Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 26)

Basil by Huma Waqas

ملک ہاؤس سبز اور سرخ چمکتے برقی قمقوں سے سجا رات کے اس اندھیرے میں گلی کے سب گھروں میں نمایاں تھا ۔ گیٹ کھلا تھا اور لان میں سرخ پھولوں اور سفید کلیوں سے سجا جھولا سامنے رکھا گیا تھا ۔ جھولے کے سامنے قطاروں میں کرسیاں سجی تھیں ۔

ایک طرف اونچی آواز میں بڑے بڑے سپیکروں پر مہندی کے گانے بج رہے تھے تو دوسری طرف پورے ملک ہاؤس میں گہما گہمی جیسا سماں تھا ۔ فائقہ کی مہندی کی تقریب تھی جس میں قریبی رشتہ دار تقریب سے ایک دن پہلے ہی ملک ہاوئس پہنچ چکے تھے ۔ مہندی سے کچھ دیر پہلے ہی سادگی سے نکاح کی رسم بھی ادا ہونی تھی کیونکہ لڑکے والوں کی ضد پر مہندی کی تقریب کے لیے وہ ان سب کو اپنے ساتھ اپنے تیار کئے ہوئے شادی ہال میں لے جانا چاہتے تھے ۔

پورے گھر کی چہل پہل سے یکسر مختلف دوسری منزل کا یہ چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں ایک عدد سنگل پلنگ اور ایک طرف دیوار کے ساتھ لکڑی کی کرسی میز لگا تھا۔ میز پر کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ۔ دران غصے کی حالت میں پلنگ پر بیٹھا تھا جہاں سامنے اس کے نوٹس بکھرے ہوئے تھے ۔

وہ پچھلے ایک سال سے خاندان تو کیا گھر کی بھی کسی تقریب میں شرکت نہیں کرتا تھا ۔ آج فائقہ کی مہندی تھی اور وہ عام سی سیاہ ٹی شرٹ اور ٹرایوزر میں ملبوس اپنے نوٹس بنانے میں مگن تھا ۔

یہاں دوسری منزل پر نیچے کی نسبت پرسکون ماحول تھا اور وہ اسی غرض سے اپنے کمرے میں دبک کر بیٹھا تھا ۔ سب لوگ تقریب شروع ہونے سے پہلے تیاریوں میں لگے تھے اور سبرینا اس کے لیے کپڑے لے کر اوپر آ گئی تھی ۔ وہ خود بھی اس وقت عام سے گھر کے کپڑوں میں ملبوس تھی ۔

ہمیشہ کی طرح اسے خود سے پہلے دران کی فکر کھائے جا رہی تھی اسی لیے اس کے کپڑے دینے اوپر آ گئ جن کو کچھ دیر پہلے اس نے بڑے پریم سے استری کئے تھے ۔

جب سے سبرینا سے رشتے کی بات چلی تھی اب سونیا دران کے لیے ہر تقریب اور تہوار پر نیا جوڑا بناتی تھی ۔ فائقہ کی مہندی اور شادی کے لیے بھی اس سے بنا پوچھے سبرینا کے پسند پر اس کے لیے کپڑے تیار کروائے گئے تھے۔ لیکن دران کو نہ کل ان سب چونچلوں سے فرق پڑتا تھا اور نہ آج ۔

” تمہیں پتا ہے میں نیچے نہیں آؤں گا تم بلاوجہ کی ضد کر رہی ہو ۔ “

لہجے میں حد درجہ بیزاری لیے دران نے غصے میں اسے جواب دیا جو پچھلے دس منٹ سے اسے تیار ہو کر نیچے آنے کا کہہ رہی تھی ۔

” میرے لیے بھی نہیں آؤ گے ۔ “

سبرینا نے بھولی سی صورت پر خفگی سجائی ۔ ہاتھ میں پکڑا کرتا شلوار اس کے پلنگ کی پائینتی پر رکھا۔

” سبی میرے لیے خوار ہونے اور میری ضرورتوں کی خاطر گھلنے کے بجائے تم اپنا دھیان رکھا کرو ۔ اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دو ۔ مجھے یہ سب نہیں چاہیے ۔ “

سپاٹ لہجے میں اسے سرزنش کرتا وہ ہمیشہ کی طرح بیزار لگ رہا تھا ۔ اس روکھے جواب پر سبرینا کا اترا چہرہ دیکھنے کے بجائے نگاہیں نیچے نوٹس پر جھکا دیں ۔ وہ خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ مایوس ہو کر نیچے چلی جائے۔

” آپ کو مجھ سے پیار نہیں ہے کیا ؟ “

اس کی روندھائی بھاری آواز پر دران نے گہری سانس لے کر چہرہ اوپر اٹھایا ۔ سبرینا آنکھوں میں آنسوؤں کی موٹی تہہ جمائے کھڑی تھی ۔ دران کو اس پر غصہ آ کر بھی نہیں آتا تھا ۔ وہ اسے چھوٹا سمجھتا تھا کیونکہ اس کو لگتا تھا وہ وقتی طور پر بڑوں کی باتوں کی وجہ سے اس سب میں گھل رہی ہے اور اب بھی یاور کی اس لاڈلی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ اپنے لہجے کی سختی کو کم کرنے پر مجبور ہوا ۔

” مجھے تم سے پیار ہے ۔ بہت ہے لیکن ویسا نہیں جیسا تم چاہتی ہو۔ تمہیں پتا ہے تم میرے لیے کیا حیثیت رکھتی ہو ۔ “

ہاتھ میں پکڑے قلم کو ہوا میں ہلاتے ہوئے وضاحت دی اور یہ اتنی وضاحت صرف سبرینا کی آنکھوں میں چمکتے آنسوؤں کی وجہ سے تھی ۔ وہ آج بھی اسے اپنی چھوٹی بہن کی طرح ہی سمجھتا تھا ۔

” چاچو کے بعد اس گھر میں اگر میں کسی کو اپنا سمجھتا ہوں تو وہ تم ہو سبی ۔ چاچو تمہیں پڑھانا لکھانا چاہتے تھے ۔ لیکن تم میرے بارے میں اور اس فضول سی محبت کے بارے میں سوچتی رہتی ہو ۔”

پیشانی پر فکرمندی کے شکن ڈالے وہ آج بھی اسے بڑے بھائی کی طرح سمجھا رہا تھا ۔

” آخر کیوں نہ سوچوں ؟”

سبرینا نے چڑ کر سوال پوچھا ۔ دران نے زور سے قلم نوٹس پر مارا ۔ وہ آنسو گال پر سے رگڑ کر صاف کر رہی تھی ۔

” آخر سوچو ہی کیوں ۔ “

وہ ایک جھٹکے سے پلنگ پر سے اٹھا اب چہرے کے تمام اعصاب تنے ہوئے تھے ۔ سبرینا بھی جیسے کسی جنونی کیفیت میں تھی ۔

” دیکھو سبرینا میں ایک سراب ہوں میرے پیچھے مت بھاگو تھک جاؤ گی ۔ “

” میں نہیں تھکوں گی مجھے اس سراب میں کھونا ہے ۔ “

وہ برجستہ جواب دے کر آگے بڑھی ۔

” تم ابھی چھوٹی ہو , جذباتی ہو ۔ یہ پاگل پن ہے اور کچھ نہیں ۔ “

وہ دران کی بات ان سنی کرتی ہوئی ۔ اپنے دوپٹے کو کندھوں پر سے اتار رہی تھی ۔

” مجھے اس پاگل پن سے پیار ہے ۔ “

” کیا کر رہی ہو یہ ؟ “

دران اس کے دوپٹہ اتار کر آگے بڑھنے پر بھنویں اکٹھی کیے ٹھٹھکا ۔ وہ دوپٹہ پلنگ پر پھینک کر دران کے قریب اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔ وہ کسی ٹرانس کی سی حالت میں تھی جس پر آج دران کے گھورنے کا بھی کوئی اثر نہیں تھا ۔ اس سے پہلے کے دران کچھ سمجھتا وہ اچک کر دران کے گلے کے گرد بازو حائل کئے اس کے سینے سے جا لگی ۔

” سبی ہٹو پیچھے پاگل ہو گئی ہو کیا ؟ پیچھے ہٹو ۔ “

دران نے جھنجلا کر گردن کے گرد اس کے بازؤوں کو دور کرنا چاہا ۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پھنسائے ایڑیوں کے بل اگلی جسارت کے لیے دران کے چہرے کو اپنے چہرے کے قریب کر رہی تھی ۔

” پاگل تو بہت پہلے ہو گئی تھی اب تو اس پاگل پن کی وجہ کو حاصل کرنا ہے مجھے ۔”

وہ سرگوشی میں کہتی ہوئی دران کی مزاحمت کو ناکام کرنے کی کوشش میں لگی تھی ۔ سر پر جیسے کوئی جنون سوار تھا ۔ دران جو جھنجھلا کر اس کی بانہوں کی گرفت کو توڑ سکا تھا سبرینا کے گریبان پکڑ کر جھٹکا دینے پر دونوں ایک ساتھ پلنگ پر گرے ۔

وہ اپنی کمر کے گرد بنتی سبرینا کی بانہوں کی گرفت سے گھلتا ہوا اٹھنے ہی والا تھا جب دروازے پر چند قدموں کے رکنے کی آواز پر سر اوپر اٹھایا ۔

طلعت اور اس کا شوہر عدنان کمرے کے دروازے میں کھڑے تھے ۔ عدنان کے بازو پر لٹکتے استری شدہ کپڑوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ تقریب کی تیاری کے لیے اوپر آیا تھا ۔ عدنان کا نہ صرف خاندان مذہبی تھا بلکہ وہ خود داڑھی کے ساتھ ساتھ تمام طر مذہبی تقاضوں کو پورا کرتا تھا اور اب اس کی آنکھوں کے سامنے یہ منظر جس میں بنا دوپٹے کے سیدھی لیٹی سبرینا پر جھکا دران ایک ناقابل برداشت منظر تھا ۔

جہاں عدنان کا چہرہ شرمندگی اور غصے سے سرخ تھا وہاں طلعت نے پورا منہ کھول رکھا تھا ۔

☆☆☆☆☆

” بے شرمی کی حد ہوتی ہے بڑی بی یہاں گھر کے بڑے بچے بچیوں کی یہ حرکتیں ہیں تو میری چھوٹی بچیوں کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہو گا ۔ “

عدنان کی گرج دار آوز کمرے میں گونج رہی تھی ۔ گھر کے تمام افراد کے ساتھ ساتھ تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے قریبی مہمانوں کو چند منٹ لگے تھے کمرے میں اکھٹے ہونے پر کیونکہ عدنان نے ایسا واویلا مچایا کہ گھر بھر دہل گیا ۔ وہ طلعت اور اپنی دونوں بیٹیوں کو اسی وقت اس گھر سے لے کر جا رہا تھا ۔ دران اور سبرینا کو اس حالت میں دیکھ کر اسے اپنی بیٹیوں کے ذہنوں کی فکر لاحق ہو گئی تھی ۔

مہمانوں اور گھر والوں کی موجودگی میں کھچا کھچ بھرے اس کمرے میں سبرینا سر جھکائے سونیا کے پاس کھڑی تھی اور دران غصے سے سرخ ہوتا چہرہ لیے ضبط کے آخری دہانوں پر تھا کیونکہ عدنان اس کی کسی بات پر یقین کرنا تو دور کی بات اسے بولنے ہی نہیں دے رہاتھا۔ وہ جب بھی بات شروع کرتا کچھ صفائی پیش کرنے لگتا عدنان حقارت سے گرج کر اسے چپ کروا دیتا ۔

اس افراتفری میں دران ایسا بھونچکا گیا کہ سمجھ سے سب باہر ہو رہا تھا ۔ اسے خود سے زیادہ سبرینا کی فکر تھی ۔ کمرے میں سب کے سب لوگ جمع تھے وہ جانتا تھا وہ سبرینا سے شادی نہیں کرے گا لیکن یہ بات اس کے مستقبل کے لیے مسئلہ بن جائے گی ۔

” ارے میاں ذرا تھم تو لو کاہے کو غصے میں آگ بگولہ ہو رہے ہو ۔ نسبت طے ہے دونوں کی ایسا بھی کیا بے شرمی والا ہو گیا ۔ “

دستگیر بیگم نے عدنان کو تسلی دینے کے لیے ہاتھ تانے کہا جس پر وہ اور تلملا کر ان کی طرف بڑھا ۔

” بی اماں ۔ نسبت طے ہے صرف اور یہ کوئی رشتہ تھوڑی ہے ۔ اور یہ لڑکا ۔ ۔۔۔۔”

دانت پیستے ہوئے گھور کر دران کی طرف دیکھا ۔

” پھپھا آپ غلط سمجھ رہے ہیں سب ۔ “

دران نے پھر سے وضاحت کے لیے ان کی بات کاٹ کر قدم آگے بڑھائے ۔ سرخ چہرہ , کنپٹی کی تنی رگیں اور بھینچے جبڑے وہ بمشکل تحمل مزاجی سے صفائی دینے کے لیے کوشاں تھا ۔

” ارے بس کرو تم بے حیا لڑکے ۔ وہ تمھارے کمرے میں تنہائی میں ایسی حالت میں تھی اور اس سے پہلے پتا نہیں کیا کیا کرتے ہو گے تم دونوں ۔ آج تو پھر شائد کھلے دروازے کا لحاظ ہو ۔ “

عدنان نے بپھر کے دران کو چپ کروایا اتنے برے القابات اتنے گرے ہوئے الفاظ دران کا سر پھٹنے لگا تھا ۔

” بھائی آپ بات کو عجیب رنگ دے رہے ہیں ۔ بچے ایسے نہیں ہیں ۔ “

اسفند ملک نے پریشان سے لہجے میں صفائی دیتے ہوئے سب کی طرف دیکھا ۔

” ارے بس کرو تم بھی اسفی ۔ لڑکی کا باپ نہیں تو کیا اسے کوئی دید لحاظ نہیں ارے میں تو کہتا ہوں ان دونوں کو اتنی آگ لگی ہے تو آپ شادی کیوں نہیں کرواتے ان دونوں کی ۔ “

” تو میاں کروائیں گے ہی ۔ بالکل کروائیں گے ۔”

دستگیر بیگم نے تحمل مزاجی سے جواب دیا ۔

” ٹھیک ہے جس دن آپ ان دونوں کی شادی کروا دیں گے میں بھی اپنی بیوی اور بچیوں کو یہاں آنے کی اجازت دے دوں گا ۔ چلو طلعت سامان باندھو ۔ “

عدنان نے غصے سے کمر پر ہاتھ رکھے پلنگ پر بیٹھی ٹسوے بہاتی طلعت سے کہا جو دستگیر بیگم کی بغل میں بیٹھی تب سے رو رہی تھی ۔

” ارے میاں کیوں اتنی سی بات کو ہوا بنا رہے ہو ۔ طلعت کی اکلوتی بھانجی کی شادی ہے ایسے کیسے چل دے بھلا ۔ “

دستگیر بیگم نے کھینچ کر پاس بیٹھی طلعت کو اپنے ساتھ لگایا جو اونچا اونچا رونے لگی ۔

” جو بھی ہے بڑی بی لیکن اسطرح کے ماحول میں پھر آپ اپنی بیٹی کو ہی رکھیے میں اپنی بیٹیوں کو لے جا رہا ہوں ۔ “

عدنان نے پاس کھڑی بچیوں کے بازؤں تھامے اور قدم آگے بڑھائے دونوں لڑکیاں جو تقریب کے لیے بالکل تیار تھیں باپ کے غصے کو دیکھ کر وہ بھی ماں کے برابر بین کرنے لگیں ۔ کمرے میں عجیب سا سماں پیدا ہو گیا تھا ۔ جیسے کوئی خوشی کا گھر نہیں کسی غمی والا گھر ہو۔

” ارے رکو میاں ۔ “

دستگیر بیگم نے چیختے ہوئے عدنان کو روکا اور پھر فوراً اسفند ملک کی طرف رخ پھیرا ۔

” اسفی فائقہ کے نکاح کے لیے نکاح خواں آیا ہوا ہے نہ تو بلاؤ اس کو ۔ ہم آج ہی نکاح کریں گے دران اور سبرینا کا بات ختم ۔ “

دستگیر بیگم کے فیصلے پر دران جو غصے میں بپھرا کھڑا تھا ایک دم سے آنکھیں پوری کھول کر ان کی طرف دیکھا ۔ دماغ جو کب سے غصے میں تپ کر کچھ بھی سمجھ بوجھ سے قاصر تھا فوراً لاشعور میں گھنٹیاں سی بجنے لگیں ۔ ایک دم سے بہت سے چہروں پر سے نقاب سرکنے لگے ۔

☆☆☆☆☆

برویلی ہلز میں رات کے گیارہ بجے آسمان گھن گور بادلوں سے ڈھکا بس برسنے کو بے تاب تھا ۔ درانگ ولاس برویلی ہلز کے خوبصورت علاقے میں شیشے کی طرح جگمگا رہا تھا ۔ گارڈز گرم کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی کیبنز میں چوکنے بیٹھے تھے ۔

دران کی کار کچھ دیر پہلے ہی پورچ میں داخل ہوئی تھی ۔ اب پچھلی نشستوں سے وہ انل کے ہمراہ اتر رہا تھا جبکہ سامنے ڈرائیور کے ساتھ موجود گارڈ اب کار کے دروازے کھول رہا تھا ۔

لاؤنج میں داخل ہوتے ہی دران اور انل نے اپنے گرم لمبے کوٹ اتار کر ملازم کو تھامائے ۔ پورا درانگ ولاس انڈر ہیٹرز کی وجہ سے باہر کی ٹھٹھرتی سردی کو کم کئے ہوئے تھا ۔ آج کی مشکل سٹنڈ سے بھرپور شوٹنگ اور پھر لاس اینجلنس کا ظالم موسم وہ تھکن سے چور تھا ۔

چیک دار سرخ اور سیاہ ڈیبیوں والی ڈریس شرٹ کے نیچے سیاہ جینز پہنے , بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

” سر ڈنر کہاں کریں گے روم یا ڈائنگ ؟ “

روزین نے ہاتھ باندھے مؤدبانہ پوچھا جسے وہ تھکے سے انداز میں بنا کچھ بولے ہاتھ کے اشارے سے انکار کرتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔ روزین اب انل سے کھانے کا پوچھ رہی تھی۔

تھکاوٹ سے چور آنکھوں کو بند کرتے اور کھولتے ہوئے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا ۔ نگاہ روز کے معمول کے مطابق سامنے بیڈ پر گئی ۔

بیڈ خالی تھا!

جویریہ کی کتاب بیڈ کے سائیڈ میز پر بند پڑی تھی اور اوپر موبائل فون رکھا ہوا تھا ۔ وہ چاہے رات ایک بجے بھی گھر واپس آتا تھا وہ جاگ رہی ہوتی تھی ۔ کبھی کتاب پڑھ رہی ہوتی تو کبھی موبائل پر مصروف ہوتی اور پھر اس کے کپڑے تبدیل کر کے آنے تک سو چکی ہوتی یا ہنوز کتاب پڑھ رہی ہوتی ۔

لیکن آج ان دس دنوں میں یہ پہلی دفعہ تھا وہ بیڈ پر موجود نہیں تھی ۔ بھنویں اچکائے آگے بڑھا ۔

” شائید واش روم میں ہو ۔ ” گھڑی اتارتے ہوئے ڈریسنگ روم میں آیا واش روم کا کھلا دروازہ دیکھ کر رکا گھڑی کھولتے ہاتھ بھی تھم گئے ۔

” کہاں ہے آج وہ بھی رات کے اس وقت ۔ “

تیزی سے ڈریسنگ روم سے باہر آ کر سوئمنگ پول کی طرف کھلتی سلائڈنگ دیوار کی طرف دیکھا ۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا ۔ تقریب کے بعد وہ دو دن تک اس سے بہت زیادہ بے نیازی برتتا رہا تھا کیونکہ اس دن جویریہ کو خود کو دیکھتے پا کر عجیب سی بے چینی ہونے لگی تھی۔ لیکن چاہے جتنی بھی بے اعتنائی برتتا تھا اُس کا آج کمرے میں نہ ہونا عجیب طرح کی کمی کے احساس سے دوچار کر رہا تھا ۔

” اس وقت کہاں ہو سکتی ہے ۔ ” دل ایک دم خوف سے دھڑکا وہ تیزی سے کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا جب دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی ۔ ہاتھ میں ٹرے تھام رکھی تھی جس میں دو سیاہ مگ برابر میں رکھے ہوئے تھے ۔

سفید پیروں کو چھوتی فراک جس پر کچھ کچھ فاصلے پر سبز ٹہنیوں والے سرخ پھول پرنٹ تھے کو زیب تن کئے , ہلکے سبز رنگ کی گرم جرسی شال بڑے سلیقے سے کندھوں پر اوڑھے وہ پر اعتماد انداز میں آگے بڑھ رہی تھی ۔ دران جو اسے کمرے میں نہ پا کر مضطرب سا اس کو تلاش کرنے جا رہا تھا اب اس کے سامنے آ جانے پر فوراً چہرے کے تاثرات تبدیل کئے ۔ کچھ دوری پر رکھے نیلے گول کاؤچ پر بیٹھ کر جوتے اتارنے کے لیے سر جھکا دیا ۔

جویریہ نے آہستگی سے ٹرے تھامے قدم آگے بڑھائے ۔ جس وقت دران کی کار پورچ میں داخل ہوئی وہ اس وقت کچن میں موجود تھی ۔ سردی کی شدت کی وجہ سے چائے پینے کی طلب پر وہ روزین کے ساتھ کچن میں گئی تھی ۔ جس وقت دران نے روزین کو کھانے کے لیے منع کیا وہ اسے کچن سے دیکھ رہی تھی اور پھر اس کے تھکے سے انداز کے پیش نظر کیٹل میں ایک کپ اور دودھ انڈیل دیا ۔

” آپکی چائے۔ “

دران کے جھکے سر کے قریب وہ ٹرے تھامے کھڑی تھی ۔ دران نے حیرت سے چہرہ اوپر اٹھایا ۔ وہ مسکرا رہی تھی ۔ وہی قاتل مسکراہٹ جس پر نظر ٹھہر جائے ۔ بالوں کی ڈھیلی سی پونی آج ایک طرف کندھے سے سامنے کر رکھی تھی جبکہ اکا دکا لٹیں مخصوص انداز میں گالوں پر جھول رہی تھیں ۔ دران کے خاموشی سے صرف گھورنے پر اس نے فوراً تھوک نگلا ۔

” اپنے لیے بنا رہی تھی ۔ سوچا آپ بھی تھکے ہوئے آئے ہیں تو آپ کے لیے بھی بنا دی ۔ “

بہت ہی اپنائیت بھرا لہجہ تھا ۔ دران کی دو دن سے چھائی سرد مہری عجیب کوفت میں مبتلا کر رہی تھی ۔ دن میں چاہے وہ روزین , اسفند اور برہان کے ساتھ باتیں کر لیتی تھی لیکن نا جانے کیوں دل چاہتا وہ چاہے بات نہ بھی کرے لیکن کم از کم اس کی آواز تو سنائی دے ۔

” آپ نے کیوں بنائی ہے چائے ؟ “

بھنویں اچکائے روکھے سے لہجے میں سوال کیا ۔

اف ۔۔ اف ۔۔ اتنی بے رخی کہیں ہٹلر ٹون میں نہ آ جائے کہ مجھ سے بنا پوچھے چائے بنانے والی تم ہوتی کون ہو ۔ جویریہ نے دھیرے سے کانپتے دل پر قابو پایا ۔

” دراصل روزین کو یہ پاکستانی سٹائل میں چائے نہیں بنانی آتی ۔ وہ ٹی بیگیز والی بے سُری سی چائے مجھے پسند نہیں ۔ “

اعتماد کو بحال کرتے ہوئے بڑے ترنگ میں جواب دیا ۔ دوستانہ مسکراہٹ کو گہرا کیا ۔

” میں چائے نہیں پیتا ۔ “

بے رخی سے کہا اور نگاہوں کا زاویہ بدلے کاؤچ پر سے اٹھا ۔ وہ جو سر پر کھڑی تھی فوراً پیچھے ہوئی ۔

” بدتمیز اب بنا لائی ہوں تو پی لو چاہے مروت سہی ۔ ” اندر کی کیفیت کو فوراً چھپایا مسکراہٹ کو پھر سے سجایا ۔

” ہاں پتا ہے آپ کافی پیتے ہیں لیکن آج پی کر دیکھیں یہ ویسی نہیں ہے جیسی آپ سمجھ رہے ہیں ۔ “

واہ کیا غرور تھا اپنی بنی ہوئی چائے پر ۔ دران کے ڈریسنگ کی طرف بڑھتے قدم نا چاہتے ہوئے بھی رکے ۔ وہ ٹرے سے کپ اٹھائے دران کی طرف بڑھا رہی تھی ۔

شرٹ کی ایک آستئین موڑے وہ مگ تھامنے پر مجبور ہو گیا ۔ جیسے ہی دران نے کپ تھاما جویریہ کی گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھوں کی چمک بھی بڑھ گئی ۔ جلدی سے ٹرے ایک طرف رکھی اور اپنے مگ کو بھی دونوں ہاتھوں میں لے کر صوفے پر بیٹھ گئی ۔ دران کو ویسے ہی کھڑا دیکھ کر گھونٹ بھرنے کا اشارہ کیا ۔

” نخرے کیوں اتنے کر رہا ہے ۔ چائے ہے کوئی زہر تھوڑی دے دیا ہے ۔ “

کن اکھیوں سے گھونٹ بھرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا جو اب مگ کو ہونٹوں کے قریب لے جا رہا تھا ۔ شرٹ کی ایک آستین مڑی ہوئی تھی جب کے دوسری سیدھی تھی ۔

تھکاوٹ سے چور جسم کو اس وقت چائے کیا اگر گرم پانی بھی مل جاتا تو وہ پی لیتا ۔ گھونٹ بھرتے ہی زبان کے خلیے انوکھی سی لذت سے آشانہ ہوئے ۔ چائے اس کی سوچ سے بھی زیادہ مزیدار تھی ۔ مناسب چینی اور لذت بھی ہٹ کر ۔ اس کا غرور درست تھا ۔

” کیسی ہے ؟ “

وہ جو چائے کی لذت میں کھو سا گیا تھا جویریہ کے پوچھنے پر اس کی طرف نگاہ اٹھائی ۔ چہرے کو سپاٹ کیا ۔

” اچھی ۔ “

مختصر جواب تھا ۔ مگ کو تھامے بے اختیار کاؤچ پر بیٹھا گیا کیونکہ زبان کے خلیے لذت میں اتنے چاک و چوبند ہوئے کہ اگلے گھونٹ کے لیے اتاولے ہونے لگے ۔

” صرف اچھی ۔”

جویریہ نے بے ساختہ پوچھا ۔ وہ خود اپنے اچانک یوں کہہ دینے پر گڑبڑا گئی جبکہ دران اب دوسرا گھونٹ بھرنے کے بعد اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

” بہت اچھی ہے ۔ “

آگے ” بہت ” اور پیچھے ” ہے ” لگا کر وہ تعریف میں قدرے اضافہ کر چکا تھا جو شائد اس کے لیے بہت مشکل مراحلہ تھا ۔

دران جیسے شخص سے تعریف میں “اچھی ” کا لفظ سن لینا ہی غنیمت تھا اب تو خیر سے جناب نے ‘ اچھی ‘ کے آگے ‘بہت ‘ لگا دیا تھا شائد اگر اب وہ اس ‘ بہت اچھی ‘ پر بھی مطمئن نہ ہوتی تو وہ کہتا ۔ ” بہت بہت اچھی۔ ” اس لیے خاموشی سے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔

سنانا کی چہکتی آواز ذہن میں گونجی ۔

” جوی تمہارے ہاتھ کی پکی چائے دنیا کی سب سے بیسٹ چائے ہے ۔ پتا نہیں کیا جادو ہے تمھارے ہاتھ میں جو چائے کا ٹیسٹ اتنا بہترین ہو جاتا ہے ۔ “

سنانا کی تعریف یاد آ جانے پر وہ کھوئی سی مسکرا دی جبکہ ہٹلر صاحب صرف اچھی سے بہت اچھی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ جویریہ نے مسکراہٹ دبائی ۔ وہ چائے کا کپ رکھ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔

” نہ کوئی تھنکیو نہ شکریہ “

جویریہ نے حیرت سے اس کی پشت کو گھورا ۔

” بدتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ بدتہذیب ہے بہت “

آہستگی سے بڑبڑاتی ہوئی صوفے پر سے اٹھی اور بیڈ کی طرف قدم بڑھا دیے ۔ بیڈ کے ایک طرف لگے میز پر سے کتاب اٹھائی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی ۔ بس آج کی تبدیلی یہاں تک ہی تھی اب دران ٹرایوزر شرٹ پہنے باہر آئے گا اور پھر بت بن کر صوفے پر بیٹھ جائے گا پھر اس کے چہرے کے رنگ ٹی وی سکرین کی روشنی کے بدلنے کے ساتھ بدلنے لگیں گے ۔ اس نے سر کو تاسف سے دائیں بائیں ہلا کر لیمپ جلایا اور کتاب کھول لی ۔

☆☆☆☆☆

بوسیدہ سے کمرے کی میلی دیواروں سے سسکیوں کی آوازیں ٹکرا کر پلٹ رہی تھیں ۔ وہ جان کے پلنگ کے پاس سر جھائے آنسو بہا رہی تھی ۔ ملگجے کپڑے , متروم آنکھیں , بکھرے بال , پژمردہ زردی مائل چہرہ وہ صدیوں کی مسافت طے کر لینے کے بعد بھی منزل پر نہ پہنچ پانے جیسے مسافر کی طرح لگ رہی تھی ۔

شادی سے ایک دن پہلے آج پورے پچیس دن بعد اسے کمرے سے باہر لا کر جان کے سامنے بٹھایا گیا تھا ۔ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن جان تو اس کی طرف دیکھنا تک نہیں گوارا کر رہا تھا تو اس کی بات کیا سمجھتا وہ پچھلے بیس منٹ سے دہائی دے رہی تھی رو رہی تھی ۔

” ٹھیک ہے مت کرو شادی ۔ ایک کام کرو پھر ۔ “

مریم کٹیلے لہجے میں کہتی ہوئی ۔ کرسی پر سے اٹھی ۔ آگے بڑھی۔ الماری کے پٹ کھول کر اس سے کچھ نکالا اور پلٹی ۔

” اسے ان دونوں گلاسوں میں گھول کر ہمیں دے دو ۔ “

وہ ایک کاغذ اس کی طرف بڑھا رہی تھی جوی نے حیرت سے مریم کی طرف دیکھا ۔ مریم کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ۔ لکڑی کے میز پر ایک جگ اور دو گلاس رکھے ہوئے تھے ۔

” دیکھ کیا رہی ہو یہ زہر ہے ۔ “

مریم نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔ وہ کانپ گئی ۔ باری باری مریم اور جان کی طرف دیکھا ۔

” زہر دو ہم دونوں کو اور جو جی میں آئے کرو ۔ “

مریم نے دانت پیس کر کہا ۔

” اماں کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ۔ “

تڑپ کر روہانسی آواز میں کہا اور پھر جلدی سے جان کے پلنگ پر اس کی کمر کے پاس بیٹھی ۔

” ابا آپ تو میری بات کو سمجھ گئے ہیں نہ ؟ دیکھیں میں ساری عمر کماؤں گی آپ لوگوں کے پاس رہ کر جاب کروں گی ۔ مجھے آپ لوگوں سے دور نہیں جانا ۔ مجھے شادی ہی نہیں کرنی ۔ “

زکا زدہ لہجے میں وہ سر کو دائیں بائیں ہلاتی جان سے منت کر رہی تھی لیکن وہ چہرے کا رخ موڑے لیٹا تھا ایسے جیسے اسے دیکھنا اچھوت ہو۔

” تم اپنا فیصلہ سنا چکی اور ہمارا فیصلہ یہ ہے یا تو تم چپ چاپ شادی کر کے اس گھر سے رخصت ہو جاؤ یا پھر ہم دونوں یہ زہر کھاتے ہیں اور مر جاتے ہیں ۔ فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے ۔ “

مریم نے سخت لہجے میں کہا اور پھر کمرے سے باہر نکل گئی خاموش کمرے میں اب بس اس کے رونے کی آواز گونج رہی تھی ۔ وہ بے بس تھی اوپر بیٹھا مسلمانوں اور عیسایوں کا خدا خاموش تھا ۔

وہ رو رو کر دہائیاں دیتی تھی ۔ دعائیں مانگتی رہی لیکن اللہ نے نہیں سنی وہ جیزیز کو بھی پکارتی رہی مگر کسی نے نہ سنی ۔ ماں باپ کو واسطے دیے لیکن ان کو اپنی عزت بچانی تھی ۔

اللہ کہاں ہے ۔ کیوں نہیں سنتا ۔ ایک دم سے اس نے رونا بند کر دیا ۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ آنسو صاف کیے ۔ مجھے اب دعا نہیں مانگنی کبھی نہیں مانگنی ۔ میں نہ مسلمان ہوں نہ میں عیسائی ہوں ۔ ہاں آج کے بعد میں کبھی دعا کے لیے نہ ہاتھ اٹھاؤں گی اور نہ مٹھیاں دبا کر ماتھے پر رکھوں گی ۔ میں دعا نہیں مانگوں گی ۔

” ابا مجھے منظور ہے ۔ میں شادی کے لیے تیار ہوں “

کسی گہری کھائی سے آتی آواز تھی ۔

☆☆☆☆☆

سرمئی ٹھنڈی شام اور دران کے کمرے کے باہر کا یہ نظارہ کسی طلسمائی جگہ کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ نیلے شفاف پانی سے بھرا تیراکی کا تالاب اور سفید چمکتی ٹائلز والا برآمدہ کسی پرستان کے محل کا حصہ لگ رہا تھا ۔

وہ گداز سے فوم میں لپٹی ہلکے گلابی رنگ کی پوشش والی کرسی پر بیٹھی تھی ۔ زرد رنگ کے گرم پیروں تک آتے کوٹ پر ہلکے فیرزوی رنگ کا سکارف نماز صورت باندھے , شفاف چہرہ جس پر وضو کے بعد کی نرماہٹ اب بھی قائم تھی ۔ وہ اس خوبصورت شام اور اس طلسماتی منظر کا حصہ لگ رہی تھی ۔

آنکھیں موندے بار بار تجوید کے ساتھ ایک لفظ کو ادا کرنے کی کوشش کرتی وہ جھنجلائی ہوئی تھی ۔ ہاتھ میں پکڑے موبائل میں چلتی ریکارڈنگ میں قاری اسے لفظ ادا کرنے کا طریقہ بتا رہا تھا اور پھر لفظ ادا کر رہا تھا ۔

” حلق کے اندر سے آواز نکالتے ہوئے ادا کریں ۔ “

قاری طریقہ بتانے کے بعد تلفظ ادا کرتا تھا ۔ اس کے بعد وہ تلفظ دہراتی لیکن اس طرح نہیں ادا ہو رہا تھا جیسے قاری سمجھا رہا تھا ۔ وہ بار بار اسی لفظ کی ریکارڈنگ کو پیچھے کر رہی تھی اور پھر لفظ کو ادا کر رہی تھی ۔

دران آج شوٹنگ سے دوپہر کو ہی واپس آ گیا تھا اور آکر سو گیا تھا ۔ اب اٹھا تو شام ہو چکی تھی ۔ اس کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں تو وہ شیشے سے پار باہر بیٹھی نظر آئی ۔

بکھرے بال , نیند سے بوجھل سوزش زدہ آنکھوں کے ساتھ وہ یک ٹک اسے دیکھتا کب دروازے تک آیا خبر نہیں ہوئی ۔ ڈھیلی سی گول گلے والی سفید ٹی شرٹ اور سیاہ ٹرایوزر میں ملبوس وہ شدید سردی میں ساکن کھڑا تھا ۔

وہ بار بار ایک تلفظ کی ادائیگی غلط کر رہی تھی جو اس سے درست نہیں ہو پا رہی تھی ۔ جھنجلائی سی وہ بار بار لفظ ادا کرتی اسے کسی سحر میں جکڑ رہی تھی ۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ ایک دم سے آگے بڑھا ۔

اچانک پاس سے قدموں کی چاپ پر جویریہ نے چونک کر آنکھیں کھولیں ۔ دران اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ رہا تھا ۔ وہ کب اٹھا کب یہاں آیا خبر نہیں ہوئی ۔ وہ حیرت سے اس کے یوں پاس بیٹھنے کو دیکھ رہی تھی ۔

” ادھر دیکھو میری طرف ایسے ادا کرنا ہے لفظ ۔ “

دران نے اس کے ہاتھ سے موبائل تھاما بند کیا اور پھر تلفظ کی ادائیگی کی ۔ وہ تلفظ ادا کرنے کے بعد اگلی تین آیات کو تجوید کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا ۔

آنکھیں بند تھیں اور اس کی خوبصورت آواز اس ٹھنڈے برآمدے میں گونج رہی تھی ۔ اسکے سامنے بیٹھی وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *