Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 04)
Rate this Novel
Basil (Episode 04)
Basil by Huma Waqas
سیاہ فراری نرم روی سے چارکول میں لپٹی شفاف سڑک پر چل رہی تھی ۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا انل اپنے ساتھ بیٹھے دران کو کافی دیر سے جانچ رہا تھا ۔
وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ لوگ رات کو آٹھ بجے شوٹنگ سے پہلے معمول کی شاپنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے ۔ کل صبح چائنہ کے لیے فلائٹ تھی اس لیے ضروری سازو سامان آج ہی خریدنا تھا ۔
دُران متحوش سی کیفیت میں غیر مرئی نقطے پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے تھا ویسے تو اُسے طویل وقت تک خاموش رہنے کی عادت تھی لیکن انل سے کبھی کبھار اس کی یہ عادت برداشت سے باہر ہو جاتی تھی اور اب بھی دران کو دیکھ کر اس کا کچھ ایسا ہی حال تھا ۔
” کیا ہوا ۔۔۔ پریشان کیوں لگ رہے ہو؟ ” پوری طرح اس کی طرف رخ موڑے سوال کیا ۔
دران نے چہرہ موڑا اور گہری نگاہوں سے انل کی طرف دیکھا بھنویں ہنوز کسی گہری سوچ کے باعث پیشانی پر اکھٹی ہو کر افقی شکن بنائے ہوئے تھیں ۔
” تمہیں ہاروی عجیب نہیں لگتا ؟ ” انل کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس سے سوال پوچھ لیا
یہ اس کی عادت تھی سوال پر جواب کے بجائے سوال کرنا اور دوسرے انسان کو خود سے جواب تلاش کرنے پر مجبور کرنا ۔
لیکن اس وقت کیا گیا سوال عجیب تھا کہ اس کو ہاروی کیوں عجیب لگا حالانکہ آج تک سب کو وہ ہی عجیب لگتا تھا ۔
” مطلب ۔۔۔۔ ؟ ” انل نے کندھے اچکائے
” مطلب مجھے کچھ عجیب لگتا ہے ” پر تجسس لہجہ
انل نے نا سمجھی نگاہوں میں سموئے دیکھا , سیم گاڑی کو سرخ بتی جلنے کے باعث سگنل پر روک چکا تھا ۔
“ہاروی کے پاس کتنی سپر ہٹ فلیمیں ہیں ؟ ” پھر سے اسی انداز میں حیران بیٹھے انل سے سوال کیا
انل نے بھنویں اٹھائیں اور لبوں کو گولائی رخ گھماتے ہوئے چند سکینڈ سوچا پھر ناکام ہو کر اس کی طرف دیکھا اب وہ ہاروی کی سپر ہٹ فلموں کی گنتی تو ہر گز نہیں جانتا تھا ۔
” سب سپر ہٹ ہیں اور یہ والی بھی سپر ہٹ ہی جائے گی کیوں ایسا کیوں پوچھ رہے ہو ” متوازن لہجے میں جواب دے کر تشویش ظاہر کی
” لیکن میرے حساب سے پھر بھی کچھ گڑبڑ ہے اس کے پاس اتنی دولت کی ریل پیل صرف چند سپر ہٹ فلمیں دے کر وہ کیسے بہت ساری پروڈکشنز کمپنی کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہے یہ ” دران نے ٹھوڑی سہلائی اور آنکھوں کو سکوڑا ۔
انل نے گہری سانس لی اچھا تو وہ تب سے ان سوچوں میں مگن تھا ۔ سگنل کھل چکا تھا گاڑی پھر سے چلنے لگی تھی ۔
” دران ن۔ن۔ن۔ تم ہمیشہ سے آگے کی سوچ کیوں رکھتے ہو؟ میری تو سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے , اس کی دولت سے ہمیں کیا لینا دینا؟ ” انل نے اس کی بات پر حیرت ظاہر کی
” ہوں۔ں۔ں ۔۔۔۔ سہی چلو تم کہتے ہو تو چھوڑ دیا ” زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ لبوں کو پھیلایا ۔
ایسی مسکراہٹ جو مسکراہٹ خود بخود چہرے پر آتی ہے وہ تو شائد کبھی اس کے چہرے پر آئی نہیں تھی۔ لیکن اس دنیا میں مسکراہٹ نامی چیز اکثر جگہوں پر استعمال کرنی پڑتی ہے اس لیے اس نے ایک جھوٹی مسکراہٹ لبوں پر سجانا سیکھ لیا تھا جسے بوقت ضرورت وہ استعمال کرتا تھا ۔
اس مسکراہٹ کا ساتھ اس کی آنکھیں کبھی نہیں دیتی تھیں ۔ موبائل کی بجتی رنگ ٹون پر انل نے چونک کر ہاتھ میں پکڑے موبائل کی طرف دیکھا ۔
” رینا کال کر رہی ہے بار بار تم چینجنگ روم میں تھے تب بھی آئی تھی کال “
انل نے موبائل پر ہی نگاہیں جھکائے ساتھ بیٹھے دران کو بتایا
” تم بار بار کاٹتے رہو ” سپاٹ لہجے میں ترکی با ترکی جواب دیا ۔
” اٹس ناٹ فئیر درانگ۔گ۔گ۔گ ۔۔۔۔ شی لوز (loves ) یو “
انل نے مصنوعی آنکھیں نکالیں ۔
رینا بریولی ہلز میں میں ایک مشہور دولت مند بزنس مین کی بیٹی تھی اور درانگ پر بری طرح فدا تھی کوئی بھی شوبز تقریب ہو یا کچھ بھی وہ ہر جگہ موجود رہتی تھی اس کے اثر و رسوخ اتنے تھے کہ وہ دران کے پیشہ ور فون نمبر تک رسائی پا چکی تھی اور اب آئے دن کالز کرتی رہتی تھی ۔
” اگر اس طرح کے لو (love ) کا خیال رکھنے بیٹھ گیا , تو بس پھر گیا میں ” متوازن لہجے میں جواب دیا اور اچک کر سیدھا ہوا ۔
نگاہیں سڑک کی دائیں طرف موجود مونگلیا بیکری پر جم گئی تھیں ۔ یہ بیورلی ہلز کی مشہور بیکری تھی جو اپنے ٹیسٹ کی وجہ سے مشہور تھی ۔
” بیکری کے پاس روکو ” دران نے لبوں پر انگلیاں رکھتے ہوئے ڈرائیور کو حکم صادر کیا
ڈرائیور حکم سے پہلے ہی گاڑی کو ایک طرف لگا رپا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس سڑک سے درانگ کبھی رُکے بنا نہیں گزرتا تھا ۔
بیکری کی شیشے کی بنی سامنے کی دیوار کے پار اندر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا اور آج بھی وہ سفید بیکری کیپ سر پر ٹکائے , سفید نیپکن باندھے کاؤنٹر کے پیچھے کھڑی دلکشی سے مسکرا رہی تھی ۔ کاؤنٹر کے سامنے کھڑا خریدار اس سے محو گفتگو تھا ۔
” آج پھر ۔۔۔۔اف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔ دران پلیز ۔۔ ۔۔۔ رات کو فلائیٹ ہے ہماری اور بہت سی تیاری باقی ہے آج نہیں۔۔۔ ” انل نے جھنجلا کر ہاتھ ہوا میں اٹھائے اس سے ایک قسم کی التجا کی تھی لہجہ نہایت بیزاریت لیے ہوا تھا ۔
دران اس کی بات ان سنی کرتا سگریٹ سلگا چکا تھا۔ گاڑی کا شیشہ آہستگی سے نیچے جا رہا تھا اور دران کی نگاہیں بیکری کے شیشے کے پار اس لڑکی پر جم گئی تھیں ۔
انل نے اپنے ہوا میں اٹھے ہاتھ بے بسی سے نیچے گود میں رکھے
” تمہیں بات کرنی چاہیے اس سے ” دران کے قریب ہو کر سرگوشی نما مشورہ دیا ۔
” کیا بات کروں ؟ ” لبوں میں سگریٹ دبائے کہا اور لائٹر کو جلا کر سگریٹ کے پاس کیا جبکہ آنکھیں وہیں ٹکیں تھیں ۔
” تم جانتے ہو کیا بات ۔۔۔ ؟ ” انل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
” ابھی وقت نہیں ” وہ گاڑی کی پشت سے سر ٹکائے پرسکون لہجے میں کہہ رہا تھا آنکھوں کی پتلیوں میں اب لڑکی کا عکس بن رہا تھا جس میں وہ ہنس رہی تھی ۔
انل نے گہری سانس باہر انڈیلی ۔ چند سکینڈ یونہی خاموشی نگل گئی ۔
انل آگے ہوا کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی اور پھر دران کی طرف دیکھا جو گاڑی کی کھلی کھڑکی پر بازو ٹکائے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا ۔
” مسٹر ملک اب چلیں آج اتنا بہت ہے اس کو دیکھنا ” انل نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے سوال کیا ۔
دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا , وہ ویسے ہی سگریٹ کے کش لگاتا ہوا شیشے کے پار اس لڑکی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا ۔
انل نے ضبط سے لب بھنیچے آنکھیں کھولیں اور پوری طرح اس کی طرف گھوم گیا ۔
” دران ۔ن۔ن۔ن۔۔۔۔۔ میری جگہ تمہارا پی اے کوئی اور ہوتا تو یقین کرو تمہیں چھوڑ چکا ہوتا میرے بھائی۔ی۔ی۔ ” انل نے سر کو دائیں بائیں گھماتے ہوئے تھکے لہجے میں طنز کے تیر چلائے
” کیوں ؟؟” معصومیت سے بنا اس کی طرف دیکھے سوال کیا
” واہ ۔۔۔۔ یہ معصومیت ۔۔۔۔ میں پی اے ہوں لیکن کچھ بھی تمہیں وقت پر نہیں کروا پاتا ” انل نے دانت پیستے ہوئے اپنی بے بسی کی حد بتائی ۔
” سیم ڈرائیو پلیز ۔۔۔۔ اور اس راستے سے آنے سے گریز کیا کر بھئی ” انل نے آگے ہوتے ہوئے ڈرائیور کو مفید مشورہ دیا
” سیم ویٹ ۔۔۔ ” دران نے رعب سے حکم دیا
انل نے گھور کر دیکھا اب دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ضد سے دیکھ رہے تھے ۔
” سیم نو ۔۔۔ پلیز جلدی چلو ” انل نے دانت پیستے ہوئے سیم کو پھر سے مخالف حکم دیا
دونوں کے درمیان دوستانہ نوک جھونک اکثر ہوتی تھی اور سیم دونوں میں پس جاتا تھا ۔ اور اب بھی وہ دونوں کی کشمکش میں بیٹھا تھا کہ کس کہ بات مانے انل کی یا دران کی ۔
” اس وقت بہت تیاری پڑی ہے اور وہ سب اس سے زیادہ اہم ہے چلو سیم تم فوراً درانگ چلو ” انل اب سخت پیشہ ورانہ لہجہ اپنائے ہوئے تھا ۔
” دیکھ لوں گا تمہیں بھی سیم چلو ” دران نے مصنوعی غصے میں کہا
” ہاں دیکھتے رہنا ساتھ ہوں تمھارے ہمیشہ ۔۔۔” انل نے آنکھ کو دبائے شرارت سے جواب دیا ۔
گاڑی پھر سے سڑک پر اسی رفتار سے دوڑنے لگی تھی ۔ اور انل اب سر کو تاسف سے ہلاتے ہوئے ہنس رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
جوی آہستگی سے فلیٹ کا دروازہ لگا کر پلٹی اور فلور کے زیںنے پھلانگتی ہوئی نیچے اتری ۔ سیاہ جوڑے میں ملبوس وہ سرخ دوپٹے کو کندھوں پر ٹکاتے عجلت میں زینے اتر رہی تھی ۔
اماں سو رہی تھیں اور ابا کے آنے میں ابھی وقت تھا۔ اسی بات سے فائد اُٹھاتی وہ اَسی عمارت کے دوسرے فلور پر موجود اپنی دوست حنا کے گھر جا رہی تھی ۔
وہ سنانا کو حنا کے گھر جانے کا بتا کر باہر نکل آئی تھی ۔ حنا بھی مذہبی اعتبار سے عیسائی تھی اور بچپن سے اس کی ہم جماعت تھی ۔ ایک عمارت کی رہائیشی ہونے اور ایک ہی جماعت میں ہونے کے باعث دونوں میں گہری دوستی تھی ۔
اب وہ تیسرے فلور کے زینے اتر رہی تھی جب اچانک نگاہ سامنے پڑی اور نا چاہتے ہوئے بھی قدم تھم گئے ۔ آنکھوں کا مزید حجم بڑھائے بغور سامنے دیکھا ۔
سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہی دائیں طرف وہ انو کے فلیٹ کے آگے کھڑا تھا ۔ سیاہ ٹی شرٹ نیلی پرانی جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے , مضطرب سی کیفیت میں بار بار جیب سے ہاتھ نکال کر فلیٹ کی گھنٹی بجا رہا تھا ۔
وہ کیسے اسے بھول سکتی تھی۔ اس دن میدان والے واقع کے بعد آج اسے دو ہفتے بعد دیکھا تھا اور ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں اس کا ذہن اسکی شناخت کر چکا تھا ۔
وہ یونہی ساکن کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جب اچانک ذہن میں خیال آیا انو کا چھوٹا بھائی جووت کا ہم جماعت تھا اور کل اُسی نے ذکر کیا تھا وہ لوگ کہیں گئے ہیں ۔
اسی خیال کے زیر اثر وہ بے ساختہ چند قدم آگے بڑھی اور اس کے برابر میں جا کر بولنے کے لیے لب کھولے ۔ اسی لمحے لڑکے نے سراسیمگی سے رخ موڑا ۔
” وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ انو شائد یہاں نہیں ہیں کہیں گئے ہیں وہ لوگ ۔۔۔” جوی نے ہچکچاتے ہوئے کہا
لڑکے کے دیکھنے کا انداز عجیب تھا وہ اپنا اعتماد کھو رہی تھی ۔ لڑکا چند سکینڈ خاموش کھڑا اسے دیکھے گیا اور پھر یونہی سپاٹ چہرے کے ساتھ رُخ موڑے دروازے پر دستک دینے لگا ۔
” ہیں اسے سنائی نہیں دیا کیا , میں نے بتایا تو ہے کہ وہ لوگ گھر نہیں ہیں ” جوی کو حیرت کا شدید دھچکا لگا
” انو کے دوست ہیں نہ آپ ؟ ” اس کے کوئی جواب نا دینے اور بے نیازی برتنے پر جوی نے پھر سے سوال کیا ۔
اب کی بار جواب دینا تو دور کی بات اس نے رخ موڑ کر دیکھنا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔ جوی کو اس کی یہ بے نیازی عجیب طرح کَھلی ۔
” کیا اسے سنائی نہیں دیتا۔۔۔ اوہ جیزز ! ” حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔
دماغ نے تو ایک سو اسی کی رفتار سے پھرکی گھما کر نتیجہ اخذ کر لیا تھا لیکن دل کو یقین نا آیا ۔ وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوئی
” دیکھیں وہ لوگ یہاں نہیں ہیں شائد ارجینٹ کہیں جانا پڑا ان کو “
پتا نہیں کیوں پر ہمدردی جاگ رہی تھی اس لیے وہ اسے پوری تفصیل دے رہی تھی۔ لیکن لڑکے نے اب کی بار بھی دیکھنا گوارا نہیں کیا ۔
اسے کے چہرے کے تاثرات اتنے سپاٹ تھے کہ وہ یہ سوچے بنا نہیں رہ سکی کہ اسے واقعی میں سنائی نہیں دے رہا ہے ۔ لڑکا اب اس سے بے نیازی برتتا پھر سے فلیٹ کی گھنٹی بجا رہا تھا ۔
وہ اتنی تذبذب کا شکار ہوئی کہ حنا کے گھر جانے کے بجائے پھر سے واپس اوپر چڑھنے لگی ۔ فلیٹ کا دروازہ بند کرتے ہی نگاہ سامنے سنانا پر پڑی جو لاؤنج میں بیٹھی خراب و خستہ ریڈیو کے انٹینا سے زور آزمائی میں مصروف تھی ۔ اور انٹینا تھا کہ سیٹ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔
وہ اب ریڈیو کے اوپر دھاڑ دھاڑ تھپڑ رسید کر رہی تھی اسی تششد کے دوران اچانک سامنے نگاہ جوی پر پڑی تو حیرانگی سے بھنویں اچکائے سوال کیا ۔
” کیا ہوا تم تو حنا کی طرف جانے کے لیے نکلی تھی ۔۔ کیا گئی نہیں ؟ “
پر وہاں تو وہ ورطہ حیرت میں مبتلا آنکھیں بنا جھپکے کھڑی تھی ۔
” سنانا وہ سن نہیں سکتا ” متحیر سے لہجے میں کہتے ہوئے آگے بڑھی
” کون سن نہیں سکتا ” سنانا کے انداز میں حیرت سے زیادہ تجسس کی جھلک تھی
” وہی انو کا دوست , بہرہ ہے بیچارا ” چہرے پر انگنت پریشانی سجائی وضاحت دی
” تمہیں کیسے معلوم پڑا یہ سب ؟ “
سنانا نے ریڈیو ایک طرف رکھا اور مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوئی
” وہ ۔۔۔ میں ابھی حنا کے گھر جانے کے لیے نیچے اتری تو انو لوگوں کے فلیٹ کی بل بجا رہا تھا “
جوی نے الف سے یے تک ساری بابت سنانا کی گوش گزار کی اور بات سننے کے بعد اب اس کی آنکھوں میں بھی حیرانگی تھی ۔
” افسوس ہوا بہت !!!!! بیچارا۔۔۔۔ ” سنانا نے گہری سانس خارج کیے تاسف بھرے لہجے میں افسوس کا اظہار کیا
” ہاں مجھے بھی ” کھوئے سے لہجے میں تائید کی
سنانا اب پھر سے ریڈیو اُٹھا چکی تھی۔ اس کے لیے یہ بات معمولی تھی شائد لیکن جوی کے لیے نہیں اس لڑکے سے ایک عجیب ہمدردی محسوس ہونے لگی تھی ۔
حنا کے گھر جانے کا ارادہ مکمل طور پر ترک کرتے ہوئے وہ مریل قدم اٹھاتی بالکنی پر آگئی ریلنگ پر کہنیاں ٹکائیں اور چہرے کو اداسی سے ہاتھوں پر ٹکا دیا ۔
اس دن اس لڑکے کو دیکھ کر وہ اس کے مفلس ہونے پر اداس تھی اور آج اس کی قوت سماعت نا ہونے پر دل مزید اداسی سے بھر گیا ۔
اچانک نگاہ پھر سے سامنے میدان میں اُسی بنچ پر پڑی وہ وہیں بیٹھا تھا ۔ کتنی ہی دیر وہ بے سبب اسے وہیں کھڑی تکتی رہی اور پھر شام کے گہرے سایے پھیلتے ہی قدم کمرے کی طرف بڑھا دیے ۔
☆☆☆☆☆☆
درانگ والاس کے دیوڑھی سے اندر لاؤنج کی راہداری میں داخل ہوتے ہی دران اور انل کے قدم ایک ساتھ تھمے ۔ وہ رات کے دس بجے درانگ ولاس پہنچے تھے اور ابھی اندر داخل ہی ہوئے تھے کہ راہداری میں اسفند ملک کی آواز کی بازگشت سنائی دی ۔
” مسٹر البٹ درانگ ابھی گھر نہیں ہے کب آئے گا کچھ پتا نہیں , وہ میرا فون نہیں اٹھا رہا ہے , آپ پلیز ابھی چلے جائے یہاں سے , مجھے درانگ میں کوئی تماشہ نہیں چاہیے ” اسفند ملک کرخت لہجے میں کسی پر بول رہے تھے ۔
درانگ نے تیزی سے قدم آگے بڑھائے ساتھ ہی انل نے بھی تجسس میں قدم مزید تیز کئے ۔ جیسے ہی راہداری سے آگے وہ دونوں ہال نما اس بڑے سے لاؤنج میں داخل ہوئے سامنے ہی ولیم البٹ اپنے پانچ چھ سکیورٹی گارڈز کے ساتھ غصے اور رعب میں بھرا کھڑا تھا ۔ اس کے بلکل سامنے ملک اسفند اور روبی مضطرب کھڑے تھے۔
” نہیں میں یہاں سے بات کئے بنا نہیں جاؤں گا , بلاؤ اس کو ” ولیم البٹ نے دو ٹوک لہجے میں اونچی آواز میں اپنا فیصلہ سنایا
اسی دوران ہال میں موجود تمام نفوس کی نگاہ ایک ساتھ دران اور انل پر پڑی اسفند ملک تیزی سے دران کی طرف بڑھے ۔
” شکر ہے ۔۔۔ دران ۔۔۔ تم آ گئے , دیکھو یہ کیا معاملا ہے میری تو سمجھ سے ۔۔۔ ” اسفند ملک پریشان اور بیزار سے لہجے میں وضاحت دیتے ابھی آگے ہی بڑھ رہے تھے جب ولیم کی کاٹ دار آواز ہال میں گونجی ۔
” درانگ ۔۔۔۔۔ میری بیٹی کہاں ہے ؟ ” ولیم کی آواز میں گرج اور غصہ شامل تھا ۔
ولیم البٹ لاس اینجلس کا ایک مالدار بزنس مین اور رینا ولیم کا باپ تھا ۔ دران اور انل کی آنکھیں ایک ساتھ حیرت میں پھیلیں جبکہ ولیم غصے میں بپھرتا ہوا دران کی طرف بڑھا ۔
” میری بیٹی رینا ۔۔۔۔ اس کا پوچھ رہا ہوں تم سے کہاں ہے وہ ؟ تمہیں معلوم بھی ہے اس نے کیا ۔۔۔۔کیا ؟ ” ولیم نے آنکھیں نکالتے ہوئے چبا چبا کر سوال پوچھا ۔
دران نے جواب طلب کرنے کے لیے بولنے کے بجائے ایک آبرؤ اچکائے ۔
” رینا نے تمھارے لیے اسلام قبول کر لیا ہے اور وہ کل سے گھر سے غائب ہے , کہاں ہے میری بیٹی ؟ ” ولیم اب آپے سے باہر ہو چکا تھا
وہ یہ انوکھا انکشاف کرنے کے بعد غصے سے آگے بڑھا , اس سے پہلے کہ وہ دران کے گریبان تک پہنچتا انل نے فوراً اس کے اور دران کے بیچ حائل ہو کر اس کے سینے پر ہاتھ دھرا ۔
” آرام سے مسٹر ولیم ۔۔۔ درانگ کیسے جان سکتا ہے آپکی بیٹی کہاں ہے ۔ ہم ابھی باہر سے آ رہے ہیں اور صبح فلم کی شوٹنگ کے لیے نکلنا ہے ہمیں ” دران کے بجائے انل نے ناک بھنیچے سخت الفاظ میں جواب دیا ۔
ایک سکینڈ کے توقف سے پہلے کہ ولیم مزید کچھ بولتا انل نے کچھ یاد آ جانے جیسے انداز میں ہاتھ پیشانی پر رکھا ۔
“۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔”
انل نے تیزی سے موبائل سکرین پر انگلیاں چلائیں ۔ رینا کے بار بار فون کرنے کا مقصد اب سمجھ آ رہا تھا ۔ ولیم اب بھی دران کی طرف خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا اور اس کی پیشانی پر جہاں بل مزید گہرے ہو رہے تھے وہاں کنپٹی کی رگیں بھی ابھرنے لگی تھیں ۔
ذہن میں ویلیم کی بات ہتھوڑے کی طرح لگی تھی ۔ ” رینا نے تمھارے لیے اسلام قبول کر لیا ہے۔۔۔”
انل لب بھینچے فون کان سے لگائے کھڑا تھا , دوسری طرف رینا نے بہت جلد فون اٹھایا ۔
” ہیلو ۔۔۔۔ ” انل نے رسمً ہیلو کہتے ہی موبائل کا سپیکر آن کیا اور فون کو ہاتھ میں سیدھا پکڑ لیا ۔
” مجھے درانگ سے بات کرنی ہے ” رینا کی آواز فون سے ابھری
وہ آزُردہ لہجے میں درانگ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کر رہی تھی ۔ ولیم کی پیشانی پر ابھرے شکن اور رعب بھک سے اڑا ۔
دران نے لب بھینچے ایک نگاہ ولیم پر ڈالی اور جیب سے ہاتھ نکلاتا بڑے وقار سے انل کے ہاتھ میں پکڑے فون کے قریب ہوا ۔
” ہیلو ۔۔۔۔ ” بھاری کھردار بیزار لہجہ
دوسری طرف تو جیسے اس کی آواز نے رینا کو پرجوش کر دیا تھا ۔
” درانگ پلیز مجھ سے بات کرو میں ملنا چاہتی ہوں تم سے ۔۔۔۔ دیکھو میں نے کیا کیا۔۔۔ آج تمھارے پیار میں , اسلام قبول کر لیا ۔۔۔۔۔۔میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں “
وہ ایک ہی سانس میں اپنی ساری بے تابیاں اور قربانیاں بیان کر گئی ۔
ولیم کا چہرہ ندامت اور غصے سے سرخ ہوا وہ بمشکل خود کو ضبط کرنے پر مجبور کئے ہوئے تھا ۔ مگر جس کے لیے رینا نے اپنا مذہب تک تغیّر دیا تھا , وہ تو خون آشام نگاہوں سے فون کو کچھ یوں گھور رہا تھا جیسے بس چلے تو یہیں سے گردن دبوچ کر رینا کو باہر نکال لے ۔
” لیکن میں نہیں چاہتا ” ضبط کے آخری دہانے پر کھڑے ہو کر مختصر روکھا سا جواب دیا
” درانگ۔گ۔گ۔گ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں نے تمھارے لیے اپنا مذہب ” وہ چیخ اٹھی مگر بات دران کی غراہٹ میں دب کر رہ گئی
” سو واٹ۔ٹ۔ٹ۔ٹ۔۔۔۔۔۔ , میں مسلم تو کیا کسی بھی مذہب کی پیروکار سے شادی نہیں کروں گا , اور۔ر۔ر میری بات کان کھول کر سن لو , آج کے بعد تمھارا باپ میرے گھر اور گریبان تک پہنچا تو نتیجے کے ذمہ دار تم ہو گی ” کاٹ دار لہجہ تھا جس میں کسی قسم کا کوئی لحاظ نہیں تھا
دوسری طرف تو جیسے سکتے جیسی خاموشی طاری ہوئی , دران نے ایک کٹیلی نگاہ ویلیم کے ہوائیاں اڑے چہرے پر ڈالی اور قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھا دیے۔ انل بھی غصے میں فون ہاتھ میں تھامے ویلیم کے قریب ہوا ۔
رینا۔۔۔۔ گھر واپس آؤ ۔۔۔۔” ویلیم نے آنکھیں چراتے ہوئے غصے میں فون کے قریب ہو کر کہا
” ڈیڈ ۔۔۔۔!!!!! ” پھیکے سے لہجے میں دوسری طرف سے رینا کی دور سے آتی آوز تھی ۔
” ہاں ۔۔۔ گھر واپس آؤ فوراً ” ویلیم نے دانت پیستے ہوئےحکم دیا
اپنے سکیورٹی گارڈز کی طرف دیکھا اور قدم تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔۔۔ انل نے فون بند کیا ۔ اور دران کے کمرے کی طرف چل دیا ۔
روبی گردن کو خم دے کر اسفند ملک کے قریب ہوئی ۔
” جب بھی نکالے گا کفر کے کلمات نکالے گا منہ سے , جاہل کہیں کا , میں مسلمان نہیں ہوں ۔۔۔ میں مسلم لڑکی سے شادی نہیں کروں گا اتنے امیر باپ کی بیٹی ٹھکرا دی۔۔۔۔ ویلیم البٹ کی اکلوتی بیٹی ۔۔۔۔ ٹھکرا دی ” روبی کے لہجے میں دران کےلیے بلا کا تاسف اور غصہ تھا ۔
” اُچھلو مت زیادہ ۔۔۔ یہ مت بھولو تم اسی کفر کے کلمات کہنے والے کی کمائی کھاتی ہو اور تم سے بہتر کون جانتا ہے کہ وہ اسلام سے متنفر کیوں ہے, اپنے بیٹے کی فکر کرو آجکل رات بھر باہر رہنے لگا ہے ” اسفند ملک نے ٹھہرے مگر کاٹ دار لہجے میں طنز کے تیر برسائے
روبی نے تنک کر اسفند ملک کی طرف دیکھا لیکن وہ اُس کی طرف بنا دیکھے قدم اوپری زینے کی طرف بڑھا چکے تھے جو لاؤنج کے وسط سے اوپری منزل کو چڑھتے تھے ۔ روبی کے چہرے پر ماضی کے سایے لہرا گئے ۔
☆☆☆☆☆
ملک ہاؤس کے بلکل اوپر سورج پوری تمازت سے چمک رہا تھا ۔ چھوٹے سے لان میں لگے ایک عدد درخت کی شاخوں پر چڑیاں دبک کر بیٹھیں آنکھیں موندے دھیرے دھیرے سانس لی رہی تھیں ۔
سیاہ سمینٹ سے بنے فرش والی دیوڑھی میں پرانی سی کار کھڑی تھی ۔ جسے وہ رگڑ رگڑ کے دھونے میں مصروف تھا ۔ بنیان کے نیچے سفید شلوار پہنے ہاتھ میں پانی گراتا پائپ پکڑے وہ کار کو دل و جان سے دھو رہا تھا ۔
بائیس سالہ یاور ملک کو اپنے باپ کی اس آخری نشانی سے بے حد لگاؤ تھا یہی وجہ تھی ہر چھٹی کے دن وہ ناشتے کے فوراً بعد پوری لگن سے یہی پہلا کام کرتا تھا ۔
اسے بی ۔ اے کرنے کے فوراً بعد ہی ایک نجی پیسٹی سائیڈ کمپنی میں ملازمت مل گئی تھی بڑے بھائی نے بڑا جگرا کیے کار اس کے حوالے کر دی بس تب سے یہ کار اس کی کل کائنات تھی ۔
وہ یونہی گنگناتے ہوئے کار دھو رہا تھا جب گھر کے لاؤنج سے ابھرتی آوازوں پر کان کھڑے ہوئے ۔ دیوڑھی سے ایک زینہ چڑھ کر کھلتا لکڑی کا دروازہ سیدھا ملک ہاؤس کے لاؤنج میں لے جاتا تھا جہاں کا منظر ہولناک تھا ۔
عمر رسیدہ دستگیر بیگم بڑی شان سے پلنگ پر براجمان جھری زدہ ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے گھما رہی تھیں ۔ اسی پلنگ کے ایک طرف بیٹھی روبی ملک تین سالہ دران کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے دبوچے بیٹھی تھی ۔
دران کے تن پر ایک عدد نیکر کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔ اس کے جسم پر اور چہرے پر جگہ جگہ چاول چپکے ہوئے تھے ۔
پلنگ سے کچھ دور فرش پر چاول بکھرے ہوئے تھے اور عصمت وہیں غصے میں کھڑی فرش کو گھور رہی تھی ۔ عصمت سے کچھ دوری پر لکڑی کی کرسیوں پر دو سالہ برھان اور تین سالہ فائقہ منہ لٹکائے بیٹھے تھے ۔
” آنکھیں نیچی کر ۔۔۔۔ ” روبی نے چیخ کر کہا اور ساتھ ہی پوری قوت سے کھینچ کر تھپڑ دران کے گال پر رسید کیا ۔
تین سالہ دران کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے وہ اسے غصے سے گھور رہی تھی جبکہ وہ نڈر انداز میں پوری آنکھیں کھولے روبی کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا ۔
” سنا نہیں آنکھیں نیچی کر ۔۔ ” روبی نے تلملا کر ایک اور تپھڑ اس کی پھولی ہوئی سفید گال پر رسید کیا ۔
اس کے دونوں گال سرخ ہو چکے تھے مگر آنکھ میں ایک آنسو تک نہیں تھا ہوتا بھی کیسے وہ کونسا یہ مار پہلی دفعہ کھا رہا تھا ہر روز صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات کو آنکھ بند ہونے تک ایسے کئی چماٹ وقفے وقفے سے اس کی گال پر رسید ہوتے رہتے تھے بس ہاتھ بدلتے رہتے تھے ۔
” افف خدایا!!!!!!! ۔۔۔ ماں جی دیکھیں تو کیسا ڈھیٹ ہے سانپ کی طرح آنکھیں نکالے کھڑا ہے مجال ہے جو جھپک بھی دے ” روبی نے ناک پھلا کر دستگیر بیگم کی طرف دیکھا
وہ تسبیح کے دانے گراتے ہوئے اب حقارت سے دران کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ روبی نے ننھے سے کو کندھوں سے پکڑ کر ایسا جھنجوڑا کہ وہ پورا ہل گیا پر پلک نا جھپکی
” آفت کا پر کالا کہیں کا , کتنی دفعہ روکا ہے فائقہ اور برھان کی پلیٹ میں سے نہ کھایا کر , پر نہیں پھر وہی کام۔۔۔۔ وہی کام۔۔۔ تجھے جب الگ ڈال کر دیتے ہیں کیا تکلیف ہوتی ہے جو ان کی پلیٹ میں بھی ہاتھ ڈالتا ہے ” روبی غصے میں اسے جھنجوڑتے ہوئے اس پر چیخ رہی تھی ۔
” گندہ خون نا ہو تو ۔۔۔” ایک اور زناٹے دار تپھڑ پڑا
یاور جیسے ہی لاؤنج کے دروازے پر پہنچا سامنے کا منظر دیکھ کر تڑپ گیا ۔
” بھابھی ۔۔۔۔ ” اونچی آواز میں پکارا
تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھا اور جھپٹ کو دران کو روبی سے پیچھے کیا
” چھوڑیں اسے ۔۔۔ تین سال کا بچہ ہے وہ , اگر بچوں کے ساتھ مل کر کھا ہی لیا کچھ تو آپ یوں کیوں پِیٹ رہی ہیں اسے ” یاور غصے میں چیخا تھا ۔
” تین سال کا ۔۔۔ ناک میں دم کر رکھا ہے اس نے ” روبی نے اسی کے انداز میں چیخ کر جواب دیا
پاس کھڑی عصمت تنک کر آگے ہوئے ۔
” اور تم جو اس کے حمایتی بن کر کود پڑے ہو گھر کا کام تم نے کرنا ہوتا ہے یا ہم نے , بھابھی ٹھیک ہی تو کر رہی ہیں , حال دیکھو کیا کیا ہے اس نے , سارے فرش پر چاول ہی چاول ” عصمت نے بھی روبی کا بھرپور ساتھ دیا ۔
دیتی بھی کیوں نا طلاق یافتہ ایک بچی کے ساتھ میکے میں رہنا ہو تو روبی جیسی بھابھی کا ساتھ دینا ہی پڑتا ہے ۔
” ہزار دفعہ اسے سمجھایا ہے تم صرف اپنی پلیٹ میں کھایا کرو , پر نہیں ڈھیٹ ہے پورا , پلیت نا ہو تو ” عصمت نے دانت پیستے ہوئے کہا اور آگے بڑھ کر ایک تھپڑ دران کی پشت پر جڑ دیا جو یاور کی ٹانگوں سے چمٹا کھڑا تھا ۔
یاور نے تڑپ کر اسے گود میں اٹھایا اور گلے سے لگایا
” باجی خدا کا خوف کریں کچھ , نوین بھائی کا خون ہے پلیت کیسے ہوا ؟ مسلمان ہے دران ہے ” یاور نے حیرت اور غصے کے ملے جلے لہجے میں کہا
” ہنہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔ نوین کا ہے تمہیں کیسے پتا یہ ؟۔۔۔۔ پتا نہیں موا اس انگریز بڈھی کے کس میاں سے ہو گا کوئی ایک ہو گا کیا اس کا , نام رکھ لینے سے مسلمان ہو گیا کیا , پلیت ہے یہ ۔۔۔ ابھی ایک سال سے ڈاکٹر کے پاس تک تو لے کر نا جا سکے تم , آیا بڑا حمایتی ” دستگیر بیگم نے حقارت سے کہتے ہوئے نفرت میں اپنا حصہ ڈالا
” بس کریں آپ لوگ تو ۔۔۔ آپ لوگوں سے بحث فضول ہے, ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں اس کی دیکھ بھال کی امید آپ جیسوں سے کروں اور عصمت باجی , روبی بھابھی آج کے بعد دران کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا ” یاور نے ناک پھلائے انگشت انگلی کھڑی کی
” چل تو جا ۔۔۔۔ چھٹی کے دن دماغ کھانے آ جاتا ہے ہمارا , اس کی حرکتیں پتا ہوں نا تجھے تو پھر پتا چلے ” عصمت نے ہاتھ ہوا میں اٹھائے غصے میں کہا
” بلکل درست۔۔۔۔ بلا کی اولاد ہے یہ پھرکی کی طرح پورے گھر میں اُدھم مچاتا ہے اور بات تو جیسے کوئی سمجھ میں آتی ہی نہیں اس کے , کچھ بھی کہہ دو بس گھورنے لگتا ہے ” روبی کے اندر موجود کڑواہٹ عروج پر تھی
” اتنی تو مار کھاتا ہے بیچارا آپ سب سے , کیا دماغ کام کرے گا اس کا , کیوں دکھاوا کر رہے ہیں دنیا کے لیے اس سے اچھا کسی یتیم خانے میں چھوڑ آتے اس کو ” یاور دلخراش لہجے میں چیخ اٹھا
” ہاں ۔۔۔ تجھے بہت خدا ترسی ہے نا تو تو کیوں نہیں لے لیتا گود ” روبی نے ناک چڑھائی
” لے لوں گا بھابھی ۔۔۔ میں لے لوں گا ۔۔۔ اب میں شادی اسی لڑکی سے کروں گا جو اسے قبول کرے گی ” یاور نے تن کر جواب دیا
روبی کا رنگ ایک دم سے پھیکا پڑا یہ تو اسی کے سر پڑ گئی تھی اب یاور نے اگر اس کی بہن سونی سے شادی سے انکار کر دیا تو ۔
یاور دران کو سینے سے لگائے کمرے میں جا چکا تھا جبکہ وہ دم بخودہ کھڑی تھی ۔
