Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 11)

Basil by Huma Waqas

مینگولے کے لان میں تقریب اپنے اختتام پر تھی ۔ رات کے تین بجے اب لوگ تھکنے اور شراب میں چور ہو کر لڑکھڑانے لگے تھے ۔ ادھ کھلی آنکھوں اور ڈگمگاتے قدم اب لان چھوڑ کر کمروں کا اور باہر کا رخ کر رہے تھے ۔ بتیاں اب بجھنے لگی تھیں ۔ لان آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا تھا ۔ مدھم سی آواز میں بجتی موسیقی اب موسیقی کے آلے پر بج رہی تھی۔ گلوکارہ جا چکی تھی ۔ ایسے میں مینگولے کی سنہری عمارت کے ایک کونے میں شیشے کی بنی لفٹ متوازن رفتار سے اوپر چڑھ رہی تھی۔ لفٹ کے وسط میں جوی دو لڑکوں کے درمیان میں کھڑی تھی ۔ میرون گاؤن کے اوپر کندھوں پر اب سیاہ مردانہ کوٹ کا اضافہ تھا ۔

تین گھنٹے وہ ایک کمرے میں بے مقصد ایک صوفے پر بندھی بیٹھی رہی تھی اور اب جا کر اسے اس کمرے سے نکال کر کہیں اور لے جایا جا رہا تھا ۔ شائد اوپر کسی کمرے میں ۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جو اس پر دیے ہوئے سیاہ کوٹ کے نیچے چھپے تھے ۔

یقیناً اس کی عزت کا جنازہ نکلنے کا وقت قریب تھا ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے سانس اُکھڑنے لگی ہو ۔ وہ یک لخت چند قدم آگے بڑھی اور چلانے لگی

” ہیلپ۔۔۔۔۔ ہیلپ می۔ی۔ی۔ی۔ ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ لسن “

گلے سے پھٹنے جیسی آواز برآمد ہوئی ۔ جو فقط اس لفٹ کے شیشوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی ۔ ہوٹل سے باہر نکلتے ہنستے مسکراتے چہرے اس کی بے بسی سے بے خبر , مست مگن اپنی شاندار گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے ۔

دل کے دھڑکنے کی رفتار خوف کے باعث تیز طر ہو چکی تھی ۔ وہ پھڑپھڑانے لگے تھی ۔ بلکل ویسے ہی جیسے کوئی پنچھی جال میں پھنسنے کے بعد پھڑپھڑاتا ہے ۔

دونوں لڑکے اسے قابو کر رہے تھے۔ ایک نے جلدی سے اس کے منہ پر ٹیپ لگائی ۔ دوسرا اس کے بال کھینچتے ہوئے اسے پسٹل دکھا رہا تھا ۔ کتنے ظالم تھے یہ لوگ اور وہ جال میں پھنسے پنچھی کی طرح پھڑپھڑا کر صرف اپنے پنکھ زخمی کر رہی تھی ۔ نتیجہ کچھ نہیں تھا چاروں طرف جال ہی جال تھا ۔

لفٹ کھل چکی تھی ۔ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے اب ہوٹل کی گیلری میں سے لے جا رہے تھے ۔ جہاں بائیں اور دائیں کمروں کے دروازے بند تھے ۔ جیسے اس کی قسمت کے دروازے بند تھے ۔

” بعض اوقات آدمی ایک نہیں ہوتا ۔ تین ۔۔۔ چار یا اس سے بھی زیادہ ۔۔۔” تمنا کے کہے ہوئے الفاظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے ۔

ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر برق رفتاری سے سفر کر گئی ۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دونوں لڑکوں کو دیکھتے ہوئے کبھی ٹیپ سے بند کیے منہ سے بولنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی اور کبھی بندھے ہاتھوں کو کھولنے کے لیے کلائیوں کو گھما رہی تھی ۔ ہر کوشش ناکام تھی ۔ وہ دلدل میں دھنسنے جا رہی تھی ۔ تمنا کہہ رہی تھی ۔ وہ پہلی دفعہ میں اتنا برا حال کرتے ہیں کہ لڑکی جسمانی اور ذہنی دونوں طرح مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے ۔ جسم کا رواں رواں کھڑا ہو رہا تھا ۔

جال میں پھنسے پنچھی کو پہلے پنجرے میں بند کیا جاتا ہے پھر اس کے پر کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ اس کے پر کٹنے جا رہے تھے ۔ ۔۔۔۔

آہ ۔۔۔۔ میرے اپنوں کو میری خبر تک نہیں ہو گی کہ مجھ پر کیا بیت رہی ہے ۔ شائد وہ لی تاؤ کو فون کرتے ہوں گے؟ اس کا پوچھتے ہوں گے؟ ۔ نہیں وہ نہیں کرتے ہوں گے ۔ کبھی نہیں کرتے ہوں گے ۔ میں ان کے لیے مر ہی تو چکی تھی ۔ جو گناہ میں کر چکی تھی ۔ اس پر انہوں نے پردہ ڈال دیا تھا لیکن نفرت دل سے نہیں نکالی تھی ۔

آنکھوں کے سامنے کتنے ہی مناظر گھوم گئے ۔

جان اسے دوپٹہ درست کرنے کا کہہ رہا تھا ۔

مریم اسے رات کو باہر جانے سے منع کر رہی تھی ۔

آمنہ اسے وضو کرنے کا طریقہ سمجھا رہی تھی ۔

وہ وضو کر رہی تھی ۔

وہ صلیب کو چوم رہی تھی ۔

وہ جائے نماز بچھا رہی تھی ۔

وہ ھاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے اس پر سر ٹکائے ہوئے تھی ۔

وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔

پھٹی پھٹی آنکھوں سے ارد گرد دیکھا ۔ تمام کمروں کے دروازے بند تھے ۔ جیسے اس کی قسمت کے دروازے اس پر بند تھے ۔

” کاش کوئی دروازہ کھل جائے ” دل تڑپ کر دعا کر گیا ۔

جیسے ہر دفعہ ہر لمحہ کیا کرتا تھا ۔ کہاں یہ یاد رہا تھا ۔ کہ وہ دعا نہ مانگنے کا تہیہ کر چکی ہے ۔ آنکھوں کے سامنے گزرے لمحے یکے بعد دیگرے سرک رہے تھے ۔

” دعائیں قبول نہیں ہوتی ۔ کم از کم میری تو کوئی بھی نہیں ہوئی۔ کبھی بھی نہیں ہوئی ۔ میں نے ایک دعا کو ان چھ سالوں میں ہر پل , ہر جگہ اور کلیساؤں میں گھنٹوں بیٹھ بیٹھ کر مانگا , مگر نہیں ہوئی ۔ “

کتاب سے سر اٹھائے اس نے آمنہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔ وہ مسکرائی اپنی گود میں کھلی کتاب بند کر دی ۔ سبز گھاس پر کھلی کتابوں کے صحفے پھڑپھڑائے ۔ وہ شائد کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر اجتناب برت رہی تھی ۔

” ایک بات کہوں اگر برا نا مانو ؟” وہ جھجک کر پوچھ رہی تھی ۔

” تمہیں ایسی لگتی ہوں کیا ؟ کہو “

مسکراتے ہوئے اجازت دی ۔ نگاہیں اس پر مرکوز کیں ۔

” اللہ سے مانگو تو شریک مت ٹھہراؤ ۔۔۔ ” آمنہ نے آہستگی سے ڈرتے ڈرتے کہا اور پھر گڑبڑا کر ردعمل جانچنے کے لیے اس کے چہرے پر نگاہ اٹھائی ۔

جیسا سوچا تھا ویسا ہی تھا ۔ جوی حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی خاموشی آمنہ کو مزید بولنے پر اکسا گئ ۔

” نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ” بڑے اعتماد سے کہا

” میں مسلمان نہیں ہوں آمنہ ” حیرت میں ڈوبی آواز تھی۔

” تو ہو جاؤ ” وہ پرسکون لہجے میں کہہ گئی ۔ بنا کسی خوف کے

منظر کھونے لگا ۔ دل کی گھٹن اب آنکھوں میں دھواں بھرنے لگی ۔ آنکھ کی پتلیوں میں خوف تھا ۔ اور پھر زبان منہ کے اندر ورد کرنے لگی ۔

” اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ جسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اس کی ملکیت میں زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟ وہ جانتا ہے جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے

مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے ۔ اور وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے۔ اور نہ اکتاتا ہے۔ وہ تو بہت بلند وبالا اور بڑی عظمت والا ہے”

اس کی زبان کتنی تیزی اور روانی سے یہ پڑھ رہی تھی اور اس کا دماغ ایک لفظ نہیں بھولا تھا ۔

” یہ آیت الکرسی ہے ۔ ہم ہر دعا میں اسے پڑھتے ہیں, ہر مشکل میں , ہر پریشانی میں یہ پڑھتے ہیں ” آمنہ کی آواز ذہن کے پردوں پر گونج رہی تھی ۔

دل ڈوب رہا تھا اور نہیں جانتی تھی اس لمحے وہ اللہ کی طرف کیوں پلٹی تھی ۔ شائد وہ نہیں خوف سے بھرا دل پلٹا تھا ۔ ایک بار پھر ۔۔۔۔۔۔

اسے ایک کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا تھا ۔

☆☆☆☆☆

سنانا کو یونہی گال پر ہاتھ رکھے حیرت زدہ چھوڑ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی فلیٹ کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھی ۔ سنانا کی بات پر تو جیسے دھڑکنیں بند ہونے کو تھیں ۔ مگر کیوں ؟ یہ سب شائد اس کو بہت سوچنے کا نتیجہ تھا ۔ اس کو کھوجنے کا نتیجہ تھا ۔ یا سچ میں وہ اس سے محبت کرنے جیسا گناہ کر بیٹھی تھی ۔

” نہیں یہ محبت نہیں ہے ” دروازے کے ہینڈل کو مضبوطی سے تھاما ۔ گھمایا دروازہ کھل چکا تھا ۔

” اگر یہ محبت ہوئی تو ؟ ” خودساختہ سوال جو ڈرتے ہوئے دل دماغ سے کر رہا تھا ۔

فلیٹ کا دروازہ ہاتھ کو جھٹکا دے کر زور سے بند کیا ۔

” نہیں محبت نہیں صرف تجسس ہے مجھے ” جھوٹی تسلی دی ۔ پیچھے مڑ کر بند دروازے کی طرف دیکھا سنانا اس کے پیچھے نہیں آئی تھی ۔ رخ موڑا آگے بڑھی ۔

وہ تیز تنفس کے ساتھ سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھی ۔ اسے انو سے ملنا تھا اور اس کے اوپر آنے سے پہلے ملنا تھا ۔ وہ دیکھ چکی تھی وہ پارک سے واپسی کے لیے نکل چکا ہے ۔ کندھے پر دوپٹے کو درست کرتی وہ جتنا تیز ہو سکتا تھا نیچے اتر رہی تھی ۔

اچانک پاؤں تھمے ۔ انو سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر آ رہا تھا ۔ سیاہ ٹرایوزر , خاکی ٹی شرٹ وہ سر جھکائے اوپر چڑھ رہا تھا اور اب اسے دیکھ کر تو مزید سر جھکا گیا تھا ۔ وہ ان کی عمارت کے شریف لڑکوں میں شمار ہوتا تھا ۔ جو کبھی بلاوجہ لڑکیوں کو نہیں دیکھتے تھے ۔

انو کو اوپر آتا دیکھ کر وہ وہیں رک گئی ۔ ہمت جمع کی ۔ اس سے بات کرنے کی ہمت ۔ اور پھر اس سے پہلے کہ وہ لاپرواہی سے پاس سے گزر کر اوپر چڑھتا ۔ وہ پلٹی ۔

” رکیں انو مجھے آپ سے بات کرنی ہے “

ایک ہی سانس میں تیزی سے وہ پورا فقرہ کہہ چکی تھی ۔ انل جس کے لیے یہ بلکل غیر متوقع تھا حیرت سے بمشکل ریلنگ کو تھامے اپنے قدم روک سکا ۔

” مجھ سے؟ ” حیرت سے اردگرد دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ مبادہ وہ کسی اور کی بات کر رہی ہو ۔ لیکن اس نے اُسی کا نام پکارا تھا ۔ اسے بلڈنگ میں سب اسے انو کے نام سے جانتے تھے ۔

” جی آپ سے ” جوی نے تھوک نگلا احتیاطً سیڑھیوں کے اوپر اور نیچے کسی کی موجودگی کو جانچا ۔

” آپ۔پ۔پ۔پ جووت کی بہن ہیں نہ ؟ فکر نہ کریں۔ وہ آ رہا ہے بس نیچے ۔۔۔”

باقاعدہ کبھی بات نہ ہونے کے باوجود وہ اتنا تو جانتا تھا وہ جووت کی بہن ہے ۔ البتہ نام ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود یاد نہیں آ رہا تھا ۔

” مجھے کچھ اور بات کرنی ہے ۔۔مطلب کچھ پوچھنا ہے آپ سے ” سانس اندر انڈیلتی وہ کچھ اعتماد سے اس کی بات کاٹ چکی تھی ۔ ہاتھ ریلنگ پر سے اٹھایا ۔

انل جو یہ سمجھا تھا کہ وہ شائد اپنے بھائی کے متعلق پوچھ رہی ہے ۔ اس کی اگلی بات پر پھر سے متحیر ہوا ۔

ایک ۔ دو ۔ تین سکینڈ

” کہیے۔۔۔ مطلب پوچھیے ۔۔” گڑبڑا کر پیشانی پر ناسمجھی کے شکن نمودار کرتا متوجہ ہوا ۔

سامنے کھڑی لڑکی پرسرار لگ رہی تھی ۔ پریشان , الجھی ہوی , مجبور ۔۔۔

” یہاں نہیں ۔۔۔”

جوی نے فورا اردگرد دیکھتے ہوئے مضطر لہجے میں کہا

” جی۔ی۔ی۔!!!!! کیا مطلب ؟” وہ گڑبڑا گیا ۔ ایسا کیا کہنا چاہتی تھی وہ

” غلط مت سمجھیں پلیز ۔۔” فوراً ہاتھ اٹھائے صفائی دی

” کیا آپ اوپر چھت پر آ سکتے ہیں ابھی ” التجائی لہجے میں گزارش کی

انل نے پرتجسس دیکھا ۔ ذہن پوری رفتار سے ماضی کی ریل گھما رہا تھا ۔ نہیں کبھی نہیں اس سے پہلے تو ان کے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ کوئی بات نہیں ہوئی۔

” دیکھیں آپ غلط مت سمجھیں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے پلیز” پپڑی زدہ لبوں کی جلد کو دانت سے کھینچتے ہوئے التجا کی

چند سکینڈ کی خاموشی رہی ۔

” چلیے میں آ رہا ہوں ” انل نے سراسیمگی کی حالت میں ہاتھ کے اشارے سے اسے آگے بڑھنے کا کہا ۔

اس کا ایسے کہنا ہی تھا ۔ جوی تیزی سے پلٹ کر زینے چڑھنے لگی جبکہ وہ حیرت زدہ بار بار اس کی پشت کو متعجب گھورتا متوازن رفتار میں اس کی تقلید کر رہا تھا ۔ اوپر پہنچا تو وہ چھت کے دروازے کے پاس کھڑی تھی ۔ پژمردہ , پریشان حال , بیمار چہرہ ۔

” کہیے ؟ “

پرتجسس لہجے میں کہتے ہوئے وہ اب بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا ۔ وہ شائد ہمت جمع کر رہی تھی یا لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی ۔لیکن یہ خاموشی چند سکینڈ پر ہی محیط رہ سکی ۔

” دران کہاں ہے ؟”

آہستگی سے سر اوپر اٹھائے وہ اس سے بلکل غیر متوقع سوال کر رہی تھی ۔ آواز زکام زدہ تھی۔ آنکھیں سوزش زدہ رتجگوں کی غمازی تھیں ۔ سامنے کھڑے انل کے لیے حیرت کا ایک اور دھچکا تھا ۔

” جی!!!!!!! “

” آپ کا دوست دران اس کا پوچھ رہی ہوں۔ یہی نام ہے نہ ؟ وہ پارک میں سامنے بنچ پر۔۔۔”

جھجکتے ہوئے وہ اسے دران کے بارے میں وضاحت دینے لگی ۔ انل نے ہاتھ اٹھائے اس کی بات کو کاٹ دیا ۔

” ہاں یہی نام ہے مگر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں اس کا ؟ آپ کیسے جانتی ہیں دران کو ؟ “

جواب دینے کے بجائے وہ پرتجسس لہجے میں الٹا اس سے سوال کر رہا تھا ۔

” میں نہیں جانتی اسے “

چہرے کا رخ سامنے دیوار کی طرف کیا ۔ وہ وہاں کھڑا تھا کودنے کے لیے ۔ دل پر جیسے بوجھ بڑھنے لگا ۔ چھت پر چلتی ہوا سے گھنگرالے بال دھیرے دھیرے ہل رہے تھے ۔ انل حیرت زدہ اسے دیکھ رہا تھا ۔

” تو آپ کیوں پوچھ رہی ہیں اس کے بارے میں ؟ “

وہ گردن گھما کر اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔

” دیکھیں یہ مت سوچیں کہ میں کیوں پوچھ رہی ہوں اس کے بارے میں ۔ مجھے بس یہ بتا دیں پلیز وہ کہاں ہے ؟ اب آتا کیوں نہیں یہاں ؟ “

بے چینی سے پوچھا ۔ اس کی دید کی پیاسی نشے میں چور لگ رہی تھی وہ ۔ انل کی بھنویں اکھٹی ہو چکی تھیں ۔ حیرت اور تجسس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ گہری سانس باہر انڈیلتا وہ ٹرائیوزر کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے گویا ہوا ۔ لہجہ پریشان تھا ۔

” نہیں پتا کہاں ہے “

جوی نے تڑپ کر بے یقینی سے دیکھا ۔ نا جانے کیوں پر اس کے جواب پر غصہ آ گیا ۔

” کیوں آپکا دوست ہے ۔ آپکو کیوں نہیں پتا ؟ جووت بتا رہا تھا سکول میں آپ کے ساتھ پڑھتا تھا ۔ اس کے گھر کا پتہ اس کا فون نمبر عجیب دوست ہیں آپ “

غصیلے لہجے میں وہ تیز تیز اس پر یوں برس پڑی جیسے وہ دران کو برسوں سے جانتی ہو ۔ انو کا جواب اس کی توقع کے بلکل برعکس تھا ۔ وہ جو اس کے زندہ ہونے کی خبر سننے کے لیے جسم کے ہر خلیے کو چوکنا کر چکی تھی اس کی خبر نا ملنے پر مایوسی برداشت نا کر سکی ۔

” وہ گھر سے بھاگ گیا ہے “

انل کی بات پر ایک دم سے اس کی چلتی زبان تھمی ۔ اب حیرت کا شدید جھٹکا اس کو لگا تھا ۔ انل بول رہا تھا اور وہ دم سادھے سن رہی تھی ۔

” وہ پچھلے دو ماہ سے لا پتہ ہے ۔ “

وہ لب بھینچے جیسے کچھ ضبط کر رہا تھا , بلاوجہ چھت پر نگاہ گھمائی یوں جیسے کوئی آنکھوں میں امڈ آنے والے پانی کو چھپا رہا ہو ۔

” لا پتہ!!!!! ت۔۔۔تلاش نہیں کیا اس کو کسی نے ؟ ۔۔ اُس کے پرینٹس ۔۔” فکرمندی سے کہا

” پرینٹس نہیں ہیں اس کے ۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔ وہ اپنے رشتہ دراوں کے پاس رہتا تھا ۔ وہاں سے بھاگ گیا کہاں ؟ کیوں ؟ کسی کو نہیں پتہ ؟ مجھے بھی نہیں ۔ ” آواز بھاری ہوئی تھی

سر جھکائے وہ اب زمین پر ٹوٹی ہوئی سمینٹ کی اینٹوں کو دیکھ رہا تھا ۔ خاموشی میں صرف دور کہیں مغرب کی آذان سنائی دے رہی تھی ۔ اندھیرا چھانے کو تھا ۔

” آپ کیوں پوچھ رہی ہیں اس کا؟”

سر اوپر اٹھائے سوال کیا ۔ آنکھیں متجسس تھیں ۔ وہ مجسم کھڑی تھی ۔ حیرت زدہ , جیسے کسی کا کچھ کھو جائے

” ایکسیوزمی آپ سے پوچھ رہا ہوں ؟ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں دران کا ؟ “

اس کے یوں گم صم کھڑے رہنے پر انل نے آواز کو ذرا اونچا رکھتے ہوئے سوال کو دہرایا ۔ وہ ہلکا سا سٹپٹائی ,

” ہاں ۔۔ں۔ں۔ ” سر اٹھائے خالی آنکھوں سے انل کو دیکھا

” میں پوچھ رہا ہوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں دران کا اور کیسے جانتی ہیں اس کو ؟ “

وہ تیسری بار سوال دہرا رہا تھا ۔ پیشانی پر بل اس کی تفتیش ناک حالت کے باعث بڑھ رہے تھے ۔

” نہیں جانتی ؟ ” مدھم آواز تھی جو بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی

” تو پوچھ کیوں رہی ہیں اس کے بارے میں ؟ “

” نہیں جانتی “

ٹرانس کی حالت میں وہ کندھے گرائے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھا چکی تھی ۔ انل نے حیرت سے گردن کو آگے پیچھا کیا ۔

” نہیں جانتی!!!!! ” زیر لب اس کے جواب کو دہرایا ۔ پھر سے سیڑھیوں کی طرف دیکھا وہ جا چکی تھی ۔

☆☆☆☆

گہرے سکوت میں ٹک۔۔۔۔ ٹک۔۔۔۔ کی آواز کا خلل متواتر گونج رہا تھا ۔ وقت سرک رہا تھا واپس نا پلٹنے کے لیے ۔ ہلکے پیچ رنگ کی پینٹ زدہ دیوار پر لٹکتی سفید رنگ کی گھڑیال نما گھڑی کی سوئیاں تین بج کر دس منٹ بجا رہی تھیں۔

دران کمرے کے وسط میں کھڑا تھا ۔ اوپری کوٹ اب تن پر موجود نہیں تھا ۔ وہ کچھ دوری پر موجود بیڈ کے کنارے پر پڑا تھا ۔ انل کو نیند کی گولیاں کھلانے کے بعد وہ اسے اس کے حال پر چھوڑتا ابھی چند منٹ پہلے اپنے کمرے میں پہنچا تھا۔ جو ہاروی پروڈکشن نے اس کے لیے ایک خوبصورت جال کی طرح تیار کیا تھا ۔

کورٹ اتار کر رکھنے کے بعد وہ شرٹ کی آستین کو اوپری رخ موڑتے ہوئے آبرؤ اچکائے مسلسل کمرے کا تنقیدی جائزہ لے رہا تھا ۔

پورا کمرہ ہلکے پیچ اور سفید رنگ کے امتزاج لیے ہوا تھا ۔ پیچ پردے , پیچ بیڈ کراؤن , سفید فرنیچر , پیچ قالین , پیچ پوشش کا صوفہ کمرے کی ایک دیوار پیچ رنگ کی اور باقی سب دیواروں پر سفید رنگ کا پینٹ تھا ۔ بیڈ کے بلکل سامنے پوری دیوار میں فلیٹ پینل ٹی وی سکرین نصب تھی جس کے نیچے سفید میز تھا ۔ کمرے کی ہر چیز نفیس تھی ۔ سجاوٹی گلدان میں سجے سفید اور پیچ رنگ کے پھولوں سے لے کر چھت پر لگے فانوس تک ۔ کن اکھیوں سے اردگرد دیکھتے ہوئے ٹی سکرین پر نگاہ پڑتے ہی اس کے ہاتھ لمحہ بھر کو تھمے ۔

” کیمرہ پورے بیڈ کو کور کرے گا ” ذہن میں بروس کی آواز گونجی

وہ بے اختیار سکرین کی طرف بڑھا ۔ دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز پر قدم تھمے ۔ آنکھیں پوری کھولے نگاہ سکرین سے ہٹا کر دروازے کی طرف جمائی ۔ ناک کے نتھنے ہلکے سے پھولے اور رگیں تن گئیں ۔

چند سکینڈ یونہی دروازے کی طرف دیکھتے رہنے کے بعد وہ دوسری دفعہ ہونے والی دستک پر قدم اس طرف بڑھا چکا تھا ۔

” کون “

آنکھ کو آہستگی سے دروازے کے آؤٹ ویو ہول پر ٹکائے, ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں اور دوسرے ہاتھ کو ہینڈل پر جمائے شائستگی سے پوچھا ۔

باہر کوئی انجان چینی شخص کھڑا تھا ۔ سر پر اون کی سرخ ٹوپی , سیاہ لیدر جیکٹ , گلے میں چین , آنکھ کے قریب آبرؤ میں بالی ۔

” ہاروی پروڈکشن سروس سر ” لڑکے نے پر اعتماد لہجے میں مسکراتے ہوئے جواب دیا

دران نے لاک گھمایا اور دروازہ کھول دیا ۔ سامنے کھڑا لڑکا مؤدبانہ ہاتھ سامنے باندھےہوئے تھا ۔ لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔ منہ چیونگم چبانے کے باعث ہل رہا تھا ۔ آنکھوں میں شیریر سی چمک تھی ۔

” کیسی سروس ؟ ” دران نے نا سمجھی ظاہر کی

” سر رات کو کیسی سروس ہو گی ” لڑکے نے شرارت سے جینز کی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پنجوں پر سارا وزن ڈالتے گردن تھوڑی آگے کی ۔ آنکھوں میں کمینگی تھی ۔

دران نے ایک آبرؤ اچکائے بمشکل سامنے کھڑے اس لڑکے کے اس حرکت پر اس کے ایک زور دار تھپڑ جڑنے سے خود کو روکا جو اب تک چہرہ گدی سے تھوڑا آگے کیے کھڑا تھا ۔

” سر بھیج دیں پھر آپکے کمرے میں ؟” لڑکے نے بڑے وثوق سے پوچھا

دران نے لمحہ بھر کو اس کے چہرے کو غور سے دیکھا ۔ وہ ہوٹل کا یا ہاروی پروڈکشن کا ملازم نہیں تھا ۔ وہ کچھ اور ہی تھا ۔

” ہوں ” دران نے بے ساختہ ہلکا سا ہنکارا بھر کر حامی بھری

جبڑے سختی سے پیوست کیے تیزی سے پلٹا, ایک دم رکا

” اسے تو انکار کرنا تھا ۔ عین وقت پر وہ ہوں کہہ کر کیوں آگے بڑھا ۔”

کچھ قدم اس کے تعاقب میں کمرے میں داخل ہو چکے تھے ۔ وہ یونہی پیٹھ موڑے کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو چکا تھا ۔ برداشت جواب دے رہی تھی ۔ مگر دماغ سہی وقت کا اشارہ نہیں دے رہا تھا ۔ اپنے عقب میں قدموں کی چاپ سنائی دی اور پھر کان کے پاس سرگوشی ہوئی ۔

” سر شی از ہئیر فار یو ” خماری میں ڈوبا شرارتی لہجہ تھا ۔

شراب کی ناگوار بو ناک کے نتھنوں میں گھسی تھی ۔

دران نے ناگواری سے ناک بھینچا , ہاتھ اوپر اٹھایا اور انگلیوں کی ہلکی سی جنبش سے انہیں جانے کا اشارہ کیا ۔ لڑکے نے پوری بتیسی نکالی, سر ہلایا , چیونگم چبائی , پیچھے ہوا , پلٹا ۔ دوسرا لڑکا جوی کو تھامے کھڑا تھا جو تڑپ رہی تھی ۔ جس لڑکے نے تھام رکھا تھا اس نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اس کے منہ پر سے ٹیپ وہ کچھ دیر پہلے اتار چکے تھے ۔ جبکہ ہاتھ اب بھی پیچھے کمر پر بندھے تھے ۔

لڑکے نے دوسرے لڑکے کو ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا ۔ جوی کو تھامے ہوئے لڑکے نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اور تیز تیز ڈگ بھرتے دونوں دروازے سے باہر نکل گئے ۔

دروازہ بند ہونے کی آواز کے بعد جوی نے خوفزدہ نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کی طرف دیکھا جو پیٹھ موڑے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے کھڑکی کے شیشے کے پار دیکھ رہا تھا۔

وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اس تک پہنچی اور اس کے قدموں میں گھٹنوں کے بل ڈھے گئی ۔

” پلیز ۔۔۔ پلیز ۔۔ مجھ پر رحم کرو مجھے یہاں سے جانے دو ” سر جھکائے وہ ٹوٹی پھوٹی انگلش زبان میں بلک اٹھی

جانتی تھی یہ بھی ان جیسا ہی کوئی ہو گا لیکن پھر بھی ہر کسی سی فریاد کرتے ہوئے یوں لگتا شائد کسی میں انسانیت جاگ جائے ۔ شائد کہ کوئی ایسا ہو جسے رحم آ جائے ۔

دران ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ لڑکی کمرے میں کیوں بلوا چکا ہے جبکہ اسے وہیں دروازے پر انکار کر کے بات کو ختم کرنا تھا ۔ اچانک اس کے قدموں میں کسی کے گرنے جیسا احساس ہوا وہ چونکا اور سرعت سے پلٹا ۔

لڑکی اس کے پیروں میں گھٹنوں کے بل سر نیچے اس کے پاؤں کے پاس زمین پر رکھے بلک رہی تھی ۔ وہ اس غیر متوقع حالت پر گڑبڑا گیا ۔

” مجھے یہ لوگ زبردستی یہاں لائے ہیں ۔ مجھے جانے دو پلیز میری مدد کرو , پلیز ۔ز۔ز۔ز ہ۔ہ۔ہ ” وہ روتے ہوئے بھاری آواز میں گردن کو جھکائے سر زمین پر ٹکائے دائیں بائیں گھمائے رو رہی تھی ۔ گڑ گڑا رہی تھی , مدد طلب کر رہی تھی ۔ اس کی باتوں پر دران کے کان اور رونگٹے ایک ساتھ کھڑے ہوئے ۔

چند سکینڈ تو اسے یہ سب سمجھنے میں لگے اور پھر اس بلکتی لڑکی کی بے بسی اور باتوں پر غور کرتا وہ ایک جھٹکے سے اس کے مقابل بیٹھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *