Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 20)Part 1
Rate this Novel
Basil (Episode 20)Part 1
Basil by Huma Waqas
سوئمنگ پول کے نیلے شفاف تالاب کے کونوں سے ٹھنڈی بھاپ اڑاتے پانی میں وہ بڑی مہارت سے تیراکی کرنے میں مصروف تھا ۔
پول کے قریب وردی میں ملبوس ملازم ہاتھ میں سفید رنگ کا ٹاول گاؤن تھامے سر جھکائے کھڑا تھا ۔ پول کے پاس سفید رنگ کے بنچ لگے تھے ۔ وہ یونہی ٹکٹکی باندھے اسے شفاف پانی میں الٹا تیرتے ہوئے دیکھ رہی تھی جب وہ بازؤ پانی میں چپو کی طرح چلاتا اچانک سیدھا ہوا ۔
دران کی نظر یک لخت ٹیرس کی ریلنگ تھامے کھڑی جوی پر پڑی ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں وہ سٹپٹا کر پیچھے ہوئی ۔
” اف ۔۔۔اف۔۔۔ اس نے دیکھ لیا کیا ” دل تیزی سے ہچکولے کھانے لگا ۔ خفت کے مارے تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے میں آئی اور سلائیڈنگ دروازہ سرکا کر فوراً بند کیا ۔ کمرے کی حدت نے جسم کو راحت بخشی ۔
” میں کیوں یہی محسوس کر رہی ہوں کہ میں اس کے احسان تلے دبی ہوں ۔ وہ بھی تو مجھے اپنے کسی مقصد کے لیے استعمال کر ہی رہا ہے ۔ ” ذہن دل کی خفت کو کم کر رہا تھا۔
چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی کمرے سے ملحقہ ڈریسنگ روم تک آئی جہاں واش روم کے دروازے کے سامنے پوری دیوار میں سفید چکمتے دروازے والی الماری نصب تھی ۔ آہستگی سے الماری کہ دروازہ سرکایا تو آنکھیں اور قدم ایک ساتھ تھم گئے ۔ یہ الماری نہیں الماری نما پورا کمرہ تھا ۔ کمرے میں ایک قطار میں لگے ہینگنگ سٹینڈ پر انگنت بیش قیمت جوڑے لٹک رہے تھے ۔ جوتے کے رینکس میں چند جوتے بڑے سلیقے سے رکھے گئے تھے ۔ لمحہ بھر کے لیے ایسا لگا وہ کسی دوکان میں کھڑی ہے ۔ اچانک ذہن میں وہ لمحہ کوند گیا جب دران نے چین میں شاپنگ کے دوران اس کے جوتے اور کپڑے کا سائز پوچھ کر کسی کو بتایا تھا ۔
یونہی سراسیمگی کی حالت میں قدم اٹھاتی کپڑوں کے ہینگنگ سٹینڈز کے قریب آئی قیمتی جدید طرز کی پینٹ شرٹس , جیکٹس , سکرٹس , گرم کوٹ جن کے گریبان پر لگے ٹیگ تک نہیں اتارے گئے تھے ۔ وہ ہاتھوں کی مدد سے ان کو ایک طرف سرکاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
کپڑوں کے ہینگر کے سرکنے کی آواز کے ساتھ کسی فون رنگ ٹون جیسی آواز تھی جو کمرے سے ابھری تو وہ چونکی ۔ ڈریسنگ روم سے باہر آئی تو بیڈ کے اطراف میں لگے میز پر پڑا انٹرکام بج رہا تھا ۔
ہلکی سی جھجک کے ساتھ ریسیور اٹھا کر کان کو لگایا ۔
” ہیلو میم آپ ریڈی ہیں ۔ دران سر نے کہا ہے ڈنر آپکو آپکے کمرے میں پیش کر دیا جائے ۔ “
روزین کی آواز فون بوتھ سے ابھری ۔
” میں فریش ہونے کے بعد آپکو بتاتی ہوں۔ “
” ٹھیک ہے میں انتظار کر رہی ہوں “
انٹرکام کا ریسور رکھنے کے بعد تذبذب کی حالت میں وہ دوبارہ ڈریسنگ روم میں موجود تھی پھر لانگ گرے رنگ کی ٹی شرٹ اور سیاہ پنٹ کا انتخاب کرنے کے بعد واش روم کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
☆☆☆☆☆☆
تیز بارش بجلی کی گرج چمک پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھی ۔ آنسو برساتے آسمان والی یہ گہری شام ملک ہاؤس پر غم کا پہاڑ توڑے ہوئے تھی ۔ لاؤنج سے اُٹھتی چیخ و پکار دل دہلا دینے والی تھی ۔ ایک ساتھ کتنے ہی دل تھے جو پھٹنے کی حد کو پہنچے آہ بکا کر رہے تھے ۔ بین کر رہے تھے ۔ تڑپ رہے تھے ۔
لاؤنج کے وسط میں یاور کفن میں لپٹا ان سب کی چیخ و پکار سے بے بہرہ ۔۔۔ پرسکون ۔۔۔ پرنور ۔۔۔۔ سفید ۔۔۔ چہرے کے ساتھ آنکھیں موندے لیٹا تھا ۔
سونیا اور دکھ سے نڈھال ہوتی سبرینا پلنگ کی پائینتی تھامیں دھاڑیں مار رہیں تھیں ۔ دستگیر بیگم نڈھال تھیں ان کا سکتہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ وہ یک ٹک زرد ۔۔۔ ساکن ۔۔۔ جھری دار آنکھیں غیر مرئی نقطے پر جمائے بیٹھی تھیں ۔ طلعت اور عصمت کے اونچے اونچے بین دیواروں سے ٹکر کر دم توڑ رہے تھے ۔
ان سب میں وہ موجود نہیں تھا جو یاور کی آخری چلتی سانسوں کے وقت تک اس کے ساتھ تھا ۔ غم میں چور ملک ہاؤس میں کسی کو کیا خبر وہ تو دور لائینز ایریا کے سامنے موجود پارک میں بنچ پر سر جھکائے بے آواز آنسو بہا رہا ہے ۔ وہ زندگی میں پہلی مرتبہ رو رہا تھا ۔ آنکھوں سے نکلتا نمکین سیال تیز بارش میں ایک پل کے لیے بھی چہرے پر نہیں ٹھہر رہا تھا ۔
تیز بارش کے تھپیڑے متواتر اس پر برس رہے تھے مگر ذہن میں یاور ملک کی کہی ہوئی آخری باتوں کے جھکڑ چل رہے تھے ۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے یہاں بیٹھا ذہن میں وہ آخری منظر ہزراوں بار دہرا چکا تھا ۔
وہ اس لمحے کو تھام لینا چاہتا تھا ۔ اسے پلٹ دینا چاہتا تھا ۔ کتنا بے بس تھا وہ اس وقت کچھ۔۔۔ کچھ بھی نہیں کر سکا اور اس کا ہر دل عزیز باپ جیسا چچا اس کے ہاتھوں میں جان دے گیا ۔
سفید چادر میں لپٹے بستر مرگ پر لیٹے یاور ملک نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔ انگنت نالیوں میں جکڑا ناتواں چہرہ ۔ آنکھوں کے گرد گہرے حلقے۔ وہ تو ایک مہینے میں برسوں کے بیمار لگ رہا تھا ۔ دل کے ایک جھٹکے نے نچوڑ کر رکھ دیا تھا ۔انیس سالہ دران اس کے بیڈ کے قریب کھڑا محبت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔
” دران ۔ن۔ن۔ن۔۔ہ۔ہ۔۔۔مجھے۔۔۔ لگ رہا ہے میں۔۔۔ اب زیادہ دیر۔۔۔۔ نہیں ہوں یہاں ۔میرا ۔۔۔۔۔وقت بہت قریب ہے “
نقاہت سے کہتے ہوئے وہ نگاہیں دران کے چہرے پر ٹکائے ہوئے تھا ۔ آنکھوں کی پتلیوں میں چمک نہیں تھی ۔
” چاچو ایسی باتیں مت کریں ۔ کچھ نہیں ہو گا آپکو ۔ “
دران کی بات پر یاور کے پژمردہ چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیلی ۔ پیلاہٹ زدہ گال جو اب ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے تھے مسکراہٹ کے سبب اوپر کو اٹھے ۔
آہ۔۔۔ یہ مسکراہٹ ۔۔۔ ایک مہینے پہلے تک یہ جاندار مسکراہٹ اس کے سرخ چہرے کے پٹھے کھینچتی تھی تو خوبصورت چمکتی آنکھیں اور چمکنے لگتی تھیں ۔
” دران میں جاتے ہوئے۔۔۔۔ تمہیں ۔۔۔۔ایک سچ بتانا چاہتا ہوں ۔ ایک ایسا سچ ۔۔۔۔ جو تمہاری زندگی سے جڑا ہے ۔ اگر میں نے تمہیں یا نہ بتایا تو بہت زیاتی کر جاؤں گا۔۔۔۔۔ تمھارے ساتھ ۔۔۔ شازیہ باجی کے ساتھ ۔۔۔۔ “
وہ ایک پل کے لیے نگاہیں جھکا گیا ۔ دران اس کے ہاتھ کی کپکپاہٹ اپنے ہاتھ پر باخوبی محسوس کر رہا تھا ۔ بولنے کے باعث اس کی سانس اکھڑنے لگی تھیں ۔
” چاچو بعد میں بتا دیجیے گا ۔ ابھی مت بولیں ڈاکٹر نے منع کیا ہے زیادہ بولنے سے “
دران نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے ہوئے محبت سے منع کیا ۔ جبکہ ذہن ان کی کسی انہونی سوچ پر ٹھٹک گیا تھا ۔ وہ کوئی بہت ہی گہرا راز بتانے جا رہے تھے ۔ ایسا راز جو اس کی کایا پلٹ کرنے والا تھا ۔
“نہ۔۔نہیں ۔۔۔ میرے پاس وقت بہت کم ہے اور یہ بات بتانا بہت ضروری ہے ۔تم۔۔۔۔ دران تم نوین بھائی کے۔۔۔ بیٹے نہیں ہو ۔ “
وہ نظریں چرا کر کانپتے لہجے میں اس پر یہ حیران کن انکشاف کر گئے جس کے لیے وہ ذہن کو تیار کر ہی رہا تھا ۔ دران نے حیرت سے بھنویں اکٹھی کیں ۔ چہرے پر ایک سایہ لہرا گیا ۔ ایسا انکشاف ۔۔۔
” تمھاری ۔۔۔۔ ماں ایک امریکن یہودی عورت تھی ۔ لیکن وہ نوین بھائی کی بیوی نہیں تھی ۔ مطلب۔۔۔۔۔ تم۔م۔م نوین بھائی کے بیٹے نہیں ہو۔۔۔۔ تمھارا باپ کوئی اور ہے ۔ “
یاور نے نگاہیں اٹھائیں جن میں شرمندگی کی گہری چھاپ تھی ۔ سانس کے اکھڑنے میں اضافہ ہو چکا تھا مگر دران اب متحوش کھڑا تھا ۔
” پھر میں کس کا بیٹا ہوں ؟ “
حیرت میں ڈوبی دور کنویں سے آتی آواز ۔ وہ ہنوز بھنویں سکیڑے حیرت زدہ کھڑا تھا ۔
” پتا نہیں ۔ں۔ں۔۔۔۔۔۔ لیکن۔ن۔ن۔ اتنا پتا ہے ۔۔۔۔۔کہ تم نوین بھائی کے بیٹے نہیں ہو ۔ تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں صرف نوین بھائی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا بنا کر لایا گیا ہے ۔ “
یاور ملک نے نگاہوں کا زاویہ پھر سے بدلا ۔ سانس کا اکھڑنا اب ہلکی سی کھانسی میں بدلنے لگا ۔
“تم۔۔۔ تمھارا۔۔۔۔۔ اصل باپ۔۔۔۔۔۔۔ کون ہے۔۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف اسفی بھائی جانتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یہ حقیقت بہت دیر سے پتا چلی اور اس سے پہلے کہ ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ میں کچھ کرتا یا۔۔۔۔ ان کا گریبان پکڑتا۔ا۔ا۔ا ۔۔۔ زندگی نے ۔۔۔۔۔۔میری معیاد کم کر دی۔۔۔۔ “
کھانسی کے باعث یاور کی آواز اکھڑنے لگی تھی ۔ ہلکی ہلکی کھانسی اب شدت اختیار کرنے لگی ۔ پتلیوں میں پانی چمکنے لگا ۔ دران تو ایسے کھڑا تھا مانو کاٹو تو لہو نہیں ۔
” دیکھو ۔۔۔ اسفی بھائی۔ی۔ی۔ی ۔۔۔ نہ ۔۔۔۔۔صرف میرے بڑے بھائی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ میرے۔۔۔۔۔۔۔۔ باپ جیسے ہیں ۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ۔۔۔ نہیں جانتا انہوں۔۔۔ نے۔۔۔۔۔ یہ گناہ کیوں کیا ۔ لی۔ لیکن۔۔۔ تمہیں سچ۔چ۔۔۔۔۔ بتانا میرا فرض تھا ۔ “
کھانسی اب بہت زیادہ تیز ہو چکی تھی ۔ ہر لفظ کے بعد بے تحاشہ کھانستے ہوئے یاور نے بمشکل جملہ مکمل کیا ۔
” ۔چا۔۔۔چاچو میں ۔۔۔ میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں “
دران نے حواس باختہ ان سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور دروازے کی طرف تقریباً بھاگا تھا ۔
بارش کے تھپڑ اس کی پیٹھ پر اور گالوں پر لگاتار پڑ رہے تھے ۔ یاور کی موت اس سے محبت کرنے والے ایک رشتے کے ساتھ دوسرے رشتے کو بھی نگل گئی ۔ آج تک وہ یاور کے بعد اسفند ملک کو دل میں ایک مقام دیتا تھا ۔ یاور نے جاتے جاتے اسفند ملک کے اس مقام کو بھی ختم کر دیا تھا ۔
وہ ملک خاندان کا خون نہیں تھا ۔ وہ نوین ملک کا بیٹا نہیں تھا ۔ پھر وہ کون تھا ۔ اسفند ملک اسے صرف دولت حاصل کرنے کے لیے لائے تھے ۔ آخر کیوں؟ ۔۔۔ یاور چاچو کو یہ بات کب اور کیسے پتا چلی ؟
وہ آج ایک انسان سے ایک مہرہ بن گیا تھا ۔ جسے اس کی ماں نے شائد بیچ دیا تھا اور اسفند ملک جیسے سفاک انسان نے اسے خرید کر ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا تھا ۔ کل تک وہ ملک ہاؤس میں قدم رکھتے ہوئے یہ محسوس کرتا تھا کہ اس کا بھی کچھ حق ہے اس گھر پر لیکن آج پتا چلا اس کا کوئی حق نہیں ہے ۔ وہ تو کٹھ پتلی تھا ۔ جس کی ڈور اسفند ملک کے ہاتھوں میں تھی ۔ وہ نچا رہا تھا اور وہ ناچ رہا تھا ۔ دھڑام سے کوئی آسمان سے زمین پر آ گرا تھا ۔
☆☆☆☆☆
جہازی سائز کمرے میں دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک کمرے میں موجود گہرے سکوت کو توڑ رہی تھی ۔ وہ صبح آٹھ بجے سے کمرے میں یوں بے مقصد بیٹھی تھی اور اب شام کے چار بج رہے تھے ۔
ناشتہ اور دوپہر کا کھانا روزین اسے کمرے میں ہی دے گئی تھی ۔ اس کے پوچھنے پر روزین نے بتایا تھا کہ سب سو رہے ہیں ۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا دران نے بھیانک پنجرے سے لا کر اس حسین پنجرے میں قید کر دیا ہے ۔ ٹی وی دیکھنے کا شوق اسے تھا نہیں ۔ بالکنی سے کمرے اور کمرے سے بالکنی اب تک وہ ہزاروں چکر لگا چکی تھی ۔
بیڈ کے کنارے پر ٹانگیں لٹکائے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی جب دروازے پر ہونے والی دستک نے گھنٹوں پر محیط خاموشی کو توڑا ۔ نگاہ دروازے پر اٹھی ہی تھی کہ دروازہ کھل گیا ۔
روبی نک سک سے تیار ڈریس کوٹ پنٹ میں ملبوس دروازے کے ہتھے کو تھامے کھڑی تھی ۔
جاری ہے۔۔۔۔
