Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 12)

Basil by Huma Waqas

ہاروی اس کی بات پر تلملا کر پلٹا ۔ یہ مینگولہ ہوٹل کا شاندار کمرہ تھا ۔ جس میں اس وقت وہ دونوں میز پر رکھے لیپ ٹاپ کے ذریعے دران کے کمرے میں لگے کیمروں کے مناظر با آسانی دیکھ رہے تھے ۔

یہ تین کیمرے تھے جو مختلف جگہوں پر نصب تھے ۔ ایک سامنے فلیٹ پینل سکرین پر , ایک صوفے کے پاس رکھی میز کے گلدان میں اور ایک بائیں طرف کی دیوار پر سجی پینٹنگ میں ۔ دران کیونکہ اس وقت کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اس لیے پینٹنگ والے کیمرے سے وہ اور لڑکی با آسانی نظر آ رہے تھے ۔

بروس اب بھی لڑکی کے یوں بے بس ہو کر دران کے قدموں پر گرنے پر قہقہ لگا رہا تھا ۔ اس کے یوں قہقہ لگانے پر ہاروی کا چہرہ اور سرخ ہوا ۔ وہ اس معاملے کو ہر گز طول نہیں دینا چاہتا تھا ۔ اس نے ہالی وڈ فلم انڈسٹری میں اپنا ایک عزت والا نام اور مقام بنانے میں بہت جتن کئے تھے ۔ وہ بلیک ویب اور انٹرنیشنل گرلز سمگلنگ سے اپنا نام ہر حال میں خفیہ رکھنا چاہتا تھا ۔

اس کی نظر میں بروس نے ایسکورٹ ورکر کے بجائے سلیو ورکر بھیج کر بہت بڑی غلطی کر دی تھی کیونکہ دران کوئی کلائنٹ ہرگز نہیں تھا۔ وہ شکار تھا ۔

” کیا مزہ تم نے یہ لڑکی درانگ کے پاس بھیج دی وہ اس سے کیا کہہ رہی ہے پتہ نہیں ؟” ہونق چہرے کے ساتھ پریشانی کے شکن لیے ہوئے وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کر رہا تھا ۔

دوسری طرف بروس کے سکون میں رتی برابر فرق نہیں پڑا ۔ گہری تمسخرانہ مسکراہٹ سجائے وہ سکرین پر نگاہیں گاڑے ہوئے تھا ۔ اب دران اس لڑکی کے بلکل سامنے بیٹھا تھا اور وہ لڑکی روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی ۔

” کچھ نہیں ہوگا , پریشان نہ ہو , دیکھو وہ بھیک مانگ رہی ہے ؟ میں یہ کھیل کوئی پہلی دفعہ نہیں کھیل رہا ماہر ہوں میں اس سب میں اچھے اچھوں کے چھکے چھڑوائے ہیں ۔ ” بروس کا لہجہ اس کی اندرونی خوشی کا غمازی تھا

اس کے لیے واقعی یہ ایک دلچسپ کھیل تھا ۔ بے بس سلیو ورکر اور شیطان کا روپ دھارے مرد وہ یہ کھیل بہت شوق سے کھیلتے تھے اور فلماتے تھے ۔ اس کے مطابق دران بھی آج اسی شیطان کا روپ بنا ہوا ہے اسے اپنی دی گئی میڈیسن کے اثر پر بھروسہ تھا ۔

ہاروی جو کمر پر ہاتھ دھرے پریشان سا دائیں بائیں دیکھ کر بروس پر آئے اپنے غصے کو کم کر رہا تھا سامنے سکرین کی طرف دیکھ کر پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ۔

” تم کیوں بھول رہے ہو وہ درانگ ہے ؟ ” دانت پیسے اور صوفے کے ہتھے پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے بروس پر جھکا ۔

” تم یہ کیوں بھول رہے ہو ۔ وہ اس وقت نشے میں چور ہے۔ جذبات پر قابو رکھنا کتنا مشکل ہے اس کے لیے ” بروس کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا کندھے اچکاتے ہوئے اسی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ۔

ہاروی پیچھے ہٹا ۔ پھر سے پریشانی کے عالم میں کمر پر ہاتھ دھرے ایک نگاہ سکرین پر ڈالی اور اچک کر ہاتھ سکرین تک لے گیا

” تم یہ غلط کر رہے ہو ؟ وہ دیکھو وہ لڑکی روتے ہوئے اسے کچھ بتا رہی ہے اور وہ سن رہا ہے ۔ کیسے دیکھ رہا ہے اس کی طرف ۔ آواز کرو جلدی اور فوراً اس لڑکی کو وہاں سے نکالو ” ہاروی ہڑبڑا گیا , گردن کو اٹھائے سر اوپر کیے پیشانی سہلاتے ہوئے اسے حکم صادر کیا ۔

بروس اسے کسی مصیبت میں ڈالنے والا تھا جو وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا ۔ بے چینی سے وہ کمرے کے چکر کاٹنے لگا ۔

” لو دیکھ لو اپنے درانگ کو ۔ ایسے ہی فکر میں گھُل رہے ہو ۔ دیکھو دیکھو ۔۔۔ درانگ کے کردار کی مضبوطی زیرو ۔۔۔ زیرو ۔۔۔۔”

ہاروی کی پرسکون خفیف سے قہقے سمیت آنے والی آواز پر وہ یک لخت رکا۔ نگاہ برق رفتاری سے سکرین پر گھومی ۔ دران نے اس لڑکی کو بانہوں کے حصار میں بھینچا ہوا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی۔ خود کو اس سے الگ کرنے کے لیے کوشاں تھی لیکن دران کو کوئی ہوش نہیں تھا ۔ اس کی گردن پر سر جھکائے ہوئے وہ اس کی کمر پر بازؤں کی گرفت مضبوط کر رہا تھا ۔

” لائیو چلو جلدی۔۔۔ ” ہاروی نے دانت نکالے۔ پریشانی ایک دم سے ختم ہوئی , ہاتھ کے اشارے سے بروس کو حکم دیا اور خود سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے ہی اس ساتھ بیٹھ گیا ۔

” درانگ ریپ دا گرل ۔ لائیو پر کیپشن لکھتا ہوں ” ہاروی کی انگلیا تیزی سے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر کود رہی تھیں ۔

☆☆☆☆☆

پیچ اور سفید رنگ کے امتزاج لیے اس دلکش کمرے کے چکمتے فرش پر وہ میرون رنگ کے جھلملاتے باریک ستاروں والے گاؤن میں ملبوس پیشانی فرش پر ٹکائے ہوئے تھی ۔

وہ مسلسل رو رہی تھی ۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی زبان میں اس سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی مگر کیوں ؟ وہ الجھی نگاہوں سے اسے گھورتا ہوا اب ایک پنجے کو اٹھائے اور ایک ہتھیلی کو فرش پر رکھے اس لڑکی کے سامنے بیٹھا تھا ۔

دائیاں گھٹنا بائیں گھٹنے سے تھوڑا اوپر اٹھائے ۔ مضطرب نگاہوں سے ایک آبرؤ اچکائے کمرے کا جائزہ لیا , یہ لوگ لیسا سے یہ ادکاری کس لیے کروا رہے ہیں ؟ اس کے مطابق سامنے موجود یہ لڑکی بروس اور ہاروی کا مہرہ تھی ۔ اسے لیسا سے کسی بے باک جسارت کی توقع تھی ۔ جس پر وہ اسے دھکا دے کر خود سے الگ کرتا لیکن یہ کیا!!!!! یہ منظر اس کی سوچ کے بلکل برعکس تھا ؟

روتی ہوئی لڑکی کو اپنا شباب یا حسن دکھانے کی کوئی فکر نہیں تھی ۔ وہ تو زار و قطار روئے جا رہی تھی ۔ اس سے پہلے کہ اس کی الجھن مزید بڑھتی وہ بول اٹھا ۔

” نہیں جانتا تم یہ ادکاری کیوں کر رہی ہو ؟ ایسا کرنا بند کرو مس لیسا ” دران نے روانی سے انگریزی زبان میں کہا ۔

وہ جانتی تھی ۔ اس کی سب تگ ودو بیکار جائے گی لیکن پھر بھی اپنے تئیں وہ ہر جتن کر رہی تھی۔ جس میں پہلی کوشش عزت کے اس لٹیرے سے رحم کی بھیک مانگنا تھا ۔ اس شخص کی آواز پر اس نے بند آنکھیں ہلکی سی کھولیں اور جھکا ہوا سر سست روی سے اوپر اٹھایا ۔

وہ اس کے سامنے ایک پنجے اور گھٹنے کے بل بیٹھا تھا ۔ جوی نے نگاہ اس کے سیاہ جوتوں سے اوپر اس کی شرٹ کے بٹن پر آ کر روک دی ۔ اس کے وجود سے اٹھتی قیمتی کلون کی مہک ناک کے نتھنوں میں گھسی ۔ رات کے اس پہر وہ ایک نا محرم کے کمرے میں اور اس طرح کے لباس میں ملوبس ہو کر کیسے اس سے رحم کی توقع کئے ہوئے تھی ۔ پلکیں خوف کے باعث لرز گئیں ۔ وہ بھی اسے سب کی طرح لیسا سمجھ رہا تھا ۔ نگاہ اٹھا کر سامنے بیٹھے شیطان کے روپ میں اس انسان کو دیکھنے کی سکت نہیں تھی ۔

” میں لیسا نہیں ہوں ۔۔۔ پ۔پ۔پلیزز۔ز۔ہ۔ہ۔ مجھے جانے دو , میں وہ نہیں ہوں “

آنکھیں زور سے میچ کر وہ اب دران کے سامنے ہاتھ جوڑ چکی تھی۔ وہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی زبان ۔ دران جو اسے کوئی مغربی لڑکی تصور کیے ہوئے تھا ۔ اس کے سر اٹھانے پر ایک دم غیر متحرک ہوا ۔

” وہ آنکھیں بند کیے آنسوؤں سے تر چہرہ لیے ہوئے تھی ۔

جو بات دران کو یوں ساکن کر گئی تھی وہ سامنے بیٹھی لڑکی کا مشرقی رنگ و روپ نہیں تھا بلکہ اس سے شناسائی کا احساس تھا ۔ ایسا کیوں لگ رہا تھا وہ اس لڑکی کو آج سے پہلے بھی کبھی دیکھ چکا ہے ۔

اتنا کند ذہن وہ نہیں تھا یا شائد وہ لمحہ اس کے ذہن پر ایک مثبت چھاپ رکھتا تھا کہ چھپاک سے پہلا خیال ہی اسے لائینز ایریا کی عمارت والی لڑکی کا آیا ۔ اس واقع کو تقریباً سات سال گزر گئے تھے لیکن کچھ لمحے آپکی زندگی میں اتنے اہم ہوتے ہیں وہ برسوں بعد بھی مندمل نہیں ہوتے ۔

لڑکی رو رہی تھی اور وہ بھنویں ماتھے پر اکٹھی کیے اس کا موازانہ اس چھت والی لڑکی سے کر رہا تھا ۔

” نہیں وہ کیسے ہو سکتی ہے یہ۔ وہ یہاں کہاں اور کیسے ” دل نے دماغ کی بری طرح تردید کی ۔

تردید کی ایک وجہ اس کا رنگ و روپ تھا ۔ سات سال پہلے چھت پر ملنے والی وہ دیوانی سی لڑکی تو گہرے رنگ و روپ اور مہاسوں سے بھرے چہرے والی لڑکی تھی جبکہ سامنے بیٹھی یہ لڑکی نقوش کی بہت مشابہت رکھنے کے باوجود اس سے بہت مختلف تھی ۔ اگرچہ رنگت اس کی بھی بہت صاف نہیں تھی لیکن چہرے کی جلد ملائم اور متوازن تھی ۔ وہ جو بھی تھی مسلسل دران سے فریاد کر رہی تھی اور اس کو یہ بتا رہی تھی کہ وہ لیسا نہیں ہے اس کی جگہ یہاں غلطی سی آ گئی ہے۔ اگر وہ یہ سب نا بھی بتاتی دران تب بھی اس کی سوچ کو پرکھتے ہوئے اس کی بات پر یقین کر چکا تھا کہ وہ سچی ہے ۔ بہت مجبور ہے اور اس وقت کسی مصیبت میں گرفتار ہے ۔

جوی اس کی سوچ سے بے خبر اسے خود کو نہ چھونے کی تلقین کر رہی تھی ۔ وہ جو کچھ لمحے یونہی اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے گزار چکا تھا ۔ اچانک کیمروں کا خیال آیا ۔ وہ یہ کیسے فراموش کر گیا تھا کہ وہ دونوں اس وقت کمرے میں لگے مختلف کیمروں کی زد میں ہیں ۔ اس خیال کا آنا تھا کہ اس نے بلکتی اور خود کو نا چھونے کا کہتی اس لڑکی کو سرعت سے بانہوں میں بھر لیا ۔ وہ بدنداں چیخ اٹھی ۔

” چھوڑو ۔۔۔ چھوڑو مجھے “

جوی کی تو جیسے روح فنا ہوئی ۔ وہ جو سامنے بیٹھے اس شخص سے خاموشی کی وجہ سے رحم کی موہوم سی امید جگا چکی تھی۔ اُس کی اس حرکت پر آنکھیں پھٹنے کی حد تک باہر آئیں ۔ دران اسے خود سے لگائے خود ہی الجھ گیا ۔ اب اسے کیا کرنا تھا ؟ کیونکہ وہ اپنے ہی منصوبے کا الٹ کر چکا تھا ۔کیوں کر چکا تھا یہ نہیں جانتا تھا ۔

لڑکی تو اس کی گرفت میں پوری مزاحمت پر اتر آئی تھی ۔ وہ دران سے جڑی اس کی پشت پر لگاتار مکے اور تھپڑ جڑ رہی تھی ۔ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش میں اپنی پوری قوت لگا رہی تھی ۔

” چپ ۔۔۔ چپ ۔۔۔ میری بات سنو ” دران نے بمشکل اس کے مسلسل مزاحمت کرتے وجود کو قابو کیا اور اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔

ناجانے کیوں مگر اب کی بار وہ اس سے اردو زبان بول گیا تھا ۔ لڑکی کی مزاحمت ایک دم سے ختم ہوئی ۔

” میں گلے لگ کر صرف ناٹک کر رہا ہوں ۔ میں کچھ نہیں کروں گا تمھارے ساتھ ۔ انفیکٹ تمھاری جگہ کوئی بھی ہوتی اس کے ساتھ بھی ۔ اب میری بات غور سے سنو ۔ یہاں کیمرے لگے ہیں ۔ جن لوگوں نے تمہیں یہاں بھیجا ہے ۔ وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں ۔ ” دران نے آہستگی سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔

وہ جو رحم کے بعد اب مزاحمت پر اتر آئی تھی ۔ کان کے قریب ہونے والی اردو زبان میں سرگوشی پر جیسے ساکن ہوئی ۔ وہ جو کوئی بھی تھا اس کی آواز نے ناجانے کیوں کسی کی یاد کا کفن پھاڑ دیا تھا ۔

” تم میری بات سمجھ رہی ہو نہ ؟ اردو آتی ہے نہ ؟ ” دران نے نگاہیں جھکائے خود کو مدہوش ظاہر کرتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا ۔

ادکاری کرنا اس کے لیے مشکل نہیں تھا اگرچہ فلموں میں کبھی وہ یوں کسی ادکارہ کو بھی اتنی مضبوطی سے ساتھ نہیں لگاتا تھا ۔

جوی نے اس کے اردو زبان کا پوچھنے پر آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا ۔ وہ اس سے انگریزی سے اردو زبان پر احتیاطً آیا تھا کیونکہ ذہن میں ویڈیو کے ساتھ آواز کی ریکارڈنگ کا بھی خیال آیا گو کہ اتنی سرگوشی میں کی گئی بات کبھی بھی اتنی دور لگے مائک ریکارڈ نہیں کر سکتے تھے لیکن پھر بھی وہ اس سے اردو میں بات کر گیا ۔ یہ خیال بعد میں آیا کہ کیا وہ اردو جانتی بھی ہے یا کوئی اور زبان بولتی ہے ۔ دران تو اسے چھت والی لڑکی کے یاد آنے کی وجہ سے خود ہی اسے پاکستانی تصور کر گیا تھا ۔

” پاکستان سے ہو ؟ ” برجستہ دماغ میں ابھرنے والا اگلا سوال کیا ۔

” ہوں۔۔۔۔ ” جوی نے کھوئے سے لہجے میں ہنکارا بھرا

دران کی آواز ایک عجیب سے سحر میں جکڑ رہی تھی ۔ وہ اس شخص کے دل میں رحم ڈالنے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔ بے شک اللہ نے اسے پلٹنے پر مایوس نہیں کیا تھا ۔ آمنہ نے سچ کہا تھا ۔ صرف انسان ہی اتنے سنگدل ہوتے ہیں جو پلٹنے پر منہ پر دروازے بند کر دیتے ہیں ۔

” اوکے گڈ ۔۔۔ دیکھو میں تمہیں یہاں سے اٹھا کر واش روم لے جا رہا ہوں ۔ کیونکہ یہاں میں تم سے بات نہیں کر سکتا۔ پریشان مت ہونا “

وہ آہستگی سے اسے سمجھا رہا تھا ۔ چند سکینڈ میں ہی وہ سوچ چکا تھا۔ اسے کیا کرنا ہے ۔ وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔ پیچھے ہوا ۔ جوی کی آنکھوں کی پتلیاں جو پہلے ہی اس کی آواز سن کر سکوت کی حالت میں پوری کھلی ہوئی تھیں ۔ اس کے پیچھے ہونے پر نگاہ اس کے چہرے پر پڑی ۔

گھڑی کی سوئیوں پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ وقت سرکنا بند ہو چکا تھا یا صرف اسے ہی ایسا محسوس ہو رہا تھا ۔ سمندر کی بے ہنگم لہروں جیسا شور ارد گرد سے کیوں اٹھنے لگا تھا ۔ سامنے کھڑے اس شخص کا چہرہ وہ لاکھوں چہروں میں پہچان سکتی تھی , اور یہ گہری غمناک آنکھیں ۔ جنہیں اس نے پہروں سوچا تھا وہ کیسے بھول سکتی تھی ۔

دران اب فرش پر سے اٹھ کر کھڑا ہوا چکا تھا ۔ پھر تھوڑا سا جھکا اور اس کی حیرت سے کھلی نگاہوں سے بے خبر اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے مقابل کھڑا کیا ۔ وہ کسی پتھر کے صنم کے مانند اٹھ کھڑی ہوئی ۔ یہ لمس !!!! اس کے وجود کا رواں رواں اتنے برسوں کے بعد بھی آشنائی ظاہر کر رہا تھا ۔

بے شک وہ ظاہری طور پر ویسا نہیں رہا تھا جیسا سات سال پہلے تھا ۔ دبلا پتلا جسم اب ایک مضبوط جسم میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ اس کے چہرے کا وہ مغموم پن اب نہیں تھا البتہ آنکھیں آج بھی گہری , بہت سے رازوں کو چھپائے ہوئی تھیں اور لہجہ آج بھی رعب اور گہری سنجیدگی لیے ہوا تھا ۔

” دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے دعا تقدیر بدل دیتی ہے ۔ قبولیت کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ وقت وہی جانتا ہے جس کے کن کہنے سے کایا پلٹ جاتی ہے ۔ وقت رک جاتا ہے ۔ سمندر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے ۔ زمین پھٹ جاتی ہے ۔ ظالم غرق ہو جاتا ہے اور حضرت عیسی کو زندہ اوپر اٹھا لیا جاتا ہے ۔ ہم مسلمان معجزوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ “

آمنہ کی آواز کمرے کے ہر گوشے سے گونجتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔ دران اسکا ہاتھ تھامے اسے اپنے قریب کر رہا تھا ۔ اللہ نے اسے کرشمہ دکھایا تھا ۔ اپنی طاقت کا بے شک کوئی مصیبت بڑی نہیں ہوتی۔ صرف وہ بڑا ہے ۔ اس دلدل میں جہاں وہ اتنے دنوں سے دھنس رہی تھی ۔ اللہ نے اس کا مدد گار بھیج دیا تھا اور وہ بھی کون۔ وہ شخص جسے اسے نے روح کی گہرائیوں سے چاہا تھا ۔ جسے راتوں کو جاگ کر , بالکنی پر سر شام کھڑے رہ کر , چھت پر ٹوٹی اینٹوں کو تکتے ہوئے سوچا تھا ۔ جسے پہروں کھوجا تھا ۔ جسے کلیساؤں میں صلیب کی نوک پر ماتھا ٹکائے مانگا تھا ۔ جس کی کھوج میں لگی وہ اللہ سے جڑی تھی ۔ جس کی ایک جھلک کے لیے جائے نماز پر سجدہ ریز رات کے درمیانی پہر میں مانگا کرتی تھی ۔ اس کی دو دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی ایک ہی تھی ۔

دران نے ایک جھٹکے سے اسے گود میں اٹھایا ۔ وقت نے ریل کا سر ا چھوڑا تو وہ گھوم کر ماضی کی اس گھڑی سے جا ٹکرائی۔ وہ گھڑی جو آج تک اس کے دل کے نہاں خانوں میں کسی قیمتی یاد کی طرح سجی تھی ۔ وہ اسے اٹھائے چھت سے نیچے پھینکنے کے لیے جا رہا تھا ۔

” دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ ہر مصیبت میں ہر پریشانی میں ہم اللہ کو پکارتے ہیں لیکن اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ۔ بے شک اس ذات پاک کا کوئی ہمسر نہیں ہے اور شریک ٹھہرانا گناہ کبیرہ ہے “

آمنہ کی میٹھی آواز گونج رہی تھی ۔ دران اسے گود میں اٹھائے کمرے میں موجود واش روم کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

” یہ ۔۔۔ یہ کہاں جا رہا ہے اسے اٹھا کر ” ہاروی نے ہاتھ کا اشارہ سامنے سکرین کی طرف کیا اور گڑبڑا کر ساتھ بیٹھے بروس سے سوال کیا

دران نے جوی کو بانہوں میں اٹھا رکھا تھا اور رخ کمرے سے ملحقہ ڈریسنگ روم کی طرف تھا ۔ بروس جو بڑی طمانیت سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے آنکھوں میں فتح کی چمک لیے ہوئے تھا ۔ اچھل کر آگے ہوا ۔

” ڈیم اٹ ۔۔۔ وہ اسے واش روم لے کر جا رہا ہے ” بروس نے زور سے صوفے کے ہتھے پر گھونسا جڑا ۔

ہاروی نے تیزی سے سر گھما کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔ اس کے چہرے پر مایوسی رقم تھی ۔

” وہاں کیمرہ نہیں ہے ” ہاروی کے سوال کرنے سے پہلے ہی جواب دیا

ایک ۔۔۔دو ۔۔۔ تین ۔۔۔ چار ۔۔۔۔ دس ۔۔۔۔ پندرہ ۔۔۔ ۔۔منٹ ۔۔۔۔۔

آدھا گھنٹہ ۔۔۔۔ ۔ وہ خالی کمرے کی ویڈیو پر منتظر نگاہیں جمائے بے چین بیٹھے تھے ۔

ایسے جیسے کوئی دانہ ڈالنے کے بعد شکار کا انتظار کرتا ہے ۔ بروس کی ایک ٹانگ بے چینی سے ہل رہی تھی ۔ انتظار کی کوفت سے ہاروی کی پیشانی پر بل گہرے ہو رہے تھے ۔ واش روم کا بند دروازہ منہ چڑا رہا تھا ۔

” یہ کر کیا رہا ہے اتنی دیر سے ؟ نکلتے کیوں نہیں ۔ اور اس لڑکی کو دیکھا پہلے کیسے تڑپ رہی تھی اور پھر درانگ کو دیکھتے ہی کیسے فرفیتا ہوئی ” ہاروی نے چڑ کر پہلو بدلہ

سٹیفن بار بار فون کر رہا تھا ۔ جتنی بے چینی ان کو تھی اس سے بڑھ کر اس کو تھی ۔ وہ ان کے کالے دھندے سے تو ناواقف تھا لیکن اس نے اس سارے منصوبے میں پیسہ لگایا تھا ۔

” ریلکس ۔۔ ” بروس نے پرسوچ نگاہیں لیپ ٹاپ پر جمائیں

” شٹ اپ کس چیز کا ریلکیس آدھے گھنٹے سے یہ خالی کمرہ دیکھ کر سب بھاگ گئے ہیں ۔ جتنے بھی دیکھ رہے تھے۔ ” ہاروی نے بدمزہ صورت بنائی

غصیلی نگاہ بروس پر جمائی جو اب تیزی سے اپنی گود میں کھلے لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر انگلیاں چلا رہا تھا ۔

” تم کیا کر رہے ہو اب ؟ “

” اس کے پچھلے کلپ کو کاٹ کر اپ لوڈ کرنے والا ہوں ” بروس نے بنا اس کی طرف دیکھے مگن سے انداز میں جواب دیا ۔ وہ دران کے جوی کو گود میں اٹھانے اور گلے لگانے والے مناظر کی ویڈیو کاٹ کر ایک کلپ تیار کر رہا تھا ۔

ہاروی نے نگاہیں پھر سکرین کی طرف گھمائیں واش روم کا دروازہ ابھی تک بند تھا ۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا ۔ بے چینی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور میز کی طرف بڑھ گیا۔

☆☆☆☆☆☆

سیاہ آسمان پر ستارے بنا چاند کے ٹمٹما رہے تھے ۔ اور آسمان سے نیچے زمین پر اس عالی شان بنگلے کی نہ صرف بتی جل رہی تھی بلکہ ایک ماں کا دل بھی جل اور کڑھ رہا تھا ۔

کشادہ کمرے میں موجود لکڑی کے بیڈ پر پندرہ سالہ توصیف سر پر سفید پٹی باندھے آنکھیں موندے لیٹا تھا ۔ ہلکے گرے رنگ کا کمبل سینے تک اوڑھ رکھا تھا ۔ اس کی رنگت زردی مائل تھی ۔ اور پیشانی تک آئی پٹی پر لال بڑا دھبہ تھا ۔ بیڈ کے بائیں طرف لگے صوفے پر سرکاری بوائیز سکول کے ہیڈ ماسٹر اور توصیف کے والد ابرار امجد اترا چہرہ لیے بیٹھے تھے ۔ کیونکہ صوفے کے بلکل سامنے اور کمرے کی وسط میں کھڑی ان کی بیوی ان پر چیخ رہی تھی ۔

” آپ نے ابھی تک اس لڑکے کو سکول سے نکالا کیوں نہیں ؟ میں آپ کی جگہ ہوتی دھکے مار کر اس لڑکے کو سکول سے نکالتی بلکہ بیڈ سرٹیفیکیٹ بھی دیتی “

” جذباتی مت بنو نہیں نکال سکتا میں اس لڑکے کو سکول سے ” ابرار امجد نے لہجہ دھیما رکھتے ہوئے کہا اور مضطرب انداز میں پیشانی سہلائی

” کیا مطلب نہیں نکال سکتے اپنے بیٹے کا حال دیکھیں۔ کیسے بے سدھ پڑا ہے میرا بچہ ۔ اس ظالم , پاگل لڑکے کی وجہ سے ” وہ روہانسی ہوئی ۔

پریشان سی نگاہ بیڈ پر لیٹے توصیف پر ڈالی جس کے سر میں بلا لگنے سے سر میں چار ٹانکے لگے تھے ۔ خون بہت بہا تھا جس کی وجہ سے وہ نقاہت کا شکار ہو گیا تھا ۔ اب بھی ادوایات کے زیر اثر سو رہا تھا ۔

” تم بھی اپنے بیٹے کی طرح ہی جذباتی ہو ۔ سمجھنے کی کوشش کرو یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں رہا ہے جتنا تم سمجھی رہی ہو ۔ ” ابرار نے پریشان لہجے میں وضاحت دی

” تمام اقلیتی سٹوڈنٹس تو ایک طرف آدھے سے زیادہ سکول توصیف کے خلاف احتجاج پر اتر آیا ہے ۔ اُس لڑکے نے ایسی جرأت دے دی ہے سب کو کہ جو لڑکے کل تک اس کے ڈر سے کانپتے تھے۔ وہ بھی بڑھ چڑھ کر اس کی کئی گئی زیاتیوں پر بول رہے ہیں ۔” ابرار امجد طیش میں آئی اپنی بیوی کو سکول کے تمام حالات سے آگاہ کر رہے تھے ۔ جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے بیٹے کا ایسا حال کرنے والے بچے کا گالا دبا دے ۔

” تم مجھ سے اسے سکول سے نکالنے کا کہہ رہی ہو۔ مجھ سے پوچھو جو دو دن سے سکول آنے والے بچوں کے والدین اور احتجاج سے نمٹ نمٹ کر تھک گیا ہوں ۔ اس لڑکے کو سکول سے نکالنے کا مطلب ہے آدھے سے زیادہ بچوں کو سکول سے نکالنا۔ میرے خلاف بات اوپر تک جا سکتی “

ابرار احمد اسے سمجھاتے ہوئے ایک جھٹکے سے صوفے پر سے اٹھے ۔ وہ اب بے یقینی سے ابرار کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

” اس لیے کہہ رہا ہوں سکون کرو ۔ اس لڑکے کو سکول سے نکالنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ اس کو اور طریقے سے بھی سبق سکھایا جا سکتا ہے ۔ تم فلحال اس کو عقل دو اب وہ اکیلا نہیں ہے بہت سے کھڑے ہو گئے ہیں اس کے ساتھ ۔ یہ سکول میں اپنی غنڈا گیری چھوڑ دے “

ابرار نے ایک نگاہ پھر سے بیڈ پر ڈالی اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔

☆☆☆☆☆☆☆

دران ایک ہاتھ سے دروازے کے ہتھے کو تھام کر واش روم کے اندر داخل ہوا ۔ آہستگی سے گود میں اٹھائی جوی کو نیچے اترا اور دروازہ بند کر دیا ۔ وہ اسی طرح ٹرانس کی حالت میں کسی مورت کی طرح اس کی بانہوں سے اتر کر اب ہلکے پیچ رنگ کی ٹائیلز والے فرش پر کھڑی تھی ۔ واش روم عام واش روم کی نسبت بہت کشادہ تھا البتہ یہاں خنکی زیادہ تھی ۔ گرم کمرے سے اچانک یہاں آنے پر ٹھنڈک اب وجود میں گھسنے لگی تھی ۔

دران جیب سے موبائل نکالے کھڑا تھا ۔ وہ شائد یہاں کسی کیمرے کی موجودگی کو جانچ رہا تھا ۔ جوی یک ٹک بے یقینی سی اس کایا پلٹ کو دیکھ رہی تھی ۔ کل رات کا خواب ذہن میں گھوم گیا ۔ اس کو کھائی میں گرنے سے بچانے والا کوئی اور نہیں دران تھا ۔

” ہوں ۔ں۔ ں۔ یہاں کوئی کیمرہ نہیں ہے ” آہستگی سے کہہ کر دران نے موبائل کو پھر سے پینٹ کی جیب میں رکھا ۔

پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا جو اسے دیکھنے کے بعد سے ہونق , مجسم جیسی کیفیت میں آ گئی تھی ۔

ایک۔۔۔ دو ۔۔۔ تین ۔۔۔ سکینڈ ۔ ۔۔۔ تین سکینڈ ذہن نے لیے ۔

” یہ وہی چھت والی لڑکی ہے اور مجھے پہچان چکی ہے ۔ ” حیرت اس بات پر زیادہ تھی کہ وہ آج بھی ویسی ہی تھی ۔ دران نے آنکھوں کی پتلیوں کو سکوڑا سر جھٹک کر گہری سانس خارج کی ۔

” اب روئے بنا مجھے ساری بات بتائیں کیا کہنا چاہ رہی تھیں باہر ؟ کیسے پہنچی یہاں ؟ ” پر تجسس لہجے میں پوچھا

” کیا اس نے مجھے پہچانا نہیں ” دل کو اچانک مایوسی نے آن گھیرا ۔ وہ اس سے اب ساری کہانی سننا چاہتا تھا ۔ جوی نے گھبرائی سی نگاہ اس پر ڈالی ۔

آنکھیں ہاں اس کی آنکھیں پڑھ رہی تھی وہ ۔ زندگی میں واحد وہ تھا ۔ جس کی آنکھیں اس کو ہمیشہ الجھا دیتی تھیں ۔

” پاکستان میں ایک چائینز گروہ ہے ۔ جو پاکستان کی لڑکیوں کو شادی کا جھانسا دے کر یہاں لاتے ہیں ۔ میں ان لڑکیوں میں سے ہی ایک ہوں۔ وہ لوگ غریب اور لاچار فیملی کو پیسوں کا لالچ دیتے ہیں ۔ ” دھیمے مگر مغموم لہجے میں وہ من و عن اسے اپنے سفر کی کہانی سنا رہی تھی ۔

” میری شادی بھی اسی گروہ کے ایک آدمی نے ایک چائنیز سے کروائی ۔ اس نے مجھے یہاں لا کر بیچ دیا ” وہ سر جھکا چکی تھی ۔

آنسو پھر سے گال پر بہنے لگے تھے ۔ لیکن اب کی بار یہ خاموش آنسو تھے ۔ ایسے آنسو جو کسی بہت اپنے کو دکھ سناتے ہوئے بہہ نکلیں ۔ ہاں وہ اس کا اپنا ہی تو تھا ۔ اس دیار غیر میں اس کا بہت اپنا ۔

وہ ہم تن گوش تھا اور جوی سر جھکائے اسے ایک ایک لفظ سے آگاہ کر رہی تھی ۔ وہ ساری معلومات بھی دے رہی تھی جو اسے تمنا نے دی تھی ۔

اس کمرے تک پہنچنے کا بتانے کے بعد وہ خاموش ہوئی مگر آنسو نہیں تھمے ۔ بار بار ہتیھلی کی پشت سے آنسو گالوں سے صاف کرتی وہ اتنے دنوں کی بھیانک مسافت کی تھکی ہوئی لگ رہی تھی ۔ واش روم کی ٹھٹھرتی خنکی میں ہولناک خاموشی کچھ دیر قائم رہی ۔ وہ اب سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔

” کچھ نہیں ہو گا تمہیں “

دران کے ٹھہرے سے لہجے نے خاموشی کا سکوت توڑا ۔ جوی نے لب بھینچے بھیگی پلکیں اٹھائیں ۔

” وہ لوگ بہت خطرناک ہیں ۔ تمنا کہہ رہی تھی ۔ ایک لڑکی جب اس مارکیٹ میں داخل ہو جاتی ہے اس کی آزادی موت کے سوا کچھ نہیں “

سر جھکائے وہ خوفزدہ لہجے میں ان لوگوں کی طاقت سے دران کو آگاہ کر رہی تھی ۔ پھر گہری خاموشی سرکتے وقت کو نگل رہی تھی ۔ دران کی پیشانی پر گہری سوچ کی لکیریں تھیں ۔ وہ بار بار جوی کی طرف اور پھر دیواروں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

” میں شائد اس کے لیے ایک مصیبت بن گئی ہوں ۔” دل میں ٹیس اٹھی ۔ اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اس کی خواہش پر ہر گز یہاں نہیں لائی گئی ہے لیکن یہ کیمرے یہ سب بہت عجیب تھا ۔ اس کی شخصیت کی طرح پرسرار ۔ جوی نے اسے یوں مسلسل چپ دیکھ کر نگاہ اٹھائی ۔

” آپ بس میری اتنی مدد کر دیں کہ مجھے یہاں سے بھگا دیں ۔ میں ۔۔”

” کہاں جائیں گی اس انجان ملک میں۔ کوئی ہے کیا یہاں آپکا اپنا ؟ ” دران نے سرعت سے اس کی بات کاٹی ۔

” آپ بھلا میری وجہ سے خود کو مصیبت میں کیوں ڈالیں گے ۔ بس اتنی مدد کر دیں ۔ وہ لوگ میری نگرانی کر رہے ہوں گے۔ مجھے یہاں سے بھگا دیں یا پھر پولیس سٹیشن کسی طرح پہنچا دیں “

وہ مسلسل زکام زدہ آواز میں اسے مشورے دے رہی تھی ۔

دران اسے جواب دینے کے بجائے جیب سے موبائل ایک بار پھر نکال چکا تھا ۔ وہ نمبر ڈائل کرنے کے بعد فون کان سے لگا چکا تھا ۔ جو کچھ اس نے بتایا تھا وہ واقعی معمولی نہیں تھا ۔ ہاروی اور بروس پر اس کا شک نہیں جا رہا تھا ۔ ان کی غلطی صرف اتنی تھی کہ انہوں نے اس کے لیے کال گرل بک کروانے کی کوشش کی تھی ۔ دوسری طرف گھنٹی جا رہی تھی ۔ اور چند سکینڈ کی توقف کے بعد ہی کسی نے فون اٹھایا ۔

” ہیلو “

انل تو جیسے اس کے فون کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔ فون اٹھاتے ہی تیزی سے کہا ۔

” ہاں سوئے نہیں ؟ ” دران نے ارد گرد دیکھتے ہوئے پرسکون لہجے میں پوچھا ۔

” سویا ہوا ہوں ” دوسری طرف سے چبا چبا کر جواب آیا

” میری یہاں بینڈ بجی ہے ۔۔۔ نیند کی ٹیبلیٹس تھیں یا بنٹیز ۔ خیر مجھے چھوڑ بتا کیا ہوا پھر ؟ آؤ کمرے میں ” انل نے تجسس اور جوش میں پوچھا ۔

اس کے مطابق اب تک تو دران نے ان کو جواب دے دیا ہو گا ۔

” نہیں تم اب نہیں آؤ گے ۔ وہ سب بعد میں بتاؤں گا کیا ہوا ۔ فلحال مجھے تمھاری رنگ(انگوٹھی ) چاہیے “

” ہیں!!!!” دوسری طرف حیرانگی کی انتہا تھی ۔

” ہاں وہ جو پہن کر رکھتے ہو تم , وہ چاہیے کچھ دیر کے لیے ” پیشانی پر آہستگی سے انگلیاں پھیرتے ہوئے وضاحت دی ۔

جانتا تھا وہ اپنی اس نگوٹھی کو لے تھوڑا ٹچی ہے ۔ وہ وائٹ گولڈ کا مردانہ چھلا تھا۔ دران کی اس فرمائش پر حیران صرف فون کے دوسری طرف موجود انل ہی نہیں سامنے کھڑی جوی بھی تھی ۔

” خیریت ہے مطلب ۔۔۔؟ “

” میں ویٹ کر رہا ہوں دروازہ ناک مت کرنا مس بل دینا ” اسی طمانت سے وہ اب اسے اگلی ہدایت جاری کر رہا تھا ۔

اس سے پہلے کہ انل کوئی اور سوال کرتا ۔ وہ فون بند کر چکا تھا ۔

” آپ میری مدد کر رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیسے شکریہ ادا کروں ۔ ” جوی نے مشکور لہجے میں آہستگی سے کہا ۔

سرخ ہوتی سوزش زدہ آنکھوں میں سامنے کھڑے شخص کے لیے تشکر تھا ۔ آواز بہت رونے کی وجہ روندھائی ہوئی تھی ۔

” مدد کرنے کی عادت نہیں مجھے اور احسان میں کسی کا رکھتا نہیں , آپ کی بھی مدد نہیں کرنے جا رہا ہوں بس احسان کا بدلہ اتار رہا ہوں ۔ ” برجستہ بلا کی سنجیدگی لیے جواب آیا ۔

جوی جو پھر سے نم آنکھوں کو صاف کر رہی تھی چونک کر دیکھا ۔ وہ کس احسان کی بات کر رہا تھا ۔

“تم اس دن اگر مجھے چھت پر کودنے سے نہ روکتی تو آج میں یہاں نہیں ہوتا “

بڑی سنجیدہ لہجے میں جواب دیا ۔ اور بڑی تیزی سے آپ سے تم کا سفر طے کیا ۔ جوی کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا ۔ ” مطلب وہ اسے پہچان چکا تھا ۔

” آپ بس مجھے پولیس سٹیشن تک پہنچا دیں ” دلگیر لہجے میں التجا کی ۔

دل میں ایک ٹیس اٹھی ۔ اس دوسری ملاقات کے لیے کتنے برس دعا کی ۔ کاش کے وقت یہیں رک جائے ۔ باقی جتنی عمر ہے وہ سالوں کے بجائے سکینڈز میں بدل جائے ۔

” مجھے کیا کرنا ہے ۔ تمہیں کہاں چھوڑنا ہے ۔ یہ فیصلے اب تم نہیں لو گی۔ ” وہ اپنی شرٹ کی موڑی ہوئی آستین درست کر رہا تھا ۔

” پھر کیا کریں گے آپ ؟ ” بے ساختہ پوچھا

” تمہیں پرپوز ” مختصر جواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *