Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 43)

Basil by Huma Waqas

دران کو یوں اچانک سامنے دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپتے وجود کو جسے تقویت ملی ۔ کسی خوفزدہ بچے کی طرح بنا سوچے سمجھے وہ اچک کر دران سے لپٹ گئی ۔ اپنی دونوں بانہوں کو اس کے گرد پوری قوت سے لپیٹ کر چہرہ اس کے سینے پر ٹکائے آنکھیں زور سے میچ لیں۔

ایلکس بریٹ اس مافیا کا وہ پہلا رکن تھا جو سب سے پہلے پکڑا گیا تھا ۔ ایلکس بریٹ سے شیون کو فون کروانا اور جویریہ کا یہاں پہنچنا سب ایک منصوبہ تھا جو برھان کی منقعد کردہ تقریب میں شرکت سے پہلے ہی تیار ہو چکا تھا ۔

ایلکس بریٹ ہی وہ ذریعہ تھا جس سے زک اور پھر ایجنسی کو علم ہوا تھا کہ شیون جویریہ کو ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ایلکس بریٹ کو قبضے میں کرنے کے بعد ایجنسی نے چپ چاپ شیون کو اس کے منصوبے میں کامیاب ہونے دیا ۔

ایلکس نے کچھ بھی ظاہر کئے بنا شیون کی پوری مدد کی اور پھر ایجنسی کے ہی کہنے پر شیون سے جویریہ کی مانگ کر دی ۔ وہ تو چائنہ نہیں آیا تھا البتہ ایلکس کی شکل کا سلیکون ماسک پہن کر شیون کے آدمیوں کو شناخت دینے والا اور ہوٹل میں آنے والا شخص دران ہی تھا ۔

کسی بھی انسان کی شکل سے ملتا جلتا یہ کمپیوٹرائز سِلیکون ماسک چند گھنٹوں میں ہی تیار ہو جاتا ہے ۔

وہ چند دہائی پہلے کی بات تھی جب خفیہ ایجنٹ کو اپنا روپ بدلنے کے لیے یا پھر کسی دوسرے شخص کا روپ دھارنے کے لیے کئی گھنٹوں میک اپ روم میں گزارنے پڑتے تھے تب جا کر وہ روپ بدل پاتے تھے لیکن اب تو چند گھنٹوں میں کمپیوٹرائز مشین کسی بھی شخص کے چہرے کی اس کی تصویر سے ہی تمام پمائیش لینے کے بعد من عن ویسا ہی ماسک تیار کر دیتی ہے ۔ یہ ماسک حقیقی شکل سے اتنا ملتا جلتا ہوتا ہے کہ انسانی آنکھ فوراً دھوکا کھا جاتی ہے ۔ اسی طرح کے سلیکون ماسک کے دستانے اس نے اپنے ہاتھوں اور بازؤں پر کہنی تک چڑھا رکھے تھے ۔

جویریہ جب کمرے میں داخل ہوئی تو وہ اسی وقت ماسک اتار سکتا تھا لیکن ناجانے کیوں اس کی گھبرائی صورت پر پیار آ گیا ۔ جیسے ہی وہ پلٹا کمرے کے دروازے کے آگے سہمی سی جویریہ پورے سنگہار میں لیس اس کے جلتے اعصابوں پر ٹھنڈی پھوار کی طرح برس گئ۔

یہ وہی جانتا تھا اس نے جویریہ کو کس طرح ایجنسی کے حکم پر اس مشن کا حصہ بننے دیا تھا ۔ تقریب کی رات سے شروع ہوئی اذیت اب جا کر ختم ہوئی تھی ۔ وہ صیح سلامت اس کی نگاہوں کے سامنے کھڑی تھی ۔

اب وقت آ گیا تھا اس کی پریشانی بھی دور کی جائے کوٹ اتارنے کے بعد وہ شرارت سے مسکراتا , اس کی طرف بڑھتا ہوا شرٹ کے بٹن اتار رہا تھا کیونکہ سلیکون ماسک گردن سے نیچے سینے تک آتا تھا ۔ بٹن کھولتا ہوا جب وہ جویریہ کے پاس پہنچا اس وقت تک وہ مکمل خوفزدہ ہو کر بھاگنے کی کوشش میں تھی ۔

اس کی اس خوفزدہ حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے وہ اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا لیکن یہ کیا وہ تو کانپ رہی تھی اور اسے ہی مدد کے لیے پکار رہی تھی ۔ مزید اسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے فوراً ماسک کو اتارا ۔ وہ تو اسے سامنے دیکھ کر بچوں کی طرح اس سے لپٹ گئی ۔

ایسے بچے کی طرح جو خوفزدہ ہو اور اسی لمحے اس کے سامنے اس کا کوئی بہت اپنا آ جائے ۔ دران نے مسکرا کر سر جھکائے اس کی طرف دیکھا اور خود بھی اسکے گرد بازؤں کو لپیٹ لیا ۔ اس کے کانپتے وجود کو خود میں بھینچے سر جھکا کر بے اختیار لب اس کے سر پر رکھ دیے ۔

وہ جو اس رات کو اپنی عزت کی آخری رات سمجھ کر خوفزدہ تھی , دران کو ایلکس کی جگہ پر دیکھ کر جیسے حواس کھو بیٹھی ۔ اب جیسے ہی خوف کا اثر زائل ہوا اور دران نے بھی اس کے گرد بازؤ حائل کئے تو احساس ہوا وہ اس وقت دران کے سینے پر سر رکھے اس کے گرد بازؤ حائل کئے کھڑی ہے ۔ دران نے سر جھکائے آہستگی سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔

” کیا ہوا ڈر گئی تھی ؟ “

جذب اور محبت سے سر شار لہجہ تھا جس میں خوشی کی رمق واضح تھی ۔ جویریہ نے بند آنکھیں ایک دم سے کھولیں ۔ خوف ختم ہوا تو اس کی جگہ اذیت , تکلیف , نفرت اور غصے نے لینے میں ذرا دیر نہ کی ۔ فوراً اس کے گرد حائل اپنے بانہیں الگ کئیں ۔

” چھوڑیں مجھے ۔ “

لب بھینچے پیشانی پر ناگواری کے شکن ڈالے اسے چھوڑنے کے لیے کہا اور ساتھ ہی کسمسا کر غصے میں اس سے الگ ہونا چاہا ۔

” کیا ہوا ؟ “

ہنوز اسی طرح اس کے گرد بانہیں حائل کئے وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا ۔

” چھوڑیں مجھے ۔ “

” کیوں بھئ ابھی خود ہی تو گلے لگی تھی اور اب خود ہی چھوڑنے کا کہہ رہی ہو۔ “

دران نے شریر لہجے میں کہا اور ڈھٹائی سے گرفت کو اور مضبوط کیا وہ غصے سے لب بھینچے کسمسا گئی ۔ تیوری چڑھائے چہرہ اوپر کیا تو دران کا چہرہ بالکل پاس چہرے پر جھکا تھا ۔ وہ شرارت سے مسکراتا زہر لگا ۔

” ہوش میں نہیں تھی اس وقت ڈر گئی تھی ۔ چھوڑیں اب ۔ “

” اگر کہوں اب میں ہوش میں نہیں رہا ۔ “

لبوں کو آپس میں ملائے مسکراہٹ کو بمشکل دبائے وہ بالکل مختلف لگ رہا تھا ۔ اس کی جان پر بنی تھی اور اسے شرارت سوجھ رہی تھی ۔ اگر یہاں سچ میں ایلکس ہوتا ۔ اس کی روح تک کانپ گئی ۔ آنکھیں پل بھر میں ہی آنسوؤں کی دبیز تہہ کے ساتھ چمکنے لگیں ۔

” چھوڑ دیں پلیز ۔ز۔ز۔ “

وہ رو رہی تھی ۔ دران نے فوراً بانہوں کی گرفت ختم کی اور پریشان چہرے کے ساتھ دیکھتے ہوئے اسے کندھوں سے تھام لیا ۔

” جویریہ ۔ “

دلگیر لہجہ تھا جو اس کی گال پر بہتے آنسو دیکھ کر پریشانی کا عکاس تھا ۔ چہرے پر شرارت کی جگہ اب پریشانی اور دکھ نے لے لی تھی ۔

” ہاتھ مت لگائیں مجھے ۔ “

وہ کندھوں کے تھامے دران کے دونوں ہاتھوں کو غصے سے جھٹکتی پیچھے ہوئی ۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا , جبڑے سختی سے بھینچے ہوئے تھے ۔ آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہہ رہے تھے ۔

” مجھے ابھی اسی وقت پاکستان جانا ہے ۔ مجھے میرے گھر جانا ہے ۔ “

وہ پھٹ پڑی ۔ زکام زدہ بھاری آواز خاموش کمرے میں گونج اٹھی ۔ دران نے محبت اور دکھ سے اس کے روتے چہرے کو دیکھا ۔

” رونا بند کرو ۔ لے جاؤں گا ۔ “

” نہیں ۔ مجھے نکالیں یہاں سے مجھے جانا ہے ۔ میں خود جا سکتی ہوں ۔ بس اس ہوٹل سے نکال دیں ۔ ایک دفعہ آپ کے ساتھ جانے کی غلطی کر چکی ہوں اب نہیں کرنا چاہتی ۔ “

” صرف غصہ کرو ۔ روؤ مت پلیز ۔ “

وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔ دران نے فکرمندی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے التجا کی ۔ اس کا غصہ اس کی نفرت اور اس کی ناراضگی سب کچھ بجا تھا ۔

” میری مرضی ہے کچھ بھی کروں ۔ غصہ کروں یا روؤں آپ کو اس سے کیا ۔ مجھے بس اسی وقت یہاں سے نکالیں ۔”

بے حد سخت لہجے میں کہتی اب وہ غصے سے دران کو گھور رہی تھی ۔ آج اگر اس سے محبت نہ ہوتی تو شاید وہ اس کے اس رویے پر اسںے اپنا احسان یاد دلا کر خود ایک طرف ہو جاتا لیکن سامنے کھڑی غصہ کرتی , اس سے بدتمیزی سے پیش آتی اور روتی ہوئی لڑکی نہ صرف اس کی منکوحہ تھی بلکہ اس کے دل کا بند دروازہ کھول کر اس میں پورے حق سے داخل ہونے والی پہلی لڑکی تھی ۔

اس کے پتھر دل کو موم کر دینے والی ۔ اس کو محبت جیسے خوبصورت جذبے سے آشانہ کروانے والی وہ دنیا کی واحد لڑکی تھی جس کی نم آنکھیں اور آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے غصے اور نفرت پر بھی بے پناہ پیار آ رہا تھا ۔

وہ پوری دنیا میں اس کے لیے وہ ہستی تھی جس کے سامنے آپ باقی سب سے مختلف ہوتے ہیں ۔ اللہ نے کچھ جذبے اور کچھ رشتے ایسے بنائے ہیں جو ہمیں کمزور کر دیتے ہیں , بدل کر رکھ دیتے ہیں ۔ سخت سے سخت وجود میں بھی دل اسی نرم لوتھڑے سے بنا ہوتا ہے جس میں اللہ پاک کی مرضی سے جذبات جنم لیتے ہیں اور محبت بھی ایسا ہی ایک جذبہ ہے ۔

جب کسی سے محبت ہو جائے تو اس کے لیے آپ کے احساسات آپکی فکر آپکا رویہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے ۔ دران ملک بھی اگر آج بدلا ہوا تھا تو صرف اس لڑکی کے سامنے جو غصے میں بھری سرخ چہرے کو پھیرے کھڑی تھی اور اسے یہ سنا چکی تھی کہ وہ اب اس کی مرضی کی غلام نہیں ہے ۔

” ہاں تمھای مرضی ہے کچھ بھی کرو لیکن فلحال کچھ کھا کر آرام کرو ۔ “

دران کے پرسکون لہجے اور طمانت بھرے جواب پر اس نے بے رخی سے پھیرا چہرہ تنک کر موڑا ۔ وہ اس کے غصے اس کی باتوں کی پرواہ کئے بنا اب بیڈ کے اطراف میں لگے میز کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ کیا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس نے کیا کیا ؟ کٹھور انسان ۔ جویریہ نے سختی سے دانت پیسے

” نہیں کھانا مجھے ۔ نہیں آرام کرنا ۔ آپ اتنے ڈھیٹ کیوں ہیں ؟ کیا آپ کو سمجھ نہیں آ رہا میں کیا چاہتی ہوں ؟ میں یہاں سے ابھی اور اسی وقت نکلنا چاہتی ہوں ۔ اور میں جانتی ہوں آپ یہ سب کر سکتے ہیں ۔ “

” ہاں کر سکتا ہوں لیکن ابھی نہیں کر سکتا ہوں ۔ “

دران نے اس کی بات پر ایک سکینڈ کے لیے بھنویں اٹھائے رکھنے کے بعد بڑے آرام سے انکار کیا ۔ جویریہ جھنجلا کر چند قدم آگے بڑھی ۔

” جھوٹ آپ کر سکتے ہیں ۔ آپ کوئی عام انسان اور صرف فلم سٹار نہیں ہیں , اتنا تو میں اچھی طرح سمجھ چکی ہوں ۔ آپ کا مقصد بھی پورا ہو چکا ہے , اب میری جان چھوڑ دیں ۔ “

دران کے سر پر کھڑی وہ اپنی طرف سے اس پر غصے میں تابڑ توڑ طنز کے تیر برسا رہی تھی جبکہ وہ میز پر پڑے انٹرکام کو کان سے لگائے پرسکون بیٹھا تھا ۔ اس کے لیے مشن کا سب سے تکلیف دہ وقت جویریہ کے یہاں پہنچنے سے پہلے تک کا تھا ۔ وسوسے دل کو گھیر لیتے تھے کہ اگر شیون نے اسے ہوٹل نہیں بھیجا تو کیا ہو گا ۔ اگر اسے وہیں کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گا لیکن اب وہ پرسکون تھا ۔

” ڈنر بھیج دیں کمرے میں ۔ “

متوازن لہجے میں انٹرکام اٹھائے دران نے دوسری طرف حکم صادر کیا اور پھر ریسور رکھنے کے بعد چہرہ اوپر اٹھائے جویریہ کی طرف دیکھا ۔

” مجھے کچھ نہیں کھانا ۔ “

” مت کھانا مجھے تو کھانا ہے ۔ اس دن سے بھوکا ہوں ۔ “

کندھے اچکا کر کہا اور ایک طرف پڑے بیگ کو اٹھا کر جویریہ کی طرف بڑھایا ۔

” چلو فریش ہو جاؤ ۔ اس میں تمھارا ڈریس ہے ۔ “

دران اس کی طرف بیگ بڑھائے ہوئے تھا جس کو تھامنے کے بجائے وہ صرف گھور رہی تھی ۔

دران نے بیگ کو واپس بیڈ پر رکھا , کھولا اور بیگ میں سے تہہ شدہ کپڑے باہر نکالے ۔ یہ اسی کی نیلی فراک تھی ۔ مطلب وہ اس کے کپڑے بھی لے کر آیا تھا ۔ بیگ سے گہری نیلی فراک اور سرخ شال نکال کر جویریہ کی طرف بڑھائے وہ سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

ان جھلمل ستاروں کی تنگ اور عجیب میکسی میں تو وہ واقعی ہی الجھن محسوس کر رہی تھی ۔ دران اسی طرح کپڑے اس کی طرف بڑھائے منتظر بیٹھا تھا جب اس نے ناک پھلا کر غصے سے کپڑے دران سے جھپٹے اور کمرے میں موجود ڈریسنگ روم کی طرف قدم بڑھا دیے جبکہ وہ اس کے اس انداز پر بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو لبوں پر گہرا کئے اس کی پشت کو گھور رہا تھا ۔

کپڑے تبدیل کرنے اور چہرے کو دھو کر میک اپ سے آزاد کرنے کے بعد جب وہ باہر آئی تو صوفے کے آگے لگے میز پر کھانا سج چکا تھا جس کی اشتہا انگیز خوشبو نے ایک سکینڈ میں ہی اس کے ناک کے نتھنوں سے سفر کرتے ہوئے بھوک سے پچکتی انتڑیوں کو پیغام ارسال کیا جس پر بھوک بڑھ گئی ۔

نیلی فراک میں شال کو کندھوں کے گرد اچھی طرح لپیٹے کچھ دیر پہلے والے گہرے میک اپ کو دھو کر شفاف چہرہ نکالے وہ مجسم کھڑی تھی ۔ میک اپ اترتے ہی چہرے پر زخموں کے جا بجا سرخ نشان واضح ہونے لگے تھے ۔

دران نے اس کی طرف دیکھا اور پھر بیڈ سے اٹھ کر کھانے کے میز کی طرف ایسے قدم بڑھائے جیسے اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔

جویریہ نے بے نیازی سے چہرے کو پھیرا اور دران کی مخالف سمت میں بیڈ کی طرف قدم بڑھا دیے وہ حیرت سے رکا , پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا جو کھانے کی میز پر آنے کے بجائے بیڈ پر بیٹھ چکی تھی ۔

دران کچھ سکینڈ اسی طرح اس کی طرف دیکھتا رہا اور پھر کھانے کی میز کی طرف چل دیا ۔ وہ غصے میں بھری بیٹھی چور نگاہوں سے بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھی جو کھانا شروع کر رہا تھا ۔ میز چائنز کھانوں سے بھرا ہوا تھا ۔

” اف۔۔۔ ظالم انسان ۔ “

نفرت اور اکڑ سے کھانا چھوڑ کر یہاں تو آ کر بیٹھ گئی تھی لیکن اب احساس ہو رہا تھا کہ بھوک سے تو جان نکل رہی ہے اور دران کو احساس تک نہیں تھا اس کا ۔

بے اختیار آنکھیں بھر آئیں ۔ آنسو اتنی تیزی سے گالوں پر بہنے لگے کہ وہ الجھ کر ہاتھ کی پشت سے ان کو بار بار رگڑرنے لگی ۔

سر جھکائے وہ اسی طرح بے دردی سے آنسو صاف کرنے میں مصروف تھی جب اچانک دران کی ردعمل پر سٹپٹا گئی ۔ وہ کب قریب آیا اور کب اس کے بازو کو تھام کر اسے بیڈ پر سے اٹھایا خبر نہ ہوئی ۔

” کیا ہے چھوڑیں مجھے ۔ “

جھنجلا کر دران سے بازؤ چھڑوانے کی کوشش میں غصے سے چیخی جبکہ وہ ان سنی کرتا اسے زبردستی صوفے تک لے آیا ۔

” ڈھیٹ میں نہیں تم ہو ۔ بیٹھو یہاں ۔ “

کندھوں سے تھام کر زبردستی کھانے کے میز کے آگے صوفے پر بٹھاتا وہ اس پورے عرصے میں پہلی مرتبہ اس سے اتنے رعب سے مخاطب ہوا ۔

” اب چپ چاپ کھانا شروع کرو نہیں تو کھانا کیسے کھلانا ہے , یہ بھی اچھے سے آتا ہے مجھے ۔ “

رعب سے کہتا وہ خود سامنے والے صوفے پر براجمان ہو چکا تھا ۔ دران کے تیور سے صاف ظاہر تھا کہ ابھی اگر اسی لمحے اس نے کھانا نہ شروع کیا تو واقعی وہ زبردستی کرے گا اور بھوک تو ویسے بھی شدید لگ رہی تھی ۔ غصہ , نفرت اور نخرہ ایک طرف رکھے خاموشی سے پلیٹ کو اٹھایا اور نوڈلز کو پلیٹ میں ڈھیر کیا ۔ دران نے بھنویں اوپر چڑھائے ایک نگاہ اس پر ڈالی اور پھر کھانے میں مگن ہو گیا ۔

اس کے کھانا کھانے کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے اس رات سے وہ بھی بھوکا تھا ۔ وہ مختلف چیزیں اٹھا اٹھا کر اس کی اور اپنی پلیٹ میں رکھ رہا تھا ۔ کھانے کے دوران بالکل خاموشی چھائی رہی ۔ وہ ابھی کھانا کھا ہی رہی تھی جب دران کھانا کھانے کے بعد نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا اپنی جگہ سے اٹھا اور قدم بیڈ کی طرف بڑھا دیے ۔

” دو کپ چائے بھجوا دیں ۔ “

دران کی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ چائے کا آڈر دینے کے بعد وہ پھر سے واپس اسی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا ۔ گہری خاموشی کا دورانیہ طویل ہو رہا تھا ۔ جویریہ نے سر جھکائے ہی ہاتھ اور منھ نیپکن سے صاف کئے اور بنا اس کی طرف دیکھے چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” میں آئی ۔ ایس ۔ آئی کا خفیہ ایجنٹ ہوں “

دران نے دھماکہ کیا تھا ۔ وہ جو نگاہیں پھیرے ابھی صوفے پر سے اٹھنے والی تھی چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ سنجیدگی کا پیکر بنا وہ شاید اس کے دیکھنے کا ہی منتظر تھا ۔ نگاہیں ملیں تو اس نے کلام کا سلسلہ جوڑا ۔

” اس وقت جو تم یہ سب دیکھ رہی ہو ۔ یہ سب ایک مشن کا حصہ ہے ۔ ہم نے تمہیں اپنے مقصد کے لیے ایک مہرہ بنایا ۔ تمہیں بنا بتائے تمہیں ان لوگوں کے حوالے کیا ۔ “

دران کے لہجے میں ندامت کی واضح جھلک تھی ۔

” تمہارے ساتھ جو بھی ہوا ۔ وہ سب کرنا میری اور ایجنسی کی مجبوری بن گیا تھا کیونکہ ان لوگوں تک پہنچنے کا صرف یہی ایک راستہ بچا تھا ۔ “

دران نے آہستگی سے سر کو جھکایا اور پھر چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” تم ایک بہادر اور مضبوط اعصاب کی لڑکی ہو , یہ ہم جان گئے تھے لیکن اگر تمہیں یہ سب پہلے بتاتے تو شاید تم کبھی بھی اس مشن کا حصہ بننے کے لیے تیار نہ ہوتی اور نہ ہی برھان کی تقریب میں جاتی ۔ “

دران خاموش ہو گیا تھا ۔ وہ شاید اب اس کے جواب کا منتظر تھا ۔

اچھا تو دران ملک یہ تھی وہ حقیقت تم واقعی خاص نہیں بہت خاص نکلے ۔ پرسرار نہیں بہت پرسرار نکلے ۔ بے حس نہیں بہت زیادہ بے حس نکلے ۔ ٹھیک ہے یہ سب ایک مشن تھا لیکن تمہیں کس نے حق دیا تھا کہ تم اس مشن میں میرے جذبات کے ساتھ کھیلتے مجھ سے اپنی جھوٹی محبت کا اظہار کرتے ۔ جویریہ نے گہری سانس خارج کی اور اعتماد سے چہرے کو اوپر اٹھایا ۔

” اگر آپ نے مجھے یہ سب نہیں بتایا تھا تو مجھے اس بات کا کوئی گلا نہیں ہے کیونکہ مجھ پر کئے ہوئے احسان کے بدلے کے طور پر میں آپ کے کسی بھی مقصد میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے ہمیشہ سے تیار تھی لیکن مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ آپ نے یہ سب کرنے کے لیے مجھے جھوٹی محبت کا جھانسا کیوں دیا ۔ “

دران اس کے آخری جملے پر بھونچکا گیا ۔ فوراً اس کی بات کاٹی ۔

” وہ جھانسا نہیں تھا ۔ یہ سچ ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ “

” جھوٹ بالکل جھوٹ ۔ مت گرائیں میری نظروں سے خود کو اتنا ۔ آپ کو اندازہ بھی ہے کہ آپ نے میری بے پناہ محبت کو نفرت میں بدل دیا ہے ۔ “

وہ نفرت سے ناک بھینچے بھرائی آواز میں کہتی اس کی سچی محبت کو جھوٹا قرار دے کر اپنی محبت کو بھی نفرت میں بدلنے کا بتا رہی تھی ۔ اس سے پہلے کہ دران کچھ اور کہتا وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی ایک سکینڈ سے بھی پہلے بیڈ تک پہنچی ۔ کمفرٹر غصے سے کھینچا اور سر تک تان کر لیٹ گئی ۔ دران نے ایک آبرؤ چڑھائے بغور اس کی طرف دیکھا ۔ تم نفرت نہیں کر سکتی مجھ سے ۔ تمھارے ذہن کو نہیں پڑھ سکتا لیکن اب تمھارے دل کی دھڑکنوں کو سن سکتا ہوں ۔ گہری نظروں سے کمفرٹر میں لپٹے وجود کو دیکھا ۔

دروازے پر ہونے والی دستک پر وہ خیالوں سے باہر آیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر جلدی سے ایک طرف کاؤچ پر پڑے ماسک کو اٹھا کر چہرے پر چڑھایا ۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا جب وہ دروازے پر پہنچا ماسک پوری طرح اس کے چہرے پر سیٹ ہو چکا تھا ۔

دروازے پر چائے آ چکی تھی ۔ ہوٹل کی وردی میں ملبوس لڑکا چائے کے لوازمات سے بھری چائے لئے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ۔ دران دروازہ کھول کر ایک طرف ہوا ۔

وردی میں ملبوس لڑکا چائے کی ٹرالی کو گھسیٹتے ہوئے آگے آیا ۔ دران نے اچٹتی نگاہ باہر دروازے کے دائیں بائیں کھڑے شیون کے گارڈز پر ڈالی وہ چوکنے دروازے کے باہر پہرہ دے رہے تھے ۔

چائے رکھنے کے بعد لڑکا کمرے سے واپس گیا تو دران نے ماسک اتارا ۔ بیڈ پر ایک طرف پڑے بیگ میں سے فرسٹ ایڈ باکس کو نکالا اور چائے کی ٹرالی پر رکھا , ٹرالی کو نرماہٹ سے گھسیٹتا ہوا بیڈ تک لایا ۔

کمفرٹر میں سمٹ کر لیٹی وہ دران کے قدموں کی چاپ کو بیڈ کے قریب اپنے سر پر محسوس کر سکتی تھی ۔ وہ ابھی چائے کی خوشبو کو سونگھ کر ہی بے تاب ہو رہی تھی جب دران کے پاس بیٹھنے کا احساس ہوا ۔

” اٹھو پین کلر لے کر چائے پی لو ۔ “

” ضرورت نہیں مجھے ۔ “

غصے میں فوراً انکار کیا ۔

” ٹھیک ہے چائے مت پیو لیکن میڈیسن ضروری ہے ۔ ضد مت کرو ۔ “

” مجھے پتا ہے میرے لیے کیا ضروری ہے ۔ پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔ “

کمفرٹر کے اندر ہی چہرہ دئے غصے میں جواب دیا مگر اب کی بار دران نے جواب دینے کے بجائے کھینچ کر اس پر سے کمفرٹر اتارا ۔ جویریہ نے خونخور نظروں سے اس کی طرف دیکھا جو کمفرٹر کھینچنے کے بعد آرام سے اب فرسٹ ایڈ باکس سے کوئی کریم اٹھا رہا تھا ۔ کریم اٹھا کر اس کی طرف پلٹا اور اس کے گھورنے سے بے نیازی برتے اس کی کلائی کو تھام لیا ۔

اتنے گھنٹے ہاتھ پشت پر بندھے رہنے کی وجہ سے اس کی دونوں کلائیوں پر گہرے زخم تھے ۔ دران نے باری باری اس کی دونوں کلائیوں کے سرخ نشانوں کو کرب سے دیکھا اور پھر بے اختیار ہی ہاتھ میں تھامی دائیں کلائی پر اپنے لب رکھ دیے ۔

وہ جو تب سے تیوری چڑھائے غصے سے گھور رہی تھی دران کی اس جسارت پر سانس اٹک گیا ۔ دران نے زخم پر سے لب ہٹائے اور کلائی کے زخم کو اپنی بند آنکھوں سے لگا لیا ۔ وہ ساکن سانس کے ساتھ کسی مجسم کی طرح لیٹی تھی ۔ جسم کا سارا خون جیسے چہرے پر جما ہونے لگا تھا ۔

دران نے اس کی طرف دیکھے بنا کلائی کو آنکھوں پر سے ہٹایا اور ہاتھ میں پکڑی ٹیوب میں سے کریم نکال کر اپنی انگلی کی پور پر رکھی ۔ سر کو جھکائے کریم کو باری باری اس کی دونوں کلائیوں کے زخم پر لگایا ۔

کلائی پر کریم لگانے کے بعد جیسے ہی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی جویریہ نے پوری کھلی آنکھیں جھٹ سے بند کئیں ۔ پلکیں گلال ہوتے گالوں پر لرز رہی تھیں ۔

دران اس کی پیشانی پر بنے زخم کو چھو رہا تھا ۔ انگوٹھے کی پور سے اس کی پیشانی پر بنے ابھار کو چھوا ۔

وہ سمٹ گئی پلکوں کی کپکپاہٹ تیز ہوئی ۔ دل اتنی رفتار سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑے باہر نکل آئے گا ۔ پلکیں اتنی وزنی ہو رہی تھیں جیسے کسی نے ان پر پتھر رکھ دیے ہوں ۔ کہاں تھی وہ نفرت کہاں تھا وہ غصہ وہ تو ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔

وہ اب کریم کو اس کی پیشانی کے ابھار پر لگا رہا تھا ۔ کریم کو پیشانی کے زخم پر لگانے کے بعد جیسے ہی نگاہیں اس کے لبوں کے زخم پر آئیں دل کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ۔

جبڑے ضبط سے بھینچے وہ کرب ناک نگاہیں اس کے لبوں کے کٹے کناروں پر گاڑے ہوئے تھا ۔ وہ کتنی تکلیف میں رہی ہو گی ۔ اس کے منھ پر اتنے گھنٹوں تک کپڑا بندھے رہنے کی وجہ سے زخم بن گئے تھے ۔ دران نے انگلی کی پور پر لگی کریم کو آہستگی سے دونوں اطراف کے زخموں پر لگایا ۔

جویریہ کے سسکنے اور بندھی پٹی میں چیخنے کی آوازیں کان کے پردوں سے ٹکرانے لگیں ۔ برداشت جواب دے گئی ۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ٹیرس پر نکل گیا ۔ وہ جو بے حس و حرکت تھی ۔ دران کے اٹھنے پر سانس بحال ہوئی ۔ کپکپاتی جھکی پلکیں آہستگی سے اوپر اٹھیں ۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ آنسوؤں کی موٹی تہہ سفید سے سرخ ہوتی پتلیوں پر چمک رہی تھی ۔ دران کا لمس ابھی تک کلائی پر موجود تھا ۔ آہستگی سے گردن پھیر کر ٹیرس کی طرف دیکھا ٹیرس کا سلائیڈ دروازہ کھلا تھا اور سامنے ریلنگ کو تھامے وہ سر کو آسمان کی طرف اٹھائے ہوا تھا ۔

کیا وہ واقعی اس سے محبت کرتا ہے ۔ آنسو آنکھ کے کناروں سے لڑھک کر اب کان کی طرف سفر کر رہے تھے ۔

برباد ہوئے ، مسمار ہوئے ، اک اک سے عداوت کر بیٹھے

پھر اُس پہ غضب یہ ٹوٹ پڑا ، ہم تم سے محبت کر بیٹھے

اُلجھن سی رہی، لالچ سی اُٹھی، شب وصل کی ہمت کر بیٹھے

کچھ چھیڑ لِیا اُس گُل نے ہمیں، کچھ ہم بھی شرارت کر بیٹھے

بے حال کِیا ، بے جان کِیا ، ہر لحظہ قیامت کر بیٹھے

ایسے تو عدو نفرت نہ کریں، تم جیسے محبّت کر بیٹھے

جب بڑھنے لگے دوزخ کی طرف ، ہر گام پہ آفت کر بیٹھے

یزداں بھی رکھے گا یاد سدا ، رند ایسی شکایت کر بیٹھے

جو لوگ تھے اپنے یار کبھی، وہ لوگ عداوت کر بیٹھے

اب دنیا کی ہم سے بات نہ کر، ہم دنیا پہ لعنت کر بیٹھے

یوں ضد نہ کرو ، بے دل نہ بنو ، عاشق کی بھی کچھ عزت رکھو

اب آ کے لگا دو آگ کہ ہم ، تیّار تو میّت کر بیٹھے

اک عرضِ کرم نے مار دیا، پھر حسرتِ دل اللہ اللہ

جو بات زباں سے کہہ نہ سکے، نظروں سے عنایت کر بیٹھے

اسی پل میں قید کب دس سے پندرہ منٹ گزرے پتا نہ چلا ۔ دران واپس پلٹا تو اس نے بھی فوراً نظروں کا زاویہ بدل دیا ۔ وہ واپس آیا تو اس سے نگاہیں چرا رہا تھا ۔

” اٹھو میڈیسن لو اور چائے پی لو ۔ “

دران کی بدلی ہوئی بھاری آواز پر اس نے چونک کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔ کیا وہ ٹیرس پر رو رہا تھا ۔ کیا وہ اس کے زخموں کو دیکھ کر رو رہا تھا ؟ دران نے ہنوز نگاہیں جھکائے میڈسن کو اس کی طرف بڑھایا ۔

وہ الجھ گئی ۔ دل ڈگمگانے لگا ۔ کبھی یقین کی دہلیز پر قدم رکھتا اور کبھی پیچھے کھینچ لیتا ۔ جویریہ نے خاموشی سے ہاتھوں کے بل جسم کو اوپر اٹھایا اور تکیے کے سہارے بیٹھ کر اس کی ہتھیلی سے میڈیسن اٹھا کر منھ میں ڈال لی ۔ دران کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا اور خاموشی سے لبوں سے لگایا ۔

دران اب چائے کو کپ میں انڈیل رہا تھا ۔ جیسے ہی اس نے گلاس کو منھ سے ہٹایا وہ چائے کا کپ اس کی طرف بڑھائے ہوا تھا جس کی اسے بہت طلب تھی ۔

دران کے ہاتھ سے چائے کا کپ تھام کر نگاہیں جھکائے گھونٹ بھرا ۔ وہ اب اپنی چائے کپ میں ڈال رہا تھا ۔

” تم سے کچھ کہنا ہے ۔ پلیز غصہ کرنے کے بجائے میری بات کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنا اور پھر اپنا فیصلہ سنانا ۔ “

دران کی بات پر اس نے جھکی نگاہیں اوپر اٹھائیں اور دران کی طرف حیرت سے دیکھا ۔ کچھ دیر پہلے والا غصہ ختم تھا اب الجھن چہرے پر رقم تھی ۔

” باہر شیون کے جو دو آدمی کھڑے ہیں , وہ تمھاری نگرانی کے لیے کھڑے ہیں ۔ تم چاہو تو ابھی میں ان دونوں کا کام تمام کر دوں اور تمہیں باحفاظت یہاں سے پاکستان پہنچا دوں ۔ “

وہ چند سکینڈ کی توقف کے لئے خاموش ہوا ۔ جویریہ ہم تن گوش تھی ۔

” لیکن اگر اس طرح تمہیں میں یہاں سے نکال بھی دیتا ہوں تو ایک تو ہمارا شیون تک پہنچنے کا راستہ بالکل بند ہو جائے گا اور دوسرا تمھارے سر پر شیون نام کی تلوار ساری عمر لٹکتی رہے گی جو مجھے ہر گز گوارا نہیں ہے ۔ میں چاہتا ہوں تم عام لڑکیوں کی طرف بنا کسی خوف کے زندگی بسر کرو۔ “

” دوسرا راستہ کونسا ہے ؟ “

حیرت میں ڈوبی زکام زدہ آواز تھی وہ نا سمجھی سے دران کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی ۔

” دوسرا راستہ یہ کہ ان دونوں آدمیوں کو ختم کرنے کے بعد میں اور میرا ساتھی زک ان کی جگہ ان کا لباس پہن کر اور ان کے انٹری کارڈ لے کر تمہیں وہاں واپس لے کر جائیں ۔ آج دوپہر کو تم نے جتنی بھی انفارمشن دی وہ سب ابھی ناکافی ہے اور ہم اس آپریشن کو اب مکمل طور پر جڑ سے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ جس کے لیے ہمیں انہی کے آدمی بن کر وہاں گھسنا ہے ۔ ہمیں ان کے تہہ خانے میں پھنسی تمام لڑکیوں کو آزاد کروانا ہے اور مجھے شیون کو جان سے مارنا ہے ۔ “

آخری بات پر دران کی کنپٹی کی رگیں تن گئیں وہ جبڑے بھینچے ضبط سے بول رہا تھا ۔ جویریہ کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہوا ۔

” پریشان نہ ہو لیکن اگر تم یہ سب نہیں چاہتی تو میں تمہیں واپس بھیج دیتا ہوں اور کسی دوسرے طریقے سے ان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اب کی بار میں یہ سب ایجنسی کے خلاف ہو کر کروں گا ۔ میں نہیں چاہتا تم۔۔ “

” میں جاؤں گی ساتھ ۔ “

” جویریہ کے برجستہ جواب پر دران نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ اس کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا ۔ وہ سپاٹ مگر پر عزم چہرے کے ساتھ بیٹھی تھی ۔

” میں نہیں جانتی آپ وہاں سے کونسی انفارمیشن کولیکٹ کر رہے ہیں اور آپکا مشن کیا ہے لیکن مجھے اس تہہ خانے میں قید لڑکیوں کو آزادی دینی ہے اس کے لیے چاہے میری جان چلی جائے ۔ “

پرعزم لہجہ تھا ۔ دران چند سکینڈ اسے دیکھتا ہی رہ گیا پھر لب بھینچے سر کو اثبات میں ہلایا ۔ خوف اپنی جگہ تھا لیکن جب دران نے کہا کہ وہ شیون کو مارنا چاہتا ہے تو اس کی آنکھوں میں اپنے لیے عزت کا جو درجہ اس نے دیکھا وہ اس کی بے پناہ محبت کو مات دے گیا ۔

خود غرض وہ نہیں تھا وہ خود تھی ۔ کیسے بھول گئی تھی کہ اس نے کیا کچھ نہیں کیا تھا اس کے لیے ۔ دران کی باتوں اور اس کے مقصد کی پاکیزگی نے اچانک ایک عجیب سے جذبے سے ہمکنار کیا۔ اسے شیون کے تہہ خانے میں کھڑے ہو کر اپنے کہے ہوئے الفاظ یاد آ گئے ۔ وہ ایک دم پرسکون ہو گئی تھی ۔

” تمہیں اب سونا چاہیے کیونکہ صبح ہوتے ہی ہمیں اپنی تیاری مکمل کر کے نکلنا ہو گا ۔ “

دران نے کمفرٹر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ چونک کر آہستگی سے سر اثبات میں ہلا گئی اور دران کے ہاتھ سے کمفرٹر لے کر لیٹ گئی ۔

وہ کچھ دیر پر سوچ نگاہیں چائے کے کپ پر گاڑے بیٹھا رہا اور پھر ایک جھٹکے سے وہاں سے اٹھ کر کاؤچ پر رکھے لیپ ٹاپ کی طرف بڑھ گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *