Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 40)Part 2

Basil by Huma Waqas

ڈھلتی شام میں ڈوبتا سورج یہ منظر حسین ہونے کے ساتھ دکھ میں لپٹے دلوں کے لیے بہت دردناک ہوتا ہے ۔ وہ بھی دکھوں میں لپٹی ایسا ہی ایک عدد دل رکھنے والی عورت تھی ۔ بچپن سے لے کر اب تک ایک باپ کے سوا کوئی رشتہ نہیں دیکھا تھا ۔ خود کی ماں نہیں تھی اسی لیے ماں جیسے رشتے سے عجیب انسیت ہو گئی تھی ۔

کنز پارکر بہت حسین اور حساس دل رکھنے والی لڑکی تھی یہی وجہ تھی نوین کی محبت کے آگے سب کچھ ہار گئی ۔ نوین سے شادی ہوئی تو ماں بننے کی خواہش ہوئی ۔ ایک سال , دو سال اور پھر تین سال اسی خواہش کو پروان چڑھاتے گزر گئے اور پھر یہ خواہش نوین کی بڑھتی مصروفیت کی وجہ سے جنون بننے لگی ۔

اسے ایک بچہ چاہیے تھا جس کو وہ اپنی ماں کی طرح کبھی چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی ۔ تین سال بعد وہ نوین کو میل ٹیسٹ کروانے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔

چند دن بعد نوین نے اسے جو ٹیسٹ رپورٹ لا کر دی تھی اس میں سب ٹھیک تھا لیکن اس دن اسے ہسپتال جانے پر پتا چلا وہ جھوٹی رپورٹ تھی ۔ دراصل اصل رپورٹ نوین نے اس سے چھپا لی تھی جس میں صاف لکھا تھا وہ کبھی باپ نہیں بن سکے گا ۔

وہ پہلے سے ہی نوین کی بہت سی باتوں اور حرکتوں پر نالاں تھی اور نوین کی یہ حرکت برداشت سے باہر ہو گئی اور اسی وجہ سے جھگڑا اس دن اس حد تک پڑھ گیا کہ وہ گھر چھوڑ کر اسفند کے فلیٹ پر آئی گئی ۔ اسفند کے ساتھ اس کے فلیٹ میں آئے آج اسے ایک ہفتہ ہو گیا تھا ۔ اس نے سختی سے اسفند کو منع کر رکھا تھا کہ وہ نوین کو اس کی یہاں موجودگی کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گا ۔

صبح کو وہ دونوں اپنی اپنی ملازمت پر نکل جاتے اور شام کو وہ خاموشی سے آ کر اپنے کمرے میں بند ہو جاتی ۔ اسفند جانتا تھا وہ کس ذہنی کشمکش سے گزر رہی ہے ۔ اس لیے زیادہ بات نہیں کرتا تھا ۔ آج چھٹی کا دن تھا سارا دن سو کر گزارنے کے بعد وہ اب جاگی تھی اور کمرے میں کھلتی کھڑکی کے پار عمارتوں کی اؤٹ میں ڈوبتے سورج پر نگاہیں جمائے ہوئے تھی ۔ اس کی دلکش سنہری رنگت پر چمکتی کانچ سی سبزی مائل آنکھیں غمناک اور ویران تھیں ۔

اسفند اس کے اور نوین کے درمیان اس چپقلش کو ختم کرنا چاہتا تھا اس لیے کنز کے منع کرنے کے باوجود وہ آج چھٹی کے دن نوین کو سب بتا کر اپنے فلیٹ پر لے آیا تھا ۔

وہ یونہی اداسی کا پیکر بنی شیشے کے پار ڈھلتے سورج کو دیکھ رہی تھی جب عقب سے اسفند کی آواز سنائی دی ۔

” بھابھی ۔ “

اسفند کی آواز پر وہ چونک کر مڑی اور اس کے ساتھ کھڑے نوین کو دیکھ کر چہرہ فوراً سخت تاثرات میں تبدیل ہوا ۔ پل بھر کو آنکھیں چمکیں تو تھیں لیکن پھر بجھ گئیں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ اس نے رخ پھر سے پھیر لیا ۔ اسے اپنے پیچھے نوین کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی اور دروازہ بند ہونے کی آواز سے اندازہ ہو گیا کہ اسفند کمرے سے باہر جا چکا ہے ۔

قدموں کی چاپ اس کے پاس آ کر تھم گئی ۔ وہ نوین کو اپنے پیچھے محسوس کر سکتی تھی جس نے کچھ کہنے کے بجائے ہمیشہ کی طرح نرماہٹ سے اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازؤ حائل کئے اور اس کے کندھے پر ٹھوڑی اٹکا دی ۔

” چلو گھر چلتے ہیں ۔”

محبت میں ڈوبا لہجہ تھا ۔ کنز نے کرب سے آنکھیں بند کیں ۔ یہ لہجہ اور یہ قربت وہ کتنے مہینوں بعد محسوس کر رہی تھی ۔ ایک لمحے کو دل چاہ پلٹے اور اس سے لپٹ کر کہہ دے ” ہاں چلو ۔ ” اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں ۔

” کون سا گھر نوین ؟ وہ گھر جس سے تم نے مجھے خود نکل جانے کا کہا تھا۔ “

اداس لہجہ تھا ۔ وہ اب بھی کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی ۔ نوین نے چند سکینڈ کی خاموشی کے بعد گہری سانس لی ۔

” مجھے معاف کر دو ۔ میں گھبرا گیا تھا کہ اگر تمہیں یہ بات پتا چلی کہ میں باپ نہیں بن سکتا تو تم شاید مجھے چھوڑ دو گی ۔ اس لیے وہ رپورٹ چھپا دی تھی ۔ “

خفت بھرے لہجے میں وہ اپنی غلطی کا اطراف کر رہا تھا ۔ کنز نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ نوین نے اسے کندھوں سے تھام کر محبت سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا ۔

” تمہیں بچہ چاہیے نہ ۔ ہم بچہ گود لے لیں گے ۔ “

اس نے پرجوش لہجے میں پریشانی کا حل پیش کیا ۔ کنز نے جھکی نگاہیں اٹھائیں اور اس کی کھلی آنکھوں میں حیرت سے گاڑ دیں ۔

” نوین مجھے بچے کی اتنی خواہش نہیں کہ میں تمھاری اس رپورٹ کو دیکھ کر تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتی ۔ میں بچے کے بنا بھی تمھارے ساتھ زندگی گزار سکتی ہوں۔ مجھے دکھ تھا تو تمھارے جھوٹ بولنے کا ۔ مجھے دھوکا دینے کا اور یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں تھا ۔ تم اس سے پہلے اپنے کام کے معاملے میں بھی میرے ساتھ یہی سب کر چکے ہو ۔ میں آج بھی تم سے محبت کرتی ہوں اور تمھارے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں لیکن اس کے لیے تمہیں میری دوسری شرط ماننا ہو گی ۔ بولو مانو گے ؟ “

” کونسی شرط ؟ “

انجان بن کر پوچھا ۔ وہ صرف خفگی سے گھور کر دیکھنے لگی ۔ وہ سب جانتے ہوئے بھی انجان بن رہا تھا ۔ وہ بنا کچھ بولے بس خاموشی سے گھورتی رہی ۔ وہ کنز کی خاموشی پر گہری سانس لیتے ہوئے اس کے کندھوں کو چھوڑ کر پیچھے ہوا ۔

” دیکھو کنزی وہ میں نہیں چھوڑ سکتا ۔ “

” مجھے چھوڑ سکتے ہو ؟ “

بے تاثر چہرہ اور دو ٹوک لہجہ تھا ۔

” تم خود کو اس کے برابر کیوں لا رہی ہو ۔ تمہیں پتا ہے نہ وہ سب کچھ میں صرف اور صرف ہمارے اچھے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں ۔ “

” اچھا مستقبل! “

دلگیر لہجے میں حیرت سے بھنویں سکیڑے وہ اس پر غصہ کر رہا تھی ۔

” بھیانک مستقبل کہو نوین ۔ یہ سب ایک دن ہمارا سکون غارت کر دیں گے ۔ “

” میں اب واپس نہیں پلٹ سکتا ۔ “

“مطلب تم مجھے چھوڑ سکتے ہو ؟ “

“میں نے یہ کب کہا ۔”

وہ جھنجلا کر سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ چکا تھا ۔

” تم وہ سب نہیں چھوڑ سکتے اس کا یہی مطلب ہے نوی تم مجھے چھوڑ سکتے ہو ۔ میں اب اور برداشت نہیں کر سکتی ۔ وہ خوف میں لپٹی زندگی ہے ۔ مزید اس زندگی میں جینا میرا دم گھوٹنے جیسا ہے ۔ اس سے اچھا ہے تم خود میرا گلا دبا دو ۔ “

وہ اس کی خود سے چراتی نگاہوں میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے بات مکمل کر رہی تھی ۔ نوین اب کمر پر ہاتھ رکھے کھڑکی کے پار پھیلتے اندھیرے کو دیکھ رہا تھا ۔ یہ اندھیرا اس کے وجود کو بھی گھیر رہا تھا ۔

” نوین تمہیں کھونے کا ڈر تل تل مجھے مار رہا ہے ۔ روز رات کو یوں لگتا ہے کہ تم واپس نہیں آؤ گے ۔ روز صبح تمھاری اور میری زندگی کی آخری صبح لگتی ہے ۔ “

” مجھے کچھ نہیں ہو گا ۔ اگر تم میرے ساتھ رہو گی ۔ “

نوین نے کھڑکی پر سے نگاہیں ہٹائیں اور اس کی طرف دیکھا جس کی رنگت اس وقت سنہری سے سرخ ہو رہی تھی ۔

” تمہیں نہیں نوین لیکن مجھے کچھ ہو جائے گا ۔ “

چڑ کر برجستہ جواب دیا ۔ نوین کے جبڑوں پر ہلکی سی سختی واضح ہوتے دیکھ کر وہ تھوڑی نرم ہوئی ۔

” نوین مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔ صرف تم چاہیے ہو ۔ مجھے تمھاری توجہ اور محبت چاہیے ۔ مجھے تمھارا وقت چاہیے نوین ۔ “

” وقت , محبت یہ سب تمہیں زندگی کی آسائشیں نہیں دے سکیں گے ۔ میں نہیں چاہتا کبھی تمہیں افسوس ہو کہ تم نے میرے لیے مارٹن جیسے دولت مند شخص کو ٹھکرا دیا تھا ۔ “

نوین کے سپاٹ لہجے میں کہے گئے جملے پر اس نے تاسف سے آنکھیں سکیڑیں ۔

” افسوس تو مجھے اس بات پر ہو رہا ہے کہ تم یہ کیسے بھول گئے کہ میں نے اس وقت بھی دولت پر محبت کو ترجیح دی تھی اور مارٹن کی جگہ تمھارا انتخاب کیا تھا ۔ افسوس تو مجھے ہے کہ آج تم خود مارٹن بن گئے ہو ۔ “

استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا لہجہ حد درجہ تلخ ہو گیا تھا ۔ کچھ دیر گہری خاموشی نے نگل لیے ۔ کنز نے نوین کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا اور آنکھوں میں جھانکا

” نوین ۔ چھوڑ دو سب ۔ “

” یہ سب اتنا آسان نہیں ہے کنزی ۔ “

” کیا مشکل ہے ؟ “

” تم نہیں سمجھو گی ۔ “

وہ الجھ کر نگاہیں چرا گیا ۔ کنز نے چند پل اس کے چہرے کو دیکھنے میں گزار دیے پھر آہستگی سے اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر پیچھے ہوئی ۔

” ٹھیک ہے ۔ تو سن لو میری شرط یہی ہے ۔ جس دن تم سب چھوڑ دو گے میں بھی واپس آ جاؤں گی ۔ “

نوین کے چہرے کی بڑھتی سختی اور پیشانی کے شکن ایک ساتھ مزید گہرے ہوئے ۔

” ٹھیک ہے ۔ تم رہو ان تمام آسائیشوں کے بنا جو میں نے تمہیں ان دو سالوں میں دیں ۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے رہ سکو گی ؟ اور کب تک رہ سکو گی ۔ جا رہا ہوں میں اب نہیں آوں گا تم ہی آؤ گی اب ۔ “

وہ سختی سے کہتا ہوا پلٹا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ کانچ جیسی اداس آنکھوں پر آنسوؤں کی دبیز تہہ جمنے لگی ۔

☆☆☆☆

ہال میں ایک دم سے آگ بھڑک جانے پر وہ ابھی مکمل طور پر حواس بحال نہیں کر پائی تھی کہ دران نے اس کا ہاتھ تھاما اور ہال کے دروازے کی طرف تیز تیز چلنے لگا ۔

ہال میں موجود باقی تمام لوگ بھی اس کی طرح ہی حواس باختہ تھے اور ہال کے بیرونی دروازے کی طرف بھاگ رہے تھے ۔ عجیب بھگدڑ مچ گئی تھی جس میں چیخ و پکار , بلب اور فانوس پھٹنے کی آوازیں شامل تھیں۔

دران اس کا ہاتھ تھامے لوگوں کے ہجوم میں آگے بڑھ رہا تھا جب کوئی اچانک ان سے بری طرح ٹکرایا ۔ اس کا ہاتھ دران کے ہاتھ سے چھوٹا اور اسی لمحے پورا ہال گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ دران کی پکار کا جواب دیتی ۔ ایک سکینڈ کی نناویں حصے میں کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اس کی آواز دب گئی ۔

منہ پر ہاتھ رکھتے ہی ایک جھٹکے کے ساتھ اس آدمی نے اسے دھکا دیا وہ لڑکھڑا کر کسی پر گری تھی ۔ وہ کسی چیز پر نہیں کسی وجود پر گری تھی ۔ جس پر بھی گری تھی اس نے برق رفتاری سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہی اسے دبوچ لیا ۔ ایسا محسوس ہوا تھا جیسے وہ کسی باکس میں کسی کے اوپر گری ہے جو پہلے سے ہی اس باکس میں لیٹا تھا ۔ اس کے گرتے ہی باکس کا ڈھکن بند ہو گیا ۔

باکس میں گھپ اندھیرا تھا ۔ اور باکس میں پہلے سے موجود شخص نے اس کے منہ کو دبوچ رکھا تھا ۔ اسی لمحے سب روشن ہو گیا ۔ یہ باکس نہیں تھا ۔ ہال میں پڑا میز تھا جس کی جالیوں سے وہ باہر کا منظر واضح دیکھ سکتی تھی ۔ اس کے نیچے موجود آدمی نے اسے اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔

دران پریشان حال میز سے کچھ دوری پر کھڑا ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔ پھر وہ حیرت سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ بوکھلا کر اسے آوازیں دینے لگا ۔ اسے دران نظر آ رہا تھا لیکن اس وقت وہ بے بسی کی انتہا پر تھی ۔

تابوت نما اس باکس میں لیٹے شخص نے اگر ایک ہاتھ سے اس کے منہ کو دبوچا ہوا تھا تو دوسرے ہاتھ اور ٹانگوں سے اس کے بازو اور ٹانگوں کو دبوچ رکھا تھا جس وجہ سے وہ میز پر ٹانگیں چلا کر یا ہاتھوں سے کوئی آواز نہیں پیدا کر سکتی تھی ۔

دران کے ساتھ اب انل بھی اسے پکار رہا تھا ۔ ہال میں آگ مزید تیز ہو رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد کچھ لوگ دران کو گھسیٹتے ہوئے ہال سے باہر لے جا رہے تھے ۔ وہ اب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔

دران کے ہال سے باہر جاتے ہی کوئی میز کو تیزی سے گھسیٹ رہا تھا ۔ میز کے نیچے شاید پہیے لگے تھے اس لیے میز تیزی سے فرش پر ہال کے بیرونی دروازے کی مخالف سمت میں چل رہا تھا ۔ چار سے پانچ منٹ بعد میز کسی لفٹ میں تھا اور لفٹ نیچے جا رہی تھی ۔

چند سکینڈ کے بعد لفٹ کھلتے ہی کسی نے برق رفتاری سے اس باکس نما میز کو اوپر سے کھولا ۔ جویریہ نے پھٹی نگاہوں سے دیکھا ۔

تین آدمی باکس پر جھکے ہوئے تھے ۔ ان میں سے دو نے جھپٹ کر اسے باکس میں سے نکالا اور اس سے پہلے کہ وہ چیختی تیزی سے اس کے منہ پر پٹی باندھ دی گئی ۔ یہ ہوٹل کے تہہ میں بنی پارکنگ تھی ۔ ان چار آدمیوں نے چند سکینڈ میں ہی اس کے ہاتھ باندھنے کے بعد اس کی آنکھوں پر بھی سیاہ پٹی باندھ دی ۔

اب کچھ نظر آنا بھی بند ہو چکا تھا ۔ اس کے خوف سے کانپتے وجود کو ایک جھٹکے سے کسی نے اوپر اٹھایا اور پھر وہ کسی کے کندھے پر تھی جس نے اس کی ٹانگوں کو اپنے ہاتھوں سے قابو کر رکھا تھا ۔

وہ چل رہا تھا ۔ چند قدم چلنے کے بعد اس آدمی نے اسے پٹخا اور پھر ایک دھماکے کی آواز تھی جیسے کار کی ڈگی بند ہوئی ہو ۔ اب وہ ہل نہیں پا رہی تھی اور کار ریورس ہو رہی تھی ۔ ٹائر چرچرائے اور پھر کار پوری رفتار سے آگے بڑھی ۔

گھپ اندھیرا , خوف اور وحشت ۔ وہ کون تھے؟ کہاں لے جا رہے تھے ؟ اور کیوں لے جا رہے تھے ؟ کیا یہی وہ بھیانک انہونی تھی جس کی جھلک اسے دران کی بے بس آنکھوں میں دکھائی دے رہی تھی ؟ کیا وہ پھر سے ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی تھی جن سے دران نے اسے بچایا تھا ؟ کیا اللہ نے ابھی تک اس کی آزمائش کو ختم نہیں کیا تھا ؟ کیا دران کا اس کی زندگی میں ساتھ بس یہیں تک تھا ؟ انگنت سوال ذہن کی دیواروں میں ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے ۔

تیزی سے چلتی کار اس کے دل میں خوف اور بڑھا رہی تھی ۔ آنکھوں کے سامنے بار بار وہ آخری لمحہ گھوم رہا تھا جب ہال میں پریشان حال دران اسے پکار رہا تھا ۔ دل شدت غم سے پھٹنے لگا ۔ آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوئے ۔

کار چلتی جا رہی تھی ۔ کار کے تیز چلنے کے باعث اس کا سر کسی چیز سے ٹکرا رہا تھا ۔چند منٹ کے بعد کار ایک جھٹکے سے رکی ۔

کار کے دروازے بند ہونے کی آواز تھی ۔ وہ تیز تیز سانس لینے لگی ۔ ڈگی کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی کسی نے اس کے بازو کو دبوچا اور پھر سے کندھے پر اٹھا لیا ۔ کانوں میں تیز شور سنائی دے رہا تھا ۔ یہ ہیلی کاپٹر کے پروں کے گھومنے کی آواز تھی ۔ جو کوئی بھی تھا اسے کندھے پر لٹکائے اب تیز تیز چل رہا تھا وہ یقیناً ہیلی کاپٹر کے قریب جا رہا تھا ۔ آواز سے کان پھٹنے لگے تھے اور ہوا سے اس کے بال اڑ رہے تھے ۔ وہ آدمی اب شاید ہیلی کاپٹر کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔ اب اس کے بازو کو کسی اور نے تھاما اور ایک جھٹکے سے اوپر کھینچ کر اسے سیٹ پر بیٹھا دیا گیا ۔

” چلو چلو نکلو ۔ “

کسی کے چیخنے کی آواز تھی ۔ اسی لمحے پھڑپھڑاتے پروں والا ہیلی کاپٹر اوپر اٹھنے لگا ۔ وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی لیکن سب بیکار تھا ۔ سب بے سدھ تھا ۔ وہ اس وقت دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھی تھی ۔ پندرہ سے بیس منٹ کی اڑان کے بعد ہیلی کاپٹر کے نیچے اترنے کا احساس ہوا اور پھر اس کے اردگرد بیٹھے آدمیوں نے دونوں اطراف سے اس کی بازو دبوچے اور گھسیٹتے ہوئے اب ہیلی کاپٹر سے اتار کر کہیں اور لے جا رہے تھے ۔

یہاں بہت سردی کا احساس ہوا اور عجیب بدبو تھی جیسے گلی سڑی چیزوں کی یا پھر مچھلیوں کی بدبو ہو ۔ وہ دونوں آدمی اس کی ہر مزاحمت کو ناکام بناتے اسے اپنے ساتھ چلا رہے تھے ۔

چند قدم چلنے کے بعد ایک جھٹکے سے اسے روکا ۔ اب کسی دروازے کے کھلنے کی آواز تھی جیسے کسی چیز کا ڈھکن اٹھایا جائے ۔ اب ایک آدمی نے اسے اٹھا کر پھر کندھوں پر ڈال لیا اور اب وہ شاید زینے نیچے اتر رہا تھا ۔ مطلب یہ کوئی تہہ خانہ تھا ۔ چند سیڑھیاں اترنے کے بعد آدمی نے اسے پٹخنے کے انداز میں کندھے سے نیچے اترا ۔ یہ فرش تھا جہاں وہ گری ۔ وہ بندھے ہاتھوں کے ساتھ اب فرش پر دائیں کروٹ لیٹی تھی ۔ مسلسل چیخنے کی ناکام کوشش سے دماغ کی نسوں میں تکلیف ہونے لگے تھی ۔ قدموں کی چاپ واپس جا رہی تھی اور پھر ڈھکن بند ہونے جیسی آواز آئی ۔

یہاں عجیب شور تھا ۔ پانی کے بہنے جیسا شور ۔ بدبو تھی ۔ یہ کونسی جگہ تھی۔ گھپ اندھیرا اس کی جان لے رہا تھا ۔ وحشت سے دل پھٹنے کو تھا جب اچانک کانوں میں آواز سنائی دی ۔

” جویریہ ۔ “

یہ دران کی آواز تھی ۔ وہ تڑپ گئی ۔ سر کو جھٹکے سے دائیں بائیں گھمایا ۔ یہ فون کے سپیکر میں سے نکلنے جیسی آواز تھی ۔

” جویریہ ۔ سن رہی ہو مجھے ۔ گھبراؤ نہیں ۔ تم نے جو ایئر رنگز پہنے ہیں میں ان کے ذریعے تم سے بات کر رہا ہوں ۔ “

وہ دران ہی تھا ۔ بے ساختہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ منہ پر بندھی پٹی کی وجہ سے اس کے رونے کی گھٹی گھٹی آواز برآمد ہو رہی تھی ۔ دران بار بار اس کا نام پکار رہا تھا لیکن اسے کوئی ہوش نہیں تھا ۔

” جویریہ ۔ جویریہ میری بات سنو ۔ رونا بند کرو پلیز ۔ز۔ز۔ز ۔ تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔ تمہارے بریسلیٹ میں ٹریکر لگا ہے ۔ ہم تمہیں ٹریس کر رہے ہیں ۔ تمہیں بس وہ کرنا ہے جو میں کہوں ۔ “

وہ مسلسل اسے کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ آنسو تھے کہ تھم نہیں رہے تھے ۔ ہچکیاں بندھ گئیں تھیں ۔ تو کیا دران سب جانتا تھا ؟ اوہ خدا ۔ دل میں گھٹن جیسا احساس بڑھنے لگا ۔

” جویریہ پلیز ۔۔۔ رونا بند کرو ۔ میری بات سنو ۔ “

دران کا لہجہ التجائی تھا ۔ کانوں میں اس کی آواز تھی اور آنکھوں کے سامنے گھپ اندھیرا ۔ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ کیوں ہو رہا تھا اس کے ساتھ یہ سب ۔ اور دران سب جانتا تھا تو اسے کیوں لایا گھر سے باہر ؟

” رونا بند کرو پلیز ۔ “

کیوں مانتی وہ اس کی بات ۔ ظالم تھا وہ ۔ وحشی یا جو بھی ۔ کیا یہ اس کا وہ مقصد تھا ؟ ذہن میں طوفان کی مانند جھکڑ چلنے لگے ۔ دل کی رفتار کم ہونے لگی ۔ جسم کے رویں رویں میں تکلیف بڑھنے لگی ۔

” جویریہ رونا بند کر دو۔ فار گاڈ سیک ۔ “

وہ اب زور سے چیخا تھا ۔ اس کی آواز کان کے پردوں سے ٹکرائی اور واقعی اس کا رونا اور ہچکیوں کی گھٹی گھٹی آواز ایک دم بند ہوئی ۔

” مجھے سنو صرف ۔ مجھے پتا ہے تم اس وقت کیا سوچ رہی ہو ۔ یہی کہ میں نے تمھارے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟ “

رونا بند نہیں ہوا تھا بس دران کی دھاڑ پر بے آواز ہو گیا تھا ۔ آنکھوں سے بہتے بے آواز آنسو متواتر بہہ کر گالوں سے نیچے منہ پر بندھی پٹی کو بھگو رہے تھے ۔

“میں تمہیں سب بتاؤں گا لیکن پلیز اس وقت مجھے تمہارے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہی ۔ تم ایسے ہمت ہارو گی تو میں کچھ بھی نہیں کر سکوں گا ۔ “

وہ اسے سمجھا رہا تھا ۔ لہجہ نادم تھا ۔

” مجھے معاف کردو ۔ میں نے تمہیں بنا بتائے تمھارے ساتھ یہ سب کیا ۔ تمہیں کچھ بھی بتانے کا حوصلہ نہیں تھا ۔ “

دران کی آواز میں لغزش تھی ۔ دوسری طرف خاموشی چھائی ۔

ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین ۔۔۔ چار ۔۔ سکینڈ۔ وہ خاموش کیوں ہو گیا اس سے پہلے وہ پھر سے رونے لگتی دران کی آواز نے اس کے دل کی دھڑکن کی رفتار کو متوازن کیا ۔

” میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا ۔ کچھ بھی نہیں ۔ “

کیا وہ رو رہا تھا ۔ آہ ۔۔ ۔۔ وہ رو رہا تھا ۔ وہ خاموش نہیں ہوا تھا وہ رو رہا تھا ۔ پھر سے خاموشی چھا گئی ۔ اس کا دل پھٹنے لگا ۔ دران رو رہا تھا ۔ وہ بے آواز رو رہا تھا لیکن وہ اسے سن سکتی تھی ۔ اب وہ رو کر کیا جتا رہا تھا ۔ اسے سمجھنا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا لیکن اس لمحے دران کا یہ رونا اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ۔

” تم اس وقت ایک شپ میں ہو ۔ اور یہ لوگ تمہیں چائنہ لے جا رہے ہیں ۔ “

دران کی آواز رونے کے باعث بھاری ہو گئی تھی ۔ مطلب نہ صرف وہ اس سے بات کر رہا تھا بلکہ اسے ٹریس بھی کیا جا رہا تھا ۔

” تم مجھے سن رہی ہو نہ ؟ آواز نکالو اپنی ۔ “

اس کی طرف سے بالکل خاموشی شاید دران کو ان کا رابطہ ختم ہونے کی علامت لگی تھی ۔ کیوں نکالوں آواز میں ۔ کیا ثابت کرنا چاہ رہا تھا کہ اس کو بہت فکر ہے میری ۔ گلا سوکھنے لگا ۔ کانٹوں کے چبھنے جیسا احساس تھا ۔

” جویریہ تم سن رہی ہو نہ ؟ پلیز آواز نکالو ۔ “

وہ پریشان ہو رہا تھا ۔

” جویریہ ۔ “

” ام۔م۔م۔م۔ ام۔م۔م۔م “

اب کی بار نہ چاہتے ہوئے وہ بے اختیار منہ پر بندھی پٹی کے پیچھے چیخی ۔

” آئی لو یو ۔ “

دران نے بے ساختہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا ۔ آئی لو یو ۔ مائی فٹ ۔ یہ کیسی محبت ہے دران ۔ دل کیا وہ سامنے ہو تو اس کا منہ نوچ لے ۔

” تمھارے ایر رنگز میں پن ہیول خفیہ کیمرے اور مائک لگے ہیں ۔ تمھارے بریسلیٹ میں ٹریکر ہے اور تمھارے جوتوں کے اونچے سول کے نیچے تمھاری حفاظت کی مائیکرو کٹ موجود ہے جس میں کس چیز کو کب , کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے میں تمہیں سمجھاؤں گا ۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *