Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 15,16)

Basil by Huma Waqas

کراچی مصروف , مگن , ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ میں لگے لوگوں کا شہر آج بھی معمول کے مطابق بہت سی بھاگتی دوڑتی زندگیوں کا مرکز بنا ہوا تھا ۔ بس ایک سمندر تھا جو صبح کے اس وقت پرسکون سا اپنی لہروں کو ساحل کی طرف اچھال اچھال کر کھیل رہا تھا ۔

دن گیارہ بجے یہ ایک منظر یونیورسٹی آف کراچی کا تھا ۔ جہاں لڑکے اور لڑکیاں کندھوں پر بستے لٹکائے سینوں سے فائل لگائے یونیورسٹی کے کمروں کے آگے بنی اس لمبی راہداری میں گردش کر رہے تھے ۔ کوئی جا رہا تھا تو کوئی آ رہا تھا ۔ باتوں میں مگن , قہقے لگاتے بے فکر چہرے ۔

وہ سر جھکائے اسی راہداری میں اوپری منزل کو چڑھتی سیڑھیوں میں خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی۔ سادہ سا گلابی رنگ کا قمیض شلوار اور گلے میں جھولتا ہم رنگ دوپٹہ ۔ بالوں کی ڈھیلی سی پونی ۔ میک اپ سے آری بے داغ زردی مائل چہرہ بس آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے تھے ۔ آمنہ اس کے سامنے ایک سیڑھی نیچے بیٹھی تھی ۔ چہرہ اوپر اٹھائے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے۔

اس دن دعا کے بارے میں وہ اچانک اسے اللہ سے مانگنے کا کہہ گئی تھی اور پھر بنا سوچے سمجھے مسلمان ہونے کا کہہ دیا لیکن بعد میں احساس ہوا یہ اس نے اچھا نہیں کیا ۔

یونیورسٹی میں اس کے گروپ میں موجود تین لڑکیوں میں سے آمنہ کے ساتھ اس کی زیادہ بات چیت تھی ۔ آمنہ بہت ہی تحمل مزاج , ہنس مکھ اور ذہین لڑکی تھی ۔ حنا کے بعد اس کی گہری دوستی آمنہ سے ہوئی تھی ۔ یہاں اس کا ایم۔ کام کا پہلا سال تھا ۔

آمنہ اس دن کے بعد سے محسوس کر رہی تھی کہ جوی چپ چپ رہنے لگی ہے اس سے بات بھی کم کرتی تھی ۔ شائد اسے یوں اسے اللہ سے دعا مانگنے اور مسلمان ہونے کا نہیں کہنا چاہیے تھا ۔ ان کے درمیان بہت اچھی دوستی تھی ۔ وہ جوی جیسی مخلص اور بہادر لڑکی کو کھونا نہیں چاہتی تھی ۔

” کیا ہوا بتاؤ تو ؟ چپ کیوں ہوں اتنی ؟ “

آمنہ نے پھر سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا اور دوسری دفعہ وہی سوال دہرایا ۔ جوی نے کچھ دیر خاموشی سے آمنہ کی طرف دیکھا ۔ وہ حجاب کی صورت ہلکے نیلے رنگ کے اسکارف کو چہرے کے گرد لپیٹے ہوئے تھی ۔ نیچے سیاہ گاؤن زیب تن کئے ہوئے ۔

اس کی شفاف روشن آنکھیں تھیں ۔ ایک عجیب ٹھنڈک اور سکون تھا اس کی آنکھوں میں ۔ وہ جب بھی آمنہ کی آنکھوں کو دیکھتی تو حیران رہ جاتی کوئی انسان اتنا پرسکون کیسے ہو سکتا ہے ۔

اس کی زندگی تو انگنت پریشانیوں میں گھری تھی ۔ نا ختم ہونے والی پریشانیاں , ذمہ داریاں ۔

چھ سال ہونے کو آئے تھے جان بستر پر تھا ۔ دل کی بیماری تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔

جوی کے رشتے کے لیے جو لوگ بھی آتے سب کو سنانا پسند آ جاتی تھی ۔ جوی کے بہت اسرار پر جان اور مریم نے سنانا کی شادی اس سے پہلے کر دی تھی ۔ سنانا چند ماہ بعد ہی گھر واپس آ گئ ۔ اس کا شوہر شرابی اور جواری تھا جس کی خبر شادی کی بعد ہوئی وہ سنانا کو مارتا پیٹتا تھا ۔ وہ چند ماہ ہی اس کے ظلم ستم برداشت کر سکی ۔ شوہر نے چھوڑ دیا اور اس کے بعد اس نے ایک بچی کو جنم دیا ۔ بے روزگاری اور غربت نے کمر توڑ رکھی تھی اور گھر میں ایک اور فرد کا اضافہ ہو گیا تھا ۔ جان نے بہت کوشش کی کہ وہ بی کام کے بعد پڑھائی چھوڑ دے یونیورسٹی نہ جائے کہیں جاب کی تلاش کرے ۔ مگر اس دوڑتی بھاگتی دھکم پیل کی زندگی میں وہ صرف بی کام کی ڈگری کے ساتھ کہیں بھی اچھی ملازمت نہ حاصل کر سکی ۔

وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی اسی کو ذریعہ بنا کر لوگوں کے گھروں میں جا کر بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا ۔ اب وہ صبح یونیورسٹی اور باقی کا سارا دن مختلف گھروں میں ہوم ٹیوشن کے لیے جاتی تھی ۔ اسطرح وہ نہ صرف اپنی پڑھائی کو جاری رکھے ہوئے تھی بلکہ مَیری اور جووت کو بھی پڑھا رہی تھی ۔

مریم اب ایک نجی ہسپتال میں صاف صفائی کا کام کرتی تھی لیکن اجرت بہت کم تھی ۔ اس طرح بمشکل وہ اپنا گزر بسر کر رہے تھے ۔ لائینز ایریا وہ جان کی بیماری اور ملازمت ختم ہونے کے بعد ہی چھوڑ آئے تھے ۔ وہ فلیٹ قرض کی بدولت بیچنا پڑا اب ایک خستہ حال چھوٹے سے گھر میں وہ لوگ کرایہ دار تھے ۔

اس کی زندگی ایک مشین کی طرح تھی ۔ صبح سے شام اور شام سے رات ہو جاتی اسے پتہ نہ چلتا ۔ رات کو جب آخری ہوم ٹیوشن کے بعد گھر لوٹتی تو تھک کر بستر پر گر جاتی ۔ وہ سب سے کٹ چکی تھی بس گھر کے اخراجات , بہن بھائیوں کی فیس اور باپ کی مہنگی ادویات اور علاج یہ سب اس کے گرد منڈلاتے رہتے ۔ یہی وجہ تھی اسے کبھی خبر تک نہ ہوئی جس کی ایک جھلک کی دعا وہ رات کو سوتے ہوئے کرتی ہے اور صبح اٹھ کر کرتی ہے ۔ وہ ہالی وڈ کا ایک سپر سٹار بن چکا ہے ۔

اتنی مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھری وہ دران کو کبھی نہیں بھول سکی ۔ کبھی یاد آتا کہ وہ اس کے بارے میں کہا کرتی تھی کہ انیس سال کی عمر میں ہی انسان کو کیا پریشانی ہو سکتی ہے لیکن زندگی کے تھپڑوں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا کہ پریشانیاں , دکھ اور تکلفیں کبھی عمر دیکھ کر نہیں آتی ہیں ۔

اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے دکھ ان کی عمروں کی گنتی سے تجاوز کر جاتے ہیں ۔ وہ اپنے ہنسنے کھیلنے کی عمر میں ہی ذمہ داریوں کے بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ سنانا اتنی چھوٹی سی عمر میں ایک بچی کی ماں بن گئ تھی ۔ اس کی اپنی اتنی پریشانیاں تھی کہ دونوں بہنوں کو اب کبھی ایک ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا موقع شاز و نادر ہی ملتا تھا ۔

دران کو سوچنا اس کے ذہن کا واحد سکون تھا ۔ فرصت کا ایک لمحہ بھی ملتا تو وہ ذہن اور دل میں اتر آتا تھا ۔ وہ آج چھ سال بعد بھی خدا سے اس کی ایک جھلک کی دعا کرتی تھی ۔ وہ اسے زندگی میں ایک دفعہ اور دیکھنا چاہتی تھی ۔ زندہ سلامت ۔ کیوں دیکھنا چاہتی تھی خود نہیں جانتی تھی ۔

وہ اپنی مشکل پریشانیوں میں گھری اس دعا کی شدت میں کمی نہیں لا سکی اور اس دن آمنہ سے دعا نہ قبول ہونے کا شکوہ کر گئی۔ جس پر اس کی کہی بات نے اسے بے چین کر دیا ۔ وہ الجھ کر رہ گئی ۔

کتنے دن سے اس کا یوں گم صم رہنا آمنہ سے مخفی نہیں رہا ۔ اب وہ اس سے اس کی خاموشی کی وجہ پوچھ رہی تھی ۔ یونہی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ بول پڑی ۔

” وہ۔۔۔۔ تم اس دن ۔۔۔۔مجھ سے۔۔ کچھ کہہ رہی تھی “

جھجکتے ہوئے وہ اسے اس دن کی بات یاد دلا گئی ۔

” میں!!!! کیا کہہ رہی تھی ؟ “

آمنہ نے انجان بننے کی کوشش کی ۔ نگاہیں لمحہ بھر کو چرائیں ۔

” اللہ سے دعا کے متعلق “

جوی نے آہستگی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

” کیا اللہ سے دعا کرنے کے لیے مجھے لازمی مسلمان ہونا ہو گا , کیا میں ویسے دعا نہیں کر سکتی اللہ سے ؟”

جوی نے اپنے ذہن میں پنپتا سوال بنا کسی تمہید باندھے پوچھ لیا ۔ آمنہ خاموش تھی ۔ گہری خاموشی ۔ پھر اس نے مسکراتے ہوئے پورے وثوق سے جوی کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا ۔

” دیکھو اللہ واحد ہے ۔ مطلب اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جب ہم اس کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں تو دل , روح اور دماغ سے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ واحد ہے ۔”

وہ مٹھاس بھرے لہجے میں بات شروع کر چکی تھی ۔ جوی ہمیشہ کی طرح اس کے بولنے پر خاموش ہو گئی ۔ ناجانے کیوں اس کی باتیں بہت سادہ ہونے کے باوجود دل پر بہت اثر کرتی تھیں ۔ وہ جب بولتی تھی تو اعصاب پر ٹھنڈی پھوار جیسا احساس ہوتا تھا ۔

” تم اللہ سے مانگنے بیٹھو گی اور اگر دل , دماغ یا روح میں سے کسی ایک کو بھی اللہ کے لا شریک ہونے پر گماں ہوا تو مطلب تم نے شرک کیا ۔ اور شرک اللہ کو پسند نہیں ۔ “

جوی نے اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔ کہیں کوئی مفاد نہیں تھا ۔ کہیں کوئی زبردستی نہیں ۔ وہ بہت پیار سے اسے اللہ کی سچائی سے آگاہ کر رہی تھی ۔

” اگر تم اللہ کے حضور دل سے مانگنا چاہتی ہو ۔ تو دل , دماغ اور روح سے پاک ہو کر مانگو “

پریقین لہجہ تھا ۔ جوی کو اس کے منہ سے نکلی ایک ایک بات سچ لگ رہی تھی ۔ دل اس کی باتوں پر ایمان لا رہا تھا ۔ اگر وہ اس کی باتیں سن کر سکون محسوس کر رہی تھی تو ان پر عمل کرنے کے بعد کیا حال ہو گا ۔

” میں وضو کر لوں گی ۔ جو تم لوگ کرتے ہو ۔ مجھے وضو کا طریقہ بتا دینا “

جوی نے آہستگی سے حل پیش کیا ۔ وہ مسکرا دی ۔ سر کو نفی میں ہلایا

” وضو ہمارے جسم کی پاکیزگی ہے ۔ لیکن مسلمان صرف جسم سے پاک ہو کر اللہ کے سامنے نہیں کھڑا ہوتا ۔ ہماری روح اور ہمارا دل بھی پاک ہوتا ہے۔ “

جوی کے چہرے پر مایوسی کے سایے لہرائے ۔

” میری روح اور دل اللہ کے پاس جانے کے لیے کیسے پاک ہو گا ؟ “

بے ساختہ سا سوال تھا ۔ نا جانے وہ کیوں کر گئی ۔

” کلمہ پڑھنے سے “

آمنہ نے مختصر جواب دیا ۔ جوی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

” مطلب کلمہ پڑھنا ۔ اللہ کی واحدنیت کی گواہی دینا ۔ کلمہ پڑھنے سے اور اس کے لا شریک ہونے کی گواہی دینے سے دل , روح اور باطن پاک ہو جاتا ہے ۔ “

وہ بول رہی تھی جبکہ جوی یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ۔

” دیکھو میں کوئی مذہبی عالم نہیں ہوں لیکن تمھارے ذہن کی الجھنوں کو دور کرنے کے لیے بہت سی اچھی کتابیں ہیں میرے پاس ۔ کیا تم پڑھو گی؟ “

اس نے جوی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔

” لا دوں کیا تمہیں ؟ “

وہ ہاتھ پر دباؤ ڈالتے ہوئے سوال کر رہی تھی ۔ جوی نے ساکن آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ۔ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔ تھکے اعصاب ایک دم سے چاک و چوبند ہوئے ۔

” نہ۔۔۔نہیں۔۔۔”

جوی ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتی ۔ وہ کب لابی سے لان اور لان سے یونیورسٹی کے گیٹ تک پہنچی پتہ نہ چلا ۔ بیگ کے اندر رکھا موبائل بج رہا تھا ۔ اس نے عجلت میں فون بیگ سے نکالا ۔ آمنہ کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔ فون کی گھنٹی بج بج کر بند ہو گئی ۔ اب سکرین پر اس کا پیغام تھا ۔

” سوری “

☆☆☆☆☆☆

لاویا شام کے چار بجے اس ڈربے نما کمرہ میں موجود پلنگ پر لی تاؤ کمبل کو اپنے گرد لیپٹے آنکھیں موندے ہوئے تھا ۔

ٹھک ۔۔۔ ٹھک کی آواز ذہن میں ایسی گونجی کے اس نے تیوری چڑھائے بمشکل آنکھیں کھولیں۔ لکڑی کے دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی ۔ حواس میں آنے کے بعد وہ منہ بسورتا ہوا بمشکل بستر سے نکلا ۔ جو کوئی بھی تھا ۔ دروازہ بجاتا ہی جا رہا تھا ۔

” آ رہا ہوں کیا توڑ دو گے اس کو ” وہ چینی زبان میں بڑبڑاتا اب چھوٹے سے کمرے سے لاؤنج میں آیا ۔ ٹرایوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس وہ گرم بستر سے نکل کر عجلت میں یونہی باہر آ گیا ۔

سیلپرز سمیت پاؤں گھسیٹتا دروازے تک پہنچا ۔ اور ایک جھٹکے سے بنا پوچھے دروازہ کھول دیا ۔ سامنے کھڑے دران کو دیکھ کر آنکھیں شناسائی کے لیے چندھی کئیں ۔

ایک تو وہ ویسے نیند سے اٹھا تھا اوپر سے دران کا انجان چہرہ دماغ میں زور دینے سے بھی یاد نہیں آ رہا تھا ۔

” کون ہو ؟ ” ایک آبرؤ اچکائے بیزاری سے سوال کیا ۔

دران نے جواب دینے کے بجائے قدم دروازے کے اندر داخل کیے ۔ لی تاؤ کا ماتھا ٹھنکا اس سے پہلے کہ وہ تیزی سے دروازہ لگاتا ۔ ایک دھکا پڑا تھا اسے ۔

دھکا اتنی زور کا تھا کہ لی تاؤ لڑکھڑا کر لکڑی کے بنے فرش پر پشت کے بل گرا ۔

گرے رنگ کے گرم کورٹ کے نیچے سیاہ پینٹ زیب تن کئے اونچا لمبا مضبوط شخص اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا ۔ جیسے ہی دران اندر داخل ہوا اس کے پیچھے ہی انل نے قدم اندر رکھے ۔ لی تاؤ دونوں کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔

” کون ہو تم لوگ ؟ نکلو میرے گھر سے “

حیرت سے ان کو خبردار کرتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا ۔ دران نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان تھاما اور اب کی بار ایک زور دار گھونسا تھا جو اس کے گال پر عین جبڑے کے اوپر پڑا تھا ۔ وہ پورے کا پورا گھوم گیا ۔ چہرہ ایسے جنبش میں آیا جیسے جبڑے ہل گئے ہوں ۔

انل اب کچن کی شیلف کے قریب پڑی کرسی کو اٹھا کر قریب لا رہا تھا ۔ لی تاؤ نے سر کو تکلیف سے جھٹکا اور اپنی طرف سے پوری قوت سے لڑنے کی خاطر دران کی طرف لپکا لیکن اس کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی لمبا بازؤ کئے پنچ نے اسے ہوا میں اچھال دیا ۔ وہ بے قابو ہو کر گرا ۔ گھبرا کر بمشکل اٹھا ۔ گردن موڑ کر خوف سے دران کی طرف دیکھا جو اپنے کوٹ جے شکن درست کر رہا تھا ۔

” کون ہو یہاں کیا کر رہے ہو۔ مجھے کیوں مار رہے ہو “

دران کے دو پنچ پڑنے پر ہی وہ ادھ موا ہو کر خوف زدہ ہوا ۔ اس سے پہلے کہ لڑکھڑاتا ہوا خوف کے باعث وہ اپنے بچاؤ کے لیے کمرے کی طرف بڑھتا انل نے پیچھے سے اس کے دونوں بازو قابو کرنے کے بعد اسے کرسی پر بیٹھا دیا ۔

” چھوڑو ۔۔ مجھے ۔۔۔۔ چھوڑو۔ مسئلہ کیا ہے ۔ کون ہو تم لوگ ؟ ” الجھ کر وہ نڈھال سا بار بار ایک ہی سوال دہرائے جا رہا تھا ۔

وہ انل کے بازوؤں سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ دران قریب آیا اور پھر سے زور دار تھپڑ نا صرف اس کا گال رنگ گیا تھا بلکہ اس کی گردن کو دائیں طرف ایک بھرپور جھٹکا لگا ۔

اب کی بار اس نے جھکی گردن سے بمشکل اوپر دیکھا مگر سوال نہیں کیا جانتا تھا ۔ ہر سوال کے جواب میں سامنے کھڑا شخص منہ کھولنے کے بجائے ہاتھ چلا رہا تھا ۔

” جوی۔۔۔ “

دران نے ہاتھ ہوا میں اٹھایا اور انگلیوں کی ہلکی سی جنبش سے دروازے کی طرف اشارہ دیتے ہوئے پکارا ۔ جوی جو کب سے اس کے بلانے کی منتظر تھی ۔ آگے بڑھی ۔ دروازے کے سامنے لکڑی کی زمین پر سایہ بنا ۔

جوی کے اندر قدم رکھتے ہی ۔ لی تاؤ کا منہ پورا کھل گیا ۔ وہ حیرت زدہ ۔۔۔ بے یقینی سے سامنے کھڑی جوی کو دیکھ رہا تھا ۔

” تم ۔۔۔ تم یہ۔۔یہ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو ؟ کیسے آئی ۔۔۔شی۔۔شیون “

وہ جوی کو بے تاثر مگر سخت چہرے کے ساتھ اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ہکلانے لگا ۔ اس کا یوں ہکلانا بجا تھا ۔ وہ زخمی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی ۔

زور دار طمانچے اس کے منہ پر دائیں بائیں مارنے کے بعد وہ ایک دم سے جیسے کسی جنونی کیفیت میں آ گئی ۔ ٹانگیں گھما گھما کر وہ لی تاؤ کے پیٹ میں مار رہی تھی ۔ ارد گرد سے چیزیں اٹھا کر اس کے سر میں مار رہی تھی ۔ وہ جو ابھی دران سے پڑنے والے مکوں کی تاب نہیں لا سکا تھا ۔ جوی کے تابڑ توڑ حملے نے بے حال کر دیا ۔

انل نے کھلے منہ سے ایک نگاہ جوی کی طرف ڈالی اور پھر سامنے کھڑے دران کی طرف دیکھا جو حیرت کے بجائے دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

لی تاؤ درد سے چیخ رہا تھا ۔ وہ اسے پاگلوں کی طرح مار رہی تھی ۔ ٹانگ مار کر وہ اسے کرسی سمیت زمین پر گرا چکی تھی ۔

انل تیزی سے دران کے قریب ہوا جو زیرلب مسکرا رہا تھا ۔ ہاتھ کی انگشت انگلی کو فولڈ کئے لبوں پر رکھے وہ پہلی دفعہ کسی کو متاثر کن نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔

لی تاؤ اب زمین پر گرا ہوا تھا جبکہ جوی اپنے بھاری بوٹوں والے پاؤں اس کے پیٹ میں مار رہی تھی ۔ لی تاؤ کسی گیدڑ کی طرح چلا رہا تھا ۔

” دران روکو جوی کو کوئی سن لے گا اس کی چیخ و پکار “

انل نے اردگرد دیکھتے ہوئے دران سے کہا

” مارنے دو نہ ۔۔۔ وہ وہاں وہاں مار رہی ہے جہاں اس نے مارا تھا ۔ سکون ملنے دو اسے ” دران کی دلچسپی عروج پر تھی ۔

لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو رہی تھی ۔ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ ایسی لڑکی دیکھی تھی اس نے ۔ اس کے مطابق تو جوی کی جگہ اور کوئی لڑکی ہوتی تو اتنا تششد کرنے والے شخص کو دیکھ کر پھر سے کانپنے لگتی مگر وہ تو گن گن کر بدلے لے رہی تھی ۔ ذہن میں اس کی چھت والا منظر گھوم گیا کمزور تو وہ کبھی نہیں تھی ۔

” امپریسو (impressive)۔۔۔ ” دران کے لب ستائشی انداز میں باہر نکلے ۔ کل جو لڑکی اس کے سامنے بیٹھی گڑگڑا رہی تھی آج والی لڑکی اس سے بہت مختلف تھی ۔

لی تاؤ کی ہر مزاحمت کو ناکام کرتی اب وہ اس کے بال مٹھیوں میں جکڑے ہوئے تھی اور گردن کو جھٹکے دے رہی تھی ۔ وہ تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کرتا تو ٹانگ پکڑ کر کھینچ دیتی ۔ کچن کی شیلف پر پڑی ہر چیز وہ اٹھا اٹھا کر اس کے سر پر مار چکی تھی ۔ انل نے غصے سے دران کی طرف دیکھا جو مزے سے سگریٹ سلگا رہا تھا ۔

” مر جائے گا وہ ۔ کہو اسے بس کرے جو کام کرنے آئے ہیں وہ کریں اور چلتے بنیں یہاں سے ” انل نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا ۔

پھر دران سے نا امید ہوتا تیزی سے آگے بڑھا ۔ جوی جو اب کوئی ڈبہ اٹھا کر اس کے سر میں مارنے والی تھی ۔انل نے اس کے بازو کو ہوا میں ہی تھام لیا ۔

” جوی ۔۔۔ جوی ۔۔۔ بس کرو ۔۔۔ بس ۔۔۔ اس کو پولیس کے حوالے کرنا ہے ۔ تم اپنا پاسپورٹ اور میرج سرٹیفکٹ لو بس “

انل نے پچکارتے ہوئے اسے ٹھنڈا کیا تھا ۔ وہ ایک دم سے جیسے ہوش میں آئی ۔ پھر انل کی طرف دیکھا جو اس کے ہاتھ سے ڈبہ پکڑ کر واپس شیلف پر رکھ رہا تھا ۔ دران سگریٹ کا کش لگاتا اب چند قدم آگے آ چکا تھا ۔ پھر آہستگی سے نیچا بیٹھا ۔

” پاسپورٹ کہاں ہے ؟ “

انگلش زبان میں پوچھا ۔ وہ پیروں کے بل لی تاؤ کے سامنے بیٹھا تھا ۔ جو خون میں لتھ پتھ سر کے ساتھ کراہتے ہوئے زمین پر سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ پھر خوف اور حیرت سے دران کی طرف دیکھا ۔

” وہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ و۔۔ہ سامنے۔ے۔ے۔ “

کراہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ سامنے رکھے اٹیچی نما بھورے لیدر کے ڈبے کی طرف کیا ۔ اٹیچی ایک لکڑی کی میز پر رکھا ہوا تھا ۔ جوی تقریباً بھاگتی ہوئی اس تک پہنچی ۔ اٹیچی کے اندر رکھیں چیزں کو کچھ دیر ہی الٹ پلٹ کرنے کے بعد وہ اپنا پاسپورٹ اس میں سے برآمد کر چکی تھی ۔ پھر کچھ کاغذات ہاتھ میں تھامے واپس پلٹی ۔

کاغذات شائد اس کی شادی کی رجسٹریشن تھی ۔ جسے آتے ہی اس نے لی تاؤ کے سامنے کھڑے ہو کر پھاڑ دیا ۔

” میں اس شادی کو نہ کل مانتی تھی اور نہ آج میری شادی تم سے ہوئی ہی نہیں تھی “

کاغذ کے ٹکڑے لی تاؤ پر اچھالتی وہ زور سے چیخ اٹھی ۔

” جوی ۔۔۔ لیو اٹ ۔۔۔ یہ ڈائیورس بھی دے گا ڈونٹ وری ” انل نے اچک کر جوی کو تسلی دی جو شائد پھر سے اس کو مارنے لگتی ۔ نہ جانے کتنی اذتیں اس نے ان تین دنوں میں سہی تھیں جن کا لاوا آج پھٹا ۔ تین دن وہ جس بے بسی میں اس کی قید میں تھی ۔ کمزور وہ تب بھی نہیں تھی دو دفعہ اس نے بھاگنے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن آج دران کا ساتھ ایک عجیب طاقت دے گیا تھا ۔

” کیسی طلاق ۔۔۔ یہ کیا طلاق دے گا مجھے میری شادی اس سے ہوئی ہی نہیں ۔ اس نے چرچ میں بائبل کے سامنے جتنے بھی دعوی کئے سب جھوٹے تھے تو یہ کونسی شادی تھی ۔ ” جوی کی آواز پھٹ رہی تھی ۔

آج وہ کمزور نہیں تھی ۔ یا کچھ عزم کر چکی تھی جس کی طاقت اس کی ہر ہر ادا سے جھلک رہی تھی ۔ چہرے کی رنگت گلے میں لپٹے اسکارف جیسی ہو رہی تھی ۔

” دران اب کیا کرنا ہے اس کا ؟ “

انل نے رخ موڑے دران سے سوال کیا ۔ جو اب ہاتھ سینے پر باندھے پرسوچ نگاہوں سے جوی کو بغور دیکھ رہا تھا ۔ انل کے پکارنے پر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔

” کچھ نہیں کرنا بس اس سے پاسپورٹ لینا تھا۔ اب نکلتے ہیں ” دران نے سینے پر بندھے ہاتھ کھولتے ہوئے متوازن لہجے میں جواب دیا

” کیا مطلب ایسے کیسے بھئ اسے پولیس کے پاس لے کر جاتے ہیں جوی کے بیان دلواتے ہیں “

انل نے حیرت سے بھنویں اکھٹی کئے اس کے قریب آ کر کہا ۔

” جوی چلیں نکلنا ہے ہمیں ۔ ” دران نے انل کی بات کا جواب دینے کے بجائے جوی کی طرف دیکھ کر حکم صادر کیا ۔

انل نے صرف دیکھنے پر اکتفا کیا کیونکہ اب اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا ۔ نہیں جانتا تھا ۔ سوچ وہ بھانپ لیتا تھا انل نہیں ۔ انل نے کندھے اچکا کر اس کی تقلید کی ۔

۔ شام کے سایے گہرے ہو رہے تھے جب وہ لوگ وہاں سے باہر نکلے ۔ لی تاؤ زمین پر رینگتا ہوا اب اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

☆☆☆☆

ستاروں سے جھلماتے آسمان کے نیچے یہ خوبصورت ریزورٹ تھا ۔ یہ لاویا سے آگے راستے میں آنے والا ایک مشہور ریزروٹ تھا جہاں انہوں نے ایک لیگژری اپارٹمنٹ بک کیا تھا ۔

چھوٹے سے لاؤنج سے ملحقہ ایک عدد بیڈ روم , فرنشڈ کچن اور ایک عدد ٹیرس پر مشتمل یہ ریزورٹ بہت پرسکون تھا ۔ اپارئٹمنٹ کے لاؤنج میں موجود آتش دان میں آگ اپنے جوبن پر تھی ۔ لکڑیاں سلگ رہی تھیں اور پورے کمرے کو حدت بخش رہی تھیں ۔

دران آتش دان کے قریب سنگل صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔ جبکہ انل آتش دان کے قریب کمر پر ہاتھ دھرے اکڑو کھڑا تھا ۔

جوی کو جیسے ہفتوں بعد یوں بے فکری کی نیند آئی تھی وہ آتے ہی سو چکی تھی ۔ ان کو یہاں آئے آدھا گھنٹہ ہوا تھا ۔ دران کے مطابق وہ ابھی شھنگائی نہیں جا سکتے تھے کیونکہ لی تاؤ نے فوراً اس آدمی سے رابطہ کیا ہو گا جس کو اس نے جوی بیچی تھی ۔

وہ اور اس کے لوگ ان کا شھنگائی کے داخلے پر انتظار کر رہے ہوں گے ۔ اس لیے وہ لوگ واپس جانے کے بجائے لاویا سے آگے آ گئے تھے ۔ جبکہ یہاں بھی انل کا اس سے اختلاف تھا کہ وہ یہاں رک کر زیادہ خطرہ مول رہے ہیں ۔ انل اب بھی اسی بات پر پچھلے دس منٹ سے اس کے ساتھ بحث کر رہا تھا۔

” یہ کیا سب کچھ الٹ پلٹ کر رہے ہو ؟ سیدھا سیدھا جوی کو پولیس سٹیشن لے جاتے ۔ لی تاؤ کے بیان دلواتے اسے وہاں سے پاکستان لے جاتے ۔ سمپل “

انل نے غصے سے اسے سیدھے راستے بتائے ۔ دران نے تھکی سی ادھ کھلی نگاہ آتش دان سے موڑی اور اس کی طرف دیکھا ۔ کل رات سے وہ جاگ رہا تھا اور اب آنکھیں بمشکل کھل رہی تھیں ۔ چہرے پر تھکاوٹ کے آثار تھے ۔

” پاکستان سارا میڈیا اکٹھا ہوتا ۔ پوری دنیا کو پتا چل جاتا کہ وہ کہاں سے کن حالات سے واپس لوٹی ہے ۔ لوگ چار دن اس پر افسوس کریں گے پھر اس کے بعد کیا ہو گا جانتے ہو ؟ ایسی لڑکی کا کیا حال ہوتا ہے معاشرے میں ۔ “

تھکی سی اور نیند کے خمار سے بھاری ہوتی آواز میں وہ آج کتنے عرصے بعد یوں کسی کے لیے فکرمند ہوتا انل کو حیرت میں ڈال گیا ۔

” میں نے سوچ لیا ہے یہ سب کھلے گا لیکن جوی کے ذریعے نہیں جوی کی اس دوست کے ذریعے جو اس سے پہلے یہاں پھنسی ہوئی ہے “

” کون کونسی دوست ؟ ” انل نے بھنویں اچکائیں

” حنا ہے اس کی دوست کا نام اس کی شادی بھی اسی گروہ کے تھرو ہوئی تھی ۔ وہ اپنے شوہر کی قید میں ہے ۔ وہ اس سے جسم فروشی کروا رہا ہے اپنے گھر میں قید کر رکھا ہے ۔ حنا نے پاکستان میں ہی اسے انفارم کر دیا تھا ۔ اس نے نکلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ۔ حنا کو وہاں سے نکالنا ہے ۔ جوی کو اس سب سے پوشیدہ رکھنا ہے “

وہ اٹل لہجے میں اسے اپنی سوچ سے آگاہی دے رہا تھا ۔

” مگر جوی کیوں نہیں ؟ “

انل نے ٹھہرے سے لہجے میں اور شاکی نگاہوں سے سوال کیا ۔ دران نے چونک کر دیکھا ۔ انل کی سوچ پر بے ساختہ قہقہ امڈ آیا ۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بمشکل ہنسی پر قابو پایا ۔

” جوی پر میں کوئی مر نہیں مٹا ۔ بس اس کو میں اپنے معاملے میں بھی گھسیٹ چکا ہوں تو اسے یونہی لٹکتا نہیں چھوڑ سکتا ۔ مجھے ہاروی اور بروس کی چال کو بھی ساری انڈسٹری کے سامنے لانا ہے ۔ “

دران نے کرسی کی پشت سے سر ٹکائے وضاحت دی ۔

” جوی کو پھرکب پاکستان بھجیں گے ۔۔؟ “

انل نے برجستہ اگلا سوال کیا

” جائے گی لیکن تب جب سب اس کے لیے سکیور ہو جائے گا ابھی نہیں ۔ ابھی پاکستان بھی اس کے لیے خطرہ ہے ۔ ” دران نے گہری سانس لی اور ایک جھٹکے سے صوفے پر سے اٹھا ۔

” میں سونے جا رہا ہوں “

نیند سے بوجھل آواز میں کہا پھر رکا ۔ ایک بیڈروم والا اپارئٹمنٹ ۔ بیڈ روم میں جوی سو رہی تھی ۔

چھوٹے سے لاؤنج میں ایک عدد بڑا صوفہ تھا ۔ دران نے رخ موڑا ۔

” اب سونا کیسے ہے ؟ “

” تم صوفے پر سو جاؤ ۔ میں جاگ رہا ہوں آج رات تم دونوں تو کل بھی نہیں سوئے “

انل نے مسکراتے ہوئے حل پیش کیا اور آتش دان کے پاس موجود سنگل صوفے پر براجمان ہوا ۔ دو سکینڈ کے توقف سے گردن موڑا کر دیکھا تو دران جوتوں سمیت صوفے پر بے خبر سو رہا تھا ۔

گہری سانس لے کر اٹھا ۔ کبھی نہیں سدھرے گا کم از کم جوتے تو اتار لے انسان ۔ دران کے جوتے اتارنے کے بعد وہ واپس آتش دان کے پاس آ چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

باسل

✍️بقلم: ہما وقاص

قسط نمبر16

رات کے دو بجے جہاں سنسان گلیوں میں بس کتے بھونک رہے تھے وہاں ملک ہاوئس کے چھوٹے سے لان میں جیسے ایک بھونچال کا سماں تھا ۔ فائقہ کی نسبت کی تقریب کے بعد مسوائے شازیہ اور طلعت کے کنبے کہ تمام مہمان اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو چکے تھے ۔

اب تو لان میں سارے گھر والے قطار در قطار لگی کرسیوں کو آڑا ترچھا کئے بیٹھے تھے۔ شازیہ نے تقریب کے فوراً بعد ہی دران کو اپنے ساتھ لے جانے کی بات سب کے سامنے رکھ دی تھی ۔

سب لوگ تقریب کے ہی جوڑوں میں ملبوس لان میں چائے کے انتظار میں بیٹھے تھے جب شازیہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دران کو اپنے ساتھ لے جانے اور اپنے بھائی کے حصے کے بٹوارے کا علان کر دیا ۔

دستگیر بیگم ساڑھی لگائے بڑے ٹھاٹھ سے سٹیج پر تکیے کے سہارے بیٹھی تھیں ۔ تیرہ سالہ سبرینا ان کی ٹانگیں دبا رہی تھی۔ باقی تمام نفوس سامنے کرسیوں پر براجمان تھے ۔

ان سب میں وہ بھی بیٹھا تھا جس کو لے کر یہ ساری بحث ہو رہی تھی ۔ سیاہ پینٹ اور سفید شرٹ میں ملبوس ۔ بکھرے بال , بیزار صورت , کھچے اعصاب , شرٹ کی آستین موڑے اور جبڑے سختی سے بھینچے وہ بے دلی سی اس ساری بحث کا حصہ بنے بیٹھا تھا ۔

کچھ دیر پہلے تقریب سے آنکھ بچا کر وہ چھت میں دیے گئے اپنے کمرے میں بیٹھا پڑھ رہا تھا جب اختر اور شازیہ کمرے میں آ دھمکے اور اسے زبردستی یہاں سب کے بیچ لان میں لا کر بیٹھا دیا ۔

” ٹھیک ہے اگر میری بات پر یقین نہیں تو پوچھ لیں نہ آپ لوگ دران سے وہ بھی میرے ساتھ جانا چاہتا ہے ۔ “

شازیہ نے سر جھکائے بیٹھے دران کی طرف بڑے مان سے اشارہ کیا ۔ اب سب کی نگاہیں اس کی طرف اٹھی ہوئی تھیں جو کسی کی طرف نگاہ تک اٹھانے کا روادار نہیں تھا ۔ دستگیر بیگم نے ایک خونخوار نگاہ شازیہ پر ڈالی اور پھر تنک کر ساڑھی کے پلو سے بوڑھا جھری زدہ ہاتھ باہر نکالا ۔

” اپنی ماں کی طرح چالاک مت بن شازیہ ۔ بچپن میں اسے پالیں پوسیں ہم ۔ پڑھائیں , لکھائیں اور اب جب جوان ہو گیا اور کمانے جوگا ہو گیا تو آ گئی تو حق جتانے۔ واہ بھئ واہ “

دستگیر بیگم کے غصیلے لہجے میں طنز کا عنصر خوب شامل تھا جو شازیہ کا تن من جلا گیا ۔ اسفند نے گھٹی سی سانس خارج کی ۔ شازیہ نے برہم نگاہ اسفند پر ڈالی ۔

” پوچھیں ان سے کھڑے ہیں سامنے میں نے کہا تھا میرا بھتیجا ہے دے دیں مجھے ۔ تب بھی یہ اسفی بھائی کا ہی فیصلہ تھا۔ میں چپ ہو گئی لیکن اب نہیں ہر سال ایک ہی بحث کو ان تک محدود کر کے چلی جاتی ہوں میں لیکن اس دفعہ خالی ہاتھ نہیں جاؤں گی “

شازیہ کہاں پیچھے ہٹنے والوں میں سے تھی ۔ سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کر رہی تھی ۔ اختر بس چور نگاہوں سے ہلکی سی لکیریں پیشانی پر ڈالے سب کے چہروں کو جانچ رہا تھا ۔

” ارے بس کر آئی بڑی تب بھی اسفی بھائی کا ہی فیصلہ تھا ۔ سو جتن ہوتے ہیں چھوٹے بچے کہ جو ہم سب نے کئے ۔ اپنے بچوں کے حق مار مار کر اسے پالا ہے ۔ “

عصمت جو فائقہ کے گود میں رکھے سر کو دبا رہی تھی تیوری چڑھائے بحث میں اپنا حصہ ڈالا ۔ دران ان کے دلوں میں نہیں رہتا تھا مگر دران کے بنا اب ان کا جینا بھی سوہان روح تھا ۔ گھر کے اتنے کام وہ دران سے بنا اجرت کے لیتے تھے اگر کوئی ملازم ہوتا تو وہ بھی بڑی سی بڑی اجرت پر لات مار جاتا۔

اسفند اور یاور صرف اختر ہی نہیں طلعت کے شوہر عدنان کی وجہ سے بھی خاموش تھے ۔ شازیہ تو نہ آج گھر میں موجود داماد کو دیکھ رہی تھی اور نہ ہی اسفند کی گھوری اور غصے کو ۔

” اچھا چچی میں اس سب بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتی۔ آپ دران سے پوچھ لیں وہ کیا چاہتا ہے ۔ بات یہیں پر ختم ہو ۔ وہ بڑا ہو گیا ہے ۔ اپنا فیصلہ خود لے سکتا ہے اب ” شازیہ نے عصمت کی بات پر منہ بسورے نگاہیں پھر سے دستگیر بیگم کی طرف گھمائیں ۔

” دران کیا چاہے گا ۔ ابھی سولہ کا ہوا ہے ۔ ویسے بھی اس کی شادی ہم سبرینا سے کریں گے ۔ اوپر والا پورشن آباد کرے گا ۔ یاور پڑھا رہا ہے ۔ لکھا رہا ہے ۔ اس کا حق زیادہ ہے اس پر داماد بھی تو بیٹے جیسا ہوتا ہے ۔ ” دستگیر بیگم نے ہاتھ نچا کر فوراً اگلا فیصلہ سنا دیا ۔ سبرینا کے ہاتھ دستگیر بیگم کی ٹانگوں پر ہی رک گئے ۔

مسوائے روبی اور سونی کے سب کی آنکھوں کے حجم بڑھ چکے تھے ۔ ہونقوں کی طرح سب دستگیر بیگم کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ سبرینا نہ سمجھی سے اردگرد دیکھ رہی تھی ۔ دران نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں مگر نظر نہیں اٹھائی ۔ شائد وہ ان کے احسانوں کا قرض چکاتے چکاتے ایک کٹھ پتلی بن کر رہ گیا تھا ۔ بچپن میں تو وہ اتنا نہیں جانتا تھا کہ آخر وہ سب اس کی کھنچا تانی میں کیوں لگے رہتے ہیں ۔ لیکن اب پتہ چلا تھا نوین نے بارہ سال باہر رہ کر پاکستان میں اچھی خاصی جائیداد بنا رکھی تھی جو قانونی طور پر اس کے جوان ہونے کی منتظر تھی اور ملک ہاؤس میں بھی وہ نوین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سا آدھا حصے دار تھا ۔

” چچی!!!!!! ایسے کیسے آپ رشتہ طے کر رہی ہیں دران کا؟ “

شازیہ تو تلملا اٹھی ۔ اس کے آگے کے منصوبے بھی چکنا چور ہوتے نظر رہے تھے ۔ اس نے اور اختر نے تو سوچا تھا کہ وہ اپنی بیٹی رانیہ کی شادی دران سے کر دیں گے مگر یہاں تو اور ہی کہانی تھی ۔

” کیوں کیا برائی ہے ہماری سبرینا میں ؟ “

روبی نے ناک پھلائے سوال کیا وہ چائے کی ٹرے تھامے کچھ دیر پہلے ہی لان میں داخل ہوئی تھی ۔ دستگیر بیگم کے ذہن میں سبرینا اور دران کے رشتے کا خیال ڈالنے والی بھی تو وہی تھی ۔

” میں برائی کی بات نہیں کر رہی ہوں ۔ مانتی ہوں چچی اب اس گھر کی سربراہ ہیں لیکن کیا ایسے بچوں سے بنا پوچھے ان کے رشتے طے کر دیے جاتے ہیں ۔ اتنے چھوٹے ہیں دونوں ۔ “

شازیہ نے نفرت آمیز لہجے میں فیصلے کی تردید کی ۔ وہ اپنے حصے کا بٹوارا اپنی شادی کے کچھ عرصے بعد اپنے والد کی زندگی میں ہی لے چکی تھی اب تو جتنا کچھ تھا وہ نوین کے بعد دران کو جاتا تھا ۔

” ارے بی بی ہمارے بچوں کو ایسی پٹیاں مت پڑھا ۔ دران کی تربیت ہم نے اپنے انداز میں کی ہے وہ جانتا ہے ملک ہاؤس کا پتا پتا میری مرضی پر ہلتا ہے اور شادی نہیں کر رہے ہیں اس کی ابھی ہم ۔ رشتہ طے کیا ہے بس ۔ مجھے پتہ ہے تجھے کس بات کی آگ لگ رہی ہے ۔ “

دستگیر بیگم نے گردن اور آنکھیں ایک ساتھ گھمائیں اور پھر نخوت سے کچھ دور کھڑی شازیہ کی بیٹی رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے دوپٹہ درست کیا ۔ شازیہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور ایک جست میں وہ دران کے سر پر کھڑی تھی ۔

” دران تم بولو کہاں رہنا ہے تمہیں؟ بتاؤ ان سب کو “

دران تاہنوز سر جھکائے ضبط کے آخری دہانے پر تھا ۔ یاور نے دران کے جھکے سر کو بغور دیکھا اور چپ کا روزہ توڑے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ سفید قمیض شلوار میں ملبوس یاور ملک کی اٹھان آج بھی قائم تھی ۔

” بس کریں آپ سب ۔ کیا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے بچے کی زندگی کو ۔ دران کی شادی چاہے سبرینا سے ہو یا نہ ہو وہ میرا بیٹا ہے اور رہے گا ۔ سوری شازیہ باجی پہلے میں بھی یہی سوچا کرتا تھا ۔ دران کو آپ کے پاس ہونا چاہیے لیکن اب نہیں۔ مجھے یہ جان کر نہایت افسوس ہوا کہ آپ کی محبت بھی نوین بھائی کی جائیداد تک ہی محدود ہے ۔ “

یاور کے اعصاب تنے تھے ۔ مگر وہ اپنے لہجے کو حد درجے دھیما رکھے ہوئے تھا ۔ شازیہ اس سے بڑی تھی اور اس کا احترام اپنی جگہ تھا ۔ یاور نے چند قدم آگے بڑھائے اور دران کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جھکا ۔

” دران بیٹا میری طرف دیکھو ۔ کوئی پریشر نہیں اور کوئی زور زبردستی نہیں ۔ یہ صرف تمھاری زندگی ہے اور مرضی بھی تمھاری ہی ہو گی ۔ بولو شازیہ باجی کے ساتھ جانا ہے کیا تمہیں ؟ “

یاور نے اپنائیت سے سوال کیا ۔ چاروں طرف خاموشی چھا گئی ۔ یاور ملک پہلی وہ شخصیت تھی جس نے اسے سینے سے لگایا تھا ۔ وہ نہ صرف اسے اپنا چچا سمجھتا تھا بلکہ دران کی شخصیت میں موجود ٹھہراؤ اور احترام یاور کی ہی مرہون منت تھا ۔

” اگر تم جانا چاہتے ہو تو کوئی تمہیں نہیں روکے گا ۔ لیکن نوین بھائی کی جائیداد کسی اور کے نہیں صرف تمھارے نام ہو گی ۔”

یاور نے اس کے کندھے پر دباؤ بڑھایا تھا ۔ دران نے نگاہ اٹھائی ۔ سب کے ذہنوں کی بازگشت ایک ساتھ اس کا دماغ گھما رہی تھی ۔ مخلص نہ یہ سب چہرے تھے اور نہ وہ جو آج اس کی سگی پھپھو بنے اپنے مفاد کی خاطر اپنے ساتھ لے جانا چاہتی تھی ۔ سب کو اس کے مرحوم باپ کی دولت سے غرض تھی ۔

” بولو دران ؟ ” شازیہ نے عجلت بھرے لہجے میں استفسار کیا ۔

” مجھے یہیں رہنا ہے ۔ ” بہت آہستگی سے جواب دیا ۔ لہجہ ضبط کا غمازی تھا ۔

سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھا اور پھر وہ وہاں رکا نہیں تھا ۔ تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے نکل گیا ۔ شازیہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا ۔ دران عین وقت پر بازی پلٹ گیا تھا ۔

” لے بس ۔س۔س۔ سن لیا ۔ اس کے منہ سے۔ پڑ گئی کلیجے میں ٹھنڈک ۔ اختر میاں برا مت منائیو پر لالچ اچھی بات نہیں ہے “

دستگیر بیگم نے سینہ چوڑا کیئے اپنی جیت کا جشن منایا ۔ دستگیر بیگم نے بھی سیدھی شازیہ کے بجائے اختر پر بات کی جو تب سے اپنی بیوی کے کندھے پر بندوق رکھے چلا رہا تھا ۔ شازیہ سب کی طرف ایک غصیلی نگاہ ڈالتی تیزی سے پورچ کی طرف بڑھی ۔ کچھ دیر میں ہی اختر اور اس کے بچے بھی لان سے کمروں کی طرف بڑھ گئے ۔

” سبرینا , فائقہ , راہب , برھان تم لوگ بھی چلو کمروں میں “

یاور جو ابھی تک دران کی کرسی کے قریب کھڑا تھا ۔ غصے سے باقی بچوں کو کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔ تھکی سی فائقہ , ہونق سی سبرینا , نیند سے بھاری ہوتی آنکھوں والا راہب اور تیوری چڑھائے برھان اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر باری باری لان سے جا چکے تھے ۔ بچوں کے جاتے ہی یاور نے اپنا رخ پوری طرح دستگیر بیگم کی طرف موڑا جو چائے کے کپ کو ختم کئے اب پاس بیٹھی روبی کو پکڑا رہی تھیں ۔

” اماں یہ سبرینا اور دران کے رشتے والی بات کیا ہے یہ سب ؟ ” یاور کے لہجے میں رعب اور دبدبا تھا ۔

” تو کیا باہر کی لے آئیں عیش کرنے کو ۔ کوئی اور آئی نہ دران کی دلہن بن کر تو دیکھ لینا کیسے آنکھیں پھیر لے گا ۔ ارے بھئ سبرینا سے بیاہ دیں گے تو کیا برائی ہے نوین کے بعد سب اس کا ہے ۔ گھر میں رہ جائے سب “

دستگیر بیگم نے ہاتھ اٹھائے نخوت سے وضاحت دی ۔

” نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میری بیٹی کو ان لالچ کے جھمیلوں میں ڈالنے کی ۔ دران سے کوئی زبردستی نہیں کرے گا ” یاور نے ہاتھ تانے تنبہیہ کیا ۔

” نہیں کوئی اس سے زبردستی نہیں کرے گا ۔ ہاں لیکن اگر وہ مان جائے تو کیا برائی ہے اس میں “

روبی نے کندھے اچکاتے ہوئے اپنی بات کہی اور تائیدی نگاہ اسفند پر ڈالی ۔

” میں یاور کے ساتھ متفق ہوں ۔ دران کی شادی کا فیصلہ ہم نہیں لیں گے وہ خود لے گا ۔ ” اسفند نے دو ٹوک لہجے میں بات ختم کی اور خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر قدم پورچ کی طرف بڑھا دیے ۔

” اس کو کاہے کی چپ لگی ہوئی ہے؟ آج شازیہ کو بھی پلٹ کر کوئی جواب نہیں دیا ۔” دستگیر بیگم نے ٹھوڑی پر ہاتھ دھرے روبی کی طرف دیکھتے ہوئے اسفند کی خاموشی کے بار میں تجسس ظاہر کیا ۔

روبی نے کندھے اچکائے اور الجھی سی اپنی جگہ سے اٹھی ۔ اسفند ملک کے پیچھے قدم پورچ کی طرف بڑھا دیے ۔ سب لوگ آہستہ آہستہ لان کو سنسان چھوڑ کر جا چکے تھے ۔ گھپ اندھیرے میں ڈوبے لان میں کرسیاں اب خالی پڑی تھیں۔

☆☆☆☆☆

سفید رنگ کی چادر میں لپٹے اس تکیے پر وہ سر رکھے ہوئے تھی ۔ گھنی سیاہ پلکیں گالوں کی اوپری ہڈی پر دھیرے سے لرزیں ۔ کسلمندی سے بائیں کروٹ سے سیدھی ہوئی تو کتنی ہی گھنگرالی لٹیں گال سے الگ ہوتی گردن پر جا گریں ۔

دھیرے سے کسمسائی اور پھر ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں ۔ خوف سے پھٹی آنکھیں ۔ وحشت زدہ سی ۔ کہاں تھی وہ؟؟؟ دل ڈوب کر ابھرا ۔

ملگجا سا اندھیرا اور اوپر نفیس لکڑی کےکام والی چھت ۔ نگاہ چھت کے نقش و نگار سے ٹکرا کر پلٹی وہ سینے تک گرم ملائم کمبل اوڑھے ہوئے تھی ۔

اف شکر ۔۔۔۔۔۔۔ دل کی دھڑکن تیز رفتاری سے متوازن ہوئی ۔ ہاں وہ ریزروٹ کے بیڈروم میں تھی ۔ جہاں شام کو وہ لاویا سے یہاں پہنچے تھے ۔ خوف کی کپکپی جو کچھ دیر پہلے پورے وجود کو گھیرے ہوئی تھی پرسکون ہوئی۔ آہستگی سے ہلکا پھلکا ہوتا سر اس نے دائیں طرف موڑا ۔

پوری دیوار میں نصب شیشے کی بند کھڑکی باہر کے منظر کو واضح کر رہی تھی ۔ سفید پردے کھڑکی کے دائیں بائیں سمیٹ کر باندھے ہوئے تھے ۔ سامنے ریزروٹ کے جلتے بڑے بڑے بلب کی روشنیوں میں واضح ہوتے منظر میں سمندر کی لہریں پتھروں سے ٹکراتے ہوئے اٹھکیلیاں کر رہی تھیں ۔ پتھروں سے ٹکراتیں ان کو بھگوتیں اور پھر چنچل حسینہ کی طرح شرارت سے پیچھے ہٹ جاتیں ۔ ایسی چنچل حسینہ جو محبوب کے کان میں مدبھری سرگوشی کرے اور پھر اس کی قربت سے پہلے پیچھے ہٹ جائے ۔

وہ مبہوت ہوئی ۔ اس حسین منظر کو دیکھ کر چند لمحے احساس نہیں ہوا کہ وہ ٹکٹکی باندھے بس باہر دیکھے جا رہی ہے ۔ پھر اچانک دران اور انل کا خیال آتے ہی دونوں ہاتھوں کا سہارا لیے اٹھ بیٹھی ۔ بیڈ اتنا نرم تھا کہ پورا وجود اندر دھنستا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔

گرم کوٹ جو سونے سے پہلے اس نے اپنے اوپر سے اتارا تھا کچھ دور کاؤچ پر پڑا تھا۔ خود وہ ہلکے سبز رنگ کی ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس تھی ۔ کمبل کو خود پر سے ہٹاتی بیڈ سے نیچے اتری ۔ گرم اور نرم کمبل سے نکلتے ہی باہر کی خنکی نے جھنجوڑ دیا ۔

درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس میں ایک بیڈ ایک کاؤچ اور دیوار میں نصب سلائڈنگ ڈور الماری تھی ۔ وہ کوٹ پہن رہی تھی ۔ کیونکہ بستر سے نکلنے کے بعد احساس ہوا سردی جسم کے اندر گھس رہی ہے ۔ نیند پوری ہونے کے بعد اعصاب تو ہلکے پھلکے ہو چکے تھے مگر بھوک کی شدت بے انتہا بڑھ چکی تھی ۔

کوٹ اور جوتے پہننے کے بعد اسکارف کو گلے کے گرد گھماتی وہ کمرے کے دروازے تک پہنچی ۔ ایک سکینڈ کے توقف کے بعد وہ دروازہ کھول چکی تھی ۔

اندھیرے کمرے میں سے اچانک روشن لاؤنج میں آنے پر لمحہ بھر کو آنکھیں چندھیا گئیں ۔ ایک لمحے کے لیے آنکھوں کو میچ کر کھولنے کے بعد وہ اب سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی ۔ سنگل صوفے پر ایک طرف گردن ڈھلکائے انل سو رہا تھا اور صوفے پر دران کروٹ لیے کشن کو دونوں بازؤں میں بھینچے گہری نیند میں تھا ۔ آتش دان میں جلتی آگ کی حدت کی وجہ سے لاؤنج کمرے کی نسبت کافی گرم تھا ۔

دران کے پاس سے گزرتی ہوئی وہ اس صوفے کے پاس آئی تھی جہاں انل بے آرامی میں سو رہا تھا۔ دائیں طرف گردن کو صوفے کے ہتھے پر رکھے کشن پر ٹکائے وہ اس پر سر رکھے سو رہا تھا۔

” سنیں “

آہستگی سے پکارتی ہوئی وہ تھوڑا سا جھکی۔ مدھر سی آواز نے آتش دان میں بھڑکتے شعلوں کا ساتھ دیا ۔

” سنیں ۔۔۔”

ایک دفعہ اور اس نے آواز کا درجہ بڑھا کر پکارا ۔

” ہوں ۔۔۔ کیا ہوا ؟ “

انل نے کسلمندی سے بوجھل آنکھیں کھولیں ۔ پھر حواس میں آتے ہی جلدی سے چوکنا ہوا ۔ ایک نظر سر پر کھڑی جوی پر ڈالی اور پھر دران پر ۔

” کچھ نہیں ہوا ۔ وہ آپ یوں صوفے پر سو رہے ہیں روم میں جا کر سو جائیں “

” نہیں میں ٹھیک ہوں یہاں۔ آپ جائیں آرام کریں “

انل نے کشن اٹھا کر گود میں رکھا اور شائستگی سے انکار کیا ۔

” میں آرام کر چکی ہوں ۔ آپ سو جائیں اب ۔ یہاں تو آپ کمفرٹبیل نہیں “

وہ واقعی اب چہرے اور انداز سے کافی پرسکون لگ رہی تھی ۔ انل نے آبرؤ اچکائے ۔ گہری سانس خارج کی ۔

” اچھا بہت شکریہ ” مشکور لہجے میں کہا ۔ نیند نے تو ویسے بھی بے حال کر رکھا تھا ۔

کشن گود سے اٹھایا اور ایک نگاہ گھڑی پر ڈالی رات کے تین بج رہے تھے ۔ انل اب بوجھل قدموں سے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔

انل کے جانے کے بعد وہ یونہی کمرے کا جائزہ لیتی ہوئی آگے بڑھی ۔ قدم اس کے صوفے تک آئے اور پھر آگے ڈگ نہ بھر سکے ۔

گہری نیند میں سویا وہ کسی بچے کی مانند معصوم لگ رہا تھا ۔ ماتھے پر بکھرے سیدھے بال , بڑھی ہوئی شیو کشن کو دونوں بازؤں کی مدد سے سینے سے لگائے ہوئے ۔

نگاہیں اس کے نقش نقش کو عقیدت سے چھو رہی تھیں جو اس کے دل میں چھپی بے پناہ محبت سے بے خبر سو رہا تھا ۔

دل اس کو چاہ سکتا تھا صرف پانے کا تصور بھی کرنا خود کا مزاق اڑانے جیسا تھا ۔ اس کے مقابلے میں وہ کچھ بھی تو نہ تھی ۔ یونہی اپنی سوچوں میں مگن وہ اس پر نگاہیں ٹکائے کھڑی تھی جب وہ دھیرے سے کسمسایا اور بھنویں سکیڑے آنکھیں کھول دیں ۔

اس کے یوں اچانک جاگ جانے پر وہ گڑبڑا گئی کیونکہ وہ اسے یوں سر پر کھڑے اور مبہوت ہو کر تکتے دیکھ چکا تھا۔ دران کے چہرے پر حیرت کی ہلکی سی رمق ابھری اور معدوم ہوئی ۔

” وہ ۔۔ ۔ انل صوفے پر سو رہے تھے ۔ تو میں نے ان کو روم میں بھیج دیا۔ میری۔۔ نیند پوری ہو گئی تھی ۔ “

وہ اسے یوں اپنی صفائیاں پیش کر رہی تھی جیسے چوری پکڑی گئی ہو ۔ ویسے شائد پکڑی ہی گئی تھی ۔ کیونکہ اس کی نگاہیں عجیب طرح جوی کو دیکھ رہی تھیں ۔

” ہوں ۔۔۔ آپ کب اُٹھیں ؟ “

کشن کو ایک ہاتھ سے سینے پر سے ہٹاتا وہ اب اٹھ بیٹھا تھا ۔ ایک ہاتھ سے پیشانی پر آئے بال درست کئے اور گھڑی پر نظر ڈالی ۔

” تین بجے ۔۔ ابھی ک۔۔کچھ دیر پہلے ” بلاوجہ گلے میں ڈالے سکارف کو درست کرتے ہوئے جواب دیا ۔

مضطرب کیفیت میں کچھ نہ سمجھ آنے پر رخ موڑے کچھ قدم کے فاصلے پر موجود صوفے پر بیٹھ گئی ۔ دران اب بلاجواز ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔

کیا ہے عجیب سی خاموشی تھی ۔ جوی نے نگاہ پھر سے اس کی طرف اٹھائی وہ اب آتش دان کے شعلوں پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا ۔ سفید پاؤں میرون رنگ کے رگ پر دھرے تھے اور اس کے جوگرز قریب پڑے تھے ۔ وہ اب اس کے پیروں پر نگاہ ٹکائے ہوئے تھی جب دران کی آواز ابھری ۔

” آپکی دوست حنا یہی نام بتایا تھا ؟ “

جوی نے چونک کر اوپر دیکھا وہ اسی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔ صوفے کی پشت چھوڑے تھوڑا آگے جھکا ہوا ۔

” ان کا کوئی ایڈریس وغیرہ معلوم ہے کیا ؟ “

” نہیں ایڈریس تو نہیں فون نمبر اس کے شوہر کا تھا۔ میرے موبائل میں پر۔۔۔ “

جوی نے رک کر مایوسی سے کندھے گرائے ۔ موبائل تو چین آنے سے پہلے ہی اس سے چھین لیا گیا تھا ۔ دران نے اس کی ادھوری بات سمجھتے ہوئے پرسوچ انداز میں سر ہلایا ۔ جوی نے سر جھکایا پھر جھٹکے سے اٹھایا ۔

” ہاں ۔۔۔ پاکستان میں اس کے گھر والوں سے اس کے شوہر کا نمبر لے سکتے ہیں ۔ وہ اپنی نگرانی میں حنا سے بات کرواتا ہے ان کی۔ مجھے وہ نمبر یاد ہے ۔ ” پرجوش لہجہ تھا ۔ آنکھیں کسی امید سے چمکیں ۔

” گڈ ۔۔۔ “

دران نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا ۔ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے بازو کو اوپر کیا ۔

” حنا بچ جائے گی نہ ؟ “

سہمے سے لہجہ میں پوچھا ۔ دران نے نگاہ اس کے چہرے پر گاڑی ۔ فکر مندی چہرے پر صاف واضح تھی ۔

” وقت سے پہلے کیا کہہ سکتے ہیں “

دو ٹوک روکھے سے لہجے میں جواب آیا ۔ جوی کو روکھا پن محسوس ہوا ۔ ایسا کیوں تھا وہ ؟ ایک پل میں بہت احساس کرنے والا اور ایک پل ایسے جیسے اس سے زیادہ کوئی اجنبی نہ ہو ۔

” جی “

وہ سر جھکا گئی ۔ بوجھ ہوں میں اس پر ۔ دل پر بھاری پن بڑھنے لگا ۔ آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگیں ۔

” آپ حنا کے ساتھ پاکستان نہیں جا سکیں گی ۔ “

دران کی آواز پر حیرت زدہ سر اوپر اٹھایا ۔ نگاہیں اس کی گہری نگاہوں سے جا ٹکرائیں ۔ آنسوؤں سے بھری بڑی بڑی آنکھوں کی پتلیاں ۔ ایک پل کو لگا ابھی چھلک جائیں گی ۔

” دیکھیں حنا اور آپ کی سچویشن میں بہت فرق ہے ۔ آپ کو ابھی پاکستان میں بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔ یہ لوگ بہت بہت مضبوط ہوتے ہیں اور آپ کو پاکستان میں اتنی سکیورٹی نہیں ملے گی “

” پھ۔۔پھر میں کب جا سکوں گی ؟ ” زکام زدہ لہجہ

” ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا “

دران نے کندھے آہستگی سے اچکائے ۔ جوی کے چہرے پر خوف ایکدم سے بڑھ گیا ۔ گلے میں بھی نمکین سے پانی کا احساس بڑھنے لگا ۔

جوی کی آنکھوں کی پتلیوں میں چمکتا پانی اس سے مخفی نہیں تھا ۔ وہ سوچ رہی تھی شائد وہ بوجھ ہے اس پر ۔ وہ معصوم لگ رہی تھی اس وقت شام والی جوی سے مختلف جس سے وہ متاثر ہوا تھا ۔ اب ترس آ رہا تھا ۔ قابل رحم لوگوں سے نفرت تھی اسے مگر نا جانے کیوں اس وقت سامنے بیٹھی لڑکی سے انسیت محسوس ہوئی ۔

” ڈونٹ وری ۔ ابھی آپ میرے ساتھ جائیں گی ” آہستگی سے کہا اس دفعہ لہجے میں بے رخی نہیں تھی ۔

” کہاں ؟ “

روندھائی آواز ۔۔۔ کانپتی سی ۔۔۔ جیسے بمشکل گلے سے برآمد ہو ۔

” امریکہ میرے گھر “

دران کے جواب پر حیرت سے زیادہ وہ الجھ ک?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *