Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basil (Episode 41)

Basil by Huma Waqas

دران اسے تمام حفاظتی انتظامات کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا جو اس کے سر کے اوپر سے گزر رہے تھے ۔ زیورات , جوتے اس سب میں پتا نہیں کیا کیا تھا جسے اسے استعمال کرنے کا کہہ رہا تھا ۔

آنکھوں میں بہتے آنسو گرم سیال کی مانند کروٹ کے نیچے موجود کان کی لو تک پہنچ رہے تھے۔ دران ایک نا قابل یقین ہی نہیں ۔ ایک پرسرار شخصیت کا مالک تھا ۔ وہ یہ کیسے سمجھنے لگی تھی کہ وہ اسے مکمل طور پر جاننے لگی ہے ۔ نہیں , وہ اسے نہیں جانتی تھی ۔ وہ جس دران کو جانتی تھی ۔ وہ سخت دل تھا , بے حس تھا لیکن اتنا ظالم کہ خود اسے ان لوگوں کے حوالے کر دے گا اس بات کا یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔

دل چاہ رہا تھا چیخ چیخ کر اسے کہے تم چپ کر جاؤ ۔ مجھے تمہیں نہیں سننا ہے ۔ مجھے تمھاری آواز نہیں سننی ۔ مجھے اس لمحے کسی کو نہیں سننا ہے ۔

یہ لمحے تو وہ اب خواب میں کیا ۔ جاگتی آنکھوں سے بھی نہیں سوچا کرتی تھی ۔ اسے یہاں زندگی میں پھر سے آنا پڑے گا ۔ وہی سب کچھ پھر سے سہنا اور دیکھنا پڑے گا ۔ یہ وہم و گمان بھی نہیں تھا ۔

وہ تو اب اپنی ہر دعا میں یہ کہا کرتی تھی کہ جن راہوں سے گزر کر وہ یہاں پہنچی ہے ۔ اللہ اس میں سے کبھی کسی کو نہ گزارے لیکن کیا پتا تھا کہ وہ خود ہی پھر سے یہاں ہو گی اور ایسے ہو گی اس بات کا یقین تو اب تک نہیں آ رہا تھا ۔

وہ شخص جسے اس نے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا تھا ۔ عشق کیا تھا اور وہ خود بھی اس سے محبت کا دعوی کرتا تھا ۔ سب کچھ جانتے بوجھتے اسے اس دلدل میں دھکیل چکا تھا ۔ کیوں کیا اس نے ایسا ؟

منہ پر بندھی پٹی کے باعث وہ بول نہیں سکتی تھی لیکن ذہن چیخ چیخ کر دل سے سوال کر رہا تھا ۔ بے بسی میں جکڑی وہ صرف اسے سن سکتی تھی جو اسے کسی جنگجو کی طرح ہدایات پر ہدایات دیتا خود سپہ سالار بنا ہوا تھا ۔

” میں جانتا ہوں یہ سب بہت مشکل ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں ۔ تمھارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔ تم سب کر سکتی ہو۔ “

واہ ۔ آگ کی بھٹی میں جھونک کر اب وہ اس کے یہاں سے سلامت نکل آنے پر بھی پر یقین تھا ۔

” میں تمھارے ساتھ رابطے میں رہوں گا ۔ بس شِپ سے باہر نکلتے ہی تمہیں میری ہدایات پر عمل کرنا ہو گا ۔ جیسے کہوں احتیاط سے کرتی جانا ۔ “

بے حس ۔ ظالم انسان ۔ وہ اسے کیسے ان لوگوں کے حوالے کر سکتا تھا ۔ اگر ایسا کرنا ہی تھا تو پہلے اسے کیوں بچایا تھا اور اگر اب یہ سب کرنا تھا تو محبت کا اظہار کس لیے تھا ۔ اسے اب دران کی کسی بات پر یقین نہیں تھا ۔ آنکھوں کے سامنے گزشتہ چند دن کے لمحے گزر رہے تھے جس میں وہ اس سے عجیب طرح سے سلوک کر رہا تھا ۔ کبھی چھاؤں بن جاتا تھا تو کبھی دھوپ ۔ کیا یہ دران کا مقصد تھا ؟ جس کے لیے اس نے اس کو پاکستان تک نہیں جانے دیا تھا ۔ کاش اس وقت اس نے دران کی کوئی بات نہیں مانی ہوتی ۔ کاش وہ احسان فراموش بن جاتی ۔

بس تمہیں کسی لمحے بھی کمزور نہیں پڑنا ۔ اچھا میں پھر بات کرتا ہوں ۔ “

بات کرتے ہوئے اچانک وہ اس سے رابطہ منقطع کر گیا ۔ دل خون کے آنسو رونے لگا ۔ جسم کے ہر خلیے میں اٹھتی ٹیس کی لہریں , دل میں بڑھتی گھٹن اور آنکھوں کی چبھن وہ بہت تکلیف میں تھی ۔

” سنو گھبرانا مت ۔ “

اچانک پھر سے دران کی آواز کانوں میں پڑ ی اور پھر خاموشی چھا گئی ۔ گھپ اندھیرا ۔ گہری خاموشی سردی اور بدبو ۔ اس کے حواس اس کے ذہن کا ساتھ چھوڑ رہے تھے ۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا ۔ دران کے کہے آخری الفاظ بند ہوتی آنکھوں میں بار بار ذہن دہرا رہا تھا ۔

” سنو گھبرانا مت ۔ “

☆☆☆☆☆

سیاہ پینٹ کوٹ کے نیچے سفید شرٹ اور سرخ ٹائی میں ملبوس وہ جہاز کی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔ گہری آنکھوں کی ویرانی اور چہرے پر چھائی اداسی اس کے مضبوط جسم میں موجود ایک عدد خالص انسانی دل کے جذبات کی غماز تھی ۔ وہ دل جسے وہ ہار چکا تھا ۔

وہ عجیب اور ظالم نہیں تھا بلکہ اس کی زندگی عجیب و غریب تھی ۔ احمد بیگ صاحب نے اسے کہا تھا کہ خون کے اور دل کے رشتے زندگی جینے کا سبب بنتے ہیں ۔ جویریہ سے محبت کو محسوس کرنے کے بعد اسے بھی یہ لگا تھا کہ وہ اب زندگی جینے لگے گا لیکن وہ ایسا بدقسمت تھا کہ دل کا رشتہ جس سے جوڑا تھا اس سے سب سے گہرا رشتہ ہو کر بھی کوئی رشتہ ہی نہیں تھا ۔

وہ ایک تحقیقاتی جاسوس اور فائٹر ایجنٹ تھا ۔ جاسوسوں کو عام طور پر ان کی ملازمت کے بارے میں کسی کو بھی آگاہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔ اس سے ان کے وقار ، کنبہ یا ان کے دوستوں کے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔

آئی ۔ ایس ۔ آئی کے افسران عام طور پر کچھ کنبہ کے افراد کو اپنی ملازمت کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں کام ہوتا ہے ، خاص طور پر ان کی اہلیہ۔ وہ اپنے کام کی ہر تفصیل پر تبادلہ خیال نہیں کرسکتے ہیں ، لیکن اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کہاں کام کرتے ہیں اور وہ کام کس نوعیت کا ہے لیکن یہاں معاملہ بالکل مختلف تھا ۔ جویریہ اس کی بیوی ضرور بنی تھی لیکن ایجینسی کی نظر میں یہ سب ان کے منصوبے اور تحقیق کا حصہ تھا ۔

دران اسے سچے دل سے نہ صرف اپنی بیوی مان چکا تھا بلکہ اس سے محبت کرنے لگا تھا لیکن ایجنسی اس سب سے بے خبر تھی ۔ جویریہ ان کے لیے ایک قیمتی مہرہ تھی لیکن اس کی ہر طرح سے حفاظت کرنا اور زندہ سلامت وہاں سے نکالنا یہ سب ان کی ذمہ داری تھی ۔

یہ ایک خفیہ جنگ ہوتی ہے ۔ جس میں تمام کھیل دماغ سے اور چھپ چھپا کر کھیلا جاتا ہے ۔ اس جنگ میں سامنے والے کو دھوکا بھی دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دہرا کھیل بھی کھیلا جاتا ہے ۔ درحقیقت یہ بہت حساس معاملا ہوتا ہے کیونکہ بظاہر تو یہ سب برے لوگوں کا اور جرائم پیشہ لوگوں کا کام لگ رہا ہوتا ہے جو پیش پیش نظر آتے ہیں لیکن اس کے پیچھے ایسے ایسے لوگوں کا ہاتھ اور سپورٹ ہوتی ہے جو ہلکی سی بھنک پر پل بھر میں صورت حال بدل سکتے ہیں ۔ یہ لوگ اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ آپ ان کی بینادیں نہیں ہلا سکتے ہیں البتہ وہ آپ کو مسل کر رکھ سکتے ہیں ۔ اس لیے اب ایجینسی کو ان کی بیناد پر بنی اس عمارت کو گرانا تھا ۔

ہاروی اور بروس اپنا کام کرنے کے بعد چھپ گئے تھے ۔ ان کو لگ رہا تھا دران کی جویریہ کے لیے کھوج اس کو ان تک نہ پہنچا دے اس لیے وہ شیون کی ہدایات کے مطابق انڈر گراؤنڈ تھے ۔ ان کی سوچ کے بالکل برعکس ایجینسی کو بھی اب ان سے پہلے ان کے باپ کو پکڑنا تھا جس کا انہیں اور ان کے باپ شیون کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ جویریہ کو ان تک مکمل تیاری کے بعد مہرہ بنا کر بھیجا گیا ہے ۔

وہ اپنی طرف سے جویریہ کو نقل و حمل کے مختلف ذرائع تبدیل کرتے ہوئے لے کر جا رہے تھے تاکہ امریکہ پولیس کسی صورت بھی ان تک نہ پہنچ سکے لیکن دران نے جو ٹریکر چپ اور خفیہ کیمرے اس کے زیورات اور جوتوں میں نصب کیے تھے ان سے نہ صرف وہ جویریہ کو ٹریس کر رہے تھے بلکہ اس کے کانوں میں موجود بالیوں کے اندر لگے پن ہیول کیمرے سے سب دیکھ بھی رہے تھے ۔

وہ لوگ اس بات سے بالکل انجان اب کچھ سفر کے بعد چند حساس جگہوں سے گزار کر جویریہ کو چلتی شپ سے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں سے نکال کر اب چین کی طرف روانہ تھے ۔

☆☆☆☆☆

بیورلی ہلز میں یہ صبح عجیب بوجھل پن لیے ہوئے تھی ۔ برھان اور روبی کے علاوہ درانگ ولاس کے تمام مکین پریشان تھے ۔ برھان کی چھپی خوشی اس کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ کر رہی تھی ۔ سبرینا اپنی پریشانی کو اس سے چھپائے ہوئے تھی کیونکہ دران نے اسے برھان پر کچھ بھی واضح کرنے سے منع کیا تھا ۔ دران نے برھان کو کچھ بھی نہیں کہا تھا وہ اس بات پر حیران تھی لیکن جویریہ کو یوں تقریب میں لے آنے پر اب تک نالاں تھی ۔

برھان کی تقریب میں سے یوں جویریہ کا غائب ہو جانا ۔ ہالی وڈ فلم نگری کی گرما گرم خبر بن گئ تھی ۔ پورے میڈیا میں اس خبر نے تہلکہ مچا دیا تھا ۔ ہر نیوز چینل پر یہ خبر چل رہی تھی ۔

عجیب افواہیں تھیں جو ارد گرد سے اٹھ رہی تھیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا جویریہ کہاں گئی ہے لیکن سب کو جویریہ کے سابقہ شوہر پر شک تھا ۔ وہ شوہر جو دران نے فرضی طور پر سب کے سا منے متعارف کروایا تھا ۔ وہ شوہر جس سے بچا کر وہ جویریہ کو یہاں لایا تھا ۔ امریکہ کی پولیس کا دھیان اس جھوٹی خبر پر رکھنا ضروری تھا ۔ امریکہ پولیس نے مونٹیج میں ہونے والے اس سانحہ کی تحقیقات شروع کر دی تھیں ۔

اب بھی دران نے میڈیا کے سامنے الزام اس کے سابقہ نامعلوم شوہر پر عائد کیا تھا ۔ سب لوگ دران کی اس بات کو سن کر اس پر یقین کر گئے تھے ۔ نہیں یقین تھا تو انل کو نہیں تھا ۔ دران ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اسے کوئی بات واضح نہیں بتا رہا تھا ۔ وہ ہمیشہ کوئی بھی کام کرنے کے بعد اسے آگاہ کرتا تھا اور اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔

وہ الجھا ہوا تھا۔ کل تک تو دران جویریہ سے محبت کرنے کی خبر دے رہا تھا اور پھر اچانک اسے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی تقریب میں لے گیا ۔

دران کل رات ہی اس کو بنا بتائے چین کے لیے روانہ ہو چکا تھا اور اب اس کے بار بار فون کرنے پر وہ اس کا فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔ چائنہ پولیس نے جویریہ کے نامعلوم شوہر کے خلاف کروائی کرنے کے لیے دران کو چین بلا لیا تھا ۔

انل اس وقت درانگ ولاس کے لاؤنج میں بیٹھا تھا اور ہاتھ میں پکڑے فون کو بار بار کان سے لگا کر دران کے فون اٹھانے کا منتظر تھا ۔ رات کس لمحے اس کی آنکھ لگی اور اب جب وہ اٹھا تو پتا چلا دران گھر نہیں ہے ۔ وہ اسے بنا بتائے جا چکا ہے ۔

اچانک موبائل پر پیغام کی آمد کی گھنٹی بجی ۔ اس نے موبائل کو سیدھا کیا اور آنکھوں کو سکرین پر جمایا ۔ یہ پیغام جیسیکا کا تھا ۔ انل اس دن سے اُس کا فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔ وہ اسے اب تک بہت سے پیغامات بھیج چکی تھی ۔ انل نے سکرین کو چھوا ۔ سکرین پر اس کا بھیجا ہوا پیغام جگمگانے لگا ۔

” تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے ہو ؟ “

انگنت پیغام تو بس اسی سوال کے تھے ۔ لیکن ابھی آنے والا پیغام ذرا طویل تھا ۔ اس نے انگوٹھے کی مدد سے پیغام کو کھولا ۔

” دیکھو اگر تم اس بات سے گھبرا گئے ہو کہ میں سب جاننے لگی ہوں اور میں تم پر غصہ کروں گی تو تم غلط ہو ۔ میں ایسا کچھ بھی نہیں کروں گی ۔ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں ۔ آج شام بیکری کے باہر میں تمھاری منتظر ہوں گی ۔ جیسیکا فرینک ۔ “

انل نے گہری سانس خارج کی ۔ دران اس کے بارے میں بھی تو اسے کچھ نہیں بتا کر گیا تھا کہ اسے جیسیکا کو کیا جواب دینا ہے ۔ اس نے موبائل سکرین کو بند کیا اور جیب میں رکھا ۔ سر کو صوفے کی پشت سے ٹکا دیا ۔

☆☆☆☆☆

پچھلے مسلسل دو گھنٹے سے چلتی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔ وہ اس وقت اس گاڑی کی ڈگی میں بند تھی ۔ گاڑی کے دروازے بند ہونے کی آواز کے بعد کسی نے ڈگی کھولی اور اس کے بازو کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر اسے ڈگی سے باہر نکالا ۔ اتنے گھنٹوں کی طویل اور تھکا دینے کی مسافت کے بعد وہ اب جہاں بھی تھی وہاں کا درجہ حرارت امریکہ سے بالکل مختلف تھا ۔ یہاں اتنی سردی نہیں تھی ۔ اب کوئی اس کا بازو تھامے اسے زبردستی چلا رہا تھا جبکہ اپنی دائیں طرف اسے کسی اور کے چلنے کا بھی احساس ہو رہا تھا ۔ سیاہ پٹی سے اس کی آنکھیں بند تھیں اور منہ پر بندھے کپڑے کی وجہ سے باچھیں درد کرنے لگی تھیں ۔

دران کا رات کے بعد اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا ۔ پتا نہیں کتنے گھنٹے تو وہ بحری جہاز میں نیم بے ہوشی کے عالم میں رہی تھی اور ہوش تب آیا تھا جب اسے بحری جہاز سے دوبارہ ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا گیا ۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر سے اتار کر تین جگہ کار بدل کر وہ اب جا کر کہیں پہنچی تھی ۔

وہ جہاں بھی تھی اسے چلتے ہوئے مسلسل دس منٹ ہو چکے تھے ۔ ایکدم سے کسی لفٹ کے اوپر جانے کا احساس ہوا پھر کسی دروازے کے بند ہونے کی آواز تھی اور ساتھ ہی ایک جھٹکے سے اس کی آنکھوں پر سے پٹی ہٹا دی گئی ۔

ایک دم سے سیاہ پٹی اترنے کی وجہ سے تیز روشنی نے اس کی آنکھوں کو چندھیا دیا ۔ اور جیسے ہی اس نے موندی آنکھیں کھولیں اوسان خطا ہوئے ۔ یہ وہی جگہ تھا جسے اسے نے جہنم کا نام دیا تھا ۔ وہ پھر سے جہنم کی دہلیز پر کھڑی تھی ۔ اسکے ارد گرد سیاہ فارم بڑے ڈیل ڈول کے آدمی کھڑے تھے ۔ ان میں سے ایک پٹی اتار کر پھر سے اس کے بندھے بازو تھامے کر آگے بڑھنے لگا ۔ وہ روہانسی صورت بنائے اردگرد دیکھ رہی تھی ۔ ایک وقت تھا جب لی تاؤ اسے یہاں لایا تھا اور اب اسے پہنچانے ولا دران تھا ۔ آنکھوں کی سیاہ پتلیاں پھر سے آنسو سے تر ہونے لگیں ۔ دل کا بوجھ بڑھنے لگا ۔

” جویریہ ۔ “

دران کی آواز تھی ۔ آنسو لڑھک کر آنکھ کی پتلی سے گال پر بہہ گیا ۔ دران کی اتنے گھنٹوں بعد یوں آواز سن کر گھبرا کر ساتھ چلتے آدمی کو دیکھا یوں لگا جیسے اس نے بھی دران کی آواز سن لی ہو لیکن ایسا نہیں تھا ۔ وہ بے خبر اس کا بازو تھامے چل رہا تھا اور اسی طرح اس کی دائیں طرف موجود دوسرا شخص ہاتھ میں بڑی سی بندوق تھامے چل رہا تھا ۔

” جویریہ ۔ گھبراہٹ ظاہر مت کرو ۔ تم مجھے سن رہی ہو اور میں یہ سب دیکھ رہا ہوں ۔ جیسا کہوں بس ویسا کرو ۔ “

دران کی آواز پر ناچاہتے ہوئے بھی اسے حوصلہ ہوا تھا ۔ ناراضگی اپنی جگہ لیکن دل کو دران پر یقین تھا کہ وہ اسے یہاں سے نکال لے گا ۔ اس کا جو بھی مقصد تھا اس کے لیے وہ حامی بھر چکی تھی ۔ اس لیے اس کے مقصد میں اس کا پوری طرح ساتھ دینا اب فرض تھا ۔ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھے تھے جب دران کی آواز پھر سے سنائی دی ۔

” سنو ۔ اب پیٹ کے بل جھکو اور متلی آنے کی ادکاری کرو ۔ پیٹ میں درد جیسی ادکاری بھی ۔”

کیا ؟ وہ اسے اداکاری کرنے کا کہہ رہا تھا ۔ جویریہ نے گھبرا کر ساتھ چلتے آدمی کو دیکھا ۔ وہ اس کی حالت سے بے نیاز چل رہے تھے ۔

” جلدی کرو ۔ جھکو اور ادکاری کرو ۔ ایسے جیسے کہ تمھارا دل خراب ہو رہا ہے ۔ تمہیں قے آ رہی ہے یا پھر پیٹ میں شدید درد ہو جیسے ۔ “

دران نے اب کی بار تھوڑے رعب سے ہدایت کی کیونکہ وہ اس کے اچانک اس طرح کے عمل کرنے پر خود کو ذہنی طور پر تیار کر رہی تھی ۔ دران کے غصہ کرنے پر وہ فوراً جھکی اور متلی کے انداز میں منہ سے آوازیں نکلانے لگی ۔ وہ ٹانگوں کو سمیٹ کر زمین پر کچھ اس انداز میں جھک رہی تھی جیسے پیٹ میں درد ہو اور وہ کسی بھی لمحے یہاں قے کر سکتی ہے ۔ اس کا بازو تھمے چلتے آدمی کو اس کی اس حالت پر رکنا پڑا ۔ دونوں آدمی اب حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔

” کیا ہوا اسے ؟ “

ساتھ چلتے آدمی نے پیشانی پر شکن ڈالے پریشان لہجے میں دوسرے کی طرف دیکھا ۔

” اس کے منہ پر سے پٹی کھولو۔ “

” گڈ ۔ یہ اب جیسے ہی تمھارے منہ پر سے پٹی ہٹائیں تو اسے باتھ روم جانے کے لیے بولو ۔ کہو مجھے باتھ روم جانا ہے ارجنٹ ہے ۔”

دران کی اگلی ہدایت اس کے کان کے پردوں سے ٹکرا رہی تھی ۔ وہ اب زمین پر دو زانوں بیٹھی گہری سانس لے رہی تھی ۔ آدمی جھکا اور پیچھے سے گانٹھ کھول کر اس کے منہ پر سے پٹی کو ہٹایا ۔

” کیا ہوا ہے ؟ “

” م۔۔مجھے ۔ہ۔ہ۔ے باتھ روم جانا ہے ۔ “

پٹی کے ہٹتے ہی گہری سانس کے ساتھ اس نے فوراً انگریزی زبان میں وہی جملا دہرایا جو اسے دران نے بولنے کے لیے کہا تھا اور ایک دفعہ پھر سے متلی کی آواز نکالنے لگی ۔

” ٹھیک ہے ۔ ٹھیک ہے ۔ ایسا کرو تمہیں اسے باتھ روم لے جاؤ میں یہیں انتظار کر رہا ہوں۔ “

دائیں طرف چلتے آدمی نے دوسرے کو کہا اور خود پشت موڑ لی ۔

” ہوں ۔”

دوسرے آدمی نے بھاری آواز میں ہنکارا بھرا اور جس سمت وہ جا رہے تھے ۔ اس کا بازو کھینچتے ہوئے رخ بائیں طرف موڑ لیا ۔ یہ اب ایک لمبی راہداری تھی ۔ پہلے وہ جس سمت جا رہے تھے وہ شیون کا آفس نما کمرے کی طرف جاتا ہوا راستہ تھا جہاں اسے پہلی دفعہ لی تاؤ چھوڑ کر گیا تھا ۔

” گڈ ۔ ادکاری جاری رکھو ۔ “

دران کی آواز کانوں کے پردوں سے ٹکرائی ۔ دران اسے کسی خفیہ ایجنٹ کی طرح ہدایت دے رہا تھا ۔

وہ اب بار بار جھکتے ہوئے قے کی شکایت جیسی آوازیں حلق سے برآمد کر رہی تھی ۔ یہ ایک باتھ روم نہیں تھا۔ ایک قطار میں بنے بہت سے باتھ روم تھے ۔ وہ آدمی اب اس کے ہاتھ کھول رہا تھا ۔

” جاؤ اور جلدی باہر آؤ ۔ “

ہاتھ کھولنے کے بعد اس نے باتھ روم کی طرف اشارہ کیا اور خود وہیں پر کھڑا ہو گیا ۔ ہاتھ کھولنے پر وہ یونہی پیٹ پر ہاتھ رکھے سرعت سے باتھ روم میں داخل ہوئی اور جلدی سے دروازہ بند کیا ۔

” کچھ بھی مت بولنا ۔ وہ باہر کھڑا ہے ۔ کسی کو بھی کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے ۔ بار بار سیٹ شاور چلاتی رہو ۔ “

دران کو کیسے پتا تھا کہ وہ کچھ بولنے والی ہے ۔ شاید اسے اندازہ تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی وہ بولنے سے منع کر چکا تھا ۔

” گڈ ۔ اب سنو تمھارے بائیں جوتے کی سٹریپ کے بکل پر ایک سرخ بٹن ہے اسے دباؤ ۔ “

دران کی بات مکمل ہونے پر اس نے جھک کر اپنے جوتے کی طرف دیکھا ۔ جن جوتوں کو وہ ایک رات پہلے تک عجیب کہہ رہی تھی وہ عجوبہ نکلے تھے ۔ سرخ رنگ کی بکل پر واقعی ہی سرخ رنگ کا ایک چھوٹا سا ابھرا ہوا بٹن تھا جس پر بظاہر اس کی توجہ جاتی تو وہ جوتے کا ڈائیزائن ہی لگتا ۔ اس نے انگلی کی پور کے ذریعے جیسے ہی بٹن کو دبایا ۔ جوتے کی دائیں طرف سے کسی الماری کے دراز کی طرح ایک چھوٹی سی ڈبی نما کٹ نرماہٹ سے باہر آئی ۔ اس میں مختلف خانوں میں عجیب چھوٹی چھوٹی سی چیزیں پڑی تھیں۔ وہ جو نڈھال بیٹھی تھی ایک دم حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔ وہ حیران پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان عجیب و غریب چیزوں کو دیکھ رہی تھی ۔

” پہلے خانے میں یہ کاپنگ لینز ہیں ۔ ان میں سے ابھی صرف ایک لینز اٹھا کر اپنی دائیں آنکھ میں ڈالو ۔ “

دران کی بات مکمل ہونے پر اس نے پہلے خانے میں پڑی چھوٹی سی پیکٹ کو اٹھایا یہ واقعی چھوٹی سی ڈبی میں اوپر نیچے رکھے ہوئے بے رنگ لینز تھے ۔ کاپنگ لینز کسی بھی لاک کوڈ کو اپنے اندر نہ صرف کاپی کر سکتا تھا بلکہ اسکا ڈی کوڈ بھی جرنیٹ کر سکتا تھا ۔

” پریشان مت ہو اس ڈبی کو کھولو ۔ لینز کو اپنی انگلی کی پور پر رکھو اور آنکھ کی پتلی کو مکمل کھول کر اس کے قریب کرو ۔ “

دران اسے ہدایت دے رہا تھا ۔ اس نے پہلے کبھی لینز آنکھ میں نہیں ڈالے تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کو یہ نہیں پتا تھا کہ آنکھ میں لینز کس طرح ڈالا جاتا ہے ۔

” جویریہ پلیز ۔ سنبھالو خود کو تمھارے ہاتھ کانپ رہے ہیں لینز نیچے گر جائے گا ۔ کوئی مرر ہے کیا یہاں پر ؟ “

اس کی ہاتھ کی لغزش وہ دیکھ رہا تھا ۔ اسی لیے پریشان ہو گیا تھا ۔ وہ کیا کرتی چاہے وہ اسے ہر طرح کی ہدایت دے رہا تھا لیکن وہ یہاں موجود نہیں تھا ۔

بولنا مت ہاتھ سے اشارہ کرو ۔ “

جویریہ نے گردن اٹھا کر ارد گرد دیکھا ۔ یہ چھوٹا سا باتھ روم تھا جہاں سوائے ٹوا ئیلٹ سیٹ اور ایک واش بیسن کے اور کچھ نہیں تھا ۔ اس نے آہستگی سے انگشت کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے دران کو نفی کا اشارہ دیا اور شاور کی پھر سے چلایا ۔

” اوہ ۔۔۔۔ اچھا کوئی بات نہیں یہ عام لینز کی نسبت آسان ہے ۔ جیسے میں کہہ رہا ہوں ۔ ویسے کرو ۔ لینز کو نکال کر انگلی کی پور پر رکھو اور دائیں آنکھ کی پتلی کو کھول کر اس کے قریب لے جاؤ یہ خود ہی پتلی سے چپک جائے گا ۔ “

دران کی بات مکمل ہونے پر اس نے کانپتے ہاتھوں سے ڈبی کو کھول کر اس میں سے لینز کو نکالا اور اپنی انگلی کی پور پر رکھ کر جیسے ہی آنکھ کی پتلی کے نزدیک کیا وہ واقعی ہی پلک جھپکتے ہی اس کی آنکھ کی پتلی سے چپک گیا ۔ ایک پل کو اس نے آنکھ کو جھپکا لیکن اگلے ہی لمحے سب صاف دکھائی دینے لگا ۔

” ایک منٹ رکو ۔ ہاں ٹھیک ہے اب ہو گیا ہے ۔ “

دران کی آواز پر اس نے ہاتھ میں پکڑی ڈبی کو بند کیا ۔

اوکے اب یہاں دوسرے نمبر والے خانے میں ایک بہت چھوٹی مائکیرو انجیکشن چپ پڑی ہے اور ایک عدد انگوٹھی ہے ۔ وہ مائیکرو نیڈل چپ کو انگوٹھی کے اوپر رکھو ۔ احتیاط سے نیڈل تمھارے ہاتھ میں نہیں چبھنی چاہیے ۔ “

جویریہ نے سفید نگینے جیسی چپ کو اٹھایا ۔ وہ سفید چمکتا نگینہ تھا لیکن اس پر ابھار میں بہت باریک سوئیاں تھیں۔ اس نے دران کی ہدایت کے مطابق جیسے ہی نگینے کو اٹھا کر انگوٹھی کی اوپر رکھا جہاں پہلے سے ہی نگینے کے لیے جگہ کو چھوڑا گیا تھا ۔ وہ چپ ایک ہلکی سی کلک کی آواز پر نگینے کی جگہ پر فٹ ہو گئی تھی ۔ وہ آدمی اب دھاڑ دھاڑ سے دروازہ بجا رہا تھا اور باہر آنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔

” اس انگوٹھی کو دائیں ہاتھ کی انگلی میں پہن لو ۔ “

دران کی ہر بات وہ من عن مان رہی تھی ۔ اس وقت ذہن میں اس سب عجیب غریب تیاری کو لے کر بہت سے سوال اٹھ رہے تھے لیکن وہ دران سے کچھ بھی نہیں پوچھ سکتی تھی کیونکہ وہ صرف سن سکتی تھی بول نہیں سکتی تھی ۔

” چلو اب جوتے کا سٹریپ پھر سے دباؤ اور اسے کٹ کو بند کردو ۔ “

دران کی ہدایت کے مطابق اس نے آہستگی سے پھر سے سٹریپ کے بکل پر لگا بٹن دبایا جوتے کے سول میں موجود کٹ پھر سے اسی طرح غائب ہو گئی جس طرح باہر آئی تھی ۔

” اب باہر جاؤ ۔ “

دران کے اگلے حکم پر ۔ وہ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ دروازے کے ہتھے کو گھماتی باہر آئی ۔ آدمی نے اس کا بازو کھینچ کر اپنی طرف کیا اور ہاتھوں کو باندھے بنا اس کا بازو دبوچے آگے کی طرف چل دیا ۔

☆☆☆☆☆

” کہا تھا نہ وہ معمولی لڑکی نہیں ہے اور اب تو اس کی قیمت آسمان سے بات کرنے لگی ہے ۔ “

سیاہ رنگ کی لیدر سیٹ ایک جھٹکے سے گھومی ۔ سرخ رنگ کے کوٹ میں ملبوس شیون چہک کر کان سے لگے فون پر محو گفتگو تھا ۔ فون کے دوسری طرف موجود ہاروی کو وہ جویریہ کے پہنچ جانے کی اطلاع دے رہا تھا ۔

یہ اس کا آفس نما کمرہ تھا ۔ جویریہ کو وہ دران کی حفاظت سے نکال کر واپس لے آیا تھا یہ بات اس کے چہکنے کا سبب نہیں تھی بلکہ جویریہ کے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی تمام خفیہ مافیا ڈیلرز اور امیر کبیر آدمیوں کی جویریہ کے لیے مانگ اس کو حیران کر گئی ۔ مافیا کے بہت بڑے ڈیلر نے جویریہ کے لیے منہ مانگی قیمیت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ کل تک جس جویریہ کو وہ صرف اپنی انا کے لیے واپس لانا چاہتا تھا کہ وہ معمولی سا ہیرو کیسے اسے اس کے جال سے نکال کر لے اڑا آج وہی لڑکی اس کے لیے ایک قیمیتی اکا بن گئ تھی ۔

” کیوں ایسا کیا ہوا ؟ “

ہاروی نے اس کے اسطرح چہکنے پر حیرت سے سوال کیا ۔

” ایسا کیا ہوا ۔ تم یقین نہیں کرو گے کہ اس کی کتنی دھوم ہو گئی ہے ۔ ایلکس بریٹ اس لڑکی کے ایک رات کی منہ مانگی قیمیت دینے کو تیار ہے ۔ “

شیون نے قہقہ لگاتے ہوئے گرم جوشی سے جواب دیا اور پھر خباثت سے ساری بتیسی نکالے آنکھیں چمکائیں ۔ ایلکس ایک عیاش مگر کڑوڑ پتی آدمی تھا اور اس کی پیش کش نے شیون کے ہوش اڑا دیے ۔

” دیکھا مجھے ہیرے کی بہت پہچان ہے ۔ اسی لیے میں اسے نہیں چھوڑ رہا تھا ۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *