Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 35)

Basil by Huma Waqas

دران کی بات پر انل نے ایک سکینڈ کا توقف لیا پھر تاسف سے لب بھینچے گویا ہوا ۔

” بھائی میرے آپ نے اپنی بیوی کو اپنی محبت کا یقین دلانا ہے نہ کہ یہ کوئی آپ کا خفیہ مشن ہے جس میں طریقے کے کام کرنے کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے ۔ “

” مجھے وہ کسی مشن سے بھی مشکل لگتی ہے ۔ “

سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے آنکھوں کو چندھی کیے کہا ۔ شفاف سڑک سے مختلف گاڑیاں ان کی گاڑی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گزر رہی تھیں ۔

” ہاں وہ بہت مختلف ہے مجھے بھی اس کی باتوں سے اندازاہ ہوا تھا ۔ مختلف اور سمجھدار ۔ لیکن محبت میں سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں جناب “

انل نے اس کی بات کی تائید کی لیکن ساتھ ہی گہری سانس لیتے ہوئے محبت کی علامت سے آگاہ کیا ۔

” کیسے ؟ “

دران نے سگریٹ کو بجھانے کے لیے گاڑی کے ایش ٹرے میں مسل کر بھنویں اٹھاتے ہوئے سوالیہ نگاہ اس پر اٹھائی ۔

” محبت ویسے تو ایک جذبہ ہے لیکن کچھ سیانے اسے ایک بیماری کہہ گئے ہیں اور بیماری کے اثرات ہر بیمار پر ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ “

” تمھارے کہنے کا مطلب ہے میں اب بیمار ہوں ۔ “

” شدید والا ۔ “

انل نے لب بھینچے سر اثبات میں ہلایا ۔ دران کے چہرے پر ہلکی سی فکرمندی کو دلچسپی سے دیکھا اور گاڑی کو سٹارٹ کرنے کے لیے چابی گھمائی ۔

” تمہیں ویسے ان سب باتوں کے بارے میں اتنا کیسے پتا ہے ؟ “

” کیونکہ میں نے عام لڑکوں کی طرح لڑکپن سے جوانی تک کا یہ سفر طے کیا ہے ۔ تمھاری طرح ابنارمل طریقے سے نہیں ۔ “

انل نے سٹیرنگ کو گھماتے ہوئے گاڑی کو پھر سے سڑک پر اتارتے ہوئے اس کی طرف بنا دیکھے جواب دیا ۔

” اسکا مطلب ہے تم نے مجھ سے بہت کچھ چھپایا ہے ؟ “

دران نے اس کے چہرے پر نگاہیں جمائے شکوہ کیا ۔ انل نے سٹیرنگ کو تھامے حیرانگی سے گردن گھمائی ۔

” کیا چھپایا ؟ “

” اپنی عاشقی کے قصے ۔ “

چہرہ پھیر کر کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے مصنوعی خفگی سے کہا اور پھر انل کی طرف دیکھا ۔

” میں نے تم سے کبھی کچھ نہیں چھپایا ہاں لیکن یہ ایسے قصے ان کو سنائے جاتے ہیں جو اس طرح کے قصے سننے میں دلچسپی رکھتے ہوں ۔ “

” اب ہے دلچسپی سنا ۔ “

بلا کی سنجیدگی چہرے پر سجائے کہا تو انل بے ساختہ ہنس دیا ۔

” ناکام عاشقی کا قصہ ہے۔ سن کر کیا کرو گے ؟”

” اپنی عاشقی کو ناکام ہونے سے بچاؤں گا ۔ “

مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ فوراً جواب دیا ۔

” واہ واہ ۔ مطلب کہ اس میں بھی ماہر ہونا چاہتے ہو؟ “

” زیادہ بات کو گھمانے کی ضرورت نہیں قصہ سنا ؟ “

” ہاں۔۔۔ تو سنو جب تم لاہور گئے تھے پیچھے سے ایک کلاس فیلو کے ساتھ چلا تو تھا ۔ “

” کیا چلا تھا ؟ “

ایک آبرؤ اٹھائے شاکی نگاہ ڈالی ۔ انل نے اسکے شکی تاثرات کو دیکھ کر دانت پیسے۔

” یہ اپنے نان پروفیشنل سوال ذرا بند ہی رکھنا بیچ میں , سچی محبت کا بہت دکھی قصہ ہے ۔ “

” جہاں سمجھ نہیں آئے گی پوچھوں گا تو ۔ اوکے نہیں پوچھتا ۔ “

انل کے گھورنے پر فوراً رضامندی ظاہر کی ۔ انل اب گاڑی کی رفتار متوازن رکھے ہوئے تھا ۔

” ہاں تو وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں بی ایس کر رہی تھی ۔ ہماری کمینوٹی کی تھی ۔ اچھی لگتی تھی مجھے ۔ “

” اچھی تو تمہیں ساری لڑکیاں لگتی ہیں ہمیشہ سے ۔ “

” اب اتنی بھی میری کردار کشی کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اُس کے لیے سیپشل فیلنگز آتی تھیں مجھے ۔ جیسے تمہیں اب جویریہ کے لیے ۔ “

” اوہ اچھا اچھا ۔ “

دران نے سر کو اثبات میں ہلایا پھر سنجیدگی سے اگلا سوال پوچھا ۔ وہ پھرپور دلچسپی ظاہر کر رہا تھا کیونکہ یہ سب اس کے لیے بالکل الگ اور نیا تھا ۔ ہر جذبہ ہر احساس جس سے وہ آج سے پہلے بالکل نا آشانہ تھا ۔

” کیسی فیلنگز تھیں وہ ؟ “

نگاہوں کو چندھی کیے ڈرائیو کرتے انل کی طرف پہلو بدلہ انل نے کھوئے سے انداز میں سامنے نگاہیں جمائیں ۔

” وہ مجھے ہمیشہ بھیڑ میں بھی سب لڑکیوں میں نمایاں لگتی تھی ۔ کبھی غلطی سے بھی پاس سے گزر جاتی تو دل کے پمپ کرنے کی رفتار بڑھ جاتی تھی ۔ میں اس سے بات نہیں کر پاتا تھا ۔ بس چھپ چھپ کر اسے دیکھتا تھا ۔ کوئی گانا سنتا تو وہ خیال میں خود ہی آ جاتی تھی ۔ “

انل نے گہری سانس لی اور خاموش ہو گیا ۔ دران نے ایک سکینڈ کے لیے اسے خاموش دیکھا پھر تجسس سے پوچھا ۔

” پھر ؟ “

” پھر بس میں فیلنگز کو محسوس کرتا رہ گیا اور اس کی بی ایس کے دوران ہی شادی ہو گئی ۔ “

انل کے افسردہ لہجے میں کہے گئے جملے پر بے ساختہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی ۔

” اچھی اینڈنگ تھی ۔ پھر اگلا عشق کب ہوا ۔ “

” اگلا ہو ہی جاتا اگر تم لاہور سے واپس نہ آتے تو ۔ “

انل کے افسوس پر دران کا خفیف سا قہقہ گاڑی کی بڑھتی رفتار میں گونجا ۔ وہ بھی دران کے قہقے میں اب اس کا ساتھ دے رہا تھا ۔ دران کا یہ بدلہ روپ اور زندگی جینے کی طرف اٹھایا پہلا قدم اسے اندر سے سرشار کر رہا تھا ۔

جویریہ سچ کہہ رہی تھی ۔ دران کو وہ ہنساتا تو تھا لیکن وہ ہنسی کبھی ایسی ہنسی جیسی نہیں تھی ۔ ایسی ہنسی جس میں خوشی کی کھنک واضح ہو ۔

☆☆☆☆

بیورلی ہلز میں پھیلتی شام کے سایے گہرے ہو کر اب رات میں تبدیل ہو رہے تھے۔ درانگ ولاس میں نیلی بوگاٹی سست روی سے سفید روش والے ڈرائیو وے سے آگے پورچ کی طرف بڑھ رہی تھی ۔

انل ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوئے تھا جبکہ وہ بشاشت سے مسکراتا ہوا اس کے ساتھ براجمان تھا ۔ دل سے کتنے ہی بوجھ آہستہ آہستہ ختم ہونے کا احساس تھا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ محبت اتنا حسین جذبہ ہے کہ اس میں آس پاس کی دنیا رنگین لگنے لگتی ہے ۔

انسان بھی عجیب مخلوق ہے ۔ اپنے اندر کے موسم کے حساب سے ہی باہر کے موسم کو رنگ دینے لگتا ہے ۔ کل تک ہر ڈوبتا سورج اس کے اندر پنہاں تکلیفوں اور تنہائیوں کو بڑھا دیتا تھا لیکن آج یہی ڈوبتا سورج ایک میٹھی سی لہر وجود میں دوڑا رہا تھا ۔

گاڑی سے اترنے کے بعد دونوں نے آگے پیچھے ہی پورچ سے آگے لاؤنج کی راہداری میں قدم رکھا ۔

ہال میں اس وقت سبرینا اکیلی موجود تھی ۔ پوری دیوار میں نصب ایل ۔ ای ۔ ڈی سکرین پر کوئی فلم چل رہی تھی اور وہ ان کے قدم رکھنے سے پہلے تک بڑے انہماک سے اسے دیکھنے میں محو تھی ۔

” دران ۔ “

وہ بے نیازی سے انل کے ہمراہ پاس سے گزر رہا تھا جب سبرینا کی پکار پر رکا ۔ انل نے سراسیمگی سے ایک پل کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔

سبرینا ٹی وی بند کرتے ہوئے صوفے پر سے اٹھ رہی تھی۔ دران رک کر اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا ۔ انل نے سنجیدگی سے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھا دیے ۔

” وہ مجھے تھنکیو کرنا تھا ۔ ریسپیشن پارٹی بہت شاندار تھی ۔ “

سفید ٹی شرٹ اور تنگ جینز میں ملبوس وہ حسن کا ملکوتی شہکار لگ رہی تھی ۔ سنہری سیدھے بال کسی آبشار کی طرح کندھوں پر گرے تھے ۔

” تھنکیو کس بات کا یہ سب تمھارے اعزاز میں تھا۔ روم پسند ہے ؟ اگر کوئی اور چاہیے تو بتا دینا ؟”

دران نے سنجیدگی سے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پوچھا ۔ وہ کندھے پر گرتے سنہری ریشم بالوں کو جھٹک کر سر ہلا گئی ۔

” سب ٹھیک ہے ۔ “

آہستگی سے کہا اور پھر نگاہیں جھکائے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملایا۔ بڑے ناخن سرخ نیل پالش سے رنگے تھے ۔

” بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔ “

سرعت سے سر اٹھائے وہ دران کو صوفے پر بیٹھنے کا کہہ رہی تھی ۔

” ہوں ۔ “

دران نے سنجیدگی سے ہنکارا بھرا پھر قدم صوفے کی طرف بڑھا دیے جیسے ہی وہ صوفے پر بیٹھا ۔ سبرینا بھی پر اعتماد انداز میں مسکراتی ہوئی کچھ فاصلے پر براجمان ہوئی ۔ دران اب اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔

” وہ میں ۔۔۔۔۔ دراصل اس دن سے بات کرنا چاہ رہی ہوں ۔ مگر آپ بہت بزی رہے ۔ “

” کیا بات کرنی ہے ؟ “

” کراچی میں ہماری آخری ملاقات کے لیے میں آج بھی شرمندہ ہوں ۔”

وہ جملہ مکمل کرتے ہی سر جھکا گئی ۔ دران نے چند سکینڈ کے لیے اس پر نظر جمائی پھر صوفے کی پشت چھوڑے آگے ہوا۔

” دیکھو سبی میں سات سال پہلے ہی تمہیں معاف کر چکا ہوں ۔ تم اپنے دل سے ہر گلٹ نکال دو ۔ “

سبرینا نے سر اوپر اٹھایا ۔ وہ پرسکون انداز میں اس پر نگاہیں جمائے کہہ رہا تھا ۔

واہ دران ملک واہ ۔ کتنی دیدہ دلیری سے کہہ دیا میں نے تمہیں معاف کیا۔ بمشکل استہزائیہ مسکراہٹ کو مصنوعی دلفریب مسکراہٹ میں تبدیل کیا ۔

” ہاں لیکن لاسٹ ٹائم انل کے گھر میں بھی میں نے جو کچھ بھی کہا میں اس سب پر ۔ ۔۔۔”

” اٹس اوکے ۔ میں نے بھلا دیا تھا سب ۔ تم ناسمجھ تھی اس لیے جو دل میں آیا کہہ گئی البتہ تم مجھے معاف کر دو شاید انجانے میں ہی سہی میں تمھارا دل دکھا گیا ۔ “

سبرینا نے حیرانگی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔ دل دکھایا کتنا آسان لفظ استعمال کیا تھا ۔ روح تک چھلنی ہوئی تھی میری ۔ وہ خاموش تھی لیکن اب دران بول رہا تھا ۔

” میں اس وقت محبت کے جذبے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اس لیے تمہیں کس طرح انکار کرنا ہے ۔ کیسے سمجھانا ہے ۔ یہ سب ٹھیک سے نہیں کر پایا ۔ “

تذبذب میں کہتا وہ کتنا مختلف لگ رہا تھا ۔ اوہ تو اب جناب کو محبت کے جذبوں کی قدر ہونے لگی ہے ۔ سبرینا نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجائی ۔

” جویریہ بہت خوش قسمت ہے ۔ “

دران کی بات کاٹتے ہوئی جھوٹی مسکان کے ساتھ کہتی وہ بات کا رخ بدل گئی ۔ دران بے ساختہ مسکرا دیا ۔ وہی دلکش مبہم مسکراہٹ ۔

” وہ نہیں ۔ میں خوش قسمت ہوں ۔ “

بڑے وثوق سے کہا ۔ چہرے پر موجود طمانیت دل کی دنیا بدل جانے کی عکاس تھی ۔ سبرینا کا چہرہ پھیکا پڑا بمشکل تھوک نگلا اور سر کو اثبات میں جنبش دی ۔

” کوئی شک نہیں اس میں ۔ وہ بہت اچھی ہے ۔ بہت سمجھدار , سلجھی ہوئی ۔ “

” برھان کہاں ہے ؟ “

دران نے خجل ہوتے ہوئے ایسے بات بدلی جیسے وہ جویریہ کی نہیں بلکہ اس کی تعریف کر رہی ہو ۔

” وہ آج جلدی شوٹنگ کے لیے نکل گئے تھے ؟ “

” تم لوگوں کا ہنی مون بھی ارینج کیا ہے میں نے ۔ یہ گفٹ ہو گا میری طرف سے ۔ “

” اوہ اس سب کی کیا ضرورت ہے ۔ آپ برھان سے بات کر لینا پہلے ان کے شوٹنگ شیڈیول کو دیکھ کر ۔ “

” ہاں اس سے بھی کر لوں گا ۔ لیکن یہ سب میں صرف تمھارے لیے کر رہا ہوں اس کے لیے نہیں ۔ اچھا چلو تم دیکھو ٹی وی پھر بات ہوتی ہے ۔ “

سرعت سے وہ اپنی جگہ سے اٹھا لیکن صوفے پر بیٹھی سبرینا برھان کے لیے اس کی ازلی بے اعتنائی پر پہلو بدل کر رہ گئی ۔

وہ اب دھواں دھواں چہرے سے دران کی پشت کو گھور رہی تھی جو پتا نہیں کس خوشی میں جھومتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

☆☆☆☆☆

کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر ہی دل زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔ دل نے اس کے قدموں کی چاپ سے ہی اسے پہچان لیا تھا ۔

وہ بظاہر تو اس وقت کتاب پڑھنے میں مگن تھی لیکن عجیب بے کلی تھی کتاب کا ہر لفظ اڑنے لگتا , اڑ کر ہوا میں گھل جاتا اور پھر رات کے وہ پل ذہن میں گھومنے لگتے جب دران اس کے سامنے بیٹھا محبت کا اظہار کر رہا تھا ۔ ہر سانس کے ساتھ اس پل کو یاد کرتے کرتے اب دن سے رات ہو گئی تھی ۔

حسب معمول کمرے میں داخل ہوتے ہی دران کی پہلی نگاہ سامنے بیڈ کی طرف اٹھی جہاں وہ معمول کے مطابق کتاب کی وردق گردانی میں مصروف تھی ۔ دران نے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈالی اور قدم ریسٹ روم کی طرف بڑھا دیے ۔ واپس نکلا تو وہ اسی طرح بیٹھی تھی اور کتاب گود میں رکھے سر جھکائے ہوئے تھی ۔

ہلکا نارنگی سکارف گھوم کر گلے کی زینت بنا ہوا تھا ۔ بالوں کی ڈھیلی پونی اور گال پر جھولتی لٹیں اسے دلفریب بنا رہی تھیں ۔ دران نے اس پر نگاہ ٹکائے چند قدم کا فاصلہ طے کیا اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے سر پر کھڑا تھا ۔

” یہ دیکھو لسٹ ۔ “

ہاتھ میں پکڑا اپنا موبائل جویریہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔ انل کے آخری مشورے پر عمل کرتے ہوئے وہ دنیا کے تمام خوبصورت ممالک کے مقامات کی لسٹ نکال کر موبائل جویریہ کے سامنے کر چکا تھا ۔

” کس لیے ؟ “

کتاب سے سر اٹھائے حیرت سے موبائل کی کھلی سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

” گھومنے چلتے ہیں ۔ جہاں تم چاہو گی وہاں ۔ جگہ پسند کر لو ۔ “

” وہ کس لیے ؟ “

وہی سوال دہرایے اب وہ نگاہ موبائل سکرین سے ہٹا کر دران کی طرف اٹھائے ہوئے تھی ۔

” تمہیں یقین دلانے کے لیے ۔ “

فوراً جواب آیا ۔

” مجھے نہیں جانا ۔ “

آہستگی سے انکار کرنے کے بعد پھر سے کتاب کھولی ۔ دران نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں پھر بے اختیار اس کے بالکل سامنے بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے کتاب چھین لی ۔

” کیوں کل رات میں نے تم سے وقت مانگا تھا اور تم نے دیا ۔ “

” ہاں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ اس وقت میں مجھ سے میری مرضی کے خلاف کچھ بھی کروائیں ۔ محبت کا یقین دلانا ہے یا ہمیشہ کی طرح دھونس جمانی ہے ۔ “

سنجیدگی سے مگر دھیمے لہجے میں کہہ کر دران کے ہاتھ سے کتاب لینی چاہیے جسے ایک جھٹکے سے وہ پھر سے پیچھے کھینچ چکا تھا ۔

” مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم اپنی اس یک طرفہ محبت کے خول سے باہر نہیں آنا چاہتی ۔ “

” آپکو یہ کیوں لگتا ہے کہ آپ اس دنیاوی چمک دھمک کا سہارا لے کر مجھے اپنی محبت کے سچا ہونے کا یقین دلا دیں گے ۔ “

” مجھے نہیں لگا تھا ۔ یہ تو ۔۔”

انل کا نام لینے سے پہلے ہی خود کو روکا اور پھر اس کی کھلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس کے کتاب کے لیے بڑھے ہاتھ کو تھام لیا ۔

” ٹھیک ہے تم خود بتاؤ کہ تمہیں کیسے یقین آئے گا ۔ “

” مجھے وہ چاہیے جو آپ کے دل میں محبت ڈالنے کا جواز بنا ۔ “

بہت دھیما مگر پراعتماد لہجہ تھا دران کے ہاتھ کی نرم گرفت اس کی قربت ارادے کمزور کر رہی تھی مگر اسے کمزور نہیں ہونا تھا ۔

” کیا سمجھا نہیں میں ۔ کیا چاہیے ؟ “

اف۔ اف یہ معصومیت ۔ دل تو ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنے کو تیار تھا مگر وہ جو سوچ چکی تھی کرنا وہی تھا ۔

” مجھے قرآن سیکھنا ہے آپ سے اور اب کی بار میں یہ زبردستی نہیں کرانا چاہتی ۔ میں چاہتی ہوں آپ پورے دل سے مجھے پڑھائیں ۔ “

دران کی ہاتھ پر سے گرفت ختم ہوئی تھی۔ وہ پرعزم لہجے میں اپنا فیصلہ سنانے کے بعد اب دران کے چہرے کو کھوج رہی تھی جہاں رنگت کا بدلنا صاف واضح تھا ۔

” بولیں دیں گے مجھے دنیا کا سب سے پیارا اور انوکھا تحفہ , اپنے خوبصورت انداز بیاں میں اللہ کی کتاب پڑھائیں گے مجھے ؟ “

وہ سوال پر سوال کر رہی تھی ۔ دران بس یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔ ایک طرف وہ تھی جو اسے اب اپنے جینے کی وجہ لگتی تھی اور دوسری طرف وہ عمل تھا جس سے غفلت برتے اسے برسوں ہو چلے تھے ۔

وہ چاہتی ہے میں اسے دل سے پڑھاؤں لیکن میں وہ دل کہاں سے لاؤں ۔ وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھا اور قدم کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔

جویریہ نے بجھتے دل سے اس کی طرف دیکھا ۔ لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری ۔

دران مجھے آپ کی یہ خول میں لپٹی شخصیت نہیں چاہیے ۔ اگر میری محبت اس پتھر جسم کو چیرتی ہوئی آپ کے دل میں احساس پیدا کر سکتی ہے تو میرا اللہ تو ہر مسلمان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔

غافل ہم ہوتے ہیں وہ ہم سے نہیں ۔ ہم شکوے اور خود کی سوچوں کو حاوی کرتے ہوئے قصور وار اسے ٹھہرا دیتے ہیں اور اس سے خفا ہو جاتے ہیں لیکن وہ ہماری ہر غفلت , ہر گناہ , ہر بھول کی توبہ اور معافی کے انتظار میں ہوتا ہے ۔

وہ رحیم ہے جو شیطان کے ہر بہکاوے پر اس سے غفلت برتنے والے کو اس کی توبہ پر پھر سے گلے لگا لیتا ہے ۔ وہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔ اس ماں سے ستر گنا زیادہ جو اپنے بیٹے کی ہر غفلت اور زیاتی کو بھلا کر اسے گلے لگا لیتی ہے ۔

اُس پر یہ سب بیت چکی تھی ۔ زندگی کی ٹھوکروں نے اسے بھی اللہ سے شکوہ کرنے پر مجبور کیا تھا لیکن وہ غلط تھی اور اب دران کو بھی اس کی غلطی کا احساس دلانا چاہتی تھی اور اب تو وہ کمزور بھی نہیں تھی ۔ دران کے دل میں محبت کی پھوٹتی کونپل اس کی طاقت تھی ۔ دلفریب مسکراہٹ لبوں پر گہری ہو رہی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *