوراً اوپر آیا تھا اور یہاں کا منظر بالکل ویسا ہی تھا جو اس نے سوچا تھا ۔

” ہن۔۔ن۔ن۔ پچھتاؤ گے ایک دن بہت پچھتاؤ گے ۔ خیر ایسی بے مائع لڑکیوں کا جادو زیادہ دیر نہیں رہتا ۔ “

روبی نے تمسخرانہ جملا ادا کیا ۔ کندھے اچکائے ۔ پلٹی اور تیز تیز قدم بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔ دران نے ضبط سے پھیکی مسکراہٹ سجائے پہلے جوی کی طرف دیکھا پھر لب بھینچے غصے سے کمرے کے کھلے دروازے کی طرف دیکھا ۔ ایک تیر سے دو شکار ہو رہے تھے ۔ روبی کا یوں جوی کو لے کر کڑھنا اسے اندرونی سکون دے رہا تھا ۔

ایک۔۔۔ دو ۔۔۔ منٹ خاموشی رہنے کے بعد ضبط کرتے چہرے کے ساتھ وہ جوی کی طرف متوجہ ہوا جو مجرموں کی طرح اترا چہرہ لیے کھڑی تھی ۔

” سوری یہاں کے افراد کے بارے میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکا ۔ “

دائیں آبرؤ پر انگلیاں چلاتے ہوئے ہلکی سی شرمندگی ظاہر کی ۔ ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے اور دوسرے سے بھنویں سہلاتا ہوا وہ شائد تعارف کے لیے الفاظ تلاش کر رہا تھا ۔

” یہاں میرے علاوہ تین لوگ اور موجود ہیں ۔ کل لاؤنج میں جو ملے تھے وہ ہیں اسفند ملک ۔ یہ ۔۔۔جو ابھی گئی ہیں یہاں سے “

ہلکا سا خم لیتے ہوئے جیب سے ہاتھ نکال کر دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔ روبی کی آنکھ کی پتلیاں فوراً اس کے اشارے کی طرف اٹھیں ۔

” یہ روبی ملک ہے ۔ ملک اسفند کی وائف ۔ “

جوی آہستگی سے یوں سر ہلا رہی تھی جیسے وہ کوئی سبق پڑھا رہا ہو۔ وہ صرف نام بتا رہا تھا رشتہ نہیں ۔جوی الجھی ۔

” ان دونوں کا ایک بیٹا ہے ۔ برھان ملک “

” آپ کے کیا لگتے ہیں یہ لوگ ؟ “

بے ساختہ سوال تھا ۔ وہ ان سب کے نام نہیں دران سے ان کا رشتہ جاننے میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی ۔

” آپ میری کیا لگتی ہیں ؟ “

سپاٹ اور روکھے لہجے میں الٹا اور عجیب سوال تھا ۔ بھنویں اکھٹی کیئے وہ جوی کی آنکھوں میں گہری آنکھیں گاڑے کھڑا تھا ۔

ابھی کچھ دیر پہلے والی مٹھاس , لبوں کی مسکراہٹ سب غائب تھی ۔ کتنا اجنبی لگ رہا تھا وہ اور اس کے سوال نے آسمان سے زمین پر لا پٹخا ۔ جوی کا چہرہ پل بھر میں دھواں ہوا ۔

” مہ۔۔۔میں ۔۔ کچھ نہیں لگتی “

خفت سے گھٹی آواز حلق سے برآمد ہوئی ۔ جبکہ وہ اسی طرح سپاٹ چہرہ اور پیشانی پر بل لیے دروازے کی طرف قدم بڑھا چکا تھا ۔

” کیا اتنا غلط سوال پوچھ لیا میں نے ؟ ” وہ الجھ گئی ۔ کون تھی یہ عورت اور جس کو ٹھکرانے کا وہ ذکر کر رہی تھی وہ کون ہے ۔

” نہیں میں کون ہوتی ہوں یہ سب جاننے والی ۔ میں تو اس سے ایسے رشتے پوچھ رہی تھی جیسے میں سچ میں اس کی بیوی بننے جا رہی ہوں ۔ اسی لیے اس نے مجھے میری اوقات دکھائی “

بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھتی وہ ذہن میں انگنت ابھرتے سوالوں کو سوچ رہی تھی ۔ کمرے میں اب پھر وہ , اور گھڑی کی ٹک ٹک تھی ۔

☆☆☆☆☆

رات کے اندھیرے کو چیرتی امریکہ کی چمکتی دمکتی عمارتیں اس یخ بستہ رات میں جدید دنیا کا حسین نظارہ پیش کر رہی تھیں ۔ انہی عمارتوں میں سے ایک عمارت کی بارہویں منزل پر موجود اس حسین اپارئٹمنٹ کے لاؤنج میں سفید شرٹ اور سیاہ پینٹ میں ملبوس ہلکے زرد رنگ بالوں والا ہاروی شیشے کی بنی دیوار کے پار امریکہ کی آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں پر نگاہ جمائے خوفزدہ کھڑا تھا ۔ ایک ہاتھ سے فون کو کان سے لگائے اور دوسرا سفید ہاتھ دیوار پر رکھے ۔

” اب وہ لڑکی تم مجھے واپس لا کر دو گے ۔ “

ہاروی کے کان کو لگے فون پر شیون کی گرجدار آواز ابھری ۔ امریکہ واپس آئے آج دوسرے دن کا اختتام تھا ۔ وہ جو یہ سمجھ رہا تھا کہ شیون اس لڑکی کو بھول جائے گا اور وہ لوگ بھی چپ سادھ لیں گے تو وہ غلط تھا ۔ سراسر غلط۔۔۔۔

” تم اس لڑکی کی قیمیت بتاؤ کتنی ہے ۔ تم سے پہلے بھی لڑکیاں خریدتا ہوں ۔ سمجھو وہ میں نے خرید لی ۔ بھول جاؤ اور چھوڑ دو اس بات کو ۔ “

” نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ بھولوں گا ۔ نہیں چھوڑوں گا ۔ شیون کے چنگل سے آج تک کوئی لڑکی یوں بچ کر نہیں نکلی ۔ وہ مجھے چاہیے ۔ چاہیے وہ مجھے۔ “

وہ پاگلوں کی طرح چیخا ۔ غصے سے آواز کانپ رہی تھی ۔ اس کے بڑھتے غصے سے ہاروی کے چہرے پر خوف کے آثار بڑھ رہے تھے ۔

” دیکھو شیون یہ پاگل پن ہے ۔ درانگ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے ۔ مجھے خبر ملی ہے اس نے سکیورٹی بڑھا لی ہے ۔ کل جب وہ اس لڑکی سے شادی کرے گا وہ بھی عام نہیں رہے گی ۔ میں اسے یوں وہاں سے نہیں نکلوا سکتا پھنس جاؤں گا میں ۔ سمجھو اس بات کو “

ہاروی نے بے چینی سے رخ بدلہ ۔ چہرے پر بچارگی تھی اور لہجہ التجائی ۔

” میں کچھ نہیں جانتا ۔ وہ لڑکی میری ضد بن گئی ہے ۔ مجھے اسے سزا دینی ہے ۔ دردناک سزا ۔ اس کے جسم سے خون تک نچوڑ لوں گا میں۔ “

وہ دانت پیسے غرا رہا تھا ۔ ہاروی نے زرد پڑتے چہرے کی پیشانی سہلائی ۔ زبان تالوے سے جا لگی ۔ شیون اس پر گرج رہا تھا ۔

” تم اگر میری مدد نہیں کرو گے میں تمہیں ویسے بھی پھنسا دوں گا ۔ تمھارا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دوں گا میں ۔ “

ہاروی کا چہرہ زرد سے سفید پڑا ۔ لٹھے کی مانند سفید ۔ آنکھ کی پتلیوں میں خوف ابھرا ۔ پھیلا اور پھر یک لخت معدوم ہوا ۔

” دیکھو اس کے لیے پھر یہ مار دھاڑ نہیں بلکہ کچھ سازش کرنی پڑے گی ۔ درانگ کی طرح چالاکی سے ہی لڑکی واپس لانی پڑے گی ۔ “

ہاروی کا گہری سوچ میں ڈوبا لہجہ تھا ۔ درانگ کو مات اسی کے انداز میں دینی تھی ۔ شیون کو لڑکی واپس دیے بنا اب کوئی چارہ نہیں تھا ۔

” سازش کرو ۔ دنگا کرو ۔ کچھ بھی کرو ۔ مجھے وہ لڑکی چاہیے بس ۔ زندہ سلامت ۔ “

شیون فون بند کر چکا تھا جبکہ ہاروی ابھی تک فون کان سے لگائے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ رخ پھر سے شیشے کی بنی دیوار کی طرف موڑا ۔ آنکھ کی پتلی میں اب روشنیاں چمک رہی تھیں ۔

☆☆☆☆☆☆

کراچی یونیورسٹی آف کامرس کی وسیع عمارت میں لان , راہداریاں , جماعت کے کمرے اور لائبریری میں انگنت طلباء کتابوں میں سر دیے بیٹھے تھے ۔

وہیں گھاس پر بیٹھی جوی کی گود میں کھلی کتاب پر گرتے آنسو ورق میں جذب ہو رہے تھے ۔ سفید سوٹ میں ملبوس سبز گھاس پر بیٹھی وہ غمناک مگر معصوم اور مقدس لگ رہی تھی ۔

آمنہ نے محبت سے جوی کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھا ۔ جوؤت کا کیس بہت الجھ گیا تھا ۔ وہ جوی کی ہر طرح کی مدد کر رہی تھی لیکن جن کے بیٹے کی جان گئی تھی وہ شہر کا مالدار خاندان تھا جو کسی صورت اپنے بیٹے کے قاتلوں کو نہیں بخش رہا تھا ۔

” جوی چپ کرو بس کرو ۔ میں تو تمہیں بہت مضبوط لڑکی سمجھتی تھی لیکن تم ٹوٹ رہی ہو۔ دیکھو اللہ پر چھوڑ دو سب ۔ سنبھالو خود کو ۔ “

آمنہ نے آہستگی سے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ ان کے امتحانات سر پر تھے اور جوی اس پریشانی میں پڑھ بھی نہیں پا رہی تھی ۔ اس کا پورا گھر جووت کی پریشانی میں بکھر گیا تھا ۔ جان کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہوگئی تھی ۔

” میں نہیں ہوں مضبوط میں صرف لڑکی ہوں آمنہ ۔ میں تھک گئی ہوں ۔ ان پریشانیوں سے۔ ان ذمہ داریوں سے۔ نا ختم ہونے والے دکھوں سے ۔ مجھے سکون چاہیے ۔ ذہنی سکون ۔۔ قلبی سکون ۔۔۔ “

دائیں بائیں سر ہوا میں مارتے ہوئے وہ آمنہ کے سامنے ٹوٹ گئی تھی ۔ اب وہ بے آواز نہیں رو رہی تھی ۔ گھر والوں کو حوصلہ دیتے دیتے وہ خود اپنا حوصلہ ختم کر چکی تھی ۔ ٹیوشن , کورٹ, گھر , یونیورسٹی ۔۔۔ وہ لٹو کی طرح گھوم گئی تھی ۔

” یہ تمھاری آزمائش ہے ۔ “

آمنہ کی بات پر وہ روتے ہوئے تھم گئی ۔ آنکھ کی پتلی سے ٹوٹا آنسو اب کتاب پر نہیں گرا تھا کیونکہ چہرہ جھکا نہیں ہوا تھا اب وہ چہرہ اٹھائے سامنے آمنہ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ آنسو گال پر بہتے ہوئے گردن کی طرف سفر کر رہا تھا ۔ ۔

” اللہ ہر انسان کو دیکھتے ہوئے اس پر آزمائش ڈالتا ہے ۔ وہ سکت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ “

” تمہیں کیسے پتا یہ میری آزمائش ہے ۔ یہ سزا بھی تو ہو سکتی ہے ۔ “

” جوی سزا میں کوئی انسان اللہ کے قریب نہیں آتا ۔ “

آمنہ مسکرائی اور اپنے ہاتھ کا دباؤ اس کے ہاتھ پر بڑھایا ۔

” آزمائش میں مبتلا انسان اللہ کے قریب آتا ہے ۔ سکون کی تلاش میں وہ صراط مستقیم چنتا ہے ۔ جیسے تم ۔۔۔”

جوی یک ٹک بس اس کو دیکھے جا رہی تھی ۔ اس کی باتوں سے پتہ نہیں کیوں دل کی تکلیف کم ہونے لگی تھی ۔ ایسے جیسے کوئی مرہم رکھ رہا ہو۔

” تو یہ سزا نہیں ہے جوی۔ یہ آزمائش ہے ۔ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے ۔ کبھی کچھ چھین کر آزماتا ہے تو کبھی کچھ دے کر آزماتا ۔ “

ٹھہرا پرسکون لہجہ تھا ۔

” کب ختم ہو گی میری آزمائش ؟ “

پھیکا سا لہجہ ۔ تھکن سے چور آنکھیں ۔ بکھرا بے پرواہ سا حلیہ ۔ وہ آمنہ کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔

” جب تم دل سے بے خوف ہو کر کلمہ پڑھو گی ۔ ذہن جن باتوں پر ایمان لے آیا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ دل کو بھی اس ایمان سے روشن کر لو ۔ “

آمنہ نے بات مکمل کرنے کے بعد لب بھینچے۔ اس کی آنکھیں شفاف تھیں ۔ روشن اس کے دل کی طرح ۔ اس کے کامل دین کی طرح منور ۔ ۔۔ سب روشن ہو رہا تھا ۔ دل میں سکون اترنے لگا ۔ ذہن میں چلتے ہتھوڑے بند ہو گئے ۔ جلتی آنکھوں میں ٹھنڈک اتری ۔ جوی نے آنکھیں بند کیں ۔ مجھے اسلام قبول کرنا ہے ۔ مسلمان ہونا ہے ۔ ہاں ۔۔۔

چارپائی پر لاغر لیٹا جان چھت کو گھور رہا تھا ۔ کرسی پر بیٹھی مریم بوڑھی ہو گئی تھی وہ رو رہی تھی ۔ سنانا لاغر سی بچی کو گود میں اٹھائے ہوئی تھی ۔ میری معصوم چہرہ لیے کھڑی تھی ۔ جووت سلاخوں کو تھامے کھڑا تھا ۔

چھانکے سے کچھ ٹوٹا ۔ پٹ سے اس نے آنکھیں کھولیں ۔

” آمنہ میرے گھر والے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

خوف ابھرا ۔ ۔۔۔ پھانس اٹکی ۔۔۔ دل کی تکلیف پھر سے بڑھنے لگی ۔۔۔ کچھ دیر پہلے ولا سکون ختم ہوا ۔ آنکھیں جلنے لگیں ۔ دماغ میں پھر سے کچھ ٹھک ٹھک کی صورت بجنے لگا ۔

” دیکھو جوی میں نے کبھی تم پر زور زبردستی نہیں کی ہے ۔ صرف سچا اور سیدھا راستہ دکھایا جو میرا فرض تھا ۔ اب یہ تمہیں خود چننا ہے ۔ تم قرآن کا ترجمہ تفسیر پڑھ رہی ہو ۔ ہر بات اچھے سے جانتی ہو سمجھتی ہو ۔ “

آمنہ ایک ہی سانس میں اتنا سب بول کر ایکدم رکی ۔

ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین ۔۔۔ سیکنڈ

” میرا ساتھ یہیں تک تھا ۔ اب تم چنو تمہیں کیا چاہیے ۔ گھر والے یا اللہ “

دو ٹوک لہجے میں کہہ کر وہ کندھے پر بیگ ڈالتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی ۔ پیٹھ موڑے قدم آگے بڑھا دیے ۔ جوی اسے دور جاتا دیکھ رہی تھی ۔ ذہن میں اس کے الفاظ گونج رہے تھے ۔

” اب تم چنو تمہیں کیا چاہیے ۔ گھر والے یا اللہ “

” اب تم چنو تمہیں کیا چاہیے ۔ گھر والے یا اللہ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *