Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 07)
Rate this Novel
Basil (Episode 07)
Basil by Huma Waqas
سورج سرمئ اور نارنجی روشنی کی چادر میں لیپٹا غروب ہو رہا تھا , سارے دن کی ان تھک , پلک جھپکے بنا ذمہ داری نبھانے کے بعد اب تھکا ماندہ سا آنکھیں موندتا سورج دنیا کو ملگجے اندھیرے میں غرق کر رہا تھا ۔
سورج کے غروب ہوتے ہی چین کے شہر شھنگائی اور اس کے مضافات میں بلند و بانگ عمارتیں روشنیوں میں نہا گئی تھیں مگر اسی شہر میں یہ ایک جگہ ایسی تھی جہاں نا سورج نکلنے کا پتا چلتا تھا اور نا غروب ہونے کا بس جب سفید بتیاں سرخ بتیوں میں تبدیل ہوتیں تو رات ہو جاتی اور جب پھر سے سفید میں تبدیل ہوتیں تو صبح ہو جاتی ۔
زندہ انسانوں کی اس قبرستان میں آج اُس کا دوسرا دن تھا اور یہاں کا ہر پل ایک صدی پر محیط محسوس ہو رہا تھا ۔
لڑکیوں کی آوازوں کی بھنبھناہٹ کے ساتھ کبھی درد ناک چیخیں اور کوڑے مارنے کی آوازیں ابھرنے لگتی تھیں ۔ جیسے ہی کسی کو مارنے کی آوازیں اُبھرتیں تو اس لڑکی کی دلخراش چیخیں اس بند قبروں کے درمیانی راہداری میں گونجنے لگتیں اور باقی سب زندہ لاشیں اپنے سر گھٹنوں میں دے کر کانوں میں انگلیاں گھسا لیتیں ۔
تمنا نے اُسے بتایا کہ جب کوئی لڑکی ضد کرتی ہے اور کسی کلائینٹ کو خوش نہیں کرتی پھر اس کو یونہی کوڑوں سے مار پڑتی ہے ۔ آج دوسرے دن اب یہ وہ وقت تھا جب خاموشی پھیلنا شروع ہو چکی تھی ۔
آہ آج اُسی جگہ اسے پھر سے شام ہو گئی ۔ روز رات کو نیند کی وادی میں جانے سے پہلے وہ یہ سوچتی تھی جب آنکھ کھلے گی وہ یہاں نہیں ہو گی ۔
جوی پلنگ پر ٹانگیں لٹکائے ہاتھوں کو گود میں دھرے بیٹھی تھی وہ تقریباً صبح سے ہزار بار سلاخوں سے پلنگ اور پلنگ سے سلاخوں تک کا چکر لگا چکی تھی ۔ کمرے کے ایک کونے میں بوسیدہ سی چادر پر تمنا فرش پر سجدہ کیے سر اور ناک کو فرش سے جوڑے ہوئے تھی ۔
جوی اسے کل سے جانچ رہی تھی کہ وہ دن میں پانچ دفعہ یوں ماتھے اور ناک کو فرش سے جوڑ کر سجدہ ریز ہوتی تھی۔ یہاں وقت کی جانچ کے لیے کسی قسم کی کوئی گھڑی موجود نہیں تھی۔ اس لیے وہ اندازے کے مطابق وضو کرتی اور پھر اپنے پلنگ کے گدے کے نیچے سے چھوٹا سا صاف کپڑا نکال کر فرش پر بچھاتی اور نماز ادا کرنے لگتی اور آج بھی وہ چوتھی دفعہ یہی عمل دہرا رہی تھی ۔
جوی نے گہری سانس خارج کی اور رخ موڑے باقی دونوں لڑکیوں کی طرف دیکھا وہ دونوں ایک ہی پلنگ پر لیٹی محو گفتگو تھیں ۔ یہاں باتیں کرنے اور رونے کے علاوہ کچھ نہیں تھا کرنے کو ۔ لڑکیوں کے پاس لباس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی حتی کہ بالوں کو باندھنے کے لیے یا لگانے کی کسی قسم کی کوئی پن بھی نہیں تھی ۔
کمروں میں پنکھے نہیں تھے ۔ چھت چھوٹی تھی ۔ اوپری پلنگ پر لیٹنے والی اگر اپنی ٹانگیں اٹھائے تو چھت سے ٹکرا سکتی تھیں ۔ کمرے میں کوئی نوکیلی چیز یا کسی قسم کا کوئی آلہ موجود نہیں تھا جس سے کوئی لڑکی خود کو کسی قسم کا نقصان پہنچاتی یا خودکشی کی کوشش کرتی ۔
جوی آنکھیں اٹھائے کمرے کے چاروں اطراف کو بغور دیکھ رہی تھی یہ کسی عمارت کا تہہ خانہ تھا جہاں نہ کوئی کھڑکی تھی اور نا کوئی روشن دان۔ وہ دماغ میں اس قید سے نجات کا کوئی ذریعہ کھوج رہی تھی پر نگاہ اس کمرے کے ہر کونے سے سر پٹخ کر مایوس واپس آ رہی تھی ۔
تمنا اس کے ساتھ کل رات بہت دیر تک باتیں کرتی رہی تھی۔ جس میں اس نے اَسے اس جگہ اور لوگوں کے بارے میں اکٹھی کی ہوئی ساری معلومات سے آگاہ کیا تھا ۔
رات کو جب وہ اوپر اپنے پلنگ پر اور جوی نچلے پلنگ پر لیٹی تھی تب بھی وہ ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں ۔ تمنا کو یہاں اس قید میں دو سال ہو چکے تھے اور اس سارے عرصے میں وہ یہاں کے بارے میں بہت کچھ جان چکی تھی ۔
رات کو خود بخود پورے ہال کی بتیاں سفید سے سرخ روشنی میں تبدیل ہو گئی تھیں اور بتیوں کے روشنی بدلتے ہی سب لڑکیاں اپنے بستر پر لیٹنے لگی تھیں ۔ جیسے ہی روشنی سفید سے سرخ میں تبدیل ہوئی جوی کا خوف بڑھنے لگا ۔ اسکی یہاں آج پہلی رات تھی اور کمرہ , اس کی چھت عجیب وحشت زدہ لگنے لگی تھی ۔ بس تمنا کی ابھرتی آواز اس کی ڈھارس باندھے ہوئی تھی ۔
” کیا تم نے کبھی ۔۔۔ بھاگنے کی کوشش نہیں کی یہاں سے ؟ “
باتوں کے دوران ہی اس نے تمنا سے سوال کیا تھا ۔ سوال کرنے کے بعد وہ اب اپنے اوپر موجود اس کے پلنگ کے نچلے حصے کو گھور رہی تھی ۔ خاموشی وقت کے کچھ پل نگل چکی تھی جب تمنا کی دلگیر آواز ابھری ۔
” بھاگتے وہ ہیں جن کے پیچھے کوئی ہو , ہم یہاں سے بھاگ کر کہاں جائیں گے , ویسے تو کوئی راستہ نہیں لیکن اگر کوئی کوشش بھی کرتی ہے تو پکڑی جاتی ہے۔ اس کے بعد یا تو مار دی جاتی ہے یا پھر تششد کے نا ختم ہونے والے دور سے گزارا جاتا ہے “
اوپری پلنگ پر سے چرچراہٹ کی آواز اُبھری اور پھر وہ نیچے اتر کر جوی کے برابر آ کر اس کے پلنگ پر لیٹ چکی تھی ۔ اس کے یوں ساتھ آنے پر جوی کے بڑھتے خوف کو جیسے ایک تسکین ملی ۔
” یہ بلیک مارکیٹ ہے جہاں اس وقت تم ہو ” تمنا اپنی آواز کو حد درجہ دھیما رکھے ہوئے تھی ۔
پتلے سے تکیے پر وہ اب جوی کے ساتھ سر جوڑے ہوئے بول رہی تھی ۔
” تم جہاں تھی اس سے پہلے , اگر تمھارا شوہر تم سے وہاں اپنے گھر میں ہی پروسٹی ٹیوشن کرواتا وہ سب لوکل تھا مگر یہاں وہ تمہیں بلیک سیکس پروسٹی ٹیوشن مارکیٹ میں سیل کر گیا ہے ۔ “
تمنا کی اس بات پر ایک لمحہ کے لیے سانس رکا , ہلکی سی اُمید بھی ختم ہو چکی تھی ۔ مطلب لی تاؤ اسے یہاں بیچ گیا ہے اور اب وہ کبھی نہیں آئے گا ۔
” ہم ان کے سکس ورکر ہیں۔ جن سے ان کا بزنس چل رہا ہے ۔ سِلیو پروسٹی ٹیوٹ سب سے نچلا درجہ ہے یہاں اس درجے میں یہ لڑکیوں کو سب سے زیادہ اذیت میں رکھتے ہیں اور ہمارے اندر ہماری انا سے لے کر نزاکت تک سب کچھ ختم کر دیتے ہیں , تشدد سے لے کر جسم فروشی تک ہر اذیت سے گزرنا پڑتا ہے , پھر اس کے بعد بہت سی جگہوں کا نا ختم ہونے والا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جس میں اگلا درجہ پورن گرافی سٹریپنگ ہے یہ زبردستی پورن فلمیں بناتے ہیں اور ڈارک ویب سائٹس چلاتے ہیں “
تمنا اسے اس دلدل کی تمام تہوں سے آگاہ کر رہی تھی ۔ اور وہ دم سادھے لیٹی تھی کیونکہ اس کی تمام باتیں گلے میں ایک طوق کی طرح اپنی گرفت بڑھا رہی تھیں ۔
” اس کے بعد ایسکورٹ پروسٹی ٹیوشن ہے ۔ یہ بھی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس میں یہ لڑکی کو کلائینٹ کے پاس بھیجتے ہیں کسی ہوٹل روم یا کسی فلیٹ میں “
جوی نے سرخ روشنی میں مزید آنکھیں کھولیں ۔ کچھ رنگ برنگے سے عکس آنکھوں کے سامنے ناچ رہے تھے اور دماغ میں سائیں سائیں جیسے جھکڑ چلنے لگے تھے ۔ اسے بڑھتہ خنکی اپنی ہڈیوں میں گھستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
” اور جب لڑکیاں اپنی جوانی کی حدود سے نکلنے لگتی ہے اور ڈیمانڈنگ نہیں رہتیں تب یہ لوگ انہیں سٹرٹیٹ پروسٹی ٹیوشن کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ اُنہیں صرف رہائش کی جگہ دیتے ہیں۔ جس کا کرایہ اور اوپر کے پیسے اُن لڑکیوں کو انہیں ادا کرنے ہوتے ہیں ۔ اب سب ان پر ہوتا ہے وہ کیسے کمائیں گی , کیا کریں گی , تب وہ سٹریٹ پروسٹی ٹیوشن کرتی ہیں۔ تب جا کر تھوڑی آزادی ہوتی ہے مگر تب تک وہ اتنی تباہ ہو چکی ہوتی ہیں اور عمر کے اس حصے میں ہوتی ہیں کہ باقی معاشرہ انہیں عام انسانوں کی طرح قبول نہیں کرتا اور ان کے پاس سٹریٹ پروسٹی ٹیوشن کرنے کے علاوہ کوئی چار نہیں ہوتا “
دلگیر لہجہ تھا جس میں وہ اپنا اور اس کا انجام بتا رہی تھی ۔ جوی کو اپنے جسم کے کھڑے ہوتے رونگٹے کیڑوں کے رینگنے کی مانند احساس دلا رہے تھے ۔ دل کے دھڑکنے کی رفتار آنے والے وحشت ناک لمحات کو سوچ کر ہی بڑھ چکی تھی ۔
” یہاں اس بلیک مارکیٹ میں سب لڑکیاں بائیس سے نیچے کی ہیں اور وہ ابھی سب سے نچلے درجے میں ہیں مطلب ہم سلیو سکس ورکر ہیں۔ ان کو یہاں کلائینٹ کے پاس کم بھیجا جاتا ہے , صرف چند جو سلیو سے ایکسورٹ کے درجے پر جاتی ہیں ان کو کلائینٹ کے پاس بھیجتے ہیں۔ بائیس سے نیچے والی تمام لڑکیوں کو یہ لوگ اپنی ویب ویڈیوز اور سیل کے لیے اور اعضا کی ٹرانسپلانٹ کے لیے رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے اعضا جوان ہونے کی وجہ سے زیادہ ڈیمناڈنگ ہوتے ہیں “
وہ تمنا کو کوئی وحشت ناک داستان سناتے ہوئے محسوس کر رہی تھی ۔ شائد وہ اسے ذہنی طور پر آنے والی ساری اذیتوں کے لیے تیار کر رہی تھی تاکہ وہ یہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچنا چھوڑ کر اس زندگی کے ساتھ سمجھوتا کر لے
” پھر یہاں سے ہر سال بہت سے ممالک میں قانونی اور غیر قانونی پروسٹی ٹیوشن کا کاروبار چلانے والے بہت سی لڑکیاں خرید کے اپنے ممالک میں لے جاتے ہیں ۔ وہاں تمام لڑکیوں کو بکریوں کی طرح پیش کیا جاتا ہے اور ان کی بولیاں لگائی جاتی ہیں “
وہ یہ تمام دل دہلا دینے والی حقیقتوں سے آگاہ کرنے کے بعد خود تو جا کر سو چکی تھی۔ لیکن وہ ساری رات اس پلنگ پر کروٹیں بدلتی رہی تھی ۔ اور اب صبح سے شام ہونے تک وہ تمنا کی رات کی گئی باتوں کو سوچ سوچ کر اپنا دماغ اور اعصاب شل کر چکی تھی ۔ اسے ہر گز یہاں نہیں رہنا تھا ۔ اس کا انجام اتنا بھیانک کیسے ہو سکتا تھا ۔ دماغ آج بھی دل کو رد کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہو جانے والی اس انہونی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا ۔
وہ اپنے خیالوں میں اُلجھی سامنے تمنا پر نگاہیں گاڑے ہوئے تھی ۔ تمنا نے سلام پھیرا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے ۔ اس سارے دن میں وہ ان پانچ وقت میں تمنا کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون دیکھتی تھی ۔ وہ جب وضو کے بعد واش روم سے واپس آتی اور اپنے سکارف کو اپنے سر کے گرد لیپٹتی تو اس کے نکھرے سے چہرے سے ٹپکتا پانی اور چہرے پر موجود طمانیت اسے اندر سے کوچکے لگانے لگتی ۔ وہ کتنی پرسکون ہو کر خدا کے روبرو جاتی ہے ۔
کیا اسے خدا سے کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں ؟ جیسے اسے ہے بہت سی شکایت بہت سے دکھوں اور خامیوں کے شکوے وہ یہ شکوے پچھلے سات سالوں سے کر رہی تھی ۔
تمنا دعا مانگنے کے بعد اب فرش پر بچھی چادر کو سمیٹ رہی تھی ۔ وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی ۔ وہ اب اپنی انگلی کی پوروں کو چھو کر منہ میں بے آواز کچھ پڑھ رہی تھی ۔
مضطرب اور حیرت زدہ سی نگاہیں اس نے تمنا پر اٹھائیں جو اُس کے پاس آ کر اب اپنے سر پر سے سکارف کھول رہی تھی ۔
” تمہیں خدا سے کوئی شکوہ نہیں ہے ؟ اتنی اذیت سہنے کے بعد کیسے اس کی عبادت کر لیتی ہو تم ؟ “
زکام زدہ بھاری سا لہجے میں وہ پلکیں اٹھائے تمنا سے اپنے ذہن میں ابھرنے والا بے ساختہ سوال پوچھ بیٹھی ۔ ایک پل کے لیے تمنا کے ہاتھ تھمے تھے اور سکارف ہوا میں معلق رہ گیا ۔
وہ آہستگی سے پلنگ پر براجمان ہوئی اور اپنے دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈالتے ہوئے گردن جھکا دی اس نگاہیں اب اپنے ہاتھوں پر اور جوی کی اس پر تھیں ۔
” اس دنیا میں ہر کوئی اپنی جگہ لیے ہوئے ہے ہم نہ ہوتے تو اس پلنگ پر یہاں کوئی اور تمنا ہوتی , وہ جانتا ہے کس کی برداشت کس جگہ کے حساب سے اس نے ہر کسی کو اس کی برداشت کے حساب سے اس دور اور اس جگہ پر رکھا ہے جہاں ہونا چاہیے ” تمنا کا ٹھنڈا برف لہجہ جوی کے تنے اعصاب پر جیسے پھوار کی طرح برس رہا تھا ۔
” اس سے کس بات کا شکوہ کروں کہ ہم یہاں کیوں ہیں ؟ ہماری جگہ کوئی اور تمنا کیوں نہیں , ہم اتنی سنگ دل نہیں کہ یہاں اپنی جگہ اپنی کسی اور لڑکی کے ہونے کا شکوہ کریں , اس نے یہاں رکھا ہے تو ہمارا رزق یہیں کا ہے ” اس کے لہجے میں ایک ٹھہراؤ تھا ایک درد تھا لیکن ہاں شکوہ کہیں نہیں تھا ۔
” خود کشی حرام ہے , موت کی دعا کفر ہے , مگر یہاں سے نجات صرف موت ہے اس لیے ہم دعا میں نجات مانگتے ہیں ۔ بے شک ایمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور ہم اس آسانی کے انتظار میں ہیں “
اس نے جھکی گردن اٹھائی اور جوی کی طرف دیکھا ۔
” جسم ناپاک ہے , روح اور دل نہیں اور جسم کی کیا وقعت وہ تو یہیں مٹی میں گل سڑ جائے گا اس کے پاس تو روح جائے گی جسے جھنجوڑ کر , نوچ کر بھی یہ درندے ناپاک نہیں کر سکتے , ہم وضو کرتے ہیں تو اپنی آنکھوں سے یہ تصور کرتے ہیں کہ سب نجس اور ناپاکی دھل کر بہہ گئی ہے ” وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ۔
بے ہنگم شور اٹھا تھا ۔ سلاخوں کے آگے ڈبے پھینکے جا رہے تھے لڑکیاں بھاگ بھاگ کر دروازوں کی طرف جا رہی تھیں ۔ تمنا بھی اپنی جگہ سے اٹھ چکی تھی ۔ جوی نے دم بخودہ اس کی طرف دیکھا جو اب کھانا اٹھانے کے لیے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
شھنگائی اے ۔ پی مارکیٹ رات کے اندھیرے میں دن جیسا سماں لیے ہوئے تھی ۔ تیز روشنیوں میں نہایا یہ بازار سفید فرش اور چمچاتی دوکانوں سے لیس تھا ۔ یہاں مختلف سامان کی دوکانیں بازار کی گھومتی راہداریوں کے دائیں اور بائیں دونوں اطراف میں موجود تھیں ۔ لوگ دوکانوں کے بیچ کی راہدریوں میں گزرتے باتوں میں محو تھے اور کچھ دوکانوں کے اندر خرید و فروخت کر رہے تھے ۔
ان انگنت لوگوں کے بیچ دران گرے رنگ کے گرم کورٹ کے نیچے سفید ڈریس شرٹ اور سیاہ پینٹ پہنے مختلف دوکانوں میں نگاہیں دوڑاتا ہوا آگے بڑھا رہا تھا ۔ شرٹ کے سامنے کے دو بٹن کھلے تھے اور کورٹ کی آستین کے نیچے پاٹک فلیپی اس کے تیز تیز ڈگ بھرنے کی وجہ سے کلائی پر جھول رہی تھی ۔ انل بھی سیاہ کورٹ پینٹ کے نیچے نیلی ڈریس شرٹ پہنے مضطرب سے چہرے کے ساتھ اس کے پیچھے خود کو لوگوں سے ٹکرانے سے بچاتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا ۔
آج شوٹنگ کے پیک اپ کے بعد دران ہوٹل جانے کے بجائے اسے سیدھا یہاں لے آیا تھا ۔ گاڑی میں بھی انل کے بار بار پوچھنے پر وہ خاموش رہا تھا اور اب بھی یہی حال تھا ۔ بلکل خاموش گردن کو دائیں بائیں گھماتا , آبرؤ اچکائے وہ کسی مخصوص دوکان کی تلاش میں تھا ۔
” دران کونسی شاپ کی تلاش ہے ؟ ” انل نے پھولی سانس کے ساتھ پوچھا
وہ بمشکل خود کو سامنے آتی لڑکیوں سے ہوتی ٹکر سے بچا سکا تھا کیونکہ اس کی پوری توجہ تیزی سے چلتے دران اور یہاں آنے کی وجہ جاننے پر مرکوز تھی ۔
لڑکیاں انل کی بدحواسی پر منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھیں اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھیں۔ جبکہ دران اب بھی بازار کی راہداری میں متلاشی نگاہیں گھمائے آگے بڑھ رہا تھا ۔ پانچ سے دس منٹ کی تلاش کے بعد وہ اپنے قدم ایک دوکان کے سامنے روک چکا تھا ۔
انل کے ذہن میں کل شام کی ساری گفتگو تھی مگر اب دران ایسا کیا کرنے والا تھا یہ بات اسے تشویش میں مبتلا کر رہی تھی ۔
دوکان الیکٹرونک اور کمپیوٹرائز آلات کی تھی ۔ دران نے ایک سکینڈ کے لیے قدم منجمند کیے اور پھر دوکان میں داخل ہوا انل نے کسی روبوٹ کی طرح اس کے پیچھے ہی قدم بڑھا دیے ۔
وہ اب دوکان کے کاوئنٹر کے سامنے گردن اٹھائے کھڑا تھا جہاں کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا لڑکا اب سوالیہ انداز میں دران کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ دران نے کمر پر ہاتھ رکھے ایک اچٹتی نگاہ پوری دوکان پر ڈالی اور پھر کہنی کو کاؤنٹر پر ٹکاتے ہوئے آگے ہوا ۔
” سپائے خفیہ مائیکرو ڈیجیٹل مائیک چاہیے ” بھاری سپاٹ آواز گونجی
دوکاندار نے ایک لمحے کے لیے اس کی بات سمجھنے کے انداز میں لبوں کو بھینچا اور پھر سر ہلا کر پیچھے مڑا جہاں پوری دیوار میں نصب الماری میں انگنت الیکٹرانک آلات کے ڈبے پڑے تھے ۔
انل نے بھی سرسری دوکان پر نگاہ گھمائی اور پھر سراسمیگی سے دران کے قریب ہوا , وہ اب گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا ۔
” دران کیا کرنے والے ہو ؟” بے چینی سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی
جواب نادار , وہ بے تاثر چہرہ لیے دوکاندار کے ہاتھوں پر نگاہیں مرکوز کیے ہوئے تھا جو ڈبے نکال رہا تھا ۔ انل الجھ کر آگے ہوا ۔ اس کے برابر میں کاؤنٹر پر کہنی ٹکائی اور اس کی نگاہوں کے تعاقب میں نگاہیں سامنے جمائیں جہاں دوکاندار اب کچھ ڈبے پکڑے کاؤنٹر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
” دران ہمیں اس سب میں نہیں پڑنا اور نا ہی ہم مینگولے جا رہے ہیں پرسوں دیٹس اٹ ” انل کا لہجہ دو ٹوک تھا ۔
دران نے لاپرواہی برتتے ہوئے دوکاندار کی طرف مکمل توجہ مرکوز کی , کہنی کاؤنٹر پر سے اٹھائی اور سیدھا ہوا , دوکاندار دران کو ڈبوں میں سے نکال کر مختلف مائیکرو مائیک دکھا رہا تھا ۔
انل نے اس کے ہاتھ میں پکڑی چھوٹی سی چِپ(chip) نما مائیک پر سے نگاہیں ہٹائیں جسے وہ کبھی اپنے کوٹ سے چپکا کر اور کبھی اپنے ہاتھ پر چپکا کر دیکھ رہا تھا ۔
” دران ۔۔ہو سکتا ہے تمہیں کل والا معاملہ غلط لگ رہا ہو , اب تم مجھے بتاؤ گے تم کیا کرنے والے ہو؟ ” انل نے دانت پیستے ہوئے پھر سے کل والی بات دہرا کر سوال کیا
” ہاروی کو ہگ ( hug ) ” دران نے گردن موڑے پرسکون لہجے میں مختصر جواب دیا
” کیا!!!!!! ۔۔۔۔؟ “
انل کے چہرے کے تاثرات حیرت سے زیادہ دران کی دماغی حالت پر شبہ کرنے جیسے تھے جبکہ وہ اسی مطمئن انداز میں دوکاندار سے مائیک پیک کرنے کا کہہ رہا تھا ۔
کل سے وہ دران کے دماغ سے یہ بات مٹانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دفعہ وہ سوچ کو بھانپنے میں غلط ہو سکتا ہے بھلا ہاروی کو اس پر ایسا کیا گرج ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی امیج کو خراب کرنے کے لیے اتنا پیسہ لگا دے لیکن دران کی سوچ کی سوئی جب کسی بات پر اٹک جاتی تھی پھر وہ یونہی ہو جاتا تھا ۔
انل زچ ہوا جبڑے بھینچے اور کندھے سے پکڑ کر دران کا رخ اپنی طرف موڑا
” ایک تو ۔۔۔میں یہ سوچتا ہوں گاڈ(God) نے تمہیں ہی ایسا دماغ کیوں دیا ؟ ” لہجہ اس کی چپ پر الجھن کا غمازی تھا
مائیک پیک ہو چکا تھا ۔ دران نے کارڈ رقم کی ادائیگی کے بعد جیب میں رکھا اور ہاتھ اٹھائے انل کی حالت سے بے نیازی برتتے ہوئے اس کو چلنے کا اشارہ کیا ۔
انل نے خفگی سے گھورا اور قدم اس کے ساتھ بڑھا دیے مگر یہ کیا ؟ وہ واپس جانے کے بجائے مارکیٹ میں مزید آگے بڑھ رہا تھا ۔
” اب ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ “
انل نے گہری سانس لیتے ہوئے عادت سے مجبور ہو کر پھر سوال کیا جبکہ جانتا تھا وہ اس وقت بولنے کے موڈ میں بلکل نہیں ۔ چند منٹ یونہی راہداری میں گھوم کر وہ ایک بیکری کے سامنے رکا اور پھر اندر قدم بڑھا دیے ۔ اب کی بار انل کچھ کہے بنا اس کے پیچھے تھا ۔
” اب کچھ نہیں پوچھوں گا اس سے ” سر کو خفگی اور جھنجھلاہٹ میں زور سے جھٹکا
وہ ایک چاکلیٹ کیک اور کچھ سینڈوچز پیک کروا رہا تھا پھر کچھ کینڈلز خریدیں جیسے ہی اس نے دوکاندار کو کینڈل کا کہا انل کی سوالیہ رگ پھر سے پھڑک گئی ۔ ایک سکینڈ میں وہ اپنے اور اس کے درمیان کا فاصلہ ختم کرتا اس کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑا تھا ۔
“یہ کیا ہے اب سب ؟ ” حیرت سے ہاتھ کینڈل کی طرف کرتے ہوئے سوال پوچھا
” تمھاری برتھڈے کا سامان ” پرسکون لہجے میں جواب آیا
” ہیں!!!!!!!!!!!” انل کا منہ پورا کھل گیا اس کی برتھڈے کب تھی آج ۔
” کیا آج ہے ؟ ” ایک لمحے کو اس کے پر اعتماد لہجے کی وجہ سے وہ خود گڑبڑا گیا, ایک آبرؤ اٹھائے سوچا , ” نہیں تو یہ جنوری ہے میری برتھڈے تو مارچ میں ہوتی ہے “
” دران یہ کیا چکر ہے ؟ “
پھر سوال پوچھا اب کی بار پیشانی پر شکن کا بے پناہ اضافہ تھا۔ وہ سامان کے بیگ ہاتھ میں پکڑ چکا تھا ۔ پھر اس کی طرف دیکھا جو اب تک ہلکا سا منہ کھولے کھڑا تھا
” تمھاری برتھڈے آج ہے اور میں تمہیں سرپرائز پارٹی دے رہا ہوں ابھی ہوٹل پہنچتے ہی ” متوازن لہجے میں جواب دیا اور قدم دوکان سے باہر بڑھا دیے
انل نے گھور کر اس کی چوڑی پشت کو دیکھا , گہری سانس باہر انڈیلی اور قدم اس کے پیچھے بڑھا دیے ۔
☆☆☆☆☆☆
چولہے پر رکھی کیتلی میں پانی کے اندر پتی جوش کھا رہی تھی اور جوی نگاہیں اس پر جمائے کھڑی تھی ۔ گہرے گلابی رنگ کے پرانے سے جوڑے میں دوپٹے کو سینے پر پھیلائے , شیلف پر دونوں ہتھلیاں ٹکائے ۔ وہ خیالوں میں کھوئی سی کھڑی تھی ۔
چولہے کے نیچے جلتی آنچ کا عکس دونوں آنکھوں کی پتلیوں میں چمک رہا تھا ۔ اس دن میدان کے واقع کے بعد سے وہ عجیب کیفیت کا شکار تھی ۔ وہ جسے ہمدردی سمجھ رہی تھی وہ احساس کچھ اور ہی شکل اختیار کرتا جا رہی تھی ۔ وہ خود سے تنگ آ رہی تھی ۔ اس لڑکے کا خیال اٹھتے بیٹھتے ذہن پر سوار رہنے لگا تھا ۔
دران کا اس سے ٹکراؤ اب بھی ویسے ہی ہوتا تھا لیکن وہ اب اس کی طرف دیکھنے سے کترانے لگی تھی ۔ قہوہ پک چکا تھا ۔ آنچ کو ہلکا کر کے وہ مڑی ۔ فریج میں سے دودھ نکلانے کے برآمدے میں آئی تو جان کی آواز پر فریج کو کھولتے ہاتھ لمحہ بھر کو تھم گئے ۔
” لڑکی نے اسلام قبول کر کے مسلم لڑکے سے شادی کر لی ہے ” غصیلی لہجے میں وہ مریم سے کسی کا ذکر کر رہے تھے ۔
جوی کے کان ایک دم سے کھڑے ہوئے ۔ فریج پر ہاتھ تھم گئے ۔ جان رات کا کھانا کھا رہا تھا وہ آج بہت دیر سے گھر آیا تھا اور اب وہ اور مریم لاؤنج میں لگی کرسیوں پر براجمان تھے ۔ کھانا سامنے لکڑی کی چھوٹی سی میز پر رکھا ہوا تھا ۔
جان کھانے کے بعد چائے لازمی پیتا تھا , سنانا سو چکی تھی اور جوی اب جان کے لیے ہی چائے بنا رہی تھی ۔
” کون۔۔۔؟ ” مریم کی تشویش ناک آواز ابھری
” اپنے عاشق بھائی کی بیٹی اور کون “
جان نے نوالہ توڑتے ہوئے ناک چڑھا کر غصیلے لہجے میں جواب دیا ۔ جوی نے جلدی سے دودھ کی بوتل نکالی اور فریج بند کیا
” اوہ خدا ۔۔۔۔ تو اب ؟” مریم کا ہاتھ بے ساختہ دل پر گیا
” اب کیا سر پکڑ کر بیٹھا ہے عاشق بھائی , بیچارا کیا کر سکتا ہے غریب بندہ جب جوان بیٹیاں ہیں عزت کا خیال نا کریں۔ تو کیا کرے ” جان کے لہجے میں نفرت جھلک رہی تھی ۔
جوی کے دل کی دھڑکن بے وجہ تیز ہوئی وہ تیزی سے کچن میں داخل ہوئی کان اب بھی باہر ہی لگے تھے ۔
” سالن اور ڈالو ” جان نے رعب سے پاس بیٹھی مریم کو حکم دیا
مریم جو خیالوں میں غرق تھی سٹپٹا کر سیدھی ہوئی اور پیالی میں سالن اور ڈالنے لگی ۔ جوی اب دودھ کیتلی میں ڈال رہی تھی ۔
” جوی اور سنانا کہاں ہیں ؟ ” جان نے سر جھکائے نوالہ توڑتے ہوئے عجیب شاکی سے لہجے میں سوال کیا
” سنانا سو گئی ہے , جوی چائے بنا رہی ہے آپ کے لیے ” مریم نے فوراً مؤدبانہ جواب دیا
” ہم۔م۔م بچیوں پر دھیان رکھو ” تھکا سا لہجہ تھا
” کیسی باتیں کرتے ہیں میری جوی اور سنانا ایسی نہیں ہیں ” مریم نے فوراً اس بات پر خفگی ظاہر کی
” وہ ایسی نہیں ہیں لیکن وقت ایسا ہی ہے , جوی کے امتحانات کے بعد اسے بس گھر بیٹھا لو “
اب کی بار جان کا لہجہ زیادہ سخت تھا , مریم نے ایکدم بھنویں اکھٹی کیں ۔
” کیسے باتیں کر رہے ہیں اس کو بہت شوق ہے پڑھنے کا ” مریم گڑبڑا کر وضاحت دے گئی
” نہیں کوئی ضرورت نہیں , میری چائے کمرے میں لے آؤ ” جان نے قطعیت سے کہا
ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ جوی کے ہاتھ چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کانپ رہے تھے ۔
