Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 24)

Basil by Huma Waqas

دران اب چہرہ اس کی طرف اُٹھائے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ جیسے ہی دران پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا جویریہ نے فوراً پیچھے بندھے ہاتھ کھولے ۔

” وہ میں بہت بوریت محسوس کرتی ہوں ۔ مجھے ٹی وی دیکھنے کا شوق نہیں اگر مجھے کچھ کتابیں مل جائیں تو ۔۔۔؟ “

بنا کسی جھجک کے وہ ایک تسلسل میں اپنی بات مکمل کیے اب جواب کی منتظر تھی ۔ ٹی وی سے اسے کبھی لگاؤ تھا ہی نہیں کتابیں وہ بہت شوق سے پڑھتی تھی اور اب بھی یہی خیال ذہن میں آنے پر وہ دران کے سر پر کھڑی تھی ۔ چند سکینڈ کی خاموشی دونوں کی بیچ حائل ہوئی جس میں دران کی پیشانی پر نمودار شکن اس بات کی وضاحت تھے کہ اُسے جویریہ کی یہ مداخلت ناگوار گزری ہے ۔

” جو چاہیے انل سے کہہ سکتی ہیں آپ وہ لا دے گا ۔ “

برجستہ سپاٹ لہجے میں جواب آیا اور نگاہیں پھر سے ٹی وی سکرین پر جما دیں ۔ لبوں کو آپس میں ملائے وہ بھنویں اٹھائے اب بھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ دران نے الجھ کر چہرے کا رُخ دوبارہ اس کی طرف موڑا ۔ انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو اب کیا مصیبت ہے ۔

” ٹھیک ۔ “

آہستگی سے اثبات میں سر کو جنبش دی ۔ اور واپسی کے لیے مڑی پھر اچانک رُکی ۔

” اور مجھے۔۔۔۔ “

انگشت ہوا میں اٹھائے یاد آ جانے والی بات کی شروعات ہی کی تھی کہ دران نے بات کاٹ دی ۔

” انل سے کہیں گی جو بھی چاہیے آپکو ۔ “

قطعیت سے کہا۔ بڑا ہی روکھا لہجہ تھا ۔ وہ جو بات کرنے جا رہی تھی پھیکے سے چہرے کے ساتھ ہوا میں معلق ہاتھ نیچے کیا ۔

” اوکے “

لبوں کو آپس میں ملائے مؤدب لہجے میں سر تسلیم خم کیا اور پھر قدم دوبارہ بیڈ کی طرف بڑھا دیے ۔ بستر پر اسی جگہ آ کر مجسم بن کر بیٹھ گئی جبکہ وہ اب بھی اُسی فضول سے ڈاکیومنٹری کو بڑے انہماک سے دیکھنے میں ایسے محو تھا جیسے یہ ساری ریسرچ خاص اُسی کے لیے کی گئی ہو۔

کچھ دیر یونہی کبھی اسے اور کبھی ٹی وی سکرین کو دیکھتے دیکھتے وہ کبھی نیند کی وادیوں میں کھوئی علم نہ ہوا ۔

☆☆☆☆

ہاروی کی پرسوچ نگاہیں مزید سکڑ گئی تھیں ۔ آنکھ کی پتلیوں میں پریشانی کی جھلک پپوٹوں کے باہر کی جھریوں میں اضافہ کر رہی تھی ۔ لبوں پر ایک ہاتھ کی انگلیاں دھرے وہ ہلکی سی جھری دار چہرے پر گہری سوچ کے تاثرات لیے بیٹھا تھا ۔

جدید طرز کے سامان سے لیس اس کمرے میں مخملی نیلے رنگ کے کاؤچ پر وہ اس وقت بروس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ جو گلاسوں میں شَرَب انڈیلتے ہوئے اس پر بار بار نگاہ اٹھا رہا تھا ۔ کمرے کی کھڑکیوں سے پرے کیئے ہوئے پردوں سے اندھیری رات میں چمکتی بجلی اور بارشں کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا رہی تھیں ۔

اسے بروس نے کسی خاص خبر سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے گھر میں بلایا تھا ۔ ایسی خبر جو ان کی مدد کر سکتی تھی ۔

” وہ اس لڑکی کو گھر سے نکالے گا نہیں اور ہم کبھی اس تک پہنچ نہیں پائیں گے ۔ شیون نام کی تلوار الگ میرے سر پر لٹکتی رہے گی اور کاروبار وہ بھی چوپٹ ہو گا ۔ “

” تو ہم بھی لڑکی تک پہنچنے کے لیے پہلے گھر تک پہنچنے کا سوچتے ہیں ۔ “

بروس نے مشروب سے بھرا گلاس ہاروی کی طرف بڑھایا ۔ لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔

” گھر تک وہ کیسے ؟ “

ہاروی نے پرتجسس گردن کو خم دیا ۔ گلاس اس کے ہاتھ سے تھامتے ہوئے نگاہیں گلاس کے بجائے اس کے چہرے پر جمی تھیں ۔

” درانگ ولاس میں موجود باقی افراد کے ذریعے ۔ “

بروس نے مسکراہٹ گہری کی اور میز پر سے اپنا گلاس اٹھایا۔

” ایسا کون ہو سکتا ہے جس پر یہ اعتبار کیا جا سکے کہ وہ ہماری مدد کرے گا ۔ “

ہاروی اب بھی نگاہیں چندھی کیے اسے شبہ سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ چالاکی سے ایک رخ کو لب چڑھائے مسکرایا ۔ آنکھوں میں کمینی چمک ابھری ۔

” برھان ملک ۔ “

اپنا گلاس دھیرے سے اس کے گلاس کے سنگ ٹکرایا ۔ کانچ کے آپس میں بجنے کی مدھر آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا ۔

” درانگ کا بھائی ؟ مگر وہ ۔ “

” بہت نفرت کرتا ہے درانگ سے “

بروس نے لبوں سے گلاس کو ہٹائے گھونٹ کو حلق میں انڈیلتے ہوئے وضاحت دی ۔

” مجھے تو نہیں لگتا اس کو ٹی وی میں جتنے بھی رول ملتے ہیں وہ درانگ کی بدولت ہی تو ملتے ہیں پھر یہ بات ہضم نہیں ہوتی مجھے ہم کسی نئی مصیبت میں پھنس سکتے ہیں ۔ “

ہاروی نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے سر کو نفی میں جنبش دی ۔

” اسی بات سے تو نفرت ہے اُسے ۔ وہ اپنے اوپر سے درانگ کے لبل کو ہٹانا چاہتا ہے ۔ اپنی خود کی پہچان بنانا چاہتا ہے ۔ “

بروس کی مسکراہٹ ہنوز لبوں پر موجود تھی اور آنکھوں میں ارادے کی چمک ۔

” اور اس کو وہ پہچان ہم دیں گے ۔ “

وثوق سے کہا اور داد طلب نگاہوں سے ہاروی کی طرف دیکھا جو ہنوز فکر مند لگ رہا تھا ۔

بروس نے آنکھوں کو بند کیے سر کو دائیں بائیں ایسے ہلایا جیسے اسے کہہ رہا ہو اس دفعہ بھروسہ رکھو مجھ پر ۔

☆☆☆☆☆☆

دران نے کمرے کے دروازے کے ہتھے کو گھمایا , کندھے پر ایک ہاتھ سے گہرے بھورے رنگ کے کوٹ کو پیچھے کے رخ لٹکائے , دوسرے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر نگاہ جمائے ہوئے تھا ۔ انگوٹھا سکرین پر رکا ہوا تھا ۔

موسم کی خرابی کی وجہ سے انہیں شوٹنگ سے جلدی پیک اپ کرنا پڑا ۔ اس لیے وہ باقی دنوں کی نسبت آج دوپہر کو ہی درانگ ولاس واپس آ چکا تھا ۔

ہلکے گندمی رنگ کی گرم جرسی جو گردن کے اوپری حصے کو بھی ڈھانپ رہی تھی اس کے نیچے کوٹ کے ہم رنگ پینٹ پہنے , مخصوص انداز میں ہلکے سے بکھرے بالوں سمیت بے نیازی سے کمرے میں داخل ہوا ۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی کانوں میں پڑتی آواز پر چونک کر موبائل پر جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ پورے کمرے میں خوبصورت آواز میں سورۃ الرحمن کی تلاوت گونج رہی تھی ۔ سامنے کے منظر کو دیکھ کر جہاں پاؤں منجمند ہوئے وہاں اس کے مضبوط بازؤں پر موجود بھورے بال مساموں کے ابھار سمیت کھڑے ہونے لگے ۔

صوفے پر آنکھیں موندے بیٹھی وہ نہ صرف تلاوت سن رہی تھی بلکہ خود بھی ساتھ ساتھ تلاوت کر رہی تھی ۔ سرخ رنگ کے لمبے سے میکسی نما فراک پر ست رنگی سکارف کو سر پر اوڑھے , بنا کسی سنگھار کے شفاف چہرے پر گھنی سیاہ پلکیں موندے , کانوں کے پاس سے گردن تک جھولتی گھنگرالی لٹوں سے بے خبر وہ گود میں موبائل دھرے ٹانگیں صوفے پر سمیٹے بیٹھی تھی ۔

دران کی کنپٹی کی رگیں تن گئی تھیں ۔ وہ کمرے کے افسوں زدہ ماحول کا پاکیزہ حصہ بنی اس کے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی ۔

چاروں طرف سے تلاوت کی مختلف آوازیں گونجنے لگی تھیں ۔ بہت سے سر زور زور سے ہوا میں ہلتے ہوئے دکھائی دینے لگے ۔

” میں نہ کہتی تھی یہودی عورت کا گندہ خون ہے یہ ۔ قرآن حفظ کرنے ڈالا کمبخت وہ چھوڑ آیا ۔ اب بھی کہیں کوئی دین کی بات ہو لے شیطان کے طرح بھاگتا ہے وہاں سے ۔ مجھے تو کبھی لگتا ہے وہ عورت اپنا کوئی گناہ نوین کا نام لے کر ہمارے سر منڈ گئی ہے ۔ “

کانوں میں گونجتے جملے چہرے کی رنگت کو سرخ کر رہے تھے ۔ ناک پھلائے وہ بھپر کر آگے بڑھا ۔

دران کے کمرے میں آئے آج اسے پانچ دن ہو گئے تھے ۔ انل نے نہ صرف اس کی منتخب کردہ کتابیں لا کر دی تھیں بلکہ ایک عدد موبائل فون بھی دیا تھا جو بقول اس کے دران کے کہنے پر لا کر دیا تھا اور اب وہ اسی فون پر تلاوت سن رہی تھی ۔ قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر اردو میں پڑھنے کے بعد وہ اب عربی زبان میں بھی قرآن پڑھنا چاہتی تھی اور اس کی مشق کے لیے اس قید سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا ۔ دران تو شوٹنگ کے لیے نکلتا تو رات گئے واپس آتا تھا وہ سارا دن کمرے میں رہتی تھی ۔ قرآن کی تلاوت کے عمل نے اسے پرسکون کر دیا تھا ۔ پچھلے تین دن سے وہ سورۃ الرحمن یاد کر رہی تھی اور اس وقت وہ اتنی محو تھی کہ کس لمحے دروازہ کھلا اور کب دران تیوری چڑھائے اس کے قریب آ کر کھڑا ہوا خبر نہ ہوئی وہ تو جب بند آنکھوں سے ہی دران میں سے اٹھنے والی مخصوص خوشبو ناک کے نتھنوں میں گھسی اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں ۔ دشمن جان اس کے سر پر کھڑا تھا ۔

” اوہ مجھے پتہ نہیں چلا آپ کب آئے ۔ “

جزبز ہو کر فوراً تلاوت کو بند کیا ۔ صوفے پر رکھے پاؤں نیچے اتارے ۔

” آئیندہ سے اس سب کے لیے ایر فون استعمال کیا کریں ۔ “

وہ پیروں میں سلیپر پہن رہی تھی جب دران کا چبھتے سے لہجے میں کہا گیا جملا سنا دیا ۔ اس نے چہرہ اوپر اٹھایا تو وہ ایسے لال بھبھوکا کھڑا تھا جیسے اس نے بنا ایر فون تلاوت سننے کا بہت بڑا گناہ سر انجام دے دیا ہو ۔

” کیوں کیا آپ کے کمرے کی دیواروں کو بھی قرآن پاک کی تلاوت نا پسند ہے ؟ “

برجستہ جواب تھا جو بنا سوچے سمجھے وہ اچانک دے گئی ۔ پتا نہیں کیوں مگر اس کا اس چھوٹی سی بات پر بلاوجہ اتنا غصہ دکھانا اسے بری طرح کھل گیا ۔ اس کے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ آج جلدی آ جائے گا ورنہ تو وہ اس کے آنے تک اپنی مشق مکمل کر لیتی تھی ۔

” اس وقت کمرے میں میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا اور مجھے نہیں لگتا ایسے میں بھی مجھے ایر فون لگانے کی ضرورت ہے ۔ “

تڑاخ سے اگلا جملا کہا وہ جو اس کے جواب پر ضبط کیے آگے بڑھنے والا تھا ۔ ایک دم سے رکا ۔ وہ اب صوفے پر سے اٹھ چکی تھی ۔ بڑے رعب سے دران کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ فراک کا سرخ رنگ گالوں پر عکس ڈال رہا تھا یا شائد وہ غصے سے لال ہو رہی تھی ۔

” کیا یہ کمرہ آپ کا ہے ؟ “

دران نے تیوری چڑھائے غصے سے پوچھا ۔ اس کا اعتماد اسے اندر سے جھنجوڑ کر رکھ دیتا تھا ۔

” نہیں نہ ۔ تو چاہے میں اس کمرے میں موجود ہوں یا نہ ہوں ۔ میرے کمرے میں کیسے رہنا ہے یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا آپ نہیں۔ سمجھیں ۔ “

چہرے کو اس کے چہرے کے قریب کرتے ہوئے وہ غصے میں چیخا ۔ جویریہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا وہ کیسا مسلمان تھا جسے قرآن کی تلاوت تک سے الجھن تھی ۔ ۔ دل اس کے چیخنے پر ایک پل کے لیے لرزا لیکن اگلے ہی لمحے گہری سانس لیتی وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال چکی تھی۔

” نہیں۔۔۔۔ نہیں سمجھی ۔ مگر آپ کو کچھ اچھے طریقے سے سمجھا دینا چاہتی ہوں ۔”

اف ۔۔اف۔۔۔ بلا کا اعتماد دران پر تڑی لگاتی , دھونس جماتی وہ دنیا کی پہلی لڑکی تھی ۔ وہ اسے سمجھانے جا رہی تھی جو سب کی سمجھ کو سمجھ جاتا تھا ۔

” میں یہاں آپ کی مدد کے لیے ٹھہری ہوئی ہوں جس میں ایک فیصد بھی میری خود کی مرضی شامل نہیں ہے ۔ “

اُسی کے لہجے میں بولتی وہ دران کو حیرت میں ڈال رہی تھی۔ سرخ پڑتے گال , بڑی کھلی غصے میں بھری سیاہ پتلیوں والی آنکھیں , اُٹھتی ناک , سانولی رنگت , شفاف چہرہ , گھنگرالی لٹیں ۔ وہ اس لمحے اس پر چیختی اسے بری کیوں نہیں لگ رہی تھی ۔

” میں نے آپ کو اس دن بھی کہا تھا ۔ مجھے آپ سے صرف اتنی سی مدد چاہیے کہ آپ مجھے اس ہوٹل سے باہر نکال دیں ۔ حاتم طائی بننے کا بھوت آپ کے سر پر سوار ہوا تھا ۔ “

بڑے رعب سے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے چیخ رہی تھی ۔ اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی اتنی اکڑ پر اب تک اس سے تھپڑ کھا چکی ہوتی ۔ مگر اس کے لیے دل تھپڑ مارنے کا تصور بھی نہیں کر رہا تھا ۔

” اوہ! ایک منٹ میں یہ کیسے بھول گئی کہ آپ حاتم طائی نہیں بنے تھے بلکہ میری اس مدد کے پیچھے آپ کا اپنا بھی مفاد چھپا تھا ۔ دیکھ چکی ہوں میں وہ وائرل ویڈیو اور لوگوں کے کمنٹس ۔ “

چہرے کی لٹوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتی وہ اب لب بھینچے زور زور سے سر کو ہلا رہی تھی ۔ سینے پر ہاتھ باندھے اپنی طرف سے وہ دران کو خوب سنا رہی تھی جبکہ وہ اپنے ہی اندر بڑھتی الجھن سے الجھا کھڑا تھا ۔

” رہی بات یہ کہ مجھے یہاں اس کمرے میں کیسے رہنا ہے تو سن لیں آج سے جتنا آپ کا اس کمرے پر حق ہے اتنا میرا بھی ہے ۔ میں جتنے دن بھی اس کمرے میں رہوں گی چاہے جھوٹی بیوی کی حیثیت سے رہوں ۔ میرا جیسے دل چاہے گا میں یہاں رہوں گی جیسے دل کرے گا وہ کروں گی ۔ اگر یہ سب برداشت نہیں تو مجھے نکال سکتے ہیں آپ ۔ “

کندھے اچکائے بڑے اعتماد سے اپنی بات مکمل کی ۔ دران تاہنوز خاموش کھڑا تھا ۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں موجود بے خوفی کو دیکھتا ہوا ۔ وہ شائد اب جواب کی منتظر تھی اسی لیے چپ ہو گئی تھی ۔

دران نے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈالی اور پھر سرعت سے اس کے پاس سے گزرتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔ کوٹ کو ہینگ سٹینڈ پر لٹکائے وہ عجیب بے چینی سے پیشانی سہلا رہا تھا ۔

” میں حاتم طائی کب بنا تھا میں چاہتا تو اُسی لمحے تھپڑ مار کر کمرے سے نکال باہر کرتا ۔ کوئی مدد نہ کرتا اس کی ۔ ” زور سے واش روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔

میں اس کی ساری بکواس سن کر چلا کیوں آیا مجھے جواب دینا چاہیے تھا اسے ۔ نل کھولا اور چھپاک چھپاک پانی کے چھینٹے چہرے پر اچھالے ۔ پانی کی بوندیں جا بجا چہرے پر چمکنے لگیں ۔ چہرہ اوپر اٹھایا ۔

سامنے لگے بڑے سے آئینے میں اس کا خوبرو چہرہ جلوہ گر تھا ۔ وہ اتنا حسین تو تھا کہ کوئی بھی لڑکی اس کی آنکھوں میں جھانکتی لمحہ بھر کو تو گڑبڑا جاتی اور اب تو خیر سے اس کی شخصیت کے ساتھ جڑی اس کی شہرت چار چاند لگا دیتی تھی ۔ لڑکیاں اس کی آنکھ کی ایک جنبش پر ہی آہیں بھرنے لگتی تھیں ۔

اس کے پاس صنف نازک کے نخرے دیکھنے کی فرصت ہی کہاں تھی وہ تو خود نخریاہا تھا کہ اس کی اکڑ اور کرشمہ پردازی کے پوری دنیا میں چرچے تھے ۔ یہ وہ پہلی لڑکی تھی جو دران ملک کی اکڑ پر اکڑ سے وار کرتی اسے حیران کرتی تھی ۔ وہ اس کی سوچ کو پرکھنے لگتا تو وہ اس سے پہلے ہی اس کی آنکھوں کو جانچ رہی ہوتی ۔وہ الجھ جاتا بولتی بند ہونے لگتی ۔ سامنے کھڑے بڑی سی بڑی شخصیت کے ذہن سے کھیل کھیلنے والا ایک معمولی سی لڑکی کے سامنے چپ سادھ لیتا تھا ۔ اس کی بات مکمل سن لیتا تھا ۔ یہ الجھن اب پانچ دنوں میں عجیب پریشانی بنتی جا رہی تھی ۔ وقت آ گیا تھا کہ اس سے چھٹکارے کے بارے میں کچھ سوچنا شروع کیا جائے۔

ٹاول سے چہرہ رگڑتا وہ اپنی حالت اور الجھن کو بہت حد تک تھپک کر جب واپس کمرے میں آیا تو محترمہ آج اس کی جگہ یعنی صوفے پر براجمان تھی اور بڑے انہماک سے کتاب پڑھی جا رہی تھی ۔ کندھوں پر سیاہ شال کا اضافہ ہو چکا تھا ۔ دران نے اسے غصے سے گھورا مگر اس پر تو جیسے کوئی اثر نہیں تھا ۔

” رہی بات یہ کہ مجھے یہاں اس کمرے میں کیسے رہنا ہے تو سن لیں آج سے جتنا آپ کا اس کمرے پر حق ہے اتنا میرا بھی ہے ۔ میں جتنے دن بھی اس کمرے میں رہوں گی چاہے جھوٹی بیوی کی حیثیت سے رہوں ۔ میرا جیسے دل چاہے گا میں یہاں رہوں گی جیسے دل کرے گا وہ کروں گی ۔ اگر یہ سب برداشت نہیں تو مجھے نکال سکتے ہیں آپ ۔ “

کچھ دیر پہلے کہے گئے اس کے الفاظ کی بازگشت ذہن میں گونجی ۔ میز پر رکھا ریموٹ اٹھا کر وہ بیڈ پر آ گیا ۔

چینل آگے پیچھے بدلتے بدلتے ایک جھٹکے سے وہ ریموٹ کو بیڈ پر پٹخ کر اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے سر پر آ کھڑا ہوا ۔

” میں شھنگائی میں حاتم طائی اپنے مفاد کے لیے نہیں بنا تھا ۔ میں اگر چاہتا تو اُسی لمحے تمہیں بازو سے پکڑتا اور کمرے سے باہر پٹخ دیتا ۔ “

جویریہ نے کتاب پر جھکا سر اوپر اٹھایا۔ تو جناب آدھے گھنٹے بعد جواب دینے آ ہی گئے ۔

” ٹھیک ہے میں مانتی ہوں آپ نے میری مدد کی بلکہ مجھے زندگی دی لیکن اب کس بات کی سزا دے رہے ہیں آپ مجھے ؟ “

بھنوں کو اکٹھا کئے وہ اس سے سوال کر رہی تھی ۔

سزا وہ کیا سزا دے رہا تھا اس کو۔ بھیانک کھائی سے بچا کر یہاں لایا تھا ۔ ہر آسائیش دے رہا تھا اس کی حفاظت کی خاطر اپنا کیریر کیا اپنی جان تک داؤ پر لگا کر کھڑا تھا ۔

” یہ سزا لگتی ہے آپکو ؟ “

تیوری چڑھائے حیرت سے پوچھا ۔

” آپکا رویہ سزا لگتا ہے مجھے۔ “

پرسکون لہجے میں جواب دیا ۔

” میرا رویہ سب کے ساتھ ایسا ہی ہے ۔ “

” میں سب نہیں ہوں ۔ سب آپ کے اتنا قریب آپکے کمرے میں نہیں رہتے ۔ مانا کہ مجبوری ہے ہم دونوں کی لیکن آپ کا رویہ مجھے گھٹن میں مبتلا کرتا ہے ۔ جیسے ہی آپ کمرے میں آتے ہیں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے گلے میں طوق ڈال دیا گیا ہو کہ بولنا مت , میری آنکھوں پر پتھر رکھ دیے ہوں کہ دیکھنا مت , نماز نہیں پڑھ سکتی۔ قرآن نہیں سن سکتی , صوفے پر نہیں بیٹھ سکتی۔ “

تابڑ توڑ ایک ہی سانس میں بولتی وہ اس کے سارے گناہ گنوا گئی ۔ گہری سانس لے کر رکی ۔ دران کی آنکھوں میں دیکھا ۔ ساری اکڑ اور غرور کو وہ ایک جھٹکے میں زمین بوس کئے کھڑی تھی ۔ اسے دران کی موجودگی سی الجھن ہوتی تھی۔ لڑکیاں اس کی کسی چھوئی ہوئی چیز کو چھونے کے لیے ترستی تھیں اور یہ وہ واحد لڑکی تھی جس کے لیے وہ گھٹن تھا ۔

” بس اب اور نہیں ۔ جیسے میں ساری رات اس پوری دیوار میں نصب اس سیمنا سکرین کی جلتی بجھتی روشنی کو برداشت کرتی ہوں آپ بھی سب برداشت کریں ۔ “

ایک نگاہ ٹی وی سکرین پر ڈال کر غصے میں کہتی وہ آگے بڑھی بیڈ پر سے ریموٹ اٹھایا , ٹی وی بند کیا اور اس کی طرف مڑی ۔

” مجھے کمرے میں نماز پڑھنی ہے۔ اس کے بعد ٹی وی چلے گا “

بڑے رعب سے کہا ریموٹ دران کے ہاتھ پر رکھا اور خود بڑے اعتماد سے آگے بڑھ کر جائے نماز کو کمرے کے سفید فرش پر بچھا کر کھڑی ہو گئی ۔

وہ حیرت میں ڈوبا اس کو دیکھ رہا تھا ۔ وہ اس کی ہر بات نہ صرف سن رہا تھا بلکہ مان بھی رہا تھا ۔ وہ اس کے کمرے میں اس کے سارے اصول توڑے بڑے رعب سے سجدے میں تھی ۔ وہ اس کو حیران کرتی اس کے دل کے دروازے پر رکھے پتھر میں دڑاڑ بن رہی تھی ۔

☆☆☆☆☆

سورج کی کرنیں کھڑکی کی سلاخوں سے چھن کر کمرے میں بنے پلنگ پر سلاخوں کا عکس بنا رہی تھیں ۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پلنگ کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ متوازن رفتار میں چلتے پنکھے کی آواز مسلسل اس کے اعصاب کے تناؤ کو بڑھا رہی تھی ۔ پلنگ پر چادر سلیقے سے بچھی تھی اور وہ پلنگ کی پائینتی کے ساتھ سر ٹکائے نیچے سیاہ سیمنٹ کے بنے ٹوٹے پھوٹے فرش پر بیٹھی تھی ۔

زرد اور سبز رنگ کے پرنٹڈ جوڑے کا ملگجا پن , زرد چہرہ , آنکھوں کے نیچے پڑتے گہرے حلقے , پپڑی زدہ خشک ہونٹ , ڈھیلی پونی سے جا بجا نکلے بکھرے بال وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔

جان کو اس دن پھر سے دل کی تکلیف ہوئی تھی ۔ اسے آج پندرہ دن بعد ہسپتال سے گھر لایا گیا تھا ۔ اسے بھی اس کمرے میں بند پندرہ دن ہو چکے تھے ۔ جووت نے اور گھر والوں نے اسے کمرے میں قید کر رکھا تھا ۔

ان کو لگتا تھا وہ گھر سے بھاگ جائے گی آمنہ کے ڈر سے ان لوگوں نے دو دن میں گھر بھی تبدیل کر لیا تھا ۔ اس کا موبائل چھین لیا گیا تھا ۔ سب کو لگتا تھا وہ کسی لڑکے سے شادی کرنے کی خاطر مسلمان ہوئی ہے اور بہت جلد بھاگ جائے گی ۔ پندرہ دن وہ اپنوں میں ہی اس قید میں تھی ۔ کوئی سیدھے منہ اس سے بات نہیں کرتا تھا ۔ مریم کی اس نے ان پندرہ دنوں میں صورت تک نہیں دیکھی تھی ۔ سنانا یا مَیری کھڑکی کی سلاخوں سے کھانا اور پانی رکھ جاتی تھیں۔ وہ سب کو سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی کہ وہ کہیں نہیں جائے گی لیکن کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا ۔ کھڑکی کے باہر کسی کی قدموں کی چاپ سنائی دینے پر وہ ہمیشہ کی طرح بھاگ کر کھڑکی کی قریب آئی۔ باہر سنانا تھی ۔

” سنانا سنو ۔ ابا کیسے ہیں ؟ دروازہ کھولو ۔”

سنانا اس کی آواز پر ساکن ہوئی ۔ وہ شائد کچن میں جا رہی تھی۔ وہ رخ موڑے اس کی طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی ۔

” دیکھو مجھے ملنا ہے ان سے۔ میں ۔۔ میں تم لوگوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی ۔ میرا یقین کرو میرا کوئی نہیں ہے تم لوگوں کے سوا اور میں نے مسلمان ہونے کے بعد ایک دن کے لیے بھی تم لوگوں کو چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا ۔ “

کھڑکی کی سلاخوں میں انگلیاں پھنسائے وہ روندھائی آواز میں اپنی صفائیاں دے رہی تھی ۔ سنانا ایک جھٹکے سے پلٹی چہرہ سپاٹ تھا ۔ آنکھوں میں بے پناہ نفرت تھی ۔

” جھوٹ مت بولو جوی ۔ باقی سب کو تو تم بیوقوف بنا سکتی ہو لیکن مجھے نہیں ۔ میں جانتی ہوں تم نے اسلام اس بنچ والے لڑکے کے لیے قبول کیا ہے ۔ “

سنانا کے تلخ لہجے میں بھی نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا ۔

” سنانا ہاں تم سچ کہہ رہی ہو ۔ مگر میں اس کے ساتھ شادی نہیں کر رہی ہوں ۔ مجھے تو معلوم بھی نہیں وہ کون تھا اور اب کہاں ہے ۔ میں تو ساری زندگی ابا اماں اور تم لوگوں کے ساتھ رہوں گی کسی کو نہیں پتا چلے گا کہ میں مسلمان ہوں ۔ “

کانٹے چبھتے خشک گلے میں تھوک نگلتے ہو تیزی سے اسے اپنی وضاحت دے رہی تھی۔

” بس کرو جوی ۔ جیسے کہ اب نہیں پتا چلا جووت کو اور تم کیا ہمارے ساتھ رہو گی ؟ کیا شادی نہیں کرو گی ؟ “

سنانا نے نخوت سے سوال کیے ۔

” نہیں میں شادی نہیں کروں گی ۔ میں ایسے ہی رہوں گی ۔ ” پرسکون لہجے میں جواب دیا ۔ محبت سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔ ہاں یہ سچ تھا وہ آج بھی ان سب سے اتنی ہی محبت کرتی تھی ۔

” لیکن ابا تمہیں ایسے نہیں رہنے دیں گے “

” مطلب ؟ “

سنانا کی بات پر چونک کر سر اٹھایا ۔ سنانا نے پل بھر کو نگاہیں چرائیں ۔

” وہ ابا تمھاری شادی کر رہے ہیں ۔ بات طے ہو چکی ہے ۔ “

لہجے کی سختی اب کی بار حد درجہ کم تھی ۔ سنانا کی بات پر جیسے اس کی سانس اٹکی ۔

” نہیں ابا ایسے کیسے ۔ کھولو دروازہ سنانا میں ان کو سمجھاتی ہوں ۔ “

تڑپ کر کہا ۔

” کیا سمجھاؤ گی تم ۔ کوئی نہیں سمجھے گا ۔ تم نے ہم سب کا مان توڑ دیا جوی ۔ تم ہمارا مان تھی ۔ “

سنانا کی آنکھوں میں چمکتے آنسو اس کے دل پر گر رہے تھے ۔

” سنانا دیکھو ۔ جیسا تم لوگ سمجھ رہے ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ میں اب بھی تم لوگوں کا ہی مان ہوں ۔ ابا نے کہاں رشتہ کیا ہے میرا ؟ “

تذبذب میں تیز تیز بولتے ہوئے سوال کیا ۔

” جہاں حنا کی شادی ہوئی ہے ۔ اس لڑکے کا دوست ہے ۔ چائینہ سے آیا ہے ۔ حنا کے ابا نے ہی ان لوگوں سے ملوایا ہے ۔ “

سنانا نے گال پر بہتے آنسؤ انگلی کی پوروں پر چنتے ہوئے بتایا ۔ سلاخوں پر موجود اس کے ہاتھوں کی گرفت ایک دم سے بڑھی ۔

” سنانا مجھے شادی نہیں کرنی ہے ابا سے بات کرنی ہے۔ وہ کریسچن ہو گا میری شادی نہیں ہو سکتی اس سے۔ “

تڑپ کر دہائی دی مگر سنانا بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تیز تیز قدم کمرے کی طرف بڑھا چکی تھی ۔

” سنانا ۔۔۔ سنانا ۔۔۔ “

خالی برآمدے میں گونجتی آوازیں سب کو سنائی دے رہی تھیں لیکن وہ جانتی تھی کوئی نہیں آئے گا ۔ کھڑکی کے پٹ سے سر ٹکائے چھت کی طرف دیکھا ۔ اللہ یہ سب کیوں ؟ میں تو سکون کے لیے تیرے سچے دین میں داخل ہوئی تھی لیکن یہ مشکلات کیوں بڑھ گئی ہیں۔

آنکھوں سے بہتے بے آواز آنسو گال سے گردن کی طرف سفر کر رہے تھے ۔

☆☆☆☆☆

ملک ہاؤس کے لاؤنج میں آج یہ بیٹھک خاص مقصد کے لیے رکھی گئی تھی جس میں گھر کے سب بڑے شامل تھے اور موضوع ہمیشہ کی طرح دران ملک ہی تھا ۔ جائیداد دران کے نام لگ چکی تھی لیکن اس کے بدلتے تیور سب کو پریشان کئے ہوئے تھے ۔

وہ گھر نہیں آتا تھا ۔ گھر آتا تو سیدھے منہ کسی سے بات کرنا تو دور وہ کسی کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا ۔ خاموشی سے سر جھکائے اوپر اپنے کمرے میں چلا جاتا ۔ اس دن اسفند ملک کے چپ کروانے پر وہ چپ ہو تو گیا تھا مگر وہ اب اسفند ملک کے ذریعے اپنی ماں تک پہنچنے کا اور طریقہ استعمال کرنا چاہتا تھا ۔

” کہے دیتی ہوں تم سب سے ۔ ایسے دران کبھی نہیں مانے گا اپنی سبرینا کے لیے ۔ زبردستی ہی کرنا ہو گا سب۔ “

دستگیر بیگم نے ہاتھ ہوا میں اٹھائے جیسے اعلان کیا تھا ۔ وہ لاؤنج میں لگے پلنگ پر براجمان تھیں اور باقی سب صوفوں اور کرسیوں پر بیٹھے تھے ۔ دران کا بدلتا رویہ سب کو جہاں تکلیف دے رہا تھا وہاں یہ ڈر بھی لاحق ہو گیا تھا کہ دران سبرینا سے شادی بھی نہیں کرے گا ۔

” اماں وہ ابھی بمشکل اکیس کا ہوا ہے۔ بڑی مشکل سے میں نے اس کو شازیہ کو جائیداد نہ دینے پر راضی کیا ہے۔ آپ اب ایک نیا پریشر اس کے سر تھوپ دیں۔ “

اسفند نے تیوری چڑھائے دستگیر بیگم کی طرف دیکھا ۔ روبی صوفے کی پشت چھوڑے تیر کی طرح آگے ہوئی ۔

” کیوں نہ تھوپیں ۔ دیکھا نہیں شازیہ کتنی چالاکی سے رانیہ کو یہاں کراچی میں دران کی یونیورسٹی میں داخل کروا چکی ہے ۔فائقہ بتا رہی تھی اچھا ملنا جلنا ہے دونوں کا ۔ آئے دن کنٹین میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ “

روبی آنکھیں گھماتے ہوئے اپنے اگلے ڈر سے آگاہ کر رہی تھی ۔ عصمت نے نخوت سے ناک چڑھائی۔

” بس پھر بھابھی دران تو ہاتھ سے جاتا سمجھو ۔ کیونکہ رانیہ اپنی ماں کی دوسری کاپی ہے ۔ “

سونیا نے جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ یاور کے بعد وہ اپنی عمر سے بھی زیادہ عمر رسیدہ لگنے لگی تھی ۔

” وہ لے اڑے گی اسے اور میری یتیم بچی یونہی مالا جپتی رہ جائے گی دران کی ۔”

سونیا کے پھیکے سے لہجے میں کہے گئے جملے پر روبی نے رنج سے اپنی بہن کی طرف دیکھا ۔

” اماں بی سارا قصور آپکا ہے آپ نے میری بیٹی کے کچے ذہن میں دران کے لیے ایسے خیالات ڈال دیے ۔”

سونیا نے بھری ہوئی آنکھوں سے دستگیر بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے شکوہ کیا ۔

” میری بیٹی نے دران کے لیے پتا نہیں کیا کیا خواب سجا لیے ہیں اور وہ وہاں رانیہ کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے ۔ “

سونیا کا دلگیر لہجہ اور سبرینا کی فکر سب کے چہروں پر اثر چھوڑ گئی ۔

” فکر نہ کر بہو اس رانیہ کا بندوبست بھی کرتی ہوں میں ۔ دران شادی تو سبرینا سے ہی کرے گا تم سب دیکھنا ذرا ۔ “

دستگیر بیگم نے آنکھوں کو چندھی کیے وثوق سے کہا ۔ اسفند ملک نے غصے سے سب کو گھورا اور ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر لاؤنج سے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔ سب اسے جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔

☆☆☆☆☆

بیرولی ہلز کی ڈوبتی شربتی شام میں درانگ ولاس کا لان کھچا کچھ مہمانوں سے بھرا تھا ۔ موسیقی کے جلترنگ اور ہر طرح کے لوازمات لان کی سجاوٹ کو دوبالا کر رہے تھے ۔

درانگ نے اپنی شادی کی ریسپیشن رکھی تھی ۔ جویریہ اور اس کے رشتے کو ختم کرنے کے لیے پہلے اپنے رشتے کو سب کے سامنے لانا اور اپنے مقصد کو پورا کرنا ضروری تھا جس کے لیے اس نے آج شادی کے ہفتے بعد یہ تقریب رکھی تھی ۔

لان کی گہما گہمی سے کچھ دور دران کے کمرے میں وہ گہرے نیلے رنگ کی ملائم سی میکسی میں ہر طرح کے سنگہار سے لیس ڈریسنگ میز کے سامنے کھڑی تھی ۔ بال جل لگا کر پیچھے باندھے گئے تھے ۔ کانوں میں چمکتے ہیرے کے چھوٹے سے بُندے اور نگینے والا نیکلس گردن میں چمک کر اس کے حسن کو دوبالا کر رہا تھا ۔ روزین ہاتھ باندھے اس کے بالکل پیچھے کھڑی پرشوق نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔ اس کا سنگہار کرنے والی لڑکی اپنا سامان سمیٹ رہی تھی ۔

” روزین مجھے سکارف لینا ہے ۔ “

خود پر جانچتی نگاہ ڈالے وہ اب روزین کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ میکسی بہت حسین تھی لیکن اسے سکارف کے بنا خالی پن محسوس ہو رہا تھا ۔

” میم آپ حیران کن حد تک حسین لگ رہی ہیں ۔ سکارف لینے کی کیا ضرورت ہے ویسے بھی دران سر نے اس ڈریس کے ساتھ کوئی سکارف نہیں تیار کروایا ۔ وہ ناراض ہوں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *