Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 02)
Rate this Novel
Basil (Episode 02)
Basil by Huma Waqas
وہ درانگ ولاس کی دیوڑھی (پورچ) سے آگے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ سیاہ پینٹ کورٹ سرخ ٹائی میں ملبوس سلیقے سے بال بنائے , سانولی رنگت , جاذب نظر نقوش اور مناسب قد کاٹھ لیے وہ انل یوسف تھا ۔ دران ملک کا نجی معاون کم دوست زیادہ ۔
دران نے کبھی اس پر پابندی نہیں لگائی تھی کہ وہ یوں پیشہ ورانہ پی اے کی طرح کوٹ پینٹ میں ملبوس رہے لیکن اسے یہ سب اچھا لگتا تھا بھلے وہ اس دنیا میں دران ملک کے سب سے زیادہ قریب اس کا جگری دوست تھا لیکن وہ دنیا والوں کی نظر میں فقط اس کا پی اے تھا ۔ سپر سٹار درانگ ملک کا پی اے انل یوسف ۔
دیوڑھی سے دو زینے چڑھ کر ہلکے بھورے رنگ کی لکڑی کا دو پٹ والا گیٹ اندر کی طرف درانگ ولاس کے ھال کی راہداری میں کھلتا تھا اس چند قدم کی گیلری جس کے دائیں بائیں دیواروں پر بیش قمیت پینٹنگز لٹک رہی تھیں ان میں سے گزر کر آگے سامنے ہی بڑے سے ہال نما کمرے میں دیدہ زیب صوفے اور کاؤچ رکھے گئے تھے ۔
اس ہال کی ایک مکمل دیوار شیشے کی تھی جو باہر نیلے سمندر کو مکمل نظارہ بخشتی تھی , ہلکے نیلے رنگ کے پردے بڑی نفاست سے اس دیوار سے اٹھتے ہوئے باہر سمندر کے منظر کو ایک دل آویز سنہری کی طرح پیش کرتے تھے ۔ اسی ہال کی دوسری دیوار پر بہت بڑی سمارٹ ٹی وی سکرین نصب تھی ۔
انل نے زینے پر قدم جمائے چند سکینڈ اندرونی دروازے کے آگے کھڑے ہو کر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا ۔ صبح کے دس بج رہے تھے ۔ اس نے کلائی گھمائی اور ہاتھ نیچے کیا , اس جدید دور میں بھی گھڑی باندھنے کی یہ عادت اس میں دران ملک سے ہی منتقل ہوئی تھی ۔ کہیں نا کہیں وہ خود درانگ کا بہت بڑا مداح تھا ۔
سپر سٹار درانگ کی کلائی پر بندھی بیش قمیت پاٹک فلیپی کو دیکھ کر اس کے کتنے ہی مداح کلائی پر گھڑی باندھنے لگے تھے ۔
انل اب دروازہ کھول کر ہال میں داخل ہو چکا تھا۔ پروقار انداز میں قدم بڑھاتا وہ اب ہال کے وسط میں کھڑا روزین کی تلاش میں نگاہیں گھما رہا تھا ۔ جب اسے دائیں طرف کھانے کے کمرے میں وہ کھانے کے میز کے پاس نظر آئی ۔ درانگ ولاس کے مکیں اس وقت ناشتے کی میز پر موجود تھے اور ہمیشہ کی طرح ان میں دران موجود نہیں تھا ۔ بہت بڑے کھانے کے میز پر ایک طرف اسفند ملک بیٹھے تھے اور دوسری طرف روبی اور برھان بیٹھا تھا ۔ روزین انہیں ناشتہ پیش کر رہی تھی ۔
انل نے قدم اسی طرف بڑھا دیے اس کا درانگ ولاس میں آنا معمول تھا اس لیے وہ بلاتکلف آگے بڑھا ۔
” ہیلو ۔۔۔ گڈ مارننگ ” مؤدب لہجے میں ہلکی سی مسکان کے ساتھ سب پر نگاہ دوڑائی۔
وہ لوگ پہلے ہی اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے ۔ فقط اسفند ملک نے مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا کر اس کی آمد کا خیر مقدم کیا ۔ انل نے روزین کی طرف جیسے ہی دیکھا تو وہ سمجھ گئی اسے دران کو انل کے آنے کی اطلاع دینی ہے ۔ وہ سر اثبات میں ہلاتی دران کے کمرے کی طرف بڑھی ۔ روزین کے پیچھے ہی انل نے بھی قدم واپسی ہال کی طرف بڑھائے ۔
” انل کہاں جا رہے ہو ؟ کم ۔۔۔ جوائن اس ” اسفند ملک کی آواز عقب سے سنائی دی ۔
انل نے رخ موڑا , وہ شیشے کے بنے میز پر کہنائیاں ٹکائے شائستگی سے ٹوسٹ چبا رہے تھے ۔
” نہیں ۔۔۔ سر تھنکیو ۔۔۔ ” مؤدبانہ لہجے میں انکار کیا ۔
اسفند ملک سے مسکراہٹ کا تبادلہ کیا اور اس سے پہلے کے قدم واپسی کے لیے اٹھاتا برھان کے درشت لہجے میں کہے گئے جملے پر قدم پھر سے تھمے ۔
” بھئی جب باس میں اتنا نخرہ ہے تو پھر پی اے پر بھی کچھ تو اثر ہو گا , وہ کہاں ہمارے ساتھ وقت گزارنا چاہے گا ۔۔۔۔” برھان کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ تھی کندھے اچکائے ہمیشہ کی طرح طنزیہ جملہ اچھالا
اسفند ملک نے غصے سے لب بھینچتے ہوئے برھان کی طرف دیکھا ۔
” برھان ۔۔۔ ” آنکھوں میں تنبہیہ کرتے ہوئے اسے گھورا
انل نے چہرے پر ضبط کے آثار کو چھپایا
” نہیں ۔۔۔ سر کوئی نخرہ نہیں ایکچلی ابھی ناشتہ کیا ہے تو اس لیے منع کر دیا ” انل نے زبردستی مسکراہٹ لبوں پر سجائے جواب دیا ۔
روبی جو تب سے خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی کن اکھیوں سے ایک نگاہ اسفند ملک پر ڈال کر گویا ہوئی ۔
” ویل ۔۔۔ نخرہ نہیں ہے لیکن ۔ن۔۔ن ۔ن۔ جھوٹ بولنا تو کوئی تم سے سیکھے ” روبی نے ناک بھینچے طنزیہ لہجے میں معنی خیز جملہ ادا کیا ۔
انل نے ناسمجھی میں ایک نظر اسفند ملک کی طرف دیکھا جو اب روبی کو گھور رہے تھے ۔
” جی ۔۔۔ میں کچھ سمجھا نہیں ” انل نے پیشانی پر شکن بڑھائے روبی کی طرف سوالیہ دیکھا ۔
” انل آئی تھنک دران ابھی سو رہا ہے تم ویٹ کر لو کچھ دیر ” اسفند ملک نے مضطرب انداز میں بات کو گھمانے کی کوشش کی
” جی بہتر ۔۔۔” انل نے مؤدبانہ سر جھکایا ,قدم موڑے
” انل ون سکینڈ ۔۔۔۔۔ کہاں جا رہے ہو ؟ مجھے بات کرنی ہے تم سے ” روبی نے اسفند ملک کے گھورنے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انل کو روکا ۔
” جی میم ۔۔۔ ” وہ فورا مؤدب لہجے میں کہتا ہوا رکا
وہ پوری طرح روبی کی طرف متوجہ ہوا ۔ روبی ہاتھ میں پکڑے چمچ کو ہوا میں جھلاتی آنکھوں کو مزید سکوڑ رہی تھی ۔
” انل تم نے کل کہا کہ دران کی چائنہ کے لیے فلائیٹ ہے رائٹ ۔۔۔” روبی نے آبرؤ چڑھائے طنزیہ لہجے میں استفسار کیا
” جی ۔۔۔” انل نے آنکھوں کو سکوڑے ناسمجھی سے اسفند ملک کی طرف دیکھا ۔
” روبی ۔۔۔ ختم کرو اس بات کو , انل تم جاؤ” اسفند ملک نے ہاتھ کے اشارے سے انل کو جانے کا کہا ۔
وہ معاملہ مزید طول میں ڈالنے کے حق میں نہیں تھے ۔
” نہیں ۔۔۔۔۔ انل تم بتا کر جاؤ گے تم نے جھوٹ کیوں بولا تھا ” روبی نے ناک پھلا کر دانت پیستے ہوئے پھر سے سوال دہرایا
” میم میں نے جھوٹ ہر گز نہیں بولا , ان کی فلائیٹ تھی کل , نئی فلم کی شوٹنگ چائنہ میں ہے , مگر کل میٹنگ میں دران کی جھڑپ ہو گئی , ہاروی کی فلم چھوڑ آیا وہ ” انل وضاحت دیتے ہوئے بار بار نافہمی کے شکن ابھارے اسفند ملک کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” کیا ۔!!!!!!۔۔ ہاروی وائن سٹائن۔۔۔ اتنا بڑا پروجیکٹ چھوڑ دیا ” برھان نے ایک دم پوری آنکھیں کھولے متحیر لہجے میں دہرایا ۔
” جی ۔۔۔ بس وہ کل ہاروی نے چند مزید مناظر کا اضافہ کر دیا فلم میں تو دران سے اختلاف ہوا , اسی پر جھڑپ ہوئی اور دران غصے میں سب چھوڑ آیا ” انل نے متوازن لہجے میں ساری بات واضح کی
اسفند ملک کے چہرے پر تفکر کے تاثرات رقم ہوئے۔
” مطلب ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ وجہ ۔۔۔۔ ایسے کیا مناظر تھے , دران اتنا بڑا پراجیکٹ کیسے یوں چھوڑ سکتا ہے ابھی تو کوئی اور پیش کش بھی نہیں ہے ” اسفند ملک نے بھنویں اکھٹی کئے تشویش ظاہر کی
” وہ کارلہ کے ساتھ بیڈروم بولڈ سین ہیں کچھ ۔۔۔” انل نے گہری سانس لیتے ہوئے وجہ بتائی ۔
برھان بے ساختہ امڈ آنے والا قہقہ نا روک سکا , کھانے کے ھال میں اب اس کا بلند و بانگ قہقہ گونج رہا تھا ۔ روبی بھی مسکراہٹ دبا رہی تھی جبکہ اسفند ملک سنجیدہ تھے ۔
” عجیب ۔ ۔۔۔ فٹو دماغ ہے دران کا , بھلا کارلہ کے ساتھ ایسا سین کرنے سے کون منع کر سکتا ہے ؟” برھان نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے حیرت ظاہر کی ۔
” برھان ۔۔۔۔ جسٹ سٹاپ اٹ “
ملک اسفند نے غصے سے اس کے کئے گئے تمسخر پر اسے ڈپٹا اور پھر پریشانی سے انل کی طرف متوجہ ہوئے ۔
” لیکن یہ تو ہاروی پرڈویکشن سے ایڈوانس بھی لے چکا ہے ” ملک اسفند نے پریشان لہجے میں کہتے ہوئے پیشانی سہلائی
وہ اتنے بھی بے خبر نہیں تھے دران سے , اس کے ہر اگلے قدم کی ان کو خبر ہوتی تھی اس لیے وہ انل سے بھی بلکل بگاڑنا نہیں چاہتے تھے ۔
” وہ واپس کرنے کا حکم دے چکا ہے دران ” انل نے کندھے اچکائے
” تو اب ؟؟۔۔۔ یہ تو بہت بڑا نقصان کر رہا ہے جذباتی لڑکا ” ملک اسفند نے لب بھنیچے اور ٹھوڑی کو سہلاتے ہوئے پریشانی ظاہر کی
” جی وہی سمجھانے آیا ہوں اسے , ہاروی کل رات سے فون کر رہا ہے , اب دیکھتا ہوں دران کیا کہتا ہے اس بارے میں ” انل نے لب بھینچے اپنی آمد کا سبب بتایا
برھان نے ناک چڑھائی اور سر نیچے پلیٹ پر جھکا دیا , روبی نے پہلو بدل کر پہلی بار گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا
” فضول کا بھرم دکھا رہا ہے , ویسے تو کہتا ہے کہ اس کا کوئی مذہب نہیں ہے , تو پھر ایسے مناظر کرنے کے لیے ایسے نخرے کیوں دکھا رہا ہے جیسے اس سے بڑا پارسا کوئی نہیں ” روبی کا لہجہ نفرت آمیز تھا ۔
” انل ۔۔۔ اپنے دوست کو سمجھاؤ یہ سب سین ڈیمناڈنگ ہیں, ایسے ہی انکار کرتا رہے گا تو کل کوئی پوچھے گا بھی نہیں ” برھان کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔ تمسخرانہ مسکراہٹ سجائے کہا ۔
انل اس کی بات پر بے اختیار مسکرایا ۔
” ہم۔م۔م درست کہا آپ نے برھان سر ۔۔۔ اگر ان کا کرئیر ختم ہوا تو پھر تو آپ کا ۔۔۔۔” انل نے بات کو ادھورا چھوڑا
ڈائنگ ہال میں داخل ہوتی روزین اب پاس آ کر انل کی طرف متوجہ تھی ۔
” انل سر آپ کو سر کمرے میں بلا رہے ہیں ” روزین نے نگاہیں جھکائے مؤدبانہ اطلاع دی
انل نے اثبات میں سر کو جنبش دی اور قدم دران کے کمرے کی طرف بڑھا دیے ۔
” اس کا دماغ بھی دران نے چڑھا رکھا ہے ۔ ورنہ یہ ہے کیا بلڈی ۔۔۔۔۔۔”
برھان نے نخوت سے ناک چڑھائی اور دانت پیستے ہوئے انل کی پشت کو گھورا
” برھان کول ڈاؤن تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے تم دران کے معاملے میں کچھ بھی مت بولا کرو , اور انل نے غلط کب کہا , یہ جو ٹی وی سیریل میں چھوٹے موٹے رول مل رہے ہیں یہ اس کی مرہون منت ہیں ” ملک اسفند نے سنجیدگی سے سچ اگل کر ٹوسٹ منہ میں رکھا
” نہیں۔۔۔۔ میرا اپنا ٹیلینٹ ہے , پتا نہیں کس دن یہ درانگ کا لیبل مجھ پر سے ہٹے گا ۔۔۔ “
برھان تنک کر دونوں ہاتھ میز پر مارتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا ۔ کرسی کو ایک طرف کرتا وہ غصے سے ڈائنگ ہال سے باہر جا رہا تھا۔
” برھان۔۔۔۔ ” روبی نے بے چینی سے اسے پیچھے سے پکارا
” ناشتہ بھی نہیں کر کے گیا آپ بھی نا کیا ضرورت تھی یہ بے پر کی ہانکنے کی “
روبی نے تیوری چڑھائے ملک اسفند کو گھورا ۔ انہوں نے تاسف سے سر کو دائیں بائیں ہلایا اور گردن جھکا دی ۔
☆☆☆☆☆
انل نے آہستگی سے کمرے کے دروازے پر دستک دی ۔ اور اسی لمحے اندر سے بھاری آواز ابھری ۔ وہ دران کے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ۔
” آجاؤ ۔۔۔۔” نیند کی خماری میں لپٹی آواز تھی ۔ مطلب وہ ابھی اس کے آنے پر ہی بیدار ہوا تھا ۔
انل نے دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہوا ۔ وہ اپنے سفید نائٹ گاؤن میں ملبوس کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھا تھا , بکھرے بال ہلکی سی سوزش لئے ادھ کھلی آنکھیں وہ نگاہیں موبائل سکرین پر جمائے , بھنویں اکھٹی کیے خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا ۔
کشادہ کمرہ کسی اور ہی دنیا کا منظر پیش کرتا تھا ۔ جو اندر داخل ہونے والے کو ایک سحر میں جکڑ لیتا تھا ۔ دران نیلے رنگ کا دیوانہ تھا ۔ اسی لیے پورا کمرہ سفید اور ہلکے نیلے رنگ کا امتزاج لیے ہوا تھا ۔
سفید فرش , سفید دیواریں , بس ایک دیوار جس پر ہوم تھیٹر سکرین نصب تھی وہ سفید اور نیلی دھاری دار ڈائزائن پر مشتمل تھی , ہلکے نیلے رنگ کے پردے , اور ایک طرف کی دیوار میں ریلنگ صورت کھلتا دروازہ جس کے پیچھے سوئمنگ پول اور سامنے سمندر کا سارا منظر , سیاہ کراؤن والا بیڈ , اس کے آگے لگا سیاہ لیدر کا کاؤچ ایک طرف لگے سفید پوشش کیے نیلی دھاریوں والے صوفے ان کے آگے رکھا بڑا سا سیاہ شیشے کا چکور میز , باقی کمرے میں موجود پینٹنگز اور سجاوٹی گلدان , حتی کے سگریٹ کی ایش ٹرے تک نیلے رنگ کی ہی کسی ایک حالت میں موجود تھی گو کہ اس کا کمرہ دیکھنے والے کی آنکھوں کو پرسکون احساس بخشتا تھا ۔
انل بھی ہمیشہ کی طرح آ کر پہلے اس کے کمرے کو نظر بھر کر ضرور دیکھتا تھا ۔ وہ خود چاہے اپنا حلیہ ایسے ہی بکھرے بال اور لاپرواہ سا رکھتا تھا مگر باقی اس کی ہر چیز سے اس کا سلیقہ اور اعلی ذوق جھلکتا تھا ۔
” ہیلو بڈی ۔۔۔۔ ” انل نے محبت سے ہیلو کے ساتھ دوستانہ مسکراہٹ لبوں پر سجائی
انل اب اس کے پاس صوفے تک پہنچ چکا تھا , پر وہ تاہنوز موبائل پر سر جھکائے ہوئے تھا , انل جانتا تھا وہ پہلے سے جانتا ہے کہ وہ کیا بات کرنے آیا ہے اس لیے اس کے متوجہ ہوئے بنا اُسے بات شروع کر دینی چاہیے ۔
” دران ۔۔۔ ہاروی فون کر رہا ہے بار بار ۔۔۔ ” انل نے سیدھی بات کی
” تو مت اٹھاؤ۔۔۔۔ ” جھکے سر کے ساتھ ہی سپاٹ لہجے میں مختصر جواب دیا ۔
” دران مت کرو ایسا , تم جانتے ہو بہت بڑا پروجیکٹ ہے ۔۔۔ ” انل اب اس کے کہے بنا اس کے دائیں طرف والے صوفے پر براجمان ہوا ۔
” سو ۔۔۔ واٹ ۔۔۔۔ ” پھر سے وہی مختصر جواب
مختصر ۔۔ مختصر ۔۔۔ مختصر ۔۔۔۔۔ وہ بولنے میں اتنی کنجوسی کرتا تھا کہ انل کبھی کبھار سوچتا تھا کہ وہ اس سے اتنی کم بات کرتا ہے تو باقی لوگوں سے کیا بات کرتا ہو گا ۔
” کیا یار۔ر۔ر ۔۔۔۔۔۔سب۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ کر رہے ہیں ایسے سین , آجکل اس کے بنا کون فلم دیکھتا ہے , مجھے ایسا لگتا ہے تم زیادہ لے رہے ہو اس بات کو , کیا ہے بس تین یا چار منٹ کا ایک سین ہی تو ہے!!! ” انل نے صوفے کے ہتھے پر کہنی ٹکائے ہاتھ کو ہوا میں اٹھائے وثوق سے کہا
وہ اب اسے قائل کر رہا تھا جو کل ہاروی کی ایکشن فلم کے نیم برہنہ مناظر کرنے سے انکار کر آیا تھا ۔
” سب کرتے ہوں گے ۔۔۔ مگر درانگ نہیں ” بے تاثر سخت لہجہ ۔
موبائل پر جھکے چہرے کے ساتھ ہی بس ایک آبرو اٹھائے غصیلی نگاہ سامنے بیٹھے انل پر ڈالی , انل نے لب بھینچے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور گہری سانس لی ۔
وہ جب ایسے دیکھتا تھا تو اپنے فیصلے کے اٹل ہونے کا ثبوت دیتا تھا اور جب وہ ڈھیٹ ہو جائے تو پھر تو اس کا انجان باپ بھی ظاہر ہو کر اُسے اُس کے لائحہ عمل سے نہیں ہٹا سکتا تھا ۔ وہ پیدائشی ضدی نہیں تھا , اسے ضدی بنا دیا گیا تھا ۔
” دران میرے بھائی۔۔۔۔ میگا پروجیکٹ ہے , سوچ ذرا ہاروی کی فلم پھر کو سٹار کارلہ , چلنے سے پہلے ہی سپر ہٹ ہے یہ فلم , لکھوا لے مجھ سے کہیں بھی , ایک چھوٹے سے سین کے لیے کیوں اتنا بھاؤ کھا رہا ہے ” التجائی لہجے میں وہ اب دران کی منت سماجت اور لالچ دینے پر اتر آیا تھا۔
” وہ چھوٹا سا سین ہی۔۔۔ لیکن مجھے ہضم نہیں ” سپاٹ لہجے میں وہی ڈھیٹ جواب
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ دونوں نے ایک ساتھ نگاہ اٹھائی ۔
” کم ان ۔۔۔ ” دران نے رعب دار آواز میں اندر آنے کی اجازت دی ۔
اس کی آواز کا رعب اور بھاری پن اس کی شخصیت کے عین مطابق تھا مگر اس کے لہجے میں ہمیشہ بیزاری کا عنصر گھلا رہتا تھا ۔ دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ لیے کھلا , روزین مشروب کی ٹرالی لیے کمرے میں داخل ہوئی ۔
وہ صبح کا آغاز تازہ جوس سے کرتا تھا لیکن جوس کے فورا بعد سگریٹ اس کا سارا اثر زائل کر دیتی تھی ۔ کچھ چیزیں اس کی زندگی میں لازم ملزوم تھیں ۔ نہار منہ جوس , تین گھنٹے جم , تیراکی , سگریٹ اور انل یوسف
” سوچ لے زیادہ اکڑ میں تمھارا ہی نقصان نا ہو جائے , کارلہ کے ساتھ فلم ملنا آسان نہیں ” انل نے زیر لب مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا
وہ دران کی سنجیدگی کو ختم کرنا چاہتا تھا ۔ روزین اب ٹرالی سے اٹھا کر مشروب میز پر سجا رہی تھی ۔ وہ اردو نہیں جانتی تھی اس لیے ان دونوں کی گفتگو اس کی موجودگی میں بھی جاری تھی ۔
” کارلہ ہو یا انجلینا , انکار ہے ” آگے ہوتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے روزین کو منع کر کے جوس کا گلاس خود اٹھایا ۔
اسی طرح ہاتھ کے اشارے سے انل کو بھی گلاس اٹھانے کا کہا۔ انل نے آگے ہو کر گلاس اٹھایا روزین اب کمرے سے باہر جا رہی تھی ۔ تازہ سنگترے کا جوس فرحت بخش احساس دے رہا تھا ۔
” ٹھیک ہے مطلب تم ضد کے پورے ہو ۔۔۔۔ اچھا اگر وہ کہے کہ میں سین میں ردو بدل کر دیتا ہوں پھر۔۔۔۔۔۔ ؟؟” انل نے جوس کا گھونٹ لیا اور سیدھا ہوا
دوسری طرف وہ جوس ختم کرنے میں مصروف تھا , اس کی بات کو ان سنی کیے یا شائد جواب دینے کے موڈ میں نہیں تھا ۔
” کچھ تو جواب دو , اگر میں ہاروی سے کہوں کہ وہ مناظر میں کچھ تبدیلی کر دے تو پھر؟؟؟ ” انل نے آبرؤ چڑھائے جواب طلب نگاہیں اس پر گاڑیں
وہی خاموشی , اب جوس کا دوسرا گلاس بھرا جا رہا تھا ۔ انل نے نگاہیں اسکے مضبوط بازوؤں پر ٹکائیں ۔
” اور تمہیں پتہ ہے ہاروی کیا کہہ رہا ہے , وہ یہ کہ رہا ہے کہ درانگ اپنے مزہب کی وجہ سے کر رہا ہے یہ سب ” انل نے آہستگی سے بات مکمل کی اور لب بھینچے
پتہ تھا اب کی بار وہ ضرور بولے گا , دران نے چونک کر نگاہ اٹھائی پیشانی پر جہاں رگیں ابھری تھیں جبڑے ضبط کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے میں پیوست نظر آئے , سفید رنگت ایک دم سے غصے میں سرخ ہونے لگی ۔
” میرا کوئی مزہب نہیں ہے ۔۔۔ ” کرخت لہجہ مختصر جواب
گلاس میز پر رکھا اور میز پر پڑا سگریٹ کیس اٹھایا ۔ ہلکے نیلے رنگ کا سگریٹ کیس اسکی مضبوط انگلیوں میں گھومتا اس کے اندرونی اضطراب کی ہی نشانی تھی ۔
” دران کہہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ تم مسلمان ہو اس حقیقت کو مت جھٹلایا کرو اور تم جانتے ہو اب ایکشن فلموں میں بھی ایسے دو چار سین ہونے لازمی جزو بن گئے ہیں , مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہے اس سب کی اگر تم آئے دن اس بات کو لے کر فلمز چھوڑتے رہے تو پروڈیسر تمہیں سائن کرنا چھوڑ دیں گے ” انل نے تیوری چڑھائے اسے سمجھانے کی کوشش میں اب کی بار سخت لہجے میں آنے والے وقت سے خبردار کیا
” برھان کے الفاظ ہیں یہ ۔۔۔۔” دران نے فورا سگریٹ کا کش لگا کر انگلی ہوا میں اٹھائے کہا
انل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ ابھی کچھ دیر پہلے ناشتے کے میز پر واقعی یہ برھان کا کہا گیا جملہ تھا جو اس کے ذہن میں پیوست ہوا تھا ۔
” ساری انڈسٹری جانتی ہے, درانگ کی فلم کس بیناد پر ہٹ ہوتی ہے , مجھے اپنی فلم کو سپر ہٹ کرنے کے لیے ان چیپ مناظر کی ہر گز ضرورت نہیں , لوگ میری صورت اور میری فائیٹ دیکھنے آتے ہیں جسم نہیں اور رہی بات جسم کی تو اس کے لیے فی میل اکٹریس بہت ہوتی ہیں ” وہی ٹھہرا , بیزار مگر متوازن لہجہ
ساری گفتگو میں یہ اس کی سب سے لمبی بات تھی ۔ انل جو اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ اور سن رہا تھا ۔ گہری سانس باہر انڈیلتے ہوئے صوفے کے ہتھے پر بازو پھیلائے اور پشت تھکے انداز میں پیچھے ٹکا دی ۔
” ٹھیک ہے میں ہاروی کو تمھارا آخری فیصلہ سنا دیتا ہوں , اگر وہ مناظر تبدیل نہیں کرتا تو پھر اسے ایڈوانس واپس کر دیتے ہیں ” انل نے کندھے اچکا کر بات ختم کی
” اصولا تو ایڈوانس واپس کرنا بھی نہیں بنتا ہے ” دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے کہا
انل نے حیرت سے اسے دیکھا , اب وہ زیر لب تمسخرانہ مسکراہٹ سجائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ سبزی مائل گہری پتلیاں وہ سچ کہہ رہا تھا لوگ اس کی صورت اور فائیٹ دیکھنے تو آتے ہیں ۔
” اس نے دھوکا دیا ہے سکرپٹ میں ایسے کوئی سین نہیں تھے, اس نے اب کیوں ایڈ کیے جب ہم شوٹنگ پر جانے والے تھے , میں نے سکرپٹ پر فلم سائن کی تھی اس لیے ایڈوانس اسی بیس پر ہے ” سخت لہجے میں اپنا موقف پیش کیا
اب کی بار انل بھی کوئی جواب نہیں دے سکا بس اسے دیکھ کر ہی رہ گیا پھر ایک دم سے صوفے پر سے اٹھا ۔ جیب سے موبائل نکالا ۔
” ٹھیک ہے میں یہیں ہوں تم فریش ہو جاؤ میں ہاروی سے رابطہ کرتا ہوں ” انل نے انگوٹھا گھما کر موبائل سکرین کو کھولا ۔
” نہیں وہ خود رابطہ کرے گا تم نہیں کرو گے , روزین کو کہتا ہوں ناشتہ لگوائے تمھارے لیے ” ناک چڑھا کر کہا
آگے ہو کر میز پر پڑا کارڈ لیس اٹھایا
” نہیں ۔۔۔ ناشتہ کر کے آیا ہوں , تم بس جلدی ریڈی ہو جاؤ ۔ میں باہر ویٹ کر رہا ہوں ” انل نے مسکرا کر ناشتے سے انکار کیا ۔
قدم باہر کی طرف بڑھا دیے , ہاروی سے رابطہ تو اسے ہی کرنا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆
کچھ آوازیں تھیں جن کی مدھم بازگشت جو پہلے مکھیوں کی بھنبناہٹ صورت سنائی دے رہی تھی اب واضح ہونے لگی تھی ۔ اس نے آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کی جس کے باعث سر میں شدید تکلیف کا احساس ہوا ۔
ایسے جیسے سر کسی شکنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہونے کے باعث آنکھوں پر وزن محسوس ہو رہا تھا اس کی آنکھوں کی اوپری جلد نیلی ہو رہی تھی ۔
جسم ٹھنڈ کے باعث اکڑاہٹ لیے ہوا تھا وہ دائیں کروٹ لکڑی کے بنے فرش پر لیٹی ہوئی تھی اور کروٹ کے باعث جسم کا اوپری حصہ برف ہو رہا تھا۔
آہستگی سے شدید سر درد کو برداشت کرتے ہوئے جبڑے بھینچ کر آنکھیں زبردستی کھولیں کتنی ہی پلکیں ٹوٹنے کی تلکلیف کے باعث منہ کھل گیا ۔ پلکیں ماتھے سے بہنے والے خون کے سبب آنکھ کے نچلے حصے سے چپک گئی تھیں اب جب زبردستی ان کو کھولا تو پلکیں چپک کر ٹوٹ گئی تھیں ۔ آنکھیں کھلتے ہی سب واضح ہو گیا ۔ وہ اسی لکڑی کے بنے چھوٹے سے ڈربے نما کمرے کے فرش پر لیٹی تھی جہاں وہ پچھلے دو دن سے قید تھی ۔ اسے لاویا میں آئے آج تیسرا دن تھا ۔
آہستگی سے گردن موڑ کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔ وہاں اب لکڑی کے تختے لگا کر کیل ٹھوک دیے گئے تھے ۔ اتنی ٹھنڈ میں بھی گلے میں کانٹے چبھنے جیسا احساس ہوا۔ لبوں کے کنارے پر خون منجمند تھا کل رات کا سارا منظر نگاہوں میں گھوم گیا ۔
ہاتھ کو فرش پر رکھ کر کہنی کے بل اوپر اٹھی ۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک لکڑی کے پلنگ , جگہ جگہ مکڑی کے بنے جالوں , مٹی اور اس کے کپڑوں کے اٹیچی کے سوا کچھ نہیں تھا۔
وہ اٹھ کر بیٹھ چکی تھی ۔ باہر سے آتی آوازیں اب واضح ہو رہی تھیں۔ ایک آواز تو لی تاؤ کی تھی جبکہ دوسری آواز کسی انجان مرد کی تھی ۔ وہ لی تاؤ پر چیخ رہا تھا ۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے بمشکل اٹھی ۔ گھٹنوں پر خون جما ہوا تھا , سفید نائٹی جگہ جگہ سے خون سے لتھ پتھ تھی۔ جسم سردی کے باعث اکڑ رہا تھا ۔ وہ اب آہستگی سے قدم اٹھاتی کمرے کے دروازے کے پاس آئی اور لکڑی سے بنے اس ٹوٹے پھوٹے دروازے میں موجود انگنت سوراخوں میں سے ایک سوراخ پر آنکھ کی پتلی ٹکا دی ۔ دوسری طرف کا منظر صاف واضح تھا ۔
وہی میلا کیچلا چھوٹا سا ہال نما کمرہ جس میں دو کرسیاں اور ان کے بیچ ایک میز تھی , ایک طرف ایک لوہے کے میز پر چولہا اور کچھ گندے برتن پڑے تھے ۔ دیوار پر جگہ جگہ کھونٹیوں پر کپڑے لٹک رہے تھے ۔
کمرے کے وسط میں اس رات جس آدمی کی ٹانگ میں کانٹا چبھو کر وہ بھاگی تھی وہ لی تاؤ کا گریبان تھامے کھڑا تھا ۔ اور چینی زبان میں اس پر چیخ رہا تھا ۔
” میرا سارا پیسہ واپس کر , ایک ایک پائی جو میں نے پاکستان بھجوائے تھے وہ بھی ” وہ آدمی غرا رہا تھا ۔
لی تاؤ بار بار آنکھیں میچ کر اس کے عتاب سے بچنے کی ناکام کوشش میں تھا ۔
” میری بات سنو ۔۔۔۔ صرف تمھاری وجہ سے بیوی ہونے کے باوجود میں نے آج تک اسے ہاتھ تک نہیں لگایا , تمہیں بلکل ان چھوئی لڑکی چاہیے تھی چھوٹی عمر اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ ” لی تاؤ اسے قائل کر رہا تھا یا وضاحت دے رہا تھا مگر اس نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی لی تاؤ کا گریبان دبوچ کر اسے ہوا میں معلق کر دیا ۔
لی تاؤ کے پاؤں اب فرش سے چند انچ کی اونچائی پر ہل رہے تھے اور شکل سانس بند ہونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی ۔
” میرے کسی کام کی نہیں وہ , چاہے ان چھوئی ہے , وہ ڈائن ہے , لڑکی نہیں ہے , دیکھا نہیں کل رات میرا کیا حال کیا اس نے , تم مجھے میرا پیسہ واپس کرو مجھے نہیں چاہیے وہ ” آدمی نے دانت پیستے ہوئے لی تاؤ کی پیش کش ٹھکرا رہا تھا ۔
لی تاؤ اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اس کے ہاتھوں کی گرفت کم کرنے کی ناکام سعی کر رہا تھا ۔
” تم۔۔۔۔ تم ایک ٹرائی اور کرو بہت مارا ہے کل اسے میں نے , آج چوں بھی نہیں کرے گی۔۔۔۔۔ تم ہی پہلے ہو جس کو وہ پیش ہوئی ہے ” لی تاؤ بمشکل بولتے ہوئے اسے پچکار رہا تھا ۔
دروازے کے پار آنکھ کی سیاہ پتلی میں خوف کے سایے لہرا گیے۔
” نہیں مجھے نہیں چاہیے۔ے۔ے۔ے۔۔۔۔۔ مجھے میرے پیسے چاہیے بس۔س۔س۔۔۔۔ ” وہ طیش میں چلایا ۔
” اوکے ۔۔۔ اوکے میں کل اسے شہر بیچنے جا رہا ہوں , تمہیں پرسوں پیسے مل جائیں گے۔۔۔ ” لی تاؤ ہاتھ جوڑے اس سے مہلت مانگ رہا تھا ۔
” ہر حال میں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ نہیں تو وہی کانٹا اب کی بار تیرے اندر گھسا دوں گا سمجھا۔ا۔ا۔ا ” اس نے ایک جھٹکے سے لی تاؤ کو چھوڑا ۔
وہ لڑکھڑا کر پیچھے پڑی کرسی سے ٹکرایا ۔ آدمی اب غصے سے اسے گھور رہا تھا جبکہ لی تاؤ زمین پر لیٹا سانس بحال کرتا ہوا کھانس رہا تھا ۔
اس آدمی نے گھور کر آخری نگاہ لی تاؤ پر ڈالی اور پھر لنگڑاتا ہوا گھر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ یقینا کل رات کانٹا چبھنے کی تکلیف اسے بہت زیادہ ہوئی ہو گی کیونکہ اس نے نا صرف کانٹا اس کی ران میں گاڑا تھا بلکہ اس پر اپنا پورا وزن ڈال دیا تھا جس کے باعث وہ اس کی جلد کے اندر گہرائی میں پیوست ہوا تھا ۔
وہ اب بھی یونہی آنکھ ٹکائے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی کہ اچانک لی تاؤ کے دروازے کی طرف دیکھنے پر دبک کر پیچھے ہوئے خوف کی لہر ٹھنڈ سے اکڑے جسم میں سرائیت کرنے لگی ۔ قدموں کی چاپ اب دروازے کی طرف آ رہی تھی ۔
دروازہ دھاڑ کی آواز سے کھلا وہ جو پلنگ پر بیٹھی تھی کانپ کر پیچھے ہوئی ۔ لی تاؤ تلملا کر اس کی طرف آیا ۔ اور اسے بازو سے کھینچ کر زمین پر پٹخا ۔ وہ کرآہ گئی ۔
” پتا ہے میرا کتنا نقصان کیا تو نے۔۔۔۔۔؟؟ وہ اس گاؤں کا سب سے امیر آدمی تھا , اس کو ان چھوئی لڑکی دینے کا پیسہ لیا تھا میں نے ” لی تاؤ اس کے سر پر کھڑا چیخ رہا تھا ۔
وہ تو بس تیز تیز سانس لے رہی تھی , لی تاؤ کو اس کے گھورنے پر مزید غصہ آیا , اس پر پھر سے ٹانگوں کی برسات شروع کر دی وہ باہر ہونے والی اپنی ساری تذلیل کا بدلہ اب اس سے لے رہا تھا ۔
اس نے ٹانگوں کو سمیٹ کر پیٹ سے چپکا لیا ۔ لی تاؤ کے پاؤں اب ٹانگوں پر اور کمر کی ہڈیوں پر لگ رہے تھے ۔ وہ مسلسل ٹانگیں مارتے ہوئے چیخ رہا تھا ۔
” اور تم نے کیا حال کیا اس کا کل , اب میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ” اس نے طیش سے مٹھیاں بھینچیں ۔
غصے میں کانپتے ہوئے وہ اب اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں دبوچ چکا تھا اور چہرہ جھٹکا دے کر اوپر کیا وہ تکلیف اور خوف سے کانپ رہی تھی ۔
” تجھے یہ سب کرنے میں بہت مسئلہ ہے نا۔۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ جسم جسے تو چھونے بھی نہیں دیتی کیا حال ہوتا ہے اس کا ” وہ بار بار اس کی گردن کو جھٹکے دے رہا تھا ۔
” تمھارے سارے اعضا ایک ایک کر کے نکال کر بیچے جائیں گے ” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے غرا رہا تھا ۔
بال چھوڑ کر اچانک اپنی جگہ سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہال میں پڑے میز تک گیا وہاں سے ایک پیالی اٹھائی اور اس تک واپس آیا ۔ وہ تکلیف سے کراہتے ہوئے اسے بار بار آنکھیں کھول کر دیکھ رہی تھی ۔
” کھانا کھاؤ گی ؟ بھوک لگی ہے ۔۔۔۔؟ ” اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے وہ استہزائیہ پوچھ رہا تھا ۔
بھوک سے تو واقعی بہت برا حال تھا , چہرہ اوپر اٹھایا ۔
لی تاؤ نے ایک جھٹکے سے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ فرش پر پھینک دی ۔ پلیٹ نیچے گرتے ہی اس میں موجود سارے نوڈلز زمین پر ڈھیر ہوئے ۔ وہ قہقہ لگاتے ہوئے گھٹنوں کے بل نیچے اس کے بلکل سامنے بیٹھا ۔
” کھاؤ ۔۔۔۔ کھاؤ ۔۔۔ ” بالوں سے اس کا چہرہ پکڑ کر نوڈلز کے ڈھیر پر رکھ کر دبا دیا
وہ نوڈلز پر اس کا چہرہ مسل رہا تھا ۔ وہ بلبلا اٹھی اور پوری قوت لگا کر چہرہ اوپر کرنے کی کوشش کی مگر تین دن سے بھوکے رہنے کی وجہ سے نقاہت بڑھ گئی تھی ۔ چند سکینڈ کے بعد لی تاؤ نے جھٹکا دے کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا اور بلند و بانگ قہقہ لگایا ۔ چہرے پر جگہ جگہ نوڈلز چپکے ہوئے تھے ۔
” تمہارے باپ کو پیسے دیے ہیں میں نے ۔۔۔۔ اب تم میری ملکیت ہو , چاہوں تو چمڑی بیچوں چاہوں تو اعضا , واپس نہیں جاؤ گی تم سمجھی ” وہ پورے دانت واضح کیے چیخ اٹھا
وہ اس کی ٹوٹی پھوٹی باتیں سمجھ پا رہی تھی وہ شائد اسے اب آگے کہیں بیچنا چاہتا تھا ۔ وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔ دروازہ پھر سے بند ہو گیا ۔
وہ جلدی سے اٹھی اور پاگلوں کی طرح زمین پر گرے نوڈلز اٹھا کر کھانے لگی ۔ آنکھوں سے لگاتار آنسو جاری تھے وہ مٹھیاں بھر بھر کر نوڈلز منہ میں ڈال رہی تھی ۔ اس وقت زخموں کی تکلیف نہیں بھوک کا احساس غالب تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆
سورج غروب ہونے کو تھا اور کراچی میں شام اپنے سایے پھیلا چکی تھی ۔ لائنز ایریا کی عمارتیں بھی اب اندھیرے میں ڈوبنے کو تیار تھیں ۔
” جووت ۔۔۔۔ جووت ۔۔۔۔ ” جوی نے اونچی آواز میں پکارا
وہ فلیٹ کی عمارت کے سامنے موجود میدان کے گیٹ پر کھڑی تھی ۔ دونوں ہاتھ کمر پر دھرے ہلکے زرد رنگ کے جوڑے میں ملبوس وہ معمول سے زیادہ گہری رنگت کی لگ رہی تھی ۔ بھنویں اکھٹی کیے اور آنکھوں کو چندھی کیے
یہ گول میدان تھا جس کے مختلف اطراف میں چار دروازے تھے۔ یہ تمام عمارتوں کا مشترکہ میدان تھا جہاں تمام عمارتوں کے فلیٹوں میں رہائش پزیر بچے کھیلتے تھے ۔ وہ جووت کو پکارتی اب میدان میں لگے لوہے کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہی تھی ۔
میدان میں انگنت چھوٹے بڑے لڑکے مختلف کھیل کھیلنے میں مصروف تھے ۔ وہ اردگرد چھ سالہ جووت کو کھوجنے کے لیے نگاہیں گھما رہی تھی جب اچانک درخت کے نیچے موجود بنچ پر نگاہ تھم گئی ۔
وہ شائد وہی لڑکا تھا جسے اس دن اس نے اور سنانا نے بالکنی سے دیکھا تھا ۔ وہ آج بھی خاموش سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ اردگرد کھیلتے تمام بچوں اور لڑکوں سے بے نیاز عمر کے لحاظ سے وہ انیس بیس سال کا لگ رہا تھا ۔
