Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 42)

Basil by Huma Waqas

” ایلکس بریٹ ۔۔۔ حیرت ہے لیکن اگر وہ اس لڑکی کی مانگ کر رہا ہے تو میں تمھاری بات سے متفق ہوں “

ہاروی نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے ۔ شیون کی بات کی تائید کی ۔ ایلکس بریٹ پچپن سال کا عیاش پرست انسان تھا ۔ وہ دولت مند تھا اور مافیا کا خفیہ رکن تھا ۔ جویریہ کو دران کی حفاظت سے نکال کر یہاں تک پہنچانے میں اس نے بھی شیون کو مالی طور پر امداد دی تھی اس لیے وہ جویریہ پر اپنا حق جتا رہا تھا لیکن وہ اس کی قیمت کے طور پر شیون کو بھاری رقم اور منشیات بھی دے رہا تھا ۔

” ایلکس کے تو انوکھے شوق رہتے ہیں۔ اس کو چھوڑو تم یہ بتاؤ لڑکی کے ہیرو کا کیا حال ہے ؟ سانپ لوٹ رہے ہوں گے اسکے سینے پر تو ؟”

بلند و بانگ قہقہ لگاتے ہوئے وہ اب ہاروی سے دران کے مطلق پوچھ رہا تھا ۔ آنکھوں میں شیطانی چمک اور چہرے پر بے پناہ خباثت تھی ۔ ہاروی نے بھی گرم جوشی کے ساتھ اس کے قہقے میں اس کا ساتھ دیا ۔

” اس کی نہ پوچھو ۔ کیا منصوبہ تھا ہمارا ۔ وہ تو پاگل ہو گیا ہے ۔ برھان کے ذریعے خبر ملی ہے وہ چین بھی پہنچ گیا ہے ۔ “

” سر پٹختا رہے گا لیکن اب اس لڑکی کو نہیں ڈھونڈ سکے گا ۔ اس کی تو سات پشتیں اس بات کو یاد رکھیں گی کہ شیون سے پنگا کیسے لیے جاتا ہے ۔ اصل زندگی میں ہیرو بننا آسان نہیں ہے ۔ “

شیون نے استہزائیہ مسکراہٹ کو گہرا کیا اور دروازے پر ہوتی دستک پر بھنویں اٹھائے نگاہ دروازے کی طرف کی ۔ دستک کے بعد دروازہ کھلا اور دروازہ کھولے دو سیاہ فام جویریہ کو دائیں بائیں سے پکڑ کر اندر لائے ۔ شیون کو دیکھتے ہی جہاں اس کے چہرے کی رنگت سفید ہوئی وہاں شیون کی خوشی دیدنی تھی ۔

” اچھا میں بعد میں بات کرتا ہوں ۔ “

شیون نے کمینگی سے سامنے دیکھا اور فون کان سے ہٹا کر میز پر رکھا ۔ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا۔

” خوش آمدید ۔ خوش آمدید ۔ میری بیچاری بچی ۔ شاید تم یہ نہیں جانتی تھی کہ پنجرے سے بھاگی ہوئی پر کٹی چڑیوں کو باہر کی تازہ ہوا راس نہیں آیا کرتی ہے ۔ “

ٹوٹی پھوٹی سی انگریزی زبان میں کہتا ہوا وہ قدم قدم آگے بڑھ رہا تھا ۔ اس کے لہجے میں بلا کا غرور تھا ۔ دونوں سیاہ فام اسکے قریب آنے پر جویریہ کے بازو چھوڑ کر احترام سے پیچھے ہوئے ۔ شیون نے دانت پیس کر جویریہ کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا اور جھپٹ کر اس کے بالوں کو سر کی پشت سے ہاتھ میں دبوچ لیا ۔ تکلیف کے باعث وہ سسک اٹھی ۔ دران حفاظتی کٹ کا سمجھانے کے بعد سے لے کر اب تک غائب تھا ۔ کانوں میں مکمل خاموشی تھی مطلب وہ اس وقت رابطے میں نہیں تھا ۔

” تم کیا سمجھتی تھی تم میرے ہاتھ سے بچ نکلی ہو ۔ تم اگر مر بھی جاتی تو میں شیون تمھاری لاش کو قبر سے نکال کر یہاں لاتا اور سب کے سامنے الٹا لٹکاتا تاکہ یہاں میری قید میں موجود باقی لڑکیاں کبھی ایسا قدم اٹھانے کا سوچتے ہوئے بھی کانپ جاتیں ۔ “

وہ پوری قوت سے اس کے بالوں کو دبوچے غرا رہا تھا ۔ اس کی غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا ۔ وہ اپنا چہرہ قریب کیے کسی سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا جبکہ جویریہ کی تکلیف کے باعث کنپٹی کی رگیں ابھر رہی تھیں ۔ لبوں کے کنارے اتنی دیر کپڑا باندھے رہنے کی وجہ سے نہ صرف سرخ ہو رہے تھے بلکہ دونوں طرف کٹ لگ کر خون رس رہا تھا ۔

اسی طرح کنپٹی پر بھی پٹی کے سرخ نشان تھے جبکہ ماتھے پر کار کی ڈگی لگنے سے بائیں طرف سرخ ابھار تھا ۔ آنکھوں کے اوپری پپوٹے رونے کے باعث سوج چکے تھے ۔ پلکیں نم ہو کر ایک دوسرے سے چپک رہی تھیں ۔ کاجل آنکھوں میں پھیل کر نیچے آ رہا تھا اور اب شیون کے یوں بال دبوچنے پر بال بھی بکھر گئے تھے ۔

” چل اب میرے ساتھ ۔ “

شیون نے ایک جھٹکے سے اس کا بازؤ تھاما اور تیز تیز قدم اٹھاتا آفس نما کمرے سے باہر نکلا ۔ اس کے کانوں میں ایک دم کھٹ پٹ کی آوازیں گونجنے لگیں شاید دران رابطے میں تھا ۔

” یہ کہاں لے جا رہا ہے اسے ؟ “

اچانک کانوں کے پردوں سے آواز ٹکرائی ۔کانوں میں گونجنے والی آواز دران کی نہیں تھی ۔ یہ کوئی انگریزی زبان میں مخاطب تھا ۔ مطلب دران کے ساتھ کوئی اور بھی تھا جو اسے دیکھ رہا تھا ۔

” پتا نہیں کہاں لے جا رہا ہے ۔ تم سسٹم آن کرو جلدی ۔ جویریہ بی بریو وی آر ود یو ۔ “

دران اپنے ساتھی کو سسٹم آن کرنے کا کہہ کر بڑے ہی پیشہ ور انداز میں اس کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا اور وہ اسے سنتے ہوئے شیون کے پیچھے اس کے تیز چلنے کے باعث لڑکھڑاتے ہوئے چل رہی تھی ۔

آفس سے نکلنے کے بعد ایک لمبی راہداری تھی جس میں جگہ جگہ مختلف کمرے تھے ۔ یہ کمرے ان کی ہائی سکس ورکر لڑکیوں کے تھے ۔ جن میں سے بہت سی شیون کا شور سن کر کمروں سے باہر نکل کر اب جویریہ کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ ان کے چہروں پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔ وہ بے حس ہو چکی ہوتی ہیں اس لیے ان میں سے کچھ تو اب اس منظر کو دیکھ کر باقاعدہ مسکرا رہی تھیں ۔

لمبی راہداری سے گزرنے کے بعد شیون اب ایک لوہے کی سلاخوں والے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ۔ جس کے دروازے کے قریب دیوار پر لاک کی پیڈ موجود تھا ۔ دران اب اپنے ساتھی کے ساتھ بات کرنے میں مصروف تھا ۔ اس سے پہلے کہ شیون لاک کوڈ دباتا دران عجلت میں اس سے مخاطب ہوا ۔

” جویریہ سنو ۔ اب وہ اس دروازے کا کوڈ لگائے گا تمہیں لینز والی پوری آنکھ کھول کر اس پر فوکس کرنا ہے ۔ جلدی سے کی پیڈ پر فوکس کرو ۔ “

دران کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس نے بے ساختہ شیون کے بڑھتے ہاتھ کے پیچھے موجود لاک کی پیڈ کی جانب غور سے دیکھا ۔

” جویریہ پوری آنکھ کھولو اور اب آنکھ جھپکنا مت جب تک وہ مکمل کوڈ ڈائل نہ کر لے ۔ “

دران پرجوش لہجے میں اسے حکم دے رہا تھا اور ساتھ ساتھ وہ کسی اور کو بھی ہدایات دے رہا تھا ۔ یقیناً وہ اب اس لینز کا کوئی استعمال کرنا چاہتا تھا جو اس نے کچھ دیر پہلے اسکی آنکھ میں لگوایا تھا ۔ شیون کی پیڈ پر انگلیاں ٹپٹپا رہا تھا ۔ دران کی ہدایت کے مطابق اس نے نظریں پوری طرح کوڈ پر جمائیں اور پلک جھپکانے سے گریز کیا ۔

” زک کوڈ کاپی ہوا ؟ “

” یس ڈن ۔ “

دران کے سوال پر دوسرے شخص نے کوڈ کاپی ہو جانے کی تائید کی ۔ کوڈ دبانے کے چند سکینڈ بعد ہی سلاخوں والا دروازہ سلائیڈ صورت دائیں سے بائیں دیوار کے اندر گھسا اور دروازہ کھل گیا ۔ دروازہ کھلتے ہی وہ ایک لفٹ میں تھے جو نیچے جا رہی تھی ۔

جویریہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی ۔ بدبودار گیلری کے ارد گرد بنے جیل نما کمرے , کمروں میں نیم برہنہ لڑکیاں اور خون میں لتھ پتھ دیواریں سب اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔ لفٹ رکی اور واقعی وہ اسی تہہ خانے میں تھے ۔ جہاں اس نے اپنی زندگی کے خوفناک دن اور رات گزارے تھے ۔ آہ وہاں اس جیسی بہت سی لڑکیاں آج بھی قید تھیں ۔ وہ پھٹی آنکھوں اور بیٹھتے دل کے ساتھ سامنے دیکھ رہی تھی جب شیون نے ایک جھٹکے سے اس کے بازؤ کو کھینچا اور آگے بڑھنے لگا۔ گیلری کے وسط میں پہنچ کر وہ اونچی آواز میں چیخا ۔

” جاگو سب ۔ جاگو ۔ دیکھو اس کو اور پہچانو ۔ “

وہ جہاں جہاں سے گزر رہا تھا ۔ جیل نما کمروں میں قید بے بس لڑکیاں پھٹی پھٹی آنکھوں سے سلاخیں تھامے اسے دیکھ رہی تھیں ۔

” یہ ہے وہ چیونٹی جو اپنی اوقات بھول کر شیون کو ہرانے چلی تھی ۔ مجھے دھوکا دے کر بھاگ گئی تھی ۔ “

بات کرتے ہوئے وہ ایک دم سے پلٹا اور پھر سے جویریہ کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ لیا ۔ اس کے چہرے پر شیطانی غصے میں بھری آنکھیں گاڑے کھڑا وہ کوئی وحشی درندہ لگ رہا تھا ۔

” دیکھو سب اس کو اور جان لو سب کہ شیون کے قید سے بھاگی ہوئی لڑکی کا ۔ وہ اس کی آخری سانس تک پیچھا کرتا ہے اور جب وہ مل جاتی ہے تو اسے بھیانک سزا دیتا ہے ۔ تم سب کی سانسوں پر تمھارے جسم پر صرف میرا حق ہے ۔ میں خدا ہوں تم سب کا ۔ سنا سب نے میں خدا ہوں ۔ “

شیون اس کے گلے کو دبوچے اس کے چہرے پر اپنا چہرہ جھکائے ہوئے وحشیوں کے طرح کفر کلمات کہہ رہا تھا ۔ اس کا چہرہ جویریہ کے چہرے کے اتنے قریب تھا کہ اس کے سانس لینے کی بدبودار گرم ہوا کو بھی جویریہ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی ۔

” سِپٹ آن دا باسٹڈ فیس ۔ “

دران کی آواز کان کے پردوں سے ٹکرائی ۔ دران کی آواز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ضبط کے عالم میں بمشکل بول رہا ہے ۔

” جویریہ تھوکو اس کے منہ پر ۔ “

وہ جویریہ کو تھوکنے کا کہہ رہا تھا ۔ جویریہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے شیون کے شیطانی چہرے کو دیکھا ۔ جسم خوف سے لرز رہا تھا لیکن اس کا آخری جملہ کسی بھی مسلمان کے اعصاب پر اسی طرح ہتھوڑے برساتا جیسے اس وقت دران کے اور اس کے اعصاب پر برسائے تھے ۔ وہ وقت کا فرعون تھا ۔ دران کے ساتھ موجود دوسرا شخص شاید اسے پرسکون رہنے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ وہ لگاتار چیخ رہا تھا ۔

” اٹس مائی آرڈر تھوکو اس کے منہ پر ۔ “

وہ جو بے حس و حرکت کھڑی تھی ایک دم سے جیسے کسی انجانی طاقت کے باعث ناک پھلا کر شیون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پھر اس کے منہ پر تھوک دیا ۔ سب ساکن ہو گیا ۔ سب کے منہ کھل گئے ۔ جویریہ کے تھوکنے کے باعث شیون کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ اس کے غلیظ چہرے پر جابجا سفید تھوک کے چھینٹے تھے ۔

” اے۔ے۔ےے۔ے۔ ۔ “

بھاری گرج نے تہہ خانے کی در و دیوار ہلا دیں ۔ وہ ساکن سے محرک ہوا اور پاگلوں کی طرح دھاڑ کر جویریہ کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں دبوچ لیا ۔

” میں تم سے نہیں ڈرتی ۔ بولو اسے ۔ غصہ دلاؤ اسے ۔ “

دران کی آواز تھی وہ پرجوش لہجے میں اسے شیون کو اور غصہ دلانے پر اکسا رہا تھا وہ ایسا کیوں کر رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن دران بار بار اسے یہی کہہ رہا تھا ۔

” میں تم سے نہیں ڈرتی ۔ “

” کیا!!!! کیا کہا ۔ “

” میں تم سے نہیں ڈرتی ۔ “

اب کی بار جویریہ نے چیخ کر جواب دیا اور پھر اچانک جمع ہو جانے والی ہمت سے ایک جھٹکا دے کر اپنے چہرے کو شیون کے ہاتھ سے چھڑایا ۔

” سنو تم سب ۔ ہاں میں اس سے نہیں ڈرتی ۔ تم سب کو بھی اس سے نہیں ڈرنا ہے ۔ ہر لڑکی کو اس جہنم سے نکلنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ہار مت ماننا لڑکیو ۔ ہار مان لینا اور ڈر جانا بزدلوں کا کام ہے ۔”

وہ پوری قوت سے اردگرد سلاخوں کو تھامے کھڑی لڑکیوں کو دیکھ کر اونچی آواز میں بول رہی تھی ۔ آواز پھٹ رہی تھی لیکن آواز میں کوئی خوف کوئی لغزش نہیں تھی ۔

” ضروری نہیں تم میں سے ہر کوئی میری طرح پھر سے پکڑی جائے ۔ اس کے چنگل سے نکلنا بہت آسان ہے ۔ یہ خدا نہیں ہے ۔ خدا وہ ہے جو ہم سب کا مالک ہے ۔ ہر جگہ موجود ہے ۔ وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہے اور ایک دن اس شیطان کا یہ جہنم اس کی ہی آخری آرام گاہ ہو گا۔ تم سب کو نکلنا ہے یہاں سے ۔ باہر کی دنیا میں جینا ہے ۔ خدا کی مرضی کے بنا یہ ہمیں چھو بھی نہیں سکتا ۔ “

” چپ کر کتیا۔ا۔ا۔۔ا۔ا ۔ لے کر آؤ اسے ٹارچر روم میں ۔ اس کی ساری اکڑ میں نکالتا ہوں ۔ ” “

وہ چیختا ہوا آگے بڑھا اور اسے بالوں سے دبوچ لیا ۔ وہ نہیں جانتی تھی اس میں یہ ساری ہمت کیسے آئی لیکن وہ چیخ رہی تھی ۔ دران کی طرف بھی خاموشی چھا گئی تھی ۔ وہ جو کچھ بھی کہہ رہی تھی خود سے اپنی ہمت سے کہہ رہی تھی اب دران اسے ہدایات نہیں دے رہا تھا ۔

” سن لو تم سب ۔ میں رہوں نہ رہوں لیکن یاد رکھنا ایک دن اس شیطان کا انجام بہت برا ہوا گا ۔ میرا خدا اس کے جسم کے ہر حصے کو داغے گا ۔ جتنی تکلیفیں اس نے آج تک ہم سب کو دی ہیں ہر تکلیف اس کو بار بار سہنا ہو گی ابد تک سہنا ہو گی ۔ یہ بھیانک موت مرے گا ۔ “

سیاہ فام شیون کے حکم پر اسے گھسیٹتے ہوئے اس کے پیچھے واپس لے جا رہے تھے ۔

” جویریہ لسن ٹو می ۔ اپنے ہاتھ میں پہنی رنگ کو ہتھیلی کی طرف گھماؤ ۔ “

دران کی سانس پھول رہی تھی وہ اسے بار بار ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو ہتھیلی کی طرف گھمانے کا کہہ رہا تھا ۔ جیسے ہی وہ لوگ واپس اوپر پہنچے شیون غصے میں چیختا ہوا اس پر جھپٹا ۔

” تمہیں میں تمھاری اوقات دکھاتا ہوں ۔ “

اسے گھسیٹتے ہوئے وہ ایک دروازے کے سامنے آ کر رکا ۔ کمرے کا دروازہ کھول کر اس نے جویریہ کو اندر کی طرف ایک زور کا دھکا دیا ۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی فرش پر جا گری ۔ دران پھر سے اسے انگوٹھی گھمانے کا کہہ رہا تھا ۔

جہاں وہ اوندھے منہ گری تھی فرش پر سے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا ۔ یہ عجیب کمرہ تھا جہاں بڑی بڑی زنجیریں , چابک اور ہتھکڑیاں موجود تھیں ۔ جگہ جگہ کیمرے کھڑے تھے ۔ عورتوں کی برہنہ تصاویر کے بڑے بڑے پوسٹرز دیواروں پر آویزاں تھے ۔ خون کے چھینٹے دیواروں پر اور پوسٹرز پر تھے ۔ چھریاں چاقو اور مختلف اوزار ۔ جگہ جگہ سٹریچر اور بستر یہ کیسی جگہ تھی وہ کانپ گئی ۔

” کیا کہہ رہی تھی وہاں ۔ چل اب یہاں پھر سے کہہ ۔ “

شیون دروازہ بند کرنے کے بعد پلٹا اور دیواروں میں لٹکتے چابک میں سے ایک چابک کو اتارا ۔ اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اس نے پھر سے دران کی آواز کانوں میں سنی اور آہستگی سے دونوں ہاتھوں کو ملائے انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کے رخ گھما لیا ۔

” جویریہ تمہیں اس کی جلد میں کہیں بھی اس انگوٹھی کو دبانا ہے ۔ اسکی کلائی ہاتھ یا گردن کہیں بھی ۔ “

دران کی اگلی ہدایت کان کے پردوں سے ٹکرآئی جبکہ اس کی آنکھیں سامنے چابک پر ٹکی تھیں جسے شیون ہوا میں چلاتا ہوا قریب آ رہا تھا ۔ چابک کی آواز فضا میں گونج رہی تھی ۔

” ڈو اٹ ۔ تم کر سکتی ہو ۔ “

دران اس کی ہمت بڑھا رہا تھا ۔ شیون نے جیسے ہی چابک کو ہوا میں اچھالا جویریہ نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر چابک کو اپنے ہاتھ میں دبوچا اور پوری قوت سے جھٹکا دیا ۔ شیون کو شاید اس کی طرف سے اتنی قوت کی توقع نہیں تھی ۔ وہ چابک سمیت آگے ہوا تو جویریہ نے دائیں ہاتھ سے اس کی کلائی کو زور سے تھام لیا ۔

” یس ڈو اٹ ۔ پریس دا فنگر اون ہز آرم ۔ “

دران کے کہنے کے بالکل مطابق اس نے انگوٹھی کو اس کی کلائی میں دبایا ۔ لیکن یہ کیا اس پر تو جیسے کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔ وہ ایک جھٹکے سے جویریہ کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔

” تمھاری اوقات کیا ہے یہ میں بتاتا ہوں تمہیں ۔ “

جویریہ کو پشت سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے وہ وحشی انداز میں غرایا ۔ شیون کے اس بے باک ردعمل پر اس کی ساری ہمت ایکدم سے ہوا ہوئی ۔ جسم خوف سے کانپنے لگا ۔ جس انجکشین کے ذریعے شیون کے اندر دوا داخل کی گئی تھی اس کی سوئیاں بنا محسوس ہوئے دوا کو جسم میں انجیکٹ کرتی تھیں لیکن کیا وہ صیح طریقے سے انجیکٹ کرنے میں کامیاب بھی ہو پائی تھی کہ نہیں ؟

پھٹی پھٹی آنکھوں اور خوف سے کانپتے جسم کے ساتھ وہ شیون کی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے مزاحمت کر رہی تھی اور وہ وحشی اس کی ہر مزاحمت کو ناکام بنا رہا تھا ۔ ایکدم سے اس کا جویریہ کے گلے کی طرف بڑھا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا وہ رک گیا تھا۔ جویریہ کو چھوڑ کر اپنے سر کو تھامے آنکھوں کو بار بار بند کر کے کھول رہا تھا ۔

” میڈیسن کام کر رہی ہے ۔ لٹس سٹارٹ دا آپریشن “

یہ دران کی آواز تھی جس کے ساتھ گہری سانس لے کر اس نے ساتھ بیٹھے شخص کو انگریزی زبان میں ہدایت دی ۔ شیون اسی طرح سر کو تھامے ایک طرف لگے بستر تک آیا اور پھر ایک دم سے بستر پر بے سدھ ہو کر گر پڑا ۔ تھوڑی دیر پہلے کے شور میں ایکدم سے جیسے گہری خاموشی چھا گئی ۔ وہ گہرے گہرے سانس لیتی ہوئی اپنے حواس بحال کر رہی تھی جب دران کی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔

” جویریہ اس کا فون دیکھو کہاں ہے ۔ نکالو اسے ۔ “

دران کی اگلی ہدایت جاری ہو چکی تھی ۔ جویریہ نے ڈرتے ڈرتے قدم آگے بڑھائے ۔

” ڈرو مت وہ بے ہوش ہو چکا ہے ۔ آگے بڑھو دیکھو اس کی جیب میں سے موبائل نکالو ۔ “

دران کی بات درست تھی ۔ وہ اوندھے منہ بے سدھ بے ہوش پڑا تھا ۔ جویریہ نے اس کی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔ اس کی پینٹ کی جیب میں اس کا موبائل موجود تھا ۔ موبائل کو نکال کر ہاتھ میں اٹھائے وہ سیدھی ہوئی ۔

” اس کے تھم سکین سے لاک کھولو ۔ “

دران کی اگلی ہدایت پر وہ پھر سے جھکی اور شیون کے انگوٹھے کو پکڑ کر فون کے سنسر پر لگایا ۔ اس کے موبائل کی سکرین کھل چکی تھی ۔

” بس اب جو بولوں کرتی جاؤ ۔ زک سٹارٹ کاپی دا اویری تھنگ ۔ “

وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے شخص کو بھی ہدایت جاری کر رہا تھا ۔ پھر دران کی ہدایت کے مطابق وہ اس کے پورے فون کو کنگھال چکی تھی ۔ دران اسے بس مختلف چیزیں کھولنے کے بعد سکرول کرنے کا کہہ رہا تھا کیونکہ باقی کام اس کی آنکھ میں لگا لینز کر رہا تھا ۔

پورے موبائل کو کنگھالنے کے بعد دران نے اس کمرے میں موجود ہر فائل ہر ڈرا ہر چیز کو کھول کھول کر دیکھا تھا ۔ تقریباً پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے وہ یہ سب کر رہی تھی ۔ کبھی کسی کونے میں جا کر کچھ دیکھتی کبھی کچھ ۔ سر چکرانے لگا ۔

” دران میں تھک گئی ہوں ۔ “

بہت ہی مدھم تھکی ہوئی مریل آواز تھی ۔ اس کے ایسے کہنے پر دران کی بولتی ایک دم سے بند ہوئی ۔

” اوکے ۔ اوکے ۔ چھوڑ دو سب ۔ زک سٹاپ ۔ “

دران نے فوراً گھبرا کر اپنے ساتھی کو بھی کام کرنے سے روکا ۔ ایک دم خاموشی چھا گئی ۔ وہ اسی الماری کے پاس فرش پر بیٹھ گئی اور سر کو الماری سے ٹکا لیا ۔ جسم تھکن سے چور تھا ۔ رواں رواں درد کی لہروں سے کسی زخم کی طرح دکھ رہا تھا ۔ بھاری ہوتے پپوٹے کے نیچے آنکھیں ایک بار پھر گرم آنسؤں سے بھر گئیں ۔ دران اب شاید اپنے ساتھی کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا اور وہ بے آواز روتی ہوئی بار بار آنسو صاف کر رہی تھی ۔ رونے کی رفتار بڑھتے ہی ہچکی کی آواز شاید دران کے کانوں میں پڑی تھی ۔

” تم رو رہی ہو ؟ “

” نہیں ۔ “

بے مروتی سے جواب دیا ۔ دران کی آواز میں فکرمندی تھی ۔ اس کے نہیں کہنے کے بعد دوسری طرف خاموشی چھائی ۔ وہ پھر سے رونے لگی ۔ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی آواز کا گلا گھونٹنے کی بہت کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہیں تھا اس کا دل پھٹ رہا تھا اسے وحشت ہو رہی تھی ۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی ۔ اسے دران سے خوف آنے لگا تھا جس نے اسے بنا بتایا مچھلی کے کانٹے میں پھنسا کر سمندر میں پھینک دیا تھا ۔ زندگی میں پہلی بار اسے دران سے شدید نفرت ہو رہی تھی ۔

” مجھے تمہیں دیکھنا ہے ۔ شیشے کے سامنے آؤ ۔ “

کچھ توقف کے بعد اس کی بھاری آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ دل کیا دران کی اس فرمائش پر اس کا گلا دبا دے ۔ ناک کے نتھنے ضبط سے پھولنے لگے ۔ وہ جبڑے بھینچے چپ بیٹھی تھی ۔

” میں کچھ کہہ رہا ہوں تم سے وہ سامنے شیشے میں جا کر کھڑی ہو جاؤ مجھے دیکھنا ہے تمہیں ۔ “

لہجہ التجائی تھا جس میں دنیا بھر کی محبت سموئے وہ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا اور اسے شیشے کے سامنے آنے کا کہہ رہا تھا ۔ کیونکہ اس کے کانوں میں لگے کیمروں سے وہ اس کے سامنے کے منظر کو دیکھ سکتا تھا لیکن اسے نہیں دیکھ سکتا تھا ۔

” نہیں آنا مجھے ۔ “

سپاٹ اور سخت لہجے میں جواب دے کر وہ اب اپنے گال رگڑ رہی تھی ۔ دل کیا کسی طرح اپنے کانوں سے یہ بالیاں نوچ دے کہ اس سنگدل کی آواز تک نہ سنائی دے ۔

” مجھے دیکھنا ہے تمہیں پلیز ۔ “

کس قسم کی ضد تھی اور کس بات کا زعم تھا جناب کو جو اسے دیکھنے پر بضد تھا ۔ جس کو اتنی محبت ہوا کرتی ہے وہ تو اپنے محبوب پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔ اس کی محبت دنیا کی انوکھی ہی محبت تھی ۔

” مجھے نہیں دکھانا اپنا آپ ۔ آپ چپ کریں گے پلیز ۔ مجھے آپکی آواز نہیں سننی ہے ۔ “

” تم پیار کرتی ہو مجھ سے ۔ “

” تو مل تو رہی ہے اس کی سزا کیا کافی نہیں ۔ “

دانت پیستے ہوئے جلا کٹا جواب دیا تو دوسری طرف گہری خاموشی چھا گئی ۔ چند سکینڈ کی توقف کے بعد پھر گہری سانس کی آواز گونجی ۔

” میں تمہیں کیسے سمجھاؤں ۔ نہیں سمجھا سکتا ۔ یقین کرو تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔ “

” ۔ میرے لیے فکر مند نہ ہوں آپ بس اپنے مقصد پر دھیان دیں ۔ مجھے آپ پر یقین ہو نہ ہو میرے اللہ پر ہے ۔ میرے اللہ نے کہا ہے ۔ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور شاید میری اس مشکل کے ساتھ آسانی میری موت ہو ۔ “

وہ روانی سے ایک ہی سانس میں بولتی چلی جا رہی تھی ۔ آواز میں لغزش تھی تو سختی بھی تھی ۔

” بکواس بند کرو اپنی ۔ تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔ “

اس کی آخری بات پر دران نے ایک دم غصے سے جھاڑ دیا ۔ وہ استہزائیہ مسکرا دی ۔ فکر جتانا بھی شاید اس کے مقصد کا حصہ ہی ہو گا ۔ وہ واقعی اسے نہیں جانتی تھی ۔ اب سمجھ آنے لگا تھا وہ بار بار یہ جملہ کیوں کہا کرتا تھا ” تم مجھے نہیں جانتی ۔ “

خاموش کمرے میں موبائل فون کی گھنٹی کی آواز گونجی تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی ۔ یہ گھنٹی شیون کے موبائل کی بج رہی تھی ۔ موبائل کی گھنٹی کے متواتر بجنے سے وہ بیڈ پر لیٹا کسمسا کر سر کو دائیں بائیں ہلا رہا تھا ۔ جویریہ کی جان حلق میں آئی ۔

” وہ اٹھ رہا ہے ۔ “

گھٹی آواز میں اس نے دران کو اس کے جاگنے کے متعلق بتایا ۔

” خاموش اب مت بولو ۔ “

دران نے فوراً اسے بولنے سے منع کیا ۔ شیون اب سر کو بار بار جھٹکتا اٹھ بیٹھا تھا ۔ موبائل پر نظر پڑتے ہی جھپٹ کر موبائل اٹھایا اور کان سے لگایا ۔

” فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے ۔ لڑکی تیار ہے نہ ؟ “

فون کے دوسری طرف موجود نفس نے غصے سے سوال کیا ۔

” لڑکی ۔ آہ ۔ہ۔ہ کون سی لڑکی ؟ “

شیون نے گھومتے سر کو جھٹک کر آنکھوں کو بار بار زبردستی کھولا ۔

” ایلکس بات کر رہا ہوں بیوقوف انسان ۔ پتا ہے نہ میں آج شام کی فلائیٹ سے یہاں پہنچ رہا ہوں ۔ رات کو ہوٹل میں لڑکی چاہیے مجھے ۔ وہی درانگ کی بیوی ۔ “

دوسری طرف ایلکس کی رعب دار آواز پر وہ جیسے ایک دم سے حواسوں میں واپس آیا ۔ ایک جھٹکے سے گردن گھما کر جویریہ کی طرف دیکھا اور پھر گہری سانس خارج کی ۔

” ہاں ۔۔۔ ہاں بالکل تیار ہے ۔ کیسے بھول سکتا ہوں ۔ تم بس پیسے اور میرا مال تیار رکھو ۔ میرے آدمی لڑکی کو لے کر پہنچ جائیں گے لیکن یاد رکھنا ۔ ایک رات مطلب صرف ایک رات اور دوسری شرط یہ کہ میرے آدمی ساری رات کمرے کے باہر پہرا دیں گے ۔ “

شیون ٹھوڑی کو خباثت سے سہلاتے اب اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ وہ پرسوچ انداز میں پیشانی پر شکن ڈالے ہوئے تھا ۔ شاید کچھ گھنٹے پہلے اس کے ساتھ کیا ہوا تھا اسے صیح سے یاد نہیں تھا ۔

” بے فکر رہو پیسہ اور مال تیار ہے ۔ بس تم اسے ہوٹل میں بھیج دو ۔ میں منتظر رہوں گا ۔ “

” بھیج دوں گا ۔ اوکے ۔ بائے ۔ “

شیون فون کو کان سے ہٹا کر تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ لیا ۔ جویریہ کا دل خوف کے باعث تیزی سے دھڑکنے لگا کیا اس کو شک ہو گیا ہے کہ کچھ ہوا ہے اس کے ساتھ ؟ گردن کو دبوچے شیون غصے سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ اسے گھور رہا تھا ۔ اور پھر چہرے کو اور قریب کرتے ہوئے غرایا ۔

” آج رات صرف۔۔۔ آج رات ۔ پھر دیکھنا میں تیرا کیا حال کرتا ہوں ۔ “

بے دردی سے اس کا سر جھٹکتا وہ آگے بڑھا ۔ جویریہ نے سکھ کا سانس لیا ۔ اب وہ دروازے کے باہر کھڑا کسی کو آوازیں دے رہا تھا ۔ شاید اسے تیار کرنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔

☆☆☆☆☆

رات کی سیاہی امریکہ کے مضافات میں مکمل طور پر پھیل چکی تھی ۔ پیلی ٹیکسی پوری رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی ۔

ٹیکسی کی پچھلی نشست پر بیٹھی کنز پارکر سرخ میکسی پر سرخ لپ سٹک لگائے بجلیاں گرا رہی تھی ۔ وہ جس وقت اسفند کے فلیٹ سے نکلی تھی تب سورج غروب نہیں ہوا تھا لیکن اب رات گہری ہو چکی تھی ۔ اسفند کے فلیٹ سے یہ جگہ کافی دور تھی اس لیے اسے ٹیکسی پر کافی گھنٹے سفر کرنا پڑا ۔

اتنے گھنٹے چلنے کے بعد آخر کار ٹیکسی سرخ روش کے آگے رکی ۔ کنز نے گردن موڑ کر محبت سے گھر کی طرف دیکھا اور مسکرا دی ۔ آج اس کی اور نوین کی شادی کی سالگرہ تھی ۔ نوین کے اس دن یوں ناراض ہو کر چلے جانے کے بعد وہ بہت سوچتی رہی لیکن نوین سے محبت اس کی کوتاہیوں کے سامنے جیت گئی ۔ آج پورے ایک ہفتے بعد وہ سب بھلائے اپنے گھر واپس آ گئی تھی ۔

ٹیکسی سے اتر کر سرخ روش سے لے کر گھر کے دروازے تک کا سفر اس نے ایک سرشاری میں طے کیا۔ ایک عجیب سرور تھا جس نے لبوں کی مسکراہٹ کو گہرا کر رکھا تھا وہ کتنے مہینوں بعد یوں دل سے مسکرا رہی تھی ۔ اس کا اپنا گھر اور نوین کے بے پناہ محبت سب کچھ سکون بخش رہا تھا ۔ ہاں وہ مغربی گوری چمڑی میں مشرقی دل رکھنے والی عورت تھی ۔ وہ عورت جو اپنے شوہر کی محبت کے خاطر سب کوتاہیاں معاف کر دیتی ہے کیونکہ زعم اس کی محبت کا ہوتا ہے ۔ وہ محبت جو اس کا غرور ہوتی تھی ۔ وہ محبت جس کی حقدار صرف وہ ہوتی ہے ۔

وہ جان بوجھ کر اسفند کے گھر سے دیر سے روانہ ہوئی تھی تاکہ جب گھر پہنچے تو نوین گھر پر ہو اور شادی کی سال گرہ کے دن وہ اسے اپنی واپسی کی خوشخبری دے کر حیران کر دے ۔ نوین کی گاڑی اوپن پورچ میں کھڑی دیکھ کر اس کی باچھیں کھل گئیں ۔ سرخ میکسی پر گال بھی گلال ہو کر اس کے حسن کو دوبالا کر گئے ۔

گھر کی چابی کو پرس سے نکال کر دروازے میں گھمائے وہ آہستگی سے گیلری میں داخل ہوئی ۔ دبے قدموں چلتی ہوئی آگے بڑھی ۔ ان کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔ کپڑوں کے بیگ کو راہداری میں ہی چھوڑا اور پرس کو کندھے سے اتار کر مسکراتی ہوئی آگے بڑھی ۔

جیسے ہی کمرے کے کھلے دروازے میں قدم رکھا ۔ قدم وہیں جم گئے ۔ سامنے کا منظر اسے منوں مٹی تلے دبا چکا تھا ۔

کاش وہ یہ منظر کبھی نہ دیکھتی ۔ محبت کی موت کا منظر ۔ محبت کی موت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور محبت کی موت اس وقت ہوتی ہے جب آ پکا محبوب آپ کی پیٹھ پیچھے کسی اور کی بانہوں میں ہو اور آپکو اس کی خبر ہو جائے ۔ اس کے غرور کی کرچیاں اس کے جسم کے ہر خلیے میں پیوست ہوئیں ۔

آنکھیں جل اٹھیں ۔ دل ڈوب گیا ۔ نوین ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا اور اس پر نگاہ پڑتے ہی چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا ۔ نوین کے دیکھنے پر وہ جو مجسم کھڑی تھی دھندلے ہوتے منظر سے نظریں ہٹا کر تیزی سے واپس پلٹی ۔ بیگ کے ہینڈل کو تھاما اور جن قدموں پر یہاں آئی تھی انہی قدموں تیز تیز واپسی کے لیے قدم بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔

” کنز !”

نوین کی پکار تھی ۔ وہ گھر کے سامنے موجود سرخ روش کے وسط میں پہنچ چکی تھی ۔ صرف ایک سکینڈ کے لئے قدم تھمے مگر پھر بنا پیچھے مڑے اس نے قدم آگے بڑھا دیے ۔

” کنزی ۔۔۔۔ کنزی ۔۔۔ رکو ۔ “

وہ اب بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آ رہا تھا ۔

” میری بات سنو کنزی ۔ “

اس کے پیچھے پہنچ کر ایک جھٹکے سے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا ۔

” چھوڑو مجھے ۔ “

پوری قوت سے اس نے نوین کے ہاتھوں کو جھٹکا اور چیختی ہوئی چند قدم پیچھے ہوئی ۔ آنکھوں سے نکلے آنسو گال بھگو رہے تھے ۔ نوین کے لباس پر ناگوار نظر ڈالے وہ لبوں کے باہر نکالے رو دی ۔

کنز تم غلط سمجھ ۔۔۔”

” بکواس بند کرو اپنی ۔ بکواس بند کرو نوین ۔ بس اب اور نہیں ۔ مجھے طلاق چاہیے اور ہر حال میں چاہیے ۔ “

غصے سے کہتی بیگ کو تھامے سرعت سے آگے بڑھی ۔ نوین فوراً اس کے سامنے آیا ۔

” بات سنو میری وہ سب جو تم نے دیکھا ۔ وہ محبت نہیں ہے وہ تو بس ایک کال گرل ۔۔۔ پلیز غصہ مت کرو ۔ تم کیوں مجھے یوں تنگ کر رہی ہو ۔ “

وہ بوکھلا کر بے ربط جملے ادا کر رہا تھا ۔

” اب نہیں کروں گی ۔ تم خوش ہو اپنی زندگی میں ۔ یہ میں دیکھ چکی ہوں ۔ “

” وہ سب وقتی ہے ۔ میں یاد کر رہا تھا تمہیں ۔ “

وہ نادم سا سر جھکا گیا ۔ کنز نے لب بھینچ کر آنسو روکے اور چہرہ نفرت سے ایک طرف موڑ لیا ۔

” مجھے معاف کر دو کنزی ۔ “

کر دیا ۔ “

رگڑ کر ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہتی وہ کسی طوفان سے پہلے کی خاموشی کا پیش خیمہ لگ رہی تھی ۔

” چلو گھر چلتے ہیں ۔ “

” میں نے تمہیں معاف کیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہارے ساتھ پھر سے رشتہ رکھوں گی ۔ “

سپاٹ مگر دو ٹوک لہجے میں کہتی وہ نفرت سے نوین کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

” میں جلد وکیل سے رابطہ کروں گی ۔ “

پرعزم لہجے میں کہا اور نوین کو یونہی پریشان چھوڑ کر آگے بڑھ گئی ۔

☆☆☆☆☆

کمرے کا دروازہ ہلکی کلک کی آواز کے ساتھ بند ہوا ۔ دروازہ بند ہوتے ہی جویریہ نے سٹپٹا کر ارد گرد دیکھا ۔ یہ کسی ہوٹل کا بہت بڑا کمرہ تھا ۔

جہاں قیمتی فرنیچر سے لے کر دنیا کی ہر حسین اور دلکش چیز موجود تھی ۔ شیشے کی طرح چمکتا سفید فرش ۔ جہازی سائز بیڈ , چھت سے لٹکتے سفید فانوس , سفید صوفے , سنیما سکرین ٹی وی , ہر طرح کی شراب سے لیس بار کاؤئنٹر , خوبصورت ٹیرس اور سامنے پوری دیوار میں نصب شیشہ جس کی طرف رخ پھیرے اسکے علاوہ یہاں موجود وہ دوسرا نفس کھڑا تھا ۔ آف وائٹ پینٹ کوٹ اور سیاہ جوتوں میں ملبوس ایک ہاتھ میں سلگتا سگار تھامے ۔ سفید گرے بالوں کی پشت پر پونی بنائے ۔

جویریہ نے آنکھوں کو سکیڑے اس کی طرف دیکھا ۔ شیون نے اسے سفید رنگ کے لباس میں تیار کروا کر اس ہوٹل میں بھیجا تھا ۔ یہ سفید فش میکسی تھی ۔ جس پر گہرا میک اپ کئے وہ ہوش ربا لگ رہی تھی لیکن اس وقت حواس باختہ کھڑی تھی ۔

شیون کے کمرے سے نکلنے کے بعد سے لے کر اب تک دران کا رابطہ اس سے منقطع تھا ۔ اب آگے اسے یہاں کیا کرنا تھا یہ دران ہی بتانے والا تھا اور وہ بے تابی سے اس کے رابطے کی منتظر تھی ۔ اسے تیار کرنے والی میک اپ آرٹیسٹ کان میں موجود بالیاں اتارنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی لیکن وہ جوتے اسے اتارنے ہی پڑے تھے جس کے بارے میں وہ دران کو بتا بھی نہیں سکی تھی ۔

کمرے کے باہر شیون کے آدمیوں کا پہرا تھا جو اسے یہاں لے کر آئے تھے اور اب کمرے میں موجود یہ پونی والا شخص ضرور ایلکس تھا ۔ وہ یونہی دروازے سے تھوڑا آگے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جب وہ پلٹا ۔ سفید چہرے پر ہلکی جھریاں اس آدمی کی عمر کی غمازی تھیں ۔ گھن زدہ نقوش والا چہرہ , وہ اب جویریہ کو دیکھ کر خباثت سے مسکرا رہا تھا ۔ جویریہ نے سٹپٹا کر نگاہیں چرائیں ۔ سر بھاری ہو رہا تھا اور ریڑھی کی ہڈی میں خوف کی لہر اوپر نیچے سفر کر رہی تھی ۔

وہ یونہی نگاہیں جویریہ پر جمائے قدم قدم آگے بڑھ رہا تھا ۔ دل خوف سے پھڑپھڑانے لگا ۔ دران رابطہ کیوں نہیں کر رہا تھا ۔ ایلکس کمرے میں موجود میز کے پاس رکا , جھکا اور ایش ٹرے پر سلگتے سگار کو رکھ کر سیدھا ہوا ۔ وہ اپنا اوپری کوٹ اتار رہا تھا ۔

” دران تم کہاں ہو؟ ۔”

جویریہ نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے آہستہ سے پکارا ۔ ایلکس کے بڑھتے قدم اس کی جان نکال رہے تھے ۔ وہ کوٹ کو بیڈ پر اچھال چکا تھا ۔ کہیں میک اپ کرنے والی لڑکی نے بالیوں کو کچھ کر تو نہیں دیا ۔ اف۔ف۔ف خدا دران کہاں ہے ۔

” دران ۔ن۔ن۔ن۔ کہاں ہو تم ؟ “

روہانسی آواز میں دران کو پکارتی وہ اب قدم قدم پیچھے ہٹنے لگی تھی ۔ ایلکس تو جیسے اس کی گھبراہٹ سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ وہ گھن زیادہ صورت والا بوڑھا تھا جو اس کے سراپے کو دیکھتا ہوا اب شرٹ کے اوپری بٹن کھول رہا تھا ۔

دران سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا لیکن اسے اپنے آپ کو بچانا تھا ۔ اس نے ایک دم سے بیرونی دروازے کی طرف بھاگنے کی خاطر رخ موڑا ۔ وہ چند قدم ہی بھاگی تھی جب ایلکس ایک جست میں اس تک پہنچ کر اسے کمر سے دبوچ چکا تھا ۔

ایک چیخ تھی جو اس کے حلق سے برآمد ہوئی ۔

ایلکس نے کندھے سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف موڑا اور کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا تو وہ تھر تھر کانپ گئی ۔ مزاحمت کے ساتھ وہ دران کے منع کرنے کے باوجود اسے پکارنے لگی ۔ دران اس سے رابطہ کیوں نہیں کر رہا تھا ۔

” دران ۔۔۔۔ دران ۔۔۔ “

وہ چیخ رہی تھی ۔ آنکھیں بند تھیں ۔ ایلکس کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ اس کی ہر مزاحمت بیکار تھی ۔ وہ کمر کے گرد بازو حائل کئے اسے مزید قریب کر رہا تھا ۔

” دران تم کہاں ہو ؟ “

آنکھیں میچ کر وہ چیخ اٹھی ۔ کتنی بے بس تھی وہ اور اللہ کے بعد ایک وہی تو تھا ۔ جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔

” یہاں ہوں ۔ “

وہ آنکھیں سختی سے بندکئے ہوئے تھی جب دران کی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ لیکن یہ آواز سپیکر سے آتی آواز تو نہیں تھی ۔ جویریہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں ۔ ایلکس نامی وہ شخص ایک ہاتھ سے اس کی کمر کو تھامے دوسرے ہاتھ سے گردن کے نیچے سے کھینچتا ہوا چمڑے کا بنا لچکدار ماسک اپنے چہرے پر سے اتار رہا تھا ۔ یہ ماسک لچکدار اور بالکل انسانی جلد کی طرح تھا تھا اور سینے سے شروع ہو رہا تھا ۔ کوٹ اتارنے کے بعد شرٹ کے بٹن کھولنا اسی وجہ سے تھا ۔

جیسے ہی وہ لچکدار ماسک اترا ۔ ماسک کے نیچے سے برآمد ہونے والا چہرہ دران کا تھا ۔

وہ کوئی ایلکس نہیں دران تھا ۔ بکھرے بال , خوبرو چہرہ , ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو , سوزش زدہ گہری آنکھیں ۔ وہ دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجائے, اس کی کمر تھام کر اسے اپنے ساتھ لگائے , اس کے گھبرائے اور حیران چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *