Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 21)
Rate this Novel
Basil (Episode 21)
Basil by Huma Waqas
درانگ ولاس کے لاؤنج میں رکھے صوفوں پر سیاہ سوٹ بوٹڈ انل مضطرب چہرے کے ساتھ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ سامنے صوفے پر خم دار بھنویں اٹھائے روبی کے برابر میں شکن آلودہ پیشانی لیے بیٹھے اسفند ملک کے کسی سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔
وہ دران کے انتظار میں لاؤنج میں بیٹھا تھا جب اسفند ملک, روبی اور برھان نے لاؤنج میں داخل ہوئے ۔ آج وہ تین دن بعد درانگ ولاس آیا تھا ۔ پچھلے تین دن وہ درانگ ولاس اور دران کے لیے سکیورٹی اور دیگر انتظامات میں مصروف رہا تھا ۔ آج دران کے پیغام پر وہ یہاں آیا تھا کیونکہ دران کے مطابق اسے بھی سکیورٹی کی اتنی ہی ضرورت تھی جتنی جوی اور دران کو اب سے یہیں رہنا تھا ۔
” آپ سب بلاوجہ پریشان ہو رہے ہیں ۔ میں تو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس خبر کو سچ مانتا ہوں کہ دران نے پہلی وائرل ویڈیو سے صرف اپنا امیج سیف کرنے کو وہ سب گھڑا تھا ۔ اسے نہ تو اس لڑکی سے پیار ہے اور نہ اس سے کبھی شادی کرے گا ۔ کچھ دن یہاں رکھے گا عیش کرے گا پھر چھوڑ دے گا ۔ “
استہزائیہ لہجے میں کہتے ہوئے برھان نے کندھے اچکائے ۔ بروس اور ہاروی نے سوشل میڈیا پر ایک نامعلوم فرد کے ذریعے یہ افواہ اڑا دی تھی کہ دران نے اس لڑکی کو پرپوز کرنے کا صرف ڈرامہ کیا ہے ۔
” برھان ٹھیک کہہ رہا ہے ایسا ہی ہے ۔ آج تین دن ہو گئے ہیں ۔ نہ کوئی ہوں نہ ہاں ۔ اس لڑکی کو یہاں لا کر تو جیسے وہ بھول ہی گیا ہے ۔ “
روبی نے فوراً برھان کی بات کی تائید کی ۔ اسفند ملک نے سانس باہر انڈیلی ۔ وہ جو اس دن سے اس عجیب و غریب محبت کو لے کر تجسس اور فکر میں مبتلا تھے اب کچھ تسلی ہوئی ۔
” اگر ایسا کچھ ہے تو کوئی بات نہیں بچہ ہے ۔ سمجھ جائے گا ۔ کیوں انل ایسا ہی ہے نہ ؟ “
اسفند ملک کے چہرے پر چھائی ۔ پریشانی پل بھر میں ہوا ہوئی ۔ انل نے سر اوپر اٹھایا ۔ اب وہ کیا جواب دیتا ۔ تذبذب حالت میں پہلو بدلا ۔
” نہیں ایسا بالکل نہیں ۔ آپ لوگوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ نیکسٹ ویک میں اس لڑکی سے شادی کر رہا ہوں ۔ “
دران کی آواز پر سب کی گردنیں ایک ساتھ مڑیں ۔ سیاہ اور سفید چیک دار پینٹ کوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار ہوا وہ کب لاؤنج میں داخل ہوا ان لوگوں کو خبر ہی نہ ہوئی ۔ برھان کی بات اس کے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح برسی ۔ ضبط سے مٹھیاں بھینچے آگے بڑھا ۔
” انل چلیں ۔ “
ہونق بنے بیٹھے انل کے پاس آ کر اسے ہاتھ سے جانے کے لیے اشارہ کیا ۔ انل نے سٹپٹا کر ٹائی درست کی ۔ کھڑا ہوا اور اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔ اس کی تو جیسے جان میں جان آئی ۔
اسفند ملک ہمیشہ سے دران کے بجائے ساری معلومات اس سے نکلوانے کی کوشش کرتے تھے ۔ پیچھے لاؤنج میں رہ جانے والے باقی تینوں نفوس اب بس خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔
” اندر جو کہا وہ سچ ہے مطلب ۔۔”
انل نے قدم سے قدم ملاتے ہوئے پوچھا کیونکہ دران کے واقعی شادی کرنے کے بارے میں ابھی تک وہ بھی تذبذب کا شکار تھا ۔
” یہ جو ہو رہا ہے ۔ یہ سب ہو گا۔ جانتا تھا میں ۔ اسی لیے اس لڑکی کو یہاں لایا ہوں اور اگر یہاں لایا ہوں تو کوئی مقصد تو ہوگا ۔ مقصد سے پیچھے ہٹنا سیکھا نہیں میں نے “
اعتماد سے کہا ۔ سیاہ چشمہ آنکھوں پر ٹکایا ۔ ملازم سر جھکائے گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا ۔ سکیورٹی گارڈ فوراً گاڑی کی اگلی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا جبکہ انل دران کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھا ۔ گاڑی آہستگی سے کھلتے گیٹ کی طرف بڑھنے لگی ۔
☆☆☆☆
سورج کی سنہری مگر ٹھنڈی کرنیں سمندر کے نیلے شفاف پانی کو چھو رہی تھیں ۔ امریکہ کے جنوب میں واقع یہ دلکش سمندر اس وقت معمول کی چہل پہل لئے ہوئے تھا ۔ جہاں بہت سے لوگ ساحل پر سورج کی حدت سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہاں ایک طرف گہرے سمندر میں ساحل کی طرف آتی سفید پاور موٹر بوٹ پوری رفتار سے پانی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ۔ سمندر کا پانی موٹر بوٹ کے پہیوں سنگ گھومتا ہوا اچھل اچھل کر اوپر بیٹھے نفس کو بھگو رہا تھا ۔
دران سرخ رنگ کی بنا آستین کی جیکٹ کے نیچے جینز زیب تن کئے اپنی تمام طر رعنائیوں سمیت بوٹ پر براجمان تھا ۔ مضبوط کسرتی بازؤں کی رگیں بوٹ کے ہینڈل کو مضبوطی سے تھامنے کے باعث تنی اور ابھری ہوئی تھیں ۔ آنکھوں پر لگا سیاہ چشمہ اور بھیگے ماتھے پر گرتے سنہری بال , چہرہ سختی کے آثار لیے ہوئے تھا ۔ وہ اپنے پیچھے موجود دو بوٹ کو پوری رفتار کے ساتھ بوٹ بھاگتے ہوئے پیچھے چھوڑ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں بوٹ پر موجود نفوس کی طرف سے ہونے والی لگاتار گولیوں کی بوچھاڑ سے خود کو بچا رہا تھا ۔ وہ بڑی رائفیل کے ساتھ دران پر مسلسل گولیاں چلا رہے تھے جن سے بچنے کے لیے وہ بوٹ کے ہینڈل کو کبھی دائیں اور کبھی بائیں گھما رہا تھا ۔ یہ سارا منظر ساحل سمندر پر لگے ہاروی پروڈکشن کے جدید کیمروں میں قید ہو رہا تھا ۔ ہاروی پروڈکشن ٹیم اس منظر کو فلما رہی تھی ۔
” کٹ ۔ شارٹ بریک ۔ ویلڈن درانگ ۔ “
بروس نے ہوا میں بازو اٹھایا اور پھر انگوٹھے کے نشان سے ریکارڈنگ کو روک دیا ۔ امریکہ میں فلم کی بقیہ شوٹنگ تیسرے دن سے ہی شروع ہو چکی تھی ۔ آج ایک چھ دن بعد فلمایا جانے والا یہ پہلا منظر تھا جس کا دورانیہ بیس منٹ تین سکینڈ رہنے کے بعد بروس نے ٹیک لے لیا تھا ۔ دران کی بوٹ اب ساحل کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ جیسے ہی وہ پاور بوٹ ساحل پر روک کر نیچے اترا ۔ ہاتھ میں ٹاول , پانی اور اس کا موبائل فون تھامے لڑکا تقریباً بھاگتا ہوا دران تک پہنچا ۔
” سر انل سر بہت بار فون کر چکے ہیں ۔ کہہ رہے ہیں کوئی ضروری بات ہے “
پھولی سانس کے ساتھ لڑکا اسے انل کے بار بار فون آنے کی اطلاع دے رہا تھا۔ دران اب اپنی کیبن کار کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ انل کو وہ آج جوی کی ضروری چیزوں کی شاپنگ کا کام سونپ کر آیا تھا ۔ جوی کو ابھی وہ درانگ ولاس سے ایک پل کے لیے باہر نکلنے نہیں دے سکتا تھا ۔ وہ اس کے لیے سکیورٹی کا بھی تگڑا انتظام کروا چکا تھا ۔ یہی وجہ تھی اس نے کل رات جوی کو اس کے تمام ضروری سامان کی ایک لسٹ تیار کرنے کے لیے کہا تھا ۔
دران کے متوجہ ہوتے ہی لڑکے نے فون دران کی طرف بڑھایا۔ دران کے ہاتھ میں آتے ہی موبائل فون کی گھنٹی پھر سے بج اٹھی ۔ موبائل سکرین پر انل کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔ اپنی کیبن کار کے قریب لگی کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے فون کو کان سے لگایا ۔ سیاہ چشمہ اب سر پر ٹکا تھا ۔
” ہیلو ہوں بولو کیا ضروری بات ہے ۔ “
فون اٹھاتے ہی سرعت سے پوچھا ۔ لڑکا پانی کی بوتل کھول کر دینے کے بعد اب ٹاول سے دران کے بال خشک کرنے لگا تھا ۔
” ضروی نہیں عجیب بات ہے ! “
انل کی الجھی سی آواز ابھری ۔ دران اب چہرہ اوپر اٹھائے پانی کی بوتل منہ کو لگائے ہوئے تھا ۔
” مطلب کیا عجیب ہے ؟”
کچھ گھونٹ حلق میں انڈیلنے کے بعد پانی کی بوتل کو لبوں سے ہٹائے متوازن لہجے میں پوچھا ۔
” جوی نے اپنی ضرورت کی چیزوں کے لیے جو لسٹ دی تھی اس میں ایک عجیب بات ہے “
” بتاؤ گے تو ہی پتا چلے گا کیا عجیب بات ہے۔ “
دران نے ہاتھ کے اشارے سے لڑکے کو جانے کا کہا جو اب اس کے کندھے اور بازؤ خشک کر رہا تھا ۔ لڑکا اس کے روکنے پر کندھے پر ٹاول ڈالے ایک طرف ہو گیا ۔ انل کے حیرت زدہ لہجے نے اسے بھی تشویش میں مبتلا کر دیا تھا ۔ آخر کو ایسی بھی کیا عجیب بات تھی ۔
” جوی نے اپنے ضروری سامان کی لسٹ میں قرآن پاک اور جائے نماز منگوایا ہے “
انل کی بات پر دران کے منہ کی طرف پانی کی بوتل لے جاتے ہوا ہاتھ تھم گیا ۔ پیشانی پر حیرانگی کے شکن ابھرے لیکن اگلے ہی پل معدوم ہوئے ۔
” غور سے دیکھ قرآن نہیں بائبل ہو گی۔ “
” دران میں پڑھا لکھا ہوں ۔ صاف صاف لکھا ہے ٹرانسلیٹ اور تفسیر قرآن پاک اور ایک عدد جائے نماز۔ “
انل اب کی بار اور الجھ کر اپنے ہر لفظ پر زور دے رہا تھا ۔ دران کی بھنویں کشادہ پیشانی پر پھر سے سمٹ گئیں ۔
” وہ تو کریسیچن۔۔۔ “
” ایگزیکٹلی یہی تو میں کہہ رہا ہوں وہ تو کریسچن ہے پھر یہ قرآن پاک اور جائے نماز ! ہے نہ کچھ عجیب ؟ “
انل نے برجستہ اس کی بات کی تائید کی اور تشویش کو ہوا دی ۔
” عجیب تو ہے ۔ وہ بھلا قرآن پاک اور جائے نماز کیوں منگوائے گی ؟ “
دران نے پانی کی خالی بوتل پرسوچ انداز میں ایک طرف رکھی میز پر کھڑی کی ۔ چشمے کو بالوں سے اتار کر پانی کی بوتل کے ساتھ رکھا ۔
” میں یہ سوچ رہا تھا کہ شائد اس کو لے کر تمھارا جو ڈر ہے ۔ وہ کہیں تمھارے لیے ۔ ۔۔”
انل اپنی بات مکمل کئے بنا خاموش ہو گیا ۔ دران کی پیشانی پر حیرت زدہ شکن اب غصے کے شکن میں تبدیل ہو رہے تھے ۔
درانگ ولاس میں تو اس دن کے بعد جوی سے اس کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ لسٹ کا پیغام بھی اس نے کل رات روزین کے ہاتھ بھجوایا تھا لیکن ہاں وہ جوی کے ذہن میں پلتے عجیب خیالات کو باخوبی محسوس کرتا تھا ۔ اس نے ان تمام خیالات کا ذکر انل سے بھی کیا تھا ۔ جوی اس سے نا صرف بری طرح متاثر ہو چکی تھی بلکہ وہ اپنے دل و دماغ میں اسے اپنی زندگی کے سب سے اہم شخص مان بیٹھی تھی ۔
” سر اگلے ٹیک کے لیے آ جائیں “
پاس سے آتی آواز پر وہ خیالوں سے باہر نکل کر چونکا ۔ لڑکا ہاتھ باندھے کھڑا اسے اگلے ٹیک کے لیے بلا رہا تھا ۔
” سر سے بولو باقی کل مجھے گھر جانا ہے ۔ “
چشمہ آنکھوں پر ٹکانے کے بعد ایک جھٹکے سے کرسی پر سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اب کار کی طرف جا رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
” بے شک اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ۔ میں بہت بہت خوش ہوں آج ۔ تم جوی سے جویریہ بن گئی ہو ۔ “
آمنہ اس کے گلے لگی جذب سے بول رہی تھی ۔ اس کی آواز خوشی سے کانپ رہی تھی ۔ سفید سوٹ میں سر پر دوپٹہ اوڑھے وہ جوی سے جویرہ بنی اس وقت آمنہ کے گھر کے مہمان خانے میں موجود تھی ۔
کلمہ پڑھتے ہی جیسے دل روشن ہوا تھا اور روح میں سکون اتر گیا تھا ۔ اس دن آمنہ کے سوال پوچھنے کے بعد سے آج بیس دن تک وہ کانٹوں پر لوٹ رہی تھی ۔ آخر کار اس کا شعور اس کی عقل اور دل اللہ کے سچے دین کے أگے گھٹنے ٹیک گئے ۔ وہ تھک چکی تھی ۔ کوئی سمیٹ لے یہ چاہتی تھی اور اللہ سے بڑی کوئی ذات نہیں تھی ۔
بہت کوشش کے باوجود وہ چرچ میں اور بائبل میں وہ سکون حاصل نہیں کر سکی تھی جو اسے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر ملتا تھا ۔ بے شک اس نے یہ قدم دران کے لیے اٹھایا تھا لیکن آج اس کے ساتھ اللہ سے اور اس دین سے محبت بھی جڑ گئی تھی ۔ آمنہ کے ابا نے اس کے مذہب تبدیل کرنے کی ساری کاروائی مکمل کی تھی ۔
” تم خوش ہو نہ جویریہ ؟ “
آمنہ نے ایک دم اس سے الگ ہو کر سوال کیا ۔ اس نے آہستگی سے سر ہلا دیا ۔ بے آواز آنسو گال بھگو رہے تھے ۔
” ڈرنا مت ثابت قدم رہنا ہمیشہ “
آمنہ نے ٹھوڑی سے اس کا چہرہ پکڑ کر اوپر اٹھایا ۔
” شیطان بہت بہکائے گا ۔ روڑے اٹکائے گا ۔ مشکلات آئیں گی لیکن یقین جانو یہ اس کے آخری وار ہوں گے ۔ “
آمنہ بہت محبت سے اسے دین پر قائم رہنے اور بہادر رہنے کی تلقین کر رہی تھی ۔ بے شک وہ ایک باسل تھی ۔ جو ہر رشتے ہر چیز کو پس پشت ڈالے ہدایت کے رستے پر چل نکلی تھی ۔ گہری سانس لیے اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔
☆☆☆☆☆☆
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم
آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
گھڑی کی ٹک ٹک , کانچ سا خوبصورت پنجرہ , کشادہ گداز نرم بیڈ , بیڈ پر لیٹی وہ پوری آنکھیں کھول کر چھت کو گھور رہی تھی ۔ آہ چھت کو نہیں اس حسین پنجرے کے اوپری نوکیلے سرے کو گھور رہی تھی ۔ ہلکے گلابی رنگ کی گرم پوری گردن کو ڈھانپتی جرسی کے نیچے سفید جینز میں ملبوس , کھلے گھنگرالے بالوں کی ایک طرف مانگ نکالے وہ ٹیرس میں کھلتی کھلی کھڑکی سے آتی سرد ہوا سے بے نیاز خیالوں میں گم تھی ۔
پچھلے چھ دن سے وہ اس قید میں تھی ۔ رنگے برنگے کھانے , بیش قیمت لباس ہر سہولت موجود تھی ۔ مگر تنہائی اور یہ خاموشی قید نہیں تھی تو اور کیا تھی ۔ حسین قید کہا جائے تو غلط نہیں لیکن قید تو قید ہے ۔ یہاں وہ خود کو اس ماحول کا حصہ تسلیم نہیں کر پا رہی تھی ۔ روبی کا رویہ , دران کی پل پل بدلتی شخصیت , اس کمرے کا ہی ہو کر رہ جانا ۔ ٹیرس سے بیڈ اور بیڈ سے ٹیرس وہ تین دن میں عجیب اضطرابی کیفیت کا شکار ہو چکی تھی ۔ اس ہفتے دران نے شادی کا کہہ دیا تھا کس دن یہ ابھی تک اسے نہیں معلوم تھا ۔
اس نرم قیمیتی بیڈ اور ہر سہولت میں بھی دل نے سکون نا پا کر اس بات پر یقین کر لیا کہ سکون فقط اللہ کے ذکر میں ہے ۔ تب بھی جب آپ کے پاس کچھ نہ ہو اور تب بھی جب سب ہو ۔ اسے اللہ کی طرف واپس لوٹے تو بہت دن ہو چلے تھے لیکن درست طریقے سے اس کے روبرو اس کے سجدے میں گر کر توبہ کرنا ضروری تھا ۔ یہی وجہ تھی اس نے کل دران کے پیغام پر شکر ادا کیا ۔ اسے قرآن اور جائے نماز چاہیے تھا ۔ مطلب اسے سکون چاہیے تھا ۔
اسے لگا کہ دران مسلمان ہے تو گھر میں قرآن پاک ہو گا مگر روزین سے پتہ چلا کہ گھر میں قرآن پاک کیا جائے نماز بھی نہیں ہے ۔ ضرورت کی ہر چیز پہلے سے موجود تھی اس لیے اس نے لسٹ میں قرآن اور جائے نماز لکھ دیا تھا ۔
یونہی چت لیٹے وہ چھت پر نگاہ جمائے ہوئی تھی ۔ جب ہلکی سی دستک کے فوراً بعد دروازہ کھلا اور سرخ چہرے کے ساتھ دران دندناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا ۔ گرے ہڈی اور نیچے تنگ جینز پہنے وہ اسے غصے سے گھورتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔ جتنی دیر میں وہ حیرت زدہ اٹھ کر بیٹھی دران بیڈ کے پاس اس کے سر پر پہنچ چکا تھا ۔
” یہ کیا فضول حرکت ہے ؟ “
سپاٹ مگر غصے سے بھرا لہجہ تھا ۔ جویریہ نے حیرت سے چہرہ اوپر کئے اس کو دیکھا ۔ چہرہ بالکل لہجے سے میل کھا رہا تھا ۔
” کہ۔۔ کیا فضول حرکت ؟ “
سراسیمگی میں آہستگی سے پوچھتی ہوئی وہ کھڑی ہوئی تو اس کے وجود کے سامنے چھوئی موئی سا احساس ہوا ۔ حیرت اب بھی سیاہ آنکھوں میں جھلک رہی تھی ۔
” تم نے کل لسٹ میں کیا منگوایا ہے ؟ “
دانت پیستے ہوئے سوال کیا ۔ جویرہ ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ سات سال پہلے چھت کی ملاقات کے بعد وہ آج اس پر اسی انداز میں برہم ہو رہا تھا ۔ ایک دم سے لگا اتنے دن میں ان کے درمیان کچھ نہیں تھا ۔
” میری ضرورت کی چیزیں اور کیا ۔ “
معصومیت سے حیران آنکھوں کو اس پر گاڑے جواب دیا ۔ دران کی پیشانی پر پڑے بل اور گہرے ہوئے ۔
” دیکھو یہ سب جو میں کر رہا ہوں اور جو کرنے جا رہا ہوں۔ یہ صرف اور صرف ناٹک ہے کیونکہ اپنا امیج بچانے کے لیے میں پوری دنیا کے سامنے تمہیں پرپوز کر چکا ہوں ۔ اس کے لیے اب مجھے اس رشتے کو پوری دنیا کے سامنے ختم کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے ۔ دیٹس اٹ ۔ “
ہاتھ کو ہوا میں سیدھا تانے وہ اس پر رعب سے گرجا ۔ جویرہ نے نا سمجھی سے بھنویں اکٹھی کیں ۔ وہ کہنا کیا چاہ رہا تھا ۔ کس بات پر اتنا برہم تھا ۔
” تم مجھے لے کر کیا سوچتی ہو ۔ کیا چاہتی ہو مجھے اس سب میں اور تم میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ۔ اس لیے مجھے اور اس شادی کو لے کر اتنا سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ “
حقارت بھرا لہجہ ہی نہیں تھا اس کی آنکھوں میں بھی عجیب حقارت جیسے آثار تھے۔ جویریہ کو زمین میں گڑ جانے جیسے احساس نے آ گھیرا ۔ وہ جویرہ کے اتنے بڑے قدم سے گھبرا گیا تھا ۔ ایک ہی پل میں اسے سبرینا , رانیہ , رینا سب یاد آ گئی تھیں ۔
” میں نے کیا کیا ہے ؟ “
گھٹی سی آواز میں اپنا قصور پوچھا ۔ وہ واقعی الجھ گئی تھی آخر دران کو کس بات کا غصہ تھا جس پر وہ یوں جلی کٹی سنا رہا تھا ۔
” تم میرے لیے مذہب تبدیل کرنے جا رہی ہو ۔ یہ بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟ چند دن کے رشتے کو لے کر تم اتنا آگے کیوں بڑھ رہی ہو ؟ شادی میں کر رہا ہوں ۔ میں نے کب کہا تم سے کہ تم میرے لیے اور اس فیک شادی کے لیے مسلمان ہو جاؤ ؟ “
دران کے لہجے میں درشتی اور برہمی اس کی آنکھیں نم کر گئی ۔ وہ جو یہاں کھڑا اسے ایک عام سی لالچی لڑکی سمجھ رہا تھا جو شائد اس کی دولت کو دیکھ کر ایک ناٹک کو سچ بنانے کے خواب دیکھنے لگی تھی ۔ ایک پل میں دران نے خود کو اس مقام سے گرایا تھا جو عزت کے نام پر وہ اسے دے چکی تھی ۔ دل پھٹنے جیسا احساس تھا ۔ کانوں سے دھواں نکلنے لگا ۔ گال تپنے لگے ۔
” آپ سے کس نے کہا میں آپ کے لیے مذہب تبدیل کرنے جا رہی ہوں؟ “
آنسوؤں پر بندھ باندھتی روندھائی بھاری آواز تھی ۔
” لسٹ میں وہ قرآن پاک اور جائے نماز ۔۔۔ کیا ہے وہ سب پھر ؟ “
دران نے تاہنوز ماتھے پر شکن ڈالے پوچھا ۔ جویریہ نے بمشکل آنکھوں کے کناروں سے ٹپک جانے والے آنسوؤں کو اندر انڈیلا ۔ گلے میں کانٹوں کی چبھن جیسا احساس ہوا ۔ چہرے پر پل بھر میں سختی عود آئی ۔
” وہ سب میری ضرورت کی چیزیں ہیں جن کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ “
سپاٹ چہرے کے ساتھ اب کی بار اس نے لہجے میں سختی شامل کی ۔ وہ آخر خود کو سمجھتا کیا ہے اور مجھے کیا سمجھنے لگا ہے ۔ اس سے بے پناہ محبت کرنے کے باوجود آج تک اس نے کبھی اس کو لے کر کوئی خواب نہیں دیکھا تھا ۔ کیونکہ وہ جانتی تھی وہ ہر لحاظ سے اس کی دسترس اور اس کی اوقات سے کہیں اونچا ہے ۔
دران نے کچھ بولنے کے لب کھولے ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور حقیر جملہ اس کی شان میں کہتا وہ سخت لہجے میں اس کی بات کاٹ چکی تھی ۔
” میں مسلمان ہوں ۔ میں آج سے چھ ماہ پہلے ہی اسلام قبول کر چکی تھی ۔ “
دران جو کچھ بولنے ہی والا تھا اس کی بات پر وہیں رک گیا ۔ وہ ضبط سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی ۔ آنکھوں میں لالی کے ساتھ نمی اتر رہی تھی ۔ ذلت کے احساس سے وجود کپکپا رہا تھا جس پر وہ بمشکل قابو پا رہی تھی ۔
” بس بھٹک گئی تھی یا یوں سمجھے شیطان نے کمزور کر دیا تھا اور اب مجھے اس بھٹک جانے کی اللہ سے معافی مانگنی ہے ۔ پھر سے پاک ہونا ۔ کلمہ پڑھنا ہے۔ “
پورے اعتماد سے حیرت زدہ کھڑے دران کی طرف دیکھا ۔ آج تک کسی لڑکی نے اس کی آنکھوں میں یوں دیکھ کر بات نہیں کی تھی ۔ پر اعتماد سے پر اعتماد لڑکی ۔ حسین سے حسین لڑکی اس کے آگے ڈگمگا جاتی تھی ۔
” آپ غلطی فہمی کا شکار نہ ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ میں یہاں بس چند دن کی مہمان ہوں ۔ میں بھی آپ کے احسانوں کے بدلہ اتارنے کی غرض سے یہ سب کر رہی ہوں ۔ اس کے علاوہ میرے دل میں اور کچھ نہیں ۔ امید کرتی ہوں آئیندہ آپ میری پرسنل لائف میں انٹرفئیر نہیں کریں گے۔ “
اس کے لہجے میں اب بلا کی سختی اور درشتی تھی جبکہ ضبط اور غصے کے باعث جسم اب بھی ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔ جس سے آپ پوری دنیا سے زیادہ محبت کریں اس کی آنکھوں میں خود کے لیے حقارت سوہانے روح ہوتی ہے ۔
” میں کریسچن ہوں یا مسلمان آپ کو اس بات سے کیا لینا دینا ۔ آپ کو مجھ سے مدد چاہیے میں تیار ہوں۔ مجھے اور میرے مذہب کو لے کر آئیندہ آپ میری انسلٹ ہر گز نہیں کریں گے اور نہ میں یہ برداشت کروں گی ۔ “
جویریہ نے ناک پھلائے دران کی آنکھوں میں جھانکتے دو ٹوک کہا ۔ ایک دو سکینڈ کی خاموشی دونوں کے بیچ حائل رہی ۔ پھر دران نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے ۔ چہرے کا رُخ اور آنکھوں کا زاویہ موڑا ۔
” سوری “
آہستگی سے کہا ۔ سرعت سے پلٹا دو قدم آگے بڑھا ۔ رکا اور پھر سے جویریہ کی طرف پلٹا ۔ ماتھے پر تیوری پھر سے چڑھی تھی ۔ وہ اس کی اتنی باتیں سن کیسے گیا تھا اور معافی کیوں مانگ لی تھی ۔ کس بات کا مان تھا اس لڑکی کو خود پر ۔
” بائی دے وے۔ مس جوی اب بھی آپ کو یہاں صرف میں نے خود کے لیے نہیں آپ کے لیے بھی رکھا ہے ۔ شیون ابھی بھولا نہیں ہے آپکو ۔ پاگلوں کی طرح تلاش کر رہا ہے ۔ “
نخوت سے ناک چڑھائے جواب دیا ۔ بڑا احسان جتانے والا انداز تھا ۔ دران ملک کسی کو پلٹ کر جواب نہ دینے والا آج ایک لڑکی کی باتوں پر ہتک کیوں محسوس کر گیا تھا کہ اس کی برابری میں آ کر اسے جواب دے رہا تھا ۔
” مجھے آپ سے ملوانے والا میرا اللہ ہے ۔ اس نے آپکو ذریعہ بنایا ہے آپ میرے خدا مت بنیں تو اچھا ہے ۔ بے شک میرا رواں رواں آپ کا احسان مند ہے مگر میں نے آپکو مجبور نہیں کیا کہ آپ میری حفاظت کریں ۔ میرا اللہ ایک دروازہ بند ہونے پر سو دروازے کھول دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے اگر آپ مجھے چھوڑ بھی دیتے ہیں تو کل وہ میرے بچاؤ کا کوئی اور ذریعہ بنا دے گا۔ “
وثوق سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرتی وہ دران کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر رہی تھی ۔
دران ملک جس نے بچپن سے لے کر آج تک لڑکیوں کو اپنی ایک اٹھتی نگاہ پر آہیں بھرتے دیکھا اور اب تو وہ ایک سٹار تھا سپر سٹار ۔ خوبرو , بہادر , مالدار ۔ کیا سبرینا ۔ کیا رانیہ ۔ کیا رینا اور کچھ دیر پہلے تک تو سامنے کھڑی اس لڑکی کے بارے میں بھی اس کا یہی خیال تھا کہ وہ اس پر مرتی ہے ۔ نا جانے کیوں عجیب سی وحشت نے آن گھیرا وہ تلملا کر مڑا ۔ بہت جلد اس سے جان چھڑانی ہے ۔ احسان فراموش کہیں کی ۔
” سنیں “
عقب سے بڑے رعب سے پکارا ۔ دران کے قدم ناچاہتے ہوئے بھی تھم گئے لیکن وہ پلٹا نہیں ۔ دران کے نہ مڑنے پر وہ سینے پر ہاتھ باندھے اس کے سامنے آئی ۔
” ایک بات اور ۔ میرا اسلامی نام جویریہ ہے ۔ چاہتی ہوں آج کے بعد اب آپ مجھے میرے اسلامی نام سے پکاریں ۔ “
بلا کا اعتماد تھا لہجے میں ۔ دران سے رکنا محال ہوا ۔ بنا کوئی جواب دیے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا ۔ وہ جو تن کر کھڑی تھی کندھے ایک دم ڈھلک گئے ۔ ٔآنسوؤں پر باندھا بندھ ختم ہوا ۔ پہلے آنکھوں کی پتلیوں میں نمکین پانی کی دبیز تہہ چمکی اور پھر لڑی ٹوٹ کے گال بھگو گئی ۔ آنکھوں کو آہستہ سے بند کیا تو جیسے گرم نمکین پانی کا سیلاب تھا کوئی جو بہہ نکلا ۔
” جویریہ مائی فٹ ۔ کل تک میرے احسان کے نیچے دبی جا رہی تھی ۔ آج میرے گھر میں ہی کھڑے ہو کر مجھے سنا دیا “
لفٹ کے سامنے کھڑا ۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ دانت پیستے ہوئے سوچ رہا تھا ۔ لفٹ کا دروازہ نرمی سے کھلا ناک پھلائے وہ لفٹ میں داخل ہوا ۔
” دران ملک اس نے کچھ غلط بھی نہیں کہا ۔ تم نے بنا پوچھے اسے اتنی سنا دیں ۔ سوچیں بھانپ لینے کا اتنا بھرم ہو گیا تھا ۔ یہ کیسے سوچ لیا کہ وہ لڑکی بھی باقی لڑکیوں کی طرح مر مٹی ہے تم پر ” خود سے ہی نگاہیں چرائے اس نے جلدی سے پینٹ کی جیب میں سے موبائل نکالا اور خود کو مصروف کرنے کی ناکام کوشش کی ۔
