Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 05)

Basil by Huma Waqas

دروازہ کھلنے کی آواز تھی۔ جیسے کسی نے ہتھے پر ہاتھ رکھ کر گھمایا ہو اور پھر دروازہ چرچراہٹ کی مدھم آواز کے ساتھ کُھلا ۔ اسے فقط سنائی دے رہا تھا۔ آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھی ۔

ابھی تک وہ اس شخص کے کندھے پر موجود تھی , سر اوپر اٹھائے ادھر اُدھر گھما رہی تھی , سایہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے نیچے پپڑی زدہ لب تھوڑے سے کھلے تھے ۔ دروازہ کھلنے کے بعد اس شخص کے آگے بڑھتے قدموں کے ساتھ ہی اچانک ارد گرد سے اُبھرتی بہت سی آوازیں کان کے پردوں سے ٹکرائیں ۔ آوازیں اتنی زیادہ اور ملی جلی تھیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔

اچانک وہ شخص ایک جگہ رُکا اور جھٹکے سے اُسے نیچے اتارا اُس کے پاؤں اب زمین پر تھے ۔ ہاتھ پیچھے بندھے ہونے کے باعث ایک پل کے لیے وہ لڑکھڑا گئی اور بمشکل خود کو گرنے سے بچایا ۔

اب کوئی اس کے سر کے پیچھے سے پٹی کھول رہا تھا ۔ جیسے ہی پٹی کُھلی چھت پر جلتی بتیوں کی تیز روشنی کے باعث ایک لمحے کے لیے آنکھیں چندھیا گئیں ۔

آہستگی سے آنکھوں کے پپوٹوں کو سکوڑ کر دھیرے سے کھولا , سرخ ڈوریوں والی پتلیوں میں سامنے کے بنتے عکس کے ساتھ خوف کا سایہ واضح تھا ۔ یہ ایک لمبی گیلری تھی جس کے دائیں بائیں جیل نما کمرے تھے ۔

” کیا چھوٹا سا گھر ہے ہمارا جیسے کوئی ڈربہ ہو مجھے نفرت ہے اپنے گھر سے ” ذہن میں اپنی ہی آواز کی بازگشت ٹکرائی ۔

اس گیلری کی چھت سر کے بہت قریب تھی اور چھت کے اندر قطار در قطار بلب نصب تھے ۔ ایک دم سے جیسے گھٹن کا احساس بڑھنے لگا ۔ یہ شائد بیسمنٹ تھا اس لیے سانس لینے میں دشواری تھی ۔

” اگر میرے شوہر کے گھر بالکنی نا ہوئی تو میں اسے کہوں گی نیا گھر لے , تمہیں پتا تو ہے مجھے کھلی جگہیں , چھت , بالکنی اور سمندر کتنا پسند ہے ” ذہن میں پھر سے آواز ابھری ۔

” اوہ جیزز موت اسی کا نام ہے شائد ” زبان تالوے سے چپکنے لگی تھی ۔ سانس حلق میں اٹکنے لگا تھا ۔ خوف کے باعث دل لرزنے لگا تھا ۔ اس جگہ کا منظر دل دہلا دینے والا تھا ۔

ہر کمرے کا دروازہ جیل کی سلاخوں کی طرح تھا اور ڈیجیٹل لاک لگے تھے ۔ وہ خوف سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی ۔ وہ شخص اب کُہنی کے قریب سے اس کا بازو تھامے آگے بڑھا رہا تھا ۔ وہ حواس باختہ حیرت سے پھٹی آنکھیں دائیں بائیں گھما کر دیکھ رہی تھی ۔

ہر کمرے میں تقریباً چار یا پانچ لڑکیاں تھیں اور چھوٹے سے ڈربے نما ان کمروں میں دائیں بائیں دیواروں کے ساتھ لوہے کے بنے پلنگ اوپر نیچے رکھے گئے تھے ۔ میلی کچیلی دیورایں جن پر آہ و بکا درج تھی ۔ ہر کمرے کی ہر دیوار پر کوئلے اور خون سے کچھ نا کچھ لکھا ہوا تھا کچھ بنا ہوا تھا ۔

وہ جہاں جہاں سے گزر رہی تھی لڑکیاں سر اٹھائے متحیر آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھیں ۔ عجیب وحشت تھی سب کی آنکھوں میں چہرے مرجھائے , بال بکھرے اور تن پر کپڑوں کے نام پر بس چیتھڑے وہ اندر سے کانپ گئی ۔ یہ کیسی جگہ تھی جہاں لڑکیوں کو جانوروں کی طرف رکھا ہوا تھا ۔

سیاہ فام اب ایک کمرے کے سامنے رُک چکا تھا اور جیب سے ایک کارڈ نکال کر کمرے کے دروازے کا ڈیجیٹل لاک کھول رہا تھا ۔ کمرے میں پہلے سے موجود لڑکیاں اب مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھیں ۔

لاک کھولنے کے بعد اُس نے سلاخوں والا دروازہ سلائیڈ کیا اور ایک جھٹکے سے اُسے اندر دھکا دینے کے بعد دروازہ پھر سے سلائیڈ کرتے ہوئے بند کر دیا ۔

وہ لڑکھڑاتی ہوئی سامنے پلنگ سے ٹکرا جاتی اگر پلنگ کے پاس کھڑی لڑکی اسے تھام نا لیتی ۔ اُس نے خوف سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ کمرے میں پہلے سے موجود تین لڑکیوں کو دیکھا دو مغربی اور ایک لڑکی مشرقی رنگ و روپ کی تھی جس نے آگے بڑھ کر اسے پلنگ سے ٹکرانے سے بچایا تھا ۔

بلکل سامنے والے کمرے میں موجود لڑکیاں بھی اب سلاخیں تھامے سر ان سے جوڑے اُسے ہی دیکھ رہی تھیں ۔

ترس کے علاوہ ان کی آنکھوں میں اس کے لیے اور کچھ نہیں تھا ۔ مشرقی لڑکی اب اس کے پیچھے بندھے ہاتھوں کو ٹیپ سے آزاد کر رہی تھی ۔

ہر لڑکی بے بس دکھائی دے رہی تھی تھکی ہوئی زندگی سے بیزار اس کو کچھ دیر یونہی خاموشی سے دیکھنے کے بعد وہ سب اپنی جگہوں پر واپس جانے لگی تھیں ۔ مغربی لڑکیاں آپس میں مختلف زبانیں بول رہی تھیں جس کی اسے کوئی سمجھ نہیں تھی ۔ سب کن اکھیوں سے اسے دیکھ کر اب کانوں میں باتیں کر رہی تھیں ۔

” یہ سب حیران ہو رہی ہیں , تم رو نہیں رہی اس لیے کیونکہ یہاں ہر نئی آنے والی لڑکی پہلے چیختی اور روتی ہے “

عقب سے اُسی مشرقی لڑکی کی آواز اُبھری , وہ اردو بول رہی تھی ۔

وہ چونک کر مڑی ۔ اس دیار غیر میں ہم زبان کوئی ملا تھا ۔ مڑتے ہی حیرت اور خوشی کی ہلکی سی رمق چہرے پر سجائے اُس لڑکی کی طرف دیکھا ۔ وہ بے حد حسین نقوش اور سفید رنگت والی لڑکی تھی جو اب اسے دیکھتے ہوئے پھیکی سی مسکراہٹ سجائے کھڑی تھی ۔

” کہاں کی ہو ؟ ” دھیمے سے لہجے میں وہ اس سے سوال کر رہی تھی جبکہ وہ کمرے کا جائزہ لینے میں محو تھی ۔

چار پلنگ تھے۔ دو دو کر کے پلنگ اوپر نیچے رکھ کر کمرے کی دائیں اور بائیں دیوار کے ساتھ لگائے ہوئے تھے ۔ سامنے کی دیوار میں ایک دروازہ تھا شائد واش روم تھا ۔

” کہاں کی ہو ؟ ” لڑکی نے پھر سے سوال دہرایا

اُس نے پھٹی پھٹی وحشت زدہ نگاہوں کا زاویہ بدلہ اور سوال پوچھنے والی کی طرف دیکھا وہ ہمدردی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جواب کی منتظر تھی ۔

” پہ۔۔۔ پاکستان ۔۔” بمشکل پپڑی زدہ لب کھولے , پھیکی سی آواز تھی جس میں گلے کی کھڑکھڑاہٹ شامل تھی ۔

” ہم بھارت سے ” اُس کے پوچھنے سے پہلے ہی لڑکی نے اپنا ملک بتایا ۔

وہ بوسیدہ سی پینٹ شرٹ میں ملبوس تھی اور گلے میں سکارف تھا ۔ چہرہ شفاف تھا , نا کوئی داغ نا کوئی بال ۔

” اغوا ہوئی تھی کیا ؟ ” وہ اگلا سوال پوچھ رہی تھی ۔

” نہیں شادی ۔۔۔۔۔۔۔ ” تھوک نگلا اور پھر سے اردگرد دیکھا ۔ باقی دونوں لڑکیاں آپس میں باتوں میں مصروف تھیں ۔

” اوہ ۔۔۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔۔ اللہ مسلم ہو ؟ ” حیرت سے سوال پوچھا

وہ خود اپنے حلیے سے مسلم ہی لگ رہی تھی ۔

” نہیں کریسچن ۔۔۔” مختصر جواب دیا

اور اس کی طرف سوالیہ دیکھا وہ فورا سمجھ گئی ۔

” ہم مسلم ہیں تمنا نام ہے , سمگل ہو کر یہاں پہنچیں ہیں ” دُکھ بھرا لہجہ تھا ۔

ایک لمحے کے لیے وہ مبہوت ہوئی ۔

” نصیب صورت سے نہیں جڑے ہوتے ” ہاں سامنے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھ کر اس بات پر یقین اور پختہ ہوا ۔

” تمھارا نام کیا ہے ؟” تمنا نے ملائم سے لہجے میں سوال کیا

” جوی ۔۔۔۔۔جوی جان ۔۔۔۔” آہستگی سے جواب دیا ۔

☆☆☆☆☆

رشنیوں کے شہر کراچی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر گہری ہوتی شام کے حسین منظر کو دوبالا کر رہا تھا ۔ سڑکوں پر انگنت گاڑیاں شام ہوتے ہی اپنی تعداد دُگنی کرتے ہوئے ہارن اور دوسرے بے ہنگم شور کا اضافہ کر چکی تھیں ۔

لائینز ائیریا کی عمارتوں کے مشترکہ میدان میں کھیلتے لڑکے بھی اب اندھیرا پھیلتے ہی جوک درد جوک میدان کے مختلف گیٹوں میں سے ہنستے اچھلتے ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے باہر نکل رہے تھے ۔

جوی بھی روز کے معمول کے مطابق بالکنی کی ریلنگ پر کہنیاں ٹکائے اور نگاہیں سامنے میدان میں درخت کے نیچے رکھے اس بنچ پر جمائے کھڑی تھی ۔ ہلکے سبز رنگ کے جوڑے میں رنگت صاف لگ رہی تھی ۔ گھنگرالے بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنانے کے سبب انگنت بالوں کی لٹیں کانوں کے پاس سپرنگوں کی طرح جھول رہی تھیں ۔ آنکھوں کا حجم بہت دور نگاہ مرکوز کرنے کی وجہ سے قدرے کم تھا ۔ وہ بہرہ خوبصورت سبز پتھر جیسی آنکھوں والا لڑکا آج بھی وہاں سر جھکائے بیٹھا تھا ۔

وہ یوں ہی بے سبب اس پر نگاہیں مرکوز کیے اسے دیکھ رہی تھی جب اچانک عقب سے قدموں کی چاپ پر چونک کر پیچھے مڑی اور سنانا کے ہاتھ میں پکڑے بھاپ اُڑاتے چائے کے کپ کو دیکھ کر بے اختیار مسکرا دی ۔

وہ دوسرے ہاتھ میں اپنا چائے کا کپ تھامے ہوئی تھی ۔ موسم سرما کی آمد آمد تھی اور کراچی کی ہوا میں ہلکی سی خنکی محسوس ہونے لگی تھی ۔

” لو ۔۔۔۔ پیو ۔۔۔ اور میں نے شام کی چائے بنائی ہے اب ابا کی رات کی تم بناؤ گی ” سنانا نے چائے کا کپ پکڑاتے ساتھ ہی حکم جاری کیا ۔

اس نے کھوئے سے انداز میں سنانا کے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑا اور اُس کے اندر سے اُٹھتی بھاپ میں دھیرے سے ہاتھ کو دائیں بائیں گھمایا ۔

” دھیرے دھیرے میری زندگی میں آنا ۔۔۔ دھیرے دھیرے میرے دل کو چُرانا “

سنانا چائے کے کپ کو ہاتھ میں تھامے مدھم سے سُر میں گنگناتی ریلنگ تک آ چکی تھی ۔ بغور سنانا کی طرف دیکھا اور پھر سے کپ کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئی ۔

” سنانا تمہیں پتا ہے اُس کی آنکھیں کیسی ہیں؟ ” کپ میں سے اُٹھتی بھاپ اب کم ہو رہی تھی جس پر نگاہیں مرکوز کیے وہ سنانا سے سوال کر رہی تھی ۔

اُس کے اچانک سے کئے گئے سوال پر سنانا ایک دم سے گنگنانا چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔

” کس کی آنکھیں ؟” سنانا نے حیرت سے چہرے کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے پوچھا ۔

” اُسی کی , انو کے دوست کی ” نگاہیں جھکائے ہی انکشاف کیا۔

اُس دن کے بعد وہ بلاجواز اُس لڑکے کی پرسرار شخصیت میں اُلجھ کر رہ گئی تھی , اس لڑکے کی عجیب سے حرکات اس کے ذہن میں تجسس پیدا کرتی تھیں ۔ اتفاق ایسا تھا وہ اکثر کہیں نا کہیں اُسے نظر آ ہی جاتا تھا اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کو دیکھے جاتی تھی ۔

ایک عجیب سی کشش تھی جس پر دل اور دماغ ایک ساتھ ہمک اٹھتے تھے ۔ وہ کوئی دل پھینک یا حسین صورت رکھنے والے لڑکوں پر مر مٹنے والی لڑکی نہیں تھی اور نا ہی اب کی بار کچھ ایسا تھا کہ وہ اس لڑکے پر مر مٹی تھی بس کچھ تھا جو اس کے ذہن کی ڈوریں اس لڑکے کی طرف کھنچتی تھیں ۔

” کیسی ہیں اُس کی آنکھیں ؟ ” سنانا نے اس کے چپ ہو جانے پر تجسس سے پوچھا ۔

جوی نے سامنے خلا میں نگاہیں جمائیں ۔ اندھیرا پھیل گیا تھا ۔ اور فیلٹوں کی بتیاں جگمگانے لگی تھیں ۔ اس کی آنکھوں کی سیاہ پتلیوں میں کتنی ہی روشنیوں کا عکس تھا , پیشانی پر گہری سوچ جیسی لکیریں اور سیاہ کناروں والے لب ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔

” ایسی آنکھیں جیسے کوئی برسوں سے نہ رویا ہو اور اپنے رونے پر بند باندھ رکھے ہوں ” کھوئے سے لہجے میں جواب دیا

” یہ کیا بات ہوئی؟ ” سنانا نے بھنویں اکھٹی کیے نا سمجھی ظاہر کی

” یہی تو بات ہے , میں نے اس کی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھا ہے , اس کی آنکھ کی پتلی پر ایک دبیز تہہ جمی ہے۔ جیسے کوئی پرت ہو , اداسی کی پرت , ایسی پرت جس کے پیچھے بہت سے راز پنہاں ہوں ” کھوئے سے لہجے میں وہ مسلسل بول رہی تھی ۔

چائے کے کپ کے کناروں پر آہستگی سے انگلی پھیرتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوبی وہ سنانا کو شک میں ڈال رہی تھی ۔ سنانا نے شاکی نگاہوں سے گھورا

” جوی تم اُسے سر پر سوار کیوں کر رہی ہو , مجھے عجیب سا وہم ہو رہا ہے ” سنانا کی آواز میں اس کی حالت کو لے کر ڈر تھا ۔

وہ جوی سے چھوٹی تھی مگر دونوں کی دوستی گہری تھی ۔ اسے جوی کی اس لڑکے میں اتنی دلچسپی ڈرا رہی تھی کیونکہ آج سے پہلے اُس نے جوی کو کبھی یوں کسی لڑکے کے بارے میں اتنی گہرائی میں جا کر سوچتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

” نہیں سر پر سوار نہیں کر رہی میں تو بس یہ چاہتی ہوں کہ اس لڑکے کی آنکھ کی پتلی پر سے اُداسی کی وہ پرت ہٹ جائے ” آہستگی سے چائے کا سپ لیےپھر سے سامنے والی عمارت کی جلتی روشنیوں پر نگاہ ٹکائی ۔

” میں اس کو روتا دیکھنا چاہتی ہو ں ” عجیب سی خواہش کا اظہار کیا

سنانا نے حیرت سے کپ لبوں سے ہٹا کر اس کی طرف دیکھا

” جب کسی کو اداس دیکھو تو خواہش ہوتی ہے اسے مسکراتا اور ہنستے دیکھیں , تم عجیب ہو کہ اُسے روتا دیکھنا چاہتی ہو” سنانا کے لہجے میں حیرت اور تاسف کا ملا جلا عنصر تھا ۔

“ہاں ایسا ہی ہے میں چاہتی ہوں وہ اتنا روئے کے اس کی آنکھوں سے وہ بوجھل پن وہ اداسی چھٹ جائے ” جوی نے پرسوچ لہجے میں اپنے مقصد سے آگاہ کیا ۔

بات واقعی یہی تھی وہ صرف اس سے ہمدردی محسوس کر رہی تھی ۔ سنانا نے اپنے سر کو تاسف سے نفی میں جنبش دی اور چائے کا گھونٹ بھرا ۔

” مجھے عجیب لگتا ہے جب کوئی اس عمر میں اتنا اداس ہو زندگی سے بیزار ہو ” چائے کا گھونٹ بھرا اور کمر ریلنگ سے ٹکائے چہرے کا رُخ سنانا کی طرف کیا ۔

” کوئی ہو گا اسے دُکھ بھئ اور یہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ اداسی اور بیزاری اس عمر میں نہیں ہو سکتی ” سنانا نے اس کی بات کی نفی کر دی

” اس عمر میں اداسی اور بیزاری کچھ دیر کی ہوتی ہے پھر چھٹ جاتی ہے ۔ لیکن اس کی اداسی مجھے برسوں پر محیط لگتی ہے ” جوی نے وثوق سے اپنا موقف پیش کیا ۔

” تمہیں کیسے پتا برسوں کی اداسی ہے ؟ “

” اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ” جوی نے فوراً جواب دیا ۔

” اور یہ کب کیا تم نے اتنا غور اس پر ؟ ” سنانا نے آنکھوں کو سکوڑتے ہوئے استفسار کیا

” کچھ دن پہلے سیڑھیوں میں ٹکرایا تھا ” مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

جوی نے کبھی اس سے کوئی بات چھپائی ہی نہیں تھی ,سنانا اب کھوجتی نگاہوں سے اس کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش میں تھی ۔

” آج میں حنا کے ساتھ لائبریری گئی تھی ۔ ” چائے کے کپ کو لبوں سے ہٹا کر ایک اور انکشاف کی تمہید باندھی

سنانا نے بھنویں اچکائے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور کپ کو لبوں سے لگایا ۔

” میں ایک کتاب لائی ہوں ” آہستگی سے اگلی بات بتائی

سیدھے ہو کر نگاہیں سنانا کی نگاہوں میں گاڑیں ۔

” کیسی کتاب ؟ ” سنانا نے تجسس سے پوچھا

” گونگے بہرے لوگوں سے اشاروں میں کیسے بات کرتے ہیں وہ سیکھنے کے لیے ” آواز کو حد درجہ دھیما رکھتے ہوئے کتاب کے بارے میں بتایا

” کیا!!!!! ” سنانا چیخ پڑی تھی ۔

آنکھیں پوری کھولے حیرت سے اپنی بڑی بہن کو دیکھا ۔ کیا اسے اس لڑکے سے محبت ہو گئی تھی ۔۔۔

” اوہ ۔۔۔جیزز کیا کرتی پھر رہی تھی وہ ” سنانا کی آنکھوں میں خوف کے سایے تھے ۔

” جوی تم ۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہو گئی کہیں , مطلب تم اب اس لڑکے سے بات کرو گی ؟” سنانا نے دانت پیستے ہوئے پوچھا

بازو دوبوچ کر اسے ایک جھٹکا دے کر اپنے روبرو کیا ۔ وہ لڑکھڑا کر سیدھی ہوئی چائے کا کپ چھلک گیا ۔

” جوی تم اس سے بات نہیں کرو گی سمجھی , کیوں بلاوجہ اس لڑکے کو اتنا کھوج رہی ہو , ہماری تو انو لوگوں سے بھی اتنی بات چیت نہیں ہے ۔ اور وہ کڑکا مسلم ہی لگتا ہے , خبردار اگر تم نے کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا نا جان نا پہچان۔۔۔ ” سنانا غصے میں اُسے ایسا کچھ بھی کرنے سے منع کر رہی تھی ۔

” اوہ بابا ۔۔۔ میں کہاں بھاگی جا رہی ہوں اس سے بات کرنے کو میں نے سوچا ہو سکتا ہے کبھی ۔۔۔۔ ” جوی نے ہنستے ہوئے بات شروع کی

” نہیں بلکل نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ” سنانا نے سخت الفاظ میں فوراً اس کی بات کاٹی

” چلو ابا آنے والے ہیں اندر چلتے ہیں ” انگلی کے کھڑی کرتے ہوئے حکم دیا

آنکھیں نکالیں اور آگے چل دی وہ یونہی اکثر چھوٹی سے بڑی بہن بن جاتی تھی ۔

جوی نے کپ کو دیکھا چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی , ایک نگاہ اس خالی بنچ پر ڈالی جہاں وہ کچھ دیر پہلے بیٹھا تھا , گہری سانس لی اور سنانا کے پیچھے چل دی ۔

☆☆☆☆

” یہاں ساری لڑکیاں مختلف ملکوں سے سمگل یا اغوا ہو کر یہاں پہنچی ہیں ” سپاٹ سے لہجے میں آواز ابھری

جوی نے نگاہ اوپر اٹھائی اور سامنے بیٹھی تمنا کی آنکھوں میں دیکھا , بے تاثر مردہ سی پتلیاں جینے کی آس چھوڑے ہوئے بار بار مر کر زندہ ہوئی پتلیاں وہ ہر بار کی طرح اس کی بھی آنکھیں پڑھ رہی تھی ۔

تمنا پلنگ پر ٹانگیں لٹکائے اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ یہاں آئے اُسے بیس منٹ اور دس سکینڈ ہو چکے تھے جس میں وہ تمنا کو مختصر اپنے بارے میں بتا چکی تھی کہ اس کی قسمت اسے یہاں تک کیسے لائی ۔

سامنے بیڈ والی دونوں لڑکیاں اب اپنے اپنے پلنگ پر چپ چاپ لیٹ چکی تھیں ۔ ان دونوں نے اس سے نام پوچھنے کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کی تھی ۔

اچانک ایک سائرن جیسی آواز ابھری اور پوری گیلری میں جیسے ہلچل مچ گئی ۔ بے ہنگم سا شور تھا لڑکیاں بھاگ بھاگ کر سلاخوں کے پاس آ رہی تھیں ۔

” یہ کیا ہوا ؟” جوی نے حیرت سے تمنا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

” پہلے وقت کا کھانا آیا ہے ” تمنا نے آہستگی سے جواب دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوئی

باقی دونوں لڑکیاں بھی اپنے اپنے پلنگ سے نیچے اتر رہی تھیں ۔ ایک وہ تھی جو بس دیکھ رہی تھی بھوک کیا ہوتی ہے ۔

” آج پھر سے دال۔۔۔ اماں ۔۔۔ آج تو ابا کی تنخواہ آئی تھی آج تو کچھ ڈھنگ کا ہوتا ” نگاہوں کے سامنے خود کو منہ پھلائے دیکھا ۔ اور پھر کانپتے ہاتھوں سے ڈبے اٹھاتی لڑکیوں کو دیکھا حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹک گیا ۔

سلاخوں کے پاس باہر کی طرف ایک چائینز لڑکا کھانے کے پیکٹ رکھ رہا تھا ۔ ساری لڑکیاں بھاگ بھاگ کر سلاخوں کے پاس جا کر اپنا اپنا پیکٹ اٹھا رہی تھیں ۔ ان کے دروازے کے سامنے بھی اس لڑکے نے چار پیکٹ رکھے ۔ تمنا نے بھی آگے بڑھ کر دو پیکٹ اٹھائے اور واپس آئی ۔ ایک پیکٹ حیرانگی سے آنکھیں پھیلائی بیٹھی جوی کی طرف بڑھایا ۔ جوی نے اس کے ہاتھ میں پکڑے پیکٹ کی طرف دیکھا اور پھر چہرہ اوپر اٹھایا ۔

” یہ۔۔۔ جگہ کونسی ہے ۔۔۔اور کیا کرتے ہیں یہ لوگ یہاں لڑکیوں کے ساتھ؟ ” اس کے ہاتھ میں پکڑے پیکٹ سے بے نیازی برتتے ہوئے خوف سے پوچھا ۔

بھوک تو مر چکی تھی۔ بس اب یہ جاننا ضروری تھا کہ لی تاؤ اُسے یہاں کیوں چھوڑ گیا ہے اور کب لینے آئے گا ۔ اور یہاں اسطرح لڑکیاں کیوں بند ہیں ۔

” دوزخ , ہل (hell) یا پھر جہنم بھی کہہ سکتی ہو ” تمنا نے درشت لہجے میں جواب دیا

آگے بڑھی اور پلنگ پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔ سامنے والی دونوں لڑکیاں عجلت میں اپنے اپنے پیکٹ کو کھول کر نوڈلز کھانے لگی تھیں ۔

” ہِل(hell)۔۔۔ ” کسی کنویں سے آتی آواز کے مترادف آواز تھی ۔

خوف سے پھٹی آنکھوں سے سامنے بیٹھی تمنا کی طرف دیکھا۔ وہ پیکٹ کھول رہی تھی ۔ پورے کمرے میں اب نوڈلز کی مہک ابھر گئی تھی ۔

” ہاں یہ دوزخ ہے ۔ یہاں کا ہر پل ہر لمحہ اذیت ناک ہے , بس فرق صرف اتنا ہے یہاں کھانے کو دو وقت مل جاتا ہے ” وہ ایک پیکٹ کھول کر اس کے اندر چمچ رکھنے جے بعد جوی کی طرف بڑھا رہی تھی ۔

” کہ۔۔۔ کیا کرتے ہیں یہ لوگ ؟ ” گھٹی سی آواز میں سوال پوچھا

” جسم فروشی کرواتے ہیں اور یہ ۔۔۔۔ “

تمنا نے اپنے پیٹ سے شرٹ کو اوپر اٹھایا , اس کے پیٹ پر ٹانکوں کے اور زخم کے نشان تھے شائد اس کا ایک گردہ نکال لیا گیا تھا ۔

جوی کے ہاتھ کانپ گئے اور گھبراہٹ کے باعث ڈبہ ہاتھ سے نیچے گرا ۔ وہ خوف سے دہل گئی ۔ تمنا سپاٹ چہرے کے ساتھ پلنگ پر گرے نوڈلز پھر سے ڈبے میں ڈال رہی تھی ۔ ایسے جیسے وہ پہلے سے جانتی تھی کہ اس کے ہاتھ سے نوڈلز گر جائیں گے ۔

” گھبراؤ نہیں سب کے نہیں نکلاتے اور ایک ساتھ سب کچھ نہیں نکلاتے آرڈر پر جس کا میچ ہو اس کا ” تمنا نے نوڈلز پھر سے اس کی طرف بڑھائے

” دوزخ ۔۔۔۔ ابدی سزا کی جگہ ۔۔۔۔۔ ہاں میرا گناہ بہت بڑا تھا اور مجھے ایسی ہی سزا ملنی تھی خداوند سے یہاں بھی اور وہاں بھی ” اس کی روح کانپ گئی تھی ۔

ڈبڈبائی آنکھوں سے سامنے تمنا کی طرف دیکھا ۔ وہ دھندلی ہو چکی تھی ۔

” ت۔۔۔تم نے بھی کیا کوئی گناہ کیا تھا ؟ ” روندھائی بھاری آواز میں سوال پوچھا

تمنا کے نوڈلز منہ میں ڈالتے ہاتھ روک گئے , نگاہیں جوی کی طرف اُٹھیں ۔ وہ جوی کی طرف یوں دیکھ رہی تھی جیسے اس کے چہرے ہر رقم گناہ تلاش رہی ہو ۔

” اگر یہ دوزخ ہے تو یہ کسی سزا کے طور پر ہے کسی گناہ کی سزا جیسے میں نے گناہ کیا ہے بہت بڑا گناہ , تم سے بھی ۔۔۔” تمنا کی ساکن آنکھیں دیکھ کر بات ادھوری چھوڑ دی

” ہاں کیا ہے , پیدا ہونے کا گناہ , باپ کو بیٹا چاہیے تھا اور تیسری دفعہ بھی ہم دنیا میں آ دھمکے اور ہمارے بعد جو دو بہنیں آئیں ان کے قصور وار بھی ہم ٹھہرے ” تلخ سی مسکراہٹ اس کے خوبصورت لبوں پر ابھری

” سولہ کے ہوئے تھے کہ ابا نے ایک بوڑھے نواب سے پیسوں کے عوض نکاح کر دیا ” وہ کھو سی گئی ۔

اس کی بھورے رنگ کی بڑی سی مردہ آنکھوں میں ماضی کی یاد سے ہلکی چمک ابھری ۔ نوڈلز کا ڈبہ ہاتھ میں کانپ رہا تھا ۔ شائد ان لمحوں کا درد پھر سے اس کی رگ و پے میں اترا تھا ۔

” نواب صاحب کا سال بعد ہی انتقال ہو گیا , مرحوم کے بیٹوں نے عدت کے دنوں میں اپنا اپنا حصہ ڈالا اور ہمیں دھکے مار کر گھر سے نکال دیا ” وہ سر نیچے جھکا چکی تھی ۔ لہجہ اب زکام زدہ لگ رہ تھا

” گھر واپس آئے تو ۔۔۔ خود پر دروازے بند دیکھے , ماں نے ابا سے چوری پیسے تھمائے اور کہا لکھنو اپنی خالہ کی طرف چلے جائے وہ کوئی کام دلوا دے گی گھر آؤ گی تو باپ مار دے گا تمھارے پیچھے بھی ابھی تین پڑی ہیں ” اس کی آنکھ سے آنسو لڑھک کر ڈبے میں موجود نوڈلز پر آ گرا

” کیا کرتے اکیلے ہی لکھنو کی ٹرین پکڑی اور خالہ کی طرف چل دیے , مگر خالہ کے گھر نا پہنچ سکے وہیں ٹرین سے ہی چند مشکوک لوگوں کی نظر میں آ گئے کہ اکیلی ہے , بے آسرا ہے , بس ٹرین کے باتھ روم میں وہ زبردستی گھسے اور بازو میں کچھ چبھو دیا پھر جب بھی آنکھ کھلتی کوئی نوچ رہا ہوتا تھا , زیادہ ہوش میں آنے لگتے تو انجکشن لگا دیا جاتا تھا ۔ جب مکمل ہوش آیا تو خود کو یہاں پایا “

وہ اپنی کہانی سنا رہی تھی اور جوی کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔

” یہاں آ کر اصل اذیت کا سفر شروع ہوا , روح تک کو نوچ کھایا حرام کے پلوں نے اور پھر ایک دن گردہ نکال لیا , حیران تو اس بات پر ہیں کہ زندہ کیوں ہیں ہم مر کیوں نا گئے ؟ ” زکام زدہ بھاری آواز کے ساتھ اب آنسو متواتر لڑھک رہے تھے ۔

” اب تو بس روز دعا کرتے ہیں کہ جلدی مر جائیں , تم بھی دعا کرو کہ تم جلدی مر جاؤ کیونکہ یہاں جو مر جاتی ہے وہی آزادی پاتی ہے ۔ اور جب وہ مر جاتی ہے تو باقی سب لڑکیاں دروازے کی سلاخیں بجا بجا کر جشن مناتی ہیں ” تمنا نے پھیکی سی مسکراہٹ سجا کر کہا

وہ دم سادھے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ۔ تمنا اب آنسو صاف کرتی نوڈلز زہر مار کر رہی تھی ۔ پھر اس کو بھی کھانے کا اشارہ کیا ۔

” کھالو ورنہ یہاں کے چوہے بھی بہت بھوکے ہیں ” تمنا نے پھیکی سی مسکراہٹ سجائی ۔

جوی نے چونک کر اردگرد دیکھا ۔ اور پھر نوڈلز اٹھا لیے ۔

☆☆☆☆☆

چین کے شہر شھنگائی میں یہ چمکتی صبح پوری دلکشی کے ساتھ اس دوڑتی بھاگتی دنیا میں دن کی شروعات کر چکی تھی ۔ لیجزیو کی آسمان سے باتیں کرتیں عمارتوں میں چہل پہل اور ان بلند و بانگ عمارتوں کے سامنے بہتے کشادہ ہنگپو دریا میں کشتیوں میں مسافروں کی آمدو رفت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔

ہاروی پروڈیکشن کی ٹیم اپنی شوٹنگ کے تیسرے دن سیٹ پر پہنچ چکی تھی ۔ دران ملک سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس سیاہ گلاسز آنکھوں پر سجائے اپنی تمام طر وقار کے ساتھ جلوہ کناں تھا۔

ان لوگوں کا آج کا فلمایا جانے والا منظر یہیں لیجزیو کی عمارتوں کے سامنے دیبنڈ میں دریا کے کنارے پر تھا ۔

منظر میں دران کے ساتھ کارلہ کے مناظر بھی شامل تھے جن میں اسے کارلہ کو کمر سے تھام کر گھمانا اور اپنے قریب کرنا تھا۔ دران جس کے لیے فائٹنگ اور دوسرے کئی مشکل سے مشکل منظر کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا مگر رومانوی مناظر میں آ کر اس کی عدم دلچسپی سب کو واضح محسوس ہوتی تھی ۔

اس میں کوئی شک نہں تھا کہ وہ ادکاری کے باقی تمام کرداروں میں بہترین جوہر دکھا کر اپنا لوہا منوا چکا تھا لیکن رومانوی مناظر یا تو فلم سے بلکل ہی تلف کروا دیتا تھا جیسا کہ اس دفعہ ہوا تھا یا پھر ان کو عدم دلچسپی سے فلماتا تھا ۔یہی وجہ تھی وہ ہیرؤین کے ساتھ کیمسٹری کی لسٹ میں زیرو نمبر پر تھا ۔

اب بھی وہ سرخ رنگ کی میکسی میں ملبوس غضب ڈھاتی حسین ادکارہ کارلہ کو کمر سے تھام کر دو دفعہ گھماتے ہوئے اپنے قریب کر چکا تھا ۔ مگر ہدایتکار بروس کو یہ منظر پسند نہیں آ رہا تھا ۔

” کٹ ۔۔۔ کٹ ۔۔۔ شارٹ بریک لیں اس کے بعد دوبارہ ٹیک لیں گے سر۔۔۔ ” بروس نے تیسری دفعہ ٹیک لینے کا حکم جاری کیا اور دران کی طرف انگوٹھے کا اشارہ کیا ۔

دران نے غصے سے بروس کی پشت کو گھورا جو دوسری دفعہ بھی منظر کو کٹ کروا چکا تھا ۔ اسے جتنی کوفت ہو رہی تھی بروس اتنا ہی سین لمبا کھینچ رہا تھا ۔

بروس اس فلم کا ہدایاتکار تھا اور وہ ہاروی پرڈوکشن کا بہت عرصے سے حصہ تھا ۔ بروس کو دران پر پہلے سے ہی بہت تمس تھا کہ اس نے فلم میں اس کے شامل کئے ہوئے رومانوی مناظر تلف کروا دیے تھے اب اس منظر کے وہ زیادہ ٹیک لے کر اسے زچ بھی کر رہا تھا ۔

بروس کے منع کرتے ہی , کیمرے گھوم گئے تھے۔ میک اپ کرنے والے اور پانی پلانے والے بھاگتے ہوئے کارلہ اور دران کی طرف آ رہے تھے ۔ باقی سارا عملہ بھی اپنی ذمہ داری سے ہٹتے ہوئے اب ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں محو تھا ۔

دران نے آنکھوں کو چندھی کیے پیشانی پر بل ابھارے , گھور کر بروس کو دیکھا جو اب کچھ دور چھتری کے نیچے بیٹھے ہاروی کی طرف جا رہا تھا۔

اس کے سامنے کھڑا لڑکا اس کے غصے سے بے نیاز میک اپ درست کر رہا تھا۔ دران نے ایک ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے لڑکے کو روکا اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا کچھ دوری پر بیٹھے ہاروی اور بروس کی طرف بڑھا ۔

بروس اب ہاروی کے ساتھ والی کرسی پر براجمان ہو کر مشروب کا گلاس اٹھا رہا تھا جب وہ سر پر پہنچ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔ بروس نے گلاس کو منہ سے لگائے نگاہیں اٹھائیں ۔ دران سرخ چہرہ لیے کھڑا تھا ۔

” یہ میرا لاسٹ ٹیک ہو گا اس کے بعد میں ایک بھی اور ٹیک نہیں لوں گا ” دران نے انگلی کھڑی کرتے ہوئے اپنا اٹل فیصلہ سنایا

بروس ایک دم چونک گیا , وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر زیادہ ٹیک لے رہا ہے , دران دو ٹوک انداز میں فیصلہ سنا کر وہاں رکا نہیں تھا جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے واپس پلٹ گیا ۔

” بہت بہت بد دماغ ہے , یہ جتنا مہنگا ایکٹر ہے اتنا ہی الٹ دماغ کا مالک ہے کیوں کاسٹ کیا تھا اسے اتنے مہنگے پروجیکٹ میں ” بروس نے ناک چڑھاتے ہوئے اس کی پشت کو گھورتے ہوئے سوال کیا

” وہ اپنی اس بد دماغی کو اپنی پہچان کہتا ہے, درانگ پھاڑ دینے والا , چیر کر رکھ دینے والا ” ہاروی نے اسے درنگ کے نام کا مطلب بتاتے ہوئے قہقہ لگایا

وہ بروس کی دران سے نفررت سے لطف اندوز ہو رہا تھا بروس نے غصے میں سر ہوا میں مارا , ہاروی اب ہنسی کو دبا کر سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

” غصہ مت کرو یہ ایسا ہی ہے ۔ یہ تو کِسنگ سین بہت مشکل سے کرتا ہے اور وہ بھی زیادہ طر اوریجنلی نہیں کرتا ٹیکنالوجی استعمال کرواتا ہے, یہ میرے لیے ایک چیلنج ہے سٹیفن نے کہا تھا یہ تمھاری فلم میں کام نہیں کرے گا ” ہاروی نے بروس کو دران کے مطلق مزید آگاہ کیا

” جانتا ہوں سب میں , ڈرامے ہیں اس کے یہ سب , جو زیادہ تاثر دیتے ہیں وہ زیادہ کمزور ہوتے ہیں ” بروس نے ٹھوڑی کو کھرچتے ہوئے درشت لہجے جواب دیا

” نہیں ڈارمے نہیں کرتا شروع سے ہی ایسا ہے , نتھن نے متعارف کروایا تھا اسے , پہلے ایک سال معمولی اسٹنٹ مین کے طور پر کام کرتا رہا ہے انڈسٹری میں ” متوازن لہجے میں کہتے ہوئے ہاروی نے میز پر رکھا لیپ ٹاپ اپنی طرف گھمایا

” اگر یہ بات ثابت کر دوں کہ یہ صرف اس درانگ کے ڈارمے ہیں تو کیا دو گے مجھے ” بروس نے بھنویں اچکائے کمینگی سے پوچھا

ہاروی نے لیپ ٹاپ پر جھکی نگاہ اٹھائی اور پھر استہزئیہ مسکایا

” اوہ ۔۔۔۔ بس کر بھائی , اس سے وہ سین تک تو کروا نہیں سکے میں یا تو , اب یہ کہاں سے ثابت کریں گے ” ہاروی نے تمسخرانہ کہا

” تمہیں ویڈیو چاہیے یا پکس بس یہ بتاؤ” بروس نے ناک پھلائے وثوق سے پوچھا

ایسے جیسے اب یہ اس کی عزت کا معاملا بن چکا ہو , ہاروی نے چند سکینڈ حیرانگی سے بروس کے چہرے پر موجود سختی کو دیکھا ۔

” ویڈیو کیونکہ اگر اس کی ایسی ویڈیو میڈیا پر آ گئی تو سمجھو اس کا یہ جو سو کالڈ ایچی ٹیوڈ ہے ۔ پاش پاش ہو جائے گا ” ہاروی نے خباثت سے آنکھ کا کونا دبایا

” ہم۔م۔م تو بس پھر دیکھتے جاؤ , لگتا ہے کچھ مکس کرنا پڑے گا , پروسٹی ٹیوٹ ۔۔۔ ” بروس نے پرسوچ نگاہیں سامنے دران پر مرکوز کرتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی

ہاروی ایک دم سے چونک کر سیدھا ہوااور پہلے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا , دران اپنے کیبن کے قریب کھڑا سگریٹ سلگائے انل سے باتوں میں مصروف تھا ۔ ہاروی نے نگاہیں بروس کی طرف گھمائیں ۔

” نو۔۔۔۔ نو ۔۔۔۔ اُس سب کو اس معاملے سے الگ رکھو وہ سب الیگل ہے کسی کو بھنک بھی پڑی نا تو ” ہاروی نے دانت پیستے ہوئے آواز کو دھیما رکھا ۔

” کچھ نہیں ہو گا بس ایک لڑکی ہی تو چاہیے اور کچھ کیمرے ” بروس استہزائیہ مسکرایا ۔

” پھر سے سوچنے کا مشورہ دوں گا ” ہاروی نے لب بھینچے گہری سانس لی

” نہیں میری جان گھبرانے کی ضروت نہیں ہے , وہ بھی فلم ہوتی ہے یہ بھی فلم ہو گی فرق صرف اتنا ہو گا اس میں ہیرو کو نہیں پتا ہو گا کہ یہ فلم ہے ” بروس نے پھر سے آنکھ دباتے ہوئے ہونق بنے ہاروی کو پوری بات سمجھائی

” نہ۔۔۔نہ۔۔۔۔مجھے یہ بات ٹھیک نہیں لگ رہی کوئی اور طریقہ سوچو ” ہاروی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنا ڈر ظاہر کیا

” کچھ بھی نہیں ہو گا سب بس مجھ پر چھوڑ دو سب ” بروس نے تو جیسے سب سوچ لیا تھا ۔

اعتماد سے پریشان چہرہ لیے بیٹھے ہاروی کو دیکھ کر مسکرایا

” تم ریلکس ہو جاؤ سب مجھ پر چھوڑ دو بس ایک عدد پارٹی کا اہتمام ہو جائے , اوکے میں ذرا اس کا آخری ٹیک لے کر آیا “

بروس نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالا جو اب بھی حواس باختہ بیٹھا تھا ۔

بروس اپنی جگہ سے اُٹھا اور قدم کیمروں کی طرف بڑھا دیے جہاں دران اپنا ٹیک دینے کے لیے تیار کھڑا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *