Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 44)
Rate this Novel
Basil (Episode 44)
Basil by Huma Waqas
بیورلی ہلز میں صبح کے دس بجے سورج کی ٹھنڈی مگر روشن کرنیں چار سو پھیل چکی تھیں ۔ فلم نگری سے جڑے لوگوں کا یہ نگر معمول کی چہل پہل کا شکار ہو چکا تھا ۔
تارکول میں لپٹی سیاہ شفاف سڑک اور اس دوڑتی بھاگتی گاڑیوں میں سے ایک ٹیکسی بھی متوازن رفتار میں سڑک پر چلتے ہوئے سست ہوئی اور پھر ایک بلند سفید اور سلیٹی رنگ عمارت کے سامنے رکی ۔ این لا سینیگا بلوڈ اپٹ , آسمان سے بات کرتی خوبصورت عمارت ۔ یہ بیورلی ہلز کی مشہور قیمتی رہائشی کمپارٹمنٹ اور فلیٹس کی عمارت تھی جہاں ہالی وڈ میں کام کرنے والے بہت سے چھوٹے اداکار اور اس پیشے سے وابسطہ دوسرے لوگوں کی رہائش تھی ۔
ٹیکسی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے نکلنے والی لڑکی جیسیکا تھی ۔ ہلکا سبز پیروں کو چھوتا بند گرم کوٹ , سرخ اونچی ہیل کے بند جوتے , دیدہ زیب میک اپ سے لیس چہرہ , سنہری کھلے گردن کو چھوتے ملائم بال , وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ وہ ٹیکسی سے اتری اور چہرہ اٹھائے اپنی چھوٹی آنکھوں کو مزید سکوڑ کر عمارت کا جائزہ لیا ۔ لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ ابھری اور پھر سمٹ گئی ۔ چند سکینڈ یونہی عمارت کو دیکھتے رہنے کے بعد اس نے خراماں خراماں قدم عمارت کی جانب بڑھائے ۔
پچھلے تین دن سے انل اس کا فون نہیں اٹھا رہا تھا اور نہ ہی اس کے کسی بھی پیغام کا جواب دے رہا تھا ۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اپنے راز کے یوں فاش ہو جانے پر گھبرا گیا ہے اور اس کے ردعمل کے ڈر سے اب اس کا فون نہیں اٹھا رہا ہے ۔ انل کا پتہ معلوم کرنا اب اس کی کافی معلومات کے بعد کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد دو دنوں میں ہی وہ اس کا رہائشی فلیٹ تلاش کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔
وہ اب عمارت کی لفٹ میں کھڑی تھی ۔ لفٹ کے بند ہوتے ہی اس نے سرعت سے اوپری کوٹ اتارا , بیگ میں سے موبائل نکال کر جلدی سے اپنے چہرے کو دیکھا ۔ بالوں کو درست کیا ۔ کوٹ کے نیچے وہ ڈھیلی سی سفید ٹی شرٹ کے نیچے جینز پہنے ہوئی تھی ۔
لفٹ تیسری منزل پر رکی ۔ یہاں لمبی راہداری میں دائیں بائیں تھوڑے تھوڑے فاصلے میں خوبصورت کمپارٹمنٹ تھے۔ اردگرد دیکھتی , وہ مطلوبہ کمپارٹمنٹ کے سامنے رکی اور پھر لجاجت کی لالی چہرے پر سجائے گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا ۔ یہ انل کا کمپارٹمنٹ تھا ۔
اتنا مہنگا کمپارٹمنٹ ۔ آخر کو وہ اتنے بڑے فلم سٹار کا پی اے تھا ۔ یہ کمپارٹمنٹ اور بیورلی ہلز میں رہائش وہ سب افورڈ کر سکتا تھا ۔ وہ اس کے بارے میں بچی کچھی معلومات بھی اکٹھی کر چکی تھی ۔
وہ لبوں کو آپس میں ملاتی اور کبھی مبہم سی مسکراتی منتظر نگاہیں دروازے پر جمائے ہوئی تھی ۔ انل کی امارات نے اس کو متاثر ضرور کیا تھا لیکن یہ بات سچ تھی کہ اس کی خفیہ محبت نے اس کا دل جیت لیا تھا ۔
کلک کی آواز کے ساتھ , دروازہ کھلا , بکھرے بال اور ادھ کھلی نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں سمیت انل سامنے کھڑا تھا ۔ وہ غالباً سویا ہوا تھا اس لیے ابھی بھی سیاہ رنگ کے نائٹ گاؤن میں ملبوس تھا ۔ دروازہ کھول کر جیسے ہی اس کی نگاہ سامنے پڑی ۔ ساری سستی بھک سے اڑ گئ منھ اور آنکھیں ایک ساتھ وا ہوئیں ۔
” تم ! “
” تم کیا سمجھتے ہو کھوج نکالنا صرف تمھارا ہی کام ٹھہرا ؟ “
وہ شوخ لہجے میں کہتی اترائی ۔ انل کی حیرت اب پریشانی میں بدل رہی تھی وہ اس کی حالت سے محظوظ ہوتی ہوئی مسکراہٹ دبا گئی۔ سانولی رنگت پر سیاہ گھنے بالوں والا وہ ایک پرکشش مرد تھا ۔ شوخ , چنچل , زندہ دل , وہ بالکل اس کے مزاج کے مطابق شخصیت کا مالک تھا ۔
” اندر آنے کے لیے نہیں کہو گے ؟ “
” آ۔آ۔ آؤ ۔ “
وہ گڑبڑا کر راستے سے ہٹا ۔ چہرے پر ہوائیاں تھیں ۔ اب وہ پتا نہیں کیا کچھ پوچھے گی اور وہ کیا جواب دے گا ؟ دران کی کوئی خبر نہیں تھی ۔ جویریہ کی پریشانی اور اب یہ ۔۔۔ جیسیکا کو یوں سامنے دیکھ کر وہ حواس باختہ ہو گیا تھا ۔
” شکریہ۔ “
محبت سے کہتی وہ بڑے حق سے قدم کمپارٹمنٹ کے داخلی دروازے کے اندر رکھے ۔ گہرے بھورے رنگ کا لکڑی کا فرش , کشادہ اور قیمیتی فرنیچر سے لیس لاؤنج , اوپن کچن اور ہر سجاوٹی چیز کی خوبصورتی انل کے بہترین اور شائستہ ذوق کی عکاس تھی ۔
” بہت اچھا ہے گھر ۔ متاثر ہوئی میں ۔ “
وہ ستائشی نگاہوں کو گھماتی ہوئی چہک کر اس کی طرف مڑی جو اس کے انداز کو دیکھ کر الجھا ہوا تھا ۔ اس کی سوچ کے مطابق تو اب تک جیسیکا کو غصے میں اس کے سر میں کچھ مار دینا چاہیے تھا لیکن یہ کیا وہ تو کچھ مختلف ردعمل ظاہر کر رہی تھی ۔ جیسیکا اس کے فلیٹ کی تعریف کرنے کے بعد اب سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی ۔
” شکریہ ۔ بیٹھو ۔ “
انل نے خجل ہوتے ہوئے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا خود بھی تذبذب حالت میں سامنے کے صوفے پر براجمان ہوا ۔
وقت سرک رہا تھا اور وہ صوفے پر خاموش بیٹھی تھی۔ انل اس کے بالکل سامنے پریشان بیٹھا اس کے بولنے کا منتظر تھا ۔ چند لمحوں کی چھائی گہری خاموشی کو جیسیکا ہی نے توڑا ۔
” میں یہ ہرگز نہیں پوچھوں گی کہ تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے ہو اور میرے پیغام کا جواب کیوں نہیں دے رہو ہو ؟ کیونکہ میں سمجھ سکتی ہوں , تم پر کیا گزر رہی ہو گی ۔ “
وہ شرماتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر لفظوں کی ادائیگی کرتی اسے مزید پریشان کر گئی ۔ سمجھ سے سب باہر تھا ۔ دران کی مرضی کے خلاف ایک لفظ بھی جیسیکا کو نہیں بتا سکتا تھا ۔ تھوک نگل کر بے تکان لفظوں سے تمہید باندھی ۔
” جسیی میں تمہیں بس بتانے والا تھا ۔۔۔”
” کچھ مت بولو ۔ تم نے بولنے کے لیے کچھ چھوڑا ہی نہیں ۔ مطلب میں حیران ہوں کہ کوئی کسی سے اتنا پیار کیسے کر سکتا ہے ؟ مطلب کوئی میرے ساتھ اتنا پیار کیسے کر سکتا ہے ۔ “
وہ گرم جوشی سے کہتی گلال ہوئی ۔ انل نے منھ کھولے ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھا ۔
” پیار ؟ “
دماغ میں اس لفظ کے دھماکے ہوئے ۔ اوہ خیر وہ کیا سمجھ کر بیٹھ گئی تھی ۔ یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹ گیا تھا ۔
” میں اتنی خوش قسمت ہوں گی مجھے اس بات کا یقین نہیں ہو رہا ہے ۔ اس دن سے پاؤں زمین پر نہیں اتر رہے ۔ میں تمھارے منھ سے سننا چاہتی ہوں سب ۔ تم نے مجھے کہاں دیکھا ؟ کب مجھ سے اتنی محبت ہوئی ؟ سب جاننا ہے مجھے ۔ “
وہ ایک ہی سانس میں اتنا کچھ بول گئی ۔ انل نے سٹپٹا کر ہاتھ ہوا میں کھڑا کیا ۔
” ایک منٹ ۔ “
ربورٹ کی مانند ایک جھٹکے میں صوفے پر سے اٹھا اور تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی , فون کی طرف لپکا اور بیڈ سائیڈ میز پر سے فون اٹھا کر عجلت میں دران کا نمبر ملایا ۔ نمبر ہنوز بند تھا ۔
اس نے پریشانی میں بالوں کو مٹھی میں جکڑا ۔ اب اس کو کیا کہوں سمجھ سے باہر ہے ۔ وہ نچلے لب کو بے چینی سے کچل رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی ۔
جیسیکا اسے پکار رہی تھی ۔ موبائل کو ہاتھ میں پکڑے عجلت میں آگے بڑھا جیسے ہی دروازہ کھولا اس سے ٹکراتے ہوئے بچا وہ شاید کمرے میں داخل ہونے والی تھی۔ اس کی یہ ساری جرأت اس کی غلط فہمی کی وجہ سے تھی ۔ وہ انل کو اپنا کوئی خفیہ چاہنے والا سمجھ بیٹھی تھی ۔
” کیا ہوا انل ؟ میں تم سے ناراض تو نہیں ہوں ۔ تم اتنا کیوں گھبرائے ہوئے ہو ۔ میں کچھ نہیں کہوں گی تمہیں ۔ “
بھنویں اکھٹی کئے وہ انل سے اس کی گھبراہٹ کی وجہ دریافت کر رہی تھی ۔
” میں وہ ۔ دراصل میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ “
جھٹ سے جھوٹ کا سہارا لیا اور صورت پر معصومیت طاری کرتے ہوئے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا ۔
جیسیکا سے نگاہیں چرا کر , قدم پھر سے لاؤنج کی طرف بڑھا دیے ۔ جھوٹ بولنے سے اسے نفرت تھی لیکن دران کی خاطر آج وہ یہ بھی کرگزرا تھا ۔
” اوہ ۔ کیا ہوا تمہاری طبیعت کو ؟ تم نے بتایا کیوں نہیں مجھے ؟ تمہیں تو بہت پسینہ بھی آ رہا ہے ۔ “
وہ ایکدم پریشانی سے آگے بڑھی اور ایک ہی جست میں انل کے صوفے کے قریب آ گئی جہاں وہ بیٹھ رہا تھا ۔ وہ پریشان سی صورت لیے انل کے بہت قریب بیٹھ گئی ۔
” وہ میں ۔ ۔۔”
انل اس کے یوں پاس آ کر بیٹھنے پر اور بھونچکا گیا ۔ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا اس کے اس طرح کے عمل پر کیا ردعمل ظاہر کرے ۔
” انل تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ۔ “
” ڈاکٹر ۔۔۔ ہاں گیا ۔۔۔۔گیا تھا میں ۔ رات کو میڈیسن بھی لی ہے ۔ “
ایک ہی سانس میں تین جملوں کا اگلا جھوٹ بولا ۔
” اچھا تو پھر میں تمہارے لیے کچھ بنا دیتی ہوں ۔ ناشتہ بنا دیتی ہوں ۔”
” نہ۔۔۔نہیں ۔ وہ میں کر چکا ہوں ۔ “
پھر سے جھوٹ ۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کو بہت سے جھوٹ اس کی جان پر بن گئی ۔
” چلو پھر میں سوپ بنا دیتی ہوں ۔ میں سوپ بہت اچھا بناتی ہوں ۔ تم پیو گے تمہیں آرام ملے گا ۔ “
وہ چہک کر گویا ہوئی اور جھٹ سے اپنی جگہ سے اٹھی اور بازو میں پہنے سپرنگ بریسلٹ سے ہی کھلے بالوں کو پونی میں قید کر لیا ۔ وہ گڑبڑا کر اس کے پیچھے ہی صوفے پر سے اٹھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بول کر منع کرتا جیسیکا بے تکلفی سے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔ کچن میں ایک طرف کھڑے فریج کو کھولا اور مطلوبہ چیزوں کے لیے نگاہیں گھمانے لگی ۔ چیزوں کی موجودگی پر مطمئن ہو کر جیسے ہی واپس پلٹی بمشکل انل سے ٹکراتے ہوئی بچی جو ماتھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔
” تم بیٹھو ۔ میں خود تلاش کر لوں گی سب ۔ بیٹھو جا کر آرام کرو ۔ “
لاڈ سے کہتی ہوئی وہ مسکائی ۔ انل نے گہری سانس خارج کی اور لاؤنج کی طرف پلٹا ۔ وہ مسکراتی ہوئی تیزی سے سوپ کی تیاری میں مگن ہو گئی ۔ لاؤنج میں بیٹھ کر بھی وہ بار بار جیسیکا کی طرف دیکھ رہا تھا جو بہت بڑی غلط فہمی کا شکار اس کے لیے کھانا تیار کر رہی تھی ۔ پیار اور وہ ۔ اس لفظ کو فراموش کئے تو کتنے سال بیت گئے تھے ۔ جیسیکا کے ساتھ وہ جو بھی فلرٹ کرتا رہا تھا , وہ سب دران کے کہنے پر تھا ۔ تب وہ سب ایک کھیل کی طرح بنا کچھ محسوس کئے کرتا گیا لیکن آج جیسیکا کا یوں شرمانا اور خیال کرنا بے شک یہ سب پریشان کن تھا لیکن برا نہیں لگ رہا تھا ۔
اس نے صوفے سے پشت ٹکائی اور گہری سانس خارج کرتے ہوئے جیب میں سے موبائل نکالا , دران کا نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگاتے ہی منھ بسور کر واپس صوفے پر پٹخ دیا ۔
دران نے اسے اتنا بے وقعت کیوں کر دیا تھا ۔ جویریہ کو تلاش کرنے میں وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہنا چاہتا تھا ۔ بے چینی سے چھت کو گھورتے ہوئے وہ ایک بار پھر سے الجھ گیا ۔ ہوش تب آیا جب مسکراتی جیسیکا ٹرالی سجائے اس کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔
ٹرالی پر بھاپ اڑاتا سوپ اور جیسیکا کی اپنایت بھری مسکان , پل بھر میں ہی وہ اس کی محبت کا جواب محبت میں دینے کا فیصلہ کر گیا ۔ اب جب تک دران کی واپسی نہیں ہوتی اسے اسی رویے کے ساتھ کام چلانا تھا ۔
☆☆☆☆☆
وہ گہری نیند سے جاگی تو کسلمندی سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھولیں ۔ نرم تکیے میں اس کا سر تقریباً دھنسا ہوا تھا ۔ دوا کا اثر اور تھکن سے چور جسم کو کمفرٹر اوڑھنے کے بعد کب نیند آئی پتا نہیں چلا ۔
اس کمرے میں دران کی موجودگی کا احساس ایک سایہ دار درخت سے کم نہیں تھا ۔ لاکھ وہ اس پر برہم , لاکھ نالاں تھی لیکن وہ اس کا سب کچھ تھا ۔ اس کا سب سے قریبی رشتہ ۔ دران کی محبت پر چاہے ابھی دل کو مکمل یقین آنے میں وقت درکار تھا لیکن اس کی اپنائیت اور مخلص ہونے پر کوئی شک نہیں تھا ۔
اتنے گھنٹوں کی جاگی وہ یوں بے خبر سوئی اور اب جا کر آنکھ کھلی ۔ چند سکینڈ یہ یاد کرنے میں لگے کہ وہ کہاں ہے ۔ اس نے کمفرٹر کو چہرے پر سے ہٹایا اور گردن کو اوپر اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا ۔ کمرہ بہت بڑا تھا اور دو حصوں میں بٹا ہوا تھا ۔
اسکے والے حصے میں جہاں جہازی سائز بیڈ لگا تھا , اس وقت مکمل تاریکی تھی جبکہ دران جہاں صوفے پر بیٹھا تھا وہاں لیمپ اور لیپ ٹاپ کی روشنی تھی ۔
لیپ ٹاپ میز پر کھلا تھا اور وہ خود صوفے پر سمٹ کر سو رہا تھا ۔ یہاں امریکہ جیسی سردی تو نہیں تھی ہاں البتہ رات کے اس پہر خنکی بہت حد تک بڑھ چکی تھی ۔ وہ بنا کسی کمفرٹر اور کمبل کے سمٹ کر سو رہا تھا ۔ ضرور اسے سردی لگ رہی ہو گی ۔ اسی فکر کے زیر اثر سب کچھ بھلائے وہ آہستگی سے کمفرٹر کو خود پر سے اتارتی اپنی جگہ سے اٹھی ۔
شال کو کندھوں کے گرد لپیٹا اور ننگے پاؤں ٹھنڈے فرش پر چلتی وہاں تک آئی جہاں وہ بے خبر سو رہا تھا ۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں کشن کو دونوں بانہوں میں بھینچ کر سینے سے لگائے , معصومیت کی انتہاؤں کا چھوتا ہوا گہری نیند میں تھا ۔ ۔ اتنے بڑے کمرے میں ہیٹر خنکی کو مات دینے میں ناکام تھا ۔
نچلے لب کو دانتوں میں دبائے وہ الجھی کھڑی تھی ۔ کیا اسے اٹھانا چاہیے کہ اٹھے اور جا کر بیڈ پر سو جائے یا پھر کمفرٹر لا کر اسے اوڑھا دوں ۔ اس نے اسی سوچ کی کشمکش میں قدم آگے بڑھائے تو تھم گئی ۔ لیپ ٹاپ پر روشن سکرین پر جگمگاتی تصویر اس کی تمام طر توجہ اپنی طرف مبذول کر چکی تھی ۔
یہ اس کی اور دران کی ریسپشن کی تصویر تھی ۔ دران نے اس کی کمر کے گرد بازؤ حائل کر رکھا تھا ۔ بلاشبہ تصویر میں وہ بہت مختلف اور حسین لگ رہی تھی لیکن اس کے ساتھ کھڑے دران کی شخصیت کے آگے وہ کچھ نہیں تھی ۔ جھوٹی مسکراہٹ سجائے ہوئے بھی وہ دنیا کا حسین ترین مرد لگ رہا تھا ۔ وہ یونہی یک ٹک تصویر پر نگاہیں جمائے کھڑی تھی جب دران کی اچانک آنے والی آواز پر چونک کر نگاہیں گھمائیں ۔
” کیا ہوا اتنی سردی میں یہاں کیوں کھڑی ہو اسے ؟ “
وہ نیند سے بوجھل آنکھوں کو بمشکل کھولے , پیشانی پر بل ڈالتا اس سے سوال کر رہا تھا۔ شاید سردی کے باعث ہی اس کی آنکھ کھلی تھی اور جویریہ کو یوں کھڑا دیکھ کر حیرت سے اٹھ بیٹھا ۔
” بیڈ پر چلے جائیں ۔ “
جویریہ کی جھجکتی آواز ابھری ۔ وہ پاس پڑی ہڈ کو اٹھا کر پہن رہا تھا اس کی بات پر بازؤ آستین میں ہی تھم گئے ۔ چہرہ اوپر اٹھائے وارفتگی سے دیکھا ۔ اس کی ناراضگی میں بھی خالص بیویوں والی فکر پر پیار آ گیا ۔
” فقرے میں تھوڑا ردو بدل ہو سکتا ہے کیا ؟ “
جویریہ نے نا سمجھی سے دیکھا ۔ وہ مسکراہٹ کو دباتا چمکتی آنکھوں میں شرارت سموئے دیکھ رہا تھا ۔
” بیڈ پر چلے جائیں کے بجائے یہ جملہ بیڈ پر آ جائیں بھی تو ہو سکتا ہے ؟ “
دران کے شریر سے جملے کے پیچھے چھپے معنی پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی جھینپ گئی ۔ بمشکل دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالا ۔ یہ دران ہی تھا ؟ ذہن نے دل کو جھنجوڑ کر حیرت سے سوال کیا ۔
” مجھے نماز ادا کرنی ہے ۔ “
سٹپٹا کر نگاہیں چرائیں اور بات ہی بدل دی ۔ دران خفیف سا قہقہ لگاتا اپنی جگہ سے اٹھا تو بالکل اس کے مقابل کھڑا تھا ۔
” یہاں جائے نماز تو نہیں ہو گا ؟ “
” جائے نماز کی جگہ کوئی دھلی چادر بھی ہو سکتی ہے ؟ “
فوراً حل پیش کیا ۔ رات کے تین بج رہے تھے ۔ اچانک خیال آیا آنکھ کھلنے کا سبب کیا تھا ۔ اسے تہجد ادا کرنی تھی ۔
” ام۔م۔مم چادر۔ر۔ر۔”
دران نے اپنی کمر کے دونوں اطراف میں ہاتھ دھر کر نگاہوں کو متلاشی ارد گرد گھمایا ۔ ڈریسنگ پر نگاہ جا کر تھم گئی ۔
” ڈریسنگ روم کی الماری میں شاید کچھ مل جائے ۔ “
وہ بات کرنے کے دوران ہی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔ واپس پلٹا تو ہاتھ میں ایک عدد چادر تھی ۔ جویریہ نے آہستگی چادر کو اس کے ہاتھ سے لیا اور اسے کچھ دور کاؤچ پر رکھتی آگے بڑھ گئ۔ وضو کر کے واپس آئی تو وہ پھر سے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا ۔
نماز پڑھنے کے بعد بیڈ پر جانے کے بجائے بے سبب اور بے اختیار وہ اس کے صوفے کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔
” آج جس لڑکی نے میرا میک اپ کیا تھا , ریڈ شوز مجھ سے اتروا لیے تھے ۔”
خاموش کمرے میں ایک دم سے اس کی آواز گونجی تو دران جو لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتا مگن تھا چونک کر رکا ۔ سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔
” کوئی بات نہیں ان میں ٹریکر نصب ہے ۔ ٹریک کر لیں گے شوز ۔ “
سنجیدگی سے جواب دیا اور پھر سے لیپ ٹاپ سکرین پر نگاہ جما دی ۔ دران کی اس لاپرواہی پر اسے خود پر ہی غصہ آ گیا ۔ آخر کو کیا ضرورت تھی یوں آ کر بات کرنے اور فکر ظاہر کرنے کی ۔
” سنو ۔ “
دران کی آواز پر وہ پلٹتے پلٹتے تھم گئی ۔ سوالیہ مگر حد درجہ بے اعتنائی سے دیکھا ۔
” تم ناراض ہو ؟”
دران نے بھنویں اچکائے فکرمندی سے سوال کیا ۔
” نہیں ۔ ناراض تو اپنوں سے ہوا جاتا ہے ۔ “
جویریہ کے برجستہ جواب پر اس کے چہرے کا رنگ بدلا ہی تھا کہ وہ سپاٹ لہجے میں مزید وضاحت کر گئی۔
” اور اپنے کبھی آپکو چارہ نہیں بنایا کرتے ہیں ۔ “
اف اس کی باتیں ہمیشہ سے ہی دل پر لگتی تھیں ۔ دران گہری سانس خارج کرتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا ۔ اور اس کے مقابل آ کھڑا ہوا ۔ وہ ناک پھلائے خفا کھڑی تھی ۔ چہرے کے گرد شال اب بھی نماز صورت لپٹی تھی۔
” مانتا ہوں میں نے جو بھی کیا وہ سب کرنے کے بعد تمہیں مجھ سے ایسا ہی بی ہیو کرنا چاہیے لیکن یقین کرو میں مجبور تھا ۔ تم سے محبت ہو جانا ایک بے اختیار عمل تھا جس کو میں ایجینسی پر ظاہر نہیں کر سکتا تھا ۔ “
ندامت بھرے لہجے میں صفائی دی۔ کبھی ایک بات کو دوسری دفعہ نہ دہرانا والا آج اس عورت کو بار بار صفائی دے رہا تھا ۔ وہ سچ میں دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔
” آپ مجھے اس بارے میں آگاہ بھی تو کر سکتے تھے ۔ مجھے اعتماد میں لے سکتے تھے ۔ میں کبھی آپ کو انکار نہ کرتی ۔ “
” بتانے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔ “
” آپ ان سے چھپ کر مجھے بتا دیتے ۔ “
” مطلب تم کہہ رہی ہو میں ان سے جھوٹ بولتا ۔ “
دران نے بھنویں اچکائے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا ۔ وہ ایک دم سے اور غصے میں آئی ۔
” ایسا کب کہا میں نے ۔ “
” ابھی تھوڑی دیر پہلے ۔ “
” اچھا جھوٹ بولنے سے اتنا گھبراتے ہیں لیکن دھوکا دینے سے بالکل نہیں گھبراتے ۔ “
چڑ کر ترکی بہ ترکی جواب دیتی وہ اپنے جملوں کو بنا تولے بولے گئی ۔ دران کے لبوں سے مسکراہٹ ایک دم سے غائب ہوئی ۔
” گھبرایا تھا , بہت گھبرایا تھا ۔ “
آہستگی سے کہتا وہ بے ساختہ اس کے پرنم چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے قریب ہوا ۔ جویریہ اس کی اس وارفتگی پر پھر سے مجسم کی طرح تھم گئی ۔
” رویا بھی تھا ۔ زندگی میں پہلی بار رویا تھا ۔ “
جویریہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نم لہجے میں کہتا وہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے اور قریب کر چکا تھا , اتنا قریب کہ دونوں کی پیشانی ایک دوسرے سے جا ملی ۔
” تمہیں کھونے کی سوچ جب بھی ذہن میں آتی تو دل کے بند ہونے جیسا احساس تھا ۔ “
انگوٹھے کی پور سے اس کی دائیں گال کو محبت سے سہلاتا وہ لفظ لفظ اپنے جذبات اسے بتا رہا تھا ۔
” تم بہت خاص ہو میرے لیے ۔ وہ ہو جس نے میری روح کے زخموں کو بھر دیا ۔ میرے اندر کی تلخی کو موم کر دیا اور میری کڑواہٹ کو مٹھاس بنا دیا ۔ “
لہجے میں انہتا کی خماری عود آئی تھی ۔ نگاہیں نرماہٹ سے اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں اب اس کے چہرے کے ہر نقش کو چھو رہی تھیں ۔
” دران آپ اللہ سے اتنے دور کیوں ہیں ؟ “
خاموشی میں اچانک اس کا سوال گونجا تو دران کا انگوٹھا اس کی گال پر سرکتا وہیں رک گیا ۔ چہرے پر چھائی بے خودی اور خماری پل بھر میں ہی غائب ہوئی ۔ وہ بڑے حق سے سوال کئے اب جواب کے لیے منتظر کھڑی تھی ۔ گہری خاموشی تھی ۔
ایک۔۔۔ دو ۔۔۔۔ تین ۔۔۔ سکینڈ
” میں اللہ کے قریب جانے کے قابل کہاں ہوں ۔ “
سرد لہجہ فضا میں گونجا ۔ جویریہ کے چہرے کو ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کرتا وہ پیچھے ہوا اور لب بھینچے تیزی سے پلٹا اور واپس لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ گیا ۔
” اللہ نے اپنے قریب آنے کے لیے کوئی اصول نہیں بنائے ۔ وہ تو سب کی سنتا ہے , سب کو معاف کرتا ہے ۔ آپ نے ایسا کیا گناہ کر دیا کہ خود کو اس قابل نہیں سمجھتے ۔ “
وہ رعب سے اگلا سوال کرتی وہیں جمی کھڑی تھی ۔ دران نے ضبط سے آنکھیں بند کیں اور پھر کھولیں ۔
” میں نے گناہ نہیں کیا میں سراپا گناہ ہوں ۔ “
سنجیدگی سے مگر بے دلی سے جواب دیا ۔ وہ نگاہیں اب لیپ ٹاپ پر جمائے ہوئے تھا ۔
” مطلب ؟ “
وہ جان چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھی ۔ دران نے پیشانی پر الجھن کی لکیریں رقم کی اور جھٹکے سے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔
” مطلب جان لو گی تو یہ جو ناراضگی ہے نفرت میں بدل جائے گی اور ایک منٹ سے پہلے مجھے چھوڑ دو گی ۔ “
دران نے سپاٹ لہجے میں الجھا سا جواب دیا ۔ وہ سرعت سے آگے بڑھی اور اس کے سامنے کھلے لیپ ٹاپ کو بند کر دیا ۔ دران نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھوں میں جھانکتی غصے سے گویا ہوئی ۔
” آپ بار بار یہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے ۔ اگر محبت ہے تو خود کو سات پردوں میں کیوں چھپائے رکھتے ہیں ۔ “
دران نے ضبط سے لب بھینچ لیے ۔ برداشت جواب دے چکی تھی ۔ وہ دانت پیستے ہوئے گویا ہوا ۔
” میں جھوٹ نہیں بولتا ۔ میں محبت کرتا ہوں تم سے , خود سے بھی زیادہ ۔ میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں اس لیے اپنی حقیقت کو چھپاتا ہوں ۔ “
” کیا حقیقت ہے مجھے جاننا ہے سب دران ۔ آج ابھی اور اسی وقت “
” ٹھیک ہے تو جان لو پھر , میں ایک ایسا وجود ہوں جو ناپاک رشتے سے وجود میں آتا ہے ۔ “
وہ چیخا تھا ۔ اس کے یوں چیخنے پر وہ ہلکا سا جھٹکا کھا گئی۔ وہ سرخ چہرے سمیت اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا ۔
” میں ایک الیجمیٹ چائلڈ ہوں ۔ “
دانت پیستے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیتا , وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا جو اب ہونقوں کی طرح بت بنی بیٹھی تھی ۔
” میں ایک ایسا بچہ تھا جو گناہ کے عمل سے وجود میں آتا ہے ۔ میری ماں نے مجھے اپنے پاس رکھنے سے انکار کیا تو میرے باپ نے مجھے اپنا نام نہیں دیا ۔ “
سرد , بے رحم اور ناگوار لہجہ ۔ اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ وہ خود سے کتنی نفرت کرتا ہے ۔ اس کی گردن تک کی رگیں پھول گئی تھیں ۔ آنکھوں میں وحشت جھلک رہی تھی ۔
” میں ایسا بچہ تھا جو بچپن سے ہی ہر جگہ سے دھتکارا گیا ۔ جھوٹی شناخت دے کر کسی مرے ہوئے انسان کی دولت کے لیے ایک کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ “
وہ آج اس کے سامنے پھٹ پڑا تھا اور غصے میں بولتا ہی جا رہا تھا ۔
” رشتوں کے نام پر ۔ دھونس , لالچ , بد نیتی اور نفرت ملی ۔ بچپن سے ہی یہ ذہن میں بٹھا دیا گیا کہ میں ایک یہودی عورت کا بیٹا ہوں میں ناپاک ہوں اور پاک ہونے کے لیے میرے سینے میں قرآن دفن ہونا ضروری ہے ۔ سات سال کا تھا جب سب سے دور زبردستی مدرسے میں بھیج دیا گیا ۔ “
دران نے بازؤ کو لمبا تانے ناک بھینچ کر نفرت آمیز لہجے میں دور کا اشارہ دیا ۔ ایسے جیسے کسی تلخ یاد نے حلق تک کڑوا کر دیا ہو ۔
” جب جب سچے دل سے اللہ کی طرف جاتا تھا ۔ ایک نیا دکھ , ایک نئی تکلیف اور ایک نئی سچائی سامنے آتی تھی ۔ ایسی سچائی جس کی کرچیاں پرانے زخموں میں ہی دھنس جاتی تھیں ۔”
اس کی آواز کانپنے لگی تھی ۔ جویریہ کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے ۔
” الجھ جاتا تھا کہ ایسا کیوں ہے ۔ پھر اس کی حقیقت بھی سامنے آ گئی کہ ایسا کیوں ہے ۔ میں اللہ سے نہیں بلکہ شاید اللہ مجھ سے نالاں ہے ۔ وہ نہیں چاہتا میرا جیسا بچہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو ۔ “
آواز بھاری ہونے لگی ۔ آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے ۔
” مہ۔۔۔ میں ناپاک وجود ہوں شاید اس لیے ۔ “
بمشکل وہ جملہ مکمل کر سکا اور پھر دونوں آنکھوں سے آنسو ایک ساتھ گالوں پر بہہ نکلے ۔ وہ جو سن بیٹھی تھی ۔ دران کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر پہلے گنگ ہوئی اور پھر تڑپ کر اس کے گلے میں بانہیں ڈالے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
دران اگر بے آواز رو رہا تھا تو وہ ہچکیوں میں رو رہی تھی ۔ وہ کیا سمجھتی رہی اور وہ کیا نکلا تھا ۔ اس کی زندگی کی کہانی کے آگے اپنے غم کتنے حقیر لگ رہے تھے ۔ کتنے ہی پل یوں اس کے گلے لگی اس کے سنگ وہ آنسو بہاتی آج اپنے نہیں اس کے اندر کی ویرانی پر رو رہی تھی ۔
ہچکیاں تھمیں تو وہ آہستگی سے پیچھے ہوئی ۔ دران نے فوراً پلکیں جھپکاتے ہوئے اس سے سرخ آنکھیں چرائیں ۔
” دران آپکو پتا ہے ۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی ؟ “
آنسوؤں میں روندھائی , زکام زدہ آواز ابھری ۔ دران اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ۔
” میں جب بھی آپکو دیکھتی تھی دل میں ایک ہی خواہش پیدا ہوتی تھی کہ میں آپکو اپنے سامنے روتا دیکھوں ۔ آپ کی ویران آنکھوں کے پیچھے چھپی کہانی جان لوں لیکن آج پتا چلا یہ خواہش میری خود ساختہ نہیں تھی بلکہ اللہ نے میرے دل میں یہ خواہش ڈالی تھی ۔ “
دران کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر وہ جذب میں اسے اپنی خواہش کے بارے میں بتا رہی تھی ۔
” دران اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ ناپاک ہیں تو پھر تو ہر غیر مسلم بچہ جو کسی غیر مسلم جوڑے سے وجود میں آتا ہے اور بعد میں اسلام قبول کرتا ہے , اس کو بھی یہ سوچنا چاہیے ۔ “
پرنم لہجے میں کہتی وہ دران کے گال پر ہتھیلی پھیلائے ہوئے تھی ۔ جو اب بھی نگاہیں نہیں ملا رہا تھا ۔ اس پر سب ظاہر کر دینے کے بعد عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی ۔ وہ کبھی کسی کے سامنے یوں رو دے گا اسے اس بات کا یقین نہیں آ رہا تھا ۔ وہ تو محبت سے اس کا چہرہ تھامے بس بولتی چلی جا رہی تھی ۔
” اسلام میں جائز بچہ وہ ہوتا ہے جو نکاح کے پاک بندھن میں بندھنے کے بعد پیدا ہو ۔ اس طرح تو تمام غیر مسلموں کے بچے , جو شادی شدہ جوڑوں میں سے بھی پیدا ہوئے , وہ سب ناپاک ہوئے ۔ کیونکہ ان کے ماں باپ نے شادی غیر مذہب کے طریقوں سے کی ہوتی ہے جو ہر گز پاک نکاح میں شمار نہیں ہوتے ۔ “
دران نے آہستگی سے نگاہیں اس کے چہرے کی طرف موڑیں ۔
” دران کوئی بھی بچہ ناپاک نہیں ہوتا ۔ وہ اس دنیا میں کیسے ؟ کیونکر اور کس بطن سے پیدا ہو کر وجود میں آیا , اللہ کو اس سے سروکار نہیں ہے ۔ اللہ کی نظر میں پاک وہ ہو جو کلمہ پڑھ کر پاک ہوتا ہے اور متقی ہے ۔ وہ تو بھولے بسرے لوٹ آنے والوں کو دھتکارتا نہیں ہے ۔ وہ تو برسوں کے غافلوں کو بھولتا نہیں ہے ۔ وہ بہت رحیم ہے ۔ ہم سب اس کی مرضی سے اس دنیا میں آئے ہیں ۔ وہ چاہے تو بطن میں ہی ہماری سانسیں چھین لے ۔ اس نے کسی کو بے سبب اور نا پاک پیدا نہیں کیا ۔ “
دران حیرت سے اس کے پاکیزہ چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کا لفظ لفظ پھوار تھا ۔ ٹھنڈی پھوار ۔ نرم پھوار ۔
’’ اللہ پاک نے قرآن پاک میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ۔ اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہو، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
وہ روانی سے کہتی اس کی پور پور میں سکون اتار رہی تھی ۔ وہ اس کا سکون تھی ۔ روح میں اترتا سکون ۔
” اللہ نے کہیں نہیں لکھا کہ کسی گناہ کے سبب پیدا ہونے والے بچے ناپاک ہیں اور ان کے والدین کے گناہ کی سزا ان کو بھگتنا ہو گی اور آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں یہ سچ جان کر آپ کو چھوڑ دوں گی ؟”
جویریہ کی نم آنکھوں میں پل بھر کو شکوہ جھلکا ۔ دران تو بس یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میرے دل میں آپکی محبت ڈالنے والے کی نظر میں جب آپکی یہ سچائی کوئی معنی نہیں رکھتی تو میں کون ہوتی ہوں ؟ آپکو جنتی یا جہنمی قرار دینے والی , پاک یا ناپاک کہنے والی ۔ “
وہ پھر سے رو پڑی تھی ۔
” میرے اللہ اور نبی کے بعد جس سے بے پناہ محبت کا حق مجھے حاصل ہے ۔ آپ میرے وہ ہیں ۔ “
حق جتاتی وہ دنیا کی حسین ترین عورت اس کی زندگی تھی ۔ اس کی بہت اپنی ۔
” آپکی اس سچائی نے مجھے آپ سے دور نہیں کیا بلکہ اور قریب کر دیا ہے ۔ جو شخص اللہ سے اتنی محبت کرتا ہو کہ خود کو ناپاک سمجھ کر اس کے آگے سجدہ کرنے سے گھبراتا ہو ۔ جسے اپنے سجدے سے اللہ کے ناراض ہونے کا خوف ہو , جس نے اتنی شہرت اور دولت کے باوجود کبھی کوئی ناجائز کام نہ کیا ہو ۔ جو وقت کے فرعون کو جان سے مار دینے کے لیے اپنی جان , اپنی عزت داؤ پر لگا دینے والا ہو ۔ مجھے اس باسل کی بیوی ہونے پر فخر ہے ۔ “
وہ اس کا سکون بھی تھی دل کو آج محسوس ہو رہا تھا ۔ اس کا لفظ لفظ سچ تھا , حق تھا ۔ وہ اس کی آنکھیں کھول رہی تھی ۔ اس کے دل کا میل دھو رہی تھی ۔
” مجھے آپکی محبت ہونے پر فخر ہے ۔ مجھے آپ کے ساتھ پر فخر ہے ۔ “
دران کا ہاتھ تھامے وہ قریب ہوئی اور اب کی بار پرسکون ہو کر اس کے گلے سے لگ گئی ۔ ہاں محبت کے جواب میں محبت روح کے زخموں کا مرہم ہے ۔
جس طرح جسمانی زخم کی احتیاط اور خیال سے دیکھ بھال کرنے والا کوئی اپنا ہو تو زخم جلدی بھر جاتے ہیں بالکل اس طرح روح اور دل پر لگے زخموں کو بھی کسی کی محبت اور چاہت بہت جلد بھر دیتی ہے ۔ اس کے زخم کو بھی اس کے سینے سے لگی یہ لڑکی پل بھر میں ہی بھرنے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔ دل کی تکلیف ختم ہو چکی تھی ۔ دران نے چہرہ اس کی گردن کے قریب اس کی کان کی لو کے پاس کیا ۔
” فجر کی نماز ادا کریں ۔ “
دران کی مدھم سی سرگوشی تھی ۔ وہ خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثر سے پیچھے ہوئی ۔ وہ پرسکون چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ بارش کے بعد دھلے آسمان جیسی نرماہٹ اور پاکیزگی اس کے چہرے کا حصار کئے ہوئے تھی ۔ جویریہ نے نم آنکھوں اور مبہم سی مسکراہٹ کے سمیت سر اثبات میں ہلا دیا ۔
☆☆☆☆☆
اسفند ناک بھینچے تیز تیز قدم اٹھاتا دروازے تک پہنچا اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا ۔ سامنے کنز ہی کھڑی تھی ۔ نوین کی اس حرکت کے بعد تین ماہ کے اندر اندر کنز نوین سے طلاق لینے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔
” آپ نے یہ بہت غلط کیا بھابھی ۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ اتنی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا ۔ “
اسفند نے حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے کنز سے کہا جو نوین سے طلاق لینے کے بعد اب اس کے فلیٹ میں واپس آئی تھی ۔ وہ تب سے یہیں رہائش رکھے ہوئے تھی اور اسفند کی بہت کوششوں کے باوجود وہ نوین سے طلاق لے چکی تھی ۔
” میں نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا تم کچھ نہیں جانتے اس کے بارے میں ۔ “
” کیا نہیں جانتا میں ۔ پلیز بتائیں مجھے ۔ مجھے جاننا ہے ۔ ایسا کیا ہے جو آپ ہر بات میں مجھے یہ کہہ کر چپ کروا دیتی ہیں کہ تم کچھ نہیں جانتے ۔ “
اسفند نے جھنجلا کر اس کے بڑھتے قدم روکے ۔ وہ سٹپٹا کر رکی اور خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگی ۔
” بولیں اب چپ کیوں ہے ۔ نوین بھائی اتنی محبت کرتے ہیں آپ سے ۔ سب آپ کے لیے کر رہے ہیں اور کیا ہے جو نہیں جانتا میں ۔ “
” وہ منشیات فروش ہے ۔ “
کنز کے سپاٹ لہجے میں کہے گئے جملے پر اسفند کی زبان کو بریک لگی ۔ آنکھیں پوری کھل گئیں ۔
” کیا ! “
” ہاں درست سنا تم نے ۔ کیفیے کی آڑ میں وہ ڈرگز سمگلنگ کرتا ہے ۔ “
کنز نے سپاٹ لہجے میں اپنی بات کی وضاحت دی ۔ اسفند تو منھ کھولے حیران کھڑا تھا۔ کتنے ہی پل خاموشی نگل گئی ۔
” میں نے اسے بہت سمجھایا , بہت روکا لیکن وہ اس دلدل میں آگے سے آگے چلتا گیا اور اب تو وہ مکمل طور میں اس میں دھنس چکا ہے ۔ “
وہ روہانسے لہجے میں مزید وضاحت کر رہی تھی ۔
” نوین کی واپسی اس کی موت ہے اور اس کے ساتھ رہنا اب میری موت ہے ۔ “
وہ رو دی اور ایک دم بپھر کر اسفند کا گریبان تھام لیا ۔
” تمہیں کیا لگتا ہے میں اس سے محبت نہیں کرتی ؟ “
غصے سے سوال کرتی وہ اسفند کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی ۔
” میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں ۔ “
پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ اسفند کے سینے سے جا لگی ۔
