Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 08)

Basil by Huma Waqas

رات کے ایک بجے بھی شھنگائی کے سٹی ہوٹل اور اس کے مضافات کی عمارتوں میں آنکھوں کو چندھیاں دینے والی زرد سفید اور مختلف رنگ کی روشنیاں جل کر اس آخری چاند کی تاریخ کے پھیلتے اندھیرے کو مات دے رہی تھیں ۔

سٹی ہوٹل کی ساتویں منزل کا یہ حسین کمرہ بھی پوری طرح روشن تھا۔ کرسٹن ڈائیور کی بھینی سی خوشبو کمرے کے ہر کونے سے اٹھ کر ماحول کو مسحور کن کر رہی تھی ۔

دو نفوس کی موجودگی کے باوجود کمرے کی خاموشی میں لیپ ٹاپ کے سپکیر سے اُبھرتی بازگشت کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں تھی ۔ کمرے میں موجود ہلکے مسٹرڈ رنگ کے لیدر کاؤچ پر دران اور کچھ دوری پر موجود صوفے پر انل اپنی سماعتوں کو مکمل طور پر لیپ ٹاپ سے اٹھنے والی بازگشت پر لگائے ہم تن گوش تھے ۔

لیپ ٹاپ کاؤچ کے بلکل سامنے رکھی ہوئی چھوٹی گول میز پر پڑا تھا اور کاؤچ پر درانگ آگے جھکا دونوں بازؤں کی کہنیوں کو ٹانگوں پر ٹکائے اور دائیں ہاتھ کو ٹھوڑی کے نیچے رکھے پرسوچ انداز میں بھنویں سکیڑے لیپ ٹیپ سکرین پر نگاہیں جمائے ہوا تھا ۔

ہلکے گرے رنگ کی شرٹ کا گریبان ٹائی سے آزاد تھا اور سامنے کے دو بٹن کھلے تھے , شرٹ کی آستین کلائی سے اوپر تک مڑی ہوئی تھیں جہاں کلائی کی مضبوط رگیں اب لیپ ٹیپ سے اٹھنے والی بازگشت پر تن کر ابھر رہی تھیں ۔ یہ اسکی ضبط کی نشانی تھی , اس کی رگیں تن جاتی تھیں اور جبڑے ایک دوسرے میں پیوست ہو کر چہرے کی سختی میں اضافہ کر دیتے تھے ۔

انل کی جھوٹی سرپرائز برتھڈے پارٹی پر وہ ہاروی کے کان کے پیچھے گردن پر مائیکرو چِپ لگانے میں کامیاب ہو چکا تھا جس کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ گیم پر گیم کھیلنے کا عادی تھا ۔

وہ دران ملک تھا جس کو سامنے والے کو اُسی کے انداز میں جواب دینے کی عادت تھی ۔ یہ نفرت یہ جلن یہ حسد وہ ان سب میں بڑا ہوا تھا ۔ یہ وہ سب احساسات تھے جن میں پنپ کر وہ اس بلندی پر پہنچا تھا ۔

اب بھی ہاروی اور بروس کے ساتھ انڈسٹری کے بہت سے لوگ اس کی اس کامیابی پر کتنے کینہ توز ہیں یہ وہ باخوبی جانتا تھا ۔ یہ تلخی یہ روکھا پن یہ خالی ویران قہقے اور سمندر سی گہرائی لیے آنکھیں یہ سب سہہ کر یہاں پہنچی تھیں ۔ اسی لیے وہ اُس دن ہاروی کے دعوت دینے پر ہی ٹھٹھک گیا تھا اور اب اس کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا رات کے ایک بجے بروس ہاروی کے کمرے میں موجود تھا اور اب ان دونوں میں ہونے والی گفتگو وہ با آسانی سن رہا تھا ۔

” یہ میڈیسن کام کرے گی کیا ؟ ” ہاروی کا متعجب لہجے میں پوچھا گیا سوال لیپ ٹاپ کے سپیکر میں صاف سنائی دے رہا تھا ۔

یقیناً بروس نے ہاروی کو کوئی میڈیسن دکھائی تھی جس کے بارے میں وہ اس استفسار کر رہا تھا ۔

” ایسی ویسی ۔۔۔ اچھے اچھوں کی بینڈ بج جاتی ہے اس سے تو درانگ کیا چیز ہے ” بروس نے ہلکا سا قہقہ لگا کر کمینگی سے جواب دیا ۔

مطلب وہ دران کو پارٹی میں کوئی میڈیسن کھلانے والے تھے ۔ انل نے ایک دم سے ہڑبڑا کر دران کی طرف دیکھا جو تاہنوز اسی طرح سر جھکا ئے سب سن رہا تھا ہاں بس اب ہاتھ کی مضبوط انگلیاں ٹھوڑی سہلا رہی تھیں ۔

” کیسے دیں گے یہ دران کو ؟ ” ہاروی اب بروس سے اگلا سوال پوچھ رہا تھا

” اس کے فیورٹ مشروب میں ملا کر سافٹ ڈرنک لیتے ہیں نہ جناب , دی درانگ ۔۔۔ سائن آف پاور , ٹارن دا اینمیز , نیور ایور ڈرنک دا وسکی , وائن اینڈ رَم ( درانگ , طاقت کا نشان , دشمنوں کو پھاڑ دینے والا , کبھی بھی وسکی , وائن یا رم نہیں پیتا ) ” بروس کا لہجہ مسخرگی لیے ہوا تھا ۔

وہ اپنی ہی بات کے بعد خود ہی لطف اندوز ہوتا قہقہ لگا رہا تھا ۔

” ہوں ” ہاروی نے ہنکارا بھرا

” دیکھتے ہیں کہ تمھاری یہ میڈیسن درانگ کی کیا حالت کرتی ہے؟ ” ہاروی نے پرسوچ لہجہ میں کہا

یہ سب سن کر انل کی ناک اب غصے میں پھول رہی تھی , جب کہ دران اسی حالت میں ٹکٹکی باندھے بیٹھا تھا۔ البتہ چہرے کا سپاٹ پن اب مزید بڑھ گیا تھا ۔

” یہ میڈیسن کھائی ہو اور پھر ساتھ میں لیسا جیسی تباہی ہو , پریشان نہیں ہو درانگ دی پاور کی درگت بننے جا رہی ہے ” بروس چہک رہا تھا ۔

” تباہی وہ بھی لیسا جیسی ۔۔۔ لیسا کا ہی کہا ہے نا شیون کو؟ ” ہاروی نے متجسس لہجے میں بات پر زور دیتے ہوئے پوچھا

” ہاں سب سیٹ ہو چکا ہے سب فائنل ہے , لیسا وقت پر مینگولے پہنچ جائے گی ” بروس اسے لڑکی کے بارے میں معلومات دے رہا تھا جس کو وہ شائد دران کو پھنسانے کے لیے اس رات بلوا رہے تھے ۔

” درانگ کے کمرے میں کیمرے نصب کروا دیے ہیں بیڈ کا ویو ہے ” بروس اب ہاروی کو مزید معلومات دے رہا تھا ۔

انل بار بار دران کے چہرے کے تاثرات پر جانچتی نگاہ اٹھا رہا تھا ۔ جو اسی طرح پرسوچ بیٹھا تھا ۔

” یس اور اب تو سب انتظار میں ہیں سٹیفن , کیلوین سب پیسہ لگا چکے ہیں , ہمارے ساتھ کام کا پنگا اور نخرہ درانگ کو مہنگا پڑ جائے گا ” ہاروی نے مزے سے بروس کے ٹھٹھے میں اس کا ساتھ دیا

” ایک دفعہ , بس ایک دفعہ اس ایٹی چیوڈ پاور مین کا یہ بھرم چکنا چور ہو جائے , پھر دیکھنا کس منہ سے یہ فلم سے مناظر تلف کروائے گا ” بروس کی دانت پیسنے جیسی آواز تھی ۔

دونوں کا مشترکہ بے باک قہقہ گونجا , دران نے بازو کو جھٹکا اور آبرؤ اچکائے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی , سوئیاں رات کا سوا ایک بجا رہی تھیں ۔

” چل رات بہت ہو رہی ہے میں چلتا ہوں گڈ نائٹ ” بروس اب ہاروی سے اجازت طلب کر رہا تھا۔

دران سیدھا ہوا اور ہاتھ بڑھا کر لیپ ٹاپ کو بند کر دیا , دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے سر کی پشت کے پیچھے کیا اور کاؤچ کی پشت سے سر ٹکایا , کندھوں کے پھیلتے ہی کسرتی بازو اور واضح ہو رہے تھے , لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ آنکھوں کی چمک کے ساتھ ساتھ گہری ہو رہی تھی ۔ جبکہ انل اس کے برعکس سر تھام چکا تھا

” اوہ ۔۔۔ جیزیز!!!!! ۔۔۔ یہ سب کرنے والے ہیں تمھارے ساتھ اور سب کے سب ملے ہوئے ہیں کمینے , اور ہم نہیں جائیں گے تو منہ کی کھانی پڑے گی ان سب کو ” انل نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں اور پھر اپنا خیال ظاہر کیا

دران کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر موجود طمانت میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آیا تھا ۔ وہ اب کاؤچ کے ہتھے پر بازؤ پھیلائے دوسرے ہاتھ میں پکڑے اپنے موبائل کی سکرین کو اوپری رُخ گھما رہا تھا ۔ آنکھوں کی پتلیوں میں سکرین کی بدلتے عکس واضح ہورہے تھے ۔

” انل میرا وَلیم بِس پوک سوٹ ریڈی کروانا کل شام کے لیے ” مگن سے لہجے میں حکم صادر کیا

انل نے چونک کر دیکھا , ہونق ہوتے چہرے پر حیرت واضح تھی ۔

” دران ۔ن۔ن۔ن تم پاگل ہو کیا ؟ “

وہ اسی طرح حیران سا مکمل طور پر اس کی طرف گھوم گیا جو تسلی آمیز لہجے میں اسے حکم صادر کر چکا تھا ۔

” اور ہاں ۔۔۔ سرچ کر لینا , تم کیسے کنٹرول کرو گے خود کو اس میڈیسن کے بعد کیونکہ بروس کہہ رہا ہے بینڈ بج جاتی ہے, تو بج جاتی ہو گی ” سپاٹ لہجے میں اگلا حکم صادر کیا

نگاہیں ہنوز موبائل سکرین پر جمی تھیں , یکا یک انل کی گردن گدی سے آگے ہوئی

” واٹ!!!!!!”

آنکھیں حیرت سے پھیلی بھنوں سے مزید جگہ گھیر رہی تھیں , مطلب وہ سب سوچ بھی چکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے

” دران ۔۔۔ یہ کیسا مزاق ہے , کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ وہ میڈیسن والا مشروب میں پیوں گا ؟ ” انل نے سینے پر ہاتھ رکھے ایسے استفسار کیا جیسے اس کی کہی بات پر یقین نا ہو

” ہاں میرا وہ مشروب کا گلاس تم پیو گے چینج کرنے ہوں گے گلاس ہمیں ان سے چھپا کر , کیسے وہ میں بتاؤں گا تمہیں ” ایک لمحہ کے لیے سر اوپر اٹھائے اس کی بات کی تصدیق کی

انل کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا جبکہ دوسری طرف نا تو اطمینان میں کوئی کمی تھی اور نا ارادوں میں کسی قسم کی کوئی لغزش تھی ۔

” دران پتا نہیں کیسی میڈیسن ہو گی کیا اثر ہو گا میں ۔۔۔ “

انل کے مضطرب سے لہجے میں اب دران کی بات پر غصہ بھی صاف ظاہر ہو رہا تھا ۔

” تم ورجن ہو ؟ ” خفیف قہقے کے ساتھ سوال کیا

انل سٹپٹا گیا

” شٹ اپ “

فوراً دانت پیسے جبکہ وہ اب موبائل میز پر رکھنے کے بعد زیر لب مسکرا رہا تھا۔ موبائل کو رکھتے ہی سگریٹ کیس اٹھایا ۔

” ظالم کہیں کا , اور اس کو میری ورجن ہونے پر شک ہے کیا ؟ ” انل نے آبرو اچکائے خود سے سوال کیا

” دران میں وہ نہیں پیوں گا ” خفگی سے گھورتے ہوئے مشروب پینے سے صاف انکار کیا

” ٹھیک ہے پھر مجھے پینا پڑے گا , تیار رہنا پھر میرا لیسا دی تباہی کے ساتھ ۔۔۔ ” بڑے تحمل سے جواب دیا

” نہیں تم بھی نہیں پیو گے ۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوتا ہو گا اس کو پینے کے بعد , میڈیسن کا نام نہیں لیا انھوں نے جو میں سرچ کرتا پھروں ” انل کے لہجے اور چہرے پر پریشانی یکساں عیاں تھی

” بے قابو ہو جاتا مرد اور اس زیادہ کیا ہو گا ” دران نے کندھے اچکا کر متوازن لہجے میں جواب دیا

لائٹر اب اس کے ہونٹوں میں دبی سگریٹ کو شعلہ دے رہا تھا ۔ انل چڑ کر سر ہوا میں مارتے ہوئے اسے فقط گھور گیا

” دران اس کا آسان حل جب یہ ہے کہ ہم وہاں نہیں جائیں گے تو پھر ۔۔۔ ہم مشکل میں کیوں گُھس رہے ہیں “

انل تیزی سے تین ڈگ بھرتا اب اس کے سر پر کھڑا تھا , جو مزے سے کاؤچ کی پشت سے سر ٹکائے اب دھواں ہوا میں چھوڑ رہا تھا ۔

” ہاروی کے منہ پر مارتے ہیں فلم اور مجھے انتہا کا افسوس ہے کہ میں نے تمھاری منتیں کی تھیں کہ تم یہ فلم کرو گے ” انل نے تاسف بھرے لہجے میں کہتے ہوئے پیشانی سہلائی

” اور مجھے خوشی ہو رہی ہے ” لبوں کو گولائی کی شکل میں کرتے ہوئے دھویں کے مرغولے کو ہوا میں چھوڑا

انل نے تاسف بھری سانس خارج کی , کوئی فائد نہیں تھا وہ ٹھان چکا تھا سب اور اب سامنے خلا میں نگاہیں مرکوز کیے پرعزم لہجے میں کہہ رہا تھا ۔

” جب دشمن خفیہ چالیں چل رہا ہو تو اسے اس کی ہی ٹکر سے جواب دینا چاہیے , کھلے عام نہیں “

وہ سوچ چکا تھا اسے ان کی جلائی آگ میں کود کر ہی ان کو مات دینی ہے اور ویسے بھی وہ اپنی بہت سی باتوں کے ساتھ اس سوچ بھانپ لینے والی خاصیت کو سب سے پوشیدہ ہی رکھتا تھا ۔

یہ دنیا ایسی ہی ہے اس نے زندگی کے ہر قدم پر ٹانگیں کھینچنے والے دیکھے تھے ۔ ایک دوڑ ہے یہ زندگی جہاں ہر ہر جگہ میں آپکو ایسے لوگ ملیں گے جو حسد کی آگ میں جلیں گے آپ کو مات دینے کے لیے ہر حد سے گزرنے کو تیار ہوں گے ۔ اور دران ملک کے لیے یہ سب انوکھا نہیں تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

کراچی کے سمندر کی موجیں اس شہر کی بہت سی اذیتوں , ناانصافیوں اور انسانوں کے روپ میں چھپے بہت سے بھیڑیوں کے ظلم سے بے خبر ساحل سے ٹکرا کر واپس جا رہی تھیں ۔

یہ مدرسہ ریاض الجنت کا صحن تھا جہاں اس وقت بہت سے دس سے چودہ سالہ بچے عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد اب ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں داخل ہو رہے تھے ۔ کمرے میں قطار در قطار چٹائیاں بچھی تھیں ۔ ایک طرف لگی الماری میں انگنت قرآن پاک اوپر نیچے رکھے ہوئے تھے ۔ یہاں اب رات کو ایک دفعہ سب قرآن پاک حفظ کرنے والے طلبہ کو سبق کی دہرائی کرنے کے بعد سونے جانا تھا ۔

یہ وہ بچے تھے جو قرآن کو حفظ کرنے کے لیے مدرسے میں ہی رہائش رکھتے تھے ۔ یہاں بچوں کی طرح بہت سے استادوں کو بھی مدرسے میں رہائش دی گئی تھی ۔

تمام بچے قمیض شلوار میں ملبوس پائنچوں کو ٹخنوں سے اوپر کیے سروں پر کروشیے سے بنی سفید ٹوپی پہنے اب زمین پر بچھی چٹائیایوں پر قطار در قطار بیٹھ رہے تھے ۔

قرآن پاک کو ریل پر سجائے آگے پیچھے جھولتے بچے قاری کے آنے سے پہلے سبق کی زور شور سے تلاوت کی صورت میں دہرائی کر رہے تھے ۔

انہی بچوں میں دس سالہ دران ملک بھی موجود تھا جو مٹیلے رنگ کے پتلے سے قمیض شلوار ملبوس یہاں بیٹھے تمام بچوں کی طرح آگے پیچھے جھول نہیں رہا تھا ۔ بس آنکھیں بند کیے تلاوت میں مگن تھا ۔ وہ اب پہلے کی نسبت دبلا ہو گیا تھا ۔ چہرے پر اب بھی بے تحاشہ سنجیدگی تھی ۔

دستگیر بیگم نے پانچویں کلاس کے بعد اسے اسکول کی تعلیم دینے کے بجائے قرآن پاک کا حافظ بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس فیصلے پر سب ہی خوش ہوئے تھے کیونکہ اب سب کی زندگیاں حرام کرنے والا دران صرف ہفتے بعد ہی گھر میں نظر آتا تھا ۔

ہاں البتہ جب کبھی کوئی سودا سلف لانے اور کام کرنے میں برھان اور فائقہ سب بڑوں کو دو ٹوک جواب دے دیتے تب انہیں دران شدت سے یاد آتا تھا کیونکہ دران کی حیثیت اس گھر میں ایک اضافی نا پسندیدہ فرد کی طرح تھی۔ اس لیے ملک ہاؤس میں یاور اور اسفند کے علاوہ ہر شخص اسے اپنا زر خرید غلام ہی سمجھتا تھا۔ ملک ہاؤس کی سربراہی دستگیر بیگم کے ہاتھ میں تھی اور وہ جو بھی فیصلہ کرتی تھیں اسفند اور یاور کی ان کے سامنے کچھ نہیں چلتی تھی ۔

دران تو محض دس سال کی عمر میں بھی سارا دن گھر کے مختلف کاموں میں پسا جاتا تھا , نکڑ کی دوکان کے چاہے چار سو چکر لگانے ہوں وہ دران ہی لگاتا تھا , کسی کو پانی کا گلاس بھر کر دینا , دستگیر بیگم کی چھڑی پکڑا کر ان کو بستر سے اٹھانا , بیٹھے بیٹھے ہر بندے کو پانی کا گلاس پلانا , رات کو اپنے سکول کے جوتوں کے ساتھ برھان اور فائقہ کے جوتے پالش کرنا , ہر دفعہ گھنٹی پر دروازہ کھولنے جانا , یاور کے چھوٹے بیٹے راہب کو جھولا دینا , یاور کی بیٹی سبرینا کو گود میں اٹھائے پھرنا ۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اپنے اردگرد کی دنیا ایسی ہی دیکھی تھی۔ جس میں صبح سے گئے رات کو واپس آنے والے یاور اور اسفند ملک کے علاوہ کسی فرد کی آنکھ میں اس کے لیے انسیت نہیں تھی ۔

جب جس وقت بھی جس کا بھی دل چاہتا وہ اسے اس کی غلطی پر تھپڑ اور گھونسا جڑ دیتا تھا۔ جب وہ زیادہ چھوٹا تھا تو وہ برھان اور فائقہ کو مار کر اپنا غصہ نکال لیتا تھا مگر اب وہ ان کی جگہ چھت کی دیواروں پر گھونسے مارتا تھا ۔

وہ روتا نہیں تھا جب بھی کوئی اسے اذیت دیتا وہ خود کو اذیت دیتا تھا ۔ وہ چھت پر جا کر دیواروں کو گھونسے اور ٹانگیں مارتا تھا اور متواتر اس وقت تک مارتا رہتا تھا ۔ جب تک اسے تکلیف کا احساس نہیں ہونے لگتا تھا ۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تکلیف کا احساس کم ہوتا جا رہا تھا , گال پر پڑنے والے تھپڑ کی تو اسے اب جلن تک نہیں ہوتی تھی ۔

اسے شروع سے سرکاری اسکول میں پڑھایا گیا تھا مگر وہ وہاں بھی اپنی کارکردگی میں اپنا آپ ثابت کر چکا تھا۔ پانچویں جماعت تک وہ ہر جماعت میں اول آیا تھا مگر پانچویں جماعت کے فوراً بعد دستگیر بیگم نے حکم جاری کر دیا تھا کہ وہ اب قرآن حفظ کرے گا۔ انہیں دران کے خون سے اب بھی یہودیت کی بو آتی رہتی تھی اور انہوں نے حکم صادر کیا تھا وہ قرآن حفظ کرے گا تو ہی وہ اس پر سے فرنگی ہونے کا لیبل ہٹائیں گی ۔ اور ہر بار کی طرح وہ ایک ربورٹ کی مانند سر جھکائے اس مدرسے میں آ گیا تھا ۔

مدرسے کے ہال میں بچوں کے پڑھنے کا شور یکایک سے بڑھا تھا کیونکہ قاری اب ہال میں آ چکا تھا ۔ سفید رنگ کے گول گھیرے والے قمیض شلوار میں ملببوس کندھے پر صافہ رکھے وہ کوئی تیس سالہ اس مدرسے کا پرانا قاری تھا ۔ یہ رات کو سبق کی دہرائی کروانے والا قاری تھا ۔ کیونکہ اس کی رہائش مدرسے کے ہاسٹل نما ہجرے میں ہی تھی ۔ اس جیسے بہت سے دور دراز گاؤں سے آئے قاری مسجد کے ہجروں میں مقیم تھے جو بچوں کو قرآن حفظ کروانے کی تعلیم دیتے تھے ۔

یہاں اس مدرسے میں آئے اسے پندرہواں دن تھا اور وہ پہلے دن سے ہی رات والے قاری کی عجیب نگاہوں کو بھانپ گیا تھا ۔ منفی سوچ اور اس کی محسوسات وہ بہت جلد جانچنے لگا تھا ۔ قاری اسے بہت غور سے اور عجیب نگاہوں سے دیکھتا تھا اگرچہ وہ یہاں موجود تمام بچوں میں نمایاں تھا کیونکہ اس کی صورت میں یہ مغربی حسن کا ملاپ اسے ہر جگہ سب سے منفرد بنا دیتا تھا مگر قاری کے ذہن میں اس کو لے کر پنپتے گندے عزائم اس کے چھوٹے سے ذہن کو سمجھ تو نہیں آتے تھے لیکن اسے یہ پتا چل رہا تھا اسے ان سے خطرہ ہو سکتا ہے ۔

آج یہ منفی لہریں بہت عجیب طرح سے اثر انداز ہو رہی تھیں اور بلکل وہی ہوا جس کے بارے میں اس کی چھٹی حس اسے پہلے سے آگاہ کر رہی تھی ۔ بعض اوقات آپ کی زندگی کی تلخ تجربے آپ کی عمر سے زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بھی انہی میں سے ایک تھا جس نے دس سال کی عمر میں ہی انسانوں کے ایسے روپ دیکھے تھے جو شائد بہت سے لوگ عمر کے وسط میں جا کر دیکھتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی عام بچوں کی نسبت اس کی چھٹی حس بہت تیز تھی

قاری نے مسوائے اس کے باقی سب لڑکوں کا سبق سنا تھا اور پاس بیٹھے لڑکے کو کچھ کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھ گیا ۔ وہ لڑکا قاری کی بات سن کر سیدھا دران کے پاس آیا تھا ۔

” دران قاری صاحب تمہیں اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں تمھارا سبق ادھر ہی سنیں گے قرآن پاک لے کر چلے جاؤ ” پندرہ سالہ لڑکا اسے حکم صادر کرنے کے بعد اپنا قرآن پاک تھامے الماری کی طرف بڑھ گیا تھا۔

دران اپنی جگہ سے اٹھا اور قرآن کو وہیں قرآن کی ریل میں رکھتے ہوئے ہال میں موجود بڑی سی لکڑی کی الماری کی طرف بڑھ گیا جہاں اس کو ایک خانہ دیا گیا تھا جسے باہر کی طرف تالا لگتا تھا۔ اس میں اس کی تمام چیزیں تھیں جن میں وہ بہت سی عجیب چیزیں بھی ساتھ لایا تھا جن کو وہ اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔

ایک چھوٹا سا مردانہ ریزر کا بلیڈ , چھوٹی قینچی , ایک چین اسے ایسی چیزیں جمع کرنے کی عادت تھی ۔ اس نے ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں الماری کے خانے کا تالا کھولا اور چھوٹے بلیڈ کو اپنی دو انگلیوں کے بیچ میں دبا لیا ۔ واپس آیا اور قرآن پاک کو سینے سے لگا کر قاری کے ہجرے کی طرف چل دیا ۔

اس ہال میں سے نکل کر بڑا سا صحن تھا اور صحن سے پیچھے کھلنے والے دروازے میں مدرسے کا ہاسٹل تھا جہاں بہت سے کمرے تھے اور یہیں پر استادوں کے ہجرے تھے ۔

وہ اب قاری کے ہجرے کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا جہاں دروازے کے آگے سفید رنگ کا ململ کا پردہ اندر چلتے پنکھے کی ہوا سے ہل رہا تھا ۔

اس نے ہاتھ کی انگلیوں کو ہلکی سی جنبش دی اور بلیڈ انگلی کی پوروں میں جکڑا گیا ۔ ایک ہاتھ سے پردہ ہٹا کر وہ ہجرے میں داخل ہوا سامنے نظر قاری پر پڑی جو اس چھوٹے سے کمرے میں موجود ایک چارپائی پر لیٹا ہوا تھا اور دوسری چارپائی خالی تھی جہاں دوسرا قاری آج شائد چھٹی پر تھا ۔

” کیسا ہے دران ۔۔۔ آجا آجا ڈر مت ” قاری نے پچکارتے ہوئے مٹھاس بھرے لہجے میں کہا اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔

دران نے سر جھکائے قدم آگے بڑھائے اور چارپائی کے پاس آ کر قدم روک دیے ۔

” میری ٹانگیں دبا دے پہلے پھر تیرا سبق سنتا ہوں قرآن پاک وہاں میز پر رکھ کر آ جا ” قاری کی آنکھیں اب اس کے چہرے پر گھوم رہی تھیں ۔

دران خاموشی سے آگے بڑھا اور کچھ دور رکھی میز پر آہستگی سے قرآن پاک رکھ کر واپس مڑا ۔ اللہ کی کتاب پڑھانے والے کے دل میں شیطان ایسا گھیرا ڈال کر بیٹھا تھا کہ اسے اس مقدس کتاب کو اپنے سامنے میز پر رکھواتے ہوئے بھی ایک لمحے کے لیے خوف نہیں آیا تھا ۔

” آجا کھڑا کیوں ہے آجا میرے پاس ” قاری نے خباثت سے دانت نکالتے ہوئے کہا

دران نے ایک نگاہ قرآن پر ڈالی آنکھیں بند کیں اور پھر کھولیں اور قدم آگے بڑھا دیے ۔ قاری کے چہرے پر موجود شیطانیت اور بدلتی نیت اس کے ننھے ذہن کو جھنجوڑ رہی تھی ۔ جیسے ہی وہ قاری کی چارپائی کے قریب پہنچا قاری نے اس کا بازو تھام کر ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا ۔ دران کی نگاہ اب بھی قرآن پاک پر تھی جس کا غلاف پنکھے کی ہوا سے ہل رہا تھا ۔

” ایسے بیٹھ جا میرے گود میں ” قاری کے لہجے کی خباثت اور اس کے منہ سے اٹھتی نسوار کی بدبو اس کی ناک کے نتھنوں میں گھس کر اس کے اعصاب کو چوکنا کر چکی تھی ۔ وہ اسے اپنی گود میں جکڑ رہا تھا ۔

وہ نہیں جانتا تھا قاری اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے , ہاں لیکن دماغ بار بار اسے اشارے دے رہا تھا ۔ اور اس کا دماغ کبھی بھی اس سے جھوٹ نہیں بولتا تھا قاری کی حرکات اس کے ساتھ اچھی نہیں تھیں ۔

” چھوڑو مجھے ” سپاٹ مگر سخت لہجے میں رعب سے کہا ۔

قاری جو حواس کھوئے شیطان کا روپ دھار چکا تھا ۔ اس کے یوں سخت لہجے میں کہنے پر اور جوش میں آ گیا۔

” چپ کر نہیں تو کل سارا دن ایک ٹانگ پر کھڑا رکھوں گا سمجھا چپ جو کر رہا ہوں کرنے دے یہ کپڑا ڈال منہ کے اندر ” قاری کا لہجہ شیطانیت کے نشے میں ڈوب گیا تھا ۔

وہ اب پاس پڑے اپنے صافے کو زبردستی دران کے منہ کے اندر ٹھونس رہا تھا۔ دران نے کہنی اس کے سینے میں مارتے ہوئے ہاتھ کو ایک جھٹکا دیا تھا اور انگوٹھے اور انگشت انگلی میں پھنسا بلیڈ رخ موڑتے ہی قاری کی گردن پر اس تیزی سے پھیرا کہ وہ بلبلا اٹھا ۔ جیسے ہی اس کے ہاتھوں کی گرفت کم ہوئی دران تیزی سے اس سے دور ہوا

” اوہ نامراد ۔۔۔۔۔ ” تڑپ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔

گردن پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تو خون سے لتھ پتھ تھا خوف سے اس کی ٹانگیں کانپ گئیں دران نے آگے بڑھ کر قرآن کو اٹھایا سینے سے لگایا اور کمرے کے دروازے کی طرف دوڑ لگا دی ۔ کنڈی کو برق رفتاری سے کھولا اور مدرسے کے بیرونی گیٹ کی طرف دوڑ لگا دی ۔

” پکڑو اس خبیث کو میرا گلا کاٹ دیا اس نے ” قاری کی وحشت ناک آواز کمرے میں اور مدرسے کے برانڈے میں گونج رہی تھی ۔

اس کے بھاگتے قدم ساری آوازوں کو , چیخوں کو اور اپنے عقب میں بھاگتے قدموں کو پیچھے چھوڑ رہی تھیں ۔ وہ بہت تیز بھاگ رہا تھا بہت تیز , قرآن کو ایک ہاتھ سے سینے سے لگائے اس کی سانسیں اتھل پتھل تھیں ۔ وہ ایک سکینڈ کے لیے رکا نہیں تھا اور اتنی رفتار سے بھاگا تھا کہ کسی کے ہاتھ نہیں آیا تھا , مدرسے کی دروازے سے نکل کر سنسان گلی میں اور پھر سڑک پر دوڑتی بھاگتی ٹریفک میں وہ اندھا دھند بھاگ رہا تھا ۔

سینہ دھک دھک کر رہا تھا اور اب عجیب سی گرمی کا احساس دلا رہا تھا ۔ کوئی اس کو تھپک رہا تھا ۔ قرآن گرم ہو رہا تھا ۔

☆☆☆☆

کھائی بہت گہری تھی جس میں بہت سے سانپ اور بچھو رینگ رہے تھے ۔ اس کی ٹانگیں کھائی میں لٹک رہی تھیں اور ہاتھوں نے کنارے کے پتھروں کو بمشکل تھام رکھا تھا ۔

” بچاؤ ۔۔۔۔ کوئی ہے ۔۔۔۔بچاؤ مجھے ” وہ گھٹی سی آواز میں چیخ رہی تھی لیکن جتنا اونچا چیخنا چاہتی تھی ویسا چیخ نہیں پا رہی تھی آواز گھٹ رہی تھی گلا خشک تھا ۔

بار بار وہ سر جھکا کر کھائی کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں انگنت سانپ اپنے پھن پھلا کر اس کے گرنے کے انتظار میں تھے ۔ اچانک کسی ہاتھ کی گرفت اسے اپنے ہاتھ پر محسوس ہوئی ۔ اس نے چہرہ اوپر کیا کوئی سیاہ ہڈ پہنے ہوئے تھا اس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔

اور پھر اس ہڈ میں ملبوس انسان نے ایک جھٹکا لگا کر اسے اوپر کھینچ لیا ۔ جیسے ہی وہ اوپر پہنچی تو اپنے بچانے والے اس محسن کے ساتھ بے ساختہ لپٹ گئی ۔ جسم اور دل ایک ساتھ کانپ رہے تھے ۔ وہ ساکن کھڑا تھا ۔ اس کا جسم کسی پتھر کی طرح مضبوط تھا اور سینہ چوڑا تھا ۔ جوی نے اپنے اندر سکون اترتا محسوس کیا ۔ اچانک چیخیں ابھرنے لگیں نسوانی چیخیں ۔۔۔

چیخوں کی بھیانک آواز پر اس کی آنکھ کھلی ۔ وہ بوسیدہ سے پلنگ پر بوسیدہ چادر پر لیٹی تھی ۔ سٹپٹا کر اٹھ بیٹھی اور اٹھتے ہی دل سے ٹیس اٹھی کاش خواب حقیقت اور یہ حقیقت خواب ہوتا ۔ وہ وہیں تھی بلیک مارکیٹ میں اور آج چوتھا دن تھا یہاں ۔

آج پھر کسی لڑکی کو کوڑے پڑ رہے تھے اور شائد وہ کمرہ ان کے کمرے کے قریب تھا اس لیے لڑکی کی دردناک آوازیں اسے یہاں بھی سنائی دے رہی تھیں ۔

ساری لڑکیاں چہرے گھٹنوں میں دے کر بیٹھی تھیں ۔ بس ایک وہ تھی جو یوں ہونقوں کی طرح نیند سے اٹھ کر بیٹھی تھی ۔ اچانک بہت سے قدموں کی چاپ ان کے کمرے کی طرف سنائی دی ۔

شیون تین لڑکوں کے ساتھ تھا ان کے کمرے کے سامنے گزرتے ہوئے اچانک اس پر نگاہ پڑنے پر تھم گیا , آنکھوں کو سکوڑ کر اسے دیکھا ۔

” رک ۔۔۔ لاک کھول اس کمرے کا ” اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کو اس نے ہاتھ کے اشارے سے حکم صادر کیا

جوی کا جسم کانپ گیا ۔ اب احساس ہوا گھٹنوں میں چہرہ نہ دے کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ۔ جیسے ہی دروازہ کھلا شیون خباثت سے اسے جانچتا ہوا اس کے قریب آیا ۔

” یہ چاہیے مجھے آج رات میرے فلیٹ پر کچھ کلائینٹ آ رہے ہیں ۔ اس کو ایک دم چمکا کر پیش کرنا ہے ان کے سامنے ” شیون نے قریب ہو کر ایک جھٹکے سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا تھا ۔

وہ تڑپ کر اوپر ہوئی ۔ اس کے انگوٹھے گالوں کے دونوں اطراف میں پیوست ہونے کی جان لیوا تکلیف تھی ۔ اور پھر اس نے ایک جھٹکے سے چھوڑا اور باہر نکل گئے

وہ لوگ اب تیز تیز وہاں سے نکل گئے تھے جوی نے تڑپ کر تمنا کی طرف دیکھا ۔

” یہ ۔۔۔ کیا کہہ رہا تھا؟ ” آواز کانپ رہی تھی

” تمہیں آج رات لے جا رہے ہیں ” تمنا نے آہستگی سے جواب دیا اور سر جھکا دیا

باقی دونوں لڑکیاں بھی ترس کھاتی نگاہوں اسے دیکھ رہی تھیں جوی ایک دم سے غش کھانے جیسی کیفیت میں آ گئی تھی سانپ بچھو جسم پر رینگتے محسوس ہو رہے تھے ۔

تمنا اس کی طرف بڑھی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

” پہلی دفعہ ہے ؟۔” تمنا نے کان کے قریب ہو کر آہستگی سے پوچھا

جوی نے پھٹی آنکھوں سے سر اثبات میں ہلایا

” اوہ اللہ ۔۔۔۔ ” بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا اور پھر اس نے جوی کو خود سے بھینچ لیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *