Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 48,49)
Rate this Novel
Basil (Episode 48,49)
Basil by Huma Waqas
دران کے فون بند کرنے کے بعد اس نے مبہم سی مسکراہٹ کو لبوں پر سجائے , سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں ۔ ایک سکون پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا ۔ دران کے ساتھ بیتے آخری لمحوں کی بہت سی شریر یادیں لبوں پر پھیلی مسکراہٹ کو گہرا کر رہی تھیں ۔
” ایسے ہی خوش رہو ہمیشہ “
سنانا کی آواز پر اس نے جھینپ کر آنکھیں کھولیں ۔ وہ محبت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ گہری سانس خارج کرتے ہوئے سر کو اثبات میں ہلا دیا ۔
☆☆☆☆
امریکہ کیلی فورنیا کے ساحل سمندر میں ڈوبتا سورج ہر روز کی طرح ایک اور دن کے اختتام پر سرمئی روشنی پھیلا رہا تھا ۔
ساحل سمندر کے اطراف میں بنی فلیٹس کی عمارت کی تیسری منزل پر موجود یہ انیسویں صدی کی طرز پر فلیٹ تھا جس کی بالکنی میں لکڑی کی ریلنگ کے پاس کنز پارکر جھولتی کرسی پر اداس صورت بنائے بیٹھی تھی ۔
آدھی آستین والی سفید شرٹ میں ملبوس زرد چہرے لئے وہ کسی الجھن کا شکار لگ رہی تھی ۔ اس کی کرسی سے کچھ دوری پر بیٹھا نوین مگن انداز میں اس سے کوئی بات کر رہا تھا ۔ یونہی بات کرتے ہوئے اس کی خاموشی اور اداسی کو محسوس کرتے ہوئے وہ اچانک خاموش ہوا ۔
یہ وہی کنز پارکر تھی جو اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی ۔ وہ بھی اس سے بہت محبت کرتا تھا , اتنی محبت کے کہ اس کی محبت کے آگے گھٹنے ٹیکتا , وہ آج منشیات کے گروہ کو خیر باد کئے اس کے پاس واپس لوٹ آیا تھا ۔
اس نے یہ سب صرف کنز کی محبت میں کیا تھا ۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے ان لوگوں سے بچتا یہاں کنز کے فلیٹ میں چھپا ہوا تھا۔ اس کے یوں سب چھوڑ آنے پر اسفند بھی بہت خوش ہوا تھا اور بہت معافی مانگنے پر کنز اسے معاف تو کر چکی تھی لیکن وہ خوش نہیں تھی ۔
ہر وقت خاموش اور سوچ میں ڈوبی رہتی تھی ۔ اسفند نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور یہ سب اس کی رضا پر ہی ہوا تھا کیونکہ وہ اور نوین پاکستان جا کر پھر سے شادی کرنا چاہتے تھے ۔
” مجھے ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ تم خوش نہیں ہو کنزی ؟ “
کنز کے اداس چہرے پر نگاہیں جمائے آہستگی سے وہ اپنے خیالات ظاہر کر گیا جو پچھلے ایک ہفتے سے محسوس کر رہا تھا ۔ کنز نے فوراً زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائی ۔
” میں۔۔۔ میں خوش ہوں نوی ۔ “
” میں بہت دفعہ تم سے معافی مانگ چکا ہوں لیکن ایسا کیوں لگتا ہے تمھارے دل میں کوئی بات ہے ؟ “
” ایسا کچھ نہیں ہے تم ایسے ہی پریشان ہو رہے ہو ۔ میں بہت خوش ہوں ۔ بھلا کیوں نہ ہوں گی خوش ؟ “
” پھر مجھے وہ خوشی تمھارے چہرے پر نظر کیوں نہیں آ رہی ہے ؟ وہ خوشی جو تمہیں میرے یوں لوٹ آنے اور سب کچھ چھوڑ دینے پر ہونی چاہیے تھی ۔ اب تو وہ سب ہو رہا ہے جو تم چاہتی ہو۔ سب کچھ چھوڑ کر صرف تمھارا ہو کر بیٹھا ہوں , تم سے پھر سے شادی کر رہا ہوں , ہم پاکستان چلے جائیں گے وہاں ہنسی خوشی رہیں گے ۔ کیا تم پاکستان نہیں جانا چاہتی ؟ “
نوین نے پریشان لہجے میں سوال کیا تو وہ سٹپٹا کر اس کی بات کاٹ گئی ۔
” نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔ میں دنیا کے کسی بھی کونے میں تمھارے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوں ۔ “
” پھر تمہاری اداسی اور پریشانی کی وجہ کیا ہے ؟ “
” نوین میں ۔۔۔ “
ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوئے وہ رک گئی ۔ نوین ہنوز پریشانی کے شکن نمودار کئے اسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ کیسے ہمت جتاتی اور کیسے اسے یہ بتاتی کہ وہ پچھلے ایک ماہ سے اپنے بطن میں ایک وجود لئے پھر رہی ہے ۔ وہ وجود جو ایک خاموش لمحے کی مرہون منت تھا ۔ اُس لمحے میں وہ خود کو اسفند سے زیادہ قصور وار سمجھتی تھی ۔ اسفند اس لمحے میں سنبھلا بھی تھا تو اس نے ناکام کر دیا تھا ۔
اس کے بعد وہ بہت دن تک کنز سے نظریں نہیں ملا سکا ۔ دونوں کی خاموشی کا دورانیہ ہفتوں پر محیط رہا اور پھر اسے پتا چلا کہ وہ لمحہ یونہی چپ چاپ نہیں گزرا تھا ۔ اس لمحے کا احساس چاہے دونوں کو نادم کئے ہوئے تھا لیکن اس کا نتیجہ بہت انوکھا تھا ۔ ماں بننے کا احساس اسے جہاں حیران کر گیا وہاں ایک انوکھی خوشی بھی دے گیا کیونکہ وہ اس احساس کے لئے کتنے جتن کیا کرتی تھی یہ وہی جانتی تھی۔
کنز نے جب اسفند کو بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔ اسفند کا بے حد پریشان ہونا اسے سب سمجھا گیا کہ وہ لمحہ جو ان دونوں کے بیچ گزرا کسی صورت بھی اسفند کے دل میں اس کے لئے کوئی احساس پیدا نہیں کر سکا ۔
اسفند کی صورت دیکھتے ہوئے اس نے یہ فیصلہ لے لیا تھا کہ اسفند اگر اسے چھوڑ بھی دے گا تب بھی وہ اس بچے کو اس دنیا میں لائے گی اور اکیلی پالے گی لیکن اب پورے ایک ماہ بعد نوین کے یوں واپس آ جانے پر وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی ۔
” کنز بولو کیا بات ہے ؟ مجھے پریشانی ہو رہی ہے ۔ “
نوین کی آواز پر وہ چونک کر خیالات سے واپس آئی ۔ وہ واقعی پریشان صورت بنائے اس کے بولنے کا منتظر تھا ۔
” نوین میں۔۔۔ ماں بننے والی ہوں ۔ “
مدھم آواز اور نادم لہجہ تھا ۔ نوین کے ماتھے کے شکن اوپر اٹھے اور پھر آہستہ آہستہ پیشانی پر سے غائب ہونے لگے ۔ چہرہ تپنے لگا ۔
” دیکھو غلط مت سمجھنا ۔ اسفند اور میں , ہم صرف اس رشتے میں بندھے تھے لیکن ہمارے دلوں میں ایسا کچھ نہیں تھا بس وہ ایک کمزور لمحہ تھا جس میں زیادہ غلطی میری تھی ۔ “
وہ نظریں چراتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت دے رہی تھی جبکہ نوین دم سادھے بیٹھا تھا ۔ ایک طمانچہ تھا یا اس کا امتحان ۔ مرد کتنا کم ظرف ہوتا ہے اس معاملے میں , خود کبھی ایسا کچھ جان بوجھ کر بھی کر لے تو وہ اسے معمولی بات لگتی ہے اور پھر عورت سے دھڑلے سے معافی کا طلبگار بن جاتا ہے پر جب یہی غلطی عورت کر لے تو اس کا دم گھٹنے لگتا ہے اور یہاں تو کنز نے جو بھی کیا تھا اسفند کی بیوی ہوتے ہوئے کیا تھا پھر بھی اس کے دل پر پے در پے گھونسے پڑ رہے تھے ۔
” میں چاہتی تو یہ بات تم سے چھپا لیتی لیکن میں اس بچے کو اس دنیا میں لانا چاہتی ہوں ۔ میں چاہتی ہوں اب ہم دونوں اس بچے کو اپنا بچہ سمجھ کر پالیں ۔ “
” کیا اسفند جانتا ہے یہ بات ؟ “
نوین کے پھیکے سے لہجے میں کئے گئے سوال پر ایکدم سے خاموشی چھا گئی ۔ کنز نے آہستگی سے سر کو جنبش دی ۔
” ہاں میں اسے بتا چکی تھی ۔ “
” کیا کہا اس نے ؟ “
” وہ اس بچے کو اپنا نہیں سکتا ۔ وہ روبی سے محبت کرتا ہے ۔ میں نے اسے کہا تھا کہ میں اس بچے کو دنیا میں لانا چاہتی ہوں ۔ میں اسے اکیلے پالنا چاہتی تھی ۔ اب بھی اگر تم مجھے اس بچے کو چھوڑنے کا کہو گے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گی لیکن اس کو نہیں چھوڑ سکتی ۔ مجھے اسفند سے تو نہیں لیکن اس بچے سے شدید محبت ہو گئی ہے “
آخری جملہ کہتے ہوئے وہ بہت پر عزم لگ رہی تھی ۔ نوین نے چند سکینڈ اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر آہستگی سے گویا ہوا ۔
” میں تمھارے ساتھ ہوں ۔ “
کنز کے چہرے پر پھیلتی خوشی دیدنی تھی ۔ وہ آنکھوں میں آنسو چمکائے محبت سے نوین کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
☆☆☆☆
بیورلی ہلز میں ٹھنڈی روشن صبح درانگ ولاس کی شیشے کی طرح چمکتی عمارت کو اور دلکش دکھا رہی تھی ۔ پورچ میں کھڑی انل کی گاڑی کچھ دیر پہلے ہی پورچ میں داخل ہوئی تھی ۔
نائٹ گاؤن میں ملبوس دران سگریٹ کو لبوں میں دبائے آؤٹ ڈور کی شیشیے کی دیوار کے پار دیکھ رہا تھا جبکہ اس کے بالکل پیچھے پریشان حال کھڑا انل پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور پیشانی پر بل ڈالے مسلسل بول رہا تھا ۔ وہ دران سے ساری بابت سننے کے بعد اب اسے سب بتا چکا تھا کہ وہ جیسیکا پر اس کی تمام حقیقت کھول چکا ہے ۔
” وہ میرے لئے جو جذبات ظاہر کر رہی تھی میں گھبرا گیا تھا ۔ مجھے عجیب سا احساس ہو رہا تھا , جیسے کہ میں اسے دھوکا دے رہا ہوں ۔ “
انل نے پینٹ کی جیبوں سے ہاتھ نکالے اور خاموش کھڑے دران کی پشت کو گھورا ۔ دران کی یہ مسلسل خاموشی اس کی پریشانی کو دگنا کر رہی تھی ۔ اس نے پہلی دفعہ دران سے بنا پوچھے کوئی ایسا قدم اٹھایا تھا اور اب وہ اس کے ردعمل کا منتظر تھا جو اس کے خیال کے مطابق یقیناً اچھا نہیں ہو سکتا تھا ۔
” تمہیں بار بار فون کرتا رہا , اتنے مسیجز کئے , کوئی ریپلائی نہیں آیا تمھارا ۔ “
چند سکینڈ کے توقف کے بعد اس نے پھر سے بات کا سلسلہ جوڑا مگر وہاں تو جناب سپاٹ چہرے کے ساتھ سوئمنگ پول کو گھورتے ہوئے بس سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف تھے ۔ اب کی بار انل نے پیشانی کے بل مزید گہرے کئے اور آواز کو اور اونچا کیا ۔
” تم مجھے ساتھ نہیں لے کر گئے , بنا بتائے چلے گئے , ٹھیک ہے میں نے یہ سب برداشت کیا لیکن کم از کم مجھے ایک کال یا ایک مسیج تو بھیج سکتے تھے نہ ؟ “
انل کے غصے سے کہنے پر دران ایک آبرؤ چڑھائے حیرت سے پلٹا ۔
” اوہ تم کیوں بھیجتے بھئ ؟ میں ہوتا کون ہوں تمھارا ؟ “
دران کے پلٹنے پر انل نے جبڑے بھینچے زیادہ سختی دکھائی تو دران نے آنکھیں یوں چندھی کئیں جیسے اس کے اس تاثر پر بہت حیرت ہو رہی ہو ۔
” میں ہی پاگل ہوں جو سایے کی طرح تمھارے ساتھ جڑا رہتا ہوں ۔ مجھے پتا چل گیا ہے کہ تمہیں اب اس سایے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔ مانا جویریہ سے تمہیں محبت ہو گئی تھی لیکن میں بھی تو اسے بھابھی سمجھتا تھا ۔ “
انل کے خفگی بھرے شکوں پر وہ بے ساختہ مسکرایا اور پھر اس کے پھولے منہ پر دانت کھولے ہنس دیا ۔ اس کے یوں ہنس دینے پر انل حیران تو بہت ہوا مگر حیرت کو چھپا کر اسے گھور کر دیکھا ۔
” ہنس کیوں رہے ہو؟ “
غصے سے پوچھا لیکن وہاں دران کے ہنسنے میں اتنا اضافہ ہو چکا تھا کہ اس کے کندھے دھیرے دھیرے ہلنے لگے تھے ۔ یوں کھل کر ہنستے ہوئے , وہ کتنا مختلف لگ رہا تھا ۔ وہ کبھی یوں نہیں ہنستا تھا ۔ انل نے بمشکل اپنے غصے کو برقرار رکھا ۔
” یہ ہنسنے کی بات ہے کیا ؟ تمہیں کیا لگ رہا ہے میں مزاق کر رہا ہوں تم سے ؟ “
” نہیں تم ٹانگ اوپر رکھ رہے ہو؟ “
دران نے بمشکل ہنسی کو دباتے ہوئے جواب دیا ۔ انل نے حیرت سے بھنویں اکٹھی کئیں ۔
” ٹانگ اوپر! مطلب ؟ “
” میرے پیچھے جیسیکا کو سب بتانے کی جو غلطی تم سے سرزد ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے کہ میں اس پر غصہ کروں تم مجھے اپنا غصہ دکھا رہے ہو ۔ اس کو کہتے ہیں ٹانگ اوپر رکھنا ۔ “
دران اب مسکراہٹ دبا رہا تھا ۔ انل نے جزبز ہوتے ہوئے چہرے کے تاثرات بدلے ۔ وہ بات تو سچ کر رہا تھا لیکن اس وقت وہ اس سے ناراض تو تھا ہی اس لئے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔
” تمہیں غلط فہمی ہے کہ میں تمھارے غصے سے ڈر رہا ہوں ۔ میں یہ سب تمہیں بتانے آیا تھا اور بتا دیا ۔ وہ اب تم سے ملنا چاہتی ہے ۔ مل لینا ۔ “
” ہوں ٹھیک ہے ۔ “
دران نے لب بھینچ مؤدبانہ ہنکارا بھرا ۔ انل کی باتیں بالکل ٹھیک تھیں ۔ جیسیکا یوں جذباتی طور پر انل سے جڑ جانا واقعی اس کے لئے پریشان کن تھا اس لئے اس کا کیا گیا فیصلہ اسے کسی حد تک درست لگا ۔ انل اسے غصے سے گھورتا ہوا پلٹا اور قدم دروازے کی جانب بڑھائے ۔
” کہاں ؟ “
دران کی عقب سے آتی آواز پر وہ رکا مگر پلٹا نہیں ۔
” فلیٹ جا رہا ہوں ۔ طبیعت بوجھل ہے آرام کروں گا کچھ دیر ۔ “
بے مروت اور غصے میں بھرا لہجہ تھا لیکن یہ بھی سچ تھا جیسیکا کے اس دن ناراض ہو کر چلے جانے کے بعد سے اسے ایک پل کا چین نہیں تھا ۔ عجیب بے کلی تھی جو سمجھ سے باہر تھی ۔ بار بار فون اٹھا کر دیکھتا کہ شاید اس کا کوئی مسیج آیا ہو لیکن وہ تو جیسے بالکل خاموش ہو گئی تھی ۔
” ناراض ہو ؟ “
دران اس سے سوال کر رہا تھا لیکن وہ اس وقت اس کا سامنا نہیں کر سکتا تھا ۔
” بہت ۔ “
انل سنجیدگی سے جواب دیتا , تیز تیز قدم اٹھا کر باہر نکلا تو اب کی بار دران واقعی حیران ہوا ۔ انل کا یہ عجیب سا رویہ اس سے ناراضگی کا سبب تو ہر گز نہیں تھا ۔ اس کی چھٹی حس اسے سب سمجھا رہی تھی ۔
☆☆☆☆
” کم از کم تم یا دران کوئی تو ہم سے بات کرتا ۔ “
اسفند ملک کے چہرے کا رنگ زرد ہو رہا تھا ۔ درانگ ولاس کے لاؤنج میں اس وقت اسفند کے علاوہ تین اور نفوس اس کے سامنے کھڑے تھے ۔ بے حال روتی ہوئی روبی ملک , پریشان حال سبرینا اور سنجیدگی کا پیکر بنا دران ۔
اب کی بار ہاروی اور بروس نے سبرینا کے بجائے فون اسفند ملک کو کیا تھا اور فون آتے ہی انہوں نے سبرینا اور دران کو بلا لیا تھا جو ان سے یہ بات ہی چھپائے ہوئے تھے کہ برھان نے جویریہ کو اغوا کروانے کے لئے ہاروی اور بروس جیسے خطرناک لوگوں کا ساتھ دیا تھا اور اب ان کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے ۔ جسے ہر صورت صرف دران ہی بچا سکتا تھا ۔
” تایا ابو میں کیسے کر سکتی تھی بات آپ سے برھان نے مجھے منع ۔۔۔”
” برھان ۔۔ برھان ۔۔ وہ تو بیوقوف ہے اپنی ماں کی طرح , اسی لئے آج یہ سب بھگت رہا ہے ۔ “
اسفند ملک کا جہاں پریشانی سے برا حال تھا وہاں برھان کی دران کے لئے نفرت پر شکوہ تھا ۔ وہ کتنا سمجھاتا تھا برھان اور روبی کو کہ وہ دران سے نفرت کو ختم کر دیں لیکن نہیں اور آج برھان خود ہی اسی نفرت کی وجہ سے اپنے بچھائے جال کا شکار ہو گیا تھا ۔ اسفند کی اس بات پر ٹسوتے بہاتی روبی ںے آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا ۔ وہ تو اس دن سے رو رو کر پریشان تھیں اور آج ایک نیا انکشاف ہو گیا تھا کہ برھان نے یہ سب دران سے نفرت کے باعث اور لالچ میں آ کر کیا تھا ۔
” اسفی آپ کیسے باپ ہیں ؟ میرا اکلوتا بیٹا زندگی اور موت میں لٹک رہا ہے لیکن آپکو تو بس اب بھی مجھے طعنے دینے کی پڑی ہے ۔ “
وہ بری طرح ہچکیوں میں رو رہی تھی ۔ دران نے بے تاثر نگاہیں اسفند کی طرف اٹھائیں ۔
” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ نہیں ہو گا اسے ۔ “
دران کی بات پر روبی نے چونک کر دران کی طرف دیکھا ۔ یہ وہی دران تھا جس کے لئے اس کے بیٹے نے اتنی گھٹیا چال چلی تھی ۔ دران نے ایک نگاہ تینوں پر ڈالی اور پھر واپسی کے لئے قدم بڑھائے ۔
” دران ۔۔۔ “
روبی کی آواز پر وہ رکا , وہ آہستگی سے چلتی ہوئی دران کے سامنے آئی ۔ نگاہوں میں ندامت تھی ۔ بیٹے کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے جان لیوا لیکن آج دران کے سوا اس کے بیٹے کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو کبھی بھی اسے نہ بچاتا ۔
” دران مجھے معاف کردو ۔ میرے بیٹے کو بھی معاف کر دو پلیز اسے بچا لو ۔ میرے بیٹے کو واپس لے آؤ بیٹا ۔ “
زندگی میں پہلی بار سامنے کھڑی یہ عورت اسے بیٹا کہہ رہی تھی ۔ دران نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا ۔ ماں کتنا عجیب مگر کتنا گہرا رشتہ ہوتا ہے یہ ۔ روبی جیسی اکڑ والی عورت آج اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی ۔
” پریشان نہ ہوں وہ کل یہاں ہوں گا ۔ “
دران نے تیزی سے جملا مکمل کیا اور پھر روبی کے اطراف سے نکلتا آگے بڑھ گیا ۔
☆☆☆☆
فائرنگ کی اور دھماکوں کی تیز آواز اس کے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی ۔ چھوٹے سے اس کمرے میں موجود پلنگ کے نیچے دبک کر لیٹا وہ خوف اور وحشت سے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔
صبح کے دس ہی بجے تھے جب ہاروی اور بروس کے اس خفیہ اڈے پر پولیس کا حملہ ہو گیا تھا ۔ امریکہ پولیس نے اس جگہ کو ٹریس کر لیا تھا ۔ ہاروی کے آدمیوں نے سرنڈرر کرنے کے بجائے الٹا مقابلہ شروع کر دیا تھا اور اب باہر تابڑ توڑ چلتی گولیوں کی وجہ سے برھان کی جان حلق میں آ چکی تھی ۔
ٹھنڈے پسینے سے ہتھیلیاں تر تھی ۔ سینے میں گھٹن بڑھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ۔ وہ کون سی بد بخت گھڑی تھی جب وہ لالچ میں آ گیا تھا اور دران کے خلاف چل میں ہاروی بروس کا ساتھ دیا ۔ بھوک پیاس اور اب یہ حملہ اسے اپنی موت کا وقت قریب نظر آ رہا تھا ۔
ایک دم سے اس کے کمرے کے دروازے پر کسی نے زور سے ٹانگ ماری تھی اور پھر دو تین دھماکوں کے بعد دروازہ دیوار سے اکھڑ کر زمین بوس ہوا ۔ برھان نے کانپتے ہوئے آنکھیں میچ لیں۔
” اے نکلو باہر ۔ اٹھو یہاں سے ۔ “
کوئی پلنگ کے نیچے جھکا اس پر چیخ رہا تھا ۔ برھان نے سہم کر اس کی طرف دیکھا ۔ وہ امریکن وردی میں ملبوس پولیس آفیسر تھا اور اس پر بندوق تانے اسے پلنگ کے نیچے سے باہر آنے کا کہہ رہا تھا ۔
برھان ساکن اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے بس دیکھ رہا تھا جب اس نے گریبان سے گھسیٹ کر اسے باہر نکالا ۔ برھان نے آنکھیں زور سے میچ لیں ۔
” پلیز مجھے چھوڑ دو ۔ میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہوں ۔ مجھے جانے دو پلیز ۔ پلیز مجھے چھوڑ دو ۔ میں ان کا ساتھی نہیں ہوں ۔ “
برھان آنکھیں میچ کر اونچی آواز میں رو پڑا تھا ۔ وہ لگاتار اپنی صفائی دے رہا تھا جب سامنے کھڑے آفسیر کی گرج دار آواز گونجی ۔
“چپ بالکل چپ “
برھان نے ایکدم رونا بند کیا ۔
” یہ وردی پہن لو جلدی ابھی ۔ “
پولیس آفسیر کی آواز پر اس نے حیرت سے آنکھیں کھولیں پولیس آفسیر ہاتھ میں ایک عدد پولیس وردی تھامے کھڑا تھا ۔
” سوچ کیا رہے ہو ؟ فوراً پہنو اسے ہمیں نکلنا ہے یہاں سے ۔ “
پولیس آفیسر کی وضاحت پر جیسے وہ ہوش میں آیا تیزی سے اس کے ہاتھ سے وردی لی اور پہن لی ۔ وہی پولیس آفیسر اسے لے کر وہاں سے نکلا ۔ ہاروی کے آدمی ابھی بھی پولیس سے لڑ رہے تھے ۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے نکال کر وہ پولیس آفیسر اسے ایک کار تک لایا اور بیٹھنے کا کہا ۔ جیسے ہی وہ کار میں بیٹھا ۔ کار تیزی سے وہاں سے نکلی اور اس جگہ سے کچھ دور جا کر سڑک پر کھڑی ایک اور کار کے پاس رکی ۔
اسے کار سے نکال کر دوسری کار میں جیسے ہی بیٹھایا کار کی ڈرائیونگ نشست پر بیٹھے دران کو دیکھ کر وہ منجمند ہوا ۔ سیاہ سوٹ میں ملبوس سیاہ چشمہ آنکھوں پر سجائے دران پروقار انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
برھان کے ہاتھ اب بھی بے تحاشہ کانپ رہے تھے ۔
” لو پانی پیو ۔ “
دران نے پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھائی ۔
دران اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائے ہوئے تھا ۔ اس لمحے اس کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سماں جائے ۔
” پریشان نہ ہو تم محفوظ ہو اب ۔ پانی پیو ۔ “
دران کی آواز پر وہ نگاہیں چراتا پانی کی طرف ہاتھ بڑھا گیا ۔ ندامت سے گڑ جانے جیسا مقام تھا ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنی موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا اور محسوس کیا تھا ۔
اس کے لئے تو اس بات پر یقین کرنا مشکل تھا کہ دران اس کی مدد کو پہنچ گیا تھا ۔ دران اب مصروف انداز میں گاڑی کے سٹئیرنگ کو گھما رہا تھا اور کچھ دیر میں ہی گاڑی شفاف سڑک پر دوڑنے لگی ۔
وہ کچھ کہنے کی ہمت جتا رہا تھا اور دران نے اس کے بعد اس سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔ سفر خاموش اور طویل تھا ۔ گردن کو جھکائے جھکائے اس کے سر میں درد ہونے لگا جب ایک جھٹکے سے اس نے سر اوپر اٹھایا ۔
” دران میں بہت شرمندہ ہوں ۔ “
دران کی جانب چہرہ موڑے وہ بمشکل یہ چار لفظوں کا جملہ ادا کر سکا ۔ دران سیاہ چشمے میں آنکھیں چھپائے , ڈرائیو کرتے ہوئے بس سامنے دیکھ رہا تھا ۔
” میں نے بہت برا کیا تھا ۔ میں لالچ میں اور تم سے نفرت میں اتنا اندھا ہو گیا تھا کہ مجھے اسے بات کا احساس تک نہ ہوا کہ میں کتنا برا کرنے جا رہے ہوں ۔ “
ندامت میں ڈوبا لہجہ تھا جو کار کی خاموشی میں گونج رہا تھا ۔ دران اب بھی چپ تھا ۔
” میں تمھاری برابری کرنا چاہتا تھا ۔ تم سے آگے نکلنا چاہتا تھا ۔ “
برھان گردن جھکائے سر کو دائیں بائیں جنبش دیتے ہوئے دلگیر اور نادم لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
” میں تم جیسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ نہ تم جیسا حوصلہ ہے مجھ میں نہ تم جیسا ظرف ۔ تم نے مجھے بچا کر میری گردن کو ندامت کے بوجھ سے جھکا دیا ہے ۔ “
اس نے بات کرتے ہوئے آہستگی سے سر اوپر اٹھایا اور تاہنوز خاموشی سے ڈرائیو کرتے دران کی طرف دیکھا ۔
” میں تمھارا شکریہ ۔۔”
” میرا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ “
دران نے سپاٹ لہجے میں اس کی بات کاٹی تو وہ ایک دم سے چپ ہوا ۔
” شکریہ ادا کرنا ہے تو سبرینا کا کرنا ۔ میں نے تمہیں صرف اس کے کہنے پر بچایا ہے اور وہ جس شخص کی بیٹی ہے میں تاعمر اس کے احسانات کے بوجھ تلے دبا رہوں گا ۔ “
وہ اب دم سادھے دران کو سن رہا تھا جو اس کی طرف دیکھے بنا بات کر رہا تھا ۔
” شکریہ ادا کرنا ہے تو اس لڑکی کا کرنا جس کے لیے تم نے اتنی بڑی چال چلی اور اس نے مجھے کہا کہ آپ میرا کوئی بدلہ برھان سے نہیں لیں گے ۔ “
برھان نے نگاہیں جھکا دیں وہ جویریہ کی بات کر رہا تھا ۔ ہاں وہ اس بات پر یقین کر سکتا تھا ۔ یہ بات اس جیسی اعلی ظرف کی لڑکی ہی کر سکتی تھی ۔
” میں اپنی بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے والی کی آنکھیں نوچ لوں لیکن جب وہ خود مجھ سے وعدہ لے کہ میں تمہیں ہاتھ نہ لگاؤں تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ “
دران نے کندھے اچکائے ۔ ایک نگاہ اس پر ڈالی اور پھر سے سڑک کی جانب موڑ دی ۔
” میرا تو دل یہ چاہ رہا ہے کہ تمہیں ابھی گاڑی سے اتاروں سامنے سڑک پر کھڑا کروں , تم پر گاڑی چڑھاؤں اور کچلتا ہوا اوپر سے گزر جاؤں ۔ “
دران نے اتنی سنجیدگی سے کہا کہ وہ بے ساختہ اس کی اتنی وحشیانہ سوچ پر تھوک نگل گیا ۔
” لیکن مجبور ہوں ۔ ایک طرف یاور چاچو کی بیٹی کے شوہر ہو تو دوسری طرف میری بیوی کا مجھ سے لیا گیا وعدہ ہے ۔ اس لئے مجھے اپنی خواہش کا گلا گھونٹنا پڑ رہا ہے ۔ “
وہ سنجیدگی سے اپنی بات کو مکمل کرنے کے بعد ڈرائیونگ میں مصروف تھا ۔ برھان نے اس کے بعد بولنے کی ہمت نہیں کی تھی ۔
☆☆☆☆☆
امریکہ میں بیسویں صدی کا ایک اور شفاف اور روشن دن اپنے عروج سے زوال کی طرف بھاگا جا رہا تھا ۔ کیلیفورنیا کے ائیر پورٹ میں لوگوں کی گہما گہمی عروج پر تھی ۔ جہاز مختلف ملکوں کے لئے وقفے وقفے سے اڑان بھر رہے تھے ۔ کچھ لوگ آ رہے تھے اور کچھ جا رہے تھے ۔ ان آتے جاتے لوگوں میں ایک وہی تھی جو کتنے گھنٹوں سے انتظار گاہ میں لگے صوفے پر پریشان حال بیٹھی تھی ۔
نوین کے ساتھ شادی کرنے کے بعد آج دوسرا دن تھا اور انہیں آج پاکستان کے لئے نکلنا تھا ۔ نوین پانچ ماہ تک اس کے ساتھ اس کے فلیٹ میں چھپا رہا تھا اور اب آخری دفعہ کیفے میں اپنے کچھ ضروری کاغذات لینے کے لئے گیا تھا ۔ کیفے میں اس کے پارٹنر اور دوست نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا اور اب بھی اس کے پاسپورٹ سے لے کر خفیہ طور پر ان کے پاکستان جانے کا سارا انتظام اس نے کیا تھا ۔ اس نے آج نوین کے کچھ اہم کاغذات دینے کے لئے اسے بلوایا تھا ۔
نوین نے اسے تاکید کی تھی کہ وہ ائیر پورٹ پر اس کا انتظار کرے ۔ وہ کیفے سے سیدھا ائیر پورٹ آئے گا اور پھر یہاں سے وہ لوگ پاکستان کے لئے نکل جائیں گے لیکن وقت گزرتا جا رہا تھا اور نوین نہیں آ رہا تھا ۔ ان کی فلائیٹ کی اناؤنسمنٹ بھی ہو چکی تھی اور نوین کی کہیں کوئی خبر نہیں تھی ۔
وہ بے چینی سے بار بار ہاتھ میں بندھی گھڑی کو دیکھ رہی تھی اور کبھی آتے جاتے لوگوں کو ۔ ان کا جہاز اڑان بھر چکا تھا لیکن نوین کا اب تک کہیں کوئی پتا نہیں تھا ۔
اب تو یہاں بیٹھنا بیکار تھا ۔ وہ ابھی بے چینی سے اپنی جگہ سے اٹھی ہی تھی جب سامنے سے آتے اسفند کو دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف بڑھی ۔
” اسفند کہاں تھے تم اور نوین کہاں ہیں ؟ فلائیٹ کا وقت گزر گیا میں اتنی پریشان ہوں یہاں ۔ “
وہ پریشانی میں پوچھتی ہوئی اچانک خاموش ہوئی ۔ اسفند کا زرد چہرہ اور نم آنکھیں اس نے اب دیکھی تھیں ۔ اس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید تھا اور آنکھیں نا صرف نم تھیں بلکہ سرخ ہو رہی تھیں ۔
” ا۔ا۔ا اسفند ۔۔۔ “
ذہن ایک سکینڈ میں ٹھنکا اور اس کی پھیکی آواز ابھری , جسم کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے اور دل خوف سے دھڑکنے لگا تھا ۔
” اسفند نوین کہاں ہیں ؟ تم ایسے کیوں کھڑے ہو؟ “
وہ بمشکل کانپتی آواز میں سوال پوچھ رہی تھی ۔ اسفند نے جواب دینے کے بجائے سر جھکا دیا ۔
” ایسے ۔۔۔ا۔۔۔ایسے کیوں کھڑے ہو؟ کچھ بولو ۔ “
” کیفے میں بلاسٹ ہو گیا ۔ نوین بھائی ۔۔۔۔ نوین بھائی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ۔”
اسفند بمشکل جملہ ادا کر سکا جبکہ سامنے کھڑی کنز کے اردگرد کا منظر گھوم گیا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا ۔ ساکن وجود دھڑام سے زمین پر گرا ۔
” کنز ۔۔۔ کنز ۔۔۔ “
اسفند گھبرا کر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا ۔ کنز پارکر فرش پر بے سدھ پڑی تھی ۔
☆☆☆☆
بیورلی ہلز رات کے اس پہر بھی روشنیوں سے دمک رہا تھا۔ این لا سینیگا بلوڈ اپٹ کے اس فلیٹ کے دروازے کے سامنے جیسیکا دم سادھے کھڑی تھی ۔ سیاہ ٹی شرٹ کے نیچے لمبی بھوری سکرٹ پہنے , بالوں کی اونچی پونی بنائے , کندھے پر بیگ لٹکائے اور ہاتھ میں سیاہ فائل تھامے وہ مضطرب کھڑی تھی ۔
وہ آج دران سے ملنے انل کے فلیٹ پر آئی تھی ۔ آج شام بیکری میں ہی اسے انل کا پیغام ملا تھا ۔ دران نے کہیں باہر ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ ابھی اس کا اور اپنا یہ رشتہ دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتا تھا۔
عجیب سا احساس تھا جس میں گھری وہ ابھی دروازے کو ہی گھور رہی تھی جب اچانک دروازہ کھل گیا ۔
انل سامنے کھڑا تھا ۔ دونوں کی نگاہیں بے ساختہ ملیں ۔ وہ آج تین ہفتے بعد اسے دیکھ رہی تھی۔ بڑھی ہوئی شیو اور بکھرے بال ۔ اس نے پہلے کبھی انل کو اس حلیے میں نہیں دیکھا تھا ۔ وہ تو ہمیشہ نک سک سے تیار اور سوٹڈ بوٹڈ رہتا تھا ۔
” اندر آؤ۔ “
انل نے آہستگی سے کہا اور پیچھے ہوتے ہوئے راستہ دیا ۔ وہ کندھے پر بیگ کی سٹریپ درست کرتی ہوئی آگے بڑھی اور جیسے ہی لاؤنج میں پہنچی قدم تھم گئے ۔ دران سامنے صوفے پر بیٹھا تھا ۔ وہ پہلی دفعہ اسے یوں ٹی وی اور سنیما سکرین کے بجائے اپنے سامنے دیکھ رہی تھی ۔ سفید ڈھیلی سی ٹی شرٹ کے نیچے نیلی جینز پہنے وہ سپر سٹار عام سے حلیے میں بھی بے حد حسین لگ رہا تھا ۔
وہ نہ صرف بے حد خوبرو تھا بلکہ آج تو ہر لحاظ سے کنز پارکر کی جھلک دے رہا تھا ۔ وہ اکثر یہ سوچتی تھی اور افسوس کرتی تھی کہ اس کی ماں اتنی خوبصورت ہے لیکن اس کے بہت کم نقوش اپنی ماں سے ملتے ہیں ۔ آج دران کو دیکھ کر لگا وہ ان کے سارے نقوش چرائے ہوئے تھا ۔ بڑی اور گھنی پلکوں والی لمبی پرکشش آنکھیں ۔ رعب دار ناک , خوبصورت تراش کے ہونٹ اور گھنے بال ۔ دران اس کو دیکھ کر صوفے پر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
عجیب لمحہ تھا ۔ ایک بہن بھائی کے ملن کا لمحہ , وہ بہن بھائی جو ایک ہی ماں کے بطن سے پیدا ہوئے مگر اتنے برسوں اس بات سے انجان رہے ۔ وہ یونہی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی صوفے کے پاس آئی ۔ دران نے اسے بیٹھنے کے اشارہ کیا اور اس کے بیٹھتے ہی خود بھی بیٹھ گیا ۔ جیسیکا نے ہاتھ میں پکڑی فائل کو صوفے کے سامنے رکھی میز پر رکھا ۔ اگر تذبذب کا شکار وہ تھی تو دران بھی عجیب کشمکش کا شکار لگ رہا تھا ۔
وہ دران کے بولنے کی منتظر تھی اور شاید دران اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے گھٹنوں پر کہنیاں ٹکائے , ہاتھوں کے پنجوں کو آپس میں ملائے , سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ کچھ دور فاصلے پر رکھے کاوچ پر انل بیٹھا تھا ۔ وہ بھی دونوں کی خاموشی کو دیکھ رہا تھا ۔
” کچھ کہیں گے نہیں ؟ “
جیسیکا کی آواز نے خاموشی کو ختم کیا تو دران نے سر اوپر اٹھایا ۔
” تم کچھ کہو ۔ “
دران نے فوراً ایسے کہا جیسے بس اسی کے بولنے کا منتظر تھا ۔ وہ اس سے تین سال چھوٹی تھی لیکن پھر بھی ایک عجیب جھجک تھی ۔
” یہ کاغذات ۔۔۔ یہ سب۔۔۔ ان سب کی ضرورت نہیں تھی ۔ کیا آپ جانتے ہیں آپ کی شکل مما سے اتنی ملتی ہے کہ جب انل نے مجھے سب بتایا تو مجھے یقین کرنے میں ایک سکینڈ نہیں لگا ۔ “
میز پر رکھی فائل کی طرف اشارہ کرتی ہوئی وہ مبہم سے مسکرائی ۔ یہ فائل دران نے ہی اسے بھجوائی تھی ۔ جس میں تمام ثبوت موجود تھے جس سے یہ بات ثابت ہوتی تھی کہ وہ کنز پارکر کا ہی بیٹا ہے ۔
” بس اعتراض ہے تو اس بات کا کہ آپ اتنے سالوں سے یہ سب چھپ کر کیوں کر رہے تھے ۔ مجھے پیسوں سے زیادہ آپکی ضرورت تھی ۔ “
آخری الفاظ پر جیسکا کے لہجے میں نمی کا عنصر شامل تھا ۔ دران نے اس کے معصوم سے چہرے کو محبت اور شفقت سے دیکھا ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ۔
” آپ کے پاس جھوٹے ہی سہی لیکن بہت سے رشتے تو تھے ۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا ۔ میں بہت بہت تھک چکی ہوں ۔ “
آنسو ٹوٹ کر گال پر گرا ۔ دران نے ضبط سے لب بھینچے ایسے جیسے اس کا یہ آنسو اس کے دل پر گرا ہو ۔
” مما نے آپ کے بارے میں مجھ سے کبھی کوئی بات نہیں کی ۔ کبھی غصہ کرتی تھیں , چلاتی تھیں لیکن آپ کے بارے میں کبھی ذکر نہیں کیا ۔ “
” میں یاد نہیں ہوں گا ان کو ۔ “
اف۔۔۔ یہ لہجہ ۔ دران کی آواز کا بھاری پن اس کے دل پر بڑھتے بوجھ کی عکاسی کر رہا تھا ۔ شاید وہ بھی رو رہا تھا لیکن اس کے آنسو اندر گر رہے تھے اسی لئے آواز لڑکھڑا رہی تھی ۔
” آپ صیح کہہ رہے ہیں ۔ انہیں تو میں یاد نہیں رہتی تھی جو ہر دم ان کے ساتھ تھی ۔”
ایک تلخ اور ماضی کے تکلیف دہ لمحوں کی چبھن لئے مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا گھیراؤ کیا ۔ جیسیکا نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کئے اور انہیں پھر سے گود میں دھر لیا ۔
” میں اگلے ہفتے ان سے ملنے جا رہی ہوں ۔ آپ ساتھ چلیں گے ؟ “
وہ دران سے سوال پوچھ رہی تھی ۔ وہ خود تو ہر ماہ بعد یا کچھ ہفتوں کے بعد کنز کو دیکھنے اولڈ ہوم ضرور جاتی تھی ۔ کنز پارکر کی صحت اب بالکل ٹھیک تھی اور اسے ہسپتال سے اولڈ ہوم میں منتقل کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ جسمانی طور پر تو اب بہت بہتر تھی لیکن ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھی ۔ وہ بہت خاموش رہتی تھی اور گھنٹوں ایک ہی نقطے پر نگاہیں جمائے رکھتی تھی ۔ دران تو جیسے اس کے سوال پر مجسم ہوا اور پھر آہستگی سے سر کو نفی میں جنبش دی ۔
” کیوں ؟ آپ کو چلنا چاہیے ۔ “
” نہیں میں ان سے ملنا نہیں چاہتا اور تم بھی کبھی ان سے میرا ذکر مت کرنا ۔ “
” مگر۔۔”
” کبھی مت کرنا ۔ “
دو ٹوک لہجہ تھا ۔ جیسیکا نے دکھ سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا ۔ خاموشی پھر سے وقت کو نگلنے لگی ۔
ایک ۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔ تین ۔۔۔ سکینڈ
” یہ تمھارے نئے فلیٹ اور کار کی چابی ۔ “
دران نے ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی دو چابیاں اٹھا کر اس کی طرف بڑھائیں ۔ جیسیکا نے چونک کر دران کی طرف دیکھا اور پھر سرعت سے نفی میں سر ہلایا ۔
” مجھے نہیں چاہیے ۔ “
” تم سے پوچھ تھوڑی رہا ہوں کہ تمہیں چاہیے یا نہیں ۔ میں مسلمان ہوں اور ہمارے ہاں شادی سے پہلے تک بہن کی تمام ذمہ داری بھائی پر ہوتی ہے ۔ “
دران کے رعب دار لہجے اور بات پر وہ کچھ بھی کہے بنا چابی تھام گئی ۔ اس کی شخصیت اس کے بات کرنے کا انداز وہ اصل زندگی میں بھی کسی ہیرو سے کم نہیں تھا ۔
” تم کل سے بیکری نہیں جاؤ گی ۔ یہ یونیورسٹی کا داخلہ فارم ہے ۔ پڑھائی شروع کرو اپنی ۔”
دران نے اب میز پر سے ایک فائل اٹھا کر اس کے سامنے رکھی ۔ یونیورسٹی آف فائن آرٹس کا نام پڑھتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر دران کی طرف دیکھا ۔
” آپ کو کیسے پتا کہ فائن آرٹس میں پڑھنا میرا خواب ہے ؟ “
” مجھے سب پتا ہے ۔ بس ابھی سب کے سامنے یہ بات نہیں کھول سکتا کہ تم میری بہن ہو لیکن تمھاری ہر خواہش کا احترام کرنا اور خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے ۔ “
وہ ایک دم سے صوفے پر کھسکتی ہوئی آگے ہوئی اور دران کے کندھے پر سر رکھ دیا ۔
” مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ آپکی ضرورت ہے ۔ “
وہ رو رہی تھی ۔ دران نے آہستگی سے اس کے سر پر گال ٹکایا ۔
” میں ہمیشہ سے ساتھ تھا اور ہوں ۔ “
وہ دران کی گردن کے گرد بازو حائل کئے کسی چھوٹی بچی کی طرح لپٹ گئی ۔ ایک شفقت بھرا احساس تھا جس سے اس کا وجود ہمیشہ سے نا آشانہ رہا تھا ۔ چند پل یونہی گزرنے کے بعد وہ مسکراتی ہوئی سیدھی ہوئی ۔
” شفٹنگ کر لینا ۔ انل یہیں رہے گا تمھاری مدد کے لئے ۔ مجھے کل پاکستان جانا ہے ۔ “
دران نے اس کے گال پر شفقت سے تپھکی دیتے ہوئے کہا تو اس کی نگاہیں بے ساختہ کچھ دور بیٹھے انل پر اٹھیں اور ایکدم سے چہرے کے تاثرات بدل گئے ۔
” ہوں ۔ آپ فکر نہ کریں ۔ میں کر لوں گی سب , آپ کے انل کی مجھے ضرورت نہیں ہے ۔ “
کھردرا اور سپاٹ لہجہ تھا ۔ دران نے گہری سانس لی اور ایک نگاہ انل پر ڈالی جس کے دل پر جیسیکا کی یہ بات ہتھوڑے کی طرح برسی تھی ۔
” دراصل یہ جو بھی کرتا رہا میرے کہنے پر کرتا رہا ۔ “
” جانتی ہوں لیکن تب مجھے آپ کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا ۔ اب میں آپ کو جانتی ہوں تو مجھے آپ کے پی اے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ “
” یہ صرف میرا پی اے نہیں ۔ میرا واحد دوست اور میرا سب کچھ ہے ۔ “
اب کی بار دران مسکرایا اور لفظوں پر زور دیا کیونکہ انل کا اترتا چہرہ وہ اچھے سے محسوس کر سکتا تھا ۔
” خوشی ہوئی یہ جان کر لیکن مجھے آپ کے دوست کی کوئی مدد نہیں چاہیے ۔ “
اف ۔۔۔وہ تو بہت سنجیدہ تھی ۔ دران نے اس کے چہرے کی بڑھتی سختی دیکھ کر فوراً ہاتھ اوپر اٹھایا ۔
” اوکے ۔ اوکے ۔ جیسی تمھاری مرضی ۔ “
” چلیں مجھے اب جانا ہے ۔ پھر ملیں گے ۔ امید کرتی ہوں اب آپ سے ملنے کے لئے مجھے آپ کے پی اے سے رابطہ نہیں کرنا ہو گا ؟ “
کاٹ دار لہجہ تھا ۔ انل کا چہرہ مزید اتر گیا جبکہ دران کن اکھیوں سے باری باری دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا ۔
” نہیں بالکل نہیں ۔ تم جب چاہو مجھے کال کر سکتی ہو اور یہ کریڈٹ کارڈ رکھ لو ۔ “
دران نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کارڈ اس کی طرف بڑھا دیا ۔ اب کی بار جیسیکا نے بلا جھجک کارڈ تھاما اور پھر دران سے گلے مل کر انل کی طرف بنا دیکھے دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ دران اب بھی جانچتی نگاہوں سے انل کا اترا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔ جو خاموشی سے دوبارہ صوفے پر بیٹھ رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
گاڑی متوازن رفتار سے سڑک پر چل رہی تھی ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر دران بیٹھا تھا اور وہ آنکھیں موندے اس کی ساتھ والی نشست سے ٹیک لگائے ہوئے تھی ۔ گہرے نیلے رنگ کے قمیض شلوار میں ملبوس سر پر نفاست سے دوپٹہ جمائے , ہلکے سے میک اپ سے آرائستہ کئے نقوش اور لبوں پر میٹھی سے مسکان وہ سڑک کے پار نیلے بادل کی طرح قدرت کا حسین شہکار لگ رہی تھی ۔
وہ کچھ گھنٹے پہلے ہی جووت اور مریم سے ملنے کے بعد گھر سے نکلے تھے ۔ دران نے سراسر جھوٹ کہا تھا کہ وہ اسے زندگی کی تمام خوشیاں دینے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ وہ تو اسے زندگی کی ہر خوشی دے رہے تھا ۔
دران نے پتا نہیں کیا جادو چلایا تھا کہ جو جووت کل تک اس کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا ۔ یہ دو دن ایک پاؤں پر اس کی اور دران کی خدمت میں لگا رہا تھا ۔ وہ دو دن دران کے ساتھ اپنے گھر میں رہ کر آئی تھی ۔ مریم , میری , سنانا اور جووت اسے سب کچھ مل گیا تھا ۔ جووت سنانا کے شوہر کی وجہ سے ہی ایک اچھی جگہ پر ملازمت کرنے لگا تھا اور ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھے ہوئے تھا ۔ جان کے جانے کے بعد سے وہ کافی ذمہ دار ہو گیا تھا ۔
وہ یونہی آنکھیں موندے پرسکون مسکرا رہی تھی جب دران نے ڈرائیو کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا ۔ ٹی شرٹ اور جینز پہنے اور سر پر کیپ جمائے وہ بہت حد تک لوگوں سے اپنا حلیہ چھپانے میں کامیاب ہوا تھا ۔
جویریہ کو یوں مسکراتا دیکھ کر اس نے بے ساختہ اس کے گود میں دھرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔ اچانک ہاتھ پر دران کے ہاتھ کی گرفت محسوس ہوئی تو اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور خیالوں سے باہر آئی ۔ وہ ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھامے اور دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو تھامے اپنے لبوں سے لگا چکا تھا ۔ دران کے اس انداز پر اس کی مسکراہٹ کا ساتھ گالوں کی بڑھتی لالی نے دیا تو وہ دلکشی کا سماں لگنے لگی ۔
” اب کہاں جا رہے ہیں ہم ؟ “
کھڑکی سے پار دیکھتے ہوئے سوال کرتی وہ نشست سے ٹیک ہٹاتی سیدھی ہوئی ۔ اسے اب محسوس ہوا تھا کہ گاڑی شہر کی حدود سے باہر نکل چکی تھی اور اب جس سڑک پر روادواں تھی وہ غالباً موٹروے تھی ۔
” لاہور ۔”
دران نے مختصر جواب دیا ۔ اس کے ہاتھ پر گرفت پھر سے مضبوط کی اور لبوں سے جوڑا۔
” لاہور ! لیکن کیوں ؟ مطلب کوئی کام ہے کیا وہاں ؟ “
حیرت سے گردن موڑے دران کی طرف دیکھا ۔ وہ اس کے ہاتھ کو ابھی بھی تھامے ہوئے تھا ۔
” کسی سے ملانا ہے تمہیں ۔ “
” کس سے ؟ “
” کسی سے ملانا ہے اور یہ دکھانا ہے کہ دیکھیں میں بھی اب زندگی جینے لگا ہوں ۔ اور یہ ہے میری زندگی جینے کی وجہ ۔ “
دران نے سرشار لہجے میں کہا اور پھر سے اس کے ہاتھ کو لبوں سے لگایا ۔ وہ ہنس دی اور حیرت سے رخ مزید دران کی طرف موڑ لیا ۔
” اچھا ایسا کون ہے وہاں ؟ “
” میرے استاد , میرے محسن ۔ تجوید ان سے ہی سیکھی ہے میں نے ۔ “
” سچ ۔۔ پھر تو مجھے ان سے مل کر بہت خوشی ہو گی ۔ “
اب کی بار وہ حیرت چھوڑ کر پرجوش ہوئی ۔ دران اس کی خوشی دیکھ کر ہنس دیا ۔
” ایک اور بات سن کر بہت خوشی ہو گی تمہیں ۔ “
مسکراتے ہوئے ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا اور نگاہیں پھر سے سامنے جما دیں ۔ جویریہ اب تجسس سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” ان کی اسلامی کتب کی شاپ ہے ۔ گھر میں بھی بہت زیادہ اچھی کتابوں کا مجموعہ ہے ۔ “
” اوہ گریٹ ۔ “
وہ واقعی بہت خوش ہوئی تھی ۔ دران اس کی خوشی دیکھ کر مسکرا دیا ۔ چند لمحے خاموشی کی بعد پھر سے اس کی آواز ابھری ۔
” تمہیں پتا ہے انہوں نے مجھے کس وقت سنبھالا تھا ؟ جب میں زندگی کے سب سے مشکل وقت سے گزر رہا تھا ۔ “
دران کے لہجے میں ایک دم سے سنجیدگی عود آئی تھی اور وہ تو جیسے اس کے ہنسنے سے جی اٹھتی تھی اور اس کے اداس ہونے پر مرجھا جاتی تھی ۔ دران کے چہرے کے کرب کو دیکھتے ہوئے اس کے لبوں پر سے بھی مسکان غائب ہوئی ۔ وہ آہستہ آہستہ اس پر کھل رہا تھا ۔
” تب میں نے سبرینا کی شکل میں آخری رشتے کو بھی کھو دیا تھا ۔ اتنی تکلیف میں تھا کہ اگر وہ مجھے نہ سنبھالتے تو ضرور ابھی تک بھٹک رہا ہوتا ۔ “
دران گہری سانس لیتے ہوئے چپ ہوا ۔ اس کے ہاتھ کو چھوڑ کر سٹیرنگ کو دونوں ہاتھوں سے تھاما ۔
” اگر تم نے مجھے نہ سمجھایا ہوتا اور یاور چاچو کا خیال نہ ہوتا تو میں برھان کو پولیس کے حوالے کرتا ۔ “
وہ ایک دم سے اس کے لہجے کی بڑھتی سختی دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی ۔ پھیکی سی مسکان لبوں پر سجائے گویا ہوئی ۔
” دران زندگی بہت مختصر ہے ۔ آپ نے بچپن سے لے کر اب تک نفرتیں دیکھیں اور ہمیشہ خود کو نفرت میں جلایا ۔ کبھی ان کی نفرت تو کبھی ان سے نفرت ۔ میں چاہتی ہوں اب آپکی زندگی میں صرف خوشیاں ہوں ۔ “
وہ دران کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے بول رہی تھی جبکہ اس کے بھینچے جبڑے اور چہرے کی سختی بتا رہی تھی کہ وہ برھان کو دل سے معاف نہیں کر سکا تھا ۔
” ہم جب اختیار اور طاقت رکھنے کے باوجود کسی کو معاف کر دیتے ہیں تو اللہ خوش ہوتا ہے ۔ آپ یہ کیوں سوچ رہے ہیں کہ آپ نے ان سے بدلہ نہیں لیا ۔ آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود آپ نے سب اللہ پر چھوڑ کر اللہ کو خوش کیا۔ بے شک جزا اور سزا سب اللہ دینے والا ہے ۔ “
وہ اتنے میٹھے لہجے میں اسے سمجھا رہی تھی کہ دران کے چہرے کی سختی اس کی مٹھاس بھری باتوں سے زائل ہو رہی تھی ۔
وہ اس کا سکون تھی اور وہ صیح کہہ رہی تھی ۔ اسے اب اس کے سنگ زندگی جینی تھی اور زندگی جینے کے لئے نفرتوں کو ختم کرنا پڑتا ہے اور چند ان چاہے رشتوں کو بھی معاف کرنا پڑتا ہے ۔ دران نے پھر سے اس کے ہاتھ کو تھاما , لبوں سے لگایا اور مسکرا دیا۔
” تم اتنی اچھی کیوں ہو ؟ “
