Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 09)
Rate this Novel
Basil (Episode 09)
Basil by Huma Waqas
سورج پوری تمازت سے لائیز ایریا کی عمارتوں کے سر پر چمک رہا تھا , سردی کا موسم کراچی میں بس ہلکی سی جھلک دکھا کر رخت سفر باندھنے کی تیاری پکڑے ہوئے تھا۔ یہی وجہ تھی اب سورج کی تپش جسم کو حدت بخشنے لگی تھی ۔ دوپہر کے اس وقت لوگ گھروں میں دبکے ہوئے تھے ۔ اکا دکا شخص ہی عمارتوں کے گرد و نواح میں معمول کے کاموں میں مشغول نظر آ رہے تھے ۔
ان عمارتوں کے گھٹن زدہ فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ کے بیرونی دروازے سے وہ باہر نکلی تھی ۔ نیلے رنگ کے کلیوں والے کھلے سے کُرتے کے نیچے تنگ پائنچوں کا کیپری اور ہم رنگ شیفون کے دوپٹے کو گلے میں سکارف صورت لیپٹے , گھنگھرالے بالوں کی ڈھیلی سی پونی کیے وہ اب تھکی تھکی سے عمارت کی اوپری منزل کے زینوں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ جس فلیٹ میں سے وہ نکلی تھی یہ اس کی واحد دوست حنا کا گھر تھا جہاں وہ آج اس کے ساتھ مل کر آئی ۔ کام کے داخلہ فارم پُر کرنے گئے تھی ۔
مریم نے بڑی مشکل سے جان سے اس کی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت لی تھی ۔ وہ اپنے شوق پر آئی۔کام میں داخلہ لینا چاہتی تھی کیونکہ وہ بہت جلد جان کی مالی مدد کے لیے کوئی ملازمت کرنا چاہتی تھی اور بی کام کرنے کے بعد امید تھی کہ کہیں نا کہیں کوئی ملازمت ضرور مل جائے گی ۔ ملازمت ملتے ہی وہ اپنے باپ کا ایک بیٹے کی طرح سہارا بن جائے گی ۔
جان کی طبیعت اب ناساز رہتی تھی اور کمپنی میں صفائی ستھرائی کا کام انتہائی مشقت طلب تھا ۔ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتا جا رہا تھا ۔ جوی سے اپنے باپ کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی لیکن وہ جان کی طرح کہیں بھی صفائی سھترائی جیسی ملازمت ہر گز نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ حنا بھی اس کے ساتھ ہی سرکاری کالج میں آئی ۔کام کا داخلہ فارم بھر چکی تھی ۔
اب وہ جاتے ہی سونے کے ارادے سے آہستہ آہستہ زینے چڑھتی ہوئی اوپر جا رہی تھی ۔ دران کو یہاں نظر آئے ہفتوں بیت گئے تھے وہ ایک دم سے غائب ہوا تھا اور پھر کبھی نظر نہیں آیا ۔
انو تو اکثر ابھی بھی نظر آ جاتا تھا لیکن وہ کہیں بھی نظر نہیں آتا تھا ۔ وہ جب بھی بالکنی میں جاتی تو خالی بینچ دیکھتے ہی دران کا خیال , اس کا چہرہ , اس کی آنکھیں چھپاک سے ذہن کے پردوں پر چمکنے لگتیں ۔
اب بھی انو کے فلیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے نجانے کیوں وہ ذہن کے پردوں پر امڈ آیا تھا ۔ انو کے فلیٹ پر تالہ تھا۔ ایک تو یہ لوگ مہینے کے پندرہ دن کہیں نا کہیں گئے رہتے تھے۔ جووت نے بتایا تھا ان کا ننھال حیدر آباد ہے اور وہ اکثر کسی نا کسی تقریب میں شرکت کے لیے وہاں گئے رہتے ہیں ۔
منہ بسورے وہ ایک نگاہ فلیٹ پر ڈالتی آگے بڑھی جب اچانک کسی کے تیز تیز سیڑھیاں چڑھنے کی آواز پر وہ ابھی رخ موڑ کر دیکھنے ہی والی تھی کہ کوئی نفس تیر کی سی تیزی سے اس کے پاس گزرتا اوپر چڑھا ۔
وہ ایک پل میں اسے پہچان گئی تھی وہ دران ہی تھا۔ سیاہ پینٹ پر ہلکے بھورے رنگ کی شرٹ زیب تن کئے, بکھرے بالوں اور اسی طرح سپاٹ چہرے والا لیکن وہ آج معمول سے بھی زیادہ پریشان دکھائی دے رہا تھا ۔
اسے یوں آج دیکھ کر لمحہ بھر کو تو جوی کے قدم اسی زینے پر منجمند ہوئے پھر پتا نہیں اس کے انداز کی عجلت اور پریشان چہرے میں ایسا کیا تھا کہ وہ اس کے تعاقب میں چوری چوری زینے چڑھنے لگی ۔ شائد اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انو کے فلیٹ کی منزل تو نیچے تھی پھر وہ کیوں اوپر جا رہا تھا ۔
وہ لگاتار زینے چڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ جوی دبے قدموں اس کے پیچھے چل رہی تھی ایک انجانی سی کشش تھی جو کھینچ رہی تھی اور وہ بے سبب کھنچی چلی جا رہی تھی ۔ وہ یونہی لمبی لمبی ٹانگوں سے سیڑھیاں پھلانگتا عمارت کی چھت پر پہنچ گیا تھا ۔
چھت پر لوہے کا بڑا سا زنگ آلودہ دروازہ تھا جو اکثر کھلا رہتا تھا اور اس وقت بھی کھلا تھا ۔
جوی نے جیسے ہی چھت کے دروازے کی اؤٹ سے چھت پر جھانکا قدموں تلے سے زمین کھسک جانے والا حساب تھا ۔ وہ عمارت کی چھوٹی سی دیوار پر کودنے کی غرض سے کھڑا تھا ۔ عمارت کے وسیع و عریض چھت پر کاٹھ کباڑ کے ڈھیر لگے تھے ۔ سمینٹ کی اینٹیں لوگوں کے گھروں کی ٹینکیاں اور مٹی سی اٹی اس چھت کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں جن میں سے دائیں طرف کی دیوار پر وہ دونوں قدم اوپر رکھے کھڑا تھا ۔
” کیا وہ خودکشی کرنے جا رہا ہے ؟ ” ذہن میں یہ خیال لپکتے ہی وہ دھڑکتے دل اور دبے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی ۔
جسم کے رونگٹے کھڑے تھے ۔شائد وہ اسے روک نہیں پائے گی اس کے قریب پہنچنے تک شائد وہ چھلانگ لگا دے گا ایک عجیب سا خوف تھا جس کے زیر اثر وہ آگے بڑھ رہی تھی ۔ وہ بے خوف و خطر دیوار پر کھڑا تھا اور یوں کنارے پر کھڑا تھا کہ شائد اگر اس کے قدموں کی ہلکی سی چاپ بھی سنتا تو نیچے گر جاتا مگر وہ تو کسی ٹرانس کی حالت میں تھا شائد , کسی بت کی مانند کھڑا تھا ۔
جوی سانس روکے اب بلکل اس کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ ہاتھ بڑھایا اور اس کی شرٹ کو پشت سے تھام لیا ۔
” رُکو ” خوفزدہ آواز میں کہا اور اس کی شرٹ کو پیچھے سے دبوچ کر کچھ اسطرح سے کھینچا کہ وہ لڑکھڑا گیا
جوی کے شرٹ کو دبوچ کر پوری قوت سے اپنی طرف کھینچنے کی وجہ سے وہ کچھ اس انداز میں بوکھلایا کہ ہڑابڑا کر جوی کے کندھوں کو تھامتے ہوئے بھی نا سنبھل سکا اور دونوں ایک ساتھ فرش پر گرے ۔
اس کے لیے یہ سب غیر متوقع تھا اس لیے وہ جوی کی یہاں موجودگی اور خود کو اسطرح بچانے پر حیرت زدہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جو اب یوں زمین پر گرنے پر کراہ رہی تھی ۔
تکلیف کے آثار کی وجہ سے ناک اکٹھی تھی اور پیشانی پر لکیریں تھیں اور اوپر سے دران کا وزن ۔ دران کی حیرت ایک دم سے غصے میں تبدیل ہوئی اور پھر وہ ایک جھٹکے سے اس کے اوپر سے اٹھا ۔ جوی اس کے اٹھتے ہی سر کو تھامے برق رفتاری سے اٹھی ۔
” سنو ۔۔۔ رکو ۔۔۔ کیا کرنے والے تھے تم , پاگل ہو کیا کودنے جا رہے تھے؟ “
جلدی سے اٹھ کر وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اب بلکل اس کے سامنے کھڑی تھی ۔ ہاتھ اب بھی سر کی پشت کو سہلا رہا تھا جہاں گرنے کی وجہ سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔ دران نے تیوری چڑھا کر ایک غضبناک نگاہ اس پر ڈالی ۔
یہ لڑکی دنیا میں موجود ان گنتی کے لوگوں میں سے تھے جن میں سے ہمیشہ اسے مثبت لہریں موصول ہوتی تھیں ۔ وہ اس لڑکی سے کترانے لگا تھا ۔ اس کی سوچ میں خود کے لیے بلاوجہ کی ہمدردی اس کی سمجھ سے باہر تھی ۔ وہ اکثر اس سے ٹکرا جاتی تھی اور پھر اس دن میدان میں اسے پتا چلا کہ وہ جووت کی بہن ہے ۔ جووت کو وہ انو کے چھوٹے بھائی کی وجہ سے پہچانتا تھا لیکن آج وہ یوں اس کے پیچھے چھت پر چلی آئے گی یہ بات اس کی سوچ کے بلکل برعکس تھی ۔
اب وہ اس بات میں بھی حیرت زدہ تھا کہ وہ لڑکی جان چکی ہے کہ وہ خود کو ختم کرنے کی غرض سے یہاں موجود ہے ۔
جیسے ہی دران نے ربورٹ کی مانند پھر سے دیوار کا رُخ کیا جوی نے لپک کر اس کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے دبوچا ۔ دران نے دانت پیسے ایک خونخوار نگاہ اس پر ڈالی اور پھر زور سے اپنے بازو کو جھٹکا مگر وہ تو کسی چیونگم کی طرح چپک گئی تھی ۔
” کیوں مرنا چاہتے ہو ؟ میں نہیں کرنے دوں گی تمہیں یہ ” جوی اس کے چھڑواتے بازو کے ساتھ جھول رہی تھی ۔
دران کی رگیں غصے سے مزید ابھر رہی تھیں اور وہ تھی کہ اس کے غصے کی پرواہ کئے بنا اس کو روکنے کی کوشش میں پھولی سانسوں سمیت سوال پر سوال کر رہی تھی ۔
” ایسا کیا غم ہے , تم ایسے کیوں ہو ؟” جوی اس کا بازو کندھے سے تھوڑا نیچے سے تھامے آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسے آگے بڑھنے سے روک رہی تھی ۔
دران نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی اور گردن کو خم دے کر اسے گھورا آنکھوں میں عجیب طرح کی حیرت اور غصے کے آثار واضح تھے ۔
” چھوڑو مجھے ۔۔ ” بھاری مگر ٹھہرے لہجے میں غرایا ۔
اس سارے عرصے میں وہ پہلی دفعہ یوں جوی سے مخاطب ہوا تھا ۔ ایک لمحہ تو اس کی آواز کے سحر میں وہ جکڑی گئی تھی پھر سر جھٹک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی جو اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہا تھا ۔
” نہیں ۔۔۔ نہیں چھوڑوں گی تم کود جاؤ گے ” ڈھیٹ پن سے کہا
دران نے اپنی زندگی میں اتنی مضبوط لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ وہ اتنا طاقتور تھا جس زور سے وہ بازو جھٹک رہا تھا اسے تو لڑھک کر ایک طرف گرنا چاہیے تھا مگر وہ چچڑی ہو کر چمٹی ہوئی تھی ۔ دران کی آنکھوں کی پتلیاں مزید سُکڑیں اور جبڑے مخصوص انداز میں ایک دوسرے میں پیوست ہوئے ۔ گہری بیزار سانس لے کر گردن موڑے گویا ہوا
” ایکسکیوزمی!!!! تم ہو کون ؟ , میں جو بھی کروں یہ میری زندگی ہے “
جھنجلا کر بازو کو جھٹکا دیا , جس پر وہ تھوڑا سا لڑکھڑائی مگر بازو پر گرفت نہیں چھوڑی ۔
” ہاں تمھاری زندگی ہے پر تم سے جڑے باقی لوگوں کا کیا , تمھارے پیرنٹس , تمھارے بہن بھائی ہاں ۔ں۔ں۔ ؟ ” جوی نے ماتھے پر بل ڈالے بڑے حق سے ڈپٹا
” میں۔۔۔۔ کہہ۔۔۔۔ رہا ہوں مجھے چھوڑو ” دران نے ایک ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے غصیلے لہجے میں پھر سے وہی بات دہرائی ۔
عجیب الجھن ہو رہی تھی , آخر کو وہ کیوں اس پر مہربان تھی اسے انو کے علاوہ خود پر مہربان ہر شخص سے الجھن ہوتی تھی ۔
” دیکھو ۔۔۔ کسی لڑکی نے دھوکا دیا ہے کیا ؟ ایسا کیا غم ہے کہ تم اس بھری جوانی میں خود کشی کرنے جا رہے ہو ؟ , ہزاروں لڑکیاں آئیں گی زندگی میں پاگل مت بنو ” اپنی ہی قیاس آرئیاں لگا کر وہ اسے سمجھا رہی تھی ۔
دران کا چہرہ اب غصے میں تپنے لگا تھا اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے ایک جھٹکے میں دوسرے ہاتھ کی مدد سے جوی کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا ۔
وہ جو اس کے بازو سے چمٹی اس کے ہر قدم پر اس کے ساتھ گھسٹ رہی تھی ایک دم یوں اس کے اٹھانے پر ہڑبڑا کر رہ گئی
” آں ۔ں۔ں۔ں۔ں۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ؟ ” خوفناک چیخ برآمد ہوئی ۔
” تم یہاں سے جا نہیں رہی اس لیے پھینک رہا ہوں تمہیں یہاں سے ” بڑے آرام سے دانت پیستے ہوئے جواب دیا
” پاگل ہو کیا تم , چھوڑو مجھے ۔۔۔۔ ” جوی ٹانگیں مارتے ہوئے خوف سے چلائی
وہ دیوار کے کنارے پر پہنچ چکا تھا ۔ جوی کا دل اچھل کر حلق میں آیا کیا وہ سچ میں مجھے پھینکنے والا ہے ۔
” چھوڑو مجھے ۔۔۔۔ پلیز چھوڑو مجھے ” حواس باختہ , بوکھلائے سے لہجے میں چلائی ۔
نیکی گلے پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔ وہ تو سچ میں دماغ سے کھسکا ہوا لگ رہا تھا اور اب اسے پھینکنے والا تھا۔
” چھوڑو۔و۔و ” جوی اب اس کے پیٹ پر ٹانگیں مارتے ہوئے التجا کر رہی تھی ۔
دران نے ایک جھٹکے سے نیچے اتارا , وہ لڑ کھڑا گئی , پھٹی پھٹی آنکھوں سے گہرے سانس لیتے ہوئے اسے گھورا جو شکل سے تو اتنا بد دماغ نہیں لگتا تھا ۔
” جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ” وہ بھاری آواز میں بازؤ لمبا تانے اتنی زور سے چلایا کہ جوی جو پوری آنکھیں کھولے ساکن کھڑی تھی کانپ گئی
اور پھر بنا پلٹے ایسی دوڑ لگائی کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ دل خوف سے کانپ رہا تھا ۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دھڑ دھڑ پاؤں مارتی سیڑھیاں اترتی ہوئی اب نیچے آ چکی تھی ۔
” وہ تو پاگل نکلا ذہنی مریض ہے کوئی مگر وہ اپنی جان لے لے گا اب ” دل پر ہاتھ رکھے سوچا اور بلا خوف و خطر پھر سے پلٹ کر اوپر چڑھ گئی ۔
دروازے پر پہنچتے ہوئے قدم بمشکل تھمے دروازے کا پٹ تھامے پھٹی پھٹی انکھوں سے وہ سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی ۔ وہ اپنے ہاتھ سے سمینٹ کی بنی اینٹیں توڑ رہا تھا ۔ ایک کے بعد دوسری پھر تیسری مگر وہ ایک ٹرانس میں یہ کرتا جا رہا تھا ایک جنون سا سوارا تھا شائد سر پر جوی نے قدم پھر سے چھت کی طرف بڑھا دیے ۔
دران ہمیشہ کی طرح سارا غصہ اور تکلیف کا بدلہ ان اینٹوں سے لے رہا تھا کہ اچانک احساس ہوا وہ اکیلا نہیں ہے ۔ ہاتھ رُکے اور پھر سامنے دیکھا ۔
وہ ڈھیٹ لڑکی پھر اس کے لیے دنیا جہان کی ہمدردی چہرے پر سجائے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
” کیا مسئلہ ہے اس لڑکی کے ساتھ ” دران نے آبرؤ چڑھائے اس پر ایک خون آشام نگاہ ڈالی ۔
“اوہ ۔۔۔ گاڈ شکر ہے وہ کودا نہیں ” جوی نے شکر ادا کرتے ہوئے بھرپور مسکراہٹ کا تبادلہ کیا
” یہ پاگل ہے کیا لڑکی ابھی میں نے اس کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا یہ پھر ڈھیٹوں کی طرح یہاں ہے ” اس لڑکی کی ڈھٹائی پر دران کا دماغ گھوم گیا
” تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ “
کمر پر دونوں اطراف میں ہاتھ رکھے وہ اب غصیلے لہجے میں اس سے سوال کر رہا تھا جو مسکرا رہی تھی ۔
” وہ تو تمھارے ساتھ ہے مجھے جاننا ہے کیا مسئلہ ہے تم ایسے کیوں ہو ؟ ” مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے وہ اب سب خوف ایک طرف رکھے اب ہلکا ہلکا جھول رہی تھی ۔ وہ اس سے بات کر رہا تھا ایسا لمحہ بھی زندگی میں آنا تھا ۔ دل رقص کیوں کرنے لگا تھا ۔
” اس وقت میرا مسئلہ تم ہو , اسی وقت یہاں سے چلی جاؤ نہیں تو اسی اینٹ سے سر پھوڑ دوں گا تمھارا ” دران نے جھک کر اینٹ اٹھاتے ہوئے دھمکی دی
” ہاں پھوڑ دو ” جوی نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے
بلا کا اعتماد تھا ۔ دران کی آنکھیں اس کے ارادے کی نفی کر رہی تھیں وہ اور آنکھوں کا نہ پڑھ سکے یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔ نڈر سی وہ واپس جانے کے بجائے اب اس کی طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔
دران نے حیرت سے اس کی جرأت کو دیکھا اور پھر اینٹ کو زور سے اینٹوں کے ڈھیر پر پھینکتا چھت کے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ بلاوجہ مسکرا رہی تھی ایک عجیب سا نا آشانہ احساس تھا جس انسان کو ذہن نے بہت سوچا ہو اس سے یوں ملاقات ہو جانا اور اس کا اس سے بات کرنا سب کتنا حسین لگ رہا تھا ۔ گہری سانس لے کر وہ قدم دروازے کی طرف بڑھا چکی تھی مگر دل نجانے کیوں اس طرح کی ایک اور ملاقات کی خواہش کرنے لگا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆
شام ڈھل کر اب اندھیرے میں تبدیل ہو چکی تھی لیکن شھنگائی کے اس خوبصورت ہوٹل میں تو جیسے دن کا سماں تھا ۔ انر منگولیہ کے لان کے فرش پر موجود سبز گھاس کسی قالین کی طرح معلوم ہوتی تھی اور لان کے وسط میں موجود سوئمنگ پول اس بیش قمیت ہوٹل کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا رہا تھا ۔ یہ لان گولائی کی صورت میں تھا جس کے چاروں اطراف خوبصورت چمکتی عمارت گھومتی تھی ۔
ہاروی پروڈکشن کی اس شاندار سنہری جوبلی کی تقریب میں ہالی وڈ کے علاوہ بہت سے چینی فلم سٹار اور فلم بینی سی تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ موجود تھے ۔ سٹیفن , کیلوین آج درانگ کی عزت کا جنازہ نکلتے ہوئے دیکھنے چین پہنچے تھے ۔ دیدہ زیب , بیش قیمت , جدید لباس اور میک اپ سے اٹے چکمتے چہرے آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے ۔
ایک طرف موسیقی کا انتظام تھا اور حسین گلوکارہ اپنی آواز میں چینی زبان کے کسی مشہور گیت کے جلترنگ بجا رہی تھی جس کی آواز لان کے ہر کونے میں گونج رہی تھی ۔ سوئمنگ پول سے آگے اوپن بار تھا جہاں بیش قمیت مشروبات اور شراب کی ہر مہنگی قسم موجود تھی ۔
سب لوگ جو درانگ کے لیے یہ مکمل منصوبہ بنا چکے تھے اب منتظر نگاہیں بار بار بیرونی راہداری کی طرف اٹھا رہے تھے ۔ لمبی ڈرائیو کی راہداری ایک فرلانگ پر مشتمل تھی جو سیدھی لان کی طرف آتی تھی اور پھر جیسے ہی دران کی آمد ہوئی بہت سے چہروں پر موجود آنکھیں چمیکں اور لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ امڈ آئی ۔
ہلکے گرے رنگ کے ولیم بس پوک پینٹ کوٹ میں ملبوس , بالوں کو جل کی مدد سے پیچھے سیٹ کیے , نکھرے رنگ و روپ میں وہ آج باقی دنوں کی نسبت مختلف مگر تباہ کن شخصیت کا مالک لگ رہا تھا ۔ پینٹ کی ایک جیب میں ہاتھ ڈالے چہرے پر بلا کی سختی اور سنجیدگی سجائے , متوازن ڈگ بھرتا انل کے ہمراہ لان کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
انل کا چہرہ اس کی نسبت تھوڑی اضطرابی کا غماز بنا ہوا تھا ۔ وہ مکمل طور پر چاک و چوبند تھا ۔ لان کے وسط میں کھڑے بروس اور ہاروی نے ایک ساتھ گہری سانس باہر انڈیلتے ہوئے سینہ چوڑا کیا ۔
” سو ۔۔۔ وہ آگیا جس کا تھا انتظار ” بروس نے آہستگی سے ہاروی کے کندھے پر ہاتھ رکھے سرگوشی کی ۔
” بہت احتیاط سے پتا نہیں کیوں لیکن مجھے عجیب سا خوف آتا ہے اس سے ” ہاروی نے بلاجواز ٹائی کی ناٹ درست کرتے ہوئے اپنا ڈر ظاہر کیا
پروسٹی ٹیوشن فلم بینی اس کا سائیڈ بزنس تھا جو وہ غیر قانونی طور پر چلا رہا تھا ۔ سمگل کی ہوئی لڑکیوں سے بنائی گئی ویڈیوز ویب کی ہائی ریٹنگ میں آتی تھیں اور بروس کا یوں بلیک مارکیٹ سے لڑکی منگوانا اور درانگ کے پاس بھیجنا یہ سب عام بات ہونے کے باوجود اسے خوف تھا ۔
یہ خوف شائد درانگ کے مضبوط کردار کی وجہ سے تھا ۔
بروس اس کے خوف پر دانت پیستا ہوا چڑ کر آگے ہوا ۔
” تم اس کے چہرے کے رعب سے خائف ہو جو فقط ڈرامہ ہے اس کا , ڈرو مت , کچھ کام یہ کرے گی اور باقی لیسا اور آج پھر تم دیکھو گے درانگ کی فل آف رومینس فلم ” بروس نے ایک چھوٹے سے پیکٹ کو لبوں کے پاس لا کر چومتے ہوئے کمینگی سے کہا ۔
” ہوں ۔۔۔ میں بیتاب ہوں اس فلم کو دیکھنے کے لیے ” ہاروی نے خود کو ریلکیس ظاہر کرنے کے لیے چہرے پر مسکراہٹ سجائی
” وہ تمھاری لیسا کہاں رہ گئی ہے پہنچی کہ نہیں ؟ ” ہاروی نے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو لبوں سے لگایا
” اوہ اچھا یاد دلایا تم نے ابھی فون کرتا ہوں شیون کو “
بروس نے فورا بھنویں اوپر اُٹھائیں اور پھر جیب سے موبائل نکال کر اس پر نگاہیں جما دیں ۔
☆☆☆☆☆☆
” سر اوپر اٹھاؤ ” لڑکی نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے جوی کا چہرہ ایک جھٹکے سے اُوپر اٹھایا ۔
جیسے ہی چہرہ اوپر اُٹھا , جوی نے سامنے پوری دیوار میں نصب آئینے میں خود کو دیکھا ۔ لڑکی نے اس کا پورا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اب ہیر سٹائل بنانے کے بعد وہ میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی ۔
اتنے میک اپ میں وہ حسین تو لگ رہی تھی لیکن اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی دکھائی دے رہی تھی ۔ نقلی لانبی پلکیں , جل سے کھینچ کر بالوں کا بنایا گیا جوڑا اور گہرے میرون رنگ کی میکسی زیب تن کئیے وہ اب خود کو دیکھنے کے بجائے کن اکھیوں سے سامنے پڑے سامان میں نیل فائلر پر نگاہ جما چکی تھی ۔
یہ لمبائی کے رخ بنا ایک کمرہ تھا جہاں ایک طرف کی پوری دیوار میں شیشہ نصب تھا اور سامنے بنی شیلف پر انگنت میک اپ کی چیزیں بکھری ہوئی تھیں ۔ اس کے ساتھ والی نشست پر ایک اور لڑکی کو تیار کیا جا رہا تھا ۔
یہ جگہ اس زندہ لاشوں کے قبرستان سے یکسر مختلف تھی ۔ وہاں لڑکیوں کو جانوروں کی طرح بوسیدہ کپڑوں اور دو وقت کے کھانے پر رکھا ہوا تھا لیکن یہاں دنیا کا ہر قیمتی سامان موجود تھا ۔ اسے یہاں آنکھوں پر پٹی باندھ کر لایا گیا تھا ۔ اور یہاں آ کر آنکھوں سے پٹی کھولی گئی تھی ۔
غسل , ویکسنگ , میک اپ سب یہاں موجود لڑکیاں زبردستی کر رہی تھیں ۔ پہلے پہل اس کی مزاحمت پر انہوں نے کوڑے مارنے کی دھمکی دی ۔ یہ بڑے ڈیل ڈول کی لڑکیاں مردوں سے کم ظالم نہیں تھیں ۔ بات بات پر اتنی سختی سے چہرہ ہاتھوں میں دبوچ رہی تھیں کہ جوی ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے تڑپنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر پا رہی تھی ۔ میک اپ سے پہلے کپڑے پہناتے ہوئے اس کے ہاتھ کھول دیے گئے تھے ۔
اب تو وہ تب سے چپ چاپ کچھ تلاش کر رہی تھی۔ سامنے بکھری ہوئی چیزوں میں پڑا نیل فائلر بار بار اس کی اٹھتی نگاہوں کی زد میں تھا۔
جو لڑکی اسے تیار کر رہی تھی متواتر دوسری لڑکی کے ساتھ باتوں میں مگن تھی ۔ وہ دونوں چینی زبان میں پتہ نہیں کیا باتیں کرتے ہوئے ان دونوں کو تیار کر رہی تھیں ۔
اس کے ساتھ والی نشست پر موجود لڑکی اس کی طرح سہمی ہوئی نہیں تھی وہ پراعتماد انداز میں تیار ہو رہی تھی ۔
اس کو تیار کرنے والی لڑکی اب بار بار کچھ اٹھانے کی خاطر دوسری طرف جا رہی تھی ۔ اس کے ساتھ والی نشست پر موجود لڑکی اب مکمل طور پر تیار تھی ۔ وہ کھڑی ہو کر خود کو جانچ رہی تھی سنہری رنگ کے نیم برہنہ لباس میں وہ خوبصورت لڑکی ہوش ربا لگ رہی تھی ۔
” مجھے واش روم جانا ہے ” لڑکی نے خود پر اچٹتی نگاہ ڈالے خود کو تیار کرنے والی لڑکی سے کہا
اُس لڑکی نے سر ہلایا اور اس کے ہمراہ ایک طرف بڑھ گئی ۔ جوی نے پھر سے نیل فائلر پر نگاہ جمائی ۔ جیسے ہی اس کو تیار کرنے والی لڑکی کچھ اٹھانے کی خاطر ایک طرف ہوئی۔ جوی نے لپک کر نیل فائلر اٹھایا اور جل لگے بالوں کے جوڑے کے اندر نیل فائلر کو کچھ اس طرح پھنسایا کہ وہ مکمل طور پر چھپ گیا ۔ بمشکل اپنی اٹکی سانس بحال کی ۔ چند سکینڈ کے وقفے کے بعد دروازہ ایک دھماکے سے کھلا ۔ چائنز لڑکا ماتھے پر بل ڈالے کھڑا تھا ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک آیا اور ایک جھٹکے سے جوی کا گلا دبوچ لیا اور پھر اس کے بالوں میں سے نیل فائلر نکلاتا ہوا پیچھے ہوا ۔
وہ یہ بات کیسے فراموش کر گئی تھی کہ تمنا نے اسے بتایا تھا وہ لڑکی پر پوری نگاہ رکھتے ہیں ۔ یہ لی تاؤ کا گھر نہیں تھا جہاں وہ کھانے والا فورک چھپا لیتی ۔
” ہوٹل سے بار بار فون آ رہا ہے , شیون سر غصے میں ہیں ” چائینز لڑکا اب اس کو تیار کرنے والی لڑکی سے مخاطب تھا ۔
” تیار ہے بلکل , اے۔ے۔ے ۔۔۔۔ اٹھو جاؤ ” لڑکی نے اس لڑکے کی بات کا جواب دینے کے بعد گھور کر جوئ کو حکم دیا
اس سے پہلے کہ وہ نشست سے اُٹھتی لڑکا آگے بڑھا اور اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی کھڑا کیا ۔ ہاتھوں کو باندھ کر آنکھوں پر پٹی باندھی اور بازو تھامے کھینچتا ہوا باہر کی طرف چل دیا ۔ کچھ دیر میں وہ ایک گاڑی کی نشست پر بیٹھ چکی تھی ۔
” کہاں جانا ہے؟ ” شاید ڈرائیونگ نشست پر موجود لڑکا دوسرے سے سوال کر رہا تھا ۔
” مینگولے ۔۔۔” دوسرے لڑکے کی آواز ابھری
☆☆☆☆☆☆☆
صبح کے سات بجے ہی , ملک ہاؤس میں تو جیسے بھونچال آ گیا تھا ۔ لاؤنج سے اُبھرتی اونچی آوازوں کا شور باہر لان میں بھی سنائی دے رہا تھا ۔ دران کا یوں مدرسے میں قاری پر حملہ کرنے کے بعد گھر میں بھاگ آنا کسی قیامت سے کم نہیں تھا ۔
ملک ہاؤس کے سارے مکیں لاؤنج میں جمع تھے ۔
دستگیر بیگم چشمے کی اؤٹ سے خونخوار نگاہیں دران پر جمائے پلنگ پر بیٹھی تھیں ۔ پلنگ کے ایک کنارے پر یاور دران کو اپنے سامنے کھڑا کئے ہوئے تھا اور پاس پڑی کرسی پر اسفند ملک پریشان حال بیٹھے تھے ۔ عصمت , روبی , طلعت , سونی , برھان اور فائقہ لاؤنج میں ایک قطار صورت کھڑے تھے ۔ کسی کی آنکھوں میں حیرت تھی تو کسی کی آنکھوں میں خوف تھا مگر نفرت کی آمیزیش سب میں گھلی تھی ۔
” دیکھا بھاگ آیا نا مدرسے سے میں کہے دیتی ہوں , یہ گندہ خون اور برداشت سے باہر ہے میرے ” دستگیر بیگم نے ناک بسورے اونچی آواز میں حکم سنایا
چہرے پر انگنت نفرت اور حقارت موجود تھی ۔ ان کا خون کھول رہا تھا ۔ بس میں نہیں تھا کہ یاور کے ہاتھوں سے کھینچ کر دران کی درگت بنا دیں ۔
” صرف بھاگ کر نہیں آیا اماں ۔ وہ جو حال کیا ہے نہ اس نے مولوی کا۔ وہ کیس کر دے گا ہم پر , ہسپتال پڑا ہے بیچارا ” روبی نے تنک مزاجی سے ہاتھ ہوا میں نچاتے ہوئے معلومات دیں ۔
دران گردن جھکائے ضبط کے عالم میں کھڑا تھا ۔ اسفند ملک نے ایک غصیلی نگاہ روبی ہر ڈالی جس کی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی ۔
” ارے بھئی ہم پر کاہے اس ناس پٹے پر کریں کیس , جیل ہو جائے ہماری بلا سے اس شیطان مردود کو ” دستگیر بیگم نے تسبیح والا ہاتھ اونچا کرتے ہوئے بد دعا دی
” اماں خدا کا واسطہ ہے آپ چپ کریں مجھے پوچھنے تو دیں اس سے کیوں کیا اس نے ایسا ” یاور نے گردن گھمائے دستگیر بیگم سے التجا کی
چہرہ دران کی طرف گھمایا اور سر کو ہلکا سا جھکا کر دران کے چہرے کی طرف دیکھا ۔
” ارے کیوں کیا ابھی بھی تجھے نہیں پتا چلا قرآن ہی نہیں پڑھنا چاہتا ہے یہ , یہودی کہیں کا , منحوس مارا ” دستگیر بیگم نے ماتھے پر بل ڈالے سخت آواز میں کہا
اسفندجو تب سے سر جھکائے ہوا تھا ایک جھٹکے سے سر اٹھایا اور دستگیر بیگم کے آگے ہاتھ جوڑے , دستگیر بیگم نے منہ بسورہ اور سر پر اوڑھا دوپٹہ کھینچ کر نیچے کیا ۔
” دران میری طرف دیکھو ہاں بولو کیوں کیا ایسا؟ , کیا قاری مارتا تھا تمہیں ؟ ” یاور نے دران کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر وہی سوال دہرایا
” ارے تو کیا ہوا اگر مارتا تھا قرآن یاد کرانے کو سب استاد مارتے ہیں تو کیا بچے ان کے گلے کاٹ دیتے ہیں , اب تو مجھے اس سے خوف آنے لگا ہے ” دستگیر بیگم کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھیں
یاور نے دستگیر بیگم سے لاپرواہی برتتے ہوئے دران کے چہرے کو پھر سے اوپر کیا
” دران میری طرف دیکھو بیٹا , تم نے یہ بہت غلط کیا تمہیں معلوم بھی ہے ہم لوگ کس مصیبت میں پھنس چکے ہیں , قاری ہسپتال پہنچ گیا ہے ” یاور نے حد درجہ تحمل سے کہا
دران خاموش کھڑا بس یاور کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔ یاور کے دماغ میں اس کے لیے فکر کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔ اور ایسا ہی کچھ حال پیچھے کرسی پر بیٹھے اسفند ملک کا تھا ۔ ان دونوں کے علاوہ یہاں موجود ہر نفس کے دل و دماغ میں اس کے اس عمل پر غصہ اور نفرت تھی ۔
” بولو دران کچھ ” یاور نے اسے ہلاتے ہوئے پھر سے پوچھا
وہ دران کو دونوں کندھوں سے تھامے اپنے بلکل سامنے کھڑا کئے ہوا تھا ۔
” منہ سے کچھ پھوٹے پھر نا عذاب کہیں کا , بس گھورتا ہے اور مارتا ہے ” عصمت نے ناک چڑھا کر پوری گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا
” مجھے قرآن نہیں پڑھنا ” سپاٹ لہجے میں اس نے مختصر جواب دیا
” لو سن لو بس ۔۔ ” روبی نے ہاتھ کھڑا کیا
” رک کمبخت مارے تیرے تو اچھے بھی پڑھیں گے ” دستگیر بیگم نے اچک کر پاس پڑی چھڑی اٹھائی اس سے پہلے کے وہ دران کی پشت پر چھڑی کی ضرب لگاتیں یاور ایکدم سے دران کو لے کر دور ہوا
” اماں بس ۔۔۔” یاور نے ہاتھ کھڑا کئیے اونچے آواز میں روکا
دران کو ایک جھٹکے سے اپنے پیچھے کیا جو اسی طرح بت بنا گھور رہا تھا ۔ یاور دران کا ہاتھے تھامے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
” اسی کا سر چڑھایا ہے اور کچھ نہیں ” روبی نے ناک چڑھا کر سارا الزام یاور پر دھر دیا ۔
سب کچھ دیر یونہی کھڑے رہے پھر آہستہ آہستہ اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے
