Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 37)
Rate this Novel
Basil (Episode 37)
Basil by Huma Waqas
دران کے ایسے روکھے لب و لہجے کی وہ ہر گز حقدار نہیں تھی ایک پل کے لیے اس کا وجود غیر محرک ہوا پھر آہستگی سے رخ موڑے اسکی طرف دیکھا جو شیشے کے اس پار تالاب کے کنارے پر چکر لگاتے ہوئے پریشانی سے پیشانی سہلاتا اب سگریٹ کے کش لگا رہا تھا ۔
دران کا یہ مضطرب پن اور یہ روکھا لہجہ عجیب تھا لیکن نا جانے کیوں آج اس کے اس روکھے لہجے پر اس کا دل نہیں دکھا تھا بلکہ اسے پریشانی لاحق ہوئی تھی ۔
دران کو بغور جانچتی نظروں سے دیکھتی وہ خود الجھ رہی تھی ۔ وہ کسی بہت ہی بڑی پریشانی میں مبتلا لگ رہا تھا لیکن ایسا کیا ہو سکتا ہے جو اسے یوں پریشان کئے ہوئے تھا ۔
شام کو برھان اور سبرینا نے تقریب رکھی تھی جہاں نا صرف ان کو مدعو کیا گیا تھا بلکہ سبرینا کے اصرار پر دران اس کو ساتھ لے جانے پر رضامند ہوا تھا ۔
کتنے ہفتوں بعد وہ اس محل کی در دیوار سے باہر جا رہی تھی ۔ اس کمرے کی ہر چیز سے لے کر اس کی مہک تک سے اپنائیت ہو گئی تھی لیکن یہ اپنائیت اور یہ انسیت شیشے کی دیوار کے پار کھڑے اس شخص کی محبت سے کہیں کم تھی ۔ ایسی محبت جو دران کے اس رویے سے ہر گز کم نہیں ہو سکتی تھی ۔
محبت کبھی کم نہیں ہوتی جو کم ہو وہ محبت نہیں ہوتی ۔ کم ہونے پر تو ایک دن سب ختم ہو جاتا ہے ۔ سچی محبت ختم نہیں ہوا کرتی ہے وہ تو پروان چڑھتی ہے ۔ ایک درجے کے بعد دوسرا درجہ پھر یونہی سفر طے کرتی رہتی ہے ۔ محبت کے بعد عشق کا درجہ ۔ ہاں دران ملک میری محبت اب پروان چڑھ چکی ہے ۔
آوٹ ڈور میں تیراکی کے تالاب کے پاس کھڑا وہ اب رخ دوسری طرف موڑ چکا تھا جہاں سورج آہستہ آہستہ شام میں ڈھلنے سے پہلے اپنی کرنوں کا رنگ بدل رہا تھا ۔
☆☆☆☆
بوسیدہ سے کمرے کی دو پٹ والی کھلی کھڑکی کے پار بجلی کی تاروں کا جال اور اس کے نیچے بھاگتے دوڑتے بچے ۔ ڈوبتا سورج اور کراچی کی رنگ بدلتا موسم سب پر پڑتی اس کی یہ نگاہ شاید آخری تھی ۔
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ یہاں بنا مقصد کھڑا تھا ۔ ایک ہاتھ سیاہ پینٹ کی جیب میں ڈال رکھا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں خاکی لفافہ تھا جو بند تھا ۔
سب تیاری مکمل ہو چکی تھی اور آج رات کی روانگی تھی ۔ گہری سانس لے کر ہاتھ میں پکڑا لفافہ کھولا ۔
” روانگی سے ایک دن پہلے آپ اس اینولیپ کو کھولیں گے ۔ اس میں آپکا خفیہ نام درج ہے ۔ یہ نام صرف آپ اور ہم جانتے ہوں گے اور جہاں بھی کوئی آپ کو اس نام سے پکارے گا سمجھ جائے گا وہ ہمارا بندہ ہے ۔ “
ذہن میں ابراہیم خان کے کہے ہوئے الفاظ کی بازگشت گونج رہی تھی اور ہاتھ احتیاط سے لفافے کو کھول رہے تھے ۔ خاکی لفافے میں ایک سفید کارڈ تھا جسے اس نے انگلی کی پوروں میں دبا کر باہر نکالا ۔
سفید کارڈ کے بالکل وسط میں درج خفیہ نام کھرچنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ اس نے جلدی سے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند سکینڈ کے بعد ہی اس کے ہاتھ میں ایک عدد سکہ تھا ۔
کارڈ کو ہتھیلی پر رکھے احتیاط سے چھپے ہوئے حصے کو کھرچا اور جھاڑا سیاہ رنگ میں لکھا نام اب واضح تھا ۔
” باسل “
☆☆☆☆☆
سن انیس سو نواسی نومبر کی یہ حسین صبح اُسے یوں قسمت سے امریکہ لے آئی تھی ۔ جہاز کے پہیے جیسے ہی زمین کی سطح کو چھونے کے قریب ہو رہے تھے اس کے ساتھ ہی اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھیں ۔
جہاز سے اتر کر ایر پورٹ کے انتظار خانے تک کا سفر وہ حیرت سے ارد گرد دیکھتے ہوئے طے کر رہا تھا ۔ سب کچھ نکھرا سا ایک الگ جدید دنیا کا منظر پیش کر رہا تھا ۔
گرے رنگ کی کھلے پائنچوں والی ڈریس پینٹ زیب تن کئے جسے تقریباً پیٹ کی ناف پر باندھ رکھا تھا ۔ اس کے اوپر ہلکے نیلے رنگ کی ڈریس شرٹ پہنے وہ بائیس سال کا خوبصورت جوان اب بشاشت سے ارد گرد دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
انتظار خانے سے تھوڑا سا آگے بڑے سے جنگلے کے پاس تمام مسافر پار کھڑے ان کو لینے کے لئے پہنچے احباب اور رشتے داروں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ۔
وہ اپنے بیگ کو کندھے پر ڈالے آہستہ آہستہ چلتا ہوا متلاشی نگاہیں ارد گرد دوڑا رہا تھا ۔ چند سکینڈ کی توقف کے بعد ہی اسے اپنا مطلوبہ شخص سامنے دکھائی دیا جو پرجوش انداز میں اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
سفید شرٹ نیلی جینز میں ملبوس بتیس سالہ نوین ملک جتنا پرجوش اس کی طرف بڑھا رہا تھا اس سے کہیں زیادہ گرم جوشی میں بغل گیر ہوا ۔ چند سکینڈ اسے یونہی گلے لگانے کے بعد اس سے الگ ہوا اور ہنستے ہوئے اسے دونوں کندھوں سے تھام لیا ۔
” کیسے ہو ؟ “
” کیسا لگ رہا ہوں ؟ “
اسفند ملک نے بھی جوابی پر جوش لہجے میں دانت نکالے سوال پر سوال کیا ۔
” بہت خوب ۔ تم تو بالکل چاچو کی کاپی نکلے بھئ , بہت ہینڈسم اور ان تین سالوں میں کیا قد نکالا ہے ۔ “
نوین نے محبت سے مسکراتے ہوئے تعریف کی ۔ وہ اس تعریف پر پل پھر کو لجاجت سے مسکرایا ۔
” بس کریں نوین بھائی آپ سے تو کم ہی ہینڈسم ہوں ۔ خود کو دیکھیں کہیں سے لگتا ہے کہ آپ بتیس سال کے ہیں ؟”
” ارے یہ تو بس اوپری چمچم ہے ۔ اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہوں ۔ خیر چھوڑو یہ بتاؤ سفر کیسا رہا ؟ “
نوین نے ہاتھ کے اشارے سے اسے آگے بڑھنے کے لیے کہا ۔ اسفند بیگ کو کندھے پر درست کرتا ہوا ہمقدم ہوا ۔
” سفر تو بہت اچھا رہا بس خوشی میں سو نہیں سکا ۔ “
ہنستے ہو وہ دونوں ایرپورٹ کی راہداری سے آگے پارکنگ کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ کچھ دیر میں پارکنگ میں ایک قطار میں لگی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کے پاس نوین رک گیا ۔ اس کے ہاتھ سے سامان کے کر گاڑی میں رکھنے کے بعد وہ خود ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا جبکہ اسفند اب برابر کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا ۔
” گھر والے کیسے ہیں سب ؟ خط کا جواب دینے کا وقت ہی نہیں ہوتا اور جب تک یہاں سے خط پاکستان پہنچتا ہے یہاں کے حالات ہی بدل چکے ہوتے ہیں ۔ “
نوین نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے ایک نگاہ اس پر ڈالی وہ سیٹ بیلٹ باندھ رہا تھا ۔
” سب ٹھیک ٹھاک سلام کر رہے تھے آپکو سب , آپ بتائیں کیسا جا رہا ہے کیفے ؟ “
متوازن لہجے میں سوال پوچھتا وہ اب نوین کی طرف متوجہ تھا جو گاڑی کو ریورس کر رہا تھا ۔
” بہترین اب تو ساتھ ایک چھوٹا ہوٹل بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ “
” بہت خوب , مطلب بزنس بڑھانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ “
اسفند نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ستائش سے کہا اور پھر انگلی کے بیچ دبے کارڈ کو نوین کی طرف بڑھاتے ہوئے گویا ہوا ۔
نوین بھائی یہ اس ایڈریس پر چھوڑ دیں مجھے ۔ “
” مطلب ؟ “
نوین نے سٹیرنگ کو تھامے بھنویں اکٹھی کیں ایک نگاہ کارڈ پر ڈالی اور پھر خفگی سے سامنے جما دی ۔
” وہ میں نے ہوٹل کی بکنگ کروائی ہے ۔ میں نے سوچا جس وقت تک کمپنی رہائش کا انتظام نہیں کر دیتی میں ہوٹل میں رہائش کر لوں ۔ “
” کر دی نہ غیروں والی بات ۔ میں تمہیں ہوٹل میں ہر گز نہیں جانے دوں گا ۔ تم میرے ساتھ میرے گھر جا رہے ہو بس۔ “
” نوین بھائی ۔۔۔۔ “
اسفند نے تذبذب میں سرجھکایا
” ارے کیا نوین بھائی ۔ دو کمروں کا گھر ہے لیکن دل کہیں بڑا ہے میرا ۔ “
نوین نے خفگی ظاہر کی اور نگاہیں پھر سے سامنے جما دیں ۔
” نہیں میں اس وجہ سے نہیں کہہ رہا ہوں ۔ وہ دراصل جھجک ہے بھابھی! “
” اوہ اچھا کنزی کی وجہ سے جھجک ہے ۔ بے فکر ہو جاؤ ۔ بہت خوش ہو گی تم سے مل کر ۔ بہت اچھی عادت کی با اخلاق ہے ۔ “
” اچھا ۔ “
اسفند اب بھی تذبذب کا شکار تھا ۔ نوین نے امریکہ میں ایک یہودی عورت سے شادی کر لی تھی ۔ پاکستان میں تو ان لوگوں کو بس پچھلے سال اس نے خط میں لکھ بھیجا تھا کہ وہ یہیں شادی کر رہا ہے ۔
نوین نے تو یہ خبر بہت عام سے انداز میں بھیجی تھی لیکن ملک ہاؤس میں اس خبر کی وجہ سے ایک طوفان برپا ہوا تھا ۔ دستگیر بیگم کا خواب تھا کہ نوین ان کی بیٹی عصمت سے شادی کرتا لیکن و خواب اب خواب ہی رہ گیا تھا ۔
” یہ رکھو اپنے پاس اپنی چٹ تم میرے گھر جا رہے ہو اور جب تک چاہو وہاں آرام سے رہ سکتے ہو ۔ “
نوین نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ تھامے اس کے ہاتھ کو نیچے کیا ۔ اسفند نے سر جھکا کر اثبات میں سر ہلا دیا ۔
☆☆☆☆☆
انل سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس , سلیقے سے جل زدہ بالوں کی ایک طرف مانگ نکالے شیشے کے بنے کاوئنٹر پر کہنی ٹکائے کھڑا تھا ۔ کاؤنٹر کے پار ریسپیشن لڑکی ہاتھ میں پکڑی رسید کے نمبر کو کی بورڈ پر ٹائپ کر رہی تھی ۔
” سر یہ رپورٹ نمبر تو یہاں سے جا چکی ہے ۔ “
لڑکی نے کاونٹر پر رسید رکھتے ہوئے نگاہیں انل کی طرف موڑے کہا ۔ انل نے حیرت سے ماتھے پر شکن ڈالے ۔
” کیا! کیا مطلب ؟ “
” جی سر ایک منٹ ۔ “
لڑکی نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر کاونٹر پر رکھے کی بورڈ پر پھر سے انگلیاں چلانے لگی ۔ انل اسی طرح حیرت سے بھنویں سکیڑے بے یقین کھڑا تھا۔
دو دن پہلے وہ اور جیسیکا فنگر پرنٹ کے لیے ان کو وہ پیکٹ دے کر گئے تھے جس کے نتیجے کی رپورٹ آج نکلنی تھی ۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ وہ پیسے دران کے کہنے پر اسی نے لفافے میں ڈالے تھے لیکن اسے اس بات کی تسلی تھی کہ فنگر پرنٹس کے نتیجے کی رپورٹ لینے اسے ہی آنا تھا ۔
دران نے اسے ایک آدمی کا تمام بائیو ڈیٹا درج کر کے ایک غلط رپورٹ تیار کر دی تھی جو اسے اب اصل رپورٹ کے ساتھ بدلنی تھی لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا تھا ۔
” سر مس جیسیکا فرینک ایک گھنٹہ پہلے یہاں سے رپورٹ لے جا چکی ہیں ۔ “
لڑکی کی آواز پر انل نے چونک کر چہرہ اوپر اٹھایا ۔ پل بھر میں ہی آنکھیں پھیل گئیں اور ماتھا بری طرح ٹھنکا ۔
” جیکسیکا ! “
حیرت کا شدید جھٹکا تھا لیکن ساتھ ہی سچ کھل جانے کا خوف ۔
” سر کیا کوئی اور مدد کر سکتے ہیں ؟ “
” نہ۔۔ نہیں شکریہ ۔ “
انل نے گھبراہٹ میں جواب دیا اور پلٹا بوجھل سے قدم لیب سے باہر جا رہے تھے جبکہ انگلیاں تیزی سے فون کی سکرین پر ٹپٹپا رہی تھیں ۔
☆☆☆☆
سنہری رنگ کا لیدر گاؤن نما فراک اس کی گندمی رنگت پر پہناوا بنا جچ رہا تھا ۔ ہر دفعہ کی طرح وہ صرف نام کی مسز درانگ بنی اس خوبصورت کمرے کے ڈریسنگ روم میں قد آدم آئینے کے سامنے لگی آرام دہ کرسی پر براجمان تھی ۔
اس پر جھکی لڑکی پچھلے بیس منٹ سے اس کے چہرے کو کینوس سمجھ کر مختلف برش چلا رہی تھی ۔ ڈھیلے سے ایک طرفہ جوڑے میں مقید بال , جوڑے سے نکلیں گردن پر جھولتی لٹیں ۔ دلفریب , جاذب نظر میک اپ ۔ وہ کوئی کینوس نہیں تھی ۔
وہ یونہی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے , آنکھیں موندے اور چہرہ اوپر اٹھاے بیٹھی تھی جب اچانک ناک کے نتھنوں میں دران کی مخصوص , دلفریب خوشبو گھسی ۔ آنکھیں بند تھیں لیکن دل نے گواہی دی کہ وہ یہاں آیا ہے ۔
دران ہاتھ میں ایک چھوٹی سی سیاہ ڈبیا تھامے جیسے ہی ڈریسنگ روم میں داخل ہوا قدم نا چاہتے ہوئے بھی تھم گئے ۔ وہ جو سادگی میں بھی دل کو اس دنیا کی سب سے حسین لڑکی لگتی تھی اس سنگہار میں تو وہ طلسم ہوش ربا لگ رہی تھی ۔
دران کی موجودگی کو محسوس کرتی ہوئی جہاں لڑکی سیدھی ہوئی وہاں جویریہ نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو وہ قریب کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
نگاہوں میں موجزن بے پناہ محبت کا سمندر دوپہر کی بے رخی برتنے والی نگاہوں سے یکسر مختلف تھا ۔ دران کی نگاہوں سے تصادم نے دل کی دھڑکنے کی رفتار کو کیا بڑھایا اس کی لانبی پلکیں گالوں پر لرز کر جھک گئیں ۔
دران نے فوراً خجالت سے نگاہیں چرائیں اور پھر ہاتھ میں پکڑی ڈبیا پاس کھڑی لڑکی کی طرف بڑھائی ۔
” یہ پہنانا ہے انہیں ۔ “
” اوکے سر ۔ “
لڑکی نے مسکرا کر ڈبیا ہاتھ میں تھامی تو جویریہ نے چونک کر پہلے سیاہ ڈبی اور پھر دران کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ پلٹ کر اب اپنی وارڈروب کی طرف بڑھ رہا تھا۔
لڑکی نے احتیاط سے ڈبی کو پاس پڑی میز پر رکھا اور جویریہ کے چہرے پر پھر سے برش چلانے لگی ۔ چند سکینڈ کے بعد اس نے جویریہ کو چہرہ سیدھا کرنے کے لیے کہا اور خود میز پر رکھی ڈبیا کو اٹھایا ۔
دران اب کوٹ پہن چکا تھا ۔ سپاٹ چہرہ جھکائے گہرے بھورے گرم کوٹ کی آستین کو تھامے کف لنک لگاتا وہ یہاں اس کی اور لڑکی کی موجودگی سے حد درجہ بے نیازی برتے ہوئے تھا ۔
لڑکی نے جیسے ہی سیاہ لیدر کی ڈبیا کو کھولا چاندی رنگ کے چھوٹے سے کانوں میں پہننے والی چکور شکل کی بالیاں تھیں جن پر بہت چھوٹ نفیس سفید نگینے جڑے تھے ۔ کانوں کی ان جدید طرز کے بالیوں کی گرد ڈبی میں ایک عدد چوڑی نما برسیلٹ بھی موجود تھا جو اسی طرح چکور شکل کا تھا اور اس پر بھی اسی طرز کے نگینے جڑے تھے ۔
میک اپ آرٹسٹ اب بالی کو اس کے کان میں پہنا کر ان کے لاک کو بند کرنے کی کوشش میں تھی ۔ وہ اس کے کانوں کے پاس جھکی بار بار بالی کو نکال کر پھر سے پہنا رہی تھی ۔
” کیا ہوا کیا مسئلہ ہے ؟ “
دران کی آواز پر جہاں وہ لڑکی سیدھی ہوئی وہاں جویریہ نے بھی نگاہ دران پر اٹھائی ۔ بھنویں اکٹھی کیے وہ لڑکی سے اس کی الجھن کی وجہ پوچھ رہا تھا ۔
” سر اس کا لاک بہت عجیب ہے بہت کوشش کے باوجود مجھ سے نہیں لگ رہا ہے ۔ “
لڑکی نے شرمندہ لہجے میں اپنی پریشانی کا جواز بتایا ۔
” مجھے دیں یہ اور ہٹیں پیچھے ۔ “
دران نے ہتھیلی کھولتے ہوئے سامنے کی ۔ لڑکی نے ہاتھ میں پکڑی بالی دران کے ہاتھ پر رکھی ۔
” کیا ان کی تیاری مکمل ہو چکی ہے ؟ “
بالیوں کو ہاتھ میں رکھے آبرؤ اچکائے لڑکی سے سوال کیا ۔
” جی سر بس یہ زیورات ۔۔۔۔”
” آپ جا سکتی ہیں یہ میں کر لوں گا ۔ “
دران نے سپاٹ لہجے میں حکم دیا تو لڑکی نے سر کو اثبات میں ہلایا اور اپنے بیگ کو اٹھائے دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ اس کے جانے کے بعد دران نے ہاتھ میں پکڑی بالی کو انگلی کی پور میں گھمایا اور آنکھوں کو چندھی کئے دیکھا ۔ پھر حیران بیٹھی جویریہ کی حالت سے بے نیازی برتے جھکا ۔ آہستگی سے اس کی کان کی لو کو تھاما ۔
جیسے ہی دران کی انگلیوں نے کان کی لو کو چھوا وہ جو مجسم بنی بیٹھی تھی پورا وجود دل بن کر دھڑکنے لگا ۔ دران نے ایک سکینڈ میں لاک کو بند کیا اور پھر اس کے دوسرے کان کی طرف جھکا ۔ اب کی بار جویریہ نے آئینے میں عکس کو دیکھا ۔ اس کے پیچھے کھڑا وہ دران ملک ہی تھا جو اس کے کان میں بالی پہنا رہا تھا ۔ کیا تھا وہ ؟ پل میں کچھ اور پل میں کچھ ۔
دوپہر کو اسے خود سے الگ کرتا ہوا اور اب اس پر جھکا اسے زیور پہناتا ہوا ۔ کیا دران کا یہ روپ بھی ہے ؟ حیرت در حیرت تھی ۔ دونوں کانوں کی لو میں جھولتی وہ بلیاں بہت چھوٹی تھیں لیکن وہ کان کی لو کو جکڑے کان کی ہڈی پر ایک بیل کی طرح چڑھ رہی تھیں ۔
” ہاتھ آگے کرو ۔ “
دران کی آواز پر سٹپٹا کر اس نے اوپر دیکھا وہ اب ہاتھ میں چاندی رنگ کڑا تھامے کھڑا تھا ۔ جویریہ نے سراسیمگی میں بازو اوپر اٹھایا تو اس نے آہستگی سے کلائی تھامی اور ہاتھ میں پکڑا وہ کڑا کلائی میں گھما کر اس کے لاک کو بند کیا ۔
دران کے موبائل پر بجتی رنگ ٹون پر وہ اس کے بازو کو یونہی ہوا میں چھوڑ کر دور ہوا اور پھر فون کان سے لگائے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
” ہیلو ہوں بولو “
فون کان سے لگائے آگے بڑھتا وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکل گیا تھا جبکہ وہ اب بھی وہیں ورطہ حیرت میں مجسم بنی خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی ۔
وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد
سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد
ہر انقلاب مبارک ہر انقلاب عذاب
شکست جام سے پہلے شکست جام کے بعد
مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز
مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد
چراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ
جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد
یہ رات کچھ بھی نہیں تھی یہ رات سب کچھ ہے
طلوع جام سے پہلے طلوع جام کے بعد
وہی زباں وہی باتیں مگر ہے کتنا فرق
تمہارے نام سے پہلے تمہارے نام کے بعد
حیات گریۂ شبنم حیات رقص شرر
ترے پیام سے پہلے ترے پیام کے بعد
یہ طرز فکر یہ رنگ سخن کہاں قابلؔ
ترے کلام سے پہلے ترے کلام کے بعد
☆☆☆☆☆
چمچاتی عمارت کے باہر لگے بڑے سے تختے پر لکھے سر خ الفاظ جگمگا رہے تھے ۔ ” دی اوپن تھیٹر آیڈیشن آف اسٹنٹ مین ۔ لاس اینجلس اینڈ شیکاگو اسٹنٹ پروفمینس “
عمارت میں داخل ہوتے ہی طویل راہداری کے بعد بڑے سے ہال میں قطار در قطار لگی نشستوں پر بیٹھے لڑکوں میں وہ بھی سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ سیاہ ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس بائیس سالہ دران ملک۔
اس کی شرٹ پر لگے کارڈ پر زیرو سیون نمبر جگمگا رہا تھا ۔ دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو آپس میں ملائے اردگرد کے شور سے بے نیاز گہری سوچ میں غرق وہ بظاہر اپنی باری کے انتظار میں تھا لیکن ذہن میں جلتے آلاؤ اور ہی سوچوں میں غرق کئے ہوئے تھے ۔ آخر کو نوین ملک کی تمام جائیداد بیچنے کے بعد پاکستان سے امریکہ آئے اسے آج دو ہفتے ہو چکے تھے ۔
یہ دو ہفتے بیکار ہوٹل میں گزارنے کے بعد وہ آج اسٹنٹ مین کے ایڈیشن کے لیے آیا تھا جس کے لیے دو دن پہلے ہی اس نے فارم پر کیا تھا ۔ آج ان دو سو لڑکوں میں وہ بھی شامل تھا ۔ وہ سب لڑکے امریکہ مختلف اکیڈمی سے مہارت حاصل کرنے کے بعد آیڈیشن دینے پہنچے جن میں ایک واحد وہ تھا جس کے پاس باقاعدہ کسی بھی ادارے کا سرٹییفکٹ نہیں تھا۔
” نمبر زیرو سیون “
ہال میں گونجتی اناؤنسمنٹ پر اس نے جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ یہ اسکی نمبر تھا جو اب تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد پکارا جا رہا تھا ۔
” نمبر زیرو سیون آپ سے گزارش ہے تھیٹر میں تشریف لائے ۔ “
اناؤنسمنٹ ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اب خود پر گڑی سب کی نظروں کو محسوس کرتا تھیٹر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
بڑے سے سرخ پردے کو ہٹا کر جیسے ہی وہ آگے پہنچا یہ ایک بہت بڑا سٹیج تھا جو عام سٹیجوں سے بہت مختلف تھا ۔ سامنے تیراکی تالاب تھا ایک طرف مختلف ویٹ لفٹنگ کا سازو سامان اور سامنے لگی نشستوں پر براجمان سات لوگ اس آیڈیشن کے جج تھے ۔ یہ دو خواتین اور پانچ مرد تھے ۔
” آپ کا نام ؟ “
اس کے مائک پر پہنچتے ہی ۔ اس سے پہلا سوال نشست کے درمیان میں بیٹھی خاتون نے ہی پوچھا تھا ۔
” دران ملک “
” ہوں دران آپ کے سکلز میں تو بہت کچھ لکھا ہے ۔ آپ خود بتائیں گے کیا یہ سب ؟ یہ بہت دلچسپ ہے کہ آپ بنا کوئی اکیڈمی سے مہارتی مشقیں لئے ہی اتنی چیزوں میں مہارت رکھتے ہیں ۔”
اب کی بار بولنے والا ادھیڑ عمر شخص تھا ۔ دران نے مائک کو تھامے منہ کے قریب کیا اور پھر تھیٹر میں اس کی بھاری آواز گونجی اٹھی ۔
” پہاڑوں کی چڑھائی ، اسکیئنگ ، اسکائی ڈائیونگ ، سکوبا ڈائیونگ , مارشل آرٹس , گھوڑ سواری اور آتش بازی کے استعمال میں اضافی تجربہ ۔”
دران نے مائک کے قریب چہرہ کئے متوازن لہجے میں ایک کے بعد دوسری مہارت کا نام لیا ۔
” ہم آیڈیشن میں ان میں سے کسی بھی مہارت کو جانچ سکتے ہیں کیا آپ تیار ہیں اس کے لیے ؟”
” بالکل ہر طرح سے ۔”
پر اعتماد لہجہ تھا ۔
” سٹیج کے سامنے یہ سوئمنگ کی پول کے دیکھ رہے ہیں ؟ “
سامنے بیٹھے نفوس میں سے ایک نے پانی کے تالاب کی طرف اشارہ کیا ۔ دران نے اثبات میں سر ہلایا ۔
” تو پہلے تیراکی کی جانچ ہو جائے ؟ “
” جیسا آپ چاہیں “
