Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 22,23)

Basil by Huma Waqas

ملک ہاؤس میں اتوار کے دن کی یہ صبح معمول کی چہل پہل سے ہٹ کر سنسان تھی ۔ لاؤنج سے ٹی وی پر چلتے خبرنامے کی مدھم سی آتی آواز کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں تھی ۔ دیوار پر لگی گھڑی صبح کے نو بجا رہی تھی ۔ یاور کو گزرے آج پورے چارہ ماہ بیت چکے تھے ۔

گھر کا ہر فرد اس کلفت سے آہستہ آہستہ خود کو نکالنے میں کامیاب ہو کر اب اپنے معمولات پر واپس آ چکا تھا ۔ اتوار کا دن باقی دنوں کی نسبت ذرا الگ تھا ۔ اس وقت فقط اسفند ملک لاؤنج میں لگے صوفے پر بیٹھے سامنے میز پر کاروبار کے کاغذات کا انبار لگائے , اس پر گردن جھکائے بیٹھے تھے ۔ ہلکی آواز میں سامنے چلتا ٹی وی ان کی عدم توجہی کا شکار تھا ۔ یاور کے بیمار ہوتے ہی اس کی ملازمت بھی ختم ہو گئی تھی ۔ ملک ہاؤس پھر سے تنگ دستی کا شکار ہونے لگا تھا ۔ سارا بوجھ اسفند ملک کے کندھوں پر آن گرا تھا ۔ برھان کو وہ یاور کی زندگی میں باہر پڑھنے بھیج چکے تھے ۔ اس کے خرچے الگ تھے ۔ نوین ملک کی تمام دولت دران کو ٹرانسفر ہونے میں اب کچھ ماہ ہی باقی تھے لیکن تب تک گھر کا سارا خرچہ سنبھالنا ان کے کندھوں پر تھا ۔ قریب سے قدموں کی چاپ سنائی دینے پر ملک اسفند نے جھکا سر اوپر اٹھایا ۔

سیاہ ٹرایوزر شرٹ پہنے دران لاؤنج کے دروازے پر کھڑا ٹکٹکی باندھے ان کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔ وہ شائد جاگنگ سے واپس لوٹا تھا ۔

وہ جانتا تھا ملک اسفند سے ملاقات کا اس سے اچھا وقت کوئی نہیں تھا کیونکہ اس وقت سب لوگ سو رہے تھے اور گھر میں اس کے علاوہ صرف وہی تھے جو اتنی صبح اٹھ جاتے تھے ۔

” دران آؤ آؤ ۔ وہاں کیوں کھڑے ہو۔ “

اسفند ملک کاغذات پر پیپر ویٹ رکھتے پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔ دران نے سپاٹ چہرے کے ساتھ قدم آگے بڑھائے ۔ صوفے کے قریب آ کر وہ پھر سے اسی طرح چپ چاپ رک گیا ۔ ذہن چار ماہ سے کشمکش کا شکار تھا ۔ بہت کوشش کے باوجود وہ یاور کی باتوں کو ذہن سے نہیں نکال سکا تھا ۔

ہر شام گھنٹوں وہ انل کے فلیٹ کی عمارت کے آگے بنے پارک میں بیٹھا یاور کی باتوں کو سوچتا رہتا تھا ۔ صبح سے گھر سے نکلتا اور رات گئے واپس آ کر اپنے کمرے میں بند ہو جاتا ۔

وہ بہت بدل گیا تھا ۔ وہ دران جو جی جی کرتا سب کے کام کرتا تھا اب اول تو سارا دن گھر میں نظر نہ آتا اگر آ بھی جاتا تو ان سنی کرتا پاس سے گزر جاتا ۔ گھر والے اس کے اندر پکتے لاوے سے بے خبر یہ سب یاور سے محبت کا نتیجہ سوچ کر خاموش ہو گئے تھے ۔ اس خاموشی کا روزہ رکھے اسے چار ماہ گزر چکے تھے اور آج وہ انل کے ساتھ جانے کے بجائے گھر واپس آ گیا تھا ۔

” بیٹھ جاؤ ۔ میں بھی تمھارے پاس آنے والا تھا ۔ تمہیں اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لینا چاہیے ۔ “

اسفند ملک نے سامنے صوفے کی طرف اشارے کرتے ہوئے ایک ہی سانس میں بات مکمل کی ۔ دران خاموشی سے صوفے پر بیٹھ چکا تھا ۔ یاور کی بیماری کی وجہ سے وہ اپنا پڑھائی کا ایک سال چھوڑ چکا تھا ۔

” اتنے اچھے نمبر تھے ۔ کسی بھی اچھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن مل جائے گا بلکہ تم ایسا کیوں نہیں کرتے پروفیسر اختر سے مل لو ۔ میں ان سے بات کرتا ہوں تمھارے متعلق “

اسفند ملک نے اختر کے یاد آ جانے پر جوش سے کہا ۔ پروفیسر اختر اسفند ملک کے قریبی دوست تھے اور کراچی یونیورسٹی میں سنئیر پروفیسر کے عہدے پر فائز تھے ۔ دران نے سر کو ہلکا سا جھکایا ۔ بال جو ماتھے پر گرے تھے اب ہوا میں جھول گئے تھے ۔

” کیا ہوا چپ کیوں ہو؟ کوئی پریشانی ہے کیا ؟ کیا حلیہ بنا رکھا ہے ۔ بال اتنے لمبے ہو رہے ہیں ۔ بال کٹواو ۔ شیو بناو ۔ کوئی انسانوں والے حلیے میں آؤ بھئ ۔ “

اسفند ملک اب فکر مندی سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے حلیہ سنوارنے کی تلقین کر رہے تھے جبکہ وہ اسی طرح مجسم بنا بیٹھا تھا ۔

” ایسے حلیے میں مت جانا اختر کے پاس ۔ ڈھنگ کے کپڑے پہن کر اور حلیہ درست کر کے جانا ” اسفند ملک مسلسل اسے سمجھاتے ہوئے ایکدم سے اس کی گہری اور طویل خاموشی کو بھانپتے ہوئے رکے ۔

” دران کیا اماں نے کہا کچھ ؟ یا پھر کسی اور نے ؟ بتاؤ میں خبر ۔۔ “

” میں کس کا بیٹا ہوں ؟”

دران نے ایکدم سر اوپر اٹھائے سپاٹ لہجے میں سوال کیا ۔ اسفند ملک کے آواز تھمی اور آنکھیں حیرت سے ساکن ہوئیں ۔ وہ مردہ سی آنکھیں پوری اسفند ملک پر گاڑے ہوئے تھا ۔ چند سکینڈ کی بے یقینی میں گزری خاموشی کو اسفند ملک کے جواب نے ختم کیا ۔

” مہ۔۔مطلب کس کے کیا نوین بھائی کے بیٹے ۔۔۔”

” میں ان کا بیٹا نہیں ہوں ۔ “

دران سپاٹ لہجے میں پھر سے ان کی بات کاٹ چکا تھا ۔ اسفند ملک کا دماغ اس وقت منجمند ہو چکا تھا ۔ انہیں حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا تھا ۔ وہ بغور ان کو دیکھ رہا تھا ۔ وہ الجھ گئے تھے ۔ دماغ تیزی سے لمحات دہرا رہا تھا کہ کہاں ان سے کوئی ایسی غلطی ہوئی کہ دران آج یہ پوچھ رہا ہے ۔

“تو پھر کس کے بیٹے ہو ؟”

گہری سانس لے کر الٹا سوال کر دیا ۔ دران کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھری ۔

” یہ مجھے نہیں آپ کو پتا ہے ۔ “

چہرے کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے پورے وثوق سے کہا ۔

” مجھے تو یہ پتا ہے کہ تم نوین بھائی کے بیٹے ہو ۔ “

اسفند ملک نے کندھے اچکائے لہجہ بمشکل متوازن رکھنے کی کوشش کی وہ نگاہیں مکمل طور پر نہیں ملا رہے تھے ۔

” یہ کیسے پتا ہے آپ کو ؟ “

برجستہ کہا ۔ اسفند ملک پھر سے چپ ہوئے ۔ ناک کے نتھنے پھولے چہرہ اب سرخ ہو رہا تھا ایسے جیسے کوئی بہت ضبط کر رہا ہو ۔

” دیکھو دران تم بچے ہو ۔ اپنی پڑھائی پر توجہ دو اور۔۔”

” میں بچہ نہیں ہوں ۔ “

ہنوز وہی لہجہ ۔۔۔ٹھہرا لہجہ ۔۔۔ بیزار لہجہ ۔۔۔

” ٹھیک ہے بچے نہیں ہو لیکن گڑے مردے کیوں اُکھاڑ رہے ہو ۔ یہ کیا سُوجھی ہے آج تمہیں ؟”

تیوری چڑھائے پوچھا ۔

” مجھے یاور چاچو سب بتا گئے ہیں ۔ “

دھماکہ کیا تھا ۔ اسفند ملک کا سارا اعتماد پل بھر میں ختم ہوا ۔

” کیا ۔۔ کیا بتا گیا ہے یاور تمہیں ؟ “

اب کی بار اسفند کے چہرے پر غصے کے آثار تھے ۔ ضبط بس جیسے ختم ہونے کو تھا ۔

” آج تک میں خود کو جن کا بیٹا سمجھتا رہا ہوں میں ان کا بیٹا نہیں ہوں ۔ “

” اچھا ۔۔ اور یاور کو یہ سب کیسے پتا تھا ؟ “

اسفند ملک نے اعتماد کو پھر سے چہرے پر سجاتے ہوئے طنزیہ لہجہ اپناتے ہوئے پوچھا ۔ دران نے صرف دیکھنے پر اکتفا کیا ۔

” دیکھو دران ۔ میں نوین بھائی کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ ہی امریکہ سے واپس آ گیا تھا ۔ امریکہ میں انہوں نے ایک یہودی عورت سے شادی کی ہوئی تھی یہ سب جانتے تھے ۔ “

اسفند ملک کا لہجہ سنجیدہ تھا ۔ دران ان کے الفاظ اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے بجائے کچھ اور ہی کھوج رہا تھا ۔

” وہ ماں بننے والی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔ ایک سال بعد تمھاری ماں پاکستان آئی اور تمہیں میرے حوالے کر کے واپس چلی گئ۔ وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی اور تم اس کی اگلی زندگی میں رکاوٹ بن رہے تھے ۔ “

” یاور چاچو نے پھر ایسا کیوں کہا مجھے ! “

دران کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی تھی ۔ اسفند ملک کی بات کو پھر سے کاٹتے ہوئے وہ یاور کی کہی بات پر اٹل تھا ۔

” یاور کو یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی ۔ اسے یہ سب کیسے پتا تھا ؟ اس نے یہ غلط اندازے کیوں لگائے تھا ؟ مجھے اس سب کے بارے میں نہیں پتا ۔ اور میں یہ چاہتا ہوں تم بھی اس بات کو بھول جاؤ۔ “

اسفند ملک نے تیوری چڑھائے ناگواری سے دو ٹوک کہا اور اپنی طرف سے بات ختم کرتے ہوئے سر پھر سے میز پر کھلے کاغذوں پر جھکا دیا ۔

” مجھے میری ماں کا پتہ مل سکتا ہے ؟ “

دران کے اگلے مطالبے نے اسفند ملک کی پیشانی پر موجود شکن کو مزید گہرا کیا۔ جھکا چہرہ ایک جھٹکے سے اوپر اٹھایا ۔ لب بھینچے گھور کر دران کی طرف دیکھا ۔ انیس سالہ دران آج تن کر اس کے سامنے بیٹھا پچھلے دنوں کے دران سے یکسر مختلف لگ رہا تھا ۔

” جب وہ تمہیں مجھے سونپ کر گئی تھی ۔ وہ تم سے اور ہم سے ہر تعلق توڑ گئی تھی ۔ میں کیا وہ خود جان بوجھ کر ہمیں اپنا کوئی اتا پتہ نہیں دے کر گئی ۔ “

” مجھے انھیں تلاش کرنا ہے ۔ “

دران کا لہجہ اٹل تھا ۔ اسفند ملک کے اعصاب تن گئے ۔

” دران تلاش ان کو کیا جاتا ہے جن سے کسی تعلق کی امید ہو ۔ اگر تمھاری ماں کو ذرا سا بھی احساس ہوتا۔ کیا وہ اتنے سال تم سے ملے بنا رہتی ؟ اب تم اسے تلاش کر بھی لیتے ہو تو کیا ۔ ” اسفند ملک اب غصے سے ہوا میں ہاتھ جھلاتے اس کو سمجھا رہے تھے ۔ وہ اب چہرے کے بجائے اسفند ملک کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا ۔

وہ جھوٹ بول رہے تھے ۔ سراسر جھوٹ ۔ بات صرف نوین ملک کے اس کے باپ نہ ہونے تک مخفی نہیں تھی اس سے بھی گہری تھی ۔

” تم نوین بھائی کے ہی بیٹے ہو ہمارا خون ہو ۔ یہ ہی حقیقت ہے اور بس ۔ ماضی کو کریدنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔ تمہارے لیے نوین بھائی اتنا کچھ چھوڑ کر گئے ہیں جو تمہیں سنبھالنا ہے ۔ “

” آپ سب شازیہ پھپھو کے نام کر دیں ۔ “

سپاٹ لہجے میں ان کے ہاتھوں پر ہی نگاہیں گاڑے فیصلہ سنایا۔

” دران ہوش میں تو ہو ؟ “

اب کی بار اسفند ملک کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں ۔ لہجہ اور چہرہ دونوں متعجب تھے ۔

” جی پورے ہوش میں ہوں ۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔ آپ ساری جائیداد شازیہ پھپھو کے نام کر دیں۔ “

دو ٹوک اپنی بات پر ڈٹ کر جواب دیا ۔

” دیکھو دران میں نہیں جانتا کہ یاور تمہیں کیا کہہ گیا ہے کیا نہیں لیکن یہ سچ ہے تم نوین بھائی کا خون ہو اور میں یہ سب جانتے بوجھتے تمھارا حق کسی اور کے حوالے کیوں کر دوں بھلا ؟”

ضبط کی آخری حدود کو چھوتی اسفند ملک کی آواز اب اونچی ہو رہی تھی ۔

” کیا ہوا ہے اسفی ؟ کس پر چلا رہے ہو ؟ “

لاؤنج کے ساتھ ملحقہ چھوٹے کمرے سے آتی دستگیر بیگم کی عمر رسیدہ کانپتی آواز پر اسفند ملک نے کندھے ڈھلکائے سانس باہر انڈیلی ۔ پھر دونوں آبرؤ چڑھائے بغور دران کی طرف دیکھا ۔

” تم بڑے ہو گئے ہو لیکن اتنے نہیں کہ تم جو بھی بکواس کرو گے میں سنتا جاؤں گا ۔ صبح یونیورسٹی میں ایڈمیشن کرواؤ اپنا ۔ میں اختر صاحب سے بات کرتا ہوں ابھی ان سے مل لینا ۔ “

اسفند ملک نے غصے سے گھورتے ہوئے بات ختم کی اور پھر میز پر پڑا موبائل اٹھائے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے جہاں سے دستگیر بیگم اب بھی ان کو پکار رہی تھیں ۔

” اسفی مجھے بستر سے اٹھاؤ ۔ “

” دران ہے کیا باہر اس کو کہو مجھے اٹھائے آ کر ۔ “

” کیا یاور ہی سگا تھا بس اس کا جو ہم سے ہر تعلق توڑے بیٹھا ہے ۔”

” سارا دن گھر سے غائب رہتا ہے ۔ گھر کے کام بھی نہیں کرتا اب ۔ “

دران کے لاؤنج سے باہر جاتے قدموں کے ساتھ ساتھ دستگیر بیگم کی آواز آہستہ آہستہ آنا بند ہوئی ۔ اسفند ملک اس سے بہت کچھ چھپا رہے تھے اور وہ اسے ایسے کچھ بھی نہیں بتائیں گے یہ وہ باخوبی جان چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆☆

” پتہ چلا کچھ آج صبح درانگ نے خاموشی سے شادی کر لی ۔ “

ہاروی کے کان کو لگے فون میں سے بروس کی تردد بھری آواز ابھری ۔ ۔ وہ بنچ پر سفید ٹاول گاؤن میں ملبوس ٹانگیں پسارے بیٹھا , سگریٹ کے کش لگ رہا تھا ۔ گیلے بالوں سے صاف ظاہر تھا وہ کچھ دیر پہلے تیراکی سے فارغ ہوا ہے ۔

” ہاں چلا۔ “

مختصر جواب دیا اور نخوت سے سوئمنگ پول کے بنچ کے پاس پڑے ایش ٹرے میں سگریٹ کی راکھ کو جھاڑا ۔

” تمہیں حیرت نہیں ہوئی کیا ؟ “

بروس نے حیرانگی سے اس کے عام سے لہجے میں جواب دینے پر استفسار کیا ۔ کچھ دیر پہلے ہی خبروں کے ذریعے اسے پتا چلا کہ درانگ نے سادگی سے جویریہ عرف جوی نامی اس لڑکی سے پیپر میرج کر لی ہے ۔

” نہیں “

گہری سانس لی ۔ پاس پڑے گلاس کو اٹھایا اور سگریٹ کے ایک کش کے بعد گلاس کے پیندے میں موجود محلول کو اپنے حلق میں انڈیلا ۔ دوسری طرف بروس خاموش تھا ۔

” وہ پہلے کب اپنی ذاتی زندگی کو لے کر ایسے کوئی اہتمام یا پھر تقریب کرتا ہے ۔ نہ کبھی اپنی سالگرہ منائی نہ کوئی اور خوشی تو شادی بھی ایسے ہی کر لی ۔ اس میں حیرانگی کیا ۔ “

ہاروی کا لہجہ اکھڑا سا تھا ۔ دران کے قصے کے بعد وہ بروس سے اسی لب و لہجے میں گفتگو کرنے لگا تھا ۔

” پھر بھی درانگ ولاس میں پارٹی تو کرتا رہتا ہے نہ؟ یاد نہیں راجر کی کامیابی کے بعد کتنی بڑی پارٹی دی تھی اس نے ؟ “

” ہاں لیکن وہ فلم کی کامیابی تھی ۔ “

برجستہ جواب دیا۔ خالی گلاس کو میز پر رکھا ۔

” مجھے یہ لگتا تھا وہ اس بات کو بہت زیاہ ہائی لائیٹ کرے گا لیکن وہ تو لڑکی کو یوں چھپائے بیٹھا ہے ۔ حیران ہوں کیا سچ میں لڑکی سے پیار کرتا ہے ؟”

بروس کے سوال پر ہاروی نے غصے سے بھنویں سکیڑیں ۔

” نہیں معلوم اور اس سچ کو جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں رکھتا ۔ تم بھی یہ اؤٹ پٹانگ قیاس آرائیاں لگانے کے بجائے بس یہ سوچو اب کیسے اس لڑکی کو درانگ کی اس حفاظتی خول میں سے باہر نکالنا ہے اور شیون تک پہنچانا ہے۔ اس پر الزام لگانے والا حربہ بھی ناکام ہو چکا ہے ۔ “

ہاروی کی کے لہجے میں درشتی اور پریشانی دونوں شامل تھیں۔ دانت پیسے اس نے فون بند کیا اور غصے سے سگریٹ کو ایش ٹرے میں رگڑ دیا ۔ وہ اس ساری پریشانی اور مصیبت کی جڑ بروس کو مانتا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

گہری نیلے رنگ کی پیروں تک آتی فراک پر سرخ سکارف کو گلے میں لپیٹے , بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی بنائے ۔ وہ آہستگی سے درانگ ولاس کے لاؤنج میں روزین کے پیچھے چلتی ہوئی دران کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔

اُس نے روزین کو تمام پینٹ شرٹس اٹھا کر واپس دے دیے تھے اور اپنے لیے تمام لمبی فراک اور سکارف منگوائے تھے ۔ اور آج یہ لباس پہنے وہ خود کو پنٹ شرٹ کی نسبت زیادہ بہتر محسوس کر رہی تھی ۔

لاؤنج میں بیٹھے اسفند ملک اور روبی کی نگاہیں اس پر جمی تھیں۔ وہ باخوبی اپنی پشت پر لاؤنج میں بیٹھے نفوس کی چبھتی نگاہیں محسوس کر سکتی تھی ۔ وہ لوگ دران کے کیا لگتے تھے روزین سے وہ پوچھ چکی تھی ۔ لیکن حیرت اس بات پر ہوئی دران آج ان کو ساتھ کورٹ بھی نہیں لے کر گیا تھا ۔

مکمل سکیورٹی میں وہ , انل اور دران کورٹ گئے تھے وہاں شادی کرنے کے بعد ولاس واپس آ کر دوپہر تین بجے سے وہ اپنے کمرے میں قید تھی ۔

رات کے نو بجے روزین نے کمرے میں آ کر اسے دران کے پیغام کی اطلاع دی کہ وہ آج سے دران کے کمرے میں رہے گی ۔ روزین لاؤنج سے آگے چھوٹی سی راہداری میں موجود پہلے ہی دروازے کے سامنے رک گئی تھی ۔ ایک ہاتھ سے اس کا بیگ تھامے وہ اس کے پہنچنے کی منتظر تھی ۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچی روزین نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی ۔

” آجاؤ “

کمرے سے آتی بارعب آواز پر معنی خیز مسکراہٹ سجائے روزین نے ایک نگاہ اس پر اٹھائی۔

” میم چلیے “

روزین کی مسکراہٹ سے ایک لمحے کو اس نے متذبذب کیفیت میں سامنے دروازے کو دیکھا۔ پھر ہتھے کو دھیرے سے گھماتی اندر داخل ہوئی ۔ داخل ہوتے ہی جہاں نگاہ دلکش کمرے کے منظر سے پتھرائی وہاں سانسیں کمرے میں موجود دران کے کلون کی مہک سے پل بھر میں معطر ہوئیں ۔ واقعی پورا کمرہ اس کی شخصیت کے منفرد ہونے کا ثبوت تھا ۔

روزین اب کمرے سے ملحقہ ڈریسنگ روم میں ایک دیوار پر نصب الماری میں اس کے سامان کو رکھ رہی تھی ۔ دران اب بھی پشت موڑے کھڑا تھا ۔ ایک ہاتھ میں موبائل پکڑا تھا دوسرا جیب میں تھا ۔

سامنے پشت موڑے کھڑا سفید ڈریس شرٹ اور گہری گرے رنگ کی پینٹ میں ملبوس وہ شخص اب اس کا سب کچھ ہو کر بھی اس کا کچھ بھی نہیں تھا ۔

” سر میم کی الماری سیٹ ہو گئی ہے ۔ “

روزین ہاتھ باندھے اسے ڈریسنگ میں جویریہ کے سامنے رکھ دینے سے آگاہ کر رہی تھی ۔

” ہم۔م۔م ٹھیک ہے ۔”

مگن سے انداز می جواب دیا ۔ روزین نے سر ہلایا مڑی اور مسکرا کر ایک نگاہ جویریہ کی طرف دیکھا پھر ہاتھ باندھے یونہی کمرے سے باہر نکل گئی ۔ دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ آہستگی سے مڑا ۔ وہ دونوں ہاتھ سیدھے لٹکائے اس کے بولنے کی منتظر تھی ۔

” آپ یہیں رہیں گی آج سے ۔ کچھ بھی غلط مت سمجھیے گا ۔ میں کسی کو بھی شک میں ڈالنا نہیں چاہتا اس لیے یہ مجبوری ہے ۔ “

متوازن لہجے میں اس کو یہاں بلانے کی وضاحت دی ۔ تھوڑا سا جھکا ۔ موبائل کو صوفے کے سامنے لگے میز پر رکھا ۔

” بے فکر رہیے سمجھ سکتی ہوں ۔ “

پروقار لہجہ تھا ۔ بالکل اس دن والا ۔ کوئی جھجک کوئی گھبراہٹ نہیں تھی ۔ دران نے بھنویں اچکائیں ۔ کیا وہ واقعی اس کی سوچ کو غلط پرکھتا رہا وہ سہمی سی گھبرائی سی نہیں تھی ۔

” مجھے اس رشتے کا اختتام کے لیے وقت درکار ہے ۔ سو اس وقت میں ۔ میں نہیں چاہتا کہ یہاں گھر میں موجود اور اس سے باہر موجود لوگوں کو ہمارے رشتے پر شک گزرے ۔ “

بھنویں سکیڑے بڑے روکھے سے لہجے میں مزید وضاحت دی۔ پتا نہیں کیوں سامنے کھڑی لڑکی کا اعتماد عجیب طرح کے احساسات سے دو چار کر رہا تھا ۔ وہ بہت مضبوط تھی بہت مختلف کیونکہ وہ اس کی سوچ کو پرکھ نہیں پا رہا تھا ۔ ایسی بے چینی اسے کبھی کسی اور کے لیے آج سے پہلے محسوس نہیں ہوئی تھی ۔

” ہوں ۔”

جویریہ نے اس کی وضاحت پر ہلکا سا ہنکارا بھرا ۔پتہ نہیں وہ کیوں اتنی وضاحتیں دے رہا تھا جبکہ وہ شادی سے پہلے سب طے کر چکے ہیں کہ انہیں یہ سب ناٹک کرنا ہے ۔

” آپ آرام کر لیں میں ویسے بھی رات بھر نہیں سوتا ۔ آپ جب صبح اٹھیں گی تو پھر میں نیند پوری کر لوں گا ۔ “

بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نرم لہجے میں حکم صادر کیا اور پھر قدم صوفے کی طرف بڑھائے ۔ میز سے ٹی وی کا ریموٹ اٹھانے کے لیے جھکا ۔

” مجھے نہیں لگتا آپکو رات بھر اس بے آرامی کی ضرورت ہے ۔ میں اس صوفے پر بھی آرام سے سو سکتی ہوں۔ آپ اپنے بیڈ پر آ سکتے ہیں ۔ “

جویریہ کی آواز پر دران نے جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ آبرؤ اوپر چڑھے تھے ۔ وہ اسی طرح اعتماد سے کھڑی تھی ۔ کچھ سکینڈ اسے دیکھنے کے بعد اب وہ صوفے کو دیکھ رہا تھا ۔

” فکر نے کریں میں اس سے بھی کم جگہ پر سو سکتی ہوں ۔”

جویریہ نے اس کے پرسوچ انداز کو دیکھتے ہوئے وضاحت دی ۔ بیڈ پر سے ایک تکیہ اٹھایا اور آہستگی سے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے صوفے کے کشن کو ایک طرف کیا اور وہاں تکیہ رکھ کر درست کیا ۔

جیسے ہی وہ مڑی دران جو اس کی طرف دیکھ رہا تھا فوراً نگاہوں کا زاویہ بدل کر ماتھے کو بلاجواز سہلایا ۔

جب ساتھ رہنا ہی ہے تو پھر اس سے گھبرا کر خود کو کمزور ظاہر کرنے کا کیا فائدہ ۔ بے شک وہ اس دن کی ذلت کے بعد نماز میں بہت روئی تھی لیکن اس سنگدل پر اب وہ اپنے دل کی کوئی بھی کیفیت ظاہر کر کے خود کو حقیر ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسے نماز پڑھ کر سونا تھا دران سے بے نیازی برتتی ہوئی واش روم کی طرف بڑھی ۔

واش روم کا دروازہ بند ہونے پر دران نے گہری سانس خارج کی اور ٹی وی کو ریموٹ سے چلانے کے بعد بیڈ پر آ گیا ۔ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے جوتوں سمیت ٹانگیں نیچے لٹکائے وہ بظاہر چینل بدل رہا تھا ۔ لیکن ذہن اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی کے لیے تیار کر رہا تھا ۔ کچھ توقف کے بعد وہ واش روم سے باہر نکلی ۔

چہرے پر پانی کے قطرے تھے اور سر پر نماز صورت سکارف باندھے اب ڈریسنگ کی الماری کھولے کھڑی تھی جہاں کچھ دیر پہلے روزین اس کا سامان رکھ کر گئی تھی ۔ دران نا چاہتے ہوئے بھی اسے دیکھ رہا تھا اور شک درست ثابت ہوا وہ نماز پڑھنے لگی تھی ۔ جائے نماز تھامے جیسے ہی وہ ڈریسنگ سے باہر کمرے کی طرف آئی ۔ دران ایکدم سے بیڈ کے کراؤن سے الگ ہو کر سیدھا ہوا۔

” یہ کیا کرنے لگی ہیں آپ ؟ “

تیکھے لہجے میں ناک پھلائے سوال کیا ۔ جویریہ کے بڑھتے قدم وہیں تھم گئے۔ حیرت سے اس کے چہرے کے بدلتے تیور کو دیکھا ۔ کنپٹی کی رگیں ابھری ہوئی تھیں جیسے کچھ ضبط کر رہا ہو۔

” نماز۔۔۔ نماز پڑھنے لگی ۔۔”

” نہیں میرے کمرے میں آپ یہ سب نہیں کر سکتی ہیں ۔ “

سخت لہجے میں بات کرتا ہوا وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔

” کیوں اتنا بڑا تو ہے کمرہ ۔۔”

جویرہ نے کمرے کی طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے بات شروع کی ۔

” پلیز ۔۔۔ کہیں اور جائیں اور نماز پڑھنے کے بعد واپس آ جائے گا لیکن میرے کمرے میں مجھے یہ سب نہیں چاہیے ۔ “

انتہائی ناگوار لہجہ تھا ۔ پینٹ کی ایک جیب میں ہاتھ ڈالے وہ اب باقاعدہ جائے نماز کی طرف اشارہ کئے ہوئے تھا ۔

” کہیں اور کہاں جاؤں ؟ “

” یہ میرا مسئلہ نہیں ہے ۔ میرے کمرے میں رہنے کے چند اصول ہیں اور پہلا اصول یہ ہے کہ یہاں جیسے میں کہوں گا ویسے رہنا ہو گا ۔ “

دوسری جیب میں بھی ہاتھ ڈالے گردن کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے وہ کچھ دیر پہلے والی نرمی کو فراموش کئے ہوئے تھا ۔ پہلے اصول میں ہی بات ختم کر دی ۔

جویریہ نے آہستگی سے گردن گھما کر کمرے کا جائزہ لیا نگاہ گھومتی ہوئی سوئمنگ پول کی طرف کھلتے سلائیڈنگ دروازے پر جا ٹکی ۔ ششیے کے بنے دروازے اور دیوار کے پار سارا نظارہ واضح تھا ۔ پول سے پہلے کمرے کے باہر چوڑا اور لمبا برآمدہ تھا ۔

” میں وہاں تو پڑھ سکتی ہوں نہ۔ ؟ “

انگلی کا اشارہ شیشے کے پار موجود برآمدے کی طرف کرتے ہوئے پوچھا ۔ دران نے بھینچے لب کھولے ہی تھے کہ وہ فوراً پھر سے بول اٹھی ۔

” دیکھیں وہ تو آپ کے کمرے کی جگہ نہیں ہے۔ تو مجھے نہیں لگتا آپکو وہاں بھی کوئی مسئلہ ہونا چاہیے “

وہ ایک ہی سانس میں تڑاخ سے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتی دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔

دروازے کو سرکاتے ہوئے کھولا ۔ باہر آتے ہی جیسے شدید سردی کے باعث دانت بجنے لگے ۔ تیزی سے برآمدے کے سفید فرش پر جائے نماز بچھایا اور نماز شروع کر دی ۔

وہ بیڈ پر پھر سے اسی حالت میں آ کر بیٹھ چکا تھا لیکن نگاہ بار بار باہر شیشے سے پار اس کے وجود پر ٹک رہی تھی ۔ جو بڑے انہماک سے نماز پڑھنے میں مصروف تھی ۔ یوں پہلی دفعہ کسی کے ساتھ کمرہ بانٹنے میں عجیب سی الجھن پہلے ہو رہی تھی اوپر سے محترمہ پوری اکڑ دکھا رہی تھیں ۔ اس کے سلام پھیرنے پر فوراً نگاہوں کا زاویہ ٹی وی کی طرف موڑا ۔

نماز پڑھنے کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوئی تو کانپ رہی تھی ۔ جائے نماز رکھنے کے بعد آکر صوفے پر جانے کے بجائے اس کے سر پر آ کھڑی ہوئی ۔

” ایک کمفرٹر چاہیے مجھے ۔ “

دران نے ٹی وی پر سے نگاہیں موڑے اس کی طرف دیکھا ناک , گال سرخ ہو رہے تھے ۔ ایک نگاہ اپنے بیڈ پر پڑے کمفرٹر پر ڈالی ۔

” یہ لے لیں ۔ “

اشارہ کمفرٹر کی طرف کیا ۔

” یہ بہت بڑا ہے ۔ میں صوفے پر اسے کیسے سنبھالوں گی ۔ “

وہ ایک جھٹکے سے پیشانی پر بل ڈالے اٹھا۔

” آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا آپ کو کمرے میں آئے اور مسائل ہیں کے ختم نہیں ہو رہے ۔ میں جب کہہ رہا ہوں آپ بیڈ پر سو جائیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں تو بات کیوں نہیں سمجھ آتی آپکو ۔”

دانت پیستے ہوئے وہ اس پر رعب سے ایسے غرایا کہ لمحہ بھر کو تو جوی سٹپٹا گئ ۔

” جائیں اور لیٹں وہاں جا کر ۔ “

نخوت سے ناک چڑھائے حکم صادر کیا ۔ وہ اس کے یوں سختی سے بات کرنے پر لرز گئ لیکن فوراً خود کو سنبھالا

” مسٹر دران ملک ناٹک کا مطلب یہ نہیں کہ میں آپکی غلام ہوں ۔ یہ بات آپ مجھے آرام سے بھی سمجھا سکتے ہیں ۔”

دران جو ناک پھلائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے جواب پر ضبط اور جواب دے گیا ۔

” اتنی دیر سے میں آرام سے ہی سب کچھ سمجھا رہا ہوں اور میں اتنی دیر ہی آرام سے بول سکتا ہوں ۔ “

لب بھینچے جواب دیا ۔ کیا ہے یہ مصیبت گلے ڈال لی ۔

” دیکھو دوسرا اصول یہ ہے کہ ہم کمرے میں آپس میں کوئی بات نہیں کریں گے ۔ مجھے ایسا محسوس کرنا ہے کہ یہاں اب بھی کوئی نہیں ۔ اس لیے فار گاڈ سیک جاؤ اور سو جاؤ “

دران کے تنے اعصاب اب جواب دے رہے تھے ۔ مزید بحث کرنے کے بجائے وہ سر جھکائے بیڈ کی دوسری طرف جا کر کمفرٹر سر تک اوڑھے لیٹ گئی ۔

آہستہ آہستہ تکیہ نمکین پانی سے بھیگنے لگا ۔ دران نے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔ سگریٹ کیس میز پر سے اٹھایا اور دروازہ کھولے کمرے سے باہر برآمدے میں آ گیا ۔

برداشت بہت سال پہلے وہ ختم کر چکا تھا ۔ اب پانچ سالوں میں اتنا کچھ بدل چکا تھا ۔ اس کے منہ سے نکلتا دھواں ٹھنڈی ہوا میں گھل رہا تھا ۔ تنے اعصاب سگریٹ کے کش لگانے سے پرسکون ہونے لگے ۔

☆☆☆☆☆

باسل

✍️بقلم: ہما وقاص

قسط نمبر 23

دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں بارہ بجا رہی تھیں ۔ درانگ ولاس کی اوپری منزل کے اس کشادہ کمرے میں اسفند ملک پرسوچ آنکھوں کی پتلیوں کو ٹی وی کی چلتی سکرین پر جمائے صوفے پر براجمان تھے اور روبی سنگہار میز کے سامنے لگے سٹول پر بیٹھی سونے سے پہلے اپنے میک اپ سے دھلے چہرے پر مختلف کریموں کے مساج کر رہی تھی ۔ پیشانی پر انگنت گہری سوچ کی لکیریں تھیں ۔

دران نے آج چپ چاپ شادی کر کے ان کی اپنی زندگی میں حثیت واضح کر دی تھی ۔ دوپہر سے روبی کانٹوں پر لوٹ رہی تھی ۔ اسفند ملک نے گہری سانس خارج کیے ریموٹ سے ٹی وی بند کیا اور کچھ پل آئینے میں نظر آتے روبی کے پریشان حال عکس کو دیکھا ۔ وہ اترے چہرے کے ساتھ آنکھیں جھکائے ہاتھوں پر کریم کا مساج کر رہی تھی ۔

” اتنا اپ سیٹ ہونے کی ضرورت نہیں دیکھا نہیں معصوم سی لڑکی ہے ۔ میرا خیال ہے ہمیں ایکسیپٹ کر لینا چاہیے ۔ لیو اٹ ۔ ریلیکس ہو جاؤ “

اسفند ملک خود کو پرسکون کرنے کے بعد اب اسے بھی سمجھا رہے تھے جس کی نیند اڑی ہوئی تھی ۔

” اسفی معصوم دکھ رہی ہے ۔ ہے نہیں ۔ مجھے تو بہت شاطر لگتی ہے۔ “

ہاتھوں کو ملتے ہوئے آئینے میں نگاہ اٹھائے اسفند کی عکس کو دیکھ کر جواب دیا ۔

” تم بلاوجہ خود کا خون جلائے جا رہی ہو ۔ اچھی طرح جانتی ہو دران پر ہمارا کوئی بس نہیں اب ۔ اس کا یہ احسان کم ہے کہ ہمیں یہ اعلی شان لائف سٹائل دے رکھا ہے ۔ یہاں دنیا کی ہر چیز ہے ہمارے پاس ۔ “

اسفند ملک نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے پرسکون لہجے میں وہی بات دہرائی جو روبی کی ہر پریشانی کا واحد حل ہوتی تھی اس کے پاس ۔ روبی ایکدم سے سٹول پر گھوم کر اسفند ملک کی طرف مڑی ۔

” اسی بات کی تو پریشانی ہے ۔ اس لڑکی کی وجہ سے یہ سب چھن جائے گا ہم سے ۔ آپ مانیں نہ مانیں اسفی مجھے تو کوئی اور چکر لگتا ہے ۔ “

بھنویں نچاتے ہوئے وہ اب گہری سوچ میں گم اسفند ملک کو اپنے دل و دماغ میں اٹھتے وسوسوں سے آگاہ کر رہی تھی ۔

” کیسا چکر ؟”

اسفند ملک نے بھنویں اکٹھی کیں ۔

” آپ خود سوچیں وہ دران جو سبرینا , رانیہ اور رینا جیسی حسین لڑکیوں کو ٹھکرا سکتا ہے اسے اس عام سی لڑکی میں کیا نظر آیا ؟ ضرور اس لڑکی نہ کچھ کروایا ہے دران پر “

” اوہ بس کرو روبی کیا یہ عجیب باتیں سوچ رہی ہو ۔ مجھے تو کسی اینگل سے وہ معمولی نہیں لگی اس دن پریس کانفرنس میں دیکھا نہیں اس کو ۔ رنگت ہی تھوڑی دبتی ہے بس اچھی خاصی لڑکی ہے ۔ “

اسفند ملک نے کندھے اچکائے اس کی بات کو رد کیا ۔ اسفند ملک کے منہ سے یوں جویریہ کی تعریف سن کر روبی کے لبوں کے ساتھ آنکھوں کی پتلیاں تک سکڑ گئیں ۔

” آپ کو تو میرے علاوہ دنیا کی ہر عورت حسین لگتی ہے ۔ “

تپاک سے کہتی اپنی جگہ سے اٹھی چہرہ خفگی کے باعث پھول گیا ۔ اسفند ملک کے چہرے پر شریر سے مسکراہٹ امڈ آئی ۔

” اور تمہیں اپنے علاوہ ہر عورت بری لگتی ہے ۔ محبت ہونے کے لیے کیا صرف شکل اچھی ہونا ضروری ہے ؟ کہاں لکھا ہے یہ ۔ محبت تو دلوں کا میل ہے اور مجھے لگتا ہے اس لڑکی میں کچھ تو ایسا خاص ہے جو دران جیسا لڑکا اس پر یوں فدا ہو گیا ہے ۔”

” مجھے ہر عورت تو بری نہیں لگتی لیکن فلحال یہ لڑکی بہت بری لگ رہی ہے کیونکہ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے دران کے ساتھ ساتھ آپ بھی فدا ہو گئے ہیں اس پر ۔ “

روبی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا ۔ اسفند ملک کا قہقہ فضا میں گونجا ۔

” خوفِ خدا کرو کچھ یار میری بیٹیوں جیسی ہے وہ اور چھوڑو بھی اگر تمھارے اندازے ٹھیک ہوئے تو زیادہ عرصہ ساتھ نہیں رہیں گے دونوں ۔ یہ شوبز کے ستارے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ان کی شادی زیادہ عرصہ نہیں چلتی ۔ “

” میں چلنے بھی نہیں دوں گی۔ “

روبی نے پلٹ کر بڑے وثوق سے اپنا ارادہ بتایا اور ناک پھلائے قدم باتھ روم کے دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔ اسفند ملک نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا ۔

☆☆☆☆☆☆

نیند سے بوجھل آنکھیں آہستگی سی کھلیں ۔ آنکھوں میں درد کی ٹیس اور بھاری پن محسوس ہوا شائد رات سونے سے پہلے بہت دیر رونے کی وجہ سے تھا ۔ کمفرٹر اب بھی چہرے پر تھا ۔ روتے روتے اتنی گہری نیند میں وہ کب گئی پتا ہی نہ چلا ۔ دھیرے سے چہرے سے کمفرٹر کو ہٹایا ۔

دیوار میں نصب جہازی سائز ٹی وی سکرین کی روشنی کے باعث اندھیرے میں ڈوبا کمرہ مختلف رنگ بدل رہا تھا البتہ ٹی وی کی آواز بند تھی ۔ وہ کب باہر سے کمرے میں آیا خبر نہیں ہوئی ۔ بڑی احتیاط سے وہ بیڈ پر سے اٹھی ۔ اٹھتے ہی نگاہ صوفے پر اُٹھی ۔

دران کشن کو بانہوں میں بھینچ کر سینے سے لگائے صوفے کی لمبائی رخ نیم دراز سو رہا تھا ۔ ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے آلارم گھڑی اُٹھائی ۔ صبح کے ساڑھے چار بج رہے تھے ۔

بیڈ سے اتر کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی صوفے تک آئی ۔

ٹی وی کی روشنی دران کے چہرے کے رنگ کو بھی بدل رہی تھی ۔ گھنی پلکیں موندے وہ معصومیت کی انتہا کو چھو رہا تھا ۔ سفید شرٹ کی آستین تھوڑی سی کلائیوں تک مڑی ہوئی تھیں ۔ شرٹ میں جگہ جگہ شکن پڑ گئے تھے ۔ پاؤں میں جرابیں موجود تھیں ۔

بدلتی رُ ت جیسا وہ شخص اس وقت اس کی آنکھوں میں موجزن محبت کے سمندر سے یکسر بے خبر گہری نیند میں تھا ۔ کچھ حاصل نہیں وہ سراب تھا فقط ایک حسین خواب اور ایک دن اسے اس خواب سے بیدار ہونا ہے ۔

دران سے ملاقات اس کا خواب تھا ۔ وہ پورا ہونے کے بعد دل نے اس کو پا لینے کا خواب دیکھا اور اللہ نے جھٹ سے وہ بھی پورا کیا لیکن ساتھ یہ بھی سمجھا دیا ہر خواب حقیقت بن جائے تو ضروری نہیں وہ خواب ہی کا طرح حسین ہو ۔کچھ خواب حقیقت کا روپ دھار کر بھی منزل نہیں ہوا کرتے ۔ یونہی دران کے وجہیہ چہرے پر نگاہیں جمائے وہ استہزئیہ اپنے دل کی حالت پر مسکرا دی ۔

تھوڑا سا جھکی اور بے اختیار اس کا کندھا ہلا دیا پہلی دفعہ کندھا ہلانے سے ہی اس نے ہلکا سا کسمسا کر موندی پلکیں اٹھائیں ۔ کسلمندی سے خود پر جھکی جویریہ کو دیکھا ۔

” وہ بیڈ پر چلے جاتے آپ اب ۔ میری نیند پوری ہو گئی ہے۔ “

اپنی بے اختیار حرکت پر ایک لمحے کو تو وہ سٹپٹا گئی پھر فوراً اسے جگانے کی وجہ بتائی ۔ دران جو ذہن پر زور ڈال رہا تھا کہ وہ اس وقت اس کے کمرے میں کیا کر رہی ہے ایکدم سے سب یاد آ گیا ۔ وہ تو پہلے بھی اکثر ٹی وی دیکھتے ہوئے سو جاتا تھا فرق صرف اتنا تھا تب بیڈ پر اور نائٹ گاؤن میں ملبوس ہوتا تھا ۔ آج اس کی وجہ سے پینٹ شرٹ میں ہی سونا پڑا اور اب خود پر جھکی لڑکی پر بے پناہ غصہ آیا ۔

” مجھے نیند سے اٹھانے کی کیا ضرورت تھی ۔ “

چڑچڑے لہجے میں الٹا سوال داغا ۔ وہ خفت سے لبوں کو میچ کر سیدھی ہوئی ۔ دران اب ماتھے پر بل ڈالے گھور رہا تھا ۔

” اصول نمبر تین میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ جاؤ سو جاؤ جا کر۔ “

” مجھے اب نہیں سونا میں تو اٹھ گئ ہوں نماز پڑھوں گی ۔ اسی لیے جگا دیا ۔ “

فوراً وضاحت دی ۔

” میں نے آپ کو کہا تھا کہ اپنی شفٹ پوری کرنے کے بعد مجھے آ کر بتائے گا ؟ “

ہنوز تیوری چڑھائے طنزیہ سوال کیا ۔ جویرہ کا چہرہ خفت کے باعث زرد پڑا ۔ کتنا بدتمیز تھا وہ ۔

” تیسرا اصول اب بتایا ہے آپ نے ۔ آئیندہ خیال رکھوں گی اس بات کا ۔ “

سپاٹ لہجے میں سرعت سے جواب دیتی وہ وہاں رکی نہیں تھی تیز تیز قدم واش روم کی طرف بڑھا دیے ۔ دران نے جھنجلا کر کشن ایک طرف مارا اور سر کے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جکڑا ۔

” کیوں اتنا روڈ ہو رہا ہوں میں اس سے ۔ لیکن وہ بھی تو بیوی بن رہی ہے ۔ ” ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔ ٹی وی بند کیا اور بیڈ کی طرف قدم بڑھا دیے ۔

☆☆☆☆☆☆

لکڑی کے بوسیدہ بند دروازے پر دھڑا دھڑ ہاتھ مارتے ہوئے وہ پوری قوت سے چلا رہی تھی ۔

” امی دروازہ کھولیں ۔۔”

آنسؤں سے تر چہرہ پھٹے خون اور مٹی میں اٹے کپڑے ۔ وہ لگاتار سٹور کا دروازہ بجا رہی تھی ۔ ماتھے سے خون بہہ کر گردن تک آ چکا تھا ۔ ایک آنکھ سوزش کے باعث تقریباً سرخ ہو رہی تھی ۔ آسمانی رنگ کے جوڑے پر جا بجا رگڑوں کے اور خون کے دھبے تھے ۔

” سنانا ۔۔۔ جووت کھولو دروازہ ۔ مَیری تم کھولو دروازہ۔ ایک دفعہ میری بات تو سن لو تم لوگ ۔ “

دروازے کو پیٹتے ہوئے وہ مسلسل چیخ رہی تھی ۔ مجال ہے کوئی سن رہا ہو۔

سب ٹھیک ہو گیا تھا ان دو ماہ میں ۔ جان کی صحت اچھی ہو گئی تھی وہ سٹور میں صفائی کرنے کے لیے بھی جانے لگا تھا ۔ جووت کو آمنہ کے ماموں نے اپنے اثر و رسوخ سے لڑکے کے گھر والوں کو پیسے دینے کے بعد کیس معاف کروا دیا تھا ۔ سنانا کی راہبر کے ساتھ منگنی ہو گئی تھی ۔

اور دو ماہ پرسکون گزرنے کے بعد جووت کو ہی کہیں سے یہ خبر ملی کہ وہ اسلام قبول کر چکی ہے ۔ گھر آتے ہی اس نے واویلا مچا دیا اور جس وقت وہ ٹیوشن سے فارغ ہو کر گھر پہنچی گھر میں ایک قیامت کا سماں برپا تھا ۔

اس کی اسلامی کتابیں جائے نماز سب سٹور سے برآمد کر لیا گیا تھا ۔ وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی جووت اس پر جھپٹ پڑا جان اور جووت نے اسے مار مار کر ادھ موا کر کے اب سٹور میں بند کر دیا تھا ۔ گھر میں کسی کی موت ہو جانے جیسا سماں تھا ۔ کتنی دیر دروازہ پیٹنے کے بعد تھک ہار کر وہ دروازے سے ٹیک لگاتی وہیں بیٹھ گئی ۔

گھٹنوں میں چہرہ دیے ابھی یونہی بیٹھے چند منٹ ہی گزرے تھے جب باہر سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں ۔ وہ دہل کر اپنی جگہ سے اُٹھی ۔

” امی ۔۔۔ کیا ہو رہا ہے باہر ۔ سنانا کھولو دروازہ۔ “

گھبراہٹ کے باعث دل خوفزدہ ہو کر زور زور سے دھڑکنے لگا باہر سے سب کے رونے کی اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔

” جوی , ابا , کوئی تو سنو کھولو دروازہ ۔ “

دروازے کی کنڈی اچانک سے کھلی اور دروازہ کھلتے ہی اس کے گال پر زناٹے دار تھپڑ پڑا۔ سرخ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے مریم اس کے سامنے کھڑی تھی ۔

” آگ لگا رہا تیرا باپ خود کو منحوس جشن منا بچھا لے جائے نماز ۔ “

مریم نے گلا پھاڑ کر کہا اور تیزی سے پلٹی وہ ایک لمحے کے لیے بات سمجھنے کو ساکن ہوئی اور پھر پاگلوں کی طرح مریم کے پیچھے بھاگی ۔

” جوی ابا نے پٹرول چھڑک لیا ہے آگ لگانے جا رہے ہیں خود کو رکو ان کو ۔” سنانا کی چیختی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی اور ٹانگیں کانپ گئیں ۔ سر پٹ بھاگتی وہ کمرے میں پہنچی جان ہاتھ میں ماچس لیے کھڑا تھا ۔ میری ٹانگوں سے چمٹی ہوئی تھی ۔ کمرے کا فرش گیلا تھا پٹرول کی تیز خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی ۔ جووت شائد گھر میں نہیں تھا ۔

” ابا کیا کرنے جا رہے ہیں یہ “

پھٹی آواز میں چیختی ہوئی ایک ہی جست میں وہ جان تک پہنچی ۔ جو اب ماچس کی ڈبی کو کھول چکا تھا ۔

” مریم اسے میرے قریب نہ آنے دینا ۔ “

جان نے اونچی آواز میں گرج کر کہا اور ہاتھ سیدھا تانے اسے اپنے قریب آنے سے روکا ۔

” ابا۔ا۔ا۔ا مت کریں ایسا پلیز اباا۔ا۔اہ۔ہ”

آگے بڑھ کر وہ جان کے بازو سے لٹک گئی ۔ کمرے کر فرش پر پٹرول کے چھینٹوں کے ساتھ ماچس سے نکلی ساری تیلیاں بکھر گئیں ۔

” مجھے مرنے دو یا خود مر جاؤ ۔ ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تم نے ۔ “

جان نے ایک دم اس سے اپنا بازو چھڑوانے کے لیے ایک جھٹکا دیا ۔ جان اب باقی بچی تیلیوں میں سے تیلی نکالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

” ابا مجھے دے دیں ماچس ۔ ابا “

وہ جھٹکا کھا کر پیچھے ہوئی لیکن پھر اگلے ہی پل پھر سے جان کے بازو سے جھول گئی ۔

” پیچھے ہٹ جاؤ میں تمھارا گلا دبا دوں گا ۔ “

جان نے ایک دم اپنا بازو چھڑوا کر اس کے گلے کو دبوچ لیا ۔ جوی نے اپنی بانہیں ڈھیلی چھوڑ دیں ۔ جان کے ہاتھوں کی گرفت اس کی گردن کے گرد بڑھ رہی تھی ۔ چند سکینڈ میں ہی سانس بند ہونے جیسا احساس ہونے لگا ۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔ جان وحشت زدہ سرخ چہرے کے ساتھ پوری قوت لگائے ہوئے تھا ۔ جوی کوئی مزاحمت نہیں کر رہی تھی ۔ باہر کو ابلتی آنکھوں سے نکلتا پانی اب گال بھگو رہا تھا ۔

” جان ۔۔ جان کیا کر رہے ہیں مر جائے گی وہ ۔ چھوڑو اسے “

بلکتی چیختی مریم جان کے کندھے جھنجوڑ رہی تھی ۔ میری کے مسلسل رونے کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔

” ابا مر جائے گی چھوڑیں ۔۔۔ ابا چھوڑ دیں ۔ ” سنانا بلک رہی تھی اس کی آنکھوں کے سامنے سب دھندلانے لگے ۔

” اے اللہ میری موت کے وقت مجھے کلمہ پڑھنا نصیب ہو ” اپنی مانگی دعا ذہن میں گونجی اور دل کلمہ پڑھنے لگا ۔

اچانک جان کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی ہوئی اور وہ ایک طرف لڑھک گیا ۔ جان کے ہاتھوں کی گرفت ختم ہوتے ہی ایک گہری سانس کے ساتھ اسے شدید کھانسی کا دورہ پڑا ۔ وہ کھانس رہی تھی جبکہ باقی سب اب جان پر جھکے تھے ۔

” ابا ۔۔ ابا اٹھیں ۔۔۔ “

” جان جان آنکھیں کھولیں ۔ ۔۔ “

کانوں میں پڑتی آوازیں مدھم سے اب واضح ہو نے لگیں ۔ وہ جو کھانستے کھانستے بیٹھ گئی تھی ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی ۔ جان آنکھیں بند کئے زمین پر چت لیٹا تھا ۔

” میں میں ٹیکسی لے کر آتی ہوں ۔ “

پھٹی آواز میں کہتی وہ پاگلوں کی طرح صحن کی طرف بھاگی ۔

☆☆☆☆☆☆

کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کرنے کے بعد وہ باہر نکلی ۔ ہلکے زرد رنگ کے فراک پر سفید بڑے بڑے پھول بنے تھے ۔ فراک لمبی میکسی کی طرح تھی ۔ آستین پورے اور چوڑی دار تھے ۔ گلے میں سفید سکارف کو گھمائے , بالوں کی ڈھیلی سی پونی کیے وہ اب بند دروازے کے آگے کھڑی سامنے راہداری کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

دوپہر کا ایک بج رہا تھا ۔ دران تو گدھے گھوڑے بیچ کر ایسا سویا کہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ آج تو روزین بھی ناشتے کا یا لنچ کا پوچھنے نہیں آئی تھی ۔ تھک ہار کر وہ اب کمرے سے باہر آ گئی تھی ۔ چمچاتی سفید فرش والی راہداری سے آگے لاؤنج کی طرف قدم بڑھائے وہ ارد گرد لگی پینٹنگز اور سجاوٹی چیزوں کو دیکھ رہی تھی ۔ سفید رنگ کے بند جوتوں میں مقید پاؤں بنا آواز کے فرش پر آگے بڑھ رہے تھے ۔

کمرے سے باہر نکلنے کا مقصد صرف روزین کو تلاش کرنا تھا ۔ ابھی وہ راہداری سے گزر کر لفٹ کے پاس لاؤنج کی سیڑھیوں تک پہنچی تھی جب عقب سے ایک مردانہ آواز نے قدم روک دیے۔

” پہلے میں سمجھتا تھا لوگ بکواس کرتے ہیں کہ دران ملک سنکی ہے ۔ سر پھرا ہے۔ “

جوی چونک کر پلٹی ۔ برھان لفٹ کے دروازے کے آگے کھڑا تھا ۔ سفید پینٹ گرے ٹی شرٹ اور جل زدہ بالوں کو بڑے سلیقے سے پیچھے کیے وہ زہریلی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کھڑا تھا ۔ ہاتھ میں موبائل تھامے وہ کہیں جانے کے لیے تیار تھا ۔

” لیکن اب یقین ہو گیا ہے وہ سنکی ہی نہیں ایک نمبر کا بیوقوف بھی ہے ۔ “

مسکراہٹ گہری ہوئی ۔ وہ چند قدم چلتا ہوا جویریہ کے بالکل سامنے آ گیا تھا ۔ چبھتی نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ اس کی نگاہیں عجیب طرح گھٹن کا شکار کر رہی تھیں ۔ وہ سر سے پاؤں تک اسے حقارت سے جانچ رہا تھا ۔ برھان سے یہ اس کا باقاعدہ پہلی دفعہ آمنا سامنا تھا ۔

” ہیلو ۔۔۔۔میں برھان ملک ۔ رشتے میں چھوٹا دیور لگتا ہوں تمھارا۔ “

تاہنوز استہزئیہ مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھایا ۔ جویریہ نے ایک نظر مصاحفے کے لیے بڑھائے ہوئے اس کی ہاتھ پر ڈالی اور پھر بلاجواز سکارف کو گلے پر درست کرتی ایک طرف ہوئی ۔ اس سے پہلے کے وہ قدم آگے بڑھاتی برھان اچک کر پھر سے اس کے سامنے آیا ۔

” واؤ۔و۔و۔ رب نے بنا دی جوڑی ۔ شکل نہیں تو اکڑ تو دران جیسی ہی ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ ایک جیسی اکڑ والی جوڑی کا ٹائم پریڈ کتنا ہے ۔ “

ایک اور طنز کا تیر تھا ۔ وہ اب نگاہیں اور سر مزید جھکا چکی تھی ۔ وہ بلا وجہ اس کی کسی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی ۔

” وَل اب ملاقات تو ہوتی ہی رہے گی ۔ نائس ٹو میٹ یو بھا۔۔۔۔بھی ۔۔”

تھوڑا سا گردن کو خم دیتا وہ اس کے جھکے چہرے کو دیکھ کر ایک دم سے پلٹا اور پھر سیٹی بجاتا لاؤنج کی طرف بڑھ گیا ۔ اس کے جاتے ہی ہوائیاں اڑے چہرے کے ساتھ وہ واپسی کے لیے قدم بڑھا رہی تھی ۔ جب ایکدم لفٹ کھلی اور اسفند ملک اور روبی لفٹ میں سے باہر نکلے ۔

” اسلام علیکم “

بے اختیار نے اس نے دونوں کو سلام جھاڑا۔ لہجہ ابھی بھی برھان کی بے تکی باتوں کی وجہ سے اندرونی گھبراہٹ کا غمازی تھا ۔ روبی نے تو ناک بھینچے چہرے کا رخ موڑ لیا البتہ اسفند ملک نے بڑی خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ سلام کا جواب دیا ۔

” وعلیکم سلام ۔ “

وہ بھی جواباً مسکرائی اور اس سے پہلے کے پلٹتی اسفند ملک کی آواز پر پھر سے رک گئی ۔

” دران دیر سے اٹھتا ہے ۔ ہمارے ساتھ ناشتہ کرو ۔”

اسفند ملک کا لہجہ اب بھی محبت بھرا تھا ۔ حیرت ہے وہ لوگ دوپہر کے ایک بجے ناشتہ کرنے لگے تھے ۔

” دران جلدی بھی اٹھے تو کونسا ہمارے ساتھ بیٹھتا ہے ۔ “

اسفند ملک کی بات پر روبی نے کٹیلے لہجے میں طنز برسایا ۔

“دران کو چھوڑو بیٹا ۔ آؤ تم چلو ہمارے ساتھ ۔ ناشتہ لگ چکا ہے ۔ ” اسفند ملک نے فوراً روبی کی بات کو گھیراؤ کیا ۔ اور ڈائنگ ہال کی طرف اشارہ کیا ۔

ان کا لہجہ اور انداز ایسا تھا کہ جوی مسکراتے ہوئے آگے بڑھی ۔ کھانے کے کمرے میں ڈائنگ میز پر ناشتے کے تمام لوازمات سج چکے تھے ۔ روزین وہیں ہاتھ باندھے کھڑی تھی ۔ جوی کو دیکھ کر مسکرائی ۔ ٹوسٹ , مختلف تازہ جوس , جیم , ماملیٹ , انڈے , آملیٹ , اتنا ڈھیر سارا ناشتہ صرف دو بندوں کے لیے سجایا گیا تھا ۔ میز پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالتی وہ کرسی پر براجمان ہوئی ۔

” دران نے ہمارا تعارف تو کروا دیا ہو گا ؟”

کرسیوں پر بیٹھتے ہوئے اسفند ملک کے جواب پر وہ ایک لمحے کے لیے متذبذب ہوئی ۔ دران کا تعارف یاد آیا ۔

” جی”

آہستگی سے جواب دیا ۔ روزین اب سب کے سامنے پلیٹ سجا رہی تھی ۔

” ضرور کچھ برا ہی بتایا ہو گا ہمارے بارے میں ۔ “

روبی کا طنز بھرے لہجے میں کہا گیا جملہ گونجا ۔ جویریہ نے چونک کر دیکھا ۔ وہ ناک پھلائے بیٹھی تھی ۔

” نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں کہا انہوں نے ۔ “

مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ۔

” روبی بتا رہی تھی آپ کراچی سے ہو ۔ کراچی کے کس علاقے سے ہو ؟ “

اسفند ملک کے سوال پر ٹوسٹ کو اٹھاتے ہاتھ ایک پل کو تھمے ۔ روبی بڑے نازک اندام انداز میں جوس پیتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی ۔ پینٹ شرٹ میں جدید فیشن سے لیس وہ عورت گھر میں بھی ایسے تیار تھی جیسے وہ کسی تقریب میں جا رہی ہو ۔

” ڈیفنس “

جویریہ نے زبردستی مسکراہٹ سجائے دران کا سکھایا ہوا جھوٹ بولا ۔ گلا صاف کیا ۔ ٹوسٹ کی چھوٹی سی بائیٹ لی ۔

” اوہ گڈ اور آپ کے پیرنٹس ؟ “

اسفند ملک نے سر ہلاتے ہوئے اگلا سوال پوچھا ۔ روبی نے اسفند کے گلاس میں جوس انڈیلتے ہوئے تیکھی نگاہیں اس پر جمائیں جیسے اس کا جھوٹ پکڑ رہی ہو ۔ وہ ٹوسٹ کو آہستگی سے چبا رہی تھی ۔ دو سکینڈ کا توقف لیا ۔ پیرنٹس کے سوال پر ایک دم سے دل میں ٹیس اٹھی ۔ گلے میں اٹکتی پھانس کو نگلا ۔

“میرے اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے تعلق ختم کر دیا تھا مجھ سے ۔ “

اس سوال کا جواب جھوٹ نہیں تھا ۔ روبی نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ انل کی آواز آنے پر منہ پھر سے بند کیا ۔

” ہیلو گڈ آفٹر نون اویری ون “

وہ ٹی شرٹ اور ٹرائیوزر میں ملبوس آج یکسر مختلف لگ رہا تھا ۔ اسفند ملک سے ہاتھ ملانے کے بعد جویریہ کے ساتھ مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ۔ اس سے پہلے اب تک جویریہ نے اسے ہمیشہ پینٹ کوٹ اور ٹائی میں ہی دکھا تھا ۔ وہ کرسی کو پیچھلے دھکیلتے ہوئے بیٹھ رہا تھا ۔ انل کے آ جانے پر اس نے سکھ کا سانس لیا اسفند ملک اب انل سے باتوں میں مشغول ہو چکے تھے ۔ وہ سر جھکائے آہستگی سے ٹوسٹ چبانے لگی ۔

☆☆☆☆

دوپہر تین بجے بیرولی ہلز میں آج سورج بہت دن بعد پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔ گہرے نیلے رنگ کی بوگاٹی ایٹلانٹک تار کول میں لپٹی شفاف سڑک پر منگولیا بیکری کو پیچھے چھوڑتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی ۔ دران ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوئے تھا جبکہ انل اس کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان تھا ۔ آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے سیاہ لیدر جیکٹ کے نیچے سفید ٹی شرٹ پہنے وہ چہرے پر بلا کی سختی سجائے ہوئے تھا ۔ انل کچھ دیر خاموشی سے اس کو گھورنے کے بعد اب اپنا رخ اس کی طرف موڑ چکا تھا ۔

” کب تک چلے گا یہ سب ؟ “

انل کی آواز پر اس نے چونک کر ایک نگاہ اس پر ڈالی اور پھر سامنے شیشے پر جما دی۔ انل بار بار بیک مرر سے بیکری کو دیکھ رہا تھا جہاں سے کچھ دیر میں ہی لڑکی نے باہر آنے والی تھی ۔

” کیا ؟ “

انتہا کو چھوتا انجان پن تھا ۔ ہر مہینے کی طرح آج بھی گارڈ کو پیسے دینے کے بعد وہ فوراً وہاں سے نکلے تھے ۔ دران وہ پیسے بیکری میں ملازمت کرتی جیسی?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *