Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 03)
Rate this Novel
Basil (Episode 03)
Basil by Huma Waqas
وہ لڑکا اُسی انداز میں سر جھکائے نگاہیں زمین پر گاڑے کھویا سا بیٹھا تھا جیسے اس دن بارش میں بیٹھا تھا ۔ اُس کی عمر کے یہاں تمام لڑکے مختلف کھیل کھیلنے میں مصروف تھے واحد وہ تھا جو یوں سر جُھکائے پریشان حال بیٹھا تھا ۔ یقیناً وہ کسی بہت بڑی پریشانی میں مبتلا تھا ۔
اچانک اس کے پیروں کے پاس ایک گیند آ کر گری وہ چونکا اور خیالوں سے باہر آیا ۔ وہ پرانے سے سلیپر پہنے ہوئے تھا ۔ کپڑوں کی حالت بھی ابتر تھی وہ کسی متوسط سے بھی نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا لگ رہا تھا ۔ گیند کے یوں پاؤں کے پاس آ کر گرنے پر پہلے تو وہ چند سکینڈ کے لیے گیند کو یونہی دیکھتا رہا پھر سر اوپر اٹھایا ۔
اس کے بال گھنے اور سیدھے ہونے کے باعث کتنی ہی لٹیں اس کے ماتھے پر گری تھیں ۔ اس کی آنکھیں تھکی ہوئی لگ رہی تھیں ۔ بھنویں اکٹھی ہونے کے باعث آنکھوں کی پتلیاں سکڑی ہوئی تھیں۔ وہ ہنوز بے تاثر چہرے اور سپاٹ آنکھوں سے سامنے دیکھ رہا تھا جہاں کچھ لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے اور ان کی گیند اس کے پاس آ کر گری تھی ۔
اس کی رنگت صاف تھی اور ہلکی سی مونچھیں اور داڑھی اس کے چہرے پر خوب جچ رہی تھیں ۔ اس کا چہرہ اس کے حلیے کے بلکل برعکس تھا ۔ وہ جو اس کے حلیے سے اسے کوئی متوسط سے بھی نچلے طبقے کا کوئی غریب مجبور لڑکا سمجھے ہوئے تھی , اب اس کے سر اوپر اٹھانے پر اپنی ہی پہلی سوچ کو رد کر دیا ۔
وہ توحش نگاہیں اس پر ٹکائے ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز اسے دیکھنے میں مگن تھی ۔ وہ خوبرو اور ایک نگاہ میں اسیر کر دینے والی شخصیت کا مالک تھا ۔ جوی کی جگہ شائد کوئی بھی ہوتا ہو گا تو اسے پہلی دفعہ یوں ہی جی بھر کے دیکھتا ہو گا ۔
وہ خود ایک عام شکل و صورت کی مالک ضرور تھی۔ مگر دل کب اتنا حسن پرست ہوا کہ وہ دم سادھے اس لڑکے کو دیکھتی رہ گئی ۔
وہ اب اپنے پیروں کے پاس پڑی گیند کو جھک کر ہاتھ میں اُٹھا چکا تھا اور اپنی طرف آتے لڑکے کی طرف گیند اچھال دی ۔ اچانک گیند پھینکتے ہوئے اس کی نگاہ کچھ دور ساکن کھڑی جوی پر پڑی جو اسے یوں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی ۔ اس کے یوں دیکھنے پر جوی نے فوراً سٹپٹا کر نگاہوں کا زاویہ بدلہ ۔
” آپی میں یہاں ہوں ادھر دیکھو ۔۔۔۔” چیختی سی آواز عقب سے ابھری
جووت نے شائد اسے کھڑا دیکھ لیا تھا اور اب وہ خود اس کے پاس آ گیا تھا ۔ وہ دفعتاً مڑی جووت پسینے میں شرابور اس کے پیچھے کھڑا تھا ۔ وہ لڑکا اب یک ٹک ان کی طرف دیکھ رہا تھا جوی کا دل بلاوجہ اس کے یوں دیکھنے پر ہولے سے لرزا حالانکہ یہ کوئی ایسی اچھنبے کی بات تو نا تھی جس طرح کچھ دیر پہلے وہ اسے تاک رہی تھی وہ بھی اُسے ویسی ہی سرسری نگاہوں سے ہی دیکھ رہا تھا لیکن عجیب سا احساسِ شرمندگی تھا ۔
وہ گڑبڑا کر جووت کے پاس ہوئی اور اس کا کان مڑوڑ ڈالا ۔
” ہاں کتنی بار اماں نے تم کو سمجھایا ہے , سورج ڈوبنے سے پہلے گھر کو واپس آیا کر , اب چل جلدی سے گھر وہ غصے میں بیٹھی ہیں ” سخت لہجے میں ڈپٹا ۔
جووت کان مڑوڑنے کے سبب ایک آنکھ بند کیے تکلیف سے منہ کھول رہا تھا ۔
” بس کریں آپی آج میچ لمبا ہو گیا تھا تھوڑا سا ” جووت نے بیچارگی سے کہا
جوی نے ایک جھٹکے سے جووت کا کان چھوڑا اور بنا اس لڑکے کی طرف دیکھے قدم تیزی سے آگے بڑھا دیے ۔ سانس بلاوجہ پھول رہا تھا ۔ جووت بھاگتے ہوئے اب اس کے ساتھ ہمقدم ہوا ۔
بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے بارہا سر کو جھٹکا پر وہ لڑکا اور اس کی عجیب سی گہرائی لیے آنکھیں تو جیسے ذہن کے ساتھ چپک ہی گئی تھیں ۔
” ایسا بھی کیا عجیب تھا اس لڑکے میں ” جووت کا ہاتھ تھامے وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی
جب جووت کی کراہ پر چونکی ۔ اپنی سوچوں میں گم وہ کب اس کے ہاتھ پر گرفت بہت بڑھا چکی تھی خبر ہی نا ہوئی ۔
” آپی ۔۔ ہاتھ کیوں اتنی زور سے دبا رہی ہو ؟؟۔۔۔ اماں کی مار سے پہلے ہی ظلم ڈھا رہی ہو مجھ پر ” جووت نے تکلیف سے کراہتے ہوئے التجا کی , جوی نے ناک پھلا کر آنکھیں چندھی کئے گھور کر اُس کی طرف دیکھا ۔
” باتیں تو بہت بنانی آ گئی ہیں تمہیں , آج تمہاری درگت سے میں نہیں بچانے والی تمہیں , دیکھنا کیسے اماں تمھاری چمڑی اُدھیڑتی ہیں , آسان ہے کیا ؟؟ یوں تمہیں پکڑ پکڑ کر لانا باہر سے ” وہ گردن گھما کر دانت پیستے ہوئے اسے جھاڑنے میں مصروف تھی ۔
جووت منہ پھلا کر ساتھ چل رہا تھا ۔ چہرے پر پریشانی کے آثار تھے وہ صیح کہہ رہی تھی آج تو اماں سے اس کی اچھی درگت بننے والی تھی ۔
وہ لوگ اپنے فلیٹ کے پاس پہنچ چکے تھے اور جوی اسے اچھی خاصی سنا چکی تھی ۔ فلیٹ کا دروازہ ہمیشہ کی طرح آدھا کھلا تھا جو رات کو جان کے آنے کے بعد ہی بند ہوتا تھا ۔
جوی پھولی سانس کو بحال کرتی فلیٹ کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئی تو جووت بھی اس کے پیچھے سر جھکائے اندر داخل ہوا ۔ اندر داخل ہوتے ہی چھوٹے سے لاؤنج میں سے دو کمروں کے دروازے کُھلتے تھے ۔ اور ایک طرف چھوٹا سا ڈربہ نما باورچی خانہ تھا اور دوسری طرف غسل خانہ ۔ دونوں کمروں کے وسط میں بالکنی میں کھلتا دروازہ تھا ۔
لاؤنج میں ایک طرف ایک لکڑی کا پلنگ رکھا ہوا تھا اور پاس پڑی میز پر کتابوں اور ان گنت چیزوں کا ڈھیر تھا ۔ زنگ آلودہ پرانا سا فریج باورچی خانے کے بلکل باہر پڑا تھا اور ایک طرف برتنوں کی ٹوٹی سی الماری جس میں برتنوں کے بجائے پرانے اخبار اور جوی کے بہت سے رسالہ جات پڑے تھے ۔ ایک طرف پلنگ سے تھوڑا سا آگے پلاسٹک کے باریک پائپ سے تیارہ کردہ رنگ برنگی چٹائی بچھی تھی ۔ جہاں دس سالہ مَیری بیٹھی کچھ لکھنے میں مصروف تھے اس کے آگے اس کی کتابیں بکھری ہوئی تھیں ۔
ایک طرف چھوٹے سے لکڑی کے میز پر ٹی وی رکھا ہوا تھا جس پر اینٹ رکھی ہوئی تھی۔ ٹی وی انتہائی مرمری حالت میں تھا کہ اس پر اینٹ رکھتے تھے تو سکرین جھولنا بند کر دیتی تھی ۔ میلی کچیلی دو کرسیاں ایک ساتھ جوڑ کر ٹی وی کے بلکل سامنے دیوار کے ساتھ لگائی گئی تھیں ۔ ان میں سے ہی ایک کرسی پر مریم بیٹھی غصے سے جووت کو گھور رہی تھی۔
” اَدھر آ ذرا ۔۔۔۔ ” مریم نے چیخ کر سر جھکائے جلدی سے کمرے میں جاتے جووت کو پکارا ۔
وہ زبان دانتوں میں دبائے نگاہیں جھکا کر مُڑا ۔ جوی نے اس کے اس انداز پر بمشکل اپنی ہنسی دبائی ۔ وہ تین بیٹیوں کے بعد ایک ہی بیٹا تھا اور مریم اس کے معاملے میں بہت حساس تھی ۔
باورچی خانے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں شائد سنانا رات کے کھانے کی تیاری میں جت چکی تھی ۔ جان کے آنے سے پہلے رات کا کھانا بن جاتا تھا ۔ اچانک میدان والے لڑکے کا خیال پھر سے ذہن میں آتے ہی جوی جلدی سے باورچی خانے کی طرف بڑھی جبکہ جووت کی مریم کے ہاتھوں کلاس شروع ہو چکی تھی ۔
☆☆☆☆☆
چولہے کے نیچے آگ پوری آنچ لیے جل رہی تھی اور اوپر رکھی دیگچی میں مسور کی دال اب پھٹکڑیوں صورت ابل کر دیگچی کے کناروں تک رہی تھی ۔ دوسرے چولہے پر فرائی پین میں گھی کے اندر پیاز جل کر سرخ ہو رہے تھا ۔
یہ چھوٹا سا ڈربہ نما باورچی خانہ تھا جہاں دو دیواروں میں گھما کر پتھر لگی شیلف بنی تھی اور شیلف کے نیچے لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے دروازوں والے کیبن بنے تھے ۔
سنانا دیگچی کے بلکل سامنے کھڑی اس میں چمچ ہلا رہی تھی اور وہ شیلف سے کمر ٹکائے اس کے بلکل سامنے کھڑی تھی ۔
” صیح کہہ رہی ہوں میں ۔۔۔۔ وہی تھا اس دن بارش والا , بہت اداس دکھ رہا تھا بیچارا ” وہ سرگوشی نما آواز میں سنانا کے کان میں پُھس پُھسا رہی تھی ۔
سنانا نے ماتھے پر تیوری ڈالی مگر کوئی جواب نا دیا گھی میں جلتے پیاز والا فرائی پین اٹھایا اور دیگچی میں الٹ دیا ایک دم سے گھی اور دال کے ملاپ کی تیز آواز کا بے ہنگم شور چھوٹے سے باورچی خانے کے باہر تک ابھرا ۔
” کہیں کوئی نئے تو نہیں آئے بلڈنگ میں ہمارے ؟ ” جوی نے بھنویں اُٹھائے تشویش ظاہر کی ۔
سنانا دیگچی میں چمچ چلانے میں مگن تھی ۔ اور وہ آنکھوں کو سکوڑے پُرسوچ نگاہیں سامنے برتنوں کے رینک پر جمائی ہوئی تھیں ۔ پلاسٹک کے گدلے سے رینک میں دھلی چند پلیٹیں اور شیشے کے گلاس بڑے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے ۔
” یا پھر انو کا دوست ہو گا اس کو ہی ملنے کو آتا ہو گا ہماری بلڈنگ میں , تمھارا کیا خیال ہے ؟ ” جوی نے اپنا اگلا اندازہ بتایا اور پرجوش انداز میں سنانا کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
” کیا ہے کچھ تو بولو نہ , میں کب سے تمہیں کچھ بتا رہی ہوں اور ایک تم ہو بس چپ سے سنے جا رہی ہو ” جوی نے اس کی مسلسل خاموشی پر جُھنجلا کر استفسار کیا ۔
سنانا نے گہری سانس باہر انڈیلی چولہے کے نیچے جلتی آنچ کو کم کیا اور اس کی طرف رُخ کیا جو پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہی تھی ۔
” میں تو یہ سوچ رہی ہوں تب سے کہ اس دن مجھے محترمہ نے کہا کہ ہم کیوں کر رہے ہیں اس لڑکے پر اتنی انوسٹی گیشن اور آج خود جب سے باہر سے آئی ہو , بس اسی لڑکے کا بارے میں بتائے جا رہی ہو , خیر تو ہے ؟؟ ” سنانا نے کمر کے گرد باندھا دوپٹہ کھولتے ہوئے بھنویں اچکا کر تجسس سے پوچھا ۔
جوی نے بھنویں اکٹھی کیے اس کی سوچ کی نفی کی جبکہ وہ شیلف پر کچھ دور رکھے رینک میں لگی پلیٹ کو اٹھائے دیگچی کی طرف مڑی
” ہاں ۔۔۔۔ تو سہی کہہ رہی ہے ایسا بھی کیا ۔۔۔۔میں کیوں ذہن پر سوار کر رہی ہوں اس کو ” جوی نے اس کی بات پر غور کرتے ہوئے سر کو جھٹکا ۔
سنانا نے لب بھینچے دیگچی کا ڈھکن اٹھایا اور بھاپ اڑاتی دیگچی میں چمچ ڈالا ۔ جوی نے نچلے لب کو دانت میں دبائے ایک دفعہ پھر سے پرسوچ انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔
” سنانا ۔ا۔ا۔ا ۔۔۔۔ کیا ہے کہ میں یہ سوچ رہی تھی وہ کریسچن نہیں ہو سکتا !!!!! مسلمان لگتا ہے ” جوی کی سوئی ابھی بھی وہیں پر اٹکی تھی ۔
سنانا نے بے توجہی سے چمچ میں سالن بھر کر پیلٹ میں انڈیلا اور اس کی طرف رُخ موڑا۔
” جوی وہ جو بھی ہو ہمیں کیا لینا دینا اس سے چھوڑو اس کو کھوجنا , ذرا یہ چھک کر بتاؤ بھلا صیح بنی ہے کیا دال ؟ اماں سے کلاس نا ہو جائے کہیں ” سنانا نے پلیٹ اس کے آگے کرتے ہوئے کہا
سنانا صیح کہہ رہی تھی وہ کیوں بلاوجہ ایک انجان لڑکے کی شخصیت میں اتنا الجھ رہی تھی سر جھٹک کر پلیٹ پر نظریں جمائیں ۔ اور پلیٹ سنانا کے ہاتھ سے تھام لی ۔
☆☆☆☆☆
درانگ ولاس میں شام اپنی تمام طر رنگیناں لیے اتری تھی ۔سرخ , نارنجی اور پیلی روشنیوں میں نہایا سورج سمندر میں ڈوبتا ہوا دل آویز منظر پیش کر رہا تھا ۔ لان میں مدھم سی چلتی ہوا تیراکی کے تالاب میں موجود نیلے پانی میں ارتعاش پیدا کرتے ہوئے لہریں بنا رہی تھی ۔
تالاب سے چند قدم کے فاصلے پر لگے صوفوں پر سفید رنگ کی پوشش پر ہلکے گلابی پھول سبز قالین صورت بچھی گھاس والے لان کے حسن میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔
اور انہی صوفوں میں سے ایک صوفے پر دران پورے وقار کے ساتھ صوفے کے ہتھے پر بازو ٹکائے , سفید آدھی آستین کی ٹی شرٹ کے نیچے سیاہ ڈھیلا سا ٹرائیوزر زیب تن کیے سامنے بیٹھے ہاروی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا ۔
ایک طرف رکھے صوفے پر انل لیپ ٹاپ گود میں لیے بیٹھا کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا اور اسی کے مخلاف سمت ہاروی ٹانگ پر ٹانگ رکھے براجمان تھا ۔ انل سے بہت دیر بحث کے بعد جب اس نے ایڈوانس واپس دے کر فلم سے دستبردار ہونے کا کہا تو ہاروی کو مجبوراً درانگ ولاس آنا پڑا ۔ درانگ کا اس کی فلم سے ایک دفعہ کا انکار مطلب ہمیشہ کا انکار تھا جو اسی کے لیے نقصان کا باعث بھی ہو سکتا تھا وہ ہالی وڈ کے پہلے پانچ اُبھرتے ستاروں میں سے ایک تھا جنہوں نے پوری ہالی وڈ میں ہلچل مچا رکھی تھی ۔
” تمھارے ساتھ یہ میری پہلی فلم ہے دُرانگ , اس لیے مجھے اندازہ نہیں تھا تم ایسے سین بلکل نہیں کرتے ۔ ” ہاروی نے مسکراتے ہوئے جھوٹ بولا ۔
” مسٹر سٹائن ۔۔۔۔ ویسے تو میرے بہت سے قصے انڈسٹری میں بہت مشہور ہیں ۔۔۔۔ لیکن ان میں سے سٹفین کی فلم کا قصہ آپ نے نہیں سن رکھا یہ بات میرے ماننے میں نہیں آ رہی ہے ” بکھرے بالوں میں آہستگی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے وثوق سے کہا ۔
ہاروی نے ایک آبرؤ اچکایا , انداز چوری پکڑے جانے والا تھا ۔ دران صیح کہہ رہا تھا اس کا سٹفین کی فلم والا قصہ بہت مشہور ہوا تھا ۔ وہ فلم کی کو سٹار کے ساتھ بوسہ زنی کا منظر تھا جس پر دران بیچ میں ہی فلم چھوڑ رہا تھا کیونکہ سٹفین نے منظر میں اس کی عدم دلچسپی محسوس کرتے ہوئے دران سے جھگڑا کر لیا تھا ۔
” بلکہ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ آپ نے سٹفین سے شرط لگا رکھی تھی کہ درانگ میری فلم میں ایسا سین ضرور کرے گا ” خفیف سا قہقہ لگایا
کندھے دھیرے سے ہلنے لگے تھے آنکھیں چمک رہی تھیں جن میں بلا کی ذہانت جھلک رہی تھی ۔ ایک لمحے کو ہاروی سٹپٹا گیا وہ کیسے سب جانتا تھا ۔ وہ اب سر کو جھکا کر بمشکل اپنی بے ساختہ امڈ آنے والی ہنسی کو زیر لب مسکراہٹ میں تبدیل کر رہا تھا ۔ ہاروی نے لب بھینچے انل کی طرف دیکھا ۔ وہ خود لیپ ٹاپ سے توجہ ہٹائے اب سامنے دیکھ رہا تھا ۔
” جو سکرپٹ تم نے مجھے پڑھنے کے لیے بھیجا تھا ۔ اس میں میرا اور کارلہ کا کوئی ایسا برہنہ رومانوی منظر نہیں تھا ” دران نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے دو ٹوک انداز میں کہا
ہاروی نے ایک دم سے پہلو بدلہ , انل نے کن اکھیوں سے باری باری دونوں کی طرف دیکھا اور نگاہیں پھر سے لیپ ٹاپ پر جما دیں ۔
” نہیں ۔۔۔ یہ تو فلم ڈرایکٹر نے بعد میں ایڈیشن کروایا ہے , تھوڑا ایسا مسالہ ایڈ ہونا چاہیے فلم میں آجکل اس کی ڈیمانڈ ہے ” ہاروی نے اپنا موقف پیش کیا اور تائید کے لیے پاس بیٹھے انل کی طرف دیکھا ۔
انل نے جوابی کوئی اشارہ نہیں دیا , دیتا بھی کیوں یہ سارے حربے وہ دران کو قائل کرنے کے لیے آزما کر ناکام ہو چکا تھا ۔
” مجھے ڈیمانڈ نہیں دیکھنی معیار دیکھنا ہے ” دران نے ایک آبرؤ چڑھائے روکھے سے لہجے میں جواب دیا
” ویسے میں نے تو انل کو ایک اور آفر بھی دی ہے صبح شائد اس نے ذکر کیا ہو ” ہاروی نے کن اکھیوں سے انل کی طرف سوالیہ نگاہ ڈالی ۔
انل نے آنکھیں نکلاتے ہوئے سر کو نفی میں جنبش دی ۔ وہ انل سے ان مناظر کی خاطر پیسے بڑھانے کی پیش کش کر چکا تھا لیکن انل یوسف جانتا تھا دران پھر بھی نہیں مانے گا اس لیے اس نے ہاروی کو اسی وقت دو ٹوک لہجے میں منع کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ درانگ پیسوں میں نہیں بکتا وہ صرف اپنے فن کے پیسے لیتا ہے اور اس کا فن اس کی جاندار ادکاری اور فائٹنگ اسٹنٹ تھے جو وہ خود فلماتا تھا ۔
” درانگ پیسوں میں نہیں بکتا مسٹر سٹائن , صرف اپنے فن کا پیسہ وصول کرتا ہے ” دران نے سگریٹ سلگائی
ہاروی نے چونک کر حیرت سے انل کی طرف دیکھا وہ تو سمجھا تھا شائد اس نے درانگ سے یہ بات نہیں کی ہو گی لیکن ۔۔۔ مخصوص انداز میں لائٹر کو کھولتے اور بند کرتے ہوئے وہ گہری نگاہوں سے ہاروی کو دیکھ رہا تھا ۔
” یہی کہا ہو گا انل نے آپ سے ؟؟ ” استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ سوال پوچھا ۔
ہاروی نے گہری سانس لی اور پشت صوفے کے ساتھ ٹکا دی ۔ وہ اس کی سمجھ سے باہر تھا آج ماننا پڑے گا لوگ اس کو صیح بد دماغ کہتے ہیں ۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ مان لی تمھاری بات ان میں سے کوئی سین ایڈ نہیں ہو گا , اب کل صبح کی فلائیٹ ہے تم اور کارلہ ایک ہی فلائیٹ میں ہو گے ” ہاروی نے کندھے اچکائے اور ہتھیار ڈال دیے ۔
دران نے سگریٹ والے ہاتھ سے دائیں آبرؤ کو انگوٹھے سے سہلایا اور پھر لب بھینچے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆
جیسے ہی اُس کی آنکھوں پر سے کسی نے کھینچ کر سیاہ پٹی ہٹائی تیز روشنی کے سبب اس نے جلدی سے آنکھیں میچ لیں ۔
پھر آہستگی سے پلکوں کو لرزاتے ہوئے آنکھوں کو کھولا , یہ ایک چھوٹا سا آفس نما کمرہ تھا جو بے انتہا بدبودار تھا ۔ اس کے سامنے تین نفوس کھڑے تھے ۔ لی تاؤ اس کا دوست وانگ اور تیسرا کوئی اور شخص تھا ۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔ لی تاؤ اس سے باتیں کر رہا تھا اور بار بار تیسرے شخص کو شیون کے نام سے پکار رہا تھا ۔
وہ اس وقت ہلکے گلابی رنگ کی بنا آستین والی ٹی شرٹ اور تنگ جینز میں ملبوس تھی جو صبح زبردستی لی تاؤ نے اسے پہننے کے لیے کہا تھا ۔ اس کے باقی سب کپڑے وہ اٹیچی سمیت اٹھا کر پھینک چکا تھا ۔
اس کے چہرے پر گردن پر انگنت نیل کے نشان جو پچھلے چار دن کی کہانی چیخ چیخ کر سنا رہے تھے ۔ وہ اپنی آبرو بچانے کے لیے جی جان لگائے ہوئے تھی ۔
اچانک لی تاؤ آگے بڑھا اور بازو سے کھینچ کر اسے شیون کے سامنے کیا ۔ ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس بھی وہ خود کو برہنہ ہی محسوس کر رہی تھی۔ کیونکہ سامنے کھڑے شیون کی نگاہیں اس کے چہرے سے زیادہ اس کے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں ۔
ٹی شرٹ گہرے گلے والی تھی جسے اب وہ سمٹ کر دونوں ہاتھوں سے اوپر کر رہی تھی ۔ لی تاؤ آج اسے پانچ گھنٹے کے طویل مسافت کے بعد شہر میں لے آیا تھا ۔
اس عمارت میں داخل ہوتے ہی بیرونی گیٹ پر اس کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی تھی جو اب اس آفس نما کمرے میں آ کر کھولی گئی تھی ۔
شیون اب لبوں پر خباثت سے انگلی پھیرتے ہوئے اس کے اردگرد گھوم کر اسے جانچ رہا تھا اس کی نگاہوں میں موجود حیوانیت اس کو اندر سے لرزا رہی تھی ۔
اچانک شیون نے اس کے بار بار گلے کے درست کرتے ہاتھوں کو پکڑ کر پاس پڑی ٹیپ کے ساتھ پیچھے کے رُخ کمر پر باندھ دیے ۔ وہ اس عمل پر لڑکھڑا گئ ۔ شیون اب پھر اس کو بغور دیکھ رہا تھا پھر رکا اور لی تاؤ کی طرف حیرت سے دیکھا ۔
” تمہیں یہ اُس کام کے لیے بیکار کیوں لگتی ہے اچھی خاصی تو ہے ” حیرت اور خباثت سے بھنویں اچکائے سوال کیا ۔
لی تاؤ نے ایک حقیر نگاہ اس پر ڈالی جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے کان کھڑے کیے ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ اتنی تیزی سے چینی زبان بول رہے تھے کہ اس کے پلے کچھ نہیں پڑ رہا تھا ۔
فقط ایک خوف تھا جو ریڑھ کی ہڈی میں اوپر سے نیچے گردش کر رہا تھا ۔
” تمہیں اس میں کیا خاص نظر آیا , تم بس اسے اعضا پیوند کاری والے ڈیپارٹمنٹ میں ڈالو اور مجھے میرا معاوضہ دو ” لی تاؤ نے بھر پور بیزاریت ظاہر کی
وہ اس کے بار بار بھاگنے اور جسم فروشی پر آمادہ نا ہونے سے تنگ آ چکا تھا اور اب اسے صرف پیسوں سے غرض تھی ۔
شیون اب اس کی شرٹ کو انگلی میں گھماتے ہوئے اسے قریب کر رہا تھا اور شیون کی اس حرکت پر وہ پھنسے ہوئے پنچھی کی طرح پھڑپھڑانے لگی ۔
لی تاؤ نے ایک جھٹکے سے شیون کو کندھے سے پکڑ کر پیچھے کیا
” اے۔ے۔ے۔۔۔۔ ایسے نہیں اگر اس کے لیے چاہیے پہلے پیسے دو مجھے , میرا مال ہے ” لی تاؤ نے تن کر کہا
وہ خباثت سے بلند و بانگ قہقہ لگاتا ہوا پیچھے ہوا چند قدم آگے بڑھا اور دروازہ کھول کر باہر اشارہ کیا اگلے ہی لمحے ایک اور پھٹکار زدہ چہرے والا نفس آفس میں داخل ہوا ۔
” پیسے دو ان کو , فارغ کرو اور مارک کو بھیجو میرے پاس ” شیون نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چابی کمرے میں آنے والے نفس کی طرف پھینکتے ہوئے حکم صادر کیا
چابی تھامنے کے بعد اس آدمی نے آنکھ سے ہی لی تاؤ اور وانگ کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا لی تاؤ بنا اس کی طرف ایک بھی نگاہ ڈالے باہر جا چکا تھا ۔
اب کمرے میں شیون پوری طرح ایکسرے مشین بنا اسے جانچ رہا تھا ۔
” پلیز ۔۔۔ مجھے جانے دو ۔۔۔ مجھے پاکستان جانا ہے اپنے گھر ” اچانک وہ بھاگتی ہوئی شیون کے پیروں میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ ۔
جتنی ٹوٹی پھوٹی چینی زبان اسے آتی تھی وہ ساری آزما رہی تھی ۔ لیکن شیون تو وقت کا فرعون بنا قہقے لگا رہا تھا یوں جیسے وہ اس کے گڑڑانے اور رونے سے لطف اندوز ہو رہا ہو ۔
اسی لمحے دروازہ کھول کر ایک بڑے ڈیل ڈول کا آدمی داخل ہوا وہ کوئی سیاہ فام تھا اور اب تک کے تمام نفوس میں ہیبت ناک تھا ۔
” وہ جو پرسوں پچاس لڑکیاں الگ کی تھیں ۔ ان میں ڈال دے اس کو ” شیون نے بے رحمی سے اپنے پیروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سامنے کھڑے سیاہ فارم کو حکم صادر کیا
حکم ملتے ہی سیاہ فام آگے بڑھا اور جھک کر اسے بالوں سے دبوچا , اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ اوپر کو کھنچتے بالوں کے ساتھ آنکھیں بھی اوپر کو چڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں ۔
تکلیف سے متواتر چیخیں مارتی ہوئی وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس شخص نے پہلے اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ پٹی باندھی اور پھر ایک جھٹکے میں اسے اپنے کندھے پر ڈا لا ٹانگوں پر اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ ہل بھی نہیں سکتی تھی ۔
آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ بس وہ چلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا پھر سیڑھیاں اترتا ہوا ۔ اور پھر ایک جگہ وہ رک گیا ۔
ہر گزرتا لمحہ اس کی زندگی کو اندھیروں میں دھکیل رہا تھا ۔ سب کچھ ایک بھیانک خواب جیسا تھا۔
