Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 01)
Rate this Novel
Basil (Episode 01)
Basil by Huma Waqas
وہ پوری رفتار سے بھاگ رہی تھی ۔ یوں حواس باختہ بھاگنے کی سبب منہ آدھے سے زیادہ کھلا تھا , کندھوں تک آتے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اور کھلے ہونے کے باعث جتنی رفتار سے وہ بھاگ رہی تھی دائیں بائیں جھولتے ہوئے بار بار اس کا چہرہ ڈھک رہے تھے ۔
کپڑوں کے نام پر اس وقت ایک پتلی سی بنا آستین کے نیم برہنہ سفید نائٹی نما فراک کےسوا کچھ بھی اس کے تن پر موجود نہیں تھا , اور اس فراک کی لمبائی اتنی کم تھی کہ گھٹنے ڈھانپنے سے بھی قاصر تھی ۔ نا پیروں میں جوتے تھے , نا کوئی چادر , کہاں وقت تھا وہ جوتے پہنتی یا تن پر چند کپڑوں کا اضافہ کر پاتی ۔
جیسے ہی وہ بدذات جسم نوچنے کی خاطر اوپر جھکا تھا , کانٹا اس کی ران پر گاڑتے ہی وہ بھاگ کھڑی ہوئی , رکنے کا , کچھ بھی سوچنے کا حتی کہ اگلا سانس لینے کا وقت نہیں تھا اس کے پاس ۔ اور پھر کھڑکی سے پھلانگتی پہاڑ سے اترتی اب نیچے بھاگ رہی تھی ۔ بھاگ کر سانس پھولنے لگی تھی ۔
کل سے ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترا تھا , کہاں پتا تھا ایسا موقع میسر آ جائے گا نہیں تو کچھ ضرور کھاتی اور شائد اب زیادہ رفتار سے بھاگ سکتی ۔ ایک دم سے بھاگتے بھاگتے وہ رک گئی تھی سانس بری طرح پھول رہا تھا ۔ بدن میں خون تک منجمند کرتی ٹھنڈ میں بھی پسینے کے ننھے قطرے اس کی پیشانی پر نمودار تھے ۔ دائیں بائیں کمر پر ہاتھ دھرے سانس کو متوازن کرتے وہ اب اردگرد دیکھ رہی تھی ۔
بھاگتے ہوئے تو اتنا محسوس نہیں ہوا تھا مگر اب رکتے ہی جیسے بدن کو یخ بستہ وجود کو چیر کر رگوں میں دوڑتے خون میں سرائیت کرتی ٹھنڈ کا احساس ہوا , وہ کپکپا گئی ۔ ٹھٹھرتے لبوں پر زبان پھیری , دونوں ہاتھوں سے برہنہ کندھوں کو زور سے مسل کر اردگرد دیکھا ۔
چاروں اطراف گھپ اندھیرا تھا , جس میں پوری آنکھیں کھولنے پر بھی حد نگاہ بہت کم تھی ۔ وہ پاگلوں کی طرح کچی سڑک کے وسط میں کھڑی اردگرد جائے پناہ تلاش کر رہی تھی ۔ لیکن ذہن تھا کہ منجمند ہونے لگا تھا اور دانت آپس میں بجنے لگے تھے ۔
لاویا نامی چین کے اس گاؤں میں زیادہ کھیت تھے اور کم گھر , لکڑی اور بانس سے بنے ڈربے نما مکان کچھ اونچائی پر پہاڑوں پر بنائے گئے تھے ۔ جہاں سے وہ اتر کر اب نیچے کھیتوں میں آ چکی تھی ۔
یقینا وہ بھی اس وقت لاویا کے کسی کھیت میں ہی موجود تھی , اگرچہ دو دن میں وہ اس جگہ کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں جان سکی تھی ۔ اس لیے اب کچھ خبر نہیں تھی اسے کس طرف جانا ہے , بس اتنا یاد تھا کہ لی تاؤ اسے کسی کشتی میں بیٹھا کر اس گاؤں تک لایا تھا اور یہاں واحد ایک پکی سڑک تھی جہاں جان بچانے اور یہاں سے فرار کے لیے پہنچنا ضروری تھا ۔
چند لمحے وہاں سانس بحال کرنے کے بعد وہ ایک سمت کی طرف پھر سے بھاگ چکی تھی ۔وہ لوگ اب تک اس کے پیچھے بھاگ چکے ہوں گے اس خیال کے آتے ہی وہ اپنی رفتار اور بڑھا چکی تھی , ننگے پاؤں ہونے کے باعث بھاگنا بہت دشوار تھا اور سردی اتنی زیادہ تھی کے ننگے پاؤں کے رستے پورے جسم میں گھس رہی تھی ۔ لگتا تو یوں تھا عزت بچا کر بھاگ تو چکی تھی مگر شائد یہ سردی اسے زیادہ دیر زندہ نہیں چھوڑے گی لیکن اس طرح مرنا اس کو قبول تھا ۔
بھاگتے ہوئے اچانک اندھیرے میں ہی پیروں کو احساس ہوا وہ اب کچی مٹی پر نہیں کسی پکی سڑک پر بھاگ رہی ہیں ۔ دل میں ایک موہوم سی امید جاگی کہ شائد وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے اور امید کے جاگتے ہی اس کی رفتار بھی مزید بڑھ چکی تھی ۔
بعض اوقات امید کی ایک کرن نظر آتے ہی گہرے سایے پھیلنے لگتے ہیں اور ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا ۔ قسمت ابھی اس پر مہربان ہونے کو تیار نہیں تھی ۔ اس پکی سڑک پر وہ ابھی کچھ دور ہی جا سکی تھی ۔ جب پیچھے سے گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی تیز روشنی نے ایک دم سے گھپ اندھیرے میں ڈوبے سارے منظر کو روشن کر دیا ۔ وہ نختصر راستے لے رہی تھی جبکہ وہ شائد پہلے سے اس سڑک پر موجود تھے اور اب کسی موڑ سے مڑ کر اس تک پہنچ چکے تھے ۔
” زن۔ن۔ن۔ن۔ن۔ن ۔۔۔۔۔۔۔۔” گاڑی کی آواز نے بتا دیا کہ گاڑی چلانا والا اسی کے پیچھے ہے ۔
گاڑی پوری رفتار سے پکی سڑک پر بھاگتی اب اس تک کا فاصلہ ختم کر رہی تھی ۔ اس نے یک لخت کھلے منہ اور چندھی آنکھوں سے پیچھے مڑ کر دیکھا , جہاں منہ سے سفید دھواں باہر نکلا , وہاں جان حلق میں آئی ۔ ہمت ہارنا کہاں سیکھا تھا اس نے , تھوک نگلا رخ سیدھا کیا اور بھاگنے لگی ۔
اچانک پاؤں کسی پتھر سے پوری قوت سے ٹکرایا اور وہ لڑکھڑا کر منہ کے بل سڑک پر گری , اس کی برہنہ ٹانگیں اور گھٹنے بری طرح پکی سڑک پر گھسٹ گئے ۔ تکلیف سے دلخراش چیخ حلق سے برآمد ہوئی اور یخ بستہ فضا میں گھل گئی , جہاں پتھر ٹکرانے سے پاؤں کی انگوٹھے میں بے پناہ درد کی لہر اٹھی وہاں اب منہ کے بل گرنے سے گھٹنے چھلنے کی تکلیف بھی تھی ۔
وہ اس بری طرح گری تھی کہ سر بھی چکرا گیا اور اسی اثنا میں گاڑی پوری رفتار سے اس کے پاس آ رکی ۔ روشنی میں پوری آنکھیں کھولے , کانپتے ہوئے گردن کو جھکا کر اپنے گھٹنوں سے رستے خون کی طرف دیکھا ۔
ٹھک ۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز تھی ۔
” پکڑ اس ذلیل کو ” لی تاؤ نے چینی زبان میں چیخ کر گاڑی کی کھڑکی میں سے سر نکالاتے ہوئے کہا ۔
یقینا وہ دوسرے شخص کو اسے پکڑنے کا کہہ رہا تھا ۔ دوسرا شخص جو پہلے ہی گاڑی سے اتر چکا تھا اب گھوم کر اس کی طرف بڑھا اور لپک کر اس کے اٹھنے سے پہلے اس تک پہنچا ۔ اور آتے ہی پہلے اس کے بال اپنی مٹھی میں دبوچ لیے ۔
وہ لمبے بالوں اور ایک کان میں بالی پہنے خوفناک شکل کا شخص تھا ۔ گرم موٹی بوری نما چادر کو خود پر اوڑھے اور سر کو اون کی ٹوپی سے ڈھکے وہ اب اس پر جھک رہا تھا ۔ جو اس وقت بھی بے سدھ سڑک پر لیٹی کراہ رہی تھی ۔
” کی ۔۔ہاں ۔۔۔ بھاگ ری ٹھی ۔۔۔۔” اس شخص نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں خباثت سے دانت نکالتے ہوئے بالوں کو اپنے ہاتھ میں موڑا ۔
کھوپڑی کی جلد سے کتنے ہی بال ٹوٹنے کی تکلیف ایک ساتھ محسوس ہوئی تو اس کی آنکھوں کے کناروں سے آنسو بہہ نکلے اور کتنی ہی تکلیفوں میں ایک اور تکلیف کے اضافے نے چہرے کا زاویہ بگاڑ دیا ۔
” چھوڑو ۔۔۔۔۔۔ مہ ۔مجھے ۔۔۔۔ چھوڑو ۔۔۔۔ مجھے نہیں کرنا یہ سب ۔۔۔ مجھے میرے گھر جانا ہے ” وہ تکلیف سے چیخ اٹھی ۔
اس کی اس چیخ پر ان دونوں کے فلک شگاف قہقے اس خوفناک اندھیری سڑک پر دور تک گونج گئے , دوسرے شخص نے دانت پیستے ہوئے اس کے بالوں کو مٹھی میں لے کر پھر سے دبوچا , ایک جھٹکا اس کی گردن کو پڑا اور چہرہ آسمان کی طرف اٹھ گیا ۔ وہ اب اس کے چہرے پر جھکا زہریلے سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا ۔
اس کے جسم اور منہ سے اٹھتے بدبو کے بھبکے اس کے ناک نتھنوں میں گھس رہے تھے ۔
وہ بے بس تھی نا ہل سکتی تھی نا خود کو چھڑا سکتی تھی ۔ گردن اتنی سختی سے اوپر اٹھی ہوئی تھی کہ اس کے گلے کی رگیں تن کر باہر کو ابھر رہی تھیں سردی کی شدت بڑھتی جا رہی تھی اور جسم اور دانت کپکپانے لگے تھے ۔
گاڑی کا دروازہ پھر سے کھلنے کی آواز آئی , شائد لی تاؤ اب گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔ وہ ناک پھلائے غصے میں پھنکارتا اس کے قریب پہنچا اور اس کے پیٹ میں ٹانگوں کو گھما گھما کر مارنے لگا ۔
” اب بھاگےگی کمینی ” وہ پوری قوت سے چلا رہا تھا
وہ لگاتار ٹانگیں پیٹ میں مار رہا تھا اور اس کے حلق سے نکلنے والی چیخیں جانور زبح ہوتے وقت کی چنگھاڑ کے مترادف تھیں ۔ لی تاؤ کے چمڑے کے بوٹ اس کی ناف سے اوپر ضرب لگا رہے تھے ۔ انتڑیاں جو بھوک سے پہلے ہی سکڑی ہوئی تھیں اب اس ضرب پر اور چپک رہی تھیں ۔ وہ تڑپ کر ٹانگیں سمیٹتی گھٹنوں کو پیٹ سے جوڑ رہی تھی ۔
دوسرے شخص نے اسے بالوں سے دبوچ رکھا تھا ۔ اور لی تاؤ ٹانگ کو کھینچ کھینچ کر متواتر اس کے پیٹ میں مار رہا تھا ۔
یہاں اس کی ان ہولناک چیخوں کو سننے والا کوئی نہیں تھا ۔ دور دور تک چیخیں کھلے کھیتوں میں لمبے درختوں اور کچی پگڈنڈیوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں ۔
یک لخت وہ اچھل کر اوپر ہوئی منہ سے اچانک کچھ ابل کر باہر نکلا ۔ بالوں کو دبوچے کھڑے شخص نے ایک جھٹکے سے اس کے سر کو چھوڑا ۔
بے حال ہو کر اس کی آنکھیں ڈھلک گئی تھیں ۔ سڑک پر اس کے منہ سے نکلے خون کے چھینٹے دور تلک گئے ۔ اب وہ اس کے بازو تھام رہے تھے اور اسے گھسیٹتے ہوئے گاڑی تک لا رہے تھے ۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتے ہی دونوں نے اسے اٹھا کر پٹخنے کے انداز میں پچھلی سیٹ پر پھینکا ۔ اور دروازہ زور سے بند کیا ۔
اس کا چہرہ سیٹ سے جیسے ہی ٹکرایا خون کے چھینٹے اگلی نشست کی پشت تک گئے ۔ ٹھک ۔۔۔ ٹھک ۔۔۔۔ گاڑی کے دونوں دروازے بند ہونے کی آواز ابھری ۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔ پیٹ کی تکلیف اتنی شدید تھی کہ اس نے کراہتے ہوئے ٹانگیں اوپر کو سمیٹی تھیں ۔ گاڑی گرم تھی ۔ جہاں یخ ہوتے جسم کو گرماہٹ کا سکون ملا تھا وہاں گھٹنوں پر رستے خون میں جلن ہونے لگی ۔
“مجھے یہاں نہیں رکھنا اب اس کو ” لی تاؤ کی آواز کار میں گونجی تھی ۔
” دو دفعہ یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر چکی ہے یہ ” لی تاؤ کی غصے میں بھری آواز کانوں میں پڑ ی ۔
” ( اس کی صورت بھی اتنی پیاری نہیں اس کے اعضا ہی بیچنے پڑیں گے چلو کچھ پیسے ہاتھ آئیں ) ” لی تاؤ نے غصے سے سٹیرنگ پر ہاتھ مارا ۔
وہ غرا رہا تھا ۔
” ( نہیں صورت نہیں جسم کی بات ہوتی ہے , نہیں ہم دھندا کریں گے اس سے ) ” دوسری نشست پر موجود شخص نے لی تاؤ کی بات کی نفی کر دی ۔
لی تاؤ پھر سے وہی کچھ اپنی زبان میں دہرا رہا تھا ۔ دونوں کی اب جھڑپ ہو رہی تھی ۔
تکلیف کو محسوس کرتی , بھنویں سکیڑے وہ ان کی بات سمجھنے کی سعی میں تھی ۔ جتنی چینی زبان وہ سیکھ چکی تھی اس کے مطابق یہی سمجھ آ رہا تھا کہ لی تاو اب اسے یہاں نہیں رکھنا چاہتا , وہ دوسرے شخص کو کہہ رہا تھا , نا تو اس کی شکل اچھی ہے اور نا وہ اسے بار بار بھاگنے کی وجہ سے مزید سنبھال سکتا ہے ۔
وہ اسے شہر میں بیچ دینا چاہتا تھا , شائد وہیں جہاں جسم کے مختلف حصے نکال لیے جاتے ہیں ۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر سنسنی صورت دوڑ گئی ۔ اعصاب ایکدم سے ایسے بوجھ تلے دبے کہ اس کے حواس اب کھونے لگے ۔ اور پھر اسی تکلیف میں وہ آنکھیں موندے اس دنیا سے بے خبر ہو چکی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
امریکہ لاس اینجلس بیورلی ہلز میں رات کا منظر دن سے زیادہ خوبصورتی لیے ہوئے تھا ۔ امریکہ کے اس حسین ترین شہر میں بنے بیش قمیت گھروں میں سے ایک تھا درانگ ولاس سمندر کے کنارے پر بنا یہ کانچ کی طرح چمکتا روشن خوبصورت درانگ ولاس چمک دمک میں آج اور ہی رنگ ڈھنگ لیے ہوئے تھا ۔
ولاس کی بیرونی راہداری میں ہی لمبی قطار میں بیش قیمت گاڑیاں کھڑی تھیں اور گیٹ پر بیٹھے گارڈز خوش گپوں میں مصروف تھے ۔
رات کے بارہ بجے کا وقت بھی یہ شاندار درانگ ولاس دن کا سماں پیش کر رہا تھا , جگمگاتی روشنیاں اور چمچماتے , زرق برق جدید طرز کے ملبوسات زیب تن کیے کم مشرقی اور زیادہ مغربی مہمان , مدھم سی مدھر بجتی بیلیور موسیقی میں مگن نظر آ رہے تھے ۔
جدید طرز پر تیار کردہ تیراکی کے تلاب کے ایک طرف لان میں میزوں پر سجے لزیز طعام , اشتہا انگیز خوشبو پھیلا رہے تھے ۔ اس خوشبو کے ساتھ ملی جلی مختلف قیمتی کلون کی مہک پورے ماحول کو مسحور کن بنا رہی تھی ۔ ارد گرد سے خفیف دلفریب قہقوں کے جلترنگ وقفے وقفے سے ابھر رہے تھے , یہاں تو حسن اور دلکشی کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا ۔
ان سب لوگوں میں وہ سیاہ چمکتی میکسی میں ملبوس سب میں نمایاں تھی ۔ نام تو روبینہ تھا مگر یہاں بیورلی ہلز میں سب اس کو روبی ملک کے نام سے جانتے تھے , چھالیس سال کی عمر میں بھی اس کے چہرے پر کوئی جھری نہیں تھی , حسین دلکشی اور جدید میک اپ اور زیبائیش سے لیس وہ تقریب کی جان تھی ۔ اس کے بلکل ساتھ کھڑے اسفند ملک بھی کم نہیں تھے خوبرو اور رعب دار شخصیت ۔ وہ دونوں اپنے سامنے کھڑے لاس اینجلس کے مشہور بزنس مین ماتھور سے محو گفتگو تھے اور ماتھور کی نظر بار بار روبی پر پھسل رہی تھی جس سے وہ اور سرشار ہو رہی تھی ۔
ان لوگوں سے کچھ دور مشروب کا گلاس تھامے سلیٹی رنگ کے بیش قمیت سوٹ پینٹ میں ملبوس اسفند ملک کا سپوت برھان ملک , کتنی ہی مغربی حسیناؤں کے بیچ کھڑا دلفریب قہقے لگاتا ہوا ہر فکر سے آزاد دکھائی دے رہا تھا ۔ سلیقے سے باک جیل سے پیچھے کیے قیمیتی لباس میں وہ اپنے ماں باپ کی پرچھائی ہی تھا ۔
سب کے چہرے کھل رہے تھے , یہ شاندار تقریب اسفند ملک کی بیوی روبی کے جنم دن کی خوشی میں رکھی گئی تھی ۔ درانگ ولاس پورے بیورلی ہلز میں خوبصورتی میں تو پہلے سے اپنی مثال آپ تھا لیکن اس وقت دیدہ زیب سجاوٹ نے تو اور چار چاند لگا رکھے تھے ۔
ایک دم سے جیسے اس پرسکون اور مسحور کن منظر میں تھرتھراہٹ پیدا ہوئی , درانگ ولاس کے گیٹ کے قریب بیٹھا گارڈ ہڑبڑا کر کھڑا ہوا اور ہوائیاں اڑے چہرے کے ساتھ گیٹ کھولنے لگا ۔ دانت نکالتی روزین کے چہرے سے ایکدم سے پنسی غائب ہی تیر کی طرح بھاگ کر اس نے سب سے پہلے موسیقی بند کی , جس کے بند ہوتے ہی اسفند ملک اور روبی چونک کر متوجہ ہوئے , اسفند ملک اور بلکل پاس کھڑی روبی نے ایک ساتھ گیٹ کی طرف دیکھا ۔
ایک لمحے کے لیے دونوں کی آنکھوں میں تحیر امڈا اور اگلے ہی لمحے روبی سٹپٹا کر اسفند ملک کے قریب ہوئی ۔
” اوہ ۔۔۔۔ اسفند ۔۔۔ تم نے مجھ سے کہا کہ وہ چائنہ گیا ہے شوٹنگ کے لیے ” روبی نے حواس باختہ لہجے میں اسفند سے سوال کیا
اسفند ملک تو پہلے سے ہونقوں کی طرح گیٹ کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ روبی کے یوں چھکے چھوٹنے پر بھنویں مزید اکھٹی کیں ۔
” تو جھوٹ کب بولا تھا میں نے , میری بات ہوئی تھی اس کے انل سے , آج دوپہر کی فلائیٹ تھی اس کی ” اسفند ملک نے لبوں کو بھنیچے اپنی بات کی تصدیق کی ۔
گیٹ کھل چکا تھا ۔ گہرے نیلے رنگ کی بوگاٹی ایٹلانٹک فراٹے بھرتی سفید چمکتے فرش کو روند کر گیٹ سے اندر داخل ہوئی ۔ وہ اتنی رفتاری سے اس شاندار درانگ ولاس میں داخل ہوئی کہ اس کے دیوڑھی میں پہنچنے سے پہلے تک تیراکی کے تالاب کے قریب اور لان میں کھڑے سب مہمانوں کی گردنیں اس طرف مڑ چکی تھیں اور منہ خوشی اور جوش کے مارے کھل چکے تھے ۔
” درانگ۔گ۔گ۔۔گ۔۔۔۔ از ہئیر ۔ر۔ر۔ر۔ر ۔۔۔۔” کتنی ہی چیخ نما بازگشت ایک ساتھ ابھری تھیں ۔
سب کے چہرے آنے والے کی آمد پر چمک اٹھے تھے , مسوائے درانگ ولاس کے مکینوں کے جن کے چہرے پھیکے پڑ گئے تھے ۔ برھان ملک نے لب بھینچے غصے سے گلاس پاس رکھی میز پر پٹخا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہونق بنے کھڑے اسفند ملک اور روبی کی طرف بڑھا ۔
میڈیا والے کیمرے تھامے پاگلوں کی طرح دیوڑھی کی طرف جا رہے تھے اور بہت سے دیوانے بھی ایک دوسرے سے ٹکراتے آگے بڑھ رہے تھے ۔ لڑکیاں تو باقاعدہ اپنے لباس درست کرتیں گہرے گلوں کو مزید کھینچ کر نیچے کرتیں , کندھوں سے اپنی میکسیوں کے سٹرپس ڈھلکاتیں دیوڑھی کی طرف بڑھ رہی تھیں ۔
ایٹلانٹک کی ڈرائیونگ نشت کی طرف کا دروازہ جتنی نرماہٹ لیے کھلا تھا اس میں سے نکلنے والا نفس اس کے بلکل برعکس تھا۔ اس کے باہر نکلتے ہی نسوانی چیخ و پکار نے درانگ ولاس میں بے ہنگم شور برپا کر دیا تھا ۔
سیاہ جینز , گول گلے والی سفید ٹی شرٹ پر سیاہ ہڈی جس کی اوپری ٹوپی کو وہ ایک جھٹکے سے سر پر سے اتار چکا تھا ۔
بکھرے گھنے گہرے بھورے بال اور کشادہ شکن آلود پیشانی غصیلی لمبی آنکھیں ۔ وہ بھنویں اکٹھی کیے بیزاری سے اپنے اردگرد بڑھتے ہجوم کو دیکھ رہا تھا ۔ جبکہ گیٹ پر موجود گارڈز اب لوگوں کو اس کے قریب آنے سے روک رہے تھے ۔
برھان نے آنکھوں کو مزید سکوڑا اور مٹھیاں بھینچ کر اسفند ملک کی طرف رخ کیا ۔
” واٹ دا ہل از دس ۔۔۔۔ بابا آپ نے کہا تھا وہ شوٹنگ کے لیے جا رہا ہے , تو یہ اب یہاں کیا کر رہا ہے ” برھان نے دانت پیسے اور اسفند کے کندھے کے قریب ہو کر کان میں غرایا ۔
اسفند ملک تاہنوز سامنے دران ملک پر نگاہیں جمائے دم سادھے کھڑا تھا ۔
” جسٹ کول ڈاؤن ۔۔۔۔ مجھے خود نہیں معلوم وہ یہاں کیسے ہے اس وقت ” آواز کو حد درجہ دھیما رکھ کر جواب دیا ۔
وہ اب گارڈز کی مدد سے ہجوم سے نکلتا لمبے لمبے ڈگ بھر کر لان کے وسط میں لگے میزوں کی طرف آ رہا تھا ۔ لڑکیاں آہیں بھر رہی تھیں کیمرے تصویریں کھینچ رہے تھے ۔ روبی گڑبڑا کر پھر سے اسفند کے کان کے قریب ہوئی ۔
” اسفند روکیں اسے یہ کیا کرنے والا ہے , مجھے اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے , ساری پارٹی خراب کر دے گا ” وہ حد درجہ آواز کو دھیما رکھے ہوئے خوف سے گویا ہوئی ۔
” ڈونٹ وری ۔۔۔ اؤور ریکٹ مت کرنا بلکل بھی۔۔۔ ” اسفند جھٹکے سے کوٹ درست کرتے تیزی سے آگے بڑھے
وہ طوفان اب غصیلی آنکھیں لیے تیراکی کے تالاب کے پاس پہنچ گیا تھا , جہاں سے گزر رہا تھا ملازم ہاتھ باندھ کر سر جھکا رہے تھے , اس کے لان میں پہنچنے تک اسفند ملک اس تک پہنچ کر اس کے سامنے آ چکے تھے ۔ اور وہ اپنے سامنے کھڑے اسفند ملک کو دیکھنے کے بجائے ایک آبرؤ اٹھائے گردن اکڑائے اردگرد کی سجاوٹ دیکھ رہا تھا ۔
اوپری لب کو دانتوں سے پکڑ کر کھینچا اور ناک چڑھا کر سانس لی پیشانی پر بل مزید گہرے ہو رہے تھے , جتنے بل گہرے ہو رہے تھے اتنی ہی آنکھیں غضب ڈھا رہی تھیں ۔
اسفند ملک اس کے اور قریب ہوئے ۔ چہرے پر پریشانی کی لکیریں ابھر رہی تھیں ۔
” دران کوئی تماشہ مت کرنا اٹس مائی ریکویسٹ پلیز۔۔۔۔ مجھے تم سے اجازت لینی چاہیے تھی لیکن تم ۔۔۔۔۔۔۔ تمھاری شوٹنگ تھی , سو ۔و۔و ۔۔ میں ۔۔ نے سوچا ۔۔” اسفند نے التجائی لہجے میں اس سب کی وضاحت دینی چاہی
اسفند ملک ایک ہاتھ اس کے کندھے پر یوں دھرے کھڑے تھے جیسے اسے رام کر رہے ہوں ۔ دران نے آہستگی سے اپنے کندھے پر سے اسفند ملک کے ہاتھ کو ہٹایا ۔ مطلب وہ ان کی بے تکی وضاحت سرے سے رد کر چکا تھا ۔
اسفند نے ایک نگاہ کچھ دور پریشان حال کھڑی روبی اور ناک پھلائے , ضبط سے لب بھینچے کھڑے برھان پر ڈالی ۔
دران اب وثوق سے قدم اٹھاتا لان کے وسط میں سجی میز کے قریب جا رہا تھا جہاں جہازی سائز کا چاکلیٹ کیک میز کے وسط میں سجا ہوا تھا ۔ اسفند ملک نے تیزی سے اپنے اور اس کے بیچ کا فاصلہ ختم کیا ۔
” دران ۔۔۔ فار گاڈ سیک ۔۔۔ روبی کی برتھڈے پارٹی ہے ۔۔۔ آج کوئی تماشہ مت کرنا ” انہوں نے دانت پیستے ہوئے دران کا ہاتھ تھامے کان میں التجا کی
وہ رکا , گردن موڑی اسفند کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں , وہی لمحہ بھر کو ساکن کر دینے والی ٹھہرے سمندر جیسی آنکھیں , گہری چمکتی مگر سکوت طاری کرتی غمناک آنکھیں , اسفند ملک ہر بار کی طرح آج بھی اس کی آنکھوں میں زیادہ دیر نہیں دیکھ سکے تھے فورا نگاہیں چرائیں اور ان کے نگاہیں چراتے ہی اس کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھری , ان لبوں پر اصل زندگی میں اس مسکراہٹ کے سوا اور کوئی دوسری مسکراہٹ آ بھی کیسے سکتی تھی ۔
اسفند ملک نے بچارگی سے اس کی طرف دیکھا , جس نے لاپرواہی سے جیب سے سگریٹ نکال لیا ۔ وہ اس وقت سب کی نگاہوں کا مرکز تھا ۔
ستائیشی نگاہیں , رشک کرتی نگاہیں , آہیں بھرتیں نگاہیں , اس کے دیدار سے سیر ہوتی نگاہیں , اس کی ایک نگاہ کی منتظر نگاہیں ۔
اسفند نے پھر سے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ اس کا ایک جھٹکے سے اٹھا ہاتھ دیکھ کر فورا بند ہوئے۔ کلائی پر بندھی پاٹک فلیپی ہکلا سا اوپر ہو کر نیچے ہوئی۔
” اسفند ملک صاحب , یہ درانگ ولاس ہے , ملک ہاوئس نہیں , یہاں کیا ہو گا کیا نہیں , یہ فیصلہ دران ملک کرے گا کوئی اور نہیں ” اس نے طنزیہ لہجے میں سینے پر انگلی رکھی جبکہ لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ہنوز قائم تھی ۔
وہ کم بولتا تھا پر جب بولتا تھا بس پھر کوئی بول بھی نہیں پاتا تھا ۔ اسفند ملک کو جلی کٹی سنا کر بڑے انداز میں جیب سے لائٹر نکال چکا تھا , لائٹر پر انگوٹھے کی ضرب پڑتے ہی شعلے کی روشنی نے جلتے ہی اس کی گہری آنکھوں میں عکس بنایا , اس کی سگریٹ سلگ گئی تھی ۔ ناک بھینچے بڑے انداز میں آگے بڑھا اور میز کے پاس جا کر ایک ہاتھ کے جھٹکے سے میز الٹ دیا ۔
دھڑ۔۔۔ دھڑ ۔۔۔۔۔ کرتے کیک سمیت سارے لوازمات اور بیش قمیت برتن زمین بوس ہوئے شیشے کا میز ایک دھماکے سے کرچی کرچی ہوا ساتھ ہی وہاں موجود سب لوگوں کی آنکھیں اور منہ پورے کھل گئے ۔
” لیو ۔۔۔۔۔ ایوری باڈی ۔۔۔۔ پارٹی از ۔۔۔ اؤور ۔۔۔۔ ناو ” سگریٹ منہ میں دبائے بڑے مزے سے تالی بجاتا وہ گھوم کر سیدھا ہوا
برھان اور روبی کے چہرے تذلیل کے احساس سے سرخ ہو رہے تھے اور دونوں اب اسفند ملک کو خون آشام نگاہوں سے گھور رہے تھے ۔
” دران ۔۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔ ؟ ” اسفند ملک اب کی بار اونچی آواز میں کہتے ہوئے آگے بڑھے
دران نے ہاتھ سیدھا تان کر ان کے قدم وہیں روک دیے ۔ وہ تذبذب میں وہیں رک گئے تھے ۔ ۔ سب لوگ ہکا بکا یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ۔
” لگتا ہے آپ سب کو میری بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔ تو پھر سے دہرا دیتا ہوں ” دران نے سگریٹ کا کش لگا کر پہلی دفعہ منہ کھولے کھڑے مہمانوں کی طرف نگاہ اٹھائی ۔
کتنی ہی منتظر اور آہیں بھرتی نگاہوں کے نیچے زبانیں چیخ اٹھیں , کسی کو اس کی بدتمیزی سے کوئی سروکار نہیں تھا دران ملک کی ان کی طرف اٹھتی نگاہ بہت تھی ۔ سب کو پتا تھا وہ بد دماغ ہے ۔
” Ladies and Gentlemen, This ceremony has come to an end. Now you can all go. I want to sleep۔ ۔۔۔
( خواتین و حضرات یہ تقریب اختتام پزیر ہو چکی ہے ۔ اب آپ سب تشریف لے جا سکتے ہیں , میں سونا چاہتا ہوں…… ) ” بات کے اختتام پر وہ بڑے احترام سے پیٹ پر بازو دھر کر جھکا تھا ۔
جہاں نسوانی چیخیں اس کی اس ادا پر فدا ہو رہی تھیں وہاں بہت سے لوگوں کی سرگوشیاں ابھرنے لگی تھیں ۔
دران نے ہڈ کی ٹوپی کو پھر سے سر پر لیا اور ایک طرف لگی کرسی پر بیٹھ کر ٹانگ گھما کر دوسری ٹانگ پر رکھی , نگاہیں موبائل سکرین پر جھکا دیں ۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے اب یہاں کوئی نا ہو , گارڈز اب لوگوں کو جانے کی تاکید کر رہے تھے ۔ روزین گھبرائی بوکھلائی باقی ملازمین کو صفائی کی ہدایات دے رہی تھی ۔
تمام لوگ ہاتھوں میں پکڑے مشروب کے گلاس میزوں پر رکھتے لان سے باہر جا رہے تھے , روبی نے خشمگیں نگاہوں سے اسفند ملک کو گھورا اور پھر پیر پٹختی آگے بڑھ گئی ۔
اسفند نے ٹھنڈی آہ بھری , دران سگریٹ کے کش لگاتا ہوا موبائل پر نگاہیں جھکائے اردگرد کے سارے ہنگامے سے بے نیاز بیٹھا تھا ۔
اسفند ملک اب برداشت سے لب بھینچے اس کے سر پر کھڑے تھے۔
” دران ۔۔۔ آج بہت زیادہ کر دیا تم نے یہ صرف تمھارا۔۔۔۔” اسفند ملک نے غصیلے لہجے میں کہتے ہوئے انگلی کھڑی کی
اس نے چہرہ اوپر اٹھایا ۔۔۔ اس کی آنکھیں اور ان پتلیوں کی گہرائی ۔۔۔۔۔۔ اسفند ملک کی بات ادھوری رہ گئی ۔
” ام۔م۔م۔م۔ ۔۔۔۔ م۔م۔م ۔۔۔” دران نے سر کو طنزیہ دھیرے سے دائیں بائیں ہلایا اور لبوں میں دبی سگریٹ نکالی ۔
” یہ صرف ۔۔۔ میرا گھر ہے ۔۔۔ آپ یہاں کیوں ہیں ۔۔ آپ جانتے ہیں ۔۔۔ وہ دونوں یہاں آپ کی وجہ سے ہیں , یہ میری برداشت ہے , آئی تھنک میری برداشت کو بار بار نا آزمایا جائے تو بہتر ہوگا ” بڑے متوازن لہجے میں ناک کو اوپر چڑھائے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا
” اگر ہم یہاں ہیں تو ہمیں گھر کا فرد بھی سمجھو کیا ہم یہاں کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے ” اسفند نے پیشانی پر شکن ڈالے غصے سے پوچھا
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا , سگریٹ کو پاس پڑی میز پر دھرے ایش ٹرے پر رگڑا ۔
” ہر گھر میں مرضی اس کے سربراہ کی ہوتی ہے ” رعب دار کھردرا ازل سے تھکا بیزار لہجہ
وہ انگلی سے اپنی ٹھوڑی کو سہلا رہا تھا , ہمیشہ کی طرح ہلکی سی شیو بڑھا رکھی تھی ۔
” اور آپ سب جانتے ہیں اس گھر کا سربراہ میں ہوں ۔۔۔۔ ” بھنویں اچکا کر ایک ایک لفظ پر زور دیا
جواب سوچتے ہونق بنے اسفند ملک کو وہیں چھوڑا اور قدم آگے بڑھا دیے ۔ ملازم ایک دم سے کام چھوڑ کر سیدھے ہوئے ۔
” لان صاف کرو ۔۔۔۔ ” رعب دار گرج تھی
ایک قطار میں لگے تمام ملازم برق رفتاری سے آگے بڑھے ۔ وہ اب سگریٹ سلگائے دیوڑھی سے آگے اندرونی لیونگ ھال کے داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھا چکا تھا ۔ جس کی شیشے کی دیوار سے اندرونی خوبصورت منظر آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا ۔ درانگ ولاس کے فرش سے لے کر چھتوں پر لگے فانوس تک بیش قمیت اور اس کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔
اپنے حلیے کے علاوہ اس کی ہر چیز میں اس کی دولت اور ذوق جھلکتا تھا ۔ وہ ہالی وڈ کی ایکشن فلموں کا سپر سٹار تھا ۔ لوگ یہاں اسے درانگ کے نام سے جانتے تھے ۔ پر وہ دران ملک تھا ۔۔۔۔
ایک معمولی اسٹنٹ مین سے ایک سپر سٹار کا سفر اس نے پچھلے پانچ سالوں میں طے کیا تھا اور اب وہ ہالی وڈ کے مہنگے ترین فائٹنگ سٹار میں شمار ہوتا تھا ۔
اس کی منفرد خاصیت اس کے نقوش اور خدوخال تھے وہ مغربی اور مشرقی حسن کا پروقار امتزاج تھا , کانچ سی گہری بھوری اور سبزی مائل آنکھیں , سفید رنگت مگر گہرے بھورے بال ۔
وہ پوری انڈسٹری میں بد دماغ ادکار کے طور پر مشہور تھا ۔ وہ اپنی اصل زندگی میں اپنے پی اے انل کے علاوہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا ۔
اسفند ملک درانگ ولاس کے قالین کی طرح بچھے لان میں اکیلے کھڑے تھے ۔ روزین ہدایات کرتی ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی ۔ لان میں ڈھیر ہوئے کیک کو اب اٹھایا جا رہا تھا ۔ اسفند ملک نے نگاہ اٹھائے دوسری منزل کی طرف دیکھا ان کے کمرے کی بتیاں روشن تھیں مگر جانتے تھے روبی کا چہرہ بجھ چکا ہو گا ۔
☆☆☆☆☆
اسفند ملک نے ایک لمحے کے لیے اپنے کمرے کے بند دروازے پر نگاہ جمائی, یہ درانگ ولاس کی دوسری منزل پر موجود کمرہ تھا ۔ نیچے رہائشی , مہمان خانے اور کھانے کے کمرے کے علاوہ صرف دران کا جہازی سائز کمرہ تھا جس کی کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی تھی اور اس کے بلکل سامنے اس کا چھوٹا تیراکی کا تالاب تھا جس میں بیٹھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ سامنے سمندر کا حصہ ہو اور ولاس کی دوسری منزل پر تین کمرے تھے جس میں ایک اسفند ملک اور روبی کا اور دوسرا برھان کا تھا ۔
اسفند ملک اب اپنے ہی کمرے کے سامنے تذبذب حالت میں کھڑے تھے ۔ کچھ پل یونہی پرسوچ شکن زدہ پیشانی کے ساتھ کھڑے گزرے اور پھر انہوں نے دروازے کے ہتھے کو پکڑ کر گھما دیا ۔ ہلکی سی چرچراہٹ کی آواز سے دروازہ کھلا ۔ اور سامنے سنگہار میز پر بیٹھی روبی نے قدآدم آئینے کے عکس میں پلکیں اٹھائے اسفند ملک پر قہر آلود نگاہ ڈالی ۔
شفاف شیشے کی طرح چمکتا سفید فرش تھا کمرے کی دیواروں پر ہلکے گلابی رنگ کا جدید طرز کا وال پیپر اور گہرے بھورے رنگ کا خوبصورت فرنیچر اس سفید فرش پر آنکھوں کو خیرہ کردینے کی حد تک خوبصورت تھا ۔
اسفند ملک نے ایک ہاتھ سے دروازہ بند کیا اور کورٹ کو اتارتے آگے بڑھے , روبی اپنی ریشمی ہلکے گلابی رنگ کی پیروں تک آتی نائٹی کو دونوں اطراف سے پکڑ کر سنبھالتی اپنی جگہ سے اٹھی اور اسفند ملک کی طرف قدم بڑھائے جو اب کورٹ کو تھامے ڈریسنگ کی طرف جا رہے تھے ۔
کشادہ کمرہ ہر طرح کی قیمیتی سامان سے آرئستہ تھا ۔ ڈریسنگ روم میں پوری دیوار میں نسب جدید الماری تھی ۔ جس کا دروازہ سرکا کر ملک اسفند نے روبی سے نظریں چراتے ہوئے کورٹ کو سلیقے سے الماری میں لٹکایا ۔ روبی بھی اب کمرے کے ساتھ ملحقہ اس ڈریسنگ روم تک آ گئی تھی ۔ اسفند ملک کو اب بس اس کے بولنے کا انتظار تھا ۔
” اسفی مجھے پاکستان جانا ہے ” نروٹھے سے لہجے میں اس نے بات کا آغاز لیا ۔
الماری کو بند کرتے اسفند ملک کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے اور پھر گہری سانس لے کر اس کی طرف دیکھا وہ اترے چہرے اور شکن آلودہ پیشانی لیے کھڑی تھی ۔
میک اپ چہرے سے صاف ہو چکا تھا اور اب وہاں وقت گزرنے کی چھاپ ہلکی جھریوں کی صورت نمایاں تھی لیکن وہ آج بھی بے حد حسین تھی ۔
” یہاں کا عیش آرام چھوڑ کر پاکستان جانا چاہتی ہو , وہی چک چک وہی مڈل کلاس زندگی ” اسفند ملک نے ایک آبرؤ چڑھائے پوچھا کم ڈرایا زیادہ تھا ۔
” عیش نہیں ذلت کہیں ۔۔۔ اسفی کم از کم ذلت تو نہیں ہو گی , میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی آخر کو دران نے ہمیں یہاں رکھا کیوں ہوا ہے , اگر ہم سے اتنی ہی نفرت ہے ” روبی نے تلملاتے ہوئے بھڑاس نکالی
اسفند ملک اب ٹائی کی ناٹ کھول رہے تھے ساتھ ساتھ گردن کو دائیں بائیں جنبش دے رہے تھے ۔
” مجھے لگتا ہے وہ سب جانتا ہے اور وہ یہاں پہنچا بھی اسی لیے ہے ” پرسوچ لہجے میں اپنا ڈر ظاہر کیا ۔
” کچھ نہیں جان سکتا وہ فقط احسان فراموش ہے۔۔۔ ” روبی نے ڈرنے کے بجائے کریہہ لہجے میں زہر اگلا
اسفند ملک نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑی عورت کو دیکھا جو غصے میں اب ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی اس کا اب کوئی بس نہیں تھا دران پر ۔
” احسان ۔۔۔۔۔فراموش ۔۔۔؟؟؟ روبی ۔۔۔ احسان تم نے کونسے کیے آج تک اس پر؟ ” اسفند ملک نے بھنویں اکٹھی کیے سوال نہیں سیدھا تیر برسایا تھا روبی پر
روبی نے تنک مزاجی سے آنکھوں کو سکوڑ کر اسفند ملک کی طرف دیکھا ۔ اسفند ملک کا دران کی طرف ہلکا سا جھکاؤ بھی اسے کہاں گوارا تھا ۔
” میں نے نہیں کیے آپ نے تو کیے ہیں کیا وہ سب بھی بھول گیا ہے وہ ” روبی کا درشت لہجہ ہنوز قائم تھا
” نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بھولا کچھ بھی نہیں ہے , سب یاد ہے اسے بھول ہم رہے ہیں کچھ ” اسفند ملک نے ٹھنڈی سانس بھری ٹائی کو الماری میں رکھا اور جوتے اتارنے کی غرض سے قریبی سٹول کو کھینچ کر اس پر براجمان ہوا ۔
” میرا تو ایسا دشمن ہے وہ کہ مت پوچھو , مجھ سے اب یہ سب برداشت نہیں ہوتا اسفی ۔ ۔۔۔ ” روبی نے دانت پیستے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ۔
” برداشت تو کرنا پڑے گا ۔۔۔ اس عیش اس پیسے کہ لیے ” جوتے اتارتے ہوئے سر جھکائے ہی اسفند ملک نے اس کی بات کو بیکار ثابت کر دیا ۔
روبی تلملا کر آگے بڑھی اور اسفند ملک پر جھکی ۔ انگلی کو غصے سے ہوا میں معلق کیا ۔
” اسفی آپ صرف اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جس دن وہ ہمیں یہاں سے دھکے مار کر نکالے گا ” غصے سے آواز اونچی ہو چکی تھی ۔
اس کا چہرہ اس وقت بھی تذلیل کے احساس سے سرخ تھا ۔ اسفند ملک نے چہرہ اوپر اٹھایا اور طمانت سے کھڑے ہوئے ۔
” نہیں میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب وہ سب کچھ اگل دے گا اور رہی بات تمہاری۔۔۔۔ تمہیں ان چار سالوں میں اس لیگزری لائف سٹائیل کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ تم اب پاکستان جا کر نہیں رہ سکتی اور تم جانتی ہو کماتا میں نہیں وہ ہے ” وثوق سے کہا
اسفند ملک نے قدم کمرے کی طرف بڑھا دیے جبکہ روبی کے قدم اس بات پر ڈریسنگ کے کمرے کے فرش پر ہی جم کر رہ گئے ۔
” غلطی ہماری ہی ہے ہمیں برتھڈے پارٹی باہر پلین کرنی چاہیے تھی ” اسفند ملک کا لہجہ اب مطمئن تھا ۔
واش روم کے سامنے پڑی چپل کو پاوں میں آڑاتے وہ واشروم کا دروازہ کھول چکے تھے ۔ ایک نگاہ مڑ کر گہری سوچ میں ڈوبی روبی پر ڈالی اور واش روم میں گھس گئے
روبی کی دونوں بھنویں پیشانی پر کچھ اسطرح اٹھی ہوئی تھیں کہ پیشانی پر عمودی لکیریں اس کی گہری سوچ کی عکاسی کر رہی تھیں ۔
☆☆☆☆☆☆
تیز بارش آسمان سے نیچے زمین پر اپنی پوری رفتار میں برس رہی تھی ۔ کراچی میں جب بادل برستے ہیں تو پھر سب جل تھل ہو جاتا ہے ۔ قدرت کی طرح یہ طوفانی بارش بھی کہاں تقسیم و تفریق جانتی ہے نا تو اونچی عمارتیں دیکھتی ہے اور نا ہی کچی بستیاں بس اس ابر رحمت میں سب دھل جاتا ہے سب بہہ جاتا ہے ۔ اور آج بھی یہاں تیز بارش جہاں کراچی کے مختلف علاقوں میں پوری رفتار سے برس رہی تھی وہاں ان فلیٹوں کی اونچی عمارتوں کے وسط میں بنے اس مشترکہ میدان کو بھی جل تھل کئے ہوئے تھی ۔ بارش کی بوندیں تابڑ توڑ برس رہی تھیں کہ حد نگاہ بہت کم تھی ۔
بجلی کی گرج چمک اور پھر تیز ہوا ۔ میدان کی گھاس کے نیچے موجود مٹی تک بارش کے تھپیڑوں سے اکھڑ رہی تھی اور میدان میں گدلہ پانی جمع ہونے لگا تھا ۔ میدان میں جگہ جگہ درختوں کے نیچے پڑے سفید پتھر کے بنچ اور ایک طرف لگے جھولے بھی گیلے تھے ۔
وہ انہی بنچوں میں سے ایک بنچ پر سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ بارش کے قطرے پوری رفتار سے اس پر برس رہے تھے ۔ سرخ اور سیاہ ملاپ کی ٹی شرٹ کے نیچے نیلے جینز کی پنٹ زیب تن کئے وہ اس طوفانی برستی بارش سے بے نیاز تھا اور اب کپڑے نچڑنے کے بعد جسم کے ساتھ چپکے ہوئے تھے ۔
اس کے علاو اس بارش میں کوئی اور ذی روح میدان میں نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اردگرد رہائیشی فلیٹ کے بنی اونچی اونچی عمارتیں اس جل تھل سے دھل کر گدلہ پانی پائپوں کے رستے نیچے گلی کو بخش رہی تھیں ۔ کہیں کہیں کسی فلیٹ کی کھڑکی کھلی تھی اور چند فلیٹ کی بالکنی کے کٹہروں میں بچے اٹکن بٹکن کھیلنے میں مصروف تھے ۔
ان تین مرلے کے تنگ فلیٹوں کی پرانی عمارت میں زیادہ کراچی کی مسیح برادری کے متوسط طبقہ رہائش پزیر تھا ۔ ان فلیٹ کے باہر میدان کی طرف کھلتی بالکنیوں میں لوہے کے جنگلے بنے تھے ۔ اور جنگلوں سے آگے انگنت بجلی کی تاروں کے جھمگٹے ۔
عمارت کی چوتھی منزل کی بلکنی میں وہ بھی بارش میں بھیگ رہی تھی ۔ گہرے بھورے رنگ کے سادہ سے کرتا پاجامے میں بازو سیدھے کھولے چہرہ اوپر کیے ۔ انگنت مہاسوں سے بھرا چکنی سی چمکتی جلد والا چہرہ پانی کی تیزی سے گرتی بوندوں کو مساج کی طرح محسوس کر رہا تھا ۔
اسی بالکنی سے اندر کو کھلتے دروازے سے آگے اس سے یکسر مختلف زندگی تھی ۔ جیسا تنگ گھر ویسی ہی تنگ زندگی اور اسے اس تنگ گھٹن زدہ زندگی سے نفرت تھی ۔ بہت نفرت ۔ اس تیز برستی بارش میں جہاں اس کے لیے خوشی کا سا سماں تھا وہاں اس تین مرلے کے فلیٹ میں آفت سا سماں تھا ۔
کمرے کی ٹوٹی کھڑکیوں سے چھن کر آتی بارش نے کمروں کو پانی سے بھر دیا تھا ۔ اس کی چھوٹی بہن سنانا اور اماں کی جھگڑنے کی ہلکی ہلکی آوازیں یہاں تک سنائی دے رہی تھیں , یقینا وہ کمرے کے فرش پر سے پانی بھر بھر کر باہر نکال رہی ہوں گی ۔ مگر اس وقت وہ جوی جان دنیا کی ہر پریشانی سے بے بہرہ اپنی آپ میں مگن تھی ۔
ویسے تو بچپن سے لے کر اب تک خوشی کے نام پر یہ تین مرلے کا فلیٹ ہی دیکھا تھا جو ان کا اپنا تھا پر ماں باپ نے ان تینوں کے نام خوشی رکھ کر زندگی میں زبردستی خوشی بھرنے کی کوشش کی تھی ۔ وہ بڑ ی تھی سولہ سالہ جوی جان , جوی مطلب خوشی اور اس سے چھوٹی سنانا جان , مطلب خوشی اور سب سے چھوٹی میری جان , مطلب خوشی مگر ان سب کے بعد پیدا ہوا جووت مطلب خداوند کا کمال ۔
ان کا باپ جان اسحاق ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا مسیح تھا ۔ پیشے کے لحاظ سے ایک نجی کمپنی میں صفائی ستھرائی کا کام کرتا تھا ۔ تنخواہ اتنی تھی کہ بمشکل گزر بسر ہو رہا تھا۔
وہ تھی جوی بارش میں بھیگتی , مسکراتی , اس کے کپڑے تیز بارش سے نچڑنے لگے تھے بال اب گالوں پر چپک رہے تھے ۔ مگر اس تیز بارش نے جسم کا رواں رواں پرسکون کر دیا تھا خاص طور پر جب چہرہ اوپر کرتی تو یوں لگتا کہ کہ بارش کی بوندیں چہرے کے گالوں پر نکلے بڑے بڑے مہاسوں پر مرحم کی طرح ٹپٹپا رہی ہیں ۔
چلو کوئی تو ہے جن کو ان مہاسوں سے حقارت محسوس نہیں ہوتی ۔ وہ مسکائی تھی ۔ کناروں سے سیاہ لب مسکراہٹ سے پھیل گئے ۔ اس کے گال انگنت مہاسوں سے بھرے تھے ۔ وہ اتنے گہرے سانولے رنگ کی تو نا تھی پھر لبوں کا رنگ پتہ نہیں کیوں ایسا گہرہ تھا ۔ اس کی دوستیں اور سنانا تو اسےچھیڑنے کے لیے اکثر پوچھتی تھیں کہ کیا وہ سگریٹ نوشی کرتی ہے ۔ بیضوی شکل کا چھوٹا سا چہرہ , زیادہ ہی گھنی کالی بھنویں چکنی سی چمکتی سانولی جلد لے دے کر چہرے پر اگر کچھ بہت نمایاں تھا تو سیاہ بڑی سی آنکھیں اور لمبی پلکیں ۔
” جوی ۔۔۔۔ جوی ۔۔۔ بس کر اندر آ جا , اب تیری باری ہے ” سنانا کی بے زار سی آواز کانوں میں پڑی ۔
اس نے بند آنکھیں کھولیں اور اوپر آسمان کی طرف اٹھایا چہرہ نیچے کیا , گردن گھما کر آواز کی بازگشت کے رخ میں دیکھا سنانا بالکنی سے اندرونی لوہے کے دروازے کو تھامے کھڑی تھی ۔ سرخ جوڑے کے گرد دوپٹہ کمر پر باندھے تنگ پاجامے کے پائینچے ٹخنوں سے اوپر تک موڑے اور پیشانی پر بیزاریت کے شکن لیے وہ اسے غصے سے گھور رہی تھی ۔
وہ تھی تو اس سے دو سال چھوٹی پر ہمیشہ دو سال بڑی ہی لگتی تھی کیونکہ رعب چلانے کے علاوہ وہ ہر لحاظ سے اس سے بہتر تھی ۔ اس کا قد بڑا تھا , رنگت اماں کی طرح صاف تھی , اور چہرے پر اس کی طرح بلوغت کے مہاسے بھی نہیں نکلے تھے ۔
” ادھر آ ۔۔۔۔ نہا لے تو بھی بارش میں , دیکھ تو سہی کیا حسین نظارہ ہے قسم سے ” جوی نے اس کی بات کو یکسر نظر انداز کیے ہاتھ کے اشارے سے باہر بالکنی میں بلایا
” نہیں جی مجھے کوئی شوق نہیں چڑھا اس کیچڑ میں آ کر پاگلوں کی طرح اس طوفانی بارش میں نہاؤں , تم ہو نا ایک پاگل کافی ہے , جلدی آؤ تمھاری باری ہے اب , کمرے سے پانی نکالو میں تو کپڑے تبدیل کرنے والی ہوں ” سنانا نے غصیلے لہجے میں گھورتے ہوئے اس کی بات کو رد کیا ۔
” تم تو بہت ہی بد ذوق واقع ہی ہو , قدرت کے ان حسین نظاروں کی قدر ہی کہاں ہے تمہیں , اچھا ادھر تو آؤ ” جوی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ کو زور سے اپنی طرف کھینچا۔
جھٹکا اتنی زور کا پڑا کہ سنانا ایک دم سے بالکنی کے وسط میں تھی اور چند سکینڈ میں ہی بھیگ بھی گئی ۔
” تمہیں یہ دو انچ کی بالکنی میں یہ تیز بارش قدرت کا حسین نظارہ لگ رہی ہو گی مگر مجھے تو عزاب لگ رہی ہے چپ چپ اور چک چک ” سنانا جھنجلا کر گویا ہوئی
” ارے پگلی پل بھر کو یہ سوچ کہ یہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ کی گندی سی بالکنی نہیں ہے , یہ تو ایک بہت ہی بڑے بنگلے کا حسین ٹیرس ہے , ایک طرف جھولا لٹک رہا ہے اور ایک طرف میز پر مشروب سجے ہیں ماربل کا کانچ جیسا سفید فرش ہے اور سامنے یہ گندا سا میدان نہیں ایک سمندر ہے اور نیچے یہ میلی کچلی پان کی دوکانیں نہیں بلکہ سوئمنگ پول ہے ” جوی کھوئے سے لہجے میں خلا میں گھورتے ہوئے بول رہی تھی
سنانا نے تاسف سے سر ہوا میں ہلایا , جوی کو ہر حال میں خوش رہنا آتا تھا وہ اپنے تخیل کو خود پر حاوی کر لیتی تھی ۔
” چل ہنس دے اب ۔۔۔ کہیں نہیں تیری گوری رنگت پگھل جائے گی اس بارش میں اور جیسا میں نے کہا ہے ویسا سوچ ” جوی نے اس کے کندھے پر جوش سے اپنا کندھا مارا ۔
وہ جو بار بار بارش کو منہ پر سے صاف کر رہی تھی کھلکھلا دی ۔ جوی ٹھیک کہہ رہی تھی تیز بارش نے پل بھر میں تپتا دماغ ٹھنڈا کر دیا تھا کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی مگر زندگی کی تلخیاں تو بھول گئی تھیں ۔ وہ جوی کی طرح اس گندی سی بالکنی کو کسی حسین بنگلے کا ٹیرس تو نہیں سمجھ رہی تھی ہاں البتہ سکون ضرور ملا تھا ۔
کچھ دیر بعد ہی وہ جوی کی طرح بارش سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اب بالکنی کی ریلنگ سے کہنی ٹکائے باہر میدان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
نظر سامنے بنچ پر بیٹھے لڑکے پر گئی اور پھر آنکھوں میں حیرت پھیلی ۔
” جوی ادھر دیکھ ۔۔۔ ایک اور بھی پاگل ہے تیرے جیسا ” گردن کو موڑے اونچی آواز میں آنکھیں موندے کھڑی جوی کو پکارا
جوی جو اب بھی بازو پھیلائے بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھی , اسکی آواز پر بازو سمیٹے اور شڑپ شڑپ پانی میں پیر مارتی آگے بڑھی اب اس کی نظروں کے تعاقب میں چہرے پر سے پانی صاف کرتے ہوئے نیچے دیکھا ۔
میدان میں رکھے بنچ پر کوئی لڑکا سر جھکائے بیٹھا تھا ۔
” کون ہے یہ ۔۔۔؟ ” جوی نے چہرے پر مسلسل پڑتی بارش کو ہاتھ سے پونچھتے ہوئے پوچھا
” یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم مگر یہ ہماری بلڈنگ کا نہیں ہے اتنا تو پتا ہے پہلے تو کبھی نہیں دیکھا اس کو یہاں ” سنانا نے حیرت سے کہا اور نگاہیں پھر سے وہیں نیچے جما دیں
جوی اب اس کے بلکل برابر اسی کے انداز میں ریلنگ پر کہنی ٹکائے کھڑی تھی ۔
” ہاں پہلے نہیں دیکھا ۔۔۔ پریشان سا ہے کوئی ” جوی کی بھی کھوئی سی آواز ابھری ۔
کچھ دیر میں ہی جوی کی توجہ سے اس سے ہٹ کر ساتھ والے فلیٹ کی بالکنی پر ناچتے بچوں پر جا ٹکی بے فکر کھلکھلاتے بچے اسے بے حد پسند تھے ۔
بچوں نے شرٹس اتار رکھی تھیں اور اچھل اچھل کر بارش کے پانی میں چھلانگیں لگا رہے تھے بارش کے پانی کے چھینٹے ان کے چہرے اور سر تک پہنچ رہا تھا مگر ان کو کوئی پرواہ نہیں تھی ۔ بے ساختہ جوی کے دل میں بھی یہی خواہش جاگی کے ہر فکر ہر سوچ کو بھول کر پوری قوت سے بالکنی کے کٹہرے میں کھڑے پانی میں چھلانگیں لگائے ۔
” ارے جوی یہ دیکھ یہ تو ہماری بلڈنگ کا ہے نا؟ ” سنانا نے اس کے بازو کو جھنجوڑ کر متوجہ کیا ۔
وہ جو بچوں کو اچھل کود کرتا دیکھ کر ہنس رہی تھی اس کے یوں بازو جھنجوڑنے پر اس طرف متوجہ ہوئی ۔ بارش میں بھیگتے لڑکے کے پاس اب ایک اور لڑکا کھڑا تھا اور سنانا ٹھیک کہہ رہی تھی وہ لڑکا ان کی بلڈنگ کا تھا ۔ ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں وہ اسے پہچان چکی تھی ۔
” ہاں انو لگتا ہے مجھے تو وہ تیسرے فلور والا ” ذہن میں اس کا نام بھی چھپاک سے امڈ آیا
بچپن میں تو مل کر کھیلا بھی کرتے تھے اب جب سے بلوغت میں قدم رکھا تھا تب سے بس آتے جاتے نظر پڑ جاتی تھی ۔
” ہاں وہی ہے ۔۔۔ اس کا دوست ہے لگتا اس کو ملنے واسطے آیا ہو گا ” سنانا نے اپنا اگلا اندازہ لگایا
” ہاں ۔۔۔ اچھا ہم کیوں اتنا انوسٹی گیٹ کر رہی ہیں یہ سب , کوئی بھی ہو ہماری بلا سے , چلو پکوڑے بناتے ہیں ” جوی نے اچانک ذہن میں امڈ آنے والے پکوڑوں کے خیال پر پرجوش ہو کر کہا ۔
اور پھر سنانا کا بازو کھینچتے ہوئے بالکنی کے اندونی دروازے کی طرف بڑھی ۔
” تمہیں اب پکوڑوں کی پڑ گئی ہے پہلے جا کر اماں کے ساتھ باقی کا پانی نکلواؤ وہ اکیلی لگی ہیں ” سنانا نے غصے سے گھورتے ہوئے اسے اگلا حکم صادرکیا ۔
وہ سنی ان سنی کرتی باورچی خانے کی طرف جا رہی تھی ۔
