Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 18)
Rate this Novel
Basil (Episode 18)
Basil by Huma Waqas
دوپہر کے ایک بجے سورج پوری تمازت سے چمکتا ہوا کراچی کو نہ صرف روشن کئے ہوئے تھا بلکہ اپنی حدت سے ہر چیز گرم کئے ہوئے تھا ۔ ملک ہاؤس میں جہاں چڑیا لان میں لگے درخت کے تنوں پر دبکی بیٹھی اپنی آنکھیں موندے دھیرے دھیرے سانس لی رہی تھیں وہیں گھر کے مکین اپنے کمروں کو ٹھنڈا کئے اس میں دبکے ہوئے تھے ۔
وقت پر لگا کر گزر چکا تھا ۔ ملک ہاؤس کی دیواروں کا رنگ و روغن تین سال پرانا ہو چکا تھا جو فائقہ کہ نسبت پر چمچم کر رہا تھا ۔
سورج کی آڑی ترچھی کرنیں ملک ہاؤس کے اس لاؤنج سے ملحقہ کچن کی جالی دار کھڑکی سے چھن چھن کر وہاں شیلف کے قریب کھڑی دوشیزہ کی پشت سے ٹکرا رہی تھیں ۔ گاجری کھلتے ہوئے رنگ کے جوڑے میں دمکتی رنگت لیے سبرینا ہتھیلی کی پشت سے بار بار ماتھے پر آئے پسینے کے قطرے پونچھتے ہوئے کھانے کو بڑے سے ٹفن میں ڈال رہی تھی ۔
رنگ و روپ تو سونیا اور روبی سے بھی بڑھ کر نکلا تھا اور اب سولہ کی ہوئی تو بلا کا غضب ڈھانے لگی ۔ جہاں جوبن میں نکھار آیا وہاں جذبات کا سمندر بھی رُخ بدلنے لگا ۔ وہ چند سال پہلے والی سبرینا کہاں رہی تھی جو دران کو راہب کی طرح فقط اپنا بڑا بھائی سمجھتی تھی ۔
دستگیر بیگم سمیت بہت سے گھروالوں کی باتیں کانوں میں پڑتے پڑتے اس کو اس احساس نے جکڑ لیا کہ اس کی شادی دران سے ہو گی اور جس سے شادی ہو وہ بھائی تو نہیں ہوتا۔ دران سے اپنائیت تو شروع سے ہی تھی ۔ اب وہ اپنائیت پسندیدگی اور محبت جیسے جذبے میں ڈھل گئی۔
ڈھلتی بھی کیوں نہ وہ دران ملک تھا ۔ لمبا قد کاٹھ اور جمال میں تو کوئی پورے خاندان میں اس کا ثانی نہیں تھا ۔ سنجیدہ مزاج , کم گو , مضبوط اور ذہین۔ وہ تو ناچاہتے ہوئے بھی کسی بھی لڑکی کے دل کو اسیر کر سکتا تھا تو وہ تو پھر سولہ سالہ جوانی کی سیڑھی پر پہلا قدم دھرتی لڑکی تھی ۔
” چاچو کا کھانا تیار ہے تو دے دو “
دران نے کچن کے دروازے پر ہاتھ دھرے عقب سے آواز لگائی ۔ وہ چونکی اور پھر مسکرا کر پلٹی ۔ سفید ٹی شرٹ نیلی جینز میں ملبوس وہ شائد ابھی ہسپتال سے گھر آیا تھا ۔
” جی تیار ہے بس ٹفن میں رکھ رہی تھی “
تیزی سے ٹفن کے اوپری ڈھکن کو گھمایا ۔ یاور ملک کے ہارٹ اٹیک نے گھر بھر کو ایک دفعہ تو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اب بھی وہ ہسپتال میں داخل تھے جہاں ان کی مکمل دیکھ بھال کی ذمہ داری دران پر تھی ۔
انیس سالہ دران گھر اور ہسپتال میں گھن چکر بن گیا تھا ۔ یاور سے محبت اتنی تھی کہ اس سارے وقت میں اس کے ماتھے پر ایک شکن نہیں آتا تھا ۔ اپنی پڑھائی کو پس پشت ڈالے وہ دن رات یاور کی خدمت میں گزارتا تھا ۔ اب بھی وہ دوپہر کا کھانا لینے گھر آیا تھا ۔ اسفند کی کرم نوازی تھی کہ کار آجکل اسے دے رکھی تھی ورنہ تو اس تپتی گرمی میں ہسپتال سے گھر کے چکر بہت کٹھن ہو جاتے ۔
سبرینا ٹفن مکمل بند کرنے کے بعد پشت پر ہاتھ باندھے پیچھے ہوئی تو وہ کار کی چابی کو بائیں ہاتھ میں منتقل کرتا ہوا آگے بڑھا ۔ چہرے پر تھکاوٹ تھی ۔ بال بکھرے سے اور کپڑوں کا حال بھی ملگجا سا تھا ۔
” مجھے بھی ہسپتال جانا ہے ؟ “
دران نے ٹفن کو کچن کی شیلف پر سے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب سبرینا نے آہستگی سے ہسپتال جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ دران نے جھکی نگاہیں اوپر اٹھائیں ۔
” چلو “
سنجیدگی سے کہا اور فوراً پلٹا ۔ سبرینا جلدی سے کمر کے گرد باندھے دوپٹے کو کھولتی اس کے پیچھے چل پڑی جانتی تھی وہ اس کا انتظار نہیں کرے گا اگر وہ تاخیر کرے گی تو وہ چلا جائے گا اسی لیے جس حلیے میں بھی تھی فوراً دوپٹہ کندھوں پر درست کرتی چل پڑی ۔ گاڑی گیٹ سے باہر گلی میں ہی کھڑی تھی ۔ وہ ٹفن پیچھلی نشت پر رکھ رہا تھا جب سبرینا تیزی سے فرنٹ ڈور کھول کر ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوئی ۔
وہ اب ڈرائیونگ سیٹ سنبھال رہا تھا ۔ دران پر اچٹتی سی نگاہ ڈالے وہ دھیمے سے مسکائی ۔ دران کے چہرے پر بڑھتی سختی سے بے نیاز وہ بار بار اسے چور نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ اس کے ساتھ یوں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا اس کے دل کو گدگدا رہا تھا تو دران کی کیفیت کیسی ہو گی آخر کو وہ بھی تو جانتا ہے کہ مستقبل میں ہم کس رشتے میں بندھنے والے ہیں ۔ شرما کر نگاہیں جھکا لیں ۔ دل بار بار بات کرنے پر اکسانے لگا ۔
وہ خاموشی اور سنجیدگی کا پیکر بنا انہماک سے ڈرئیونگ کر رہا تھا ۔ سورج کی گرمی کے باعث ماتھے پر بار بار بل ڈالے شیشے سے باہر سڑک پر دوڑتی ٹریفک کو گھورتا وہ اس کی بڑھتی دھڑکنوں سے بے نیاز تھا ۔
” دران وہ ۔۔۔”
گود میں دھرے اپنے ہاتھوں پر نگاہیں جمائے جھجکتی سی آواز میں سبرینا نے بات شروع کی جب دران کے سپاٹ لہجے پر چونکی ۔
” دران۔ن۔ن بھائی۔ی۔ی۔ ۔۔۔ “
انتہا کا سخت لہجہ تھا ۔ وہ جبڑے بھینچے سٹیرنگ پر گرفت کو بڑھاتے ہوئے بولا تھا ۔ سبرینا کے بدلتے تیور اس سے مخفی نہیں تھے ۔ برداشت تو بچپن سے کرنا سیکھ چکا تھا اور اب سبرینا کو بھی تین سال سے برداشت ہی کر رہا تھا ۔
” دران بھائی بولتی تھی تم مجھے ۔ یہ دران میں کب سے ہو گیا ؟ “
پیشانی کی تیوری اور چہرے کی سختی سبرینا کا دل بیٹھ گیا ۔ چہرے پر ایک دم سے سایہ لہرا گیا ۔ نگاہیں اب اس کے بازوؤں پر موجود بالوں پر ٹکائیں ۔
” جب سے دادی نے رشتہ طے کیا ہمارا ۔ “
گھٹی سی آواز میں جواب دیا ۔ دران نے غصے سے لال ہوتا چہرہ اس کی طرف موڑا ۔
” سبی رشتہ ہمارا وہی ہے جو ہم دونوں نے بنایا تھا ۔ میں تمہیں آج بھی اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھتا ہوں۔ “
” سمجھتے ہو ۔ ہوں تو نہیں ” برجستہ جواب تھا ۔
وہ آج دران سے دو ٹوک بات کے بعد اس کے دل کا حال جان لینا چاہتی تھی ۔ اتنے سالوں سے وہ اس کو دیکھ کر دل بہلانے والا کھیل اکیلے ہی کھیل رہی تھی ۔ آج اس کے خیالات بھی تو پتہ چلیں ۔
” سبی پلیز تم ایٹ لیسٹ میرے ساتھ ایسا مت کرنا “
دران نے ناگواری سے ایک ہاتھ کھڑا کئے کہا سٹرینگ اب ایک ہاتھ کے قابو میں تھا ۔ لہجہ بلا کی بیزاریت اور درشتی کا غمازی تھا ۔
” دران میں کل بھی تم سے محبت کرتی تھی اور آج بھی کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی “
” بکواس بند کرو اپنی ۔ تمھاری کل کی محبت میں اور آج کہ محبت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ وہ محبت بہت احترام اور سچائی رکھتی تھی ۔ اب تمھارے ذہن میں یہ محبت زبردستی کی ڈالی گئی ہے۔ “
وہ غصے سے دھاڑتا ہوا اب سٹیرنگ کو موڑ رہا تھا ۔ گاڑی کے ٹائر موڑ کاٹتے ہوئے بری طرح چرچرا اٹھے ۔ سبرینا کو اس سے اتنے غصے میں آ جانے کی توقع ہر گز نہیں تھی ۔
” چاہے جیسے بھی ڈالی گئی ہو مگر اب ہو گئی ہے بولو میں کیا کروں ؟ تمہیں کیا میں اچھی نہیں لگتی ؟ “
گردن کو گدی سے تھوڑا پیچھے کئے سوال پر سوال کیا ۔ بلا کا اعتماد تھا اس کو اپنی خوبصورتی پر ۔ دل کی دھڑکن دران کا جواب سننے کو تھم گئی تھیں ۔
” نہیں ۔۔۔”
کٹھور پن کی انتہا کو چھوتا لہجہ تھا ایک سکینڈ کی توقف بھی نہیں تھی اس کے جواب میں کہ وہ یہ سوچتی اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا ہے ۔
” مجھے وہ سبرینا اچھی لگتی تھی جو مجھے بھائی کہتی تھی نہ کہ یہ سبرینا جو اب میرے لیے اور ہی خیالات بننے لگی ہے ۔ “
دران اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کئے ہوئے تھا۔ جبڑے اتنی سختی سے پیوست تھے کہ اس کی کنپٹی کی ابھرتی رگیں سبرینا کی نگاہوں سے اوجھل نہیں تھیں ۔
” کل اگر ہماری شادی ہو جاتی ہے تو ؟”
” ہماری شادی نہیں ہو گی ۔ نہ کل نہ پرسوں کبھی بھی نہیں “
گاڑی ایک جھٹکے سے ہسپتال کی پارکنگ میں رکی ۔ سبرینا جو سیٹ پر تھوڑا سا آگے کھسک کر بیٹھی تھی جھٹکا کھا کر سیٹ کی پشت سے ٹکرائی ۔
وہ اب گاڑی کی چابی نکال رہا تھا ۔ وہ بات اپنی طرف سے ختم کر چکا تھا ۔ اپنی طرف کے دروازے کے ہتھے پر ہاتھ رکھے ایک سکینڈ کو رکا ۔
” اترو ۔۔ اور آج کے بعد اس ٹاپک پر ہماری کوئی بات نہیں ہو گی ۔ “
وہ باہر نکل چکا تھا ۔ سبرینا نے اترے چہرے اور بیٹھتے دل سے ایک نگاہ اس پر ڈالی پھر نظریں جھکا کر دروازے کے ہتھے پر ہاتھ رکھ دیا ۔
ٹفن کو پچھلی نشست سے نکال کر وہ قدم آگے بڑھا چکا تھا ۔ ایک اور رشتہ اس سے چھین لیا گیا تھا ۔ وہ اچھے سے جانتا تھا سبرینا کے ذہن میں اس سے محبت اور شادی کا سارا خناس بھرنے والیں کوئی اور نہیں سونیا اور روبی تھیں ۔ اس کے چپ رہنے کو سب لوگ اس کی ہاں کیوں سمجھنے لگے تھے ۔
ٹفن کے ہینڈل پر ہاتھ کی رگیں ابھرنے لگیں ۔ وہ اب سبرینا کے ساتھ لفٹ میں کھڑا تھا ۔ جانتا تھا وہ آنسو پی رہی ہے لیکن پہلی دفعہ وہ اس کے آنسو صاف کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆
آنکھوں پر نرم بالوں والا سنہری برش بڑی مہارت سے ہلکے ہلکے سٹروک لگا رہا تھا ۔ جوی آنکھیں موندے چہرے کو تھوڑا سا اوپر اٹھائے ہوئے تھی اور اس پر جھکی لڑکی بڑی مہارت سے اس کے سنگہار میں مصروف تھی ۔ ہلکے نارنجی اور پیچ رنگ کے امتزاج کی میکسی کا گلا اور بازو نیٹ کے تھے جن پر انگنت چمکتے ہلکے شربتی رنگ کے نگینے جڑے تھے جو اپنی چمک سے آنکھوں کو خیرہ کر دینے کی حد تک دلکش لگ رہے تھے ۔ کندھوں تک آتے گھنگرالے بال سیدھے ہونے پر کمر کو چھونے لگے تھے۔ بالوں کے سیدھا ہونے پر ان کی چمک میں بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔ لمبی گھنی پلکوں کو مسکارے نے اور اٹھان دے دی تھی۔
گندمی رنگت پیچ اور نارنجی رنگ کے ملاپ والی اس میکسی میں کھل رہی تھی اور میکسی کی رنگت ہی گالوں پر جھلک رہی تھی ۔ ہوٹل کے اس دیدہ زیب کمرے میں وہ سنگہار میز کے سامنے اس کھوئی ہوئی شہزادی کی طرح براجمان تھی جسے جنگلوں سے تلاش کرنے کے بعد اب لا کر اس کا ہار سنگہار کیا جا رہا ہو ۔
بھاری خم زدہ پلکیں اٹھائے اس نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا ۔ کسی نے سچ کہا تھا کوئی بدصورت اور کم شکل نہیں ہوتا بس غریب ہوتا ہے۔
چینی لڑکی اس پر جھکی مختلف سنگہار برش کو کب سے اس کے چہرے کے مختلف خدوخال پر دھیرے دھیرے چلا رہی تھی ۔
وہ مڑی اور پھر پلٹ کر اپنے بیگ سے کچھ نکالنے کے بعد اب اس کے ہونٹوں پر باریک برش سے ہلکے پیچ اور نارنجی رنگ کے ملاپ کی لپ سٹک کے سٹروک لگا رہی تھی ۔ چہرہ پر میکسی کے گلے پر لگے نگینوں کا عکس اور لبوں پر لگی چمکتی مالائم لپسٹک اس کے سنگہار کو دوبالا کر رہی تھی ۔ دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز پر جوی کے ساتھ اس لڑکی کی نگاہ بھی کمرے کے دروازے کی طرف اٹھی ۔
” آ سکتے ہیں “
لڑکی نے اونچی آواز میں باہر موجود نفس کو اندر آنے کی اجازت دی ۔ دروازہ کھلا اور انل دروازے کے ہتھے پر ہاتھ رکھے آدھا اندر داخل ہوا ۔ گہرے گرے رنگ کے کوٹ پینٹ میں وہ معمول کے مطابق چاک و چوبند تھا ۔
” میم ریڈی نہیں ہوئیں کیا میڈیا والے ویٹ کر رہے ہیں ؟ “
سوال کرتے ہوئے انل نے سرسری نگاہ جوی پر ڈالی اور دروازے کے ہتھے پر ہاتھ کی گرفت بے ساختہ ڈھیلی پڑ گئی ۔
” بس چند منٹ اور درکار ہیں سر ۔ جیولری پہنانی ہے میم کو “
لڑکی نے شائستگی سے سنگہار میز پر پڑے نفیس سے نیکلس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا ۔ انل اس کی طرف متوجہ کہاں تھا وہ تو ششدر سامنے بیٹھی جوی کو دیکھ رہا تھا ۔
” سر بس چند منٹ مجھے فائنل ٹچ دینا ہے میم کو “
لڑکی نے انل کے کھڑے رہنے پر تھوڑا سا آگے بڑھ کر پھر سے گزارش کی ۔ وہ سٹپٹا کر نگاہوں کا زاویہ بدلے اب لڑکی کی طرف متوجہ ہوا ۔
” سر بس چند منٹ “
” ٹھیک ہے ۔ ٹھیک ہے کوئ مسئلہ نہیں ۔ “
انل نے زبردستی مسکرا کر ٹائی کی ناٹ کو بلاوجہ درست کیا اور احتیاط سے کمرے کا دروازہ بند کرتا الٹے قدموں پیچھے ہوا ۔ واپس مڑا اور بالکل سامنے والے دروازے کو کھولتا ہوا اندر داخل ہوا ۔
نگاہ سامنے دران پر پڑی ۔ سیاہ شرٹ اور سیاہ ہی پینٹ کوٹ میں ملبوس کوٹ کا سامنے کا ایک بٹن لگائے وہ سر جھکائے اب کف لنک لگا رہا تھا ۔ بالوں کو اپنی طرف سے تو بڑے سلیقے سے ایک طرف کنگھی کیا تھا لیکن وہ پھر بھی ہلکے سے بکھر کر پیشانی پر آنے کی گستاخی کئے ہوئے تھے ۔
” ہاں بولو جوی ریڈی ہے “
کف لنک لگاتے ہوئے سر جھکائے مگن سے انداز میں انل سے پوچھا ۔
” تم سے پوچھ رہا ہوں ۔ ریڈی ہے کیا وہ “
انل کے جواب نہ دینے پر دران نے نہ صرف پھر سے سوال کیا بلکہ چہرہ اوپر اٹھائے اس کی طرف سوالیہ دیکھا ۔
” شی از۔ز۔ز۔ز یونیق بیوٹی ۔ی۔ی۔ی “
حیرت زدہ لہجہ تھا ۔ دران بے ساختہ پورا منہ کھول کر ہنس دیا ۔
” اچھا تو پھر تو اصل والا پرپوز کر دے نہ اس کو ۔ میں نے تو فیک پرپوز کیا ہے “
ہنسی کو مسکراہٹ میں بدلتے ہوئے شرارت سے کہا ۔
” شٹ اپ یار میں اس بات پر نہیں کہہ رہا ہوں۔ وہ تین دن سے ایسے سادہ سے حلیے میں تھی ۔ آج بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ میرا مطلب ۔۔ بہت ڈفرنٹ “
انل نے خجالت سے سر ہوا میں مارتے ہوئے اپنی بے ساختہ کر دینے والی تعریف کی وضاحت دی ۔
” پر میں سنجیدہ ہوں ۔ وہ واقعی اچھی لڑکی ہے ۔ نو ڈاؤٹ خوبصورت ہے ۔ تمہیں سوچنا چاہیے ۔ “
دران نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جوتے اپنے قریب کئے ۔ لہجہ واقعی حد درجہ سنجیدہ تھا اور کچھ دیر پہلے والی شریر مسکراہٹ اب غائب تھی ۔
” ایسی نظر سے اچھی لگنے کی بات نہیں کی میں نے اور جس دن تم سوچنے لگو گے اپنی شادی کے بارے میں بھی سوچ لوں گا۔ “
دران نے ہنستے ہوئے نگاہ اوپر اٹھائی سیاہ بند جوتے اب پاؤں میں تھے ۔
” میرے پیچھے اپنی جوانی کیوں برباد کر رہے ہو ؟ مجھے ابھی بہت سے سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں ۔ شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ” متوازن لہجے میں جواب دیا
مدھم سی مسکراہٹ سجائے کھڑا ہوا ۔ کوٹ کے شکن درست کرتے ہوئے چند قدم آگے بڑھا ۔ جھکنے سے بال مزید بکھر گئے تھے ۔
” جس دن تو شادی کرے گا اس سے اگلے دن ہی میں بھی علان کر دوں گا “
انل نے وثوق سے اپنا ارادہ بتایا ۔ دران کا خفیف قہقہ پھر سے بلند ہوا ۔ وہ اب کلائی پر گھڑی باندھ رہا تھا ۔ ایک وہی تو تھا جس کی باتوں پر وہ ہنسنے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔
” تو میں تو کرنے جا رہا ہوں نہ “
ہنسی دباتے ہوئے ایک شریر نگاہ انل پر ڈالی
“یہ فیک شادی ہے جس دن اصل والی کرو گے میں بھی کر لوں گا “
انل نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔
” مطلب تو نہیں سدھرے گا میرے سر پر ایسے ہی مسلط رہے گا ۔ “
پینٹ کی دونوں اطراف کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کہا ۔ انل نے لب بھینچے اور سر اثبات میں ہلایا اور دران کے بڑھتے قدموں کے ساتھ دروازے کی طرف قدم بڑھائے ۔ انل کے دروازہ کھولتے ہی وہ جو محو سا آگے بڑھ رہا تھا ٹھٹک کر رکا ۔
وہ سامنے کھڑی تھی ۔ کسی بت تراش کا حسین شہکار بنی مجسم , حسیں پیکر یا پھر دلکشی کا منفرد سا سماں بھی کہہ سکتے ہیں ۔
انل کی بات ذہن میں گونجی اور تصدیق کی مہر فوراً لگائی ۔ واقعی وہ بہت منفرد اور دلکش لگ رہی تھی ۔
انل نے شرارت سے مسکراہٹ دبا کر دران کی طرف دیکھا۔ دران نے ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں اپنی اس خالص مردانہ کیفیت سے خلاصی پاتے ہوئے جوی کی طرف اٹھی نگاہوں کو متوازن کیا ۔
” مس جوی اس ہونق بنے چہرے کے ساتھ کام نہیں چلے گا ۔ مسکرائیں پلیز ۔ز۔ز “
دران کا سپاٹ لہجہ کچھ دیر پہلے اس کے سنگہار پر امڈ آنے والی حیرت سے بلکل برعکس تھا ۔ جوی نے گڑبڑا کر پلکیں جھپکائیں ۔ چہرہ اوپر اٹھایا ۔
سامنے کھڑے شخص کے سامنے آتے ہی اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے دیتی تھی ۔ وہ ایسی تو نہ تھی جیسی اس کے سامنے بن جاتی تھی ۔ دن رات محنت کر کے پورے گھر کی ذمہ داری اٹھانے والی مضبوط اعصاب کی لڑکی اس چٹان جیسے شخص کے سامنے چھوئی موئی ہو جاتی تھی ۔ لبوں کے قریب چہرے کے پٹھے زبردستی کھینچ کر وہ اس کے حکم پر آہستگی سے مسکرائی ۔
ہلکے پیچ رنگ سے مزین ہونٹ مسکرائے تو وہ جو تیوری چڑھائے بڑے رعب سے اسے حکم صادر کئے کھڑا تھا ایک دم سے ماتھے کے شکن ڈھیلے پڑ گئے ۔ آنکھوں کی چمک سے میل کھاتی کتنی ملائم اور میٹھی مسکان تھی جس نے اس کے چہرے کے نقش نقش کو ابھار دیا ۔ کچھ لوگوں کی مسکراہٹ کتنی دلکش ہوتی ہے کہ ان کی مسکراہٹ اس کی طرح صرف لبوں کا گھیراؤ نہیں کرتی بلکہ چہرے کے ہر خدوخال سے جھلکتی تھی۔ وہ جب مسکراتا تو صرف لب مسکراتے تھے آنکھیں ان کا ساتھ کبھی نہیں دیتی تھیں لیکن سامنے کھڑی لڑکی کی مسکراہٹ کتنی جاندار تھی ۔ وہ مسکرائی تو یوں لگا اس کی آنکھیں بھی مسکرا اٹھیں اس کے وجود کا پور پور مسکرا اٹھا ۔
” اب ٹھیک ہے “
وہ آہستگی سے کہتے ہوئے تصدیق چاہ رہی تھی ۔ دران نے خجل ہو کر نگاہوں کا زاویہ بدلہ ۔
” ہوں۔۔۔ “
بے رخی سے ہنکارہ بھرا پھر تیزی سے انل کی طرف پلٹا۔
” چلو پھر تم آگے “
سر کو ہلکا سا خم دیا ۔ انل تیزی سے سر ہلاتا ہوا لفٹ کی طرف بڑھا ۔ ان لوگوں کو نیچے جانا تھا جہاں ہوٹل کے ہال میں انگنت صحافی ان کا انتظار کر رہے تھے ۔
☆☆☆☆☆☆
لفٹ سے اتر کر ہال کے بڑے سے سیاہ رنگ دروازے کے سامنے وہ چند منٹ کے لیے کھڑے ہوئے تھے ۔ دران انل کو کچھ ہدایت دے کر پلٹا اور ایکدم سے جوی اور اپنے بیچ کا فاصلہ ختم کرتے ہوئے پاس آکر اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حائل کر دیا ۔
وہ جو یوں سب کے سامنے جانے پر اعتماد کھو رہی تھی ۔ دران کی اس جسارت پر سب بھول کر سمٹ گئی ۔ کمر اس کے مضبوط بازو کے حصار میں تھی ۔ اس کے وجود سے اٹھتی مسحور کن خوشبو ریڑھ کی ہڈی میں میٹھی سی سنسناہٹ کا باعث بن رہی تھی ۔
بے اختیار دران کی قربت سے بھاری ہوتی نگاہیں اس کے چہرے کی طرف اٹھا ئیں ۔ وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس دلکش نقوش اور گہری ڈوب جانے والی آنکھوں والا اس کو پاگل کئے خود بے نیازی سے سامنے دیکھ رہا تھا ۔ انل نے ہاتھ بڑھا کر ہال کا دروازہ کھولا ۔ ہال کا دروازہ کھلتے ہی وہ سیدھے سرخ قالین والے سٹیج پر تھے ۔ یہ ایک اوڈٹوریم جیسا ہال تھا جہاں سٹیج کے سامنے لگی نشستوں پر انگنت صحافی بیٹھے تھے جو اب ہڑبڑا کر نشتوں سے اٹھ کر اپنے کیمرے آن کر رہے تھے اور مائک سنبھال رہے تھے ۔ دران یونہی متوازن قدم اٹھاتا اس کی کمر کے گرد بازو حائل کئے سٹیج پر آگے بڑھ رہا تھا ۔ آدھے گھنٹے پہلے اس نے یوں میڈیا بیان کا کہا تھا پھر بھی انگنت صحافی اکٹھے ہو گئے تھے ۔ یہ کانفرنس اس نے مکمل سکیورٹی کے اندر منعقد کروائی تھی ۔
چھپاک چھپاک کی آواز سے کیمروں کی فلیش لائٹیس ان کی ہر جنبش کو قید کر رہی تھیں ۔ آہستہ آہستہ دران کے ہمقدم ریشمی لچکدار پاؤں تک آتے گاؤن نما فراک کو سنبھالتی وہ اس کے ہمراہ سٹیج پر لگی نشستوں کے قریب آ گئی تھی ۔ مبارک باد کی آوازیں بے ہنگم سا شور جوی ستائیشی نگاہوں سے سامنے دیکھ رہی تھی ۔
وہ کیا تھا اسے کل رات پتا چلا تھا جب دران نے اسے سب سمجھایا تھا وہ یہ سب کس لیے کر رہا ہے ۔ وہ کوئی عام انسان نہیں تھا بلکہ ہالی وڈ جیسی بڑی فلم انڈسٹری کا مایا ناز سپرسٹار تھا ۔
دران اب ہاتھ کے اشارے سے جوی کو سٹیج پر لگی نشست پر بیٹھنے کے لیے کہہ رہا تھا خود وہ برابر میں لگی نشست پر بیٹھ چکا تھا ۔ تیسری نشست پر دران کے ساتھ انل بیٹھ گیا تھا ۔ نشستوں کے سامنے لگے میز پر انگنت مائک لگے تھے ۔
وہ اب کتنے ہی کیمروں کی زد میں تھے ۔ جوی مدھم سی مسکراہٹ کو دران کی تاکید پر بمشکل چہرے پر برقرار رکھے ہوئے تھی جبکہ دل ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔
درانگ اب سامنے موجود صحافیوں میں سے کسی ایک کو سوال کرنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔ وہ سب اپنے اپنے سوال کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
” درانگ سر یہ تو بوم بلاسٹ کر دیا آپ نے۔ مطلب اچانک سے مدحواں کو حیران کر دیا ۔ فین حیرت زدہ ہیں اس سب کو لیے کر آپ کیا کہیں گے اس بارے میں؟ “
صحافی بتیسی نکالے انگریزی زبان میں سوال کر رہا تھا ۔ دران نے سنجیدگی سے بھنویں اٹھائیں ۔ ہاتھ اٹھائے آہستگی سے پیشانی سہلائی
” یہ بوم بلاسٹ میں یوں پبلکلی بالکل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ میں اپنی ذاتی زندگی کو اس چکا چوند سے الگ رکھنے کا قائل ہوں لیکن کچھ حالات ایسے ہوئے کہ مجھے جوی کو یوں پرپوز کرنا پڑا اور ویڈیو پبلک کرنی پڑی ۔ “
ٹھہرے سے لہجے میں چہرے پر بلا کی سنجیدگی سجائے جواب دیا ۔ پھر اگلے صحافی کی طرف اشارہ کیا ۔ صحافی نے فوراً ہاتھ نیچے کیا اور پرجوش انداز میں مائک میں بولا ۔
” سر مداح اور پوری انڈسٹری یہ جاننے کے لیے بے چین ہے کہ جوی میم سے آپ کب , کہاں اور کیسے ملے تھے ؟ پیار کب ہوا آپکو ؟ آپ نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ سات سال پہلے ۔ کیا وہ سچ ہے ؟ “
دران جو اس کے بولنے پر دھیرے دھیرے سر ہلا رہا تھا سوال ختم ہونے پر ایک سکینڈ کا توقف لیا۔
” جیسے کہ میں پہلے سوال کے جواب میں کہہ چکا ہوں میں اپنے ذاتی معاملات کو اس سب سے الگ رکھنے کا قائل ہوں تو ۔۔۔ جوی سے میں کب۔۔۔ کہاں اور کیسے ملا تھا یہ سب میری زنگی کے بہت قمیتی لمحات ہیں جن کو میں کسی سے بانٹنا نہیں چاہتا “
ہنوز رعب اور سنجیدگی سے دو ٹوک جواب دیا اور تیوری چڑھائے کوٹ کے بٹن کو کھولا ۔ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور اگلے صحافی کی طرف اشارہ کیا ۔
” درانگ سر جوی پاکستانی ہیں تو یہاں کیسے ملیں آپکو کیا یہ اچانک ملاقات تھی یا پھر آپ نے مل کر کیا سب ؟ “
” بالکل اچانک تھی ۔ دراصل جوی یہاں اپنی شادی کے بعد آئی تھی لیکن قسمت ہمیں ملانا چاہتی تھی ۔ ان کی اپنے شوہر سے نا بننے پر ڈائیورس ہو چکی تھی اور اب پاکستان واپسی تھی ۔ بس اچانک میں ملا اور پھر روک لیا “
بھرپور اعتماد سے وہ جھوٹی کہانی سنا رہا تھا مسکرا کر جوی کی طرف دیکھا جو اثبات میں سر ہلا کر شرما گئی ۔ وہ حیران تھی صحافی تقریباً اسی طرز کے سوالات کر رہے تھے جن کی لسٹ وہ کل رات اسے دے رہا تھا ۔
” سر آپ نے کچھ دیر پہلے کہا کہ جوی میم کو پبلکلی پرپوز کرنا آپ کی مجبوری بن گیا تھا ۔ کیا ہم جان سکتے ہیں ایسی کیا مجبوری تھی ؟ “
دران جو لبوں پر تین انگلیاں دھر کر آنکھیں چندھی کئے بیٹھا تھا ۔ آہستگی سے انگلیاں لبوں پر سے اٹھائیں ۔
” میں نے سات سال بعد اس کے یوں اچانک ملنے پر یہ ریلائز کیا کہ اب چپ رہ کر اسے نہیں کھونا ہے ۔ وہ اپنے شوہرسے علیحدگی اختیار کر چکی تھی اور میرے پاس اسے پرپوز کرنے کا اس سے اچھا موقع نہیں تھا ۔ لیکن میں اسے یوں پرپوز نہیں کرتا اگر میرے چند شرارتی کولیگ اس کی اور میری ویڈیو خفیہ بنا کر لیک نہ کرتے ۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ اب لوگوں کے سامنے سچائی رکھ دینی چاہیے کہ یہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں ہے ۔”
دران نے مسکرا کر کہا اور ساتھ بیٹھی جوی کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے اس کی اور اپنی انگلیوں کو آپس میں پھنسایا ۔ اب وہ جوی کی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا ۔
” درانگ اگر کسی لڑکی کو گلے لگا رہا ہے تو صرف اسے جسے وہ اپنی زندگی کا اہم حصہ بنانے جا رہا ہے ۔ “
کمال کی اداکاری تھی ۔ لمحہ بھر کو تو جوی کا دل دھڑکنا بھول گیا ۔ وہ محبت سے اس کی آنکھوں میں نہ صرف جھانک رہا تھا بلکہ اس کے ہاتھ پر بھی گرفت کو مضبوط کر رہا تھا ۔
” تو شادی کب کر رہے ہیں سر ؟ “
دران نے گہری سانس لی لب بھینچے چہرہ دوسری طرف موڑا ۔
” بہت جلد “
بڑے وثوق سے جواب دیا ۔ کچھ تھا جو دران کے ہاتھ سے ہوتا ہوا اس کے دل میں سرائیت کر رہا تھا ۔
” سر میرا سوال میم سے ہے ۔ جوی میم آپ کو اتنے سالوں کے بعد یوں درانگ سر کا مل جانا کیسا لگا ۔ کچھ شئیر کریں گی ہمارے ساتھ “
صحافی کے سوال پر وہ ہلکا سا لرزی مگر دران کے ہاتھ پر بڑھتے دباؤ نے اعتماد دیا ۔ گلے سے نیچے سینے میں جیسے ایک پھانس سی اٹکی ۔ پھر وہ مسکرائی اور آہستگی سے لب کھولے ۔
” بے یقنی ۔۔۔ میں ابھی تک اسی کیفیت میں ہوں ۔ بے یقینی ہے کہ ہم اتنے سالوں بعد یوں ملے ۔ “
سریلی سی آواز نے جیسے جلترنگ بجائے تھے ۔ دران نے ہاتھ کو دبا کر احساس دلایا کہ ٹھیک بول گئی ہو ۔
” جوی میم آپکے سابقہ شوہر ۔۔۔”
صحافی نے ہاتھ کھڑا کئے سوال کی شروعات کی
” پلیز نو مور پرسنل کویسچن “
دران کے سپاٹ لہجے نے اس کی بات کاٹ دی ۔ ٹانگ سے ٹانگ اتاری اور سامنے میز پر لگے مائک میں سے ایک مائک کو اتار کر ہاتھ میں لیا ۔
” مجھے چائنہ حکام سے اپنے اور جوی کے لیے سکیورٹی چاہیے کیونکہ اس کا سابقہ شوہر خفیہ طور پر ہمیں مسلسل تھرٹ کر رہا ہے۔ “
دران نے بڑی سنجیدگی سے پیشانی پر بل ڈالے اگلی کہانی گھڑی ۔
” یہ پریس کانفرنس یہاں چائنہ میں رکھنے کا اصل مقصد بھی یہی تھا ۔ جوی اس سے ہر طرح کا تعلق ختم کر چکی ہے اور ایسا وہ مجھ سے ملنے سے قبل کر چکی تھی لیکن پھر بھی اس کا شوہر اسے دھمکا رہا ہے ۔ میری اپیل ہے کہ ہمیں چائنہ میں مکمل سکیورٹی دی جائے اور بحفاظت امریکہ پہنچایا جائے “
دران نے اپنی بات مکمل کی اور مائک کو میز پر رکھے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ صحافی ایک ساتھ بول اٹھے تھے ۔ دران نے ہاتھ ہوا میں اٹھایا ۔
” نو مور کویسچن پلیز “
جوی کا ہاتھ تھام کر اسے نشست سے اٹھایا اور صحافیوں کو بولتا ہوا چھوڑ کر سٹیج کے دروازے سے ہوتا ہوا ہال سے باہر نکل گیا ۔ باہر نکلتے ہی اس نے جوی کے ہاتھ کو ایسے چھوڑا جیسے وہ فلم کے سین فلمانے کے بعد ادکارہ کو چھوڑتا تھا ۔
وہ اب پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے انل سے اگلے لائحہ عمل کے بارے میں سنجیدگی سے گفتگو کر رہا تھا جبکہ جوی یونہی دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی ۔
وہ صرف ادکاری کر رہا ہے جوی ۔ خود کو سنبھال ۔ وہ کہاں ہے اور تو کہاں ۔ دل بیٹھ رہا تھا ۔ جوی نے گہری سانس لی ۔
انل نے اب اسے چلنے کا اشارہ کیا جب کہ وہ محترم جو کچھ دیر پہلے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے ہوئے تھے اب بے نیازی سے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے ۔ جوی نے انل کے پیچھے قدم بڑھا دیے جو لفٹ کی طرف جا رہا تھا ۔
انہیں اسی وقت ہوٹل کو چھوڑنا تھا جس کی مکمل تیاری وہ پہلے ہی کر چکے تھے بس جوی کو لباس تبدیل کرنا تھا ۔
