Basil by Huma Waqas NovelR50529 Basil (Episode 51)
Rate this Novel
Basil (Episode 51)
Basil by Huma Waqas
” کیا ہوا ؟ “
دران نے نیند سے بوجھل ہوتی آواز میں پھر سے پوچھا ۔ نگاہیں گھوم کر دیوار پر لگی گھڑی پر گئیں ۔ صبح کے چار بج رہے تھے ۔
” آپ ہسپتال پہنچیں وہاں آ کر سب پتا چل جائے گا ۔ “
اس عجیب و غریب اطلاع کے بعد فون کھٹاک سے بند ہوا ۔ دران نے حیرت سے پہلے فون اور پھر اپنی دائیں طرف لیٹی جویریہ کو دیکھا , وہ بے خبر سو رہی تھی ۔
انہیں امریکہ واپس آئے تین دن ہو چکے تھے اور اس وقت وہ درانگ ولاس میں اپنے کمرے کے بیڈ پر موجود تھا ۔ دران نے موبائل کو واپس بیڈ کے اطراف میں لگے میز پر رکھا اور آہستگی سے کمفرٹر کو خود پر ہٹاتا , بیڈ پر سے اٹھا ۔
دران جیسے ہی بیڈ سے نیچے اترا جویریہ نے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی نماز پڑھ کر لیٹی تھی , ابھی نیند پوری طرح آئی نہیں تھی کہ دران کے اس طرح اٹھنے پر آنکھ فوراً کھل گئی ۔ آنکھ کھلتے ہی اسے یہ احساس بھی ہوا کہ کچھ دیر پہلے وہ کسی کے ساتھ فون پر بات بھی کر رہا تھا ۔
” دران کیا ہوا ؟ “
وہ بیڈ پر سے اتر کر پلٹا ہی تھا جب جویریہ کی نیند سے بوجھل آواز عقب سے ابھری ۔ قدم ایک پل کے لئے تھمے ۔
” ضروری کام ہے ؟”
مختصر جواب دیا ۔ وہ دران کے جواب پر حیرت سے بھنویں سکیڑ گئی ۔
” اتنی صبح ! “
دران اب ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ وہ کسلمندی سے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاتی اٹھ بیٹھی ۔ دران کے واپس آنے تک وہ یونہی پریشان حال اور متجسس بیٹھی تھی ۔ وہ سیاہ گرم کوٹ اور جوگرز میں ملبوس واپس آیا تھا ۔
اس کی تیاری سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کہیں دور جا رہا ہے ۔ اور چہرے پر طاری سنجیدگی جویریہ کو اور پریشان کر رہی تھی ۔ مشن کے ختم ہونے پر وہ پوری طرح مطمئن تھا لیکن اچانک یوں اسے بلوا لینے کا مقصد اسے پریشان کر رہا تھا ۔ دران کے بیڈ کے قریب آنے پر وہ پھر سے متجسس لہجے میں گویا ہوئی ۔
” دران آپ نے بتایا نہیں اتنی صبح کیا ضروری کام ہو سکتا ہے ؟ “
اس کے سوال پر دران نے ایک آبرؤ چڑھائے سامنے دیکھا ۔ وہ متجسس اس کی طرف جواب کے لئے منتظر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی ۔
” ضروری اور ارینجنٹ کام وقت دیکھ کر تو نہیں آتے ۔ “
دران نے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر سے موبائل کو اٹھا کر جیب میں رکھتے ہوئے بہت مصروف اور سنیجدہ لہجے میں جواب دیا ۔ اس سے پہلے کے جویریہ کچھ کہتی وہ پھر سے بول اٹھا ۔
” تمہیں اپنے بارے میں سب بتا دینے کا مقصد یہی تھا کہ تم مجھے ٹیپیکل بیویوں کی طرح تنگ نہیں کرو گی ؟ “
دران کے جواب اور سپاٹ لہجے پر وہ ایک دم سے چپ ہوئی جبکہ وہ عجلت میں کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔
☆☆☆☆
روئی کے گالے کی طرح نرم نازک جلد والا ایک سالہ دران صوفے پر کمبل میں لپٹا لیٹا تھا ۔ اس کے بالکل پاس بیٹھا نفس اس کے منہ سے دودھ کی بوتل لگائے ہوئے تھا ۔ وہ اسفند کا واحد قریبی دوست تھا اور یہ کمرہ اس کے ہی کوارٹر کا تھا جہاں اس وقت وہ , ایک سالہ دران اور اسفند موجود تھے ۔
کچھ فاصلے پر کھڑا اسفند فون کا ریسیور کان سے لگائے پریشان حال کھڑا تھا جہاں پچھلے دو دن سے وہ دران کو رکھے ہوئے تھا ۔ مارٹن نے دران کو پاکستان بھیجا تھا ۔
وہ دران کے یوں اچانک پاکستان آنے پر کنز کے لئے پریشان ہو گیا تھا ۔ وہ جانتا تھا کنز کسی بھی صورت دران کو یوں ہمیشہ کے لئے اور تعلق ختم کر کے اس کے پاس نہیں بھیج سکتی تھی ۔
امریکہ سے واپس آنے کے بعد دستگیر بیگم نے اسے پھر امریکہ واپس نہیں جانے دیا تھا ۔ وہ نوین کی موت سے گھبرا گئی تھی ۔ انہوں نے ایک سال بعد ہی اس کی شادی کر دی ۔ وہ اپنی زندگی اور کاروبار سیٹ کرنے میں ایسا الجھا کہ کنز کی طرف سے غافل ہو گیا اور اب یوں اچانک دران کے پاکستان آنے اور کنز کی حالت کے بارے میں سن کر وہ بمشکل مارٹن سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا ۔
مارٹن نے کسی آدمی کے ہاتھ دران کو پاکستان بھیجا تھا جس کے ساتھ کنز کے دستخط شدہ کچھ کاغذات تھے اور اس کی چند تصاویر تھیں جس میں وہ کسی ہسپتال کے بیڈ پر بیمار حالت میں موجود تھی ۔ کاغذات میں صاف درج تھا کہ وہ دران کو اپنی مرضی سے اسفند کے حوالے کر رہی ہے کیونکہ وہ خود اب اسے پالنا نہیں چاہتی ۔
” مجھے کنز سے بات کرنی ہے ۔ آپ میری اس سے بات تو کروا سکتے ہیں ؟ “
فون ریسیور کو کان سے لگائے وہ مضطرب لہجے میں گویا ہوا ۔ دوسری طرف مارٹن خاموش ہو گیا تھا ۔ اس کا دران پر یہ احسان اسی پر بھاری پڑ رہا تھا ۔
” آپ چپ کیوں ہیں ؟ کوئی جواب تو دیں ؟ “
” وہ بات کرنے کی حالت میں نہیں ہے ۔ دران کو تم تک پہنچا دینے کا مطلب یہی ہے کہ وہ اب اس کو مزید سنبھال نہیں سکتی ۔ “
” آپ کم از کم مجھے اتنا تو بتا سکتے ہیں کہ وہ امریکہ کے کس ہاسپٹل میں ہے ؟ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔ “
” نہیں میں نہیں بتا سکتا ہوں۔ اتنا احسان بہت ہے کہ تمھارا بچہ تم تک پہنچ گیا ہے ۔ تم اب مجھ سے بھی کوئی رابطہ نہیں رکھنا ۔ “
مارٹن نے سپاٹ لہجے میں کہا اور فون بند ہو گیا ۔
” ہیلو ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ “
اسفند نے بے چینی سے ریسیور میں کہتے ہوئے فون کے بٹن پر ہاتھ مارا لیکن سب بیکار تھا ۔ فون بند ہو چکا تھا ۔ اسفند نے فون واپس رکھا اور مایوس صورت بنائے واپس پلٹا ۔ ریاض نے دران کے منہ کو لگائی دودھ کی بوتل ایک طرف رکھی اور سوالیہ نگاہوں سے اسفند کی طرف دیکھا ۔ دران لانبی پلکیں پھولے ہوئے نرم گالوں پر گرائے گہری نیند میں تھا ۔
” فون کاٹ دیا اس بدتمیز انسان نے ۔ کم از کم میری کنز سے بات تو کروا سکتا تھا ۔ “
اسفند نے دلگیر لہجے میں کہتے ہوئے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑا ۔ وہ یوں دران کو لے کر بے حد پریشان تھا ۔ دران کی آمد نے اس کی متوازن رفتار میں چلتی زندگی میں خلل پیدا کر دیا تھا۔ گھر میں عصمت کی طلاق کو لے کر پہلے ہی بہت پریشانی چل رہی تھی اور اب دران کی ایسے آمد وہ بالوں کو ہاتھوں میں تھامے مضطرب کھڑا تھا ۔ ریاض نے اسے بغور دیکھا اور پھر سیدھا ہوا۔
” تم کیوں اتنے پریشان ہوتے ہو ۔ اگر اسے گھر نہیں لے جا سکتے ہو تو یتیم خانے ۔۔۔۔ “
” بیٹا ہے میرا ۔ “
اسفند نے دانت پیس کر غصے میں بات کاٹی ۔ ریاض نے گہری سانس خارج کی ۔
” ہاں تو بیٹا ہے تو پھر لے جاؤ اسے گھر , سب کو سچ بتا دو ۔ “
” سب کو سچ بتا دینے کے مطلب پتا کیا ہے ؟ “
اسفند نے پیشانی پر پریشانی کی لکیریں ڈالے اس کی طرف دیکھا اور پھر نرم سے نگاہ دران پر ڈالی ۔ اس کا چہرہ اتنا معصوم تھا کہ اسے دیکھتے ہی پیار آ جائے وہ شکل و صورت میں زیادہ کنز پر تھا ۔
” تم میرے گھر والوں کو نہیں جانتے ۔ روبی مجھ سے محبت کرتی ہے لیکن وہ ایک ضدی اور مجھے کسی صورت بھی نہ بانٹنے والی عورت ہے ۔ میری بہنیں میری والدہ محترمہ پر گئی ہیں جو کسی بھی صورت میری اس طرح دوسری عورت میں سے اولاد کو پالنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گی ۔ وہ لوگ اس معصوم جان کا کیا حال کریں گے تم نہیں جانتے ۔ “
اسفند کے کھوئے سے لہجے میں صاف پریشانی جھلک رہی تھی ۔ ریاض نے بھنویں اچکائیں ۔
” پھر کیا کرو گے ؟ یہ بہت چھوٹا ہے اسے ماں یا کسی عورت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے ۔ تم اسے کیسے اکیلے سنبھالو گے ؟ “
ریاض نے حیرت سے سوال کیا۔ وہ خود بھی غیر شادی شدہ تھا اور ان دو دنوں میں دران کو سنبھالنے میں اس کی بس ہو چکی تھی ۔
” میں کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتا اس کو یہ کنز کی امانت ہے میرے پاس مجھے یقین ہے وہ ایک دن ضرور اسے واپس لینے آئے گی میں اپنے ہی گھر والوں کو لالچ دوں گا ۔ “
اسفند نے آہستگی سے کہتے ہوئے سر جھکا لیا ۔
” لالچ! کیسا لالچ ؟ “
” میں سب کو کہوں گا کہ یہ نوین بھائی کا بیٹا ہے اور اگر ہم اسے پال پوس کر بڑا کریں گے تو نوین بھائی کی تمام جائیداد گھر میں ہی رہ جائے گی ۔ ویسے یہ ایک طرح سے سچ ہی ہے ۔ میں نے کنز کو ڈایورس دے دی تھی اب اسے نوین بھائی ہی گود لینے والے تھے ۔ “
اسفند نے ہنوز جھکے سر کے ساتھ ہی اپنے اگلے لائحے عمل سے آگاہ کیا ۔ وہ جانتا تھا دران کو گھر میں رکھنے کا اب بس یہی ایک حل تھا ۔ وہ پرسوچ نگاہیں دران کے چہرے پر جمائے بیٹھا تھا اور ریاض اس کی بات کی تائید میں آہستگی سے سر ہلا رہا تھا ۔
☆☆☆☆
سرخ نارنجی لالی ڈوبتے سورج کے گرد آسمان کو رنگ رہی تھی اور شام کے سائے پھیل رہے تھے ۔ بریلولی ہلز میں اترنے والی یہ شام بہت عجیب تھی ۔ عجیب زندگی کے عجیب بدلتے رخ ہر آنے والا دن میں ایک نیا انکشاف کر رہے تھے ۔ اس کی زندگی کے الجھے باب برسوں بعد سلجھنے کے لئے اوراق پلٹنے لگے تھے۔
درانگ ولاس کے وسیع گیٹ سے داخل ہوتی سیاہ کار کی فرنٹ نشست پر وہ سنجیدہ چہرہ لئے براجمان تھا ۔ دران ملک عرف درانگ یا پھر باسل یہ اس کی زندگی تھی ۔ انگنت گھتیوں میں الجھی , ناسمجھ آنے والی ۔ وہ ہسپتال پہنچا تو اس سے لپٹ جانے والا شخص وہ تھا جس کے نام کی جھوٹی شناخت لئے وہ اپنی اصلی شناخت کی کھوج میں بھٹکتا رہا ۔ وہ نوین ملک تھا جس کا نام اس نے ہمیشہ اپنی ولدیت کے خانے میں دیکھا تھا ۔
شیون کی خفیہ جیل میں سے آزاد ہونے والے مغوی میں ایک شخص ایسا تھا جس کے شجر نسب نے پوری این ۔ ایف ایجینسی کو حیران اور پریشان کر دیا تھا ۔ نوین ملک ان کے ہونہار ایجنٹ باسل کا باپ تھا ۔ جو پچھلے ستائیس سال سے شیون کی جیل کا قیدی تھا ۔
اس کا شمار ان مغویوں میں ہوتا تھا جو ان کے مافیا سے بغاوت کرتے ہیں اور اسے چھوڑنا چاہتے ہیں یا ان کی کوئی معلومات ان کے پاس ہوتی ہے ۔ نوین کو بیسیوی صدی میں ہونے والے اس بلاسٹ میں مار دینے کا صرف ڈرامہ رچایا گیا تھا ۔ نوین کے کپڑے پہنا کر کسی اور مسخ چہرے والی لاش کو بلاسٹ کی آگ میں پھینک دیا گیا تھا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ تک کو تبدیل کر دیا گیا تھا ۔
شیون کی جیل پر آپریشن کے بعد نوین کی حالت بہت ابتر تھی وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوڑھا ہو گیا تھا ۔ اس کی ٹانگیں کام کرنا چھوڑ چکی تھیں ۔ ہفتوں زیر علاج رہنے کے بعد جب اس کا بیان لیا گیا تو اس کی کہانی , شناخت اور حقیقت نے سب کو دنگ کر دیا اور آج تمام ضروری کاروائی کے بعد اسے دران کے حوالے کر دیا گیا۔
گاڑی درانگ ولاس کے پورچ میں آ کر رکی تو گارڈ نے فوراً دران کی طرف کا دروازہ کھولا ۔ وہ سیاہ کوٹ میں ملوبس سنجیدہ چہرے کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا ۔ ملازم ہاتھ باندھے اس کے حکم کے منتظر تھے ۔
” ان کو ویل چئیر پر اندر لے کر آؤ۔ “
دران نے پاس کھڑے ملازم کو کار کی پچھلی نشست پر حیرت زدہ بیٹھے نوین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا اور خود قدم لاؤنج کی طرف بڑھا دیے ۔ وہ کار میں بالکل خاموش رہا تھا ۔ نوین اسے غور سے دیکھتا رہا مگر کوئی بات نہیں کی ۔ وہ ہر چیز کو , ہر جگہ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔ ایسے جیسے کوئی مردہ تیس سال بعد زندہ ہو کر لوٹ آئے اور بدلی دنیا کو دیکھ کر دنگ رہ جائے ۔
لاؤنج میں دران پہلے سے ہی اسفند , روبی , برھان اور سبرینا کو اکٹھا ہونے کا پیغام بھیج چکا تھا۔ دران کے پیچھے ہی لاؤنج میں ویل چیئر پر بیٹھے بوڑھے شخص کو دیکھ کر اسفند اور روبی کی آنکھیں کچھ پل کے لئے ہی چندھی ہوئیں اور پھر پھیل گئیں ۔ نوین ڈبڈبائی نگاہوں سے اسفند کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” نہ۔۔۔نوین بھا۔۔۔ئی۔۔۔ “
کچھ ساکن پلوں کے بعد اسفند کی حیرت زدہ آواز ابھری ۔ نوین نے جھری زدہ آنکھوں میں آنسو بھر کر سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” دران یہ کیسے! یہ تو نوین ۔۔۔نوین بھائی ہیں ۔ آپ زندہ ہیں ؟ “
اسفند خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثر لئے آگے بڑھا اور پھر نوین کی ویل چیئر کے سامنے اس کے گھٹنے تھامے بیٹھ گیا ۔ نوین نے نقاہت سے کانپتے ہاتھ اٹھائے اور اسفند کے گال پر رکھ دیے ۔ اسفند کی آنکھوں میں بے یقینی تھی اور نوین کی آنکھوں میں کتنے ہی سوال تھے جن کو پوچھنے کے لئے وہ بیتاب تھا ۔
” ہاں ۔ زندہ ہوں اور پچھلے تیس سال ایک دوزخ میں اپنے گناہوں کی پاداش میں سزا کاٹتا رہا ہوں ۔ “
” نوین بھائی ۔ وہ بلاسٹ وہ ۔۔”
” بلاسٹ میں ملنے والی لاش میری نہیں تھی ۔ مجھے ان لوگوں نے اغوا کر لیا تھا اور پھر اپنی جیل میں بند کر دیا ۔ “
نوین کی آواز کی لغزش اس کے سالوں کی اذیت کی غمازی تھی ۔ وہاں موجود باقی نفوس حیرت سے آنکھیں پھاڑے سامنے کے منظر کو دیکھ رہے تھے ۔ نوین ملک کا نام تو برھان اور سبرینا نے بھی سن رکھا تھا لیکن اس وقت وہ اسفند سے کیا بات کر رہے تھے یہ ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
” اسفی کنز کہاں ہیں ؟ اور یہ میرا بیٹا ہے نہ ؟ “
نوین نے کانپتی آواز میں پوچھا اور بوڑھی چمکتی آنکھوں کے ساتھ دران کی طرف دیکھا ۔ حیرت اور بے یقینی ختم ہوئی اور اسفند کو دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ اسے ہسپتال سے یہاں تک لے کر آنے والا یہ لڑکا یقیناً وہی بچہ تھا جسے وہ اپنا نام دینے والا تھا۔
” جی بھائی یہ آپکا بیٹا ہے ۔ دران ۔۔۔۔ دران نام ہے اس کا ۔ “
اسفند نے پرجوش انداز میں نوین کے ہاتھ کو اپنے دنوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا ۔ آنکھیں نم تھی اور لہجے میں بے پناہ خوشی جھلک رہی تھی۔ دران نے اسفند کے چہرے کو بغور دیکھا ۔ کیا وہ نوین ملک کا بیٹا ہے ؟ تو وہ اسفند ملک کا بیٹا کیسے تھا ۔ ریاض اور اسفند کی وہ گفتگو وہ سب کیا تھا ؟ دران کے ذہن کی الجھن مزید بڑھ گئی ۔
پاکستان میں جب وہ نوین کی تمام جائیداد کے کاغذات کی خاطر تگ و دو کر رہا تھا اسی دوران اس نے اسفند اور اس کے پرانے دوست ریاض کی گفتگو سنی تھی جس سے اسے یہ بات پتا چلی تھی کہ وہ نوین کی نہیں بلکہ کنز اور اسفند کی اولاد ہے لیکن آج نوین ملک اسے اپنا بیٹا کیونکر کہہ رہا تھا ؟ کیا وہ بھی یہ حقیقت نہیں جانتا تھا کہ وہ ان کا نہیں اسفند کا بیٹا ہے ۔ افف۔۔۔اف اس کا دماغ گھوم رہا تھا ۔ وہ نوین کا بیٹا نہیں تھا یہ بات تو یاور چاچو کو بھی ریاض کی ذریعے ہی پتا چلی تھی لیکن بعد میں اسے بھی ان دونوں کی گفتگو سے ہی یہ پتا چلا تھا کہ وہ اسفند کا بیٹا ہے اور ایسا بیٹا ہے جسے اسفند سب سے چھپائے ہوئے ہے ۔
” کنز جیسا ہے بالکل ۔ میرے پاس آؤ بیٹے ۔ “
نوین نے لب بھینچ کر بمشکل آنسو روکے اور ہاتھ کے اشارے سے دران کو اپنی طرف بلایا ۔
” مجھے تو آپ جیسا بھی لگتا ہے ۔ “
اسفند نے آنسو صاف کرتے ہوئے خوشی سے کہا ۔ دران ٹرانس کی حالت میں چلتا ہوا ان تک آیا اور اسی طرح نوین کی طرف جھک گیا جس نے جھپٹ کر اسے سینے سے لگایا ۔ وہ دران کو سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔ وہ پاگلوں کی طرح دران کا ماتھا , گال اور ہاتھ چوم رہا تھا ۔
دران بس ساکن سانسوں کے ساتھ ان کے جھری زدہ چہرے پر موجود شفقت اور محبت کو دیکھ رہا تھا ۔ یہ وہ شفقت تھی ۔ یہ وہ لمس تھا جس کے لئے وہ برسوں ترستا رہا تھا ۔ نوین اسے خود سے الگ کرتے ہوئے سیدھا ہوا اور پھر سے اسفند کی طرف دیکھا ۔
” اسفی کنزی کہاں ہے ؟ “
اس کی لغزش زدہ آواز میں بیتابی نمایاں تھی ۔ وہ کنز کی تلاش میں نگاہیں ارد گرد گھما رہا تھا ۔ اسے تو یہی لگ رہا تھا کہ اسفند تیس سال سے یہیں امریکہ میں ہی تھا اور کنز بھی یہیں اس کے اور اپنے بیٹے کے ساتھ ہو گی ۔
” کنز ۔۔۔ “
اسفند کی آواز کسی کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ بے اختیار وہ نوین سے نگاہیں چرا گیا ۔ نوین کا زردہ پرتا چہرہ اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑھنے لگی ۔ وہ بے یقینی سے اسفند کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” میں جانتا ہوں وہ کہاں ہیں ۔ “
دران کی آواز پر دونوں نے بے ساختہ دران کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرہ لئے اپنی جگہ سے اٹھ رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
” یہ کیسے ہوا سب ؟ کیا ہسپتال کا سارا عملہ سو رہا تھا ؟”
مارٹن غصے میں چلایا تو سامنے کھڑے ڈاکٹر نے سر جھکا لیا ۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اور پریشانی کی لکیریں ماتھے پر گہری ہو رہی تھیں ۔
کنز کل رات ہسپتال سے بھاگ گئی تھی ۔ مارٹن ہر رات ڈاکٹر کو پیسے دے کر کنز کو بیہوشی کا انجکشن لگاواتا تھا اور پھر اس کے ساتھ زیاتی کرتا تھا ۔ وہ یہ سب اس کے ساتھ پچھلے پانچ ماہ سے کرتا آ رہا تھا ۔ پہلے پہل تو اس نے بہت کوشش کی کہ کنز اس سے محبت کرنے لگے لیکن وہ ہر وقت دران اور نوین کے غم میں روتی رہتی تھی ۔ وہ اب اس کی محبت پانے کی جدوجہد میں تھک چکا تھا ۔
وہ کنز سے کبھی بے خبر نہیں تھا ۔ نوین کی موت اور پھر اس کا ایک بچے کے ساتھ اکیلے رہنا اس سے کچھ بھی مخفی نہیں تھا ۔ نوین کی یاد میں جب کنز شراب خانے میں جاتی تو وہ وہاں بھی چھپ کر اسے دیکھ رہا ہوتا تھا ۔ کنز کو نشے پر لگانے والا کوئی اور نہیں وہ تھا اور آخر کار وہ کنز کو پانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ وہ حسن کی ملکہ جس نے ہر بار اسے ٹھکرایا اس کی بے تحاشہ دولت کے باوجود نوین جیسے شخص کا انتخاب کیا آج ہر طرح سے اس کی دسترس میں تھی ۔
وہ اب بھی کنز سے اپنا بھیانک روپ چھپا کر رکھتا تھا ۔ رات کو اسے نشہ آور انجکشن دینے کے بعد وہ خود ڈاکٹر کے کوٹ میں اس کے کمرے میں آ جاتا تھا ۔ کل رات بھی وہ ڈاکٹر کو پیسے دینے کے بعد جب اس کے کمرے میں آیا تو کنز ہوش میں تھی ۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ اسے پہچان تو نہیں سکی لیکن چیخنے لگی ۔ اس کے چلانے پر وہ وہاں سے بھاگ نکلا اور آج ہسپتال آنے پر پتا چلا کہ وہ کل رات ہی یہاں سے بھاگ گئی تھی ۔ وہ اب ڈاکٹر سے اسی بات کی تفتیش کر رہا تھا۔
” ہم کچھ نہیں جانتے سر ۔ کل رات ان کی حالت تو آپ بھی جانتے ہیں ۔ وہ صیح سے بیہوش نہیں ہوئیں تھیں ۔ آپ کے جانے کے ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ کمرے سے غائب ہو گئیں اور اپنی جگہ بہیوش نرس کو لیٹا گئیں ۔ “
ڈاکٹر اسے ساری کاروائی سے آگاہ کر رہا تھا اور وہ پیشانی پر ہاتھ مسلتا پریشان حال کھڑا تھا ۔
” ہم نے بہت کوشش کی تلاش کرنے کی دراصل وہ اپنا انجکشن نرس کو لگا کر ان کا لباس تبدیل کر کے یہاں سے نکل گئیں ۔ “
” بہت بہت برا ہوا ۔ کنز تم مجھ سے نہیں بچ سکتی۔ آخر کیسے رہ سکو گی ایسے ۔ “
وہ دانت پیستے ہوئے خود سے سرگوشی کر رہا تھا ۔ کنز کو وہ نشے کا اتنا عادی کر چکا تھا کہ اس کا نشے کے بنا رہنا ناممکن تھا ۔
وہ نشے میں بھی خود سے غافل نہیں تھی کہ خود کے ساتھ ہونے والی زیاتی اور تبدیلیوں کو پہچان نہ سکتی ۔ وہ حمل سے تھی لیکن یہاں ہسپتال میں اس حالت میں اس کے ساتھ یہ سب کیسے ہو سکتا تھا ۔ یہی بات اسے پریشان کرنے لگی اور اس رات اس نے رات کو لگنے والی انجکشن کو خود کو لگنے نہیں دیا بلکہ زبردستی نرس کو لگا دیا اور اسے بیڈ کے نیچے چھپا دیا ۔
رات کو جب مارٹن ڈاکٹر کا روپ دھار کر اس کے کمرے میں آیا تو اس پر ساری حقیقت کھل گئی ۔ اس کے چلانے پر بھی اس کی مدد کے لئے کوئی نہیں آیا ۔ مارٹن کے بھاگنے کے بعد وہ وہاں نہیں رکی تھی ۔ نرس کو اپنی جگہ لیٹا کر وہ وہاں سے بھاگ گئ تھی ۔
☆☆☆☆
وہ نیلے شفاف آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے ہوئی تھی۔ بھوری بے جان آنکھیں آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھ رہی تھیں ۔ ایک قطار میں لگے درختوں سے آگے شفاف پانی کی جھیل تھی اور جھیل کے سامنے لگے لکڑی کے ایک بنچ پر وہ بیٹھی تھی ۔
سفید میکسی کے اوپر سفید گرم شال کو کندھوں پر ڈالے ۔ گود میں کتاب دھرے جس پر انگریزی زبان میں لکھے سنہری حروف ” دی ہولی قرآن ” سیاہ جلد پر واضح تھے ۔ اس کا سفید گداز ہلکی جھریوں والا ایک ہاتھ کتاب پر دھرا تھا ۔
وہ کنز پارکر تھی ۔ ایک طویل تکلیف دہ عمر گزارنے والی عورت ۔ ناجانے کتنی ہی بار اس نے خود کو ختم کرنے کی کوشش کی اپنی ہی بیٹی کا گلا دبا دینے کی کوشش کی ۔ لیکن زندگی پتا نہیں کیوں اس سے بیزار نہیں ہوتی تھی جیسے وہ زندگی سے بیزار تھی ۔
اس رات جب وہ ہسپتال سے بھاگی وہ کچھ نہیں جانتی تھی وہ اب کہاں جائے گی ۔ دنیا سے بھروسہ جیسے اٹھ گیا تھا ۔ وہ چھپتی چھپاتی ایک انجان شہر میں آ گئی تھی یہاں ایک چھوٹے سے کیفے میں ملازمت کے بعد اس نے کرایہ پر ایک گھر لیا ۔
معمولی تنخواہ پر بمشکل وہ اپنے کھانے اور نشے کو پورا کرتی تھی اور پھر جیسیکا اس دنیا میں آ گئی ۔ اس کے آنے کے بعد وہ عجیب کشکمش کا شکار ہو گئی ۔ نہ اس بچی کو پھینک سکتی تھی اور نہ اسے پیار کر سکتی تھی ۔ وہ روتی تھی چیختی تھی چلاتی تھی ۔
اسی طرح سال گزرتے گئے , جیسیکا اور اس کا نشہ ایک ساتھ بڑے ہو گئے۔ اس کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی ۔
ایک دن اچانک جیسیکا نے اسے ایک بہت بڑے ہسپتال میں بھیج دیا ۔ یہاں آ کر سب بدلنے لگا ۔ آہستہ آہستہ وہ ہوش میں آنے لگی لیکن وہ اندر سے پرسکون نہیں تھی ۔
جیسے جیسے اس کا علاج ہوا وہ خود کو سنبھالنے لگی اور سکون کی تلاش میں مختلف کتابیں پڑھنے لگی ۔ ان ہی کتابوں میں سے ایک کتاب نے اسے پرسکون کر دیا ۔ وہ جب بھی اس کو پڑھتی روح پر لگے زخم بھرنے لگتے ۔
وہ اب ویسی نہیں رہی تھی لیکن وہ اب اللہ کے سوا کسی سے بات نہیں کرتی تھی ۔ خاموش رہتی تھی اور آسمان کو تاکتی رہتی تھی ۔ جیسیکا کے لئے بھی اس کے دل سے نفرت ختم ہو چکی تھی لیکن اس کے آنے پر وہ خاموش رہتی تھی ۔ اب تو ایک ماہ سے اوپر ہو گیا تھا وہ بھی ملنے نہیں آئی تھی ۔
” کنزی ۔۔۔ “
عقب سے آتی آواز پر اس کے جسم کے سارے رونگٹے کھڑے ہوئے ۔ یہ آواز! ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیسے اس آواز کو بھول سکتی تھی ۔ وہ حیرت سے پلٹی اور سامنے کے منظر کو دیکھ کر ششدر رہ گئی ۔
ویل چیئر پر بیٹھا شخص نوین تھا ۔ اس کے پیچھے ایک جوان لڑکا کھڑا تھا ۔ جس کو دیکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تھم گئی تھی ۔
” کنز۔ز۔زی “
نوین نے کانپتی آواز سے پھر سے پکارا ۔ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے مجسم کھڑی تھی ۔ کیا وہ مر چکی ہے اور جیسے اللہ نے اس کتاب میں فرمایا ہے کہ مرنے کے بعد ایک جنت ہے ۔ کیا وہ جنت میں ہے ؟ لیکن وہ تو مسلمان نہیں ہے ۔
بے یقینی تھی ۔ عقل دنگ تھی ۔ جسم کے رونگٹے کھڑے تھے ۔ ریڑھی کی ہڈی میں سنسناہٹ تھی ۔ چشمے میں بوڑھی ہوتی آنکھیں پلک نہیں جھپک رہی تھیں ۔
کیا ویل چیئر پر بیٹھا شخص اس کا نوین تھا اور اس کے پیچھے کھڑا لڑکا اس کا بیٹا تھا ۔ وہ کانپتے وجود کے ساتھ آگے بڑھی اور بے اختیار ویل چیئر کے سامنے دو زانوں بیٹھ گئی ۔ کانپتے ہاتھوں سے نوین کے چہرے کو تھام لیا ۔ وہ اس کے ہر نقش کو چھو رہی تھی ۔ آنکھیں اب بھی حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں ۔ پتلیاں ساکن تھیں ۔
” ہاں ۔۔۔ میں نوین ہوں ۔ تمھارا نوین ۔ “
نوین نے بے اختیار اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔ وہ جیسے سالوں بعد محرک ہونے والے مجسمے کی طرح تڑپ کر نوین کے سینے سے جا لگی ۔
عجیب لمحہ تھا ۔ خواب جیسا ۔ معجزے جیسا ۔ برسوں سے بچھڑے وہ ایک دوسرے سے مل گئے تھے ۔
تو یہ وجہ تھی کہ وہ آج تک زندہ تھی ۔ اللہ اسے یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ آزمائش ختم کرتا ہے ۔ وہ جب چاہے زندگی کا رخ بدل سکتا تھا سب اس کے کن کے اختیار میں ہے ۔
” کنز دران سے نہیں ملو گی ۔ “
نوین کی سرگوشی پر اس نے سر اوپر اٹھایا ۔ ایک اور خوشی ایک اور دھچکا ۔ ہاں نوین کے پیچھے کھڑا لڑکا ۔ اس کا بیٹا تھا ۔ وہ ایک جھٹکے سے تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھی لیکن اس سے پہلے کے وہ دران کے پاس آتی دران نے ویل چیئر کے ہتھوں کو چھوڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا واپس پلٹ گیا ۔
” دران ۔۔۔۔ دران ۔۔۔۔۔ دران ۔۔۔ “
وہ چیخ رہی تھی ۔ کچھ دور کھڑا اسفند جو یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ۔ بھاگتا ہوا دران کے پیچھے لپکا ۔
☆☆☆☆☆
” ایسے رونے سے کیا ہو گا ؟ “
ریاض نے افسردہ آواز میں کہا ۔ سامنے بیٹھا اسفند نم آنکھوں کو صاف کر رہا تھا ۔ دران پر ہوتے ظلم پر وہ اپنے احساسات صرف ریاض پر ظاہر کرتا تھا۔ آج بھی وہ ان کے گھر کے مہمان خانے میں بیٹھا تھا ۔
” نہیں دیکھ سکتا اس پر یہ ظلم ۔ بیٹا ہے میرا ۔ میرا خون ۔ چھپ چھپ کر راتوں کو اس کو پیار کرتا ہوں کہ کہیں کوئی مجھے دیکھ نہ لے اور کسی شک نہ ہو جائے ۔ “
” تو سچ کیوں نہیں بتا دیتے سب کو ۔ “
” سچ بتا دوں گا تو جو تھوڑا بہت رحم اس پر کرتے ہیں وہ بھی نہیں کریں گے ۔ ایک طوفان آ جائے گا ۔ میں رشتوں میں پھنس گیا ہوں ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں ۔ اب یاور اڑ گیا ہے کہ وہ روبی کی بہن کے ساتھ شادی نہیں کرے گا ۔ “
اسفند نے پیشانی پر ہاتھ مسلتے ہوئے اپنی ساری الجھنیں بیان کیں۔ باہر یاور بے دھیانی میں مہمان خانے کی طرف آ رہا تھا اور مہمان خانے سے آتی آواز پر قدم وہیں تھم گئے ۔
” اگر ان سب کو پتا چل گیا کہ یہ نوین کا بیٹا نہیں ہے تو ۔۔۔ “
