Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 28)Part 1
Rate this Novel
Basil (Episode 28)Part 1
Basil by Huma Waqas
” سر جلدی پہنچیں میم کو ہوش نہیں آ رہا ۔ “
روزین کی گھبرائی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو غیر محرک وجود میں حرکت ہوئی وہ کیسے اتنی بڑی غلطی کر سکتا تھا ۔ لیکن غصے میں وہ انجانے میں آؤٹ ڈور کو لاک کر آیا تھا ۔
” روزین تم جویریہ کو لے کر ہسپتال پہنچو میں ڈرائیور کو کال کر رہا ہوں ۔ گارڈز ساتھ ہوں گے تمھارے ۔ میں بس کچھ ہی دیر میں پہنچتا ہوں ۔ “
پریشان لہجے میں وہ روزین کو ہدایت دے رہا تھا جب انل کی بے چین آواز کندھے کے پاس سنائی دی ۔
” کیا ہوا اتنے پریشان کیوں ہو ؟ “
انل جو تب سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ اور پریشانی کو دیکھ رہا تھا مضطرب لہجے میں استفسار کیا ۔ دران حواس باختہ اُس کی طرف پلٹا ۔
” انل جیسیکا اس لڑکے کے ساتھ ہر گز نہیں جانی چاہیے ۔ میں ہاسپٹل جا رہا ہوں ؟ تم یہاں سنبھالو کچھ گڑ بڑ کرنے والا ہے یہ لڑکا ۔ “
ایک نگاہ پھر کچھ دوری پر موجود میز پر ڈالی ۔ جیسیکا اس لڑکے کے ہمراہ ہنس رہی تھی ۔
” ہوا کیا ہے دران اور میں کیسے اسے بچاؤں گا ۔ مطلب ۔۔”
“مجھے کچھ نہیں پتا جو کرنا ہے کرو مگر جیسیکا کسی حالت میں اس لڑکے کے ساتھ نہ جانے پائے ۔ ان پر نظر رکھو ۔ “
دران نے جھنجلا کر دانت پیستے ہوئے کہا ۔ میز پر سے گاڑی کی چابی اٹھا کر انل کے حوالے کی ۔
” تم کیسے جاؤ گے ۔ ” انل نے چابی پر ایک نظر ڈال کر حیرت سے سوال کیا ۔
” میں ٹیکسی سے جا رہا ہوں ۔ “
عجلت میں جواب دے کر وہ تیز تیز قدم کافی شاپ کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا چکا تھا ۔ بارش کی رفتار قدرے کم ہو چکی تھی ۔ لیکن اب بھی تیز ہوا اور بجلی کی کڑک باقی تھی ۔ ہوٹل سے باہر نکلتے ہی وجود میں گھستی سردی سے پہلا خیال اس کو جویریہ کا ہی آیا ۔
جبڑے سختی سے پیوست کیے اپنی ہی ہتھیلی پر زور سے مکا جڑا ۔ وہ سرخ فراک میں چہرے پر بے پناہ معصومیت سجائے اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم گئی ۔ ٹیکسی دران کے سامنے رک چکی تھی ۔ وہ برق رفتاری سے اس میں سوار ہوا ۔
☆☆☆☆☆
انل نے بغور سامنے میز پر بیٹھی جیسیکا کو دیکھا ۔ لڑکا ہنستے ہوئے اس سے کوئی بات کر رہا تھا ۔
” لڑکا کچھ کرنے والا ہے ۔ ” دران کی بازگشت ذہن کے پردوں میں گونجی ۔ وہ اب جیسیکا کے بجائے لڑکے کی حرکات پر غور کرنے لگا تھا ۔ میز کے نیچے وہ پینٹ کی جیب میں سے کچھ نکال رہا تھا ۔ انل کا ماتھا ٹھنکا ۔
وہ یہ سب جیسیکا سے مخفی ہو کر کر رہا تھا ۔ جیسیکا سے باتوں کے دران ہی اس نے اچانک ایک طرف اشارہ کیا اور جیسے ہی جیسیکا نہ چہرے کا رخ موڑا اس نے اپنے سامنے رکھے دونوں مشروب کے گلاسوں میں سے ایک گلاس میں کوئی میڈیسن پھینکی ۔ اس نے یہ عمل بہت تیزی سے کیا اور اگلے ہی لمحے دونوں گلاس ہاتھوں میں اٹھا کر ہلانے لگا ۔ انل سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔ اس کے پہنچنے تک وہ لڑکا گلاس جیسیکا کے آگے رکھ چکا تھا ۔
اس سے پہلے کہ جیسیکا کا ہاتھ گلاس تک پہنچتا انل ان کی میز پر پہنچ کر ایک کرسی کو پاس کرتے ہوئے تیزی سے بیٹھ گیا ۔ دونوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔
” ایکسکیوزمی کیا ہم آپ کو جانتے ہیں ؟ “
لڑکے نے ناگواری سے بھنویں چڑھائے سوال کیا ۔ انل ٹانگ پر ٹانگ چڑھا رہا تھا ۔
” نہیں “
مسکرا کر جواب دیا اور پھر جیسیکا کی طرف دیکھا ۔ وہ حیرت سے اپنی چھوٹی چھوٹی بھوری آنکھوں میں حیرت لیے بیٹھی تھی ۔
” تو آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ؟ “
لڑکے نے غصیلے لہجے میں سوال کیا ۔
” یہ کرنے کے لیے ۔ “
انل نے بڑے آرام سے تھوڑا سا جسم آگے کرتے ہوئے جیسیکا کے سامنے رکھے گلاس کو اٹھا کر لڑکے کے سامنے رکھ دیا اور لڑکے کے گلاس کو اٹھا کر جیسیکا کے سامنے رکھ دیا ۔
” یہ کیا حرکت ہے کون ہو تم ؟ “
لڑکا اچھل کر اپنی جگہ پر سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ جیسکا اب اور حیرت میں مبتلا ہو چکی تھی ۔
” کچھ بھی نہیں ایک جیسے گلاس ہیں تم اس گلاس سے پیو نہ۔ “
انل نے بڑے آرام سے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ اب کی بار جیسیکا جھنجلا کر پہلو انل کی طرف موڑ چکی تھی ۔
” اے مسٹر کیا مسئلہ ہے تمھارے ساتھ؟ “
” مسئلہ میرے ساتھ نہیں اس گلاس کے اندر بھرے مشروب کے ساتھ ہے ۔ “
بڑے پرسکون انداز میں لڑکے کے سامنے رکھے گلاس کی طرف اشارہ کیا ۔ لڑکے کے چہرے کی رنگت ایک پل میں تبدیل ہوئی جبکہ جیسیکا اب حیرت سے انل کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” اس مشروب میں اس لڑکے نہ تم سے چھپا کر کچھ ملایا ہے ۔ “
” بکواس مت کرو ۔ کیا مسئلہ ہے تمھارے ساتھ جسی جھوٹ بول رہا ہے یہ ۔ “
لڑکے نے گڑبڑا کر جیسیکا کی طرف دیکھا ۔
” اچھا ٹھیک ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں تو یہ گلاس تم پیو گے اور یہ والا یہ لڑکی پیے گی ۔ “
انل نے گھما کر ٹانگ پر سے ٹانگ اتاری اور بڑے بھرم سے کہا ۔ لڑکے نے فوراً نفی میں سر ہلایا ۔
” میں کیوں پیوں گا یہ ۔ جسی یہ پاگل ہے کوئی اٹھو ہم چلتے ہیں ۔ “
وہ تیزی سے کرسی کو پیچھے دھکیل کر آگے ہوا ۔
” ایک منٹ ۔ ۔۔۔ “
انل نے ہاتھ کھڑا کیے روکا ۔ جیسیکا نا سمجھی سے دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ لڑکا لبوں کو غصے سے بھینچ رہا تھا ۔
” سنو جیسیکا اس لڑکے نے تمھارے مشروب میں کچھ ملایا ہے میں نے خود دیکھا ہے ۔ “
جیسیکا نے غصے سے بھنویں اکٹھی کیں ۔
” نک ایسا نہیں کر سکتا ہے تم ہوتے کون ہو یہاں آ کر ہمارے گلاس تبدیل کرنے والے ۔ “
” میں ایک اچھا شہری ہوں ۔ تمھارا خیر خواہ ہوں ۔ میری بات پر یقین نہیں تو بولو اپنے اس نک کو کہ یہ مشروب پی لے ۔ “
” نک گلاس اٹھاؤ اور پی لو ۔ “
جیسیکا نے وثوق سے کہا ۔ نک کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئیں ۔
” جسی چھوڑو اسے اٹھو یہاں سے ۔ “
وہ گھبراہٹ میں تیزی سے جیسیکا کی طرف بڑھا ۔
” نک تم وہ مشروب پیو گے ۔ “
اب کی بار جیسیکا نے سختی سے کہا ۔
” کیا پاگل پن ہے ۔ تم اس بیوقوف کی بات پر یقین کر رہی ہو۔ کچھ نہیں ہے اس مشروب میں ۔”
” تو پھر پی لو نہ نک اس کے منہ پر جواب دو اس کو ۔”
جیسیکا نے نخوت سے ناک چڑھا کر انل کی طرف دیکھا انل جوابی مسکرا گیا ۔
” کبھی نہیں پیے گا نک ۔ “
انل نے خفیف سا قہقہ لگایا ۔
” نک عزت کا معاملا بن گیا ہے ۔ اٹھاؤ اور پیو یہ گلاس ۔ “
جیسیکا ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی ۔
” تم پاگل ہو گئی ہو اس لڑکے کی بات پر یقین کر کے تم مجھ پر شک کر رہی ہو ۔ میں جا رہا ہوں تمہیں چھوڑ کر رہو اس گلاس کے ساتھ اور اس پاگل کے ساتھ ۔ “
وہ دانت چباتا اپنی بات کہہ کر تیزی سے کیفے کے بیرونی گیٹ کی طرف بڑھا ۔ انل نے مسکرا کر حیران بیٹھی جیسیکا کی طرف دیکھا ۔
” ہم پتا چلا سکتے ہیں اس نے کیا ملایا ہے اس میں ۔ “
انل نے احتیاط سے اس گلاس کو اٹھایا ۔
” جسٹ شٹ اپ تم کون ہو ۔ میرا دوست مجھ سے ناراض ہو کر چلا گیا “
جیسیکا نے زور سے میز پر ہاتھ مارے ۔
” اچھا ہے ۔ کل تمہیں برباد کر دیتا اس سے اچھا ہے ناراض ہو گیا ۔ “
” تم کیسے اس بات کو اتنے یقین سے کہہ سکتے ہو ۔ “
” کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہے ۔ “
انل نے برجستہ جواب دیا ۔
” میں ثابت کر سکتا ہوں ۔ اس مشروب کو ابھی لیب ٹیسٹ کے لیے بھیج دیتے ہیں ۔ “
انل پورے یقین سے کہا ۔ اب کی بار جیسیکا سوچ میں پڑ گئی ۔
☆☆☆☆☆
ہاسپٹل کی شفاف راہداری میں لگے سفید بنچ پر وہ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ سیاہ ہڈ نے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا ۔ کچھ دوری پر گارڈز کھڑے تھے اور دران کے بالکل سامنے بنچ پر روزین بیٹھی تھی ۔ وہ گلے میں پہنے صلیب کے نشان کو مضبوطی سے تھامے آنکھیں بند کیے دعاگو تھی ۔
بارش اگر اتنی طوفانی نہ ہوتی تو شاید معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا مگر بارش کے جھکڑ آؤٹ ڈور کے برآمدے کیا کمرے کی کھڑکیوں تک ٹکرا رہے تھے ۔ جویریہ کے وجود پر کوئی گرم کپڑا نہ ہونے اور پاؤں ننگے ہونے کے باعث وہ سردی اور اس طوفانی یخ ہوا کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکی اور بے ہوش ہو گئی ۔ بے ہوش ہونے کے وجہ سے بارش کا پانی اس کے پھپھڑوں تک پہنچ چکا تھا ۔
انہیں ہسپتال میں آئے پانچ گھنٹے ہونے کو تھے ۔ وہ یونہی شل ہوتے اعصابوں کے ساتھ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ ذہن ایک ہی جگہ منجمند ہو چکا تھا جب وہ آؤٹ ڈور کا لاک گھما رہا تھا ۔ مٹھیاں زور سے بھینچے وہ خود کو جویریہ کی اس حالت کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا ۔ ہر بار کی طرح اس کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ لمحہ پلٹ کر واپس نہیں آسکتا تھا ۔ آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے تیر کی طرح سر اٹھایا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ ڈاکٹر کے بالکل سامنے کھڑا تھا ۔
” فریڈ کیسی ہے وہ ؟ “
بے چین لہجہ تھا ۔ وہ ڈاکٹر فریڈ کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا جہاں پریشانی کے سوا اور کچھ رقم نہیں تھا ۔
” درانگ ۔۔۔ اتنی دیر اتنی ٹھنڈ میں وہ کیسے بھیگتی رہی ؟ اتنی بے پراوہی یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟ “
فریڈ نے بے یقینی سے دران کی آنکھوں میں دیکھا وہ اس کا پرسنل ڈاکٹر تھا اور اس لحاظ سے اس کی پوچھ گچھ کا طریقہ کار بھی مختلف تھا ۔
” فریڈ سب غلطی سے ہوا ۔ میں گھر نہیں تھا ۔ پلیز مجھے بتاؤ کیسی ہے وہ ؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟”
” درانگ ۔۔۔۔۔ میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ حالت سنگین ہی ہے ۔ سردی ایک طرف بارش میں مسلسل تین گھنٹے بھیگنے کی وجہ سے اس کے ذہن کی جھلی متورم ہو کر بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ اگر اسے اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہوش نہیں آیا تو برین ڈیتھ کنفرم ہے ۔ “
فریڈ نے نگاہیں چرائیں ۔
” فریڈ نہیں تم ۔۔۔تم کچھ بھی کرو ۔ مطلب ۔۔”
دران نے ہڑبڑاہٹ میں کہا ۔ پھر تیزی سے آگے ہوا ۔
” کہیں اور لے چلیں اسے ۔۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے کچھ بھی نہیں ۔ “
” درانگ تم جانتے ہو یہ بہت بہترین ہسپتال ہے جہاں ہر سہولت موجود ہے ۔ اس کے پھپھڑوں کو صاف کر دیا گیا ہے لیکن وہ بے ہوش ہے ۔ اگر ہوش نہیں آیا تو ۔ “
فریڈ نے لب بھینچے افسوس سے گردن کو دائیں بائیں جنبش دی ۔ سامنے کھڑے شخص کی پتھر ہوتی آنکھوں کو ایک نظر دیکھا اور آگے قدم بڑھا دیے ۔
دران ڈھنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھتا چلا گیا ۔
