Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 28)Part 2
Rate this Novel
Basil (Episode 28)Part 2
Basil by Huma Waqas
صبح رات کی بارش کے باعث ٹھنڈ معمول سے زیادہ تھی ۔ سورج آسمان پر چمک تو رہا تھا لیکن اس کی کرنیں زمین تک اپنی تپش منتقل کرنے سے عاری تھیں ۔
شفاف تار کول میں لپٹی ناگن سی بل کھاتی سڑکیں اب بھی رات کی بارش کی وجہ سے گیلی تھیں ۔
یہ بیورلی ہلز سے باہر نکل کر نزدیکی کیلیفورنیا کا متوسط طبقے کا رہائشی علاقہ تھا ۔ اس علاقے میں موجود لوگ زیادہ طر بیورلی ہلز کی مختلف جگہوں میں ملازمت کرتے تھے چونکہ وہ بیورلی ہلز کی رہائش افورڈ نہیں کر سکتے تھے اس لیے ان کی رہائش یہاں بنے چھوٹے چھوٹے ہٹ نما گھروں میں تھی ۔
سیاہ ڈیٹسن کے ٹائر اپنی رفتار کو کم کرتے ہوئے بڑی سستی روی سے ایک چھوٹے سے گھر کے آگے رکے تھے ۔ گھر کا سبز لکڑی کا ایک پٹ والا دروازہ انگنت مخلتف رنگوں کے پھولوں کی بیلوں سے ڈھکا تھا ۔ گھر کے بالکل سامنے رکنے کے بعد انل نے گاڑی کا شیشہ سست روی سے نیچے کیا اور آنکھوں کو سکوڑ کر دروازے کی طرف دیکھا ۔
نیلی اور سفید دھاری دار آدھی آستین والی ٹی شرٹ کے ساتھ نیلی جینز زیب تن کیے , آنکھوں پر سیاہ گلاسز چڑھائے وہ آج اپنے پیشہ وارانہ انداز سے کافی حد تک مختلف لگ رہا تھا ۔ گاڑی سے نیچے اتر کر دروازے کے سامنے وہ چند سکینڈ کے لیے پرسوچ نگاہوں کو دروازے پر گاڑے رکا اور پھر دیوار پر لگی گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا ۔
پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے ابھی تین منٹ انتظار کرنا پڑا تھا کہ دروازہ کھل گیا تھا ۔
جیسیکا کی آنکھیں حیرت سے پوری کھل گئیں ۔ ہلکے گلابی رنگ کی ڈھیلی سی شرٹ کے نیچے سیاہ ٹرایوزر پہنے وہ نکھری نکھری اس حسین صبح کا حصہ لگ رہی تھی ۔ بھوری آنکھیں حیرت سے سامنے کھڑے انل کو دیکھ کر پھیل گئی تھیں ۔
” آپ!”
حیرانگی سے وہ کبھی انل اور کبھی اس کی گاڑی کو دیکھ رہی تھی ۔
” جی میں ۔ “
انل نے مسکرا کر سر ہلایا ۔ کل رات وائن کو لیب ٹیسٹ میں دینے کے بعد وہ جیسیکا کو اس کے گھر تک چھوڑ گیا تھا ۔ وہ رات تین بجے اپنے گھر پہنچی تھی اور اب صبح نو بجے انل پھر سے جیسیکا کے سامنے کھڑا تھا ۔
” آپ پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں میرے ؟ رات گھر کیا ڈراپ کر دیا صبح ہوتے ہی منہ اٹھائے چلے آئے ۔ “
جیسیکا نخوت سے پیشانی پر بل ڈالے اس پر چڑھ دوڑی ۔
” ارے ارے تھم تو لیں میڈیم ۔ آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں آپ پر لائن مارنے ہر گز نہیں آیا ہوں ۔ “
انل کے جواب پر وہ جو تلملائی کھڑی تھی غصے سے منہ وا ہوا ۔ انل نے گڑ بڑا کا بات سنبھالی ۔
” میرا مطلب ہے ۔ آپ بھول گئی ہیں کہ رات ہم جو وائن ٹیسٹ لیب میں دے کر آئے تھے دس بجے اس کی رپورٹ ملنی ہے تو میرے خیال سے آپ کو ساتھ چلنا تھا ۔ “
” ہاں یاد آ گیا رکو میں تیار ہو کر آتی ہوں ۔ “
انل کے تفصیل سے جواب دینے پر اس کی پیشانی کے بل کم ہوئے ۔ جیسیکا کے تیار ہونے کی بات پر انل نے اس کے سراپے کو اوپر سے نیچے جانچتی نگاہوں سے دیکھا ۔
” مزید تیار ہونا ہے ؟ “
” مطلب ؟ “
وہ چونک کر بھنویں اٹھائے پلٹی ۔ انل بے ساختہ نکل جانے والے جملے پر سٹپٹا کر سیدھا ہوا۔
” میرے کہنے کا مطلب تھا ہم لیب ٹیسٹ رپورٹ لینے ہی تو جا رہے ہیں ۔ آپ ٹھیک ہی تو ہیں ۔ “
کندھے اچکائے اور سیاہ چشمہ اتار کر ایک دفعہ پھر سے اسے بغور دیکھا ۔ گلابی شرٹ کا رنگ اس کی چمکتی گالوں پر اپنا عکس ڈالے ہوئے تھا ۔
” ایکسکیوزمی اپنے کام سے کام رکھیں اور اگر آج اس وائن کی رپورٹ کلئیر نکلی تو یاد رکھنا میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں ۔ “
چھوٹی سی آنکھیں مزید چندھی کیے وہ اسے خبردار کر رہی تھی ۔ انل کے ماتھے پر ایک دم سے بل پڑے میڈیم کو ابھی تک یقین نہیں تھا ۔
” اور اگر میری بات سچ ہوئی تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ۔ “
ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ جیسیکا اس کے اس جواب پر بھونچکا گئی ۔ نا جان نا پہچان ۔۔۔۔
” ہوش میں تو ہیں آپ !”
” بالکل ہوش میں ہوں ۔ “
بڑے رعب سے کہا لیکن اگلے ہی لمحے جیسیکا کے تیور دیکھ کر فوراً شرٹ کے کالر درست کرتے ہوئے بات کو سنبھالا ۔
” میرا مطلب تھا کہ وہ پھر آپ کی طرف میری ٹریٹ بنتی ہے نہ ۔ “
” کس خوشی میں ۔ “
جیسیکا نے سینے پر ہاتھ باندھے استہزائیہ پوچھا ۔
” آپ کی جان بچائی اس درندے سے اس خوشی میں ۔ “
بڑی دیدہ دلیری سے جواب دیا ۔ جیسیکا نے طنزیہ لبوں کو اوپر چڑھائے اس کی طرف دیکھا اور زور سے کوئی جواب دیے بنا اس کے منہ پر دورازہ بند کیا ۔
” بدتمیز ہے یہ بھی ۔ کم از کم انسان اندر ہی بیٹھا لیتا ہے ۔ “
چشمہ پھر سے آنکھوں پر چڑھائے سیٹی بجاتے ہوئے ارد گرد دیکھا اور پھر کار میں آ کر بیٹھ گیا ۔ دس منٹ بعد وہ گھٹنوں تک آتی سرخ فراک پہنے اونچی پونی ٹیل کے ساتھ باہر آئی ۔ ہلکا سا میک اپ اور کندھے سے لٹکتا بھورا لیدر بیگ ۔ انل اس کے گاڑی تک پہنچنے کے لیے لمحے میں ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ خوبصورت تھی بیکری کی وردی میں سر پر ٹوپی لیے وہ بہت مختلف لگتی تھی لیکن رات اور اب پہلی بار وہ اس کو اس حلیے میں دیکھ کر اس کی خوبصورتی کی دل میں داد دیے بنا نہ رہ سکا ۔
جیسے ہی وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی انل ہوش میں واپس آیا وہ چیونگم چباتے ہوئے اسے چلنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔ انل نے ہلکا سا مسکرا کر گاڑی سٹارٹ کر دی ۔
☆☆☆☆
بینسن ہسپتال کے اس گرم کمرے میں خاموشی کا راج تھا ۔ جدید طبعی آلات سے لیس کمرے میں جویریہ سفید چادر میں لپٹے بیڈ پر لیٹی تھی ۔ اسے ہوش میں آئے آج دوسرا دن تھا لیکن اب بھی نقاہت کے باعث نیم بے ہوشی میں تھی ۔
ہسپتال کے ہلکے سبز رنگ کے گاؤن میں ملبوس وہ ان تین دنوں میں ہی سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی ۔ ناک پر اب بھی آکسیجن ماسک موجود تھا اور آنکھوں کے سوزش زدہ پپوٹوں پر موجود وینز نیلے رنگ کی ہو کر واضح تھیں ۔
اس کے بیڈ کے قریب موجود کرسی پر بیٹھا وہ یک ٹک اس کے پژمردہ , زردی مائل چہرے پر نگاہ جمائے ہوئے تھا ۔
وہ دران ملک زندگی میں پہلی دفعہ خوفزدہ ہوا تھا۔ بہت خوفزدہ ۔ وہ چوبیس گھنٹے جس میں جویریہ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی تھی وہ آنکھ جھپکنا بھول گیا تھا ۔ ایک خلش اور احساس جرم کو چھوڑ کر کچھ اور احساس بھی تھا جس نے دران ملک کے مضبوط وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
ایسا احساس تھا جیسے شام کے اندھیرے وجود میں پھیل رہے ہوں۔ ایسی شام جس کی کبھی سحر نہیں ہو گی ۔ اس کے وجود کا رواں رواں اللہ سے جویریہ کی زندگی مانگ رہا تھا اور پھر اللہ نے اس کی دعا سن لی جویریہ کو ہوش آ گیا تھا ۔
اس کو ہوش آنا تھا کہ اس کے دل کی دنیا یکسر بدل گئی ۔ زندگی میں پہلی دفعہ وہ کسی لڑکی کے لیے وہ احساسات محسوس کر رہا تھا جو آج سے پہلے اس نے کبھی کسی کے لیے نہیں کیے تھے ۔ بیڈ پر نحیف حالت میں لیٹی وہ عام سی شکل و صورت والی لڑکی اس کے دل کے قفل توڑ چکی تھی ۔ دل کے آگے دھرا پتھر پاش پاش ہو چکا تھا ۔
سیاہ ہڈ میں بکھرے سے بال اور تھکے سے چہرے کے ساتھ وہ کرسی کے بازو پر کہنی ٹکائے ہاتھ کو لبوں پر دھرے , نگاہوں کو متواتر اس کے چہرے پر جمائے ہوئے تھا جب اچانک جویریہ کی پلکوں میں ہونے والی جنبش پر وہ سرعت سے سیدھا ہوا ۔
وہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ دران اب کرسی سے اٹھ کر بیڈ کے قریب اس کے سر پر آ کھڑا ہوا ۔ وہ چند سکینڈ پلکیں پھڑپھڑانے کے بعد اب آنکھیں کھول رہی تھی ۔ دران بے ساختہ امڈ آنے والی خوشی کے باعث مسکرایا ۔
جویریہ نے آہستگی سے پلکیں نیم وا کئیں دھندلا سا منظر صاف ہونے لگا ۔ اس پر جھکے دران کا چہرہ واضح ہو گیا تھا ۔ بے تاثر سیاہ بے رونق آنکھیں دران کے لبوں پر موجود مسکراہٹ دیکھ رہی تھیں ۔
” کیسی ہو؟ “
آہستگی سے گھمبیر لہجے میں پوچھا گیا سوال اس کے حال کے بارے میں تھا ۔ جویریہ کے چہرے پر ایکدم سے رنگ لہرایا ۔ دران کے کمرے کے باہر آؤٹ ڈور کا وہ روح پرور منظر ذہن کے پردوں کے ساتھ سر پٹخنے لگا ۔
دران کے کمرے سے نکل جانے کے بعد وہ کچھ دیر تو یونہی کھڑی اسے دیکھتی رہی تھی ۔ پھر سردی کے بڑھتے احساس پر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی ۔ ننگے پاؤں اور کوئی بھی گرم چیز تن پر نہ ہونے کی باعث دانت بجنے لگے تھے ۔
جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی اس کے چہرے کی رنگت سفید پڑ گئی ۔ دروازہ لاک تھا ۔ دران کو کیا اتنا غصہ آ گیا تھا اس پر کہ اسے باہر دھکا دے کر دروازہ لاک کر دیا ۔ بے یقینی سے کتنی دیر وہ دروازے کے ہتھے کو جھٹکے دیتی رہی تھی ۔ شیشے کے پار خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا ۔
پھر اچانک خیال آنے پر اس نے ہاتھ میں پکڑے فون کو کھولا ۔ موبائل فون میں صرف انل کا نمبر تھا ۔ دران نے کہا تھا ۔ جو بھی ضرورت ہو کچھ بھی چاہیے ہو تم انل سے کہو گی ۔ انل نے اسے اپنا نجی نمبر دیا تھا ۔ وہ اپنے ساتھ ہمیشہ دو فون رکھتا تھا ایک فون درانگ کے پی اے کی حیثیت سے جہاں وہ دران کی تمام ڈیلز , میٹنگز اور ریکارڈ کو مینج کرتا تھا اور دوسرا نمبر بہت خاص لوگوں کے پاس تھا جس میں اس کے گھر والے اور دران شامل تھا اور اب جویریہ کو بھی اس نے وہی نمبر دیا تھا ۔
بڑی امید سے اس نے انل کا نمبر ملایا تھا جس پر صرف گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔
وہ سردی میں کانپتی بجتے دانتوں کے ساتھ بار بار انل کے نمبر پر فون کر رہی تھی لیکن وہاں گھنٹی بجنے کی آواز کے علاوہ اور کوئی پیش رفت نہیں تھی ۔
اچانک بادل زور سے گرجا اور طوفانی جھکڑ جیسی ہوا نے اسے ہلا کر رکھا دیا وہ بے اختیار دیوار کو تھام کر سیدھی ہوئی تھی ۔ اس کے بعد تو جیسے قدرت اس پر ایک کے بعد دوسری مصیبت وارد کر رہی تھی ۔
تیز طوفانی بارش نے پل بھر میں اسے بھگو کر رکھ دیا ۔ جسم کے اندر موجود خون جیسے جمنے لگا تھا ۔ وہ بارش میں نچڑتی بار بار فون ملا رہی تھی ۔ برآمدہ سامنے سے بالکل کھلا تھا جس کی لمبائی زیاہ اور چوڑائی بہت کم تھی یہی وجہ تھی بارش کے جھکڑے برآمدے میں با آسانی پہنچ رہی تھی ۔ تیز بارش کے ساتھ طوفانی ہوا پتھروں کی طرح بارش کے قطروں کو اس کے وجود پر پھینک رہی تھی ۔ وہ فون کو پھینک کر بے اختیار دونوں بازوؤں کے ذریعے چہرے کو ڈھانپتی شیشے کے دروازے کے ساتھ چپک جر بیٹھ گئی ۔ اچانک خیال آیا دران گھر میں ہی ہوگا ۔ اس خیال کا آنا تھا کہ وہ چیخ اٹھی ۔
” دران۔۔۔۔۔ دران ۔۔۔۔۔ دران دروازہ کھولیں ۔ “
وہ بار بار اسے پکار رہی تھی ۔ بجلی کی کڑک اور بارش کے شور میں اونچی سی اونچی چیخ بھی ایسے گھل رہی تھی کہ بمشکل اس کے کانوں کو سنائی دے رہی تھی ۔ وقت گزر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے حواس بھی جواب دے رہے تھے نہ تو بارش تھم رہی تھی اور نہ دران کمرے میں آ رہا تھا ۔ وہ کہاں چلا گیا تھا کوئی انسان اتنا پتھر دل کیسے ہو سکتا ہے ۔ کیا اسے نہیں پتا کہ وہ مجھے یہاں بند کر چکا ہے اور بارش ہو رہی ہے ۔
کپکپاتے ہونٹ اب نیلے ہونے لگے تھے ۔کانپ کانپ کر جسم کا ہر خلیہ درد کرنے لگے تھے ۔
آہستہ آہستہ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا نے لگا ۔ اب سانس لینے میں دشواری ہونے لگی وہ کھانس رہی تھی ۔ پورا جسم ڈھیلا ہونے لگا تھا اور پھر ایک دم وہ زمین پر ڈھے گئی تھی ۔ دروازے کے بالکل سامنے مکمل بھیگی وہ چت لیٹی تھی جب تین گھنٹے بعد روزین کی کمرے میں آتے ہی نگاہ شیشے کے پار بجلی کی چمک کی وجہ سے اس کے وجود پر پڑی ۔ دران اکثر تیز بارش میں کافی ضرور پیتا تھا ۔
روزین کچھ دیر تو انتظار کرتی رہی لیکن پھر نیند کے غلبے کے باعث خود ہی کمرے میں آگئی ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے سونے کے بعد دران کی کال آئے اور وہ اٹھا نہ سکے وہ جب کمرے میں پہنچی دروازہ مکمل نہ بند ہونے کی وجہ سے کچھ دیر دستک کے بعد اندر جھانکا اور پھر اس ہولناک منظر پر نگاہ پڑتے ہی وہ تیزی سے آؤٹ ڈور کی طرف بھاگی تھی ۔
اسے اب وہ رات اپنی زندگی کی بھیانک راتوں میں سب سے بھیانک رات لگنے لگی تھی ۔ یہ انسان کا المیہ ہے کہ ہر نئی آنے والی تکلیف اُسے اپنی پچھلی تکلیفوں سے بڑی لگنے لگتی ہے ۔ اس رات پل پل اکھڑتی سانسوں کے ساتھ وہ دران کی اس سنگدلی پر اپنی محبت کو آہستہ آہستہ ادھیڑ رہی تھی ۔ اب جب ہوش کی دنیا میں واپس آئی تو سب سے پہلے اسی کو سامنے دیکھ کر پورے وجود میں درد کی لہر اٹھی ۔ وہ اس پر جھکا بڑی اپنائیت سے حاک دریافت کر رہا تھا ۔ جویریہ نے جواب دینے کے بجائے سختی سے گردن کو موڑ کر چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔
جویریہ کی بے رخی اور یہ نفرت بجا تھی ۔ اس نے انجانے میں ہی سہی لیکن اسے بہت بری سزا دی تھی اور وہ بھی کس بات پر کہ وہ قرآن پڑھنا چاہتی تھی ۔
دران نے آہستگی سے اس پر جھکا اپنا وجود سیدھا کیا ۔ وہ اب بھی چہرے کا رخ موڑے ہوئے تھی ۔ دروازہ کھلنے کی آواز تھی دران نے نگاہ دروازے کی طرف موڑی ۔
فریڈ ہشاش بشاش ڈاکٹری کے سفید کوٹ کو زیب تن کیے کمرے میں داخل ہو رہا تھا ۔ جویریہ نے بھی چہرہ سیدھا کر لیا تھا ۔ فریڈ اب مسکراتا ہوا جویریہ کے سر پر کھڑا تھا ۔
” ہیلو مسز درانگ ۔ کیسا محسوس کر رہی ہیں اب ؟”
فریڈ نے گہری دوستانہ مسکراہٹ سجائے استفسار کیا ۔ جویریہ نے ساکن پتلیوں کو گھمایا اور پھر چند سکینڈ کے توقف کے بعد سر کو اثبات میں جنبش دی ۔
“اچھا بہت اچھا ۔ آپ ایک بہت ہی بہادر خاتون ہیں ۔ اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتی تو شائد زندگی کی بازی ہار جاتی ۔”
فریڈ مسکراہٹ سجائے انگریزی زبان میں اس کی تعریف کر رہا تھا ۔ جویریہ نے تھکے انداز میں آنکھیں موند لیں ۔ نقاہت کے باعث وہ ابھی کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں جتا پا رہی تھی ۔
” درانگ ان کو اگر دو دن اور ہاسپٹل میں رہنے دیتے تو زیادہ بہتر تھا ۔ وہ ابھی مکمل صحت یاب نہیں ہوئی ہیں “
فریڈ اب سنجیدگی سے دران کے ساتھ مخاطب تھا جو مضطرب سا بار بار جویریہ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ اب فریڈ کے بلانے پر چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
” نہیں میں اسے یہ ساری سہلوتیں گھر میں مہیا کر سکتا ہوں ۔ یہاں سکیورٹی کا مسئلہ ہے مجھے اور پھر میں ہر وقت یہاں نہیں ہو سکوں گا ۔ “
سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے جواب دیا ۔ فریڈ نے گہری سانس لے کر سر اثبات میں ہلایا ۔
” اچھا ! چلو جیسے تمہیں بہتر لگے ۔ یہ چند معلومات فارم ہیں ان کو پر کرو میں ڈسچارج لیٹر لے کر آتا ہوں ۔”
فریڈ نے ہاتھ میں پکڑی فائل دران کی طرف بڑھائی اور خود باہر نکل گیا ۔ دران نے ایک نگاہ پھر سے جویریہ پر ڈالی وہ شاید دوبارہ سے سو چکی تھی ۔
فائل کو تھامے وہ واپس اسی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
☆☆☆☆☆
کراچی رات کے دو بجے ڈیفنس میں موجود یہ کوٹھی تاریکی میں ڈوبی تھی ۔ وہ اسی کوٹھی کے اس بڑے ہال نما کمرے میں پلنگ پر سو رہی تھی ۔
وہ ہار گئی تھی ۔ مریم اور جان کی محبت اور ان کی زندگی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ لی تاؤ نامی شخص سے اس کی شادی اجتماعی شادی میں ہوئی تھی ۔ یہ ایک گروہ تھا جس میں چین کے بہت سے لڑکوں نے کریسچن لڑکیوں سے شادی کی تھی ۔ شادی کے بعد وہ ان سب لڑکیوں یہاں ڈیفنس میں ایک بنگلے میں لے آئے تھا ۔ اس بنگلے میں یہاں کے مالک نے جو اس گروہ کی سربراہی کر رہا تھا تمام شادی شدہ جوڑوں کو دو ہال نما کمروں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ ایک کمرے میں تمام لڑکے رہتے تھے اور دوسرے میں ساری لڑکیاں ۔
وہ لی تاؤ جے ساتھ ابھی تک گوگل ٹرانسلیٹر پر بات کرتی تھی جبکہ ان کی یہاں چینی زبان سکھانے کی ایک کلاس بھی ہو رہی تھی ۔
آج اسے یہاں ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔ سب ٹھیک تھا اور حسب منشا تھا ۔ لی تاؤ اس سے بہت کم بات کرتا تھا اور وہ خود بھی یہی چاہتی تھی کہ وہ اس سے بات نہ کرے ۔ کچھ شادی شدہ جوڑے آپس میں بہت گھل مل گئے تھے لیکن اس کی اور لی تاؤ کی ہنوز وہی دوری قائم تھی ۔
وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی جب فون کی گھنٹی کے باعث آنکھ کھلی ۔ فون پر نمبر دیکھے بنا اس نے کال اٹھائی اور فون کان کو لگایا ۔
” ہیلو ۔۔۔ ہیلو جوی میری بات سنو ۔ “
حنا کی بوکھلائی سی آواز ابھری ۔
نیند سے بوجھل ذہن حنا کی آواز کو پہچاننے کے بعد اب اس کی گھبراہٹ زدہ ابھرتی آواز پر کچھ حواسوں میں آ رہا تھا ۔ فون کو کان سے ہٹا کر سامنے کیا , آنکھوں کو چندھی کیے سکرین پر نگاہ ڈالی , مدھم سی روشن چمکتی سکرین کے دائیں کونے میں رات کے دو بجے کا وقت دکھائ دیا ۔۔۔
” اس۔۔۔۔۔ وقت ۔۔۔ ” خود ساختہ سرگوشی تھی ۔
حنا فون کے دوسری طرف مسلسل اس سے کچھ کہہ رہی تھی ۔ اس نے بھنویں اکٹھی کیے پیشانی پر بل ڈالے حنا کی بات پر غور کرتے ہوئے , خود پر اوڑھا کمبل ایک طرف کیا ۔ لیہ بائیں کروٹ بے خبر سو رہی تھی ۔ وہ اس کے گروہ کی ہی لڑکی تھی جس سے اس کی اچھی بات چیت ہو گئی تھی ۔
” حنا اس وقت ۔۔۔۔؟ خیریت ہے ؟ اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ ” نیند سے بوجھل لہجے میں اس سے تابڑ توڑ سوال پوچھ ڈالے تھے ۔
” جوی ۔۔۔ جوی ۔ چپ ۔۔۔۔ س۔۔۔سوال مت کرو میرے پاس وقت نہ۔۔۔نہیں خاموشی ۔۔۔۔سے سنو ۔۔۔۔ میری بات , وہ اٹھ جائے گا اور فون چھین لے گا ” فون کے دوسری طرف سے آواز ابھری
حنا کا نا صرف لہجہ گھبراہٹ لیے ہوئے تھا بلکہ اس کی پھولی سانس وہ با خوبی محسوس کر سکتی تھی ۔
فون سے بمشکل وہ اس کی گھبرائی اور گھٹی آواز سن پا پا رہی تھی ۔ اپنے حواس بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ اب بیڈ سے نیچے اتر چکی تھی ۔
ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں رکھتے ہی جسم میں ٹھٹھرتی سی لہر دوڑ گئی ۔ چور سی نگاہ چاروں طرف دوڑائی ہر لڑکی بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔
” حنا کو کیا ہوا تھا رات کے اس وقت اس نے فون کیوں کیا تھا اور آج ہی تو بات ہوئی تھی اس سے ” ذہن نا صرف حواسوں میں آ رہا تھا بلکہ آج دوپہر کو اس سے ہوئی بات بھی دہرا رہا تھا ۔
” جوی ۔۔۔ تم بھاگ جاؤ یہاں سے ۔۔۔ خہ۔۔۔خود کو بچا لو پلیز یہاں مت آنا ۔۔۔۔۔ شام کو جو کچھ میں نے کہا تھا سب ۔۔۔سب جھوٹ تھا , وہ میرے سر پر کھڑا تھا ۔۔۔” حنا کی گھٹی سی گھبرائی آواز فون میں سے ابھر رہی تھی ۔
” وہ یہ سب کیا کہہ رہی تھی ۔۔ دوپہر کو جب بات ہوئی تھی وہ بہت خوش تھی ” جوی کی پیشانی پر نا سمجھی کے شکن نمودار ہوئے ۔
” ح۔۔حنا کچھ سمجھ نہیں آ رہا مجھے کھل کر بتاؤ پلیز ” اسی نا سمجھی میں اس سوال کیا ۔
” شش۔ش۔ش۔۔۔۔۔ آہستہ بات کو کرو جوی ۔۔۔ یہاں کچھ بھی ویسا نہیں جیسا تمہیں لگتا ہے , جیسا مجھے لگتا تھا ا۔ا۔ا۔۔۔۔۔ میں یہاں ایک کمرے میں قید رہتی ہوں , وہ ہر شام کچھ مردوں کو لے کر آتا ہے اور مجھے جسم فروشی پر مجبور کرتا ہے ۔۔۔۔ ت۔۔۔تم بھاگ جاؤ یہاں سے کم شکل لڑکیوں کے جسم کے حصے کاٹ کے بیچ دیتے ہیں یہ لوگ ” حنا نے پھولی ہوئی سانس میں بات مکمل کی تھی ۔
حنا کی بات پر اس کی پوری آنکھیں کھل گئی تھیں , جہاں ذہن پوری رفتار سے دوڑنے لگا تھا وہاں ہاتھ کانپ گئے تھے , یہ وہ کس قسم کی بات کر رہی تھی اور کیوں کر رہی تھی ۔
” حنا مہ۔۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں ۔۔۔ آ رہا ۔۔۔۔۔ میری تو کل روانگی ہے ۔۔۔”
لڑکھڑاتی آواز اور لرزتے ہاتھوں سے موبائل کو سنبھالتے ہوئے وضاحت دی لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ حنا ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔ ” اضطرابی کفیت میں بار بار ہیلو کہتی اب وہ لب کچل رہی تھی ۔
فون کو کان سے ہٹا کر سکرین کو دیکھا ۔ دوسری طرف سے کال منقطع ہو چکی تھی ۔ وہ ساکن سی بھنویں سکیڑے حنا کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
بیورلی ہلز میں ایک اور حسین شام اپنے اختتام کو تھی ۔ جیسیکا بیکری کی سرخ اور سفید ڈیبیوں والی وردی میں ملبوس سفید نیپکن اور ٹوپی پہنے بڑی احتیاط سے کیک کو اٹھا رہی تھی۔
” شکریہ کہنے کی عادت نہیں کیا آپکو “
انل کی آواز پر وہ رخ موڑ کر کاؤنٹر کی طرف مڑی ۔ انل بشاشت سے مسکراتا کاؤنٹر پر کہنی ٹکائے ہوئے تھا ۔ اس دن وائن کی رپورٹ میں بے ہوشی کی دوا کے ملے ہونے کی تصدیق ہو گئی تھی ۔
اس دن تو وہ اس خبر پر اتنی ششد ہوئی تھی کہ انل کو لیب میں ہی چھوڑے وہاں سے آ گئی تھی آج دوسرے دن ہی جناب بیکری میں موجود تھے ۔
” میں یہاں کام کرتی ہوں اس کا کیسے پتا چلا تمہیں ؟ “
انل کی بات کا جواب دینے کے بجائے وہ بھنویں اکٹھی کیے خود سوال کر بیٹھی تھی ۔ انل ایک لمحے کے لیے سٹپٹا گیا ۔ کیونکہ اس پر خاص نظر رکھنے کا دران نے اسے کہا تھا کیونکہ دران چاہتا تھا وہ لڑکا دوبارہ سے جیسیکا سے نہ ملے ۔ جیسیکا کے سوال پر بمشکل اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا ۔
” میں نے کب کہا کہ مجھے پتا تھا آپ یہاں کام کرتی ہیں ۔ میں تو یہاں سے گزر رہا تھا ۔ آپکو دیکھا اور سوچا اپنا شکریہ تو وصول کر لوں ۔ “
” شکریہ ۔ “
جیسیکا نے سنجیدگی سے کہا اور کیک کو ڈبے میں رکھ کر پیک کرنے لگی ۔
” یہ شکریہ تو نہیں احسان لگا مجھے ۔ “
انل نے ڈھیٹ پن سے کہا ۔ وہ مصروف نگاہیں جھکائے ہوئی تھی ۔ گھور کر انل کی طرف دیکھا ۔
” میرے خیال میں شکریہ یہی ہوتا ہے ۔ “
چڑ کر جواب دیا ۔
” بہت غلط انداز چلیں خیر شکریہ کہنا نہیں آتا تو ایک کپ کافی پلا کر آپ میرے احسان کا بدلہ اتار سکتی ہیں ۔ “
بڑا بے تکلفی والا انداز تھا ۔
