Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 19)
Rate this Novel
Basil (Episode 19)
Basil by Huma Waqas
تیز بارش اور بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ کراچی پل بھر میں جل تھل ہو گیا تھا ۔ مغرب کے بعد کے پھیلتے اندھیرے میں رکشہ سست روی سے مین سڑک سے ہوتا ہوا تنگ گلیوں میں جا رہا تھا ۔ رکشے کی ہیڈ لائٹس سے سامنے سڑک پر کھڑے پانی پر روشنی پڑ رہی تھی ۔
رکشے کی دونوں طرف کی بند کھڑکیوں کے باوجود تیز بارش کے تھپیڑے دونوں اطراف سے رکشے میں بارش داخل کرنے کا موجب بن رہے تھے ۔ جوی سمٹ کر رکشے کی سیٹ کے درمیان میں بیٹھی تھی ۔ وہ اپنی آخری ٹیوشن پڑھانے کے بعد گھر واپس آ رہی تھی ۔ رکشہ ہمیشہ کی طرح ان کی تنگ گلی کے سامنے آ کر رکا تھا ۔ یہاں سے اسے پیدل اپنے گھر تک جانا تھا ۔
گھر کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے وہ مکمل بھیگ چکی تھی ۔ بار بار چہرے پر سے پانی صاف کرتی بمشکل سامنے کے منظر کودیکھ پا رہی تھی ۔ تنگ سی گلی مکمل طور پر پانی سے بھر رہی تھی ۔
بمشکل وہ گھر کے دروازے پر پہنچی ۔ دروازہ بجانے کو ہاتھ اٹھایا بجلی چمکی تو روشنی کھلے دروازے سے صحن تک کو روشن کر گئی ۔ دل عجیب طرز میں دھڑکا ” بھلا صحن کا دروازہ کیوں کھلا ہے آج ؟”
تیز تیز قدموں سے گھر کے اندر داخل ہوئی گھپ اندھیرے میں ڈوبا گھر اور ٹوٹی پھوٹی اینٹوں والے فرش کے صحن سے آگے موجود کمرے میں جلتی موم بتی کی ملگجی سی روشنی ظاہر ہوئی ۔ جیسے جیسے صحن سے آگے بنے چھوٹے سے برآمدے تک پہنچی کمرے سے ابھرتی رونے کی آوازوں نے رونگٹے کھڑے کر دیے ۔
” اوہ خدا رحم ” ناجانے کیوں ذہن میں پہلا خیال جان کا آیا تھا ۔ خیال آتے ہی وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھی ۔ جان کی طبیعت کچھ دن سے بہت زیادہ ناساز رہنے لگی تھی ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی جیسے دل دہل گیا ۔ سامنے کا منظر تھا ہی کچھ ایسا ۔ جان چارپائی پر بے حال لیٹا چھت کی طرف ساکن نگاہیں اٹھائے ہوا تھا ۔ مریم کرسی پر نڈھال بیٹھی آنسو بھا رہی تھی۔ سنانا ان کے کندھے کے پاس کھڑی ان سے کچھ کہہ رہی تھی ۔ وہ سب کو نظر انداز کرتی برق رفتاری سے جان کی چارپائی تک پہنچی ایسا لگ رہا تھا دماغ میں طوفان کی جھکڑ چل رہے ہیں ۔
” ابا!!!!!!”
جیسے ہی جان پر جھکی ان کے وجود کی جنبش سے جیسے جان میں جان آئی ۔ وہ ٹھیک تھے لیکن افسردگی سے آنکھوں کی پتلیاں چھت پر جمائے ہوئے تھے ۔ حیرت سے وہ کمرے میں موجود باقی نفوس کی طرف پلٹی ۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ؟ “
جوی نے ناسمجھی میں باری باری سب کے چہروں پر نگاہ دوڑاتے ہوئے سوال کیا ۔ غالباً سوال اس وقت موجود تمام نفوس سے ہی تھا ۔
” اماں کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہیں ؟ “
چند قدم آگے بڑھتے ہوئے مریم کی طرف تشویش سے دیکھتے ہوئے استفار کیا ۔ مریم تو جیسے اپنے حواسوں میں نہیں تھی ۔ اس کی سسکیاں اور بین پورے کمرے میں گونج رہا تھا۔
” سنانا کوئی بتائے گا مجھے پاگل ہوں جو اکیلے اکیلے بندے سے پوچھے جا رہی ہوں “
جوی نے جھنجلا کر روتی سنانا کو اپنی طرف موڑا ۔ اس کی آنکھیں اور پلکیں بھیگی ہوئی تھیں ۔
” جووت کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے ” روندھایا لہجہ تھا ۔
” کیوں ۔۔۔۔ کیسے؟ “
سنانا کے جواب پر اس کی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں ۔ پیشانی پر تجسس کی جگہ اب پریشانی کی لکیریں تھیں ۔
” چوری کی ہے دوستوں کے ساتھ مل کر ۔ “
سنانا کی آواز بمشکل حلق سے برآمد ہو رہی تھی ۔ جوی اپنی جگہ ساکن رہ گئی ۔ خبر ہی ایسی تھی ۔ اچھا تو یہ وجہ تھی وہ آجکل رات گئے تک گھر سے باہر رہنے لگا تھا ۔ وہ گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں اتنی مگن تھی کہ کبھی اس کی خبرگیری لی ہی نہیں ۔ پتہ نہیں کب وہ بری صحبت کا شکار ہوا اور آج ۔ خاموشی کچھ لمحے یونہی نگل گئی ۔
” اماں پریشان نہ ہوں میں کچھ کرتی ہوں “
آمنہ کا خیال آتے ہی جیسے امید کی کرن نظر آئی اس کا بھائی پولیس میں ایک اچھے عہدے پر فائز تھا ۔
” کیا کرو گی معاملہ اتنا آسان نہیں ہے جو تم کچھ کر سکو گی ؟ “
وہ گھوم کر اب موبائل کے سگنل پورے کر رہی تھی جب سنانا کی عقب سے آتی آواز پر اس کے نمبر ملاتے ہاتھ وہیں تھم گئے ۔
” کہ۔۔ کیا مطلب ؟ “
وجود ایک دم گھوم گیا ۔ پیشانی پر تیوری چڑھائے سوال کیا ۔ سنانا نے لمحہ بھر کو نگاہیں چرائیں ۔
” دوستوں کے ساتھ مل کر جس گھر میں چوری کی ہے ان کا بیٹا گولی لگنے سے مر گیا ہے “
سنانا نے گھٹی سی آواز میں جیسے دھما کیا تھا ۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل ایک لمحے کو کانپ گیا ۔
“کہ ۔۔ کیا ۔۔۔ کہہ رہی ہو ؟ “
کانپتی آواز میں بے یقینی تھی اور خوف تھا ۔
” ہاں صیح کہہ رہی ہوں ایسا ہی ہے “
سنانا کے جواب پر دل بیٹھ گیا ۔ بیٹھے دل اور کانپتے ہاتھوں سے وہ پھر بھی آمنہ کا نمبر ملا چکی تھی ۔
☆☆☆☆
” دیکھا یہ سب کیا سے کیا ہو گیا ۔ “
ہاروی نے ہاتھ میں پکڑا ٹی وی ریموٹ پوری قوت سے دیوار میں مارا ۔ پاس بیٹھے بروس نے ریموٹ کے دھماکے کے سنگ آنکھیں زور سے بند کیں ۔
ریموٹ دو ٹکڑے ہو کر اب زمین بوس تھا ۔ ٹی وی سکرین پر بار بار دران کی پریس کانفرنس کے کچھ مناظر دکھائے جا رہے تھے ۔ ٹی وی سکرین کے سامنے لگے صوفوں پر ہاروی اور بروس حیرت کدہ بیٹھے تھے ۔ شیشے کے میز پر سجے گلاسوں کے پیندوں میں اب بھی مے موجود تھی ۔ ہاروی کے غصے نے بروس کے چہرے پر خفت کے آثار بڑھا دیے ۔ ایک جھٹکے سے اس نے سامنے پڑے گلاس کو اٹھایا اور گلاس میں موجود مے زہر کی طرح حلق میں انڈیلی ۔
” مجھے کیا پتا تھا یہ سب ہو گا “
ندامت بھرا لہجہ تھا وہ لب بھینچے ہوئے تھا نگاہیں سامنے ٹی وی سکرین پر ہی جمی تھیں ۔
فلم کی شوٹنگ کے چین میں ہونے والے تمام مناظر تو مکمل ہو چکے تھے لیکن اب باقی شوٹنگ امریکہ میں تھی ۔
” لیکن مجھے پتا تھا یہ سب ہو گا ۔ درانگ بہت ذہین اور چالاک ہے۔ یہ تمہیں میں بار بار کہتا رہا ہوں۔ تم نے میری ایک بات نہیں سنی اب بھگتنا سب کو پڑے گا ۔ “
” مانتا ہوں مجھ سے بڑی غلطی ہوئی ۔ شیون کے معاملے الگ پھنسے ہیں لیکن اب سمجھ یہ نہیں آ رہا کہ یہ لڑکی کیا واقعی اسے جانتی تھی پہلے یا درانگ نے اب یہ ساری کہانی گھڑی ہے ۔ “
پروس نے ٹھوڑی سہلاتے ہوئے آنکھیں چندھی کیں ۔
” جانتی تھی یا نہیں جانتی تھی پر یہ لڑکی تمہیں ضرور پہنچانتی ہے کہ تم نے اسے درانگ کے پاس بھیجا تھا “
ہاروی نے دانت پیسے ۔
” بات کرو شیون سے وہ کسی صورت ان کو یہاں سے نکلنے نہ دے ۔ کیا کر رہا ہے وہ ؟ کہاں ہے اس کی پاور درانگ دندناتا پھر رہا ہے ۔ “
” شیون کچھ نہیں کر سکتا پولیس بہت الرٹ ہے آجکل اور ہر جگہ چھاپے مار رہی ہے ۔ وہ انڈر گراؤنڈ ہو گیا ہے “
ہاروی کا لہجہ تلخ تھا ۔
” تو پھر اب کیا “
” اب یہ کہ وہ نکل جائے گا امریکہ کے لیے ۔ دیکھا نہیں کیسے سکیورٹی مانگ لی ہے اس نے “
ہاتھ کا اشارہ پھر سے سکرین کی طرف کیا جہاں دران مائک تھامے ہوئے کچھ بول رہا تھا ۔
ہاروی ایک جھٹکے سے صوفے پر سے اٹھا اور کمر پر ہاتھ دھرے پریشان لہجے میں بتایا ۔
” اب ہمیں درانگ کو یہ شو کروانا ہے کہ ہم اس سارے معاملے سے انجان ہیں ۔ بالکل نارمل انداز میں اسے کال کرو اور کہو کہ فلم کی شوٹنگ کے لیے کب سے آ رہا ہے “
ہاروی نے گہری سانس لیتے ہوئے بروس کو اپنے اگلے لائحہ عمل کے بارے میں ہدایت دی ۔ بروس نے کچھ بولنے کے لیے ہاتھ اٹھائے لب کھولے ۔
” چپ ۔۔۔ اب کچھ بھی تمھارے مشورے پر نہیں ہو گا ۔ سب میرے مشورے پر ہو گا ۔ جو میں کہوں گا تم وہی کرو گے زیادہ ہوشیاری مت دیکھانا “
ہاروی کے گھورنے پر وہ لب بھینچے سر ہلا گیا ۔ گہری سانس لی اور بوتل کو اٹھائے آب آتشیں پھر سے گلاس میں انڈیل دیا ۔
☆☆☆☆☆☆
چڑھتی شام کی شربتی ٹھنڈی شعاعیں بریلوی ہلز کی خوبصورتی کو دوبالا کیے ہوئی تھیں ۔ مضافات میں سبز گھاس میں لپٹے چھوٹے بڑے پہاڑ اور کانچ جیسے خوبصورت گھر وہ گاڑی کی کھڑکی کے شیشے سے پار متواتر باہر کے نظاروں کو دیکھ رہی تھی ۔
سفید ڈھیلی سی شرٹ کے نیچے ہلکے مسٹرڈ رنگ کی پیروں کو چھوتی سکرٹ زیب کیے , بال جو ابھی تک سیدھے تھے کندھوں سے نیچے دائیں بائیں بازؤوں کو چوم رہے تھے ۔ گندمی زرد ہوتے گالوں والا چہرہ ہر طرح کے میک اپ سے عاری تھا۔ سیاہ آنکھوں کی سفید پتلیاں شفاف تھیں اور پتلیوں کے مرکز میں گزرتے ہر منظر کا عکس ابھر رہا تھا ۔ امریکہ کی ٹھنڈک گرم کار میں بھی اس کے ناک کو ہلکا سا گلال کئے ہوئے تھی ۔ دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر دھرے وہ اس وقت گاڑی کی پچھلی نشت پر دران کے برابر میں بیٹھی تھی ۔
دران مہندی رنگ لیدر جیکٹ کے نیچے گول گلے والی گرے شرٹ پہنے ہلکے سے بکھرے بالوں سمیت سر جھکائے موبائل سکرین پر کچھ دیکھنے میں مصروف تھا ۔ ایک ہاتھ میں موبائل تھام رکھا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ دھیرے سے لبوں کے نیچے ٹھوڑی کو پرسوچ انداز میں سہلا رہا تھا ۔
وہ لوگ چائنہ سے بحفاظت امریکہ پہنچ گئے تھے لیکن اب یہاں اس کو درانگ ولاس کی سکیورٹی جوی کے مطابق سیٹ کرنی تھی ۔ سیاہ رنگ کی لینڈ کروزر اب سست روی سے درانگ ولاس کے گیٹ کے اندر داخل ہو رہی تھی ۔ انل اب ان کے ساتھ نہیں تھا ۔ وہ فلائٹ سے اترتا ہی اپنے فلیٹ کی طرف روانہ ہو چکا تھا ۔
جوی کی آنکھیں پوری اوپر اٹھیں تھیں ۔ جن میں اب درانگ ولاس کا عکس چمک رہا تھا ۔ یہ گھر نہیں خوابوں کا محل تھا جو اس وقت اسے اپنی خوبصورتی کے سحر میں جکڑ رہا تھا ۔ گاڑی پورچ میں کھڑی ہو چکی تھی ۔
گارڈز گاڑی کے دونوں اطراف کے دروازے کھول رہے تھے ۔ اس کی طرف کا دروازہ کھولے گارڈ اس کے نکلنے کا منتظر تھا جبکہ وہ متحوش بیٹھی تھی ۔ اس کے یوں منجمد ہو جانے میں حیرت ۔۔۔ جھجک ۔۔۔ بے یقینی سب شامل تھا ۔
” جوی باہر کیوں نہیں نکل رہی آپ ؟ “
دران نے ہلکا سا جھک کر گاڑی میں جھانکا ۔ وہ بھنویں اوپر اٹھائے حیرت سے پوچھ رہا تھا ۔ جوی خفت سے سٹپٹائی پھر آہستگی سے گاڑی کے دروازہ کا سہارا لیتے ہوئے باہر نکلی ۔
” ویلکم ہوم سر “
کتنے ہی ملازمین ایک مخصوص وردی میں ملبوس ہاتھ باندھے ایک قطار میں کھڑے تھے اور دران کے پاس سے گرزرتے ہوئے اسے ویلکم کر رہے تھے ۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دران کے پیچھے چل رہی تھی ۔ سر حد درجہ جھکائے عجیب سے احساس سے دوچار تھی ۔
پورچ سے آگے مین دروازے میں داخل ہوتے ہی رہداری میں دائیں اور بائیں لگی پینٹنگز کو نگاہ اٹھائے دیکھتی وہ دران کے پیچھے اب لاؤنج میں داخل ہو چکی تھی ۔
“ویلکم ہوم “
ملک اسفند کی آواز تھی ۔ دران نے چونک کر موبائل پر سے نگاہ اٹھائی ۔ لاؤنج میں اسفند ملک صوفے کے پاس کھڑے تھے جبکہ روبی آنکھوں کی پتلیوں کو سکوڑے دران کے پیچھے کھڑی جوی کو دیکھ رہی تھی ۔
اسفند ملک آگے ہو کر بڑے پرجوش انداز میں دران سے بغل گیر ہوئے ۔
” کیسے ہیں آپ ؟ “
ان کی گرم جوشی کے بلکل برعکس پھیکا سا لہجہ تھا ۔ بے تاثر چہرہ ۔ اسفند ملک اسے کندھوں سے تھامے ہوئے پیچھے ہوئے ۔
” میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کیسے ہو ؟ “
کن اکھیوں سے جوی کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ لہجہ اب بھی خوشگوار تھا ۔ دران کی مسلسل توجہ موبائل کی طرف مبذول تھی ۔
” ویلکم ہوم سر “
روزین پیشہ ورانہ مسکراہٹ سجائے لاؤنج میں داخل ہوئی ۔ دران نے روزین کے آتے ہی موبائل پر سے توجہ ختم کی ۔ سر اوپر اٹھایا ۔ موبائل کو جیب میں رکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ جوی کی طرف کیا ۔
” میم کو ان کے کمرے میں لے جائیں۔ “
بڑے متوازن لہجے میں حکم صادر کیا ۔ وہ بنا جوی کی طرف دیکھے تیز تیز قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھا چکا تھا ۔
” میم کم “
روزین نے محبت بھری مسکان کے ساتھ میٹھے لہجے میں اسے اپنے سنگ چلنے کا کہا جو دران کی پشت کو دیکھ رہی تھی ۔ روزین کے پکارنے پر وہ ہلکا سا چونکی اور پھر اس کی تقلید میں قدم آگے بڑھائے ۔
” رکو لڑکی “
روبی کی تیکھی آواز میں تلخی کا عنصر واضح محسوس کیا جاسکتا تھا ۔ جوی کے بڑھتے قدم تھمے ساتھ ہی روبی کی طرف نگاہ اٹھی ۔ وہ صوفے کے دونوں بازؤں پر وزن ڈالتے ہوئے بڑے انداز میں اٹھی تھی ۔
ہلکے گلابی رنگ کے ڈھیلے سے گھٹنے تک آتے کرتے کے نیچے وہ جینز پہنے ہوئی تھی ۔ میک اپ سے اٹا مغرور چہرہ ہلکے سنہری رنگ زدہ بال دودھ جیسی چمکتی رنگت وہ جدید طرز کے ہر فیشن سے لیس خوبصورت عورت تھی۔
” کیا نام ہے تمھارا ؟ “
تیکھی سی نگاہوں سے گھورتی وہ جوی کا مکمل جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔ انداز میں حقارت جیسا احساس بھی تھا ۔
” جوی “
آہستگی سے جواب دیا ۔ ملک اسفند ہنوز وہیں کھڑے تھے ہاں پوری توجہ اب جوی اور روبی کی طرف تھی ۔
” یہ کیسا نام ہوا عجیب سا خیر تم سے بہت میچ کرتا ہے ۔ پاکستان سے ہو ؟ “
خرانٹ لہجہ اور چہرے کا کھچاؤ اس کی نفرت کا غماز تھا ۔ اس کی چبھتی نگاہیں جوی باخوبی محسوس کر رہی تھی ۔
” کراچی “
گھٹی سی آواز میں مختصر جواب دیا ۔ روزین جو ہاتھ باندھے کھڑی تھی چور سی نگاہیں اٹھائے روبی کے انداز کو جانچ رہی تھی ۔ اردو سمجھنے سے تو قاصر تھی ہاں البتہ اتنا ضرور سمجھ میں آ رہا تھا کہ وہ جوی کو پریشان کر رہی ہے ۔
” ہوں ۔۔۔ “
جوی کے جواب پر روبی کا پرسوچ ہنکارا ابھرا ۔
” میم سوری ٹو سے ۔۔۔ دران سر نے ان کو روم میں لے جانے کا کہا ہے اس کے بعد مجھے ڈنر سرو کروانا ہے ۔ کائنڈلی آپ لنچ پر بات چیت کر لیجیے گا “
روزین جوی کی ہچکچاہٹ اور روبی کی تلخی باخوبی سمجھ چکی تھی ۔ بڑے تحمل مزاج انداز میں اس نے روبی سے اس کی جان چھڑوائی ۔ روبی بدمزہ سی صورت کے ساتھ لب بھینچے سر ہلا کر رہ گئی ۔
” میم چلیے پلیز ۔ اوپر ہے آپکا کمرہ “
روزین نے مسکراتے ہوئے اسے چلنے کا کہا ۔ روبی کی چبھتی نگاہوں سے گڑبڑاتے ہوئے اس نے جلدی سے روزین کے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
لاؤنج کے وسط سے چڑھتے زینے کے پاس لگی لفٹ کے پاس جا کر روزین رکی اور پھر مسکراتے ہوئے مڑی ۔
” میم چلیے “
شیشے کی دیوراوں والی لفٹ کا دروازہ کھل چکا تھا ۔ اس کے اندر داخل ہونے کے بعد روزین نے لفٹ میں قدم رکھے اور لفٹ نرم روی سے اوپر چڑھنے لگی ۔ ایک سکینڈ سے بھی کم وقت میں لفٹ رکی تھی اور دروازہ نرماہٹ سے دوبارہ کھل گیا ۔
شیشے کی طرح چمچماتا سفید فرش اور لاؤنج سے آگے چھوٹی سی راہداری میں کمروں کے گہرے بھورے رنگ کے دروازے تھے ۔ روبی اب ایک دروازے کے آگے رک کر اس کے ہتھے پر ہاتھ رکھے اس کے وہاں تک پہنچنے کی منتظر تھی ۔
جوی کے پہنچتے ہی اس نے مسکراتے ہوئے دروازے کو کھولا ۔ سفید اور ہلکے میرون رنگ کے امتزاج لیے کمرہ رنیویشن کرنے والے کے اعلی ذوق کی عکاسی کر رہا تھا ۔
” میم سر کے کہنے کے مطابق کمرے میں آپکی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔ اگر پھر بھی آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو آپ روم انٹرکام یوز کر سکتی ہیں یہ میرے آفس سے ملحقہ ہے ۔ “
روزین ہاتھ باندھے بڑے مؤدب لہجے میں اسے تمام معلومات دے رہی تھی ۔ جوی نے آہستگی سے مسکراتے ہوئے سر کو اثبات میں جنبش دینے پر اکتفا کیا ۔
” میم کچھ دیر میں ڈنر ریڈی ہو جائے گا آپ فریش ہو جائے “
روزین مڑتے ہوئے رک کر اسے پھر سے لنچ کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد اب بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھا چکی تھی ۔ جوی نے تحیر زدہ آنکھوں کو کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک دوڑایا تھا ۔
سفید چادر میرون کشن والا وسیع گداز بیڈ ایک دیوار میں نصب شیشے کی کھڑکی اور دوسری دیوار میں شائد سلائیڈنگ ڈور بالکنی کا تھا ۔ بے اختیار قدم بالکنی کی طرف بڑھے تھے ۔
شیشے کے بنے سلائیڈنگ دروازے پر ہاتھ رکھے نرماہٹ سے اس نے دروازے کو بائیں طرف سرکایا ۔ یخ بستہ ہوا کے جھونکے نے ایسا خیر مقدم کیا کہ کندھوں سے آگے بال پیچھے کے رُخ اڑنے لگے ۔
بالکنی دلکش کمرے کا حسین حصہ ثابت ہوئی تھی اور سامنے کا نظارہ دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی ۔
” ارے پگلی پل بھر کو یہ سوچ کہ یہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ کی گندی سی بالکنی نہیں ہے , یہ تو ایک بہت ہی بڑے بنگلے کا حسین ٹیرس ہے , ایک طرف جھولا لٹک رہا ہے اور ایک طرف میز پر مشروب سجے ہیں ماربل کا کانچ جیسا سفید فرش ہے اور سامنے یہ گندا سا میدان نہیں ایک سمندر ہے اور نیچے یہ میلی کچلی پان کی دوکانیں نہیں بلکہ سوئمنگ پول ہے “
اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ ذہن میں گونج رہے تھے اور وہ ساکن اس حسین منظر کو تاک رہی تھی جو اس کے خواب کی حقیقت تھا ۔
اچانک نیچے موجود سوئمنگ پول سے آتی چھپاک کی آواز پر چونک کر نگاہ جھکائی ۔ دران نیلے شفاف پانی میں تیراکی کر رہا تھا ۔
” اف اتنی ٹھنڈ میں ۔۔۔۔ ” حیرت سے منہ کھل گیا ۔
