Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 10)

Basil by Huma Waqas

موسیقی کے مدھر سے جلترنگ منگیولے کے اس رنگین ماحول کو افسوں زدہ بنا رہے تھے ۔ خفیف سی باتوں کی مختلف زبانوں میں بازگشت اردگرد سے ابھر رہی تھی , کھنکتے قہقے , اور مشروب اور شراب کے گلاسوں کے بجنے کی آوازیں اس کشادہ لان کے ہر کونے سے ابھر رہی تھی ۔ مختلف صحافی اور کیمرہ مین اردگرد کے بہت سے مناظر کو قید کر رہے تھے ۔

دران کے یہاں پہنچتے ہی بروس چوکنا ہو چکا تھا ۔ ہاروی سب اس پر چھوڑ کر ایک طرف ہو چکا تھا ۔ درانگ کی لائیو ویڈیو ایک ساتھ بہت جگہ چلانے کا ایک مضبوط منصوبہ تیار کر لیا گیا تھا ۔ بروس کو اب دران کو مشروب پلانا تھا ۔

بار کے کاوئنٹر پر کہنی ٹکائے وہ کن اکھیوں سے لان کے ایک کونے میں کھڑے دران اور انل کو جانچ رہا تھا جو باتوں میں مگن تھا ۔ ایک کمینی سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا گھیراؤ کیا ۔ کاوئنٹر پر اس کی انگلیوں کے پور دھیرے دھیرے بج رہے تھے جن میں اس کھیل کی شروعات میں ہی فتح یابی جیسا رقص تھا ۔

” سر سافٹ ڈرنک “

کاوئنٹر کے دوسری طرف موجود لڑکے نے مشروب کے دو گلاس کاؤنٹر پر رکھ کر آہستگی سے آگے سرکائے ۔ گلاسوں میں موجود شربتی رنگ کا مشروب گلاس کے کناروں سے ٹکرا کر لہریں بنا گیا تھا ۔

بروس نے ایک زہریلی مسکان لبوں پر سجائی۔ ہاتھ اوپر اٹھایا اور مٹھی میں دبائی دو گولیاں انگلیوں کو آہستگی سے کھولتے ہوئے دائیں گلاس میں گرا دیں۔ گلاس کو بڑی نرماہٹ کے ساتھ اٹھایا اور دھیرے سے ہوا میں دائرہ بناتے ہوئے گھمایا ۔

گولیوں کے گرتے ہی مشروب میں اُبال آیا اور پھر بلبلوں کی صورت بیٹھنے لگا ۔ گولیوں کو مشروب میں گھلنے میں چند سکینڈ لگے تھے اور اس کے بعد دونوں گلاسوں میں موجود مشروب ایک جیسا دکھائی دینے لگا تھا ۔

” ہے۔ے۔ے۔ کم ” بروس نے ہاتھ کے اشارے سے خالی ٹرے تھامے کاؤنٹر پر کھڑے ویٹر کو بلایا ۔

ویٹر مؤدب انداز میں ٹرے تھامے پاس آیا ۔ بروس نے دونوں گلاسوں کو بہت احتیاط سے اسی ترتیب کے ساتھ ٹرے پر سجایا ۔ سر کو ہلکا سا خم دے کر لڑکے کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا ۔

کچھ دیر میں ہی وہ , ویٹر اور ٹرے میں سجے مشروب کے دو گلاس سمیت دران کے سامنے تھا ۔ نظر بھر کر اس کے خوبرو سراپے کو دیکھا ۔ بالوں کو سلیقے سے جل سے پیچھے کے رُخ سیٹ کیے وہ آج مختلف مگر سحر کن شخصیت کا مالک لگ رہا تھا ۔

” ہے۔۔۔ے۔ے۔ درانگ ” بروس نے خوشگوار لہجے میں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے خیر مقدم کیا۔

دران نے ایک لمحے کو اس کے بڑھے ہاتھ اور خوشگوار انداز کو دیکھا اور پھر سنجیدگی سے جیب میں ڈالا ہاتھ نکالا اور اس کے ہاتھ کو تھام لیا ۔ وہ تو بہت پرجوش دکھائی دے رہا تھا ہاتھ کو پکڑ کر زور سے ہلاتے ہوئے وہ چمکتی آنکھیں دران کی گہری آنکھوں میں گاڑے مسکرا رہا تھا ۔

” بہت دیر سے آئے آنکھیں منتظر تھیں تمھاری ” چہکتے ہوئے جھوٹی محبت جگائی

” میں وقت پر پہنچنے کا عادی ہوں آپ نے انتظار وقت سے پہلے شروع کر دیا ہو گا ” ٹھہرے لہجہ میں جواب دیا

لبوں پر وہی معنی خیز مسکراہٹ تھی جو دوسرے کی سوچ کو جانچ کر سچ ثابت ہونے پر مزین ہوتی تھی ۔ بروس خجل ہوا پھر آدھے جسم کو ہلکا سا خم دیے پاس کھڑے ویٹر کی طرف مڑا ۔ وہ جانتا تھا دران کے گلاس کو وہ ٹرے کے وسط میں اور انل کے گلاس کو کنارے پر رکھ کر لایا تھا اس نے اسی ترتیب کو ذہن نشین رکھتے ہوئے دران کے گلاس کو اٹھایا۔

” سافٹ ڈرنک ۔۔۔۔ “

بروس نے مسکراتے ہوئے گلاس دران کی طرف بڑھایا ۔ دران نے ایک لمحے کو گلاس پر نگاہ جمائی پھر پراعتماد انداز میں گلاس تھام لیا ۔

بروس اب انل کی طرف گلاس بڑھا رہا تھا انل نے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر ہلکی سی جنبش کی اور موبائل جیب میں رکھا ۔ جاندار مسکراہٹ سجائے بروس کے ہاتھ سے گلاس تھام لیا ۔

ایک ۔ دو ۔۔۔

دو سکینڈ کے توقف کے بعد ہی وہاں موجود نفوس کے درمیان موبائل فون رنگ گونج اٹھی ۔ دران نے لبوں کے قریب کیے ہوئے گلاس کو نیچے کیا ۔ جیب میں ہاتھ ڈالا موبائل بج رہا تھا اور اوپر انل کا نمبر چمک رہا تھا ۔

دائیں ہاتھ میں تھاما گلاس انل کی طرف بڑھایا۔ جیسے ہی گلاس انل کے ہاتھ میں منتقل ہوا اسی لمحے بروس کی نگاہیں اس کی تھمی سانسوں کے ساتھ گلاس پر جمی ۔ دران موبائل کان سے لگا چکا تھا ۔

انل کے دونوں ہاتھوں میں اب مشروب سے بھرے ایک جیسے گلاس موجود تھے دران کا گلاس وہ بائیں ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا ۔ وہ دران کے گھونٹ بھرنے سے پہلے تک یہاں سے جانے والا نہیں تھا یہ وہ باخوبی جانتا تھا ۔

” ہیلو ۔۔۔ ” مصروف سے انداز میں فون کان سے لگائے وہ چند قدم آگے بڑھا ۔

بروس کن اکھیوں سے جانچتی نگاہ انل کے بائیں ہاتھ پر رکھے ابھی وہیں کھڑا تھا ۔ انل نے گہری نگاہوں سے بروس کی طرف دیکھا ۔ ذہن میں دران کی آواز گونج رہی تھی ۔

” تم مجھے کال کرو گے ۔میں تمہیں اپنا گلاس پکڑاؤں گا “

وہ اس کے کہنے کے مطابق گلاس تھام چکا تھا ۔ ذہن میں اس کی اگلی ہدایت گونجی ۔

” وہ میرے گلاس پر نظر رکھے گا اس لیے جس وقت میں پلٹوں گا تمہیں پورا کور کروں گا اور تمھارے والا گلاس پکڑتے ہی ایک سکینڈ سے پہلے تم میرا گلاس دوسرے ہاتھ میں منتقل کرو گے “

دران کی دی ہوئی ہدایت وہ ذہن میں دہرا رہا تھا اور جیسا اس نے کہا تھا ویسا ہی ہوا . بروس وہاں سے جانے کے بجائے وہیں اس کے ہاتھوں پر نگاہ جمائے کھڑا تھا ۔ دران فون کو واپس اپنی جیب میں رکھتے ہوئے پلٹا اور اس کی طرف بڑھا اب ایک سکینڈ میں انہیں اس سںب پر عمل کرنا تھا ۔

جیسے ہی دران نے اس کے بلکل سامنے آ کر اس کے گلاس کو تھاما ۔ انل نے اتنی ہی تیزی سے اس کے والے گلاس کو دائیں ہاتھ میں منتقل کیا ۔

دران کے پلٹتے ہی بروس کی نگاہ انل کے ہاتھوں پر گئی تھی اور پھر اس کی اٹکی سانس بحال ہوئی ۔ دران نے درست گلاس ہی واپس پکڑا تھا ۔

دران نے گلاس تھامتے ہی لبوں کو لگایا ۔ اس کے گھونٹ بھرتے ہی بروس کے چہرے پر فتح جیسے آثار تھے ۔

بروس کا مقصد پورا ہو چکا تھا اس کا اب یہاں کھڑے رہنا بیکار تھا وہ چند ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد دونوں کو پارٹی سے لطف اٹھانے کا کہتا ہوا وہاں سے جا چکا تھا ۔

اس کے جاتے ہی انل دران کے قریب ہوا جو بڑے مزے سے مشروب کے گھونٹ بھر رہا تھا ۔

” مجھے ان کی سمجھ آتی ہے۔ وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔وہ تمہارا یہ بھرم ختم کرنا چاہتے ہیں جو تمہیں پوری انڈسٹری میں سب سے منفرد بناتا ہے ۔ لیکن تم اپنے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ یہ میری سمجھ سے باہر ہے ” انل اس وقت بھی اس کے اس فیصلے کو لے کر نالاں تھا ۔

دران نے اس کی بات پر نگاہ سامنے جمائی جہاں سوئمنگ پول کے پانی میں روشنیوں سے جگمگاتی عمارت کا عکس جھلملا رہا تھا ۔

” مجھے خود نہیں پتا ۔ میرا دل بھی کہہ رہا ہے۔ میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟ لیکن اس وقت میں اپنے دماغ کے قابو میں ہوں جو کہہ رہا ہے۔ مجھے یہ کرنا ہے “

دران نے ساکن نگاہ دھیرے سے لہریں بناتے عکس پر جما کر جواب دیا

انل نے گہری نگاہ اس پر ڈالی وہ متواتر مشروب کے گھونٹ بھرتا جا رہا تھا ۔ انل کو بھی مشروب پینا تھا۔ وہ لوگ دران کو جانچ رہے ہوں گے اس لیے ان کی چھوٹی سی غلطی بھی ان کو مشکوک بنا سکتی تھی ۔

” آہ ۔۔۔ تو میں سمجھ جاؤں پھر یہ معاملا اتنا سیدھا نہیں جتنا دکھائی دے رہا ہے “

انل نے ایک ہاتھ ہوا میں ہاتھ اٹھائے تاسف ظاہر کیا ۔ دوسری طرف گہری خاموشی تھی ۔

” اب کمرے میں اس لڑکی کے آنے کے بعد کیا کرو گے تم ؟ ” انل نے مشروب کا گھونٹ بھرا

” جو انہوں نے سوچا ہے اس کا اُلٹ کروں گا مجھے پتا ہے میری یہ ویڈیو لائیو چلے گی ” پرسوچ لہجے میں جواب دیا اور گلاس میں موجود مشروب ایک سانس میں ہی اپنے اندر انڈیل لیا ۔

☆☆☆☆

گاڑی ہلکی سی چراچرہٹ کے بعد رکی تھی ۔ وہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی اب پاگلوں کی طرح گردن اردگرد گھما رہی تھی جبکہ سیاہ پٹی آنکھوں پر بندھی ہونے کے باعث گھپ اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ اس کی آنکھوں پر بندھی یہ پٹی مختلف مقامات پر اتاری گئی تھی لیکن اس وقت اس کے ساتھ ایک لڑکا کمر پر پسٹل رکھ کر بیٹھ جاتا تھا ۔ پتا نہیں کتنے گھنٹوں کی مسافت کے بعد وہ اب کہیں پہنچے تھے ۔

خوف سے دل لرز رہا تھا۔ پتا نہیں وہ اب کہاں ہو گی اور یہاں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ذہن خوف کے زیر اثر مفلوج ہو رہا تھا ۔ گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز ابھری اور پھر کسی نے اسے بازو سے کھینچتے ہوئے گاڑی سے اتارا ۔

گاڑی سے اترنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی کو پھر سے ہٹا دیا گیا ۔ اچانک سے تیز روشنیوں نے آنکھوں کو چندھیا دیا ۔ وہ بھاری نقلی پلکوں اور میک اپ سے اٹی آنکھوں کو زور سے میچ چکی تھی ۔

گاڑی سے اترنے والے دونوں لڑکوں میں سے ایک لڑکا اب اس کے ہاتھ کھول رہا تھا جبکہ دوسرا اس کو پسٹل دکھاتے ہوئے خبردار کر رہا تھا ۔

جوی نے ایک اچٹتی نگاہ اس شاندار عمارت پر گھمائی جس کی راہداری پر اب وہ دونوں لڑکوں کے ہمراہ ان کے درمیان میں چل رہی تھی ۔ اونچی ہیل اور کٹ دار میکسی سے باہر نکلتی ایک ٹانگ کی وجہ سے اسے چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی ۔

پسٹل دکھانے والے لڑکے نے بڑے انداز میں اس کی کمر کے گرد بازو حائل کر رکھا تھا ۔ راہداری سے آگے آتے ہی جیسے اس اندھیری رات میں بھی بہار کا سا سماں تھا ۔ مینگولہ کے وسیع لان کا منظر سحر پھونک رہا تھا ۔ وہ کیا کوئی بھی دیکھتے ہی پہچان جاتا کہ یہ کوئی بہت بڑی تقریب تھی ۔ وہ لڑکے اب اس کے ہمراہ چلتے ہوئے راہداری سے تھوڑا آگے آنے کے بعد رک چکے تھے ۔ شائد وہ یہاں کسی کا انتظار کر رہے تھے ۔

چند سکینڈ کے وقفے کے بعد ایک مغربی شخص ان کی طرف آتا دکھائی دیا۔ وہ جیسے جیسے فاصلہ کم کرتا جا رہا تھا۔ اُس کی جوی پر ٹکی آنکھیں سکڑتی جا رہی تھیں اور پیشانی پر پڑے شکن گہرے ہو رہے تھے ۔

تیز تیز ڈگ بھرتا وہ شخص اب لال بھبھوکا چہرہ لیے ان تینوں کے سامنے تھا

” یہ کس کو اٹھا لائے ہو ؟ کون ہے یہ ؟ ” بروس غصے میں دانت پیستے ہوئے دونوں لڑکوں پر چڑھ دوڑا

” وہی لڑکی جو آپ نے منگوائی اور شیون باس نے جس کو یہاں لانے کا کہا ” برجستہ جواب آیا

وہ آپس میں انگلش میں بات کر رہے تھے ۔ جو وہ با آسانی سمجھ رہی تھی۔ وہ یقیناً کسی اور کی جگہ یہاں غلطی سے آ گئی تھی۔ اس لیے سامنے کھڑا آدمی اب دونوں لڑکوں پر بھڑک رہا تھا۔

” یہ وہ لڑکی نہیں ہے ۔۔۔ احمقو ۔۔۔ میں نے لیسا کا کہا تھا۔ ” بے ساختہ بروس کا ہاتھ اپنی پیشانی کو پیٹ گیا ۔

دونوں لڑکے اب ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کی صورت دیکھ رہے تھے جبکہ بروس اب غصے میں جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا موبائل نکال چکا تھا ۔ تیزی سے موبائل کی سکرین پر انگلیاں نچانے کے بعد وہ موبائل کو کان سے لگائے غصے میں اب دوسری طرف موجود نفس کے فون اٹھانے کے منتظر تھا ۔ اس کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا ۔

” یہ کس کو بھیج دیا ہے ؟ لیسا کہاں ہے ؟ ” دوسری طرف سے جس نے بھی فون اٹھایا تھا ۔ بروس اس پر سخت لہجے میں برس پڑا ۔

” مطلب ۔۔۔۔ ؟ لیسا ہی بھجوائی ہے ” شیون نے حیرت کا اظہار کیا

” یہ لیسا نہیں ہے ۔ کس کو اٹھا کر بھیج دیا۔ سارا پلین چوپٹ کر دیا ” بروس کا غصہ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا ۔

” اے۔۔ے۔ے نام کیا ہے تمھارا ؟ ” بروس نے فون کو کان سے ہٹائے کرخت لہجے میں جوی سے پوچھا

جوی جو کان کھڑے کیے اس کی باتیں سمجھ رہی تھی ۔ ایک لمحے کے لیے سٹپٹا کر تینوں کی طرف دیکھا۔

” ج۔۔۔۔جووی ” گھٹی سی آواز میں اپنا نام بتایا

اس سے پہلے کہ وہ شیون کو کچھ سمجھاتا ۔ وہ خود ہی سمجھ گیا تھا کہ لیسا کی جگہ وہ نئی لڑکی مینگولے پہنچ گئی ہے ۔

” اوہ!!!! لگتا ہے لڑکیاں اکسچینج ہو گئی ہیں ” شیون کی پریشان کن آواز ابھری

” مجھے لیسا ہی چاہیے۔ے۔ے۔ے ” بروس نے چبا چبا کر غصے میں کہا

” دیکھو بروس یہ ممکن نہیں اب۔ لیسا دو گھنٹے پہلے اس لڑکی کی جگہ دوسرے ہوٹل پہنچ چکی ہے اور کلائنٹ کی کال آ چکی ہے مجھے “

” تو میں کیا کروں اب ۔ میرا کیا ہاں۔ں۔ں ؟ ” بروس کی آواز مزید اونچی ہوئی

” دیکھو میں سمجھتا ہوں غلطی ہوئی ہے ۔ مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ تم اس لڑکی سے کام چلاؤ ایک دم فریش ۔۔۔”

” شٹ اپ!!!!!! جسٹ شٹ اپ ” بروس نے فون کو کان سے دور کیے ۔ چیخ کر اس کی بات کو کاٹتے ہی فون بھی کاٹ دیا ۔

ایک آبرؤ چڑھائے جانچتی نگاہ جوی پر ڈالی ۔ شیون کی بات غلط نہیں تھی ۔ میرون گاؤن میں ملبوس سامنے کھڑی یہ لڑکی لیسا کی طرح حسین و جمیل تو نہیں تھی مگر بلا کی پرکشش تھی۔ اس کے چہرے پر اس کی سیاہ بڑی آنکھیں اس کے عام سے نقوش پر بھاری تھیں ۔ قد متوازن ہونے کے باوجود جسامت کا سڈول پن اسے منفرد بنا رہا تھا ۔ بروس نے گہری سانس باہر انڈیلی ۔ خونخوار نگاہوں سے لڑکوں کو گھورا ۔

” اسے فلحال میرے کمرے میں لے کر چلو پھر بتاتا ہوں میں آگے “

سامنے کھڑے لڑکے کو ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوئے حکم صادر کیا اور آگے چل پڑا۔ دونوں لڑکے جوی کے ہمراہ اس کی تقلید کر رہے تھے ۔ جوی بے بسی سے اردگرد دیکھ رہی تھی ۔

نجانے یہ کونسی جگہ تھی اور اب یہ بھڑیے اس کے ساتھ آگے کیا کرنے والے تھے ۔ یہ خوف ہر اٹھنے والے قدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆

سورج پورے جوبن میں آسمان پر چمک رہا تھا ۔ تیز شعائیں کراچی شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھیں ۔

ایلمنٹری بوائز سکول کی اس سرخ اور سفید عمارت میں اس وقت لڑکوں کا بے ہنگم شور گونج رہا تھا ۔ یہ شائد سکول کی ریسس کا وقت تھا ۔ انگنت ایک ہی قطار میں بنے کمروں والے اس سکول کا یہ چھٹی جماعت کا کمرہ تھا ۔

لکڑی کے اوپری پھٹے والے لوہے کے ڈیسک افقی قطاروں میں لگے تھے ۔ سفید روغن والی دیواروں پر کاغذ کے بنے چارٹ جگہ جگہ دیواروں پر چسپاں تھے ۔ سامنے کی دیوار پر سیاہ بورڈ نصب تھا جس کے نیچے سفید رنگ کے چاک بکھرے ہوئے تھے ۔ اس وقت کمرہ جماعت میں ادھم مچا تھا ۔ کچھ لڑکے بھاگ دوڑ رہے تھے ۔ ایک دوسرے کو چاک مار رہے تھے اور کچھ ڈیسک کے اوپر بیٹھے ٹفن کھولے کھا رہے تھے ۔

ان سب میں وہی تھا جو کتاب کھولے انہماک سے پڑھنے میں مگن تھا ۔ یاور ملک کی بدولت وہ پھر سے سکول میں آنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ اسے برھان اور فائقہ کی طرح کسی انگلش میڈیم نجی سکول میں نہیں ڈالا گیا تھا ۔ یہ کراچی کا سرکاری سکول تھا ۔

دران نے آدھا سال گزرنے کے بعد داخلہ لیا تھا۔ اسے سکول آتے مہینہ ہو چکا تھا لیکن وہ چپ چاپ بیٹھا اپنا پڑھتا رہتا تھا ۔ کچھ لڑکوں نے پہلے پہل اس کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی مگر اس کے کم بولنے کے باعث پیچھے ہٹتے گئے ۔

لڑکوں کے اس شور میں اچانک سکوت جماعت کا دروازہ زور سے دیوار میں لگنے کی وجہ سے آیا ۔ توصیف تیوری چڑھائے آگے بڑھا۔ وہ ان کی جماعت کا نا صرف مانیٹر تھا بلکہ سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کا اکلوتا سپوت بھی تھا ۔ جماعت کیا سکول کے تمام لڑکے اس سے ڈرتے تھے بس یوں سمجھیں کہ سکول میں اس کا سکہ چلتا تھا ۔

توصیف نے غصے سے درمیانی قطار میں موجود تیسرے ڈیسک پر بیٹھے انل یوسف کو ایک جھٹکے سے گریبان سے تھام لیا ۔

” کھڑا ہو جا ” رعب دار آواز میں وہ انل کو حکم صادر کر رہا تھا ۔

انل نے گھور کر دیکھا مگر اٹھا نہیں ۔ توصیف کے ساتھ کھڑے لڑکے ہاتھوں میں بلے اور ہاکی اٹھائے ہوئے تھے ۔ وہ شائد سکول کے میدان میں کھیل رہے تھے اور اب انل کی شکایت ملنے پر یہاں آئے تھے ۔ سکول میں موجود ہر پانی کے کولر کے ساتھ سٹیل کا ایک عدد گلاس زنجیر سے باندھا گیا تھا لیکن انل کو عیسائی ہونے کے باعث اس گلاس میں پانی پینے کی اجازت نہیں تھی ۔

” کھڑا ہو سنا نہیں ” توصیف تیکھی آواز میں دھاڑا

پوری جماعت کے لڑکے اب سب مصروفیت چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ تھے ۔ دران نے کتاب پر سے سر اٹھایا اور ڈیسک پر بیٹھے معصوم صورت لڑکے کو دیکھا جو توصیف کے مقابلے میں ناتواں تھا لیکن وہ اس سے دب نہیں رپا تھا ۔

” کولر کے گلاس میں پھر سے پانی پیا تم نے ؟ ” توصیف نے غصے میں ناک پھلاتے ہوئے پوچھا

” ہاں پیا ۔ وہ سب کے لیے ہے۔ وہاں نہیں لکھا کہ صرف مسلمان لڑکے پی سکتے ہیں۔ ” انل نے برابر تیوری چڑھائی

” زیادہ زبان چلانے کے ضرورت نہیں سمجھا ۔ کتنی دفعہ سمجھایا ہے تجھے لگتا بات تیری کھوپڑی میں گھستی نہیں ہے ۔ ” توصیف نے اس کے گریبان پر اپنی گرفت مزید بڑھائی ۔

انل کی گریبان چھڑوانے کی ساری کوششیں ناکام جا رہی تھیں ۔ توصیف نے ایک جھٹکے سے اسے ڈیسک سے نیچے گرایا ۔ اب وہ اس کے گریبان کو تھامے باقاعدہ اسے مار رہا تھا۔ پوری جماعت تماشہ دیکھ رہی تھی کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ انل کو چھڑواتے ۔ توصیف اسے زمین پر لٹائے مسلسل اس کے چہرے پر موکے جڑ رہا تھا ۔

دران ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔ کنپٹی کی رگیں تن گئی تھیں اور آنکھیں غصے میں سکڑ گئی تھیں ۔ تیز تیز ڈگ بھرتا وہ ایک سکینڈ میں توصیف کے سر پر کھڑا تھا ۔توصیف نے مکا جڑنے کے لیے بازو اٹھایا اور اب کی بار بازو نیچے نہیں آیا ہوا میں معلق رہ گیا ۔ غصے سے گردن گھما کر دیکھا ۔

دران پیشانی پر بل ڈالے کھڑا تھا ۔ وہ دکھنے میں دبلا پتا تھا لیکن طاقت اتنی تھی کہ توصیف اپنی پوری قوت کے باوجود ہاتھ نہیں ہلا پا رہا تھا ۔

” تو کون ہے ابے ” توصیف نے غراتے ہوئے پوچھا

اس کا چہرہ اب قوت لگانے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔ آس پاس کھڑے لڑکے توصیف کی حالت پر دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے ۔

” اس کا گریبان چھوڑ ” دران نے سنجدگی سے مگر ٹھہرے لہجے میں حکم دیا ۔

” چلو ایک اور ٹڈی کو زکام ہو گیا ” توصیف نے استہزایہ مسکراہٹ سجائے تمسخر اڑایا

” تو بولتا بھی ہے رے ۔۔۔ میں تو سمجھا گونگا ہے تو ” توصیف کے تمسخرانہ انداز پر پوری جماعت میں قہقے گونج اٹھے ۔

” چپ چاپ جا اور باقی لڑکوں کی طرح اپنی جگہ پر بیٹھ جا سمجھا ۔ نہیں تو اس سے پہلے تیری کھوپڑی کھول دوں گا” توصیف نے بڑے رعب سے ناک چڑھاتے ہوئے کہا

دران نے ایک نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی اور پھر دوسری انل کے گریبان پر اگلے ہی لمحے وہ پاس کھڑے لڑکے کے ہاتھ سے بلا چھین کر توصیف کے سر پر مار چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆

سورج ڈوبتے ہی سرمئ روشنی لائینز ایریا کی تمام عمارتوں کو ہلکی ہلکی ہوا سے ٹھنڈک بخشنے لگی تھی ۔ چوتھی منزل کے اس فلیٹ میں خاموشی چھائی تھی ۔ مریم کسی پڑوسی کی طرف تھی ۔ جووت کھیلنے گیا تھا ۔ میری کتابوں میں سر دیے بیٹھی تھی ۔ ایسے میں وہ چھوٹے سے کمرے میں موجود بکھرے بال , پژمردہ صورت اور حلقے زدہ آنکھوں کے ساتھ پلنگ پر اپنے دوپٹے کی تلاش میں تکیے الٹ پلٹ رہی تھی ۔

ہلکے زرد رنگ کے جوڑے میں اداس آنکھوں کے نیچے موجود گالوں پر زردی جھلک رہی تھی ۔ گھنگرالے سیاہ بال اوپر کو پھولے ہوا میں دھیرے دھیرے ہل رہے تھے ۔ اس دن چھت کی ملاقات کے بعد چار ماہ اور تین دن گزر گئے تھے دران اسے پھر کبھی یہاں نہیں نظر آیا تھا ۔

وہ ملاقات اس کی پہلی ملاقات تھی لیکن وہ اس کے سحر میں ایسی جکڑی گئی تھی کہ چاہ کر بھی نکل نہیں سکی ۔ یوں محسوس ہوتا تھا وہ انسان نہیں جنات میں سے تھا اور وہ آسیب زدہ ہو گئی ہے ۔

دماغ نے دل کی بہت کلاس لی ۔ ہر جتن کر ڈالے پر وہ ایسا بغاوت پر اترا کہ ہر چیز میں ہر چہرے میں اسی کا عکس تلاشنے لگا ۔ دل میں وسوسے گھر کرنے لگے کیا پتا وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا ہو ۔ اس کی اس آسیب زدہ حالت کی اس کے دل کے بعد سنانا کو خبر تھی ۔ ہر پل کا ساتھ اور دوستی تھی اس کی بدلتی حالت کیسے چھپ سکتی تھی اور آج وہ تنگ آ کر انو سے اس کے بارے میں پوچھنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔ سنانا کے پوچھنے پر وہ اسے بتا چکی تھی وہ کہاں اور کیوں جا رہی ہے ۔

“پاگل مت بنو جوی رک جاؤ سمجھی ” سنانا نے اس کے بازو کو پکڑ کر پوری قوت سے اپنی طرف گھمایا ۔

وہ جو دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالنے والی تھی گھوم کر سنانا کے روبرو ہوئی ۔

” اگر رکوں گی تو پاگل ہو جاؤں گی ” سپاٹ لہجے میں وثوق سے کہا

” ایک منٹ یہ تو سوچو ۔ انو کیا سوچے گا تم اس لڑکے کے بارے میں کیوں پوچھ رہی ہو ؟” سنانا نے رسان سے سمجھایا

” کہہ دوں گی۔ یہ تو میں خود نہیں جانتی کہ میں اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہی ہوں ” برجستہ جواب دیا

آہستگی سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑوایا اور پلنگ پر سے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈال لیا ۔

” جوی یہ تو جانتی ہو نہ کہ وہ مسلم ہے؟ ” سنانا نے سینے پر ہاتھ بندھے سوال کیا ۔

وہ اب اپنا دوپٹہ درست کر رہی تھی ۔ نگاہیں چرائیں ۔ پلکیں پھڑپھڑائیں

” ہاں تو میں نے کب کہا وہ عیسائی ہے ؟”

” نہیں کہا پر تم گناہ کر رہی ہو ۔ ابا کو پتا چلے گا تو ؟” سنانا تنک کر پھر سے روبرو ہوئی

” مطلب ۔۔۔ کیا ۔۔۔ ؟ کہنا کیا چاہ رہی ہو تم گنا ہ کیسا ؟” جوی نے اب کی بار غصے سے نگاہیں اس کی نگاہوں میں گاڑیں ۔

” مطلب یہ کہ تم اس سے محبت کرنے لگی ہو” سنانا نے ایک سانس میں کہا

سنانا کی آنکھوں میں گاڑیں اس کی آنکھیں پھر سے زاویہ بدلنے لگیں ۔

” نہیں ” سخت لہجے میں فوراً اس کی بات کو رد کیا

” جھٹلاؤ مت مجھے ۔ پاگل نہیں ہوں میں بہن ہوں تمھاری ۔ ہر کسی کی تو نہیں لیکن تمھاری آنکھیں پڑھنا میں جانتی ہوں ۔ تم پاگل ہو چکی ہو اس لڑکے کے لیے اور یہ پاگل پن اب شدت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے مجھے ” سنانا دو ٹوک لہجے میں جواب دیا

” نہیں ۔۔۔ تم ۔۔ تم غلط ہو مجھے اس سے محبت نہیں ہے۔ اور محبت یوں نہیں ہوتی ” گڑبڑا کر اس کی بات کی نفی کی

” تو پھر کیسے ہوتی ہے ؟ تم سے دو سال چھوٹی ہوں پر بچی اب میں بھی نہیں ہوں ۔ چارہ ماہ ہو گئے ہیں تم بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہو۔ سر شام بالکنی کے چکر دوپہر کو حنا کے گھر کے بلاوجہ چکر , سنسان چھت پر جانا اور اب ۔۔۔ اب کیا کرنے جا رہی ہو ؟ انو سے اس کے بارے میں پوچھنے جا رہی ہو؟ ” سنانا نے پیشانی پر بل ڈالے اسے آئینہ دکھایا جو شائد اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دھوکا دے رہی تھی ۔

دوسری طرف خاموشی تھی ۔ سنانا نے گہری سانس لی محبت سے اسے قریب کیا ۔

” جوی یہ کھائی ہے تم گری نہیں ہو ابھی اس میں ۔ پلٹ آؤ اسے بھول جاؤ ۔ وہ اجنبی تھا۔ ایک دن اتفاق سے ملاقات ہوئی تم دونوں کی اور بس ” سنانا نے رسان سے سمجھاتے ہوئے اب اسے دونوں کندھوں سے تھام لیا تھا ۔

” میں اس سے محبت نہیں کرتی سنانا ۔ مجھے تو انو سے بس یہ پوچھنا ہے کہ وہ زندہ ہے نہ ؟ وہ اس دن چھت سے چھلانگ لگانے والا تھا تو۔۔۔ ” جوی نے سر کو جھٹکتے ہوئے چڑ کر وضاحت دی

” اور اگر انو نے کہا کہ وہ مر۔۔۔۔۔”

ایک زور دار تھپڑ سنانا کے جملے کو مکمل نہیں کرسکا تھا ۔ جوی اسے تھپڑ مارنے کے بعد اب مجسم بنی کھڑی تھی جبکہ سنانا گال پر ہاتھ رکھے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

کتنے ہی پل خاموشی نگل گئی اور پھر آواز گونجی پر اعتماد

” وہ مر نہیں سکتا “

دلگیر لہجہ تھا ۔ وہ جھٹکے سے پلٹی اور تیز تیز قدم بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *