Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 29)
Rate this Novel
Basil (Episode 29)
Basil by Huma Waqas
“کیا تم سنجیدہ ہو ؟ “
جیسیکا نے حیرت سے اس کے مسکراتے چہرے کے طرف دیکھا ۔ وہ کاونٹر پر کہنی ٹکائے پرسکون کھڑا تھا ۔
” بہت زیادہ ۔”
لبوں کو آپس میں ملائے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ۔ سیاہ کوٹ پنٹ, گلے میں جھولتی گرے ٹائی وہ شاید اپنی جاب سے واپسی پر سیدھا ادھر آ گیا تھا ۔ جیسیکا نے پرسوچ نگاہوں سے اس کے سراپے کو جانچا ۔
” ٹھیک ہے سامنے کیفیے میں تشریف رکھو میں کافی بھجوا دیتی ہوں ۔ “
سنجیدگی سے کہتے ہوئے ۔ پیک شدہ کیک کو کاؤنٹر پر ایک طرف رکھا ۔
” اوں ہوں ۔ تم بالکل غلط سمجھی ہو ۔ میں صرف کافی پینے ہی نہیں بلکہ تمھارے ساتھ بیٹھ کر کافی پینے آیا ہوں ۔ “
انل نے مسکراہٹ کو مزید گہرا کیا ۔ ۔ وہ کاؤنٹر پر رکھی کہنی کے بل اس کی طرف پلٹی ۔ گلابی چہرہ ہلکا سا سرخ ہوا ۔
“جی ۔۔۔ “
حیرت سے بھنویں اٹھائیں ۔ انل فوراً سیدھا ہوا ۔
” دیکھیں نہ شکریہ ادا تمہیں کرنا ہے تو کافی پیتے ہوئے ساتھ بھی تمھارا ہونا چاہیے نہ کہ خالی کرسی کا ۔ “
کندھے اچکائے اپنی فرمائش کی وضاحت دی ۔ جیسیکا نے کچھ دیر گھور کر اس کے پر اعتماد چہرے کی طرف دیکھا ۔ پھر ضبط سے گہری سانس باہر انڈیلی۔
” ٹھیک ہے ۔ تم ایسے میری جان نہیں چھوڑنے والے۔ تو چلنا ہی پڑے گا ۔ کیفیے ٹریا چلو ۔ “
” ایک آخری شرط کافی کہیں اور سے پیتے ہیں ۔ یہاں اس بیکری کی مجھے پسند نہیں ۔ “
جیسیکا نے حیرت سے اسے ناک چڑھاتے ہوئے دیکھا ۔ پھر غصے سے منہ میں کچھ بڑبڑاتی , ناک پھلائے چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئ اور وہ بمشکل اپنے قہقے پر قابو پا سکا ۔
دران نے یہ کس کام پر لگا دیا تھا اسے ۔ لڑکیوں کے ساتھ یوں فلرٹ کرنا اس کے بس کا کام نہیں تھا لیکن دران کے ساتھ رہتے ہوئے اتنی ادکاری تو وہ سیکھ ہی چکا تھا ۔ ایک نگاہ گھڑی پر ڈالی اور پھر لب بھینچے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چینجنگ روم کے بند دروازے کی طرف دیکھا ۔ چند منٹ بعد ہی وہ لانگ نیلے کوٹ میں ملبوس باہر نکلی ۔ غصے سے گھورتی ہوئی وہ اس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆
ہاروی پیشانی پر شکن سجائے صوفے کی پشت کو چھوڑ کر ایک جھٹکے سے آگے ہوا ۔ وہ اپنے سامنے لگے سیاہ صوفے پر موجود برھان سے مخاطب تھا ۔ جو سر جھکائے میرون لیدر جیکٹ کے نیچے سیاہ جینز زیب تن کیے ہوئے تھا ۔ شکل و صورت اور قد کاٹھ میں میں وہ اسفند ملک کی پر چھائی تھا ۔ ادکاری میں تو بس وہ دران کی شہرت کی دکھا دیکھی اچھی شکل کے بل بوتے پر گھس آیا تھا جبکہ ٹیلنٹ کے نام پر اس کے پاس کچھ نہیں تھا ۔
” تمہیں اتنا بڑا پروجیکٹ ہاتھ میں کر کے دیا۔ بھاری بھرکم ایڈوانس دلوایا اور تم ہمارا اتنا سا کام بھی نہیں کر سکے ؟ “
ہاروی کے لہجے میں تلخی اور طنز دونوں شامل تھے ۔ برھان نے جھکا سر اوپر اٹھایا اور باری باری ہاروی اور بروس کی طرف دیکھا۔
انہوں نے برھان کو سٹفین کے میگا پروجیکٹ فلم میں لیڈ رول دلوا کر با آسانی خرید لیا تھا لیکن برھان تھا کہ ابھی تک جویریہ کو ان تک پہنچانے کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکا تھا ۔
” آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے کہ یہ اتنا آسان ہے ؟ میں درانگ ولاس کی ہر خبر تو دے رہا ہوں ۔ وہ ہاسپٹل میں تھی ۔ بہت اچھا موقع تھا ۔ جو کرنا تھا کر لیتے ۔ “
کندھا اچکاتا وہ پھر سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا ۔ وہ اس وقت بروس کے گھر میں ان دونوں کے ساتھ خفیہ ملاقات کے لیے آیا تھا ۔
” تم لوگوں نے خود سُستی دکھائی ۔ اچھا خاصہ ہاسپٹل کی انتظامیہ کو ہم خرید سکتے تھے ۔ اسے وہیں سے اٹھوا لیتے تھے ۔ “
برھان نے جیکٹ کے کالر کو زور سے جھٹک دیا ۔ بروس نے اس کی بات پر زور زور سے نفی میں سر ہلایا ۔
” ہم نے کوئی سُستی نہیں دکھائی تھی ۔ اُسی دن شیون سے کہہ کر کچھ غنڈے بلوا بھی لیے تھے لیکن درانگ دوسرے دن ہی اس لڑکی کو ڈسچارج کروا کے گھر لے گیا ۔ ہمیں تھا کہ وہ اتنی زیادہ بیمار ہے تو کم از کم ایک دو ہفتے ہسپتال میں رہے گی ۔ “
” وہ تو جو ہونا تھا ہو گیا ۔ ہاسپٹل والا پلین ناکام رہا ۔ اب آگے کی سوچو کیا کرنا ہے ؟ چاہے کام تسلی سے ہو لیکن بنا شک لڑکی کو قابو کرنا ہے ۔ “
ہاروی نے ہاتھ کو ہوا میں لہراتے ہوئے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔ آنکھوں کو چندھی کیے بات مکمل کی ۔
” دیکھو میں تم دونوں کو صاف صاف بتا دوں کہ میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ۔ دران کی سکیورٹی بہت سخت ہے۔ مجھے بھی مکمل جانچ کے انتظامات سے گزر کر گھر میں داخل ہونے دیا جاتا ہے ۔ “
برھان ان کو اپنی پریشانی سے آگاہ کر رہا تھا ۔ لالچ میں آ کر ان کا ساتھ دینے کی حامی تو بھر چکا تھا لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہا تھا ۔
” دران کے کمرے کے باہر کیمرے نصب ہیں ۔ پہلے پھر بھی وہ لڑکی باہر آ جاتی تھی اور میں اس سے دوستی بھی بڑھا رہا تھا لیکن اب تو وہ بیمار ہے باہر آنے کا بھی کوئی چانس نہیں ۔ روزین اور نرس کے علاوہ کوئی کمرے میں نہیں جا سکتا ہے ۔ “
برھان کی بات پر بروس نے پرسوچ انداز میں ٹھوڑی سہلائی پھر ایک دم سے صوفے کی پشت چھوڑے رازدانہ آگے ہوا ۔
” اگر ہم ایسا کریں کہ کسی اور کو بھی تمھاری مدد کے لیے گھر میں داخل کر دیں ؟ “
” ایسا کون ہو سکتا ہے ۔ دران کی اجازت کے بنا کوئی بھی گھر میں اپنا ذاتی ملازم تک نہیں رکھ سکتا ۔ “
” وہ ملازم نہیں ہو گا ۔ “
” تو پھر کون ؟ “
برھان نے حیرت سے سوال کیا ۔ بروس معنی خیز میں مسکرایا ۔
” تمھاری بیوی ۔ “
“کیا! “
برھان اچھل کر سیدھا ہوا ۔ ہاروی کی حیرت بھی اس سے کم نہیں تھی ۔ بس ںروس تھا جو پرسکون تھا ۔
” ہاں تمہاری شادی کروا دیتے ہیں ۔ “
پر سکون لہجے میں اس حیرت پر جواب دیا اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہاروی کی طرف دیکھا جو اب بھی شاید اس بات پر غور کر رہا تھا ۔
” ویٹ ۔۔۔ ویٹ ۔۔۔ “
برھان نے دونوں کو یوں متفق ہوتے دیکھ کر بازو اوپر اٹھائے ۔
” میں ایسے اچانک کیسے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کر لوں گا ؟ دران کو شک ہو سکتا ہے ۔ “
” تو درانگ نے بھی تو اچانک شادی کی ہے ۔ “
بروس نے فوراً جواب دیا ۔
” اس نے اپنی شادی کی بہت بڑی کہانی ڈالی ہے ۔ “
برھان نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا جو اسے استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا رہے تھے ۔
” اس نے کہانی ڈالی ہے تو ہم کہانی بنا دیتے ہیں ۔ “
ہاروی نے پہلی بار گفتگو میں نہ صرف حصہ ڈالا بلکہ اس کی بات سے صاف ظاہر ہو گیا کہ وہ بھی بروس کے اس پلین پر متفق ہے ۔ برھان نے بیچارگی سے دونوں کی طرف دیکھا ۔
” لڑکی ہم تمہیں دیں گے بس تمہیں اس سے جھوٹی شادی کرنی ہے اور جب ہماری وہ لڑکی ایک دفعہ گھر میں داخل ہو گئی تو پھر تم سب کام اس پر چھوڑ دینا ۔ “
بروس نے پرجوش لہجے میں کہا ۔ اب ہاروی اور بروس کے چہرے چمک رہے تھے جبکہ وہ پریشانی سے ماتھے کو انگلیوں سے سہلا رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
رات کے نو بجے درانگ ولاس کی روشنیاں جل کر اسے خوبصورتی بخش رہی تھیں ۔ سفید وردی میں ملبوس نرس ہاتھوں میں چھوٹی سی ٹرے تھامے اس ہلکے نیلے اور سفید رنگ کے ملاپ لیے خوبصورت کمرے میں بیڈ کے کنارے پر کھڑی تھی ۔ بیڈ پر تکیوں کے سہارے کراؤن سے پشت ٹکائے وہ بیزاری سے اپنے سر پر کھڑی نرس کو دیکھ رہی تھی ۔ سفید ڈھیلی سی شرٹ , بیماری سے جونچتا لاغر
وجود اور ملول سا چہرہ لیے وہ مسلسل سر نفی میں ہلا رہی تھی ۔
ہسپتال سے درانگ ولاس میں آئے آج تیسرا دن تھا ۔ اس کی تمام طر دیکھ بھال کے لیے ہر وقت کمرے میں نرس موجود رہتی تھی۔ ڈاکٹر روز معائنے کے لیے آتا تھا ۔ اب بھی نرس اسے رات کی دوا دینے کے لیے کھڑی تھی ۔
” میم پلیز ایسے مت کریں ۔ یہ میڈیسن آپ کے لیے بہت ضروری ہے ۔ “
سفید وردی میں ملبوس کھڑی وہ التجائی مگر شائستہ لہجے میں جویریہ سے دوا لینے کا اصرار کر رہی تھی ۔
” مجھے نہیں لینی میں ٹھیک ہوں ۔ “
آہستگی سے مگر بیزاری سے منع کیا ۔ دوا اتنی زیادہ سخت تھی کہ وہ دن رات نیم غنودگی کی حالت میں رہتی تھی ۔ جسم تو ویسے ہی نقاہت زدہ تھا ساتھ منہ کا ذائقہ بری طرح خراب ہو چکا تھا ۔
” آپ ٹھیک نہیں ہیں میم آپ کو یہ میڈیسن لازمی لینی ہے۔ “
نرس بڑے مؤدب لب و لہجے میں گزارش کر رہی تھی ۔ جویریہ نے بچوں کی طرح ناک چڑھائی ۔ آج جا کر تو اسے کچھ ہوش آیا تھا ۔ سر ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا اور اب پھر سے دوا کھا کر وہ غنودگی میں بالکل نہیں جانا چاہتی تھی ۔
دران نائٹ ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس صوفے پر بیٹھا بظاہر تو ٹی وی سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا لیکن اس کے کان اس وقت سے نرس کی آواز پر لگے تھے جو مسلسل جویریہ کی منت سماجت میں لگی تھی ۔ جویریہ کے بار بار انکار پر وہ ایکدم سے ٹی وی کو بند کرتا اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ کے پاس نرس کے بالکل برابر میں آ کر کھڑا ہوا ۔
“سر دیکھیں میم آج بہت ضد کر رہی ہیں ۔ میڈیسن نہیں لے رہی ہیں ۔ “
نرس نے دران کو پاس دیکھ کر فوراً رخ اس کی طرف موڑ کر شکائتی لہجے میں جویریہ کی ضد کے بارے میں بتایا ۔ دران کے پاس آتے ہی وہ جو بیزاری سے نرس کی طرف دیکھ رہی تھی فوراً بے رخی اور ناگواری سے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔
” مجھے دیں میڈیسن ۔ “
دران نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ ان تین دنوں میں وہ پہلی بار اس کی اور نرس کی گفتگو میں مداخلت کر رہا تھا۔ نرس نے مسکراتے ہوئے میڈیسن والی ٹرے دران کو تھمائی ۔
” آپ جائیں ۔ میں دیتا ہوں میڈیسن ان کو ۔ “
” اوکے سر ۔”
نرس نے سر جھکا کر اثبات میں ہلایا اور ہاتھ باندھے باہر نکل گئی۔ دران نے گہری سانس لے کر بے رخی سے چہرہ موڑے بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا ۔ سفید شرٹ میں ملبوس , بکھرے بالوں کو ڈھیلی چوٹی بنائے وہ چہرے پر بلا کی سختی سجائے ہوئی تھی ۔
تین دن سے وہ بس چوری چوری اسے دیکھنے پر ہی اکتفا کئے ہوئے تھا ۔ وہ دوا کے زیر اثر زیادہ طر غنودگی میں ہی رہتی تھی ۔ وہ بیڈ کے پاس آتا بہت دیر کھڑا اس کے چہرے کو دیکھتا رہتا اور پھر صوفے پر چلا جاتا ۔
پتا نہیں کیوں لیکن جویریہ کو دیکھنا اس کے دل کو پرسکون کرنے لگا تھا ۔ اس کے چہرے پر موجود معصومیت اور سچائی دران کے اندر ہلچل مچانے لگی تھی ۔ وہ بہت بہت مضبوط ہونے کے باوجود اس انوکھی سی مضبوط لڑکی کے آگے جھکتا چلا جا رہا تھا ۔
” میڈیسن لو ۔ “
بہت دھیما لہجہ تھا ۔ وہ بیڈ کے کنارے پر ہی اس کے سامنے بیٹھ رہا تھا ۔ جویریہ نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے اپنے پاؤں سمیٹے ۔ اب اسے اس پل پل بدلتے انسان کی اس ہمدردی سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ وہ مختلف نہیں بہت عجیب تھا ۔ جویریہ کو لگنے لگا تھا وہ اسے سمجھ گئی ہے کہ اس کا اکیلا پن اس کی سختی کی وجہ ہے لیکن نہیں وہ پتھر تھا جس میں انسانیت نام کا کوئی احساس نہیں تھا ۔ وہ مطلبی اور سگندل ہے ۔
” میرا دل نہیں چاہ رہا ۔”
چہرے کے رخ کو ہنوز ایک طرف رکھتے ہوئے بے رخی سے جواب دیا ۔
” یہ دوا تمھارے دل نہیں دماغ کے لیے ہے ۔ “
” کچھ نہیں ہو گا میرے دماغ کو ۔ ایک وقت نہیں لوں گی تو کیا فرق پڑ جائے گا ۔ “
سپاٹ مگر تلخ لہجہ تھا ۔ دران نے اس کی گردن پر جھولتی گھنگرالی لٹ پر نگاہ جمائی ۔ پھر سر نیچے ٹرے پر جھکایا ۔
” ایک وقت کی دوا نہ لینے سے صحت ایک ہفتہ پیچھے چلی جائے گی ۔ “
سر جھکائے بے انتہا اپنائیت بھرے لہجے میں جواب دیا جس میں ندامت بھی شامل تھی ۔ وہ بہت شرمندہ تھا اس سے لیکن زندگی میں کبھی کسی سے معافی ہی نہیں مانگی تو سب سمجھ سے باہر تھا کہ کیا کرے ۔
” آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ “
” فکر نہیں کر رہا ہوں ۔ زمہ داری ہے یہ میری ۔ “
جھکا سر اوپر اٹھائے اس کی طرف دیکھا ۔ جویریہ کی یہ بے رخی یہ ناگواری دل میں عجیب طرح کی چبھن پیدا کر رہی تھی ۔ ایسا لگ رہا تھا وہ ناراض ہے تو کائنات کی ہر چیز , ہر انسان ناراض ہے ۔ اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
” ذمہ داری نہیں ایک ایسی نیکی جو آپ کے گلے پڑ گئی ہے ۔ ایک ایسا بوجھ جسے آپ اتار کر پھینکنا تو چاہتے ہیں لیکن اپنی ہی کی ہوئی جھوٹی باتوں کے پاس نے روک رکھا ہے آپکو ۔ “
ایک جھٹکے سے چہرہ سیدھا کیے وہ دران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دانت پیس پیس کر طنز کر رہی تھی ۔ اچانک اتنا اونچا بولنے پر سر میں شدید درد کی لہر اٹھی ۔
” آہ۔ہ۔ہ “
بے اختیار وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام گئی ۔ دران جو اس کے یوں بولنے پر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔ اس کے یوں سر تھامنے پر پریشانی سے آگے ہوا ۔
” زیادہ بولو مت یہ میڈیسن لو ۔ “
جلدی سے ٹرے آگے کی ۔ جویرہ نے ناگواری سے اس کے ٹرے سمیت بڑھے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے دور کیا ۔ دران نے لب بھینچے اس کی طرف دیکھا ۔ جو سپاٹ چہرے کے ساتھ اب بھی اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔
“دیکھو اگر خود سے میڈیسن نہیں لو گی تو زبردستی کروں گا ۔ “
دران کی بات پر وہ پیشانی کے بل گہرے کیے چہرے کے رخ کو دوسری طرف موڑ گئ ۔
” ٹھیک ہے تو تم ایسے نہیں ماننے والی ۔ “
دران نے ایک دم ٹرے کو بیڈ کے اطراف میں لگے میز پر رکھا اور کھڑا ہوا ۔ وہ جو اس کی بات پر بے نیازی دکھائے رخ موڑ کر بیٹھی تھی سراسیمگی سے گردن گھمائی ۔
دران نے جھک کر تکیے کے پاس پڑے اس کے سکارف کو اٹھایا ۔ سرخ سکارف کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر لمبائی رخ سیدھا کیا اور پھر اس پر جھکا ۔
” یہ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔ “
وہ حیرت سے اسے خود پر جھکتا دیکھ کر پیچھے ہوئی ۔ دران اس کی بات کا جواب دیے بنا اب اس کے دونوں بازو پیچھے کمر کی طرف موڑ رہا تھا ۔ وہ جھنجلا کر بازوؤں کو اس کے ہاتھوں کی گرفت سے چھڑوانے لگی ۔
“چھوڑیں مجھے ۔ کیا کر رہے ہیں ۔ “
بازؤں کو جھٹکے دیتے ہوئے غصے اور رعب سے کہا جبکہ وہ کسی ربورٹ کی مانند اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں اس کی کلائیاں تھامے اب ان کو سکارف سے باندھ رہا تھا ۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے میں غلام نہیں آپکی ۔”
بازو اتنی سختی سے بندھ گئے تھے کہ اب ہل نہیں رہے تھے ۔
” چپ بالکل چپ ۔ “
پھر سے اس کے سامنے بیٹھ کر لبوں پر انگلی رکھے غصے سے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔
” کھولیں مجھے فوراً ۔ آپ یہ سب کرنے کا حق نہیں رکھتے ہیں ۔ “
” میڈیسن کھائے بنا نہیں کھلے گا ۔ “
پرسکون لہجے میں کہا اور ادویات کی ٹرے کو پھر سے اٹھایا ۔ جویریہ نے غصے سے تلملاتے چہرے کے ساتھ گھور کر دیکھا۔
” مجھے نہیں کھانی میڈیسن میں ٹھیک ہو جاؤں گی ایسے ہی ۔ آپ کو بلاوجہ طرم خان بننے کی ضرورت نہیں ۔ “
” دیکھو شرافت سے منہ کھولو ورنہ میں اس میں بھی زبردستی کر سکتا ہوں ۔ “
دران نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے میڈیسن ہاتھ میں پکڑ کر اس کی طرف بڑھائی ۔ جویریہ کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیر گئے ۔ عنایت بھی جفاکاری میں کر رہا تھا ۔ کتنا پتھر دل تھا۔
ناگواری سے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا اور پھر بے بسی سے منہ کھول دیا ۔ دران نے میڈیسن اس کے منہ میں رکھی اور پھر پانی کے گلاس کو میز پر سے اٹھا کر اس کے منہ سے لگایا ۔ وہ ناگواری سے آنکھیں بند کیے دوا کو حلق سے نیچے اتار رہی تھی ۔ اسی طرح باری دونوں میڈیسن کھلا نے کے بعد گلاس کو میز پر رکھ کر سیدھا ہوا ۔
” گڈ ۔۔”
پچکارنے جیسا انداز تھا جیسے وہ کوئی بچی تھی جسے زبردستی دوا کھلانے میں وہ کامیاب ہوا تھا ۔
” اب کھولیں مجھے ۔ “
جویریہ نے دانت پیستے ہوئے اپنے بندھے بازؤں کو جھٹکا دیا ۔ وہ جو اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ رہا تھا کھڑے ہونے کے بجائے بیڈ پر کھسک کر آگے ہوا ۔ اس کے دونوں اطراف سے اپنے بازو گھما کر ہاتھوں کو سکارف سے بندھی گانٹھ پر رکھ دیا ۔
یہ بے ساختہ حرکت دران کو ہی بھاری پڑی ۔ قربت نے وجود میں بجلی دوڑا دی ۔ دل کی رفتار ایک سو اسی کی رفتار سے دوڑنے لگی ۔ سکارف کی گانٹھ کھولتے اس کے ہاتھ لمحہ بھر کے لیے دل کی کیفیت پر تھم گئے ۔ اس کے ساتھ یہ سب زندگی میں پہلی بار ہو رہا تھا ۔ یہ نہیں تھا کہ وہ اس کے قریب پہلی بار آیا تھا لیکن آج کچھ الگ تھا ۔
بمشکل اس کی کلائیوں پر بندھے سکارف کو کھول کر وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا اور پھر بنا پیچھے دیکھے ۔ تیز تیز ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا ۔
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا
جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا
اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا
تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا
میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا
لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
جویریہ نے آہستگی سے سر کو بیڈ کراؤن سے جوڑا ۔ گال نم تھے لیکن دل میں درد تھا ۔ یہ درد کے ہی لائق تھا ۔ پتھر سے محبت کر بیٹھنے والے دل ایسے ہی درد کے لائق ہوا کرتے ہیں ۔ بے دردی سے گال کے دونوں اطراف کو صاف کیا ۔ دوا اپنا اثر دکھانے لگی تھی ۔ سر پھر سے بھاری ہو رہا تھا ۔ کمفرٹر خود پر اوڑھتی وہ لیٹی تو وجود سے اٹھتی دران کی خوشبو تپھکی دینے لگی ۔
کمرے سے نکل کر تیز تیز قدم اٹھاتا وہ سیدھا لان میں پہنچا تھا ۔ دل اب بھی اس کے نرم حصار کو محسوس کرتے ہوئے دھڑک رہا تھا ۔ لان کے وسط میں آ کر سوئمنگ پول کے پاس سر کو آسمان کی طرف اٹھائے گہری سانس لی ۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو بالوں میں پھنسایا ۔
” کیا ہوا رہا ہے مجھے ۔ “
لان میں جلتی روشنیاں سوئمنگ پول میں اس کا عکس بنا رہی تھیں۔ وہ اپنے عکس کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔ پھر ایکدم بازو نیچے کیے اور تیزی سے ٹرایوزر کے جیب پر ہاتھ مارا ایسا لگ رہا تھا اگر ابھی سگریٹ نہیں پی تو دماغ میں ہوتی سائیں سائیں اور زور زور بجتی دھڑکن کی آواز جان لے لے گی ۔ سگریٹ جیب میں نہیں تھی ۔ وہ تو کمرے میں تھی ۔
بے چینی سے ہاتھ کے اشارے سے کچھ دور کھڑے گاڈ کو اپنی طرف بلایا ۔ گاڈ تقریباً بھاگتا ہوا پاس آیا ۔
” سگریٹ ہے ؟ “
” سر !”
پھولی سانس کے ساتھ وہ حیرت سے دران کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” ہاں سگریٹ ہے تو دو ۔ “
اس کی حیرت پر جھنجلا کر کہا ۔
” سر ہے تو مگر وہ یہ آپ پی لیں گے کیا ؟ “
گاڈ نے حیرت سے اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر دران کی طرف بڑھائی ۔ دران نے بنا کوئی جواب دیے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لیا ۔
” لائٹر ؟”
بھنویں اچکائے حیران کھڑے گاڈ کی طرف دیکھا ۔ گاڈ نے سرعت سے لائٹر جیب سے نکالا اور جلا کر دران کی سگریٹ کی طرف بڑھایا جو وہ لبوں میں دبا چکا تھا ۔ سگریٹ جلتے ہی ہاتھ کے اشارے سے گارڈ کو جانے کے لیے کہا ۔ اتنے عرصے بعد سگریٹ کا ٹیسٹ بدلنا عجیب تھا لیکن اس سے زیادہ مشکل کمرے میں جانا لگ رہا تھا ۔
فضا میں گھلتا دھواں اور دل میں بڑھتی الجھن اسے بے کل کر رہی تھی ۔ جواب ایک ہی تھا ۔ کمرے میں موجود وہ لڑکی عام سے خاص ہو چکی تھی ۔
☆☆☆☆☆
رات کے دس بجے ۔ گاڑی سے باہر دونوں اطراف پر موجود سر سبز کھیت تیزی سے پیچھے چھوٹ رہے تھے اور گاڑی سیاہ شفاف سڑک پر متوازن رفتار میں چل رہی تھی ۔
” مجھے شک ہے تم پر ۔ “
جیسکا نے گردن موڑ کر کار ڈرائیو کرتے انل کی طرف دیکھا ۔ کافی پینے کے بعد وہ اسے آج پھر گھر تک چھوڑنے جا رہا تھا
” کیسا شک ؟ “
انل نے سامنے شیشے سے نگاہ ہٹائے ایک نظر جیسیکا پر ڈالی ۔ وہ بھنویں سکیڑے بیٹھی تھی ۔ کچھ دور پہلے تک وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی اب اچانک پہلو بدل کر اس کی طرف مڑی تھی ۔
” تم مجھے پہلے سے جانتے ہو ۔ مطلب اس دن کافی شاپ پر ہماری پہلی اور اچانک ملاقات نہیں تھی ۔ “
” ہیں اس کو کیسے پتا چلا ؟ ” انل نے بمشکل اپنی سٹپٹاتی کیفیت کو سنبھالا ۔ مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ۔ “دماغ بھی کیا دران جیسا ہے اس کا ؟”
” ہیں ایسا لگا تمہیں ۔ مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ میں جنم جنم سے تمہیں جانتا ہوں ۔ “
” او۔۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔ “
جیسیکا نہ نخوت سے ناک چڑھائی ۔ انل کا قہقہ گاڑی میں گونج گیا ۔
” تم نے اس دن کافی شاپ میں میرا نام لیا تھا ۔ حالانکہ تم مجھے نہیں جانتے تھے پھر تمہیں میرے نام کا پہلے سے کیسے پتا تھا ۔ “
اوہ اچھا تو مس شرلی صاحبہ تب سے یہ سوچ رہی تھیں ۔ واہ واہ کیا یاداشت ہے ان کی ۔
” میں نے نام لیا تھا تمھارا ۔ کب کیسے ؟ “
مصنوعی حیرت کا اظہار کیا ۔ جبکہ ذہن زور زور سے جھانپڑ رسید کر رہا تھا اپنی ازلی بیوقوفی پر ۔
” تم نے کہا ۔ جیسیکا اس لڑکے نے تمھاری ڈرنک میں کچھ ملایا ہے ۔ “
وہ پرتجسس لہجے میں اس کے چہرے کے بدلتے رنگ کو جانچ رہی تھی ۔ اسے انل کی حرکات اس دن سے ہی مشکوک لگ رہی تھیں اور پھر اس دن اس کا پورا نام لینا ۔ اس وقت تو نک کے رویے کو لے کر الجھی ہوئی تھی اس لیے اس بات کو بھول گئی تھی لیکن آج پھر یاد آجانے پر ماتھا ٹھنکا ۔
” ہاں تو اس سے پہلے تمھارا وہ نک تمھارا نام لے چکا تھا ۔ تو میں نے بھی لے دیا اس میں ایسا کیا ؟ “
لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے کندھے اچکائے ۔ اسے جھوٹ بولنے سے سخت نفرت تھی لیکن دران کی محبت اس سے ہر الٹا کام کرواتی تھی ۔
” نک ۔۔۔! “
جیسیکا نہ حیرت سے بھنویں اچکائیں انداز ایسا تھا جیسے اس کا جھوٹ پکڑ چکی ہو ۔
” ہاں نک نے تمھارا نام لیا میں نے بھی فوراً ازبر کر لیا ۔ خوبصورت لڑکیوں کے نام جلدی یاد ہو جاتے ہیں مجھے ۔ “
” نک مجھے جسی کہتا ہے ۔ “
ناک چڑھا کر معلومات میں اضافہ کیا ۔
” ہاں لیکن اس دن گھبراہٹ میں اس نے جیسیکا کا کہا تھا ۔ “
برجستہ جواب دیا ۔ تھوک نگلا ۔
” اچھا مجھے تو یاد نہیں۔ “
“مجھے یاد ہے ۔دراصل میں بہت ذہین ہوں ۔ “
بتیسی نکالے اپنی تعریف کی ۔ جیسیکا نے منہ بسور کر رخ سیدھا کیا ۔
” چلیں کوئی خوبی تو ہے آپ میں ۔”
“بہت خوبیاں ہیں ۔ ملتی رہیں گی تو دھیرے دھیرے سب پتا چلیں گی ۔ “
معنی خیز انداز میں آنکھ کا کونا دبا کر کہا۔ اسکی اس حرکت پر جیسیکا تو جیسے بھڑک اٹھی ۔
“گاڑی روکو ۔ “
سختی سے کہا ۔
” کیا ہوا ؟ “
سٹپٹا کر اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا ۔
” میں نے کہا گاڑی روکو۔ “
“ارے بھئ ہوا کیا ہے ؟ “
ڈرتے ہوئے حیرت سے پوچھا وہ تو خونخوار چڑیلوں کی طرح گھور رہی تھی ۔
” لڑکے سب کے سب ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ نک سے بچا کر اب اپنے جال میں پھنسا رہے ہو ؟ “
” دیکھو غلط سمجھ رہی ہو تم ۔ مجھے اس گھٹیا نک سے مت ملاؤ ۔ “
” سب سمجھتی ہوں میں گاڑی روکو فوراً “
جیسیکا نے سختی سے ڈیش بورڈ پر ہاتھ مارا ۔
” نہیں یہاں بہت سنسان ہے میں گھر پر ہی اتاروں گا ۔ “
جیسیکا کے اچانک غصے کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے وہ گڑبڑا گیا پھر فوراً سنبھل کر انکار کیا ۔ وہ دانت پیستے ہوئے سیدھی ہوئی اور سینے پر ہاتھ باندھے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔
” دران تیرے چکر میں عزت کا فالودہ بن رہا ہے ۔ ” دانت پیستے ہوئے سوچا ۔اور سر جھٹک کر گاڑی کی رفتار بڑھا دی ۔
☆☆☆☆
روز کے معمول کے مطابق کانوں میں پڑتی تلاوت کی آواز پر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں ۔ وہی پلنگ وہی در و دیوار جسے وہ مسلسل پچھلے پانچ دنوں سے ہر صبح آنکھ کھلنے پر دیکھتا تھا ۔ اسے لاہور میں اور اس گھر میں آج پانچواں دن تھا ۔
سر کی چوٹ جلدی ٹھیک ہو گئی تھی لیکن ٹانگ کی چوٹ میں تکلیف زیادہ تھی ۔ بڑے میاں جن کا نام احمد بیگ تھا وہ نہایت پر خلوص , شائستہ مزاج اور نیک انسان تھے ۔ جن کی شفقت نے پانچ دن کے اندر ہی دران کی سوچ بدل کر رکھ دی تھی ۔ وہ جو بچپن سے مولوی طبقے سے متنفر تھا احمد صاحب کی شخصیت نے اس کی نفرت کو محبت میں بدل دیا تھا ۔
ہر جگہ ہر شعبے اے تعلق رکھنے والے لوگ اچھے اور برے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ شعبہ اتنا حساس ہوتا ہے کہ اس میں موجود برے لوگ چند ذہنوں پر غلط چھاپ چھوڑ دیتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا ۔
بڑے میاں روز صبح چھ بجے سے سات بجے تک برآمدے میں بیٹھ کر تلاوت کرتے تھے۔ اور اس کی آنکھ پہلی آیات پر ہی کھل جاتی تھی ۔ ہر بار کی طرح جسم کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے اور دل کو ایک انجانہ سا سکون ملنے لگتا ۔
وہ آہستگی سے پلنگ پر اٹھ بیٹھا ۔ کمبل ہٹا کر زخمی ٹانگ باہر نکالی زخم بہت حد تک سوکھ چکا تھا ۔ پلنگ کے نیچے پڑی چپل کو پاؤں میں پھنسا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا کمرے کے دروازے تک آیا ۔
احمد صاحب جو محو تلاوت تھے کسی کے پاس آ کر کھڑے ہونے کے احساس سے آیات کے اختتام پر موندیں پلکیں کھولیں۔ دران دروازے کے پٹ پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔
” ارے واہ واہ ما شا اللہ ۔ ادھر آؤ۔ “
دران کو یوں آج باہر دیکھ کر وہ پرجوش ہوئے ۔ بشاشت سے مسکراتے سامنے لگی کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔
” درد کیسی ہے ؟ “
” جی کافی بہتر ۔ “
دران نے سنجیدگی سے جواب دیا اور کرسی پر براجمان ہوا ۔ وہ خوشی سے چمکتی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے ۔
” بہت خوب , بہت خوب چلو چائے بناتا ہوں تمھارے لیے ۔ “
کرسی کے بازؤں پر وزن دیے اپنی جگہ سے اٹھے۔ دران نے سرعت سے بازو تانے روکا ۔
” نہ نہیں ۔ “
احمد صاحب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن کچھ جھجک تھی شاید ۔ وہ خاموش رہے کیونکہ دران کے منہ سے خود سننا چاہتے تھے۔
” میرا مطلب ہے آپ پہلے تلاوت مکمل کریں ۔ “
دران نے آہستگی سے کہا ۔ وہ مسکرائے اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ کرسی پر پھر سے بیٹھ گئے ۔
” مجھے سننی ہے تلاوت ۔ آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے ۔ “
دران نے بات مکمل کی اور جھکا سر اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا ۔ پرنور سا چہرہ اور دل کو طمانیت بخشتی مسکراہٹ وہ بہت پروقار شخصیت کے مالک تھے ۔
” ارے نہیں بیٹا میری آواز کا کوئی کمال نہیں ہے ۔ اللہ کا کلام خوبصورت ہے ۔ اسے کوئی بھی دل سے ادا کرے ایسا ہی لگے گا کہ اس کی آواز خوبصورت ہے ۔ “
” نہیں۔ میں نے آج سے پہلے اتنی سحر انگیز تلاوت نہیں سنی ۔ “
دران نے نگاہیں ان کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے وثوق سے تعریف کی ۔ وہ خاموشی سے دران کو گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد ان کی آواز گونجی ۔
” سیکھنا چاہتے ہو ؟ “
بہت گہری مسکراہٹ تھی ۔ دران اپنی جگہ پر ساکن ہو چکا تھا ۔ وہ سوال پوچھ رہے تھے اور اس کے ذہن میں کتنی ہی آوازوں کی بازگشت ذہن میں گونجنے لگی ۔ وہ منتظر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے ۔ دران نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
